Showing posts with label pa ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label pa ki kahawtain. Show all posts

Tuesday, 21 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs




پ۔ کی کہاوتیں

 (۱)  پاگل کے سر کیا سینگ ہوتے ہیں ؟  : 

پاگل اپنی حرکات سے الگ پہچانا جاتا ہے۔ یہ فقرہ طنزاً بولا جاتا ہے۔

( ۲)  پانچ دو سات ہو گئے  : 

 یعنی آپس میں  مل بیٹھے۔ یہ’’ نو دو گیارہ ہو گئے‘‘ کہاوت کا الٹا ہے۔ نو دو گیارہ ہونے کے معنی بھاگ کھڑا ہونا ہیں  جب کہ پانچ دو سات  ہونے کے معنی گٹھ جوڑ کر لینے کے ہیں۔

  (۳)  پانی پیجئے چھان کر اور پیر کیجئے جان کر    :

  یعنی پانی پینے سے پہلے دیکھ لینا چاہئے کہ صاف ہے یا نہیں  اور کسی کو اپنا پیر و مرشد بنانے سے قبل جانچ پڑتا ل کر لینی چاہئے کہ کس رتبہ کا آدمی ہے۔ایسا نہ کرنے میں نقصان کا خطرہ ہے۔ یہ کہاوت تنبیہ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

( ۴)  پانی سے پہلے پل باندھ رہے ہیں   : 

 اس سے پہلے کہ مسئلہ سر پر آ جائے اس کے علاج کی صورت کر رہے ہیں ۔ یہ دانشمندی  کی نشانی ہے۔پانی سر پر آ جائے تو اس وقت پل باندھنا کیا معنی رکھتا ہے؟

( ۵)  پانچوں  انگلیاں  برابر نہیں  ہوتی ہیں   :

  جس طرح ایک ہاتھ کی پانچوں  انگلیاں  برابر نہیں  ہیں  اسی طرح کوئی دو شخص بھی بالکل یکساں  نہیں  ہیں۔

(۶ )  پانڈے جی پچھتاؤ گے، وہی چنے کی کھاؤ گے  :

  جب کوئی شخص ضد میں  کسی کام سے انکار کر دے لیکن بعد میں  مجبور ہو کر اس پر بصد اکراہ راضی ہو جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔اس کہاوت سے ایک کہانی منسوب ہے کہ ایک پنڈت جی کو چنے کی روٹی اور دال سخت ناپسند تھے۔ ایک دن جب بیوی نے ان کے سامنے چنے کی دال اور روٹی رکھی تو پنڈت جی نے کھانے سے انکار کر دیا۔بیوی نے سمجھایا کہ ’’گھر میں  اس وقت اور  کچھ پکا نے کو نہیں  ہے۔‘‘ لیکن وہ نہ مانے اور غصہ میں  بھنائے ہوئے گھر سے نکل گئے۔ شام تک بھوک نے اتنا برا حال کر دیا کہ ہار کر گھر واپس آئے اور  خاموشی سے کھانے کی چٹائی پر بیٹھ گئے۔ بیوی مطلب سمجھ گئی اور اس نے دال روٹی ان کے سامنے رکھ دی۔ پانڈے جی نے بحالت مجبوری اسی سے پیٹ کی آگ بجھائی۔



اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs

پ۔ کی کہاوتیں

 (۷)  پانی پی کر ذات کیا پوچھنا   :

  کسی کے گھر پانی پینے کے بعد اس کی ذات پوچھنا حماقت ہے۔  یعنی جب کسی کا حسن سلوک قبول کر لیا تو اس کی نسبت مین میخ نکالنا مناسب نہیں  ہے۔

(۸)  پانی سر سے اُونچا ہو گیا  : 

یعنی معاملہ اب اپنے قابو اور اختیارسے باہر ہو گیا ہے۔

( ۹ )  پانچوں  انگلیاں  گھی میں  اور سر کڑھائی میں   : 

یعنی ہر طرح سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔

(۱۰ )  پاؤں  مین جوتی نہ سر پر ٹوپی  : 

 یعنی بالکل مفلس، قلّاش اور پھٹے حالوں  ہیں۔

(۱۱ )  پاؤں  رکھتے کہیں  ہیں ، پڑتا کہیں ہے  : 

 یعنی شدید کمزور ی کا عالم ہے کہ قدم رکھنا کہیں  چاہتے ہیں  اور پڑتا کہیں  اور ہے۔

( ۱۲)  پائے مرا لنگ نیست، ملک خدا تنگ نیست  :

  یعنی نہ تو میں  پیروں  سے لنگڑا ہوں  اور نہ ہی اَللہ کی یہ دُنیا مجھ پر تنگ ہے۔ جب کسی کو خود اعتمادی اور خود اختیاری کا اظہار مقصود ہوتا ہے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

(۱۳ )  پائی چیز، پرائی چیز  :

  یعنی کوئی چیز پڑی مل جائے تو وہ پانے والے کی نہیں  ہو جاتی۔ اس کا اصل مالک وہی رہتا ہے جس کے پاس سے وہ گر گئی تھی۔




اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs

پ۔ کی کہاوتیں

(۱۴)  پتا چلتا ہے پوری دیگ کا بس ایک چاول سے  :

  یہ ایک شعر کا پہلا مصرع ہے    ؎

پتا چلتا ہے پوری دیگ کا بس ایک چاول سے          اٹھا کر ایک قطرہ نبضِ   طوفاں   دیکھ لیتے ہیں

 دیگ کے گلنے کا اندازہ ایک آدھ چاول سے ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آدمی کی خصلت بھی اس کی چھوٹی موٹی باتوں  سے ظاہر ہو جاتی ہے۔

(۱۵) پتھر میں  جونک نہیں  لگتی  :

  یعنی ظالم اور بد اطوار آدمی پرکسی بات کا بھی اثر نہیں  ہوتا۔

( ۱۶ )  پتھر کی لکیر  : 

 نہ مٹنے والی بات، سدا قائم رہنے والی چیز۔

( ۱۷)  پتھر پوجے ہر ملے تو میں  پوجوں  پہاڑ  : 

 ہَر یعنی ہَری، بھگوان، خدا۔مطلب یہ ہے کہ اگر پتھر پوجنے سے مجھ کو خدا مل جائے تو میں  پہاڑ پوجنے کے لئے تیار ہوں۔ گویا پتھر پوجنے سے کچھ حاصل نہیں  ہے۔

(۱۸)  پتھر سے چکی بھلی، پیس کھلائے سنسار  :

  صرف پتھر کسی کام کا نہیں  ہوتا جب کہ چکی سے اناج پیس کر ایک دنیا فیض یاب ہوتی ہے۔ چنانچہ ایسا شخص جو اپنی تعلیم و تربیت و طبیعت سے دوسروں  کے کام آتا ہو اُس شخص سے بہتر ہے جو اَن گھڑ اور بے فیض ہے۔

( ۱۹ )  پتہ کھڑکا اور دل دھڑکا  :

  شدید خوف وہراس میں  آدمی پتہ کھڑکنے کی آواز سے بھی چونک جاتا ہے۔

( ۲۰ )  پتھر تلے کا ہاتھ  : 

 بھاری پتھر کے نیچے ہاتھ دب جائے تو نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔چنانچہ یہ کہاوت انتہائی مجبوری و لاچاری ظاہر کرنے کے لئے بولی جاتی ہے۔



اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs



پ۔ کی کہاوتیں

( ۲۱ )  پرایا سیر پنسیری برابر  : 

 کلوگرام سے پہلے تولنے کے لئے سیراستعمال ہوتا تھا جو تقریباً آدھے کلو کے برابر تھا۔پنسیری یعنی پانچ سیر۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ دوسروں  سے تھوڑا بہت بھی فائدہ حاصل ہو جائے تواس کو بہت جاننا چاہئے۔

( ۲۲ )  پرندہ پر نہیں  مار سکتا  : 

 یعنی پابندیاں  اتنی سخت ہیں  کہ پرندہ بھی آنا چاہے تو نہیں  آسکتا۔استعمال ظاہر ہے۔

( ۲۳)  پڑھیں  فارسی بیچیں  تیل  :

  یعنی پڑھ لکھ کر تو عالم فاضل ہو گئے لیکن کام کرنے کے نام صفر ہے۔ تیل بیچنے سے تحقیر مراد ہے کہ ایسی تعلیم کس کام کی جس سے معاش کا انتظام بھی نہ ہو سکے۔

( ۲۴)  پڑوسن کے مینھ برسے گا تو او لتیاں  ٹپکیں  گی  :

 اولتی بارش کی اس دھار کو کہتے ہیں  جو چھت کے کنارے سے بارش میں  ٹپکتی ہے۔ اگر ہمسایہ میں  بارش ہو تو اپنے گھر کی اولتیاں  تو کم سے کم ٹپکیں  گی ہی۔ کہاوت کا یہی مطلب ہے کہ دوستوں  اور عزیزوں کو کوئی فائدہ ہو گاتواس کا کچھ نہ کچھ حصہ قریبی لوگوں  کو بھی مل سکتا ہے۔محل استعمال اسی پر قیاس کر لیجئے۔

( ۲۵ )  پڑھوں  میں ان پڑھ جیسے بگلوں  میں  کوا  : 

سفید خوبصورت بگلوں  کے درمیان ایک کوّا آ بیٹھے تو عجیب لگے گا۔اسی طرح  پڑھے لکھوں  کے درمیان اَن پڑھ آدمی بھی بے جوڑ نظر آتا ہے۔

(۲۶ )  پڑھے نہ لکھے،نام محمد فاضل  :

یعنی  ایسا آدمی جو مطلق جاہل ہو لیکن نام سے علم کا بادشاہ ظاہر ہو۔

( ۲۷ )  پُن کی جڑ سدا ہری   : 

پُن یعنی نیک کام۔ نیک کام ہمیشہ بار آور ہی رہتا ہے اور اس پر کبھی ادبار طاری نہیں  ہوتا۔



اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs


پ۔ کی کہاوتیں

( ۲۸)  پنچ ملے کیجئے کاج، جیتے ہارے نہ آوے لاج  :

  پنچ ملے یعنی آپس کے مشورے سے۔ آپس کی صلاح مشورے سے کام کیا جائے تو ناکامی کی حالت میں  کسی ایک شخص کو ندامت کا سامنا نہیں  کرنا پڑتا ہے۔

( ۲۹ )  پنچ کہیں  بلّی تو بلّی ہی سہی  :

  پنچ یعنی پنچایت کے اراکین۔اگر لوگوں  کی اکثریت کسی بات پر متفق ہو جائے تو غلط بات بھی سچ ہو جاتی ہے اور اس کو ماننا نا گزیر ہو جاتا ہے۔ قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص کے گھر میں رات کو چور گھس آیا اور کمرے میں  چوری کرنے گیا۔ اس شخص کی آنکھ کھل گئی اور  اس نے چپکے سے کمرہ کی کنڈی باہر سے لگا دی کہ چور نکل کر بھاگ نہ سکے۔ چور نے گھبرا کر اس اُمید پر بلی کی طرح طرح میاؤں  میاؤں کہنا شروع کیا کہ وہ شخص اسے بلی سمجھ کر دروازہ کھول دے گا اور وہ بھاگ نکلے گا۔لیکن اُس شخص نے بلی کی آواز سن کر کہا کہ ’’پنچ کہیں  بلّی تو بلّی ہی سہی‘‘ یعنی صبح ہونے دو تو پنچوں  کوب لا لوں  گا۔ اگر وہ کہتے ہیں  کہ تو بلّی ہی ہے تو میں  مان کر تجھ کو چھوڑ دوں  گا۔

(۳۰ )  پوپلے سے ہڈی نہیں  چبتی  : 

پوپلا یعنی جس کے منھ میں  دانت نہ ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ کمزور شخص سے مشکل کام کی اُمید فضول ہے۔

( ۳۱ )  پوتڑوں  کے امیر  : 

یعنی پشتینی امیر، خاندانی امیر۔ پوتڑ۱بچپن کا استعارہ ہے یعنی کوئی آج کے امیر نہیں  ہیں۔

( ۳۲ )  پُوت کے پاؤں  پالنے میں  نظر آ جاتے ہیں   :

  پُوت یعنی بیٹا۔ پالنا یعنی جھولا۔ مطلب یہ ہے کہ بچہ کے مستقبل کے آثار شروع میں  ہی ظاہر ہو جاتے ہیں ۔

( ۳۳ )  پہلے آؤ، پہلے پاؤ   : 

 دُنیا میں جو پہلے اپنا حق مانگے اُس کو مل جاتا ہے اور جو بعد میں  آئے اس کو بعد میں  ملتا ہے یا ملتا ہی نہیں  ہے۔ کسی شاعر نے اس حقیقت کو کیا ہی خوبصورت انداز میں  نظم کیا ہے     ؎

یہ بزم مے ہے،یاں  کوتاہ دستی میں  ہے محرومی                جو بڑھ کر ہاتھ میں  لے لے یہاں  مینا اُسی کا ہے



اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs


پ۔ کی کہاوتیں

( ۳۴)  پہلے لکھ اور پیچھے دے، پھر بھولے تو  مجھ سے لے  :

  ہر معاہدے کی باقاعدہ لکھا پڑھی ہونی چاہئے تاکہ غلط فہمی کا امکان  ہی نہ رہے۔ چونکہ پیسہ کے لین دین میں  زیادہ خطرہ ہوتا ہے اس لئے یہاں  اس کی مثال دی گئی ہے۔

( ۳۵ )  پہلے گھر میں ،پھر مسجد میں   :

  یعنی جب اپنی اور اعزا و اقربا کی ضروریات پوری ہو جائیں تب خیرات یا داد و دہش کا رُخ باہر والوں  کی جانب ہونا چاہئے۔

( ۳۶ )  پھول باغ میں  ہی خوب کھلتا ہے  : 

 یعنی ہر چیز اپنی جگہ ہی اچھی لگتی ہے۔ پھول باغ میں  جتنا اچھا لگتا ہے اتنا گلدستہ میں  نہیں  لگتا۔

(۳۷)  پھٹ پڑے وہ سونا جس سے ٹوٹیں  کان  :

  پِھٹ پڑے یعنی لعنت ہے اس پر۔ ایسا بھاری زیور کس کام کا جس سے کان کی لوئیں  پھٹ جائیں۔ کوئی بات بظاہر اچھی ہو لیکن اُس کے نتائج خوشگوار نہ ہوں  تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

(۳۸)  پھونک مارو  تو اُڑ جائے  : 

 بہت نازک و ناتواں  شخص کو کہتے ہیں ۔

( ۳۹ )  پِھر ہوا پھُر : 

 پِھر یعنی جو بات کل پر ٹال دی جائے۔  پھُر یعنی جو چشم زدن میں  اُڑ جائے۔ کل پر جو بات ٹال دی جائے وہ  پوری نہیں  ہوتی کیونکہ کل تو کبھی آتا ہی نہیں  ہے۔

( ۴۰ )  پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے  :

  نہایت احتیاط کرتا ہے، ہوشیاری سے سوچ سمجھ کرکام کرتا ہے۔





اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضراب المثال Urdu idioms, proverbs




پ ۔  کی کہاوتیں

(۴۱ )  پیا میرا اَندھا،کس کے لئے کروں  سنگھار  :

  اگر شوہر نا بینا ہو تو بیوی کا سنگھار کرنا بیکار ہے کیونکہ جس کے لئے بنا سنورا جاتا ہے وہ اس کو دیکھ ہی نہیں  سکتا۔  اسی طرح اگر لوگ کسی کے علم و فن سے بے بہرہ ہیں  تو اُس کا اپنے علم و فن کا مظاہرہ کرنا بیکار ہے۔

 ( ۴۲)  پیسا رکھنے سے بڑھتا نہیں  ہے  : 

 دولت کو تجوری میں بند رکھا جائے تو اس میں کوئی اضافہ نہیں  ہوسکتاالبتہ تجارت اور لین دین سے اس میں  اضافہ ہوتا ہے۔ یہی حال علم اور فن کا ہے کہ ان کو خود تک محدود رکھنے سے کچھ حاصل نہیں  ہوتا بلکہ دوسروں  تک پہنچانے سے ان میں  کمی کے بجائے مزید اضافہ ہوتا ہے۔

( ۴۳)  پیٹ میں  پڑا چارہ، کودنے لگا بے چارہ  : 

  جانور کا پیٹ بھرا ہو تو اس کو کلیلیں  سوجھتی ہیں۔ یہی حال آدمی کاہے کہ پیٹ بھرے پر اُسے شرارت سوجھتی ہے۔ بھوک میں  یہ خیال کہا ں۔

(۴۴)  پیٹ کا کتّا  : 

  جس کو ہر وقت اپنے فائدے کی ہی سوجھے۔ کُتّا کہنے سے تحقیر ظاہر ہوتی ہے۔

( ۴۵)  پیسہ تو رنڈی کے پاس بھی ہوتا ہے  : 

 بازاری کہاوت ہے۔ یعنی محض دولت مند ہونا شرافت کی نشانی نہیں  ہے۔

( ۴۶ ) پیش از مرگ واویلا  :

  یعنی موت سے پہلے ہی ماتم۔ حادثہ ہونے سے قبل ہی خواہ مخواہ شور مچایا جائے تو یہ کہاوت بولتے ہیں ۔

( ۴۷)  پیٹ میں  چھریاں  بھری ہیں   : 


چھری یعنی بغض و عناد۔ پیٹ میں بھری یعنی چھپی ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ دل بغض و عناد سے بھر۱ ہوا ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ضرب الامثال ، Urdu idioms, proverbs

پ ۔ کی کہاوتیں
 ( ۴۸ )  پیٹ میں  پاؤں  ہیں   :

  یعنی ظاہر میں  جیسے نظر آ رہے ہیں  ویسے نہیں  ہیں بلکہ اصلیت کچھ اور ہی ہے۔ محل استعمال ظاہر ہے۔

(۴۹ )  پیٹ میں  پڑے تو عبادت سوجھے  : 

یعنی آدمی بھوکا ہو تو اس کو عبادت کا خیال نہیں  آتا۔

(۵۰ ) پیٹ کے گُن کون جانے  :

  پیٹ کے گُن یعنی اصل خصلت۔ آدمی کی جو عادتیں  منظر عام پرنہ ہوں  ان کو سوائے اللہ کے کون جانتا ہے۔ ظاہر حالات پر حقیقت کو قیاس کرنا دانش مندی نہیں  ہے۔

(۵۱)  پیروں  میں  مہندی لگائے بیٹھے ہیں   : 

 کوئی پیروں  میں  مہندی لگا لے تو وہ اُس کے رنگ لانے تک چلنے پھرنے سے معذور ہو جائے گا۔ کوئی شخص کہیں  نہ جانے کے بہانے بنائے تو طنزاً یہ کہاوت بولتے ہیں۔

( ۵۲ )  پیٹ میں  سے پاؤں  نکالے  :

  یعنی بڑے ہو کر انداز بدل گئے۔یہ فقرہ ایسے شخص کے لئے کہا جاتا ہے جوشروع میں بے ضرر دکھائی دے لیکن آگے چل کر اس کے چھپے ہوئے گُن سامنے آ جائیں۔

( ۵۳ )  پیاسا کنویں  کے پاس جاتا ہے،کنواں  پیاسے کے پاس نہیں آتا   : 

 ضرورت مند خود ہی ضرورت رفع کرنے والے کے پاس جاتا ہے۔ دوسرا شخص اُس کے پاس اپنی خدمت پیش کرنے نہیں آتا ہے۔

( ۵۴ )  پیٹ میں  داڑھی ہے  : 


داڑھی عمر اور سمجھ کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ کوئی اپنی عمر سے زیادہ چالاکی دکھائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے یعنی اس کے ظاہر پر مت جاؤ، یہ بچپن سے ہی چالاک ہے۔


Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)