Showing posts with label darhi. Show all posts
Showing posts with label darhi. Show all posts

Sunday, 13 August 2017

Us Ki Demand Thi K Darhi Shiv karo

"اسکی یہ ڈیمانڈ ہے کہ تم داڑھی شیو کر لو تو پھر ہی وہ شادی کرے گی"، عمر کہ امی اسکے قریب آ بیٹھی تھیں۔
عمر کو یہ خبر سن کر دھچکا سا لگا۔ ساتھ ہی دل پر تکلیف کا ایک بھاری بوجھ آن گرا،

"کیا؟؟؟
یہ سعدیہ نے کہا۔۔؟؟"، اسے جیسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ شادی کو صرف ایک ہفتہ رہ جانے پر منگیتر کی طرف سے ایسی بات سننا۔۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ اب دل میں جگہ بن چکی ہو، محبت سی محسوس ہونے لگی ہو۔۔ تکلیف کا عالم ناقابلِ بیاں تھا۔

"ہاں بیٹا، مجھے بھی یقین نہیں آ رہا تھا، اس لیے خود اس سے ہی پوچھ کر آ رہی ہوں۔
میری مانو تو اسکی مان لو۔ کیا ہے اس میں۔ ایک داڑھی ہی کی تو بات ہے۔ آجکل تو لوگ دو ٹکے کی جاب کے لیے بھی داڑھی چھوڑ دیتے ہیں، تو تمہارا تو پوری زندگی کا سوال ہے بیٹا۔ اتنی اچھی لڑکی ہے، پڑھی لکھی، خوبصورت ، جوان، اچھا خاصا خاندان ہے، خود وہ ڈاکٹر ہے، اور کیا چاہیے۔۔ اب ضد نہ کرنا بیٹا"، سارہ صاحبہ بیٹے کو سمجھانے لگیں۔

پہلے منگیتر، اب ماں۔۔ اور کس کس کا مقابلہ کرنا پڑنا تھا۔ عمر کا صدمے سے حلق گھُٹنے لگا تھا۔
"امی جان۔۔ جب اس نے مجھے پہلے قبول کیا تھا تو اس داڑھی کے ساتھ ہی کیا تھا۔ آج اگر ڈاکٹر بن کر اسکی سوچیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں"، دل غم سے چُور چُور تھا۔

* * * * *

"ایک طرف دل ہے، اور دوسری طرف ایمان۔۔
ایک جانب دنیا قدموں میں ہے، اور دوسری جانب اللہ۔۔
ایک رستہ دل پسند زندگی کی طرف جاتا ہے، اور ایک ہجر کی تنہائیوں کی طرف۔۔"، عمر سُنسان پارک میں بیٹھا خود سے مخاطب تھا۔ آج بہت بڑا امتحان لے لیا تھا اس سے اس کے رب نے۔ آج پتا چلنا تھا جو دین دین کے نعرے لگانے والا عمر تھا وہ واقعی دل سے ایمان لایا تھا یا رب سے محبت کے سارے دعوے کھوکھلے تھے۔

عمر کے زہین سے پرانی، خوبصورت یادیں گزرنے لگیں۔
وہ جب پہلی مرتبہ سعدیہ کے گھر گئے تھے۔ جب رشتے کے لیے ہاں ہوئی تھی۔ دوستوں کا شادی کی خبر پر چھیڑ چھاڑ، ہنسی مزاق۔۔۔
عمر کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔۔

"ایک داڑھی کی بات نہیں ہے۔۔
میری پوری آخرت کی بات ہے۔۔"، پلکوں پر کچھ قطرے نمودار ہوئے۔

"اللہ اکبر، اللہ اکبر۔۔"، قریبی مسجد سے اذان گونجنے لگی۔

"اللہ اکبر۔۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔۔
اف !! بےشک اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے پہلے بھی ہے، اور سب خواہشات سے اوپر بھی ہے۔۔"،عمر دل ہی دل میں بےاختیار کہہ اٹھا۔

"آج مجھے بھی ایک بدر لڑنی ہے۔۔ ایک اُحد پر قربان ہونا ہے۔۔۔ پر میری دفعہ میدان میرا دل بنا ہے۔۔
ہر خواہش قربان ہے تُجھ پر میرے اللہ۔۔ اس دل پر آج میں خود چھُری چلا دوں گا۔۔"، دُکھ سے آواز رند گئی

* تم کیا جانو کہ ادائے ابراہیمی کیا ہے
رب کی رضا کی خاطر خود کا دل دُکھا دینا *

* * * * * * *

(ایک سال بعد۔۔)

"آئیں نا پہلے کھانا کھا لیں پلیز۔۔"، آمنہ محبت سے اپنے شوہر سے گویا تھی۔

"ابھی ایک گھنٹے تک کچھ نہیں کر سکتا آمنہ، آج واقعی بہت کام ہے"، عمر نے لیپ ٹاپ تھوڑا اور قریب کرتے ہوا جواب دیا۔

"۔۔میں نے بھی ابھی تک کچھ نہیں کھایا کہ آپ کے ساتھ ہی کھاؤں گی۔۔"، آمنہ نے کچھ دیر خاموشی سے پاس بیٹھنے کے بعد دھیمی سی آواز میں کہا۔

"کیا۔۔؟ ارے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔؟؟"، عمر نے سب کام چھوڑ کر اپنا رُخ پوری طرح اپنی بیوی کی جانب پھیر لیا۔

"۔۔اور اب بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔"، آمنہ نے سوال نظر انداز کرتے ہوئے دُکھی سا منہ بنایا۔

"ہاہاہا۔۔ "، عمر اپنی ہنسی نہ روک سکا۔

"حیرت ہے میڈم کو تو ایک منٹ بھوک برداشت نہیں ہوا کرتی، آج تین گھنٹے کیسے گزار لیے؟؟"

آمنہ بھی مسکرا دی۔ "لگاؤں پھر کھانا؟"

"جی جناب، ملکۂِ عالہ بھوکی ہوں اور ہم خیال نہ کریں، ایسا ممکن ہے بھلا؟"، عمر شرارتاً اس سے گویا تھا۔ لیپ ٹاپ اب بند کر چکا تھا اور چارجر اتار کر واپس رکھ رہا تھا۔

آمنہ شرماتی آنکھوں سے ہنستے ہوئے کچن کی جانب چل دی۔

سعدیہ کے ٹھکرا دینے کے معاملے کو ایک سال بِیت چکا تھا۔ عمر نے اپنی منگیتر اور سُنت کی داڑھی میں سے سنت کو چُنا تھا۔ اس فیصلے پر وہ دنیادار لوگوں کی نظر میں بےوقوف ترین ٹھہرا تھا، اپنوں، حتٰی کے والدین تک کے طعنے اور گالیاں سنی تھیں ، اور خاندان والوں کی باتیں الگ۔۔

*خاندان والے کتنی باتیں بنائیں گے۔۔ داڑھی جب تک ہے کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا۔۔ تم نے تو ذلیل کر دیا ہے بوڑھے ماں باپ کو اپنی ضد کی خاطر۔۔* وغیرہ وغیرہ جیسی باتیں پورا ایک سال اکیلا ہی سنتا رہا۔ جس کا جو دل میں آیا کہتا رہا۔ لیکن عمر کا فیصلہ ایک دن کے لیے بھی نہ بدلا۔ ہاں تکلیف تو بہت ہوتی تھی ایسے رویوں سے لیکن اللہ کا قرآن اور ذکر ایسی چیزیں تھیں جو اسکی ہمت بنی رہیں۔ سچ ہے نماز اور ذکر نہ ہو تو انسان تو پاگل ہی ہو جائے۔
اللہ نے ایسے صبر پر استقامت بھی پھر کمال کی عطا کر دی تھی۔ حقیقی بات ہے کہ وہ رب اپنی خاطر اُٹھے انسان کو کبھی مرنے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑ دیتا۔ لیکن اس لیول پر آنے کے لیے پہلا قدم خود اُٹھانا پڑتا ہے۔ ثبوت دینا پڑتا ہے کہ واقعی آپ کے لیے اللہ ہی سب سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ اس کے بعد ڈرپوک سے ڈرپوک تریں انسان کا دل بھی پہاڑ کی طرح مضبوط ہو جاتا ہے۔ اسے وہ مضبوطی عطا کر دی جاتی ہے جو اس کے قدموں کو رب کے رستے پر جما دے ، اسطرح کہ پھر دنیا کی کتنی بھی سخت ہوائیں چلیں اسے گرا نہیں سکتیں، اس رستے سے ہٹا نہیں سکتیں۔۔
لیکن اس راہ پر صرف دکھ ، تکلیف اور محرومیاں ہی نہیں ملتیں بلکہ انسان وقتاً فوقتاً انعام سے بھی نوازا جاتا ہے۔۔ جیسے آج عمر کو نوازا گیا تھا۔ عرصے کے گھُپ اندھیروں اور طوفانوں کے بعد اسکی کشتی کو بھی کنارے لگا دیا گیا تھا۔ اسے آمنہ جیسی ایمان والی، محبت کرنے والی، شرم و حیا والی ایک پردہ دار، خوبصورت بیوی عطا کر دی گئی تھی۔ سعدیہ کو اللہ کے لیے کھو دینے پر اس کو دنیا میں ہی جنت سی دے دی گئی تھی۔ عمر کو کبھی کبھی لگتا تھا جیسے اللہ نے اسکی ساری فِیلِنگز کو سمیٹ کر ایک انسان کا رُوپ دے دیا ہو، آمنہ کے نام سے۔ جیسے وہ حقیقتاً کوئی انسان نہیں تھی بلکہ عمر کی ضرورتوں کا جوابی عکس، اسکی آنکھوں کی ٹھنڈک، اسکی روح کا سکون۔۔
جبکہ دوسری جانب، سعدیہ، اسے ٹھُکرا دینے پر آج بھی کنواری بیٹھی تھی۔
وہ شاید بھول گئی تھی کہ جسے ایک داڑھی سمجھ کر ٹھُکرا رہی تھی، وہ محض ایک داڑھی نہیں تھی، بلکہ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھی۔ اصل میں توہین اس نے عمر کی نہیں کی تھی بلکہ اللہ اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کی تھی۔ اور یہ کوئی چھوٹا جُرم نہیں تھا۔ سعدیہ کی طرح آج کتنے ہی نام نہاد مسلمان داڑھی، پردہ، ٹخنوں سے اوپر پائنچے اور دین کی دوسری کئی باتوں کے لیے کتنے آرام سے نفرت آمیز رویے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، ان پر عمل کرنے والوں کا مزاق اُڑاتے رہتے ہیں۔۔ یہ سوچے بِنا کہ ان کا یہ سب کرنا انکو تباہی کے کس کس گڑھے میں پھینکتا جا رہا ہے، انھیں تباہ و برباد کرتا جا رہا ہے۔۔ زندگی سے سکون ایسے ہی نہیں چھِن گیا ایسے لوگوں کے !!

نبی کے صحابہ کے رستے پہ چل کے
دلوں کا سکوں ہم نے حاصل کیا ہے
لگا ہے نشہ جب سے جنت کا ہم کو

اُچاٹ اپنا جی اس جہاں سے ہوا ہے۔۔

Monday, 20 March 2017

پردے کی اہمیت حکم خداوندی،داڑہی کا مذاق اڑانا ، شلوار قمیص کو دقیانوسیت سمجھنا ، شراب کی حرمت کا انکار کفر ہے ، ہر انسان کے ساتھ محبت کرنا اس کی مدد کرنا ، مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ ہے

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  مسمیٰ اسماعیل خان ولد ججیل ساکنہ محلہ مظفرہ آباد   کوہستان سٹریٹ تحصیل ٹیکسلا ضلع راوالپنڈی کے ساتھ بوجہ رشتہ داری مودت و الفت لا اظہار کرتے ہوئے  تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے جبکہ  مندرجہ ذیل  عقائد و نظریات کا حامل اور ان کا پرچار کرتا رہتا  ہے ۔

1۔موصوف کے مطابق پردے کی کوئی اہمیت نہیں ہے مرد و زن کا آزادانہ میل ملاپ کو قبیح بات نہین سمجھتا ہے بلکہ اس کے مطابق عورت  کوپردہ کروانا اسے قید میں ڈالنے اور اس کی آزادی سلب کرنے کی مترادف ہے ۔

2۔ داڑھی منڈوانا باعث فخر سجھتا ہے ،داڑہی کا مذاق اُڑاتا ہے اور انہیں معاشرے کے لیے ناسور قرار دیتا ہے ۔

3۔ پینٹ کوٹ کو بطور لباس استعمال کرتا ہے ،شلوار قمیص پر ترجیح  اور مہذب سمجھتا ہے ، موصوف کے ہاں شلوار قمیص پہننا دقیانوسیت ہے ۔

4۔ اس کے مطابق شراب ایک سوشل ڈرنک ہے اور اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنا فرد  کی شخصی آزادی کو  سلب کرنا ہے ۔

5۔ کہ موصوف بطور وکیل اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد نہیں کرتا ہے جبکہ اس کا اٹھنا بیٹھنا جاہل اور عقیدت اسلام کے منک طبقات سے ہے اور مسلمانوں کے خلاف  استعمال ہونے کا  اندیشہ ہے ۔

برائے  کرم قرآن و حدیث  کی روشنی میں شخص مذکورہ کے بارے میں حکم شرعی بتایا جائے ۔  مولانا محمد جاوید  حنفی سکن  کوہستان کالونی مانسہرہ  

﷽
الجواب حامدا و مصلیا

             مفتی غیب نہیں جانتا ،بلکہ وہ سوال کے مطابق جواب دیتا ہے۔ سوال کے سچ یا جھوٹ ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔ غلط بیانی کرکے اپنے مطلب کا فتویٰ حاصل کرنے سے حرام ، حلال نہیں ہوتا اور نہ حلال ، حرام ہوتا ہے،لہذا اگر کوئی غلط بیانی کے ذریعہ فتویٰ حاصل کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا۔

٭     اس تمہید کے بعد  آپ کے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ اگر واقعۃً شخص مذکور  کے ہاں پردے کی کوئی اہمیت نہیں ،  بلکہ  وہ عورت سے پردہ کروانا اسے قید میں ڈالنے اور اس کی آزادی سلب کرنے کی مترادف سمجھتے  ہیں تو     انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ  اسلام ایک پاکیزہ دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کا حکم  دیتا ہے۔

چنانچہ شخص مذکور کا  یہ عمل شریعت کے  اصولوں ،  ضروری  مسائل اور  حکم خداوندی کا صریح  خلاف  ہے ۔

سورة الاحزاب  :

 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (59) 
ترجمہ:
           
 اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے  پر چادر لٹکا  لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

جس پر فقہاء کرام  رحمہم اللہ تعالی نے کفر کا حکم تجویذ کیا ہے ۔ اس لیے اس کے مرتکب پر تجدید ایمان و تجدید  نکاح لاز م  قرار دیا ہے ۔

وفي  مجمع الانهر في شرح ملتقي الابحر :(1/695)

ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

٭   آج کل معاشرے  کو داڑھی منڈوانے کی لَت لگی ہوئی ہے ،جبکہ داڑھی کا منڈوانا    ناجائز و حرام، موجب فسق  ہے ، اور اس کا مذاق اُڑانا ، توہین کرنا انتہائی خطرناک ہے ۔( یعنی سنت رسول اللہ کی تحقیر کی نیت  سے مذاق اُڑانا کفر ہے) ۔

وفي  مجمع الانهر في شرح ملتقي الابحر :(1/692)

ومن استخف بسنة أو حديث من أحاديثه - عليه الصلاة والسلام - أو رد حديثا متواترا أو قال سمعناه كثيرا بطريق الاستخفاف كفر۔

کما فی البحر الرائق: (5/130)

 ويكفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وباستخفافه بسنة من السنن۔

٭   شلوار قمیص کو دقیانوسیت کہنے سے سنت یا اولیاء کرام  کا  مذاق اُڑانا ،مقصد ہوتو  کفر   ہے اور  پینٹ کوٹ کو پسند کرنا اور ترجیح دینا  اسے مہذب سمجھنے سے انسان گناہ گار ہوتا ہے ۔ کیوں  یہ کفار و فساق کے ساتھ مشابہت  کو پسند کرنا ہے ۔

و في المرقاة المفاتيح:(7/2782)

- (وعنه) : أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير.

كما في عون المعبود وحاشية ابن قيم :(11/51)

(عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ) بِضَمِّ الْجِيمِ وَفَتْحِ الرَّاءِ بَعْدَهَا مُعْجَمَةٌ الدِّمَشْقِيُّ ثِقَةٌ مِنَ الرَّابِعَةِ (مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ) قَالَ الْمُنَاوِيُّ وَالْعَلْقَمِيُّ أي تزي فِي ظَاهِرِهِ بِزِيِّهِمْ وَسَارَ بِسِيرَتِهِمْ وَهَدْيِهِمْ فِي ملبسهم وبعض أفعالهم انتهى۔

وقال القارىء أَيْ مَنْ شَبَّهَ نَفْسَهُ بِالْكُفَّارِ مَثَلًا مِنَ اللِّبَاسِ وَغَيْرِهِ أَوْ بِالْفُسَّاقِ أَوِ الْفُجَّارِ أَوْ بِأَهْلِ التَّصَوُّفِ وَالصُّلَحَاءِ الْأَبْرَارِ (فَهُوَ مِنْهُمْ) أَيْ في الإثم والخير قاله القارىء
قَالَ الْعَلْقَمِيُّ أَيْ مَنْ تَشَبَّهَ بِالصَّالِحِينَ يُكْرَمْ كَمَا يُكْرَمُونَ وَمَنْ تَشَبَّهَ بِالْفُسَّاقِ لَمْ يُكْرَمْ وَمَنْ وُضِعَ عَلَيْهِ عَلَامَةُ الشُّرَفَاءِ أُكْرِمَ وَإِنْ لَمْ يَتَحَقَّقْ شَرَفُهُ انْتَهَى۔

٭     شراب کے متعلق قرآن مجید کا حکم رجس (پلید،ناپاک)کا ہے۔چونکہ  پلید و ناپاک حرام ہے ،اور احادیث مبارکہ میں اس کی حرمت حد تواتر تک پہنچ چکیں ہیں ۔
         لہذا  امت محمدیہ سب کے سب    کا  شراب کے حرام ہونے پر سب اتفاق ہے ۔اور   شراب کی حرمت  کا انکار  کفر ہے ۔

و في الهداية : (4/394)

والثالث: أن عينها حرام غير معلول بالسكر ولا موقوف عليه: ومن الناس من أنكر حرمة عينها۔۔۔ وهذا كفر؛ لأنه جحود الكتاب فإنه تعالى سماه رجسا والرجس ما هو محرم العين، وقد جاءت السنة متواترة "أن النبي عليه الصلاة والسلام حرم الخمر"؛ وعليه انعقد الإجماع۔

٭       ہر  انسان کے ساتھ محبت کرنا اس  کی مدد کرنا ، مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ ہے ۔ چنانچہ اسلام بیزار لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا  ایک غلط امر ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برے لوگوں کی صحبت سے منع فرماتے ہوئے سخت وعید ارشاد فرمایا ہے ۔ چنانچہ ابن عباس رضی  اللہ   اٰ یت کریمہ  کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  اسلام بیزار لوگوں کے ساتھ دوستی ان کے دین کی وجہ سے ہو تو یہ  کفر ہے اور  جو دنیا میں ان سے دوستی کریگا وہ کل بروز قیامت انہی کے ساتھ اُٹھے گا  ۔

 كما  في تفسير   البحر المحيط  :( 3/ 519)

( وَمَن يَتَوَلَّهُمْ مّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ) قال ابن عباس : فإنه منهم في حكم الكفر ، أي ومن يتولهم في الدين . وقال غيره : ومن يتولهم في الدنيا فإنه منهم في الآخرة .


          لہذا  مندرجہ بالا  سوالوں کے جوب میں ذکر کردہ تفصیل کی   تمام صورتیں آپ کے سامنے  بیان کی گئی ہیں ۔شخص مذکور کو چاہئے کہ  وہ صدق دل سے توبہ و استغفار کرے ۔ اور کسی عالم کی صحبت اختیار کرتے ہوئے  اپنی اصلاح  کو شش کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط.

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)