Showing posts with label Love. Show all posts
Showing posts with label Love. Show all posts

Thursday, 2 March 2017

انمول محبتPrecious Love


((انمول محبت))


محبت کو مجسم دیکھنا ہو تو ایک بہن کی آنکھوں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔بھائی کے لہجے سے سمجھی جا سکتی ہے۔ بھائی بہن کی محبت کی مثال نہیں دی جاسکتی۔ ان کی محبت ایمان کی طرح ہوتی ہے ۔لیکن ان دونوں کا ایک  دوسرے سے محبت کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے ۔بھائی بہنوں کو تنگ کرکے اپنی محبت جتاتے ہیں ۔کبھی گڑیا چرا لی ۔چوٹی پکڑ کر کھینچ لی ۔ اپنی پاکٹ منی سے بازار سے کھانے کی کوئی چیز لا کر دے دی ۔ چھوٹی موٹی فرمائش پوری کر دی ۔ کہانیوں والی کتاب لادی۔بہنوں کی محبت کا اندازبڑا انوکھا ہوتا ہے ۔وہ بھائیوں کو والدین کی ڈانٹ سے بچانے کے لیے ڈھال بنتی ہیں ۔بھائیوں کے رازوں کی حفاظت کرتی ہیں ۔چھوٹی چھوٹی فرمائشیں کرتی ہیں ۔بھائیوں کی بکھری اشیاء کوترتیب سے رکھتی ہیں ۔بڑی محنت سے محبت سے ان کی پسند کے کھانے پکاتی ہیں ۔بہن بھائی آپس میں اپنے مسائل کے ساتھ ساتھ کپڑے ، جوتے ، کتابیں اور دیگر چیزیں بانٹ لیتے ہیں اور انہی چیزوں پر لڑائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ روٹھتے رہتے ہیں ۔خود ہی مان جاتے ہیں ۔
 بہنوں کو گڑیوں سے محبت ہوتی ہے ۔بھائیوں کی گڑیا تو اس کی بہن ہی ہوتی ہے ۔بھائی اپنی گڑیا کو دل میں بسا کے رکھتے ہیں ۔اسے دکھ آئے تو تڑپ جاتے ہیں ۔پھر وقت کا چکر ان کو بڑا کر دیتا ہے ۔بچپن سے جوانی آتی ہے تو بہنوں سے محبت غیرت بن جاتی ہے ۔اس کا تحفظ ذمہ داری بن جاتی ہے ۔بھائی نوکری کے چکر میں لگ جاتے ہیں ۔بہنوں کی شادی ہو جاتی ہے ۔دونوں کے درمیان ملاقات کم ہو جاتی ہے ۔دونوں کو نئے ساتھی مل جاتے ہیں ۔بچے ہوئے تو ان میں مگن ہو گئے ۔
 لیکن اکثر ایک دوسرے کی محبت کسک بن کر دل میں اٹھتی ہے ۔آنکھیں بھگو جاتی ہے ۔بے شک وقت بدل جاتا ہے ۔لیکن محبت تو نہیں بدلتی ۔بھائی بہن کی محبت تو امر ہوتی ہے ۔کبھی نہیں بدلتی ۔بھائیوں کو بہنوں کی یاد ۔اور بہنوں کو بھائیوں کی یاد تڑپاتی ہے رولاتی ہے ۔
 بچپن کے دن یاد آتے ہیں ۔جب بھائی سے اپنی بہن کا رونا نہ دیکھا جاتا تھا ۔وہ بیمار ہوتی تو بھائی کا سکون برباد ہوجاتا ۔بھائی اداس ہوتا تو بار بار بہن پوچھتی ہے ۔بھائی کیا ہوا اداس کیوں ہو ۔بچپن کے دن کتنے حسین ہوتے ہیں، ان کی یادیں کبھی آنکھوں میں آنسو لاتی ہیں تو کبھی چہرے پر مسکراہٹ ۔بہنیں تو بھائیوں کے لیے دعاؤں کی ایسی پاکیزہ کتاب ہو تی ہیں ۔
میری اچھی ۔۔۔ میری دلاری ۔۔۔میری پیاری بہن
کیا بتاؤں کہ تم میرے لئے کیا ہو
تم دعاؤں کی ایسی پاکیزہ کتاب ہو
جس کو پڑھنے سے غم جاتے ہیں اور دل بہلتے ہیں
تسلی کی زنبیل کھلتی ہے امیدوں کے چراخ جلتے ہیں
یوں جیسے تم میں نوروآگہی کے جھرنے بہتے ہیں
تمہاری بہت یاد آتی ہے ۔۔۔ دیر تلک ستاتی ہے
تم اکیلی ہو ۔۔۔ خوش ہو کہ اداس ، سوچ رلاتی ہے
 اگر ہم اپنی بہنوں ،بیٹیوں کی تربیت اسلام کے اصولوں کے مطابق کریں ۔ان کی یہ بہترین تربیت ہو گی تو وہ آگے اپنی اولاد کی بھی بہترین تربیت کرے گی ۔اگر اسے اسلام کے احکامات کی تعلیم دی جائے تو ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آئے گا ۔اسلا م نے عورت کے بہن ، پھوپھی اورخالہ ہونے کی صورت میں بھی انکے حقوق کا بڑا خیال رکھا ہے ۔ چنانجہ ابوداؤد و ترمذی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ’’اگر کسی کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہیں اور وہ انکے ساتھ حسن سلوک 
سے پیش آتا رہا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔( ابوداؤد ، ترمذی )

Love to see you in the flesh can be seen in her eyes can be understood .Brother tone. I can not be with her sister's love. No food from his pocket money markets to make them. Small request fulfilled. Andazbra is the unique story of love lady.bhnun brothers. They are made to protect the shield to protect secrets .The brothers have a parent scolding from kutrtyb scattered objects are small demands brothers large hard to cook food of their choice .Sister love between brothers, they share their problems with clothing, shoes, books and other things and do not fight these things. They are angry at yourself believe.
 companion to their child if they were involved.
 .and remember the brothers and sisters torments her cry.
 Hussein are, their memories are sometimes brings tears to the eyes may be a good book of prayers for the brothers never .bhnyn smile on his face.
Good ... My dearest ... my dear sister
What should you have done for me
You're a good book of prayers
The grief and heart to read multiplicity
Open basket satisfaction are crak similar hopes
The flow of waterfalls like nuruaghy
I miss ... While Tilak heat
you are alone ... To be sad, I cry
 .Therefore work will have a greater idea of ​​their rights in the case of the woman's sister, aunt to aurkalh. Cnanjh has said Dawud and Tirmidhi, the Prophet PBUH, if one of the three daughters or three sisters and they're going to get along with them kindly, they will enter Paradise

Sunday, 19 February 2017

Love halal or haram


                      محبت حلال یا حرام 

رات کا آخری پہر تھا ، وہ دونوں مزے کی نیند سوۓ ھوئے تھے ، کیف و مستی میں ڈوبے ھوئے ، ، ،
 نوجوان کی آنکھ کھلی ،اس نے کمرے میں جلتی مدھم لائٹ میں کلاک کو دیکھا ، ، اوہ ،،،! بہت لیٹ ھو گئے ، ، اس نے سوچا ، ، ، ابھی اور آرام کر لیں !! نہیں ، ،اس نے اس خیال کو جھٹکا اور اُٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ، ، ، ، وہ غسل کر کے باہر نکلا تو اس نے ایک محبت بھری نگاہ اپنی منکوحہ پر ڈالی اور محبت بھری آواز سے اسے بیدار کرنا چاھا ، مگر وہ کامیاب نہ ھو سکا ، وہ دوبارہ باتھ روم میں داخل ھوا،اپنے ھاتھ گیلے کیے اور ایک چھینٹا اس پر مارا ،، اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں ۔وہ مسکرایا اور اسے تہجد کے لیے خبردار کیا ، ، !!

یہ تھی وہ محبت بھری کوشش اس مبارک جوڑے کی کہ جس پر اللہ تعالی بھی فرشتوں پر فخر فرماتے ھیں اور ان کی بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ، ان پر خاصی رحمتِ الٰہی کا نزول ھو رھا تھا ۔ ۔!!! ۔ ۔ایک پاکیزہ محبت ، ،!!!
چودہ فروری کی ایک تاریک شام ۔ ، ،۔ ۔ ۔!
اسے بار بار لوّ میسج وصول ھو رھا تھا ، اس نے مسکرا کر اسے اوکے کر دیا اور گھر سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگی ۔ ۔ !۔
تھوڑی دیر بعد ۔ ۔ ۔
وہ اپنے یونیورسٹی فیلو کے ساتھ ایک جدید ھوٹل میں بیٹھی آئس کریم کھا رھی تھی ۔ ۔ ۔ !
! ! ۔ ۔
 غیر محرم ھوتے ھوئے اس ملاپ پر ان پر لعنت اللہ تعالی کی طرف سے برس رھی تھی ۔ ۔ لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ ۔ ۔ ۔ ۔مگر وہ دونوں اس سے بے خبر تھے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ تعالی کے غیر محرموں سے اجتناب کے احکامات کی دھجیاں اُڑا کر اللہ تعالی کے غضب اور قہر میں داخل ہو رھے تھے , ,اور اللہ کے عذاب کا کوڑا کسی بھی وقت ، کسی شکل میں ان پر برس سکتا تھا ۔ ۔ ۔ ، ، ، ،

وہ اس کے حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رھا تھا ، شہوت اس کی آنکھوں میں ناچ رہی تھی ۔ ۔ ۔
آؤ ، ، ،
ڈنر کے لیے میں نے ایک سیپریٹ کمرے میں بندوبست کروایا ھے ۔ ۔ ، ،
اور وہ دونوں ایک خوبصورت ، ویل فرنشڈ کمرے میں داخل ہو رھے تھے ۔ ۔ ۔
 مگر اسے معلوم نہ تھا کہ آج جو اس کا مدعی عشق ھے ، وہ کل کا بڑا بلیک میلر ثابت ہو گا ، اور کمرے میں لگے خفیہ کیمرے سے بنی ہوئی ایچ ڈی ویڈیو جہاں اس کے نام نہاد محبوب کے لیے کمائی کا ذریعہ ھو گی، وھیں وہ اس کی معصوم زندگی کو تلخ اور ناکام بنا دے گی ، ، ،
 مگر اس وقت تو اس کی آنکھوں پر جھوٹی محبت اور مغربی تہذیب کی نقل کا ایسا پردہ پڑا ھوا تھا کہ ۔ ۔ ۔۔اسے اپنی عزت ،اپنے خاندان کی عزت کے اُٹھتے ھوئے جناذے کا بھی احساس تک نہ تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ ایک ایسی بند گلی میں پھنس چکی تھی جہاں سے واپسی ناممکن تھی ، ، ، ،

مگر وہ خوش تھی ، ۔ ۔ ۔
ناجائز اظہار ِ محبت کی آزادی پر ۔ ۔ ۔
ایک بےحیاء دن # ویلنٹائن ڈے#
کی یاد تازہ کرنے پر ۔ ۔ ۔
 بہت بڑی قیمت چکانے کے باوجود ۔ ۔ ۔ !!

کاش کوئی اس کو سمجھاتا تو آج اندھیروں اور ناکامیوں کے سفر سے وہ بچ جاتی ، ، ،
۔ ۔ یا اللہ اُمّتِ مسلمہ کی بچیوں کی حفاظت فرما ۔ ۔ ۔!!۔ ۔ آمین ، !!!




Love halal or haram

Dinner last night, he goes to sleep the sleep of the most fun, most submerged in Kiev, joy,,,
 Young's eyes opened, he saw a similar clock in the dim light in the room, oh ,,,! However, was too late, I thought, and just relax !! No, it was the idea of ​​the bathroom shock and up, so he got out of the bath, he put his covenant love filled eyes and love Chakha to wake her full voice, but he could not be successful, he has been re-enter the bathroom, wet your hands and has been a drop, hit his eyes, he smiled and water .Now they do it for the night, !!
It was going to be the name of the happy couple loved him proud to Allah and the angels would announce their forgiveness, mercy upon them greatly. .. . .A Pure love !!!
A dark night of the fourteenth of February. ,,. . .
He was going to receive the message may take time, her smile made it OK and I think the idea of ​​leaving home. . !.
After a while . . .
She'm eating ice cream in a modern Hotel with my fellow university. . . !
! ! . .
 The eyelashes are considered a curse on the combination of advancing years by Allah. . The curse of Pico Almanzor alnazr addressee. . . Although they were unaware. . . . The collection entered blow violation of orders from non-mahram avoid the wrath and anger of Allaah, and the whip at any time of Allah, may rain in any form. . . ,,,,
He was getting mixed hinges of the sky in praise of her beauty, lady was dancing in his eyes. . .
Come,,,
For dinner I had arranged a sypryt room. . ,,
And they were showing into a beautiful, well-furnished rooms. . .
 But she did not know that today the plaintiff's love, they will be earning for tomorrow's big black mailer will be, and made it hidden camera in the room HD video where the so-called love, uhyn she will make her innocent life bitter and unsuccessful,
 But then his eyes had been veiled way of the false, and Western civilization. . Did not even realize who earlier opened position up jnazy his honor, the honor of my family. . . And, it was impossible to return to where it was stuck in a dead end,
But she was happy. . .
At a higher expression of love. . .
A shameful day, Valentine's Day #
Remember to date. . .
 Despite paying a heavy price. . . !!
So I have to explain the darkness and to avoid failures, travel,,,
. . Or Allah protect Muslims of girls. . .?. . Amen.

Tuesday, 7 February 2017

موضوع پيار عشق اور محبت ميں فرق

موضوع پيار عشق اور محبت ميں فرق
            پيار اسکی کوئی حقيقت نہيں اگر ہے تو کوئی بتا دے ميرے علم ميں اضافہ ہوجاے گا ۔ جب سے انڈيا اور انڈيا کے بعد پاکستانی فلميں اور ڈرامے بننا شروع ہوے تب سے پيار کا وجود سامنے آيا۔ آپ کسی 120 سالہ آدمی سے پيار کی تعريف پوچهيں اور پهر 20 سالہ نوجوان سے بهی پوچهيں آپکو پتہ چل جاے گا۔
 پيار آپکو صرف بنگلہ ديش ،انڈيا ،پاکستان اور افغانستان کے لوگوں ميں ملے گا آور کہيں بهی نہيں۔ ايک مثال کے ذريعے سمجهاتا ہوں ۔ ايک بندے کو کہا اپنی بهينس مجهے بيچ دو وه بولا نہيں صاحب ميں اس بهينس سے سب سے زياده پيار کرتا ہوں۔
اسی طرح شکاري سے پوچهيں تو وه کہے گا کہ ميں اپنے کتے سے سب سے زياده پيار کرتا ہوں۔ ايک صاحب سے کہا کہ اپنے دادا پردادا کے زمانے کی مرسڈيز بنز کار رکهی ہے ہميں بيچ دو تو بولے کہ ارے جاؤ خان صاحب اس کار سے ہمارے سارے فيملی والے پيار کرتے ہيں،۔،۔،۔آپکو اکثر ايسی ہی چيزوں سے پيار کرنيوالے مليں گے،۔اگر کوئی کہے بهی کہ مجهے فلاں بندے سے پيار ہے تو اپ ذرا زرو دے کر پوچهيں تو وه کہے گا کہ پيار نہيں محبت مجهے فلاں بندے سے محبت هے۔ المختصر پيار کا کوئي وجود نہيں اور اسکا دوسرا نام ٹهرک پن هے جو کہ زياده تر face book پر پايا جاتا هے عشق اور محبت ميں فرق کی بات کريں تو آپکو بتاتا چلوں کہ ايک عشق ہے اور ايک محبت ہے ، محبت ميں وصال کے تقاضے ہوتے ہيں ،اور اگر مُحِب کو پتہ لگ جاے کہ ميرا محبوب فلاں شخص سے بهی محبت کرتا ہے تو اِس ميں مُحِب کی موت ہوتی ہے، رقيب کی بهی موت ہوتی ہے ، دوسری طرف عشق ہے تو عشق ميں نہ تو جدائی ہے اور نہ ہی عشق ميں وِصال کے تقاضے ہيں "العشق نار يحرقها ما سِوالله" جدائی بهی نہيں ہوتی عشق اعلٰی درجہ پر ہوتا ہے کوئی تقاضہ نہيں ہوتا اور اگر عاشق کو پتہ چلا جاے ميرا معشوق فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو پهر يہ مياں عاشق اپنے معشوق کے محبوب کا بهی غلام بنا رہتا هے، کہ ميرے معشوق کی تجھ سے محبت هے، محبت ميں رقابت کی بات ہوتی ہے پهر رقيب کا خون پينے سے بهی سکون نہيں آتا تو پهر مُحِب بنده عشق مانگتا ہے اور اگلے مقام ميں يہی کہتا هے " ده خيام کوسے لہ زمہ چی دوزخ پہ اشارو شی"(پشتو شعر) کہ اسکے کوچے کی راہيں يہی محشر سے گزرنا اور يہی پُلِ صراط سے گزر کر يہ يار کے کوچے کی راہيں ہيں تو وه کہتا ہيکہ ايسا حال بنا ديدے اپنے عشق سے کہ ميرے سارے ارادے جل جائيں اور وه حال نصيب ہو مؤمن پُلِ صراط پر جب گزرتا ہے تو تو جہنم کہتا ہيکہ جلدی جلدی گزر جا کہ تيرے ايمانی شعلوں سے ميرے شعلے ماند پڑ رہے ہيں اور جہنم کو اپنے تيز ترين شعلوں پر فخر ہے اور جنت کو اپنے ذيب و زينت پر فخر هے جب کوئی بنده الله کا نفس کابنده نہ ہو جو الله سے اپنے اغراض و مقاصد کے ليے محبت کرے وه نفس کا بنده ہے نفس کا بنده جب عمل کرتا ہے تو عِوض اور غرض کےليۓ کسی نے کيا خوب کہا ہے عاشق کے بارے ميں کہ سمجهو تو بہت فرق ہے مجھ ميں اور اغيار ميں ميں تجھ پے ہوں قربان وه قربانِ تمنا  ۔

             قُل اِن کُنتُم تُحِبون الله ف‍اتَّبِعُونِی يُحبِبکُم الله تو کہہ اگر تم محبت رکهنا چاہتے ہو الله کی تو ميری راه چلی تاکہ تم محبت کرے تم سے الله۔
جو شخص الله سے محبت رکهنا چاہتا ہو اور يہ چاہتا ہوکہ الله اسکو محبوب رکهے تو يہ اسوقت تک نہيں ہوسکتا جب تک الله کے محبوب حضرت محمد صلی الله عليه وسلم کی اتباع نہ کرے۔ محبت کی تعريف : : محبت عبارت ہے کسی چيز کی طرف طبيعت کے ميلان سے اگر يہ ميلان قوی اور مؤکد ہوجاے تو اسکو عشق کہتے ہيں اور بغض عبارت ہے طبيعت کے متنفر ہونے سے کسی درد لدينے والی اور تهکا دينی والی چيز سے جب ، اور جب يہ نفرت قوی ہوجاے تو اسکو ہلاکت کہتے ہيں مفسرين کرام نے اس آيت کی تشريح ميں ايک سوال اٹهايا ہيکہ محبوبِ حقيقی تک پہنچنے کا راستہ کيا ہے اور وه کيا اسباب ہيں کہ جن سے محبوبِ حقيقی(الله تعالٰی) کی کامل محبت حاصل ہوتی ہے ۔
 پس آيتِ کريمہ سے جواب يه ديا گيا کہ محبوب کی اداؤں سے اپنے آپکو جوڑا جاے اور اسکے مخالفين سے اپنے آپکو موڑا جاے ۔ شانِ نزول : :مفسرين نے اس آيت کے دو شانِ نزول بيان فرمائيں ہيں نمبر 1 : : حضرت حسن اور ابنِ جريج فرماتے ہيں بعض قوموں نے آپ صلی الله عليه وسلم کے زمانہ مبارک ميں يہ گمان کيا کہ وه الله تعالٰی سے محبت کرتے ہيں تو الله تعالٰی نے انکے جواب ميں يہ آيت نازل فرمائی۔
 نمبر 2 : : امام ضحاک حضرت ابنِ عباس رضی الله عنه سے روايت کرتے ہيں کہ انہوں نے فرمايا نبی عليه السلام مسجد حرام ميں قريش کی ايک جماعت کے پاس رکے جنہوں نے وہاں اپنے بتوں کو نصب کيا ہوا تها اور ان پر شطر مرغ کے انڈے لٹکاے ہوے تهے اور ان بتوں کے کانوں ميں بالياں ڈالی ہوئی تهيں اسے سجده کر رہے تهے حضور صلی الله عليه وسلم نے يہ منظر ديکها تو انہيں مخاطب کر کے فرمايا اے جماعتِ قريش تم نے اپنے بڑے ابراهيم و اسماعيل عليهما السلام کی ملت کی مخالفت کی ہے تحقيق وه دونوں دينِ اسلام پر تهے ، قريش نے کہا اے محمدصلی الله عليه وسلم ہم ان بتوں کی پوجا الله کی محبت حاصل کرنے کے ليۓ کرتے ہيں تاکہ ہم ان بتوں کے ذريعے الله کے نزديک اونچا مقام و مرتبہ پا سکيں
 ! تو الله پاک نے يہ آيت نازل فرمائی عارفين کے نزديک محبت کی حقيقت کيا ہے ??? وه محبوب کی ملاقات کے ليۓ دل کا تڑپنا ، لذتِ عشق سے روح کا لطف اندوز ہونا،حواس کا اپنائيت کے سمندر ميں مستغرق رہنا ،نفس کا پاکيزه پانی کے ذريعے پاک ہونا ،زنده آنکهوں سے محبوب کو ديکهنا ، جہاں بهر سے آنکهوں کا پهير لينا ، اسرار کو پردهِ غيب ميں رکهنا اور محب کا اخلاقِ محبوب سے مزين ہونا يہی حقيقی محبت ہے ۔ اس محبت کی فرع محبوب کے تمام پسنديده اقوال کی پيروی کرنا اسکے غير موافق مزاج کو خوش دلی سے قبول کرنا اور اسکے فيصلوں کو سرِ تسليم خم کرنا ، وفاداری کی پاسداری کرنا اور آپ صلی الله عليه وسلم کی سنت کی پيروی کرنا۔  

آدابِ محبت
 : : يہ ہيں کہ نفسانی اور من چاہی خواہشات سے احتراز کرنا ، تنہائی اور خلوت کو لازم پکڑنا ،اپنا محاسبہ کرنا ، عمده خصلتوں کو تهامے رکهنا اور عاجزی و انکساری کو لازم ملزوم رکهنا۔ مساکين اهل العشق حتٰی قبورهم عليها تراب الذل بين المقابر اہلِ عشق کے ٹهکانوں سے ليکر قبروں تک عاجزی اور مسکنت چهائی رہتی ہے يہ اسی وقت ممکن ہيکہ روحِ انسانی مشاهداتِ الٰہی کو اسکی خوبيوں کيوجہ سے پيشِ نظر رکهے نہ کہ اسکے مال اور سروت سے سر پے نظر کرلے کہ مال اور سروےلت کی بنا پر محبت ہونے ميں علت کی تلاش رہتی ہے سروت ہوگی تو محبت ہوگی در حقيقت محبت وہی ہے جو بلاسبب ہو ،مُحب کے اور محبوب کے درميان بلا امتياز قائم رہے اسليۓ کہتے ہيں کہ محبت اس سے قائم ره ہی نہيں سکتی جو آگ اور جنت کی خوشی اور پريشانی ،فرض و سنت ،مطلب براری اور نقطہ چينی کے درميان فرق رکهتا هو اور محبت صحيح نہيں ہوسکتی مگر اس شخص سے جو سب کو بهلا کر محبوب کے مشاہدے ميں مستغرق ہوجاے اور اس ميں فنا هوجاے۔  

  محبت کی تين قسميں ہيں عوام کی محبت خواص کی محبت اخص الخواص کی محبت عوام کی محبت يہ احسانات کے ظہور سے پيدا ہوتی ہے ،محسن کے احسان ديکهنے کيوجہ سے محسن سے محبت پيدا ہوتی ، قلوب کی تخليق اس طرح ہوئی ہيکہ يہ اپنے احسان کرنے والے کيساتھ محبت کرتے ہيں ، يہ محبتب بدلتی رہتی ہے ،يہ اعمال کے تابع ہوتی ہے ۔وه لوگ جو اپنے اعمال پر اجر کے طالب ہوتے ہيں انکے بارے ميں ابو طيب نے کيا خوب کہاہے وَمَا اَنا بِالبَاغِی عَلَی الحبِ رشوه ضعيف هوی يرجی عليه ثواب ميں محبت پر رشوت ليکر بغاوت کرنيوالا نہيں ہوں ،کمزور بندہ ہوں جو تمناؤوں پر ثواب کی اميد رکهتا ہوں خواص کی محبت يہ اپنے پيروکاروں سے انکے اخلاص کيوجہ سے ہے جو ان سے اُن کی عظمت اور جلال کيوجہ سے محبت کرتے ہيں جس کے وه حقدار ہيں ، اس بارے ميں آپ صلی الله عليه وسلم کا فرمان مبارک ہيکہ (نعم العبد صهيب لو لم يخف الله لم يعصيه)کہ صهيب کيا ہی خوب بنده ہے اگر الله کا لحاظ نہ ہوتا تب بهی وه نافرمانی نہ کرتا ، مطلب يہ ہيکہ نافرمانی جو نہيں کرتا يہ الله کے لحاظ کیوجہ سے نہيں کرتا۔
 حضرت رابعہ بصری فرماتی ہيں کہ ميں تم سے دو محبتيں کرتی ہوں ايک تمناؤوں کی اور دوسری اس ليۓ کہ تم اسکے مستحق ہو اور يہ دوسری محبت کبهی نہيں بدلتی اسکا جلال اور جمال دائمی ہے ۔ (الله ہم سبکو دائمی محبت نصيب کرے) اخص الخواص کی محبت يہ محبت اپنے پيروکاروں کے احوال کے تابع ہے اور يہ پيدا ہوتی هے جاذبيتِ الٰہی کيوجہ سے يہ ہمہ وقت ان پر حاوی رہتی ہے( ميں چهپا ہوا خزانہ تها ) اور اس محبت کے اہل کامل معرفت کی استعداد والے هوتے ہيں اور اسکی حقيقت يہ ہيکہ جب اسکے جلال ميں فنا ہوجاے تو اپنے آپکو گم کردے اور کبهی کبهار وه حيران اور پريشان ره جاتا ہے ،نہ زندوں کی مانند ہيں کہ اسکی اميد کيجاے نہ مردوں کی مانند ہيں کہ اس پر رويا جاے ۔

روح المعانی سورت آلِ عمران باب الاشارات ج ۳ 

Thursday, 2 February 2017

Education & Ishq


, *تعلیم و تعلم اور عشق معاشقہ*

ا           سلام آباد کے علاقے ترنول کے ایک سکول میں 16 سالہ "طالبِ عشق" نے اپنی 19 سالہ اُستانی کی "محبت" میں ناکامی پر کلاس میں خود کو گولی مار کر قتل کردیا۔۔۔۔۔ یہ خبر انتہائی افسوسناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے، یہ کوئی نئی خبر یا نیا واقعہ نہیں۔۔۔۔اس سے قبل بھی ایسے واقعات تسلسل سے ہوتے رہے ہیں۔
        کچھ باتیں عرض کرنی ہیں:۔۔
          اول تو ایسے نامردوں کی پیدائش پہ افسوس ہے، جو داڑھی مونچھ کی عمر کو پہنچ کر بھی اپنی زندگی کا مقصد نہیں سمجھ پاتے، اپنی قیمتی جان کو کسی کے "پیار" کیلئے وار دینا
۔۔۔۔۔ اپنی جان کا چراغ اپنے ہاتھوں گُل کردینا۔۔۔۔۔ یہ کونسی محبت ہے بھئی ۔۔۔۔؟ 
اِس "عشق، محبت یا پیار" کا کانسپٹ کہاں سے آیا کہ جس میں بچے اپنی جان تک لے لیتے ہیں۔۔۔۔۔ *
        کیا یہ ان کارٹونس، فلموں اور ڈراموں کا نتیجہ نہیں؟ 
         جو پورا گھر ایک جگہ بیٹھ کر دیکھتا ہے۔۔ جس میں والدین سے بغاوت، خود کشی، خودسری اور کسی بھی حد کو پھلانگنے کیلئے کچے اذہان کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔۔۔؟؟* دوسری بات یہ ہے کہ *میٹرک اور انڈر میٹرک کے لڑکوں کو پڑھانے کیلئے 18 اور 19 سالہ دو شیزائیں کس لئے رکھی جاتی ہیں؟* معلم اور متعلم کے مقدس ترین رشتے کے نام پر عاشق اور معشوق کو درس گاہ کی بجائے ڈیٹ پوائنٹ فراہم کرنے والے پرائیویٹ سکول مالکان سے کوئی پوچھ گچھ ہوسکتی ہے؟ 1500 سے 5000 ماہانہ تنخواہ پر آغازِ شباب کے نازک ترین دور سے گزرنے والی میٹرک اور انٹر پاس بچیاں تدریس کے لئے رکھی جاتی ہيں۔۔اس پر کون ایکشن لے گا؟ ہے کوئی جو اس مافیا کے خلاف قانونی چارہ کوئی کرے۔۔۔؟؟ 
            کیا وہ والدین اندھے، بہرے، یا دنیا و مافیہا سے بے بہرہ ہیں جنہیں اپنے بچوں کے تعلیمی ادارے کے متعلق خبر نہیں کہ کیا پڑھایا جارہا ہے، اور کس قسم کا نظام ہے۔؟ کیسی تربیت کی جارہی ہے اور کیا ذہن سازی ہورہی ہے، ماحول کیسا فراہم کیا گیا؟
         یہ سب کچھ والدین کی ذمہ داری ہے، لیکن اس میں سراسر کوتاہی برتی جاتی ہے۔۔کیا یہ والدین اپنے بچوں کا بستہ، ہوم ورک اور روازانہ کا معمول نہیں دیکھتے کہ ان کے بچے کے بستے میں کوئی ذہنیت بگاڑنے والا ناول، جریدہ، یا رسالہ تو نہیں ہے۔؟ کیا اس کے موبائل فون کا استعمال درست ہے۔؟ 
         مگر الله غارت کرے اس فکر کو کہ جس نے بچے کو والد کے پستول تک پہنچا دیا اور والدین کو خبر تک نہ ہوئی۔ آخری نکتہ یہ ہے کہ وہ دوشیزہ جوٹیچر سے زیادہ فیشن ماڈل بن کر سکول آتی ہے، بلوغت سے تازہ تازہ آشنائی پانے والے لڑکوں سے بے تکلفی، گپ شپ، موبائل نمبر شیئرنگ اور نہ جانے کیا کچھ ہوتا ہے، اُس میں اس ٹیچر کی کتنی ذمہ داری ہے؟؟ کہ وہ کس حلیے، لباس، تراش خراش اور چال ڈھال کی پابند ہے۔؟ لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔۔ 
          خواتین کے فیشن اور میک اپ مقابلے تعلیمی اداروں میں بھی عروج پر ہوتے ہیں۔ جتنی تنخواہ ان پرائیویٹ اداروں میں ٹیچرز کو دی جاتی ہے، وہ بمشکل ان کے ماہانہ میک اپ کے سامان اور موبائل بیلنس پورا کرپاتی ہے۔۔ بس ایسی تنخواہوں پر پڑھائی کا معیار بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جہاں ہر روز کوئی اسامہ، عبداللہ، نوروز اور فاطمہ نور جیسوں کے لاشے گرا کرتے ہیں۔ 

وزارت تعلیم ایسے اداروں کی رجسٹریشن کرتے وقت عمارت، عملہ، تمام میکنزم اور معلومات لے کر تحقیق کے بعد معیار پر پورا اُترنے والے اداروں کی رجسٹریشن کرے، یہ گلی گلی میں تعلیم کا کاروبار کرنے والے سکول نامی دوکانیں، مخلوط نظام اور اخلاقیات کے جنازے اٹھانے والے تمام ادارے بند کردینے چاہئیں، یہ والدین، سکول انتطامیہ اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنی نئی نسل کو اس اندھیرے کنویں میں ڈوبنے سے بچائیں، ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات، اخلاق باختہ پروگرامات اور ایسی خرافات مستقبل کے معماروں کی اخلاقی تباہی، بے یقینی، خود پہ عدم اعتماد، مجرمانہ فکر اور بے راہروی کا پیش خیمہ ہیں۔

نوٹ: *اسلام کی تعلیم حاصل کرو اور دوسروں کو سکھاؤ ورنہ تباہ تو خود بھی ہو چکے ہو اور اپنے بچوں کو بھی برباد کر رہے ہو۔*

Thursday, 19 January 2017

Piyar Ishaq Aur Muhabbat Main Faraq


پيار,عشق اور محبت ميں فرق

            پيار اسکی کوئی حقيقت نہيں اگر ہے تو کوئی بتا دے ميرے علم ميں اضافہ ہوجاے گا ۔ جب سے انڈيا اور انڈيا کے بعد پاکستانی فلميں اور ڈرامے بننا شروع ہوے تب سے پيار کا وجود سامنے آيا۔ آپ کسی 120 سالہ آدمی سے پيار کی تعريف پوچهيں اور پهر 20 سالہ نوجوان سے بهی پوچهيں آپکو پتہ چل جاے گا۔ پيار آپکو صرف بنگلہ ديش ،انڈيا ،پاکستان اور افغانستان کے لوگوں ميں ملے گا آور کہيں بهی نہيں۔ ايک مثال کے ذريعے سمجهاتا ہوں ۔ ايک بندے کو کہا اپنی بهينس مجهے بيچ دو وه بولا نہيں صاحب ميں اس بهينس سے سب سے زياده پيار کرتا ہوں۔اسی طرح شکاري سے پوچهيں تو وه کہے گا کہ ميں اپنے کتے سے سب سے زياده پيار کرتا ہوں۔ ايک صاحب سے کہا کہ اپنے دادا پردادا کے زمانے کی مرسڈيز بنز کار رکهی ہے ہميں بيچ دو تو بولے کہ ارے جاؤ خان صاحب اس کار سے ہمارے سارے فيملی والے پيار کرتے ہيں،۔،۔،۔آپکو اکثر ايسی ہی چيزوں سے پيار کرنيوالے مليں گے،۔اگر کوئی کہے بهی کہ مجهے فلاں بندے سے پيار ہے تو اپ ذرا زرو دے کر پوچهيں تو وه کہے گا کہ پيار نہيں محبت مجهے فلاں بندے سے محبت هے۔ المختصر پيار کا کوئي وجود نہيں اور اسکا دوسرا نام ٹهرک پن هے جو کہ زياده تر face book پر پايا جاتا هے عشق اور محبت ميں فرق کی بات کريں تو آپکو بتاتا چلوں کہ ايک عشق ہے اور ايک محبت ہے ، محبت ميں وصال کے تقاضے ہوتے ہيں ،اور اگر مُحِب کو پتہ لگ جاے کہ ميرا محبوب فلاں شخص سے بهی محبت کرتا ہے تو اِس ميں مُحِب کی موت ہوتی ہے، رقيب کی بهی موت ہوتی ہے ، دوسری طرف عشق ہے تو عشق ميں نہ تو جدائی ہے اور نہ ہی عشق ميں وِصال کے تقاضے ہيں "العشق نار يحرقها ما سِوالله" جدائی بهی نہيں ہوتی عشق اعلٰی درجہ پر ہوتا ہے کوئی تقاضہ نہيں ہوتا اور اگر عاشق کو پتہ چلا جاے ميرا معشوق فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو پهر يہ مياں عاشق اپنے معشوق کے محبوب کا بهی غلام بنا رہتا هے، کہ ميرے معشوق کی تجھ سے محبت هے، محبت ميں رقابت کی بات ہوتی ہے پهر رقيب کا خون پينے سے بهی سکون نہيں آتا تو پهر مُحِب بنده عشق مانگتا ہے اور اگلے مقام ميں يہی کہتا هے " ده خيام کوسے لہ زمہ چی دوزخ پہ اشارو شی"(پشتو شعر) کہ اسکے کوچے کی راہيں يہی محشر سے گزرنا اور يہی پُلِ صراط سے گزر کر يہ يار کے کوچے کی راہيں ہيں تو وه کہتا ہيکہ ايسا حال بنا ديدے اپنے عشق سے کہ ميرے سارے ارادے جل جائيں اور وه حال نصيب ہو مؤمن پُلِ صراط پر جب گزرتا ہے تو تو جہنم کہتا ہيکہ جلدی جلدی گزر جا کہ تيرے ايمانی شعلوں سے ميرے شعلے ماند پڑ رہے ہيں اور جہنم کو اپنے تيز ترين شعلوں پر فخر ہے اور جنت کو اپنے ذيب و زينت پر فخر هے جب کوئی بنده الله کا نفس کابنده نہ ہو جو الله سے اپنے اغراض و مقاصد کے ليے محبت کرے وه نفس کا بنده ہے نفس کا بنده جب عمل کرتا ہے تو عِوض اور غرض کےليۓ کسی نے کيا خوب کہا ہے عاشق کے بارے ميں کہ سمجهو تو بہت فرق ہے مجھ ميں اور اغيار ميں ميں تجھ پے ہوں قربان وه قربانِ تمنا  ۔

              قُل اِن کُنتُم تُحِبون الله ف‍اتَّبِعُونِی يُحبِبکُم الله تو کہہ اگر تم محبت رکهنا چاہتے ہو الله کی تو ميری راه چلی تاکہ تم محبت کرے تم سے الله۔ جو شخص الله سے محبت رکهنا چاہتا ہو اور يہ چاہتا ہوکہ الله اسکو محبوب رکهے تو يہ اسوقت تک نہيں ہوسکتا جب تک الله کے محبوب حضرت محمد صلی الله عليه وسلم کی اتباع نہ کرے۔ محبت کی تعريف : : محبت عبارت ہے کسی چيز کی طرف طبيعت کے ميلان سے اگر يہ ميلان قوی اور مؤکد ہوجاے تو اسکو عشق کہتے ہيں اور بغض عبارت ہے طبيعت کے متنفر ہونے سے کسی درد لدينے والی اور تهکا دينی والی چيز سے جب ، اور جب يہ نفرت قوی ہوجاے تو اسکو ہلاکت کہتے ہيں مفسرين کرام نے اس آيت کی تشريح ميں ايک سوال اٹهايا ہيکہ محبوبِ حقيقی تک پہنچنے کا راستہ کيا ہے اور وه کيا اسباب ہيں کہ جن سے محبوبِ حقيقی(الله تعالٰی) کی کامل محبت حاصل ہوتی ہے ۔ پس آيتِ کريمہ سے جواب يه ديا گيا کہ محبوب کی اداؤں سے اپنے آپکو جوڑا جاے اور اسکے مخالفين سے اپنے آپکو موڑا جاے ۔ شانِ نزول : :مفسرين نے اس آيت کے دو شانِ نزول بيان فرمائيں ہيں نمبر 1 : : حضرت حسن اور ابنِ جريج فرماتے ہيں بعض قوموں نے آپ صلی الله عليه وسلم کے زمانہ مبارک ميں يہ گمان کيا کہ وه الله تعالٰی سے محبت کرتے ہيں تو الله تعالٰی نے انکے جواب ميں يہ آيت نازل فرمائی۔ نمبر 2 : : امام ضحاک حضرت ابنِ عباس رضی الله عنه سے روايت کرتے ہيں کہ انہوں نے فرمايا نبی عليه السلام مسجد حرام ميں قريش کی ايک جماعت کے پاس رکے جنہوں نے وہاں اپنے بتوں کو نصب کيا ہوا تها اور ان پر شطر مرغ کے انڈے لٹکاے ہوے تهے اور ان بتوں کے کانوں ميں بالياں ڈالی ہوئی تهيں اسے سجده کر رہے تهے حضور صلی الله عليه وسلم نے يہ منظر ديکها تو انہيں مخاطب کر کے فرمايا اے جماعتِ قريش تم نے اپنے بڑے ابراهيم و اسماعيل عليهما السلام کی ملت کی مخالفت کی ہے تحقيق وه دونوں دينِ اسلام پر تهے ، قريش نے کہا اے محمدصلی الله عليه وسلم ہم ان بتوں کی پوجا الله کی محبت حاصل کرنے کے ليۓ کرتے ہيں تاکہ ہم ان بتوں کے ذريعے الله کے نزديک اونچا مقام و مرتبہ پا سکيں ! تو الله پاک نے يہ آيت نازل فرمائی عارفين کے نزديک محبت کی حقيقت کيا ہے ??? وه محبوب کی ملاقات کے ليۓ دل کا تڑپنا ، لذتِ عشق سے روح کا لطف اندوز ہونا،حواس کا اپنائيت کے سمندر ميں مستغرق رہنا ،نفس کا پاکيزه پانی کے ذريعے پاک ہونا ،زنده آنکهوں سے محبوب کو ديکهنا ، جہاں بهر سے آنکهوں کا پهير لينا ، اسرار کو پردهِ غيب ميں رکهنا اور محب کا اخلاقِ محبوب سے مزين ہونا يہی حقيقی محبت ہے ۔ اس محبت کی فرع محبوب کے تمام پسنديده اقوال کی پيروی کرنا اسکے غير موافق مزاج کو خوش دلی سے قبول کرنا اور اسکے فيصلوں کو سرِ تسليم خم کرنا ، وفاداری کی پاسداری کرنا اور آپ صلی الله عليه وسلم کی سنت کی پيروی کرنا۔  

آدابِ محبت : : يہ ہيں کہ نفسانی اور من چاہی خواہشات سے احتراز کرنا ، تنہائی اور خلوت کو لازم پکڑنا ،اپنا محاسبہ کرنا ، عمده خصلتوں کو تهامے رکهنا اور عاجزی و انکساری کو لازم ملزوم رکهنا۔ مساکين اهل العشق حتٰی قبورهم عليها تراب الذل بين المقابر اہلِ عشق کے ٹهکانوں سے ليکر قبروں تک عاجزی اور مسکنت چهائی رہتی ہے يہ اسی وقت ممکن ہيکہ روحِ انسانی مشاهداتِ الٰہی کو اسکی خوبيوں کيوجہ سے پيشِ نظر رکهے نہ کہ اسکے مال اور سروت سے سر پے نظر کرلے کہ مال اور سروےلت کی بنا پر محبت ہونے ميں علت کی تلاش رہتی ہے سروت ہوگی تو محبت ہوگی در حقيقت محبت وہی ہے جو بلاسبب ہو ،مُحب کے اور محبوب کے درميان بلا امتياز قائم رہے اسليۓ کہتے ہيں کہ محبت اس سے قائم ره ہی نہيں سکتی جو آگ اور جنت کی خوشی اور پريشانی ،فرض و سنت ،مطلب براری اور نقطہ چينی کے درميان فرق رکهتا هو اور محبت صحيح نہيں ہوسکتی مگر اس شخص سے جو سب کو بهلا کر محبوب کے مشاہدے ميں مستغرق ہوجاے اور اس ميں فنا هوجاے۔  

  محبت کی تين قسميں ہيں عوام کی محبت خواص کی محبت اخص الخواص کی محبت عوام کی محبت يہ احسانات کے ظہور سے پيدا ہوتی ہے ،محسن کے احسان ديکهنے کيوجہ سے محسن سے محبت پيدا ہوتی ، قلوب کی تخليق اس طرح ہوئی ہيکہ يہ اپنے احسان کرنے والے کيساتھ محبت کرتے ہيں ، يہ محبتب بدلتی رہتی ہے ،يہ اعمال کے تابع ہوتی ہے ۔وه لوگ جو اپنے اعمال پر اجر کے طالب ہوتے ہيں انکے بارے ميں ابو طيب نے کيا خوب کہاہے وَمَا اَنا بِالبَاغِی عَلَی الحبِ رشوه ضعيف هوی يرجی عليه ثواب ميں محبت پر رشوت ليکر بغاوت کرنيوالا نہيں ہوں ،کمزور بندہ ہوں جو تمناؤوں پر ثواب کی اميد رکهتا ہوں خواص کی محبت يہ اپنے پيروکاروں سے انکے اخلاص کيوجہ سے ہے جو ان سے اُن کی عظمت اور جلال کيوجہ سے محبت کرتے ہيں جس کے وه حقدار ہيں ، اس بارے ميں آپ صلی الله عليه وسلم کا فرمان مبارک ہيکہ (نعم العبد صهيب لو لم يخف الله لم يعصيه)کہ صهيب کيا ہی خوب بنده ہے اگر الله کا لحاظ نہ ہوتا تب بهی وه نافرمانی نہ کرتا ، مطلب يہ ہيکہ نافرمانی جو نہيں کرتا يہ الله کے لحاظ کیوجہ سے نہيں کرتا۔ حضرت رابعہ بصری فرماتی ہيں کہ ميں تم سے دو محبتيں کرتی ہوں ايک تمناؤوں کی اور دوسری اس ليۓ کہ تم اسکے مستحق ہو اور يہ دوسری محبت کبهی نہيں بدلتی اسکا جلال اور جمال دائمی ہے ۔ (الله ہم سبکو دائمی محبت نصيب کرے) اخص الخواص کی محبت يہ محبت اپنے پيروکاروں کے احوال کے تابع ہے اور يہ پيدا ہوتی هے جاذبيتِ الٰہی کيوجہ سے يہ ہمہ وقت ان پر حاوی رہتی ہے( ميں چهپا ہوا خزانہ تها ) اور اس محبت کے اہل کامل معرفت کی استعداد والے هوتے ہيں اور اسکی حقيقت يہ ہيکہ جب اسکے جلال ميں فنا ہوجاے تو اپنے آپکو گم کردے اور کبهی کبهار وه حيران اور پريشان ره جاتا ہے ،نہ زندوں کی مانند ہيں کہ اسکی اميد کيجاے نہ مردوں کی مانند ہيں کہ اس پر رويا جاے ۔

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)