Showing posts with label Heart touching Urdu Stories. Show all posts
Showing posts with label Heart touching Urdu Stories. Show all posts

Sunday, 5 February 2017

Aik Chali Wala " A Heart touching Urdu Short Story

             وہ چھلی والا اب سبزی کی ریڑھی لگاتا ہے ۔ جس نے اپنے بچوں کو چھلیاں خرید کر نہ دے سکنے پر دوسرے بچوں کے لئے چھلی کی قیمت دس روپے لگائی تھی جب کہ ارد گرد بیس روپے کی چھلی فروخت ہو رہی تھی ۔ چند روز قبل میں یونہی چلتے چلتے اس چھلی والے کے سامنے رک گئی۔ وہ اپنے کام میں مصروف تھا ریڑھی پر دو تین لوگ سبزی خرید رہے تھے ۔ میں دیکھتی رہی، 


               ایک خاتون نے اس سے آلو خریدے ، ساتھ دھنیا مرچ بھی لی اور اسے پچاس کا نوٹ دیا اس نے آلو کے ساتھ از خود دھنیا مرچ مفت دی ۔ وہ آلو اٹھا کر پہلے یوں دیکھتا جیسے اس کا ایکسرے کر رہا ہو۔ گاہک کی نظر سے سبزی کو دیکھنا دوکاندار کے معاشی مفادات کے خلاف جاتا ہے لیکن وہ ہر ہر آلو کا بغور معائنہ کرنے کے بعد اسے شاپنگ بیگ میں ڈالتا جا رہا تھا ۔ 

            جس آلو پر کوئی معمولی ساداغ بھی ہوتا اسے ایک طرف کر دیتا ۔ جو آلو ٹھیک ہوتا صرف اسے ڈالتا ۔ اسی طرح ایک اور شخص نے ٹماٹر لیئے اس نے ٹماٹر بھی ویسے ہی دیکھ بھال کر اچھے اچھے دیئے ، اور معمولی نوعیت کی خرابی بھی اگر کسی ٹماٹر میں اسے محسوس ہوئی تو اسے ایک طرف کر دیا ۔ حالانکہ اس خرابی کو گاہک بھی تلاش نہ کرپاتا ۔


            جب گاہک رخصت ہو چکے تو میں نے اس سے کہا کہ آپ ریڑھی مین روڈ پر کیوں نہیں لگاتے یہاں سائیڈ پر اور وہ بھی نسبتاً ایک ویران جگہ کا انتخاب آپ نے کیوں کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ مین روڈ پر ریڑھی کھڑی نہیں کرنے دی جاتی اور مختلف ٹیکسوں کی صورت میں اچھے خاصے اخراجات ہو جاتے ہیں یہاں ویران جگہ ہے یہاں کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا اگر کسی دوکان کے سامنے لگاؤں تو پھر کرایہ الگ سے دینا پڑے گا ۔ یہاں کھڑا ہوں بس اللہ سے حلال رزق مانگتا ہوں تا کہ بچوں کے پیٹ کو حرام لقمے سے بچا سکوں ۔    


            میں نے اگلا سوال کیا کہ آپ کا اس ریڑھی کے علاوہ بھی کوئی ذریعہ آمدن ہے اس نے کہا صبح منڈی میں کام کرتا ہوں گاڑیوں سے سبزی وغیرہ اتارتا ہوں ۔ صبح سویرے اس کام سے فارغ ہو کر اپنے لئے سبزی لیتا ہوں اور دن کو اس ریڑھی پر فروخت کر دیتا ہوں ۔ پچھلے سیزن میں مونگ پھلی لگا رکھی تھی اس سے پہلے ایک مرتبہ چھلی لگائی تھی ۔ 

           رات کو ریڑھی گھر لے جا کرکھڑی کر دیتا ہوں ۔ میں نے پوچھا کہ اس قلیل آمدنی میں گزارا ہو جاتا ہے ، اس نے کہا کہ قسم لے لیں اگر میں دس بیس روپے بھی شام کو گھر لے کر جاتا ہوں تو مزید پیسے آنے تک وہ مجھ سے ختم نہیں ہوتے ۔ خواہ مزید پیسے کتنے ہی دن بعد کیوں نہ آئیں ۔ اور کسی چیز کی قلت بھی نہیں اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر بھی ادا کروں کم ہے وہ مجھ ناچیز کو بھی رزق دے رہا ہے ۔ 


          میں نے پوچھا کہ یہ خراب آلو اور ٹماٹروں کا آپ کیا کرتے ہیں اس نے کہا کہ یہ میں خود اور اپنے گھر والوں کو کھلاتا ہوں ۔ کسی گاہک کونہیں دیتا ۔ اس سے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری بھی نہیں ہوتی اور میں بھی حرام کھانے سے بچ جاتا ہوں ، میں اس کے سراپے کا جائزہ لینے لگی تو میری نظر اس کے کپڑوں پر لگے پیوند پر جا کر رک گئی ، اس نے کپڑوں پر پیوند لگا رکھے تھے جنہیں خود سوئی دھاگہ لے کر سیا گیا تھا لگتا یوں تھا کہ کپڑے صاف مگر انتہائی بوسیدہ ہیں ۔ اس نے میری نظروں کے تعاقب میں اس پیوند کو دیکھ لیا اور مسکرا کر کہنے لگا ۔ بہن سچ کہوں اگر ہم جیسے اس دنیا میں نہ ہوں تو رب کے حبیب ﷺکی اس سنت کو کون زندہ رکھے گا اس نے یہ بات پیوند لگی جگہ کو ہاتھ میں پکڑ کر کہی ۔


            میرے لیئے ضبط مشکل ہو رہا تھا میں بوجھل قدموں سے گھر کی جانب چل پڑی ۔ میرا دماغ الجھ کر رہ گیا ۔ کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ اللہ نے دولت کی تقسیم درست نہیں کی ؟ میرا دل گواہی دینے لگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺکی ہر ہر سنت کو زندہ رکھنے پر قادر ہے ۔ مجھے وہ سارے فلسفے اس چھلی والے کے پیوند لگے کپڑوں سے بھی بودے لگنے لگے جن میں کہا جاتا ہےکہ اگر تم پیدا ہوتے وقت دولت مند نہیں تھے تو اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں اگر تم مرتے وقت دولتمند نہیں ہو تو اس میں ضرور تمہاری غلطی ہے ۔ اس چھلی والے نے اپنے کردار سے اس ساری فلاسفی کو ایک لایعنی مفروضہ بنا ڈالا ۔ میں سوچتی رہ گئی۔ 


              اس دور میں بھی پیوند لگے کپڑے پہننے والا مجھ سے بہت بلند اور عظیم تھا ، اس کے کپڑوں کے پیوند اس کے لئے نہیں مجھے اپنے لیئے آزمائش لگنے لگے ۔ ان بوسیدہ کپڑوں سے اس چھلی والے کو نہیں بلکہ ہم سب کو آزمایا جا رہا ہے جن کے کپڑوں پر کوئی پیوند نہیں لگا ہوا۔ یہ پیوند لگانے والے کے نہیں بلکہ ان معاشی فلاسفروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے ذمہ دار بھی ہیں اور کمزور طبقات کا دھڑلے سے استحصال بھی کرتے ہیں ۔

           اس ریڑھی والے کی طرح اگر کامل یقین سے کوئی غربت کا عذاب خاموشی سے سہہ رہا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نبی کریم ﷺ کے معلمانہ اور کریمانہ اخلاق کے وسیلے سے اتنی قوت برداشت دی ہوئی ہے ۔ ورنہ وہ کبھی کا اخلاقی قدروں پر سمجھوتہ کر چکا ہوتا ۔

Dhari Mundwana " A Heart touching Urdu Short Story

داڑھی منڈوانے والے حضرات کیلئے ایک سبق آموز واقعہ



!! مرزا قتیل ایک صوفی شاعر تھے.. ان کے صوفیانہ کلام سے متاثر ھو کر ایک ایرانی شخص انکا غائبانہ معتقد ھوگیا.. وہ شخص مرزا قتیل سے ملاقات کے شوق میں وطن سے چلا.. جس وقت وہ مرزا قتیل کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ مرزا داڑھی کا صفایا کررھے تھے.. ایرانی نے متعجب ھوکر انہیں دیکھا اور بولا.. "آغا ریش می تراشی..؟
 (جناب آپ داڑھی مونڈ رھے ھیں.؟)
 مرزا نے جواب دیا.. "بلے موئے می تراشم ' ولے دک کسے نمی خراشم.." (ھاں ! بال تراش رھا ھوں ' کسی کا دل نہیں چھیل رھا..) گویا ان کا "دل بدست آور کہ حج اکبر است" کی طرف صوفیانہ اشارہ تھا کہ "اپنے متعلق انسان جو چاھے کرے مگر مخلوق خدا کا دل نہ دکھائے.."
 ایرانی ان کا جواب سن کر بے ساختہ بولا.. "آرے دل رسول اللہ می خراشی.." (کسی کا دل کیا چھیلنا' تم تو داڑھی منڈوا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل چھیل رھے ھو..) یہ بات سن کر مرزا قتیل تڑپ اٹھے اور وجد میں آ کر ھوش و حواس کھو دیئے.
. جب طبیعت کچھ سنبھلی تو ایرانی کا شکریہ ادا کیا کہ "تونے تو میری آنکھیں کھول کر رکھ دیں.. اللہ تمہیں جزائے خیر دے.." کتنے افسوس کی بات ھے کہ ھر روز ورنہ دوسرے تیسرے دن داڑھی منڈوا کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل چھیلتے ھیں اور ھمیں احساس تک نہیں ھوتا.. الٹا ھم ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ھیں جو چہرے پر سنت نبوی سجا لیتے ھیں.. اور ان کو مخاطب بھی اس انداز سے کرتے ہیں کہ لہجے میں حکارت سموئی ھوتی ہےاور آواذ دیتے ہیں۔۔۔۔


" اوہ مولوی اوہ ملاء" ڈاڑھی منڈوانے والے اپنی اس حرکت کو معمولی چیز سمجھتے ھیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ کس کے حکم کی خلاف ورزی کر رھے ھیں اورکس کی صورت سے عملاً بیزار ھو رھے ھیں.. یاد رکھیے کہ داڑھی رکھنا ھر مسلمان مرد پر واجب ھے.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی منڈوانے والوں سے اپنی زندگی میں بھی نفرت سے چہرہ مبارک پھیر لیا تھا اور عین ممکن ھے کہ روز قیامت بھی وہ ایسوں سے منہ موڑ لیں جو داڑھی رکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ھیں.. اللہ ھم سب کو توفیق اور ھمت دے کہ کفار کے طریق پر چلنے کے بجاۓ انبیاء و صالحین کی سنت پر چلتے ھوۓ اپنے چہروں کو داڑھی جیسی سنت نبوی سے سجا لیں.. آمین..

Aaj Pizza Nahi Khatay " A Heart touching Urdu Short Story

آج پیزا نہیں کھاتے

 (دلچسپ نہیں سبق آموز

بیوی: آج دھونے کے لئے زیادہ کپڑے مت نکالنا۔

شوہر: کیوں؟
بیوی: کام والی ماسی دو دن نہیں آئے گی
شوہر: کیوں؟
بیوی: اپنی نواسی سے ملنے بیٹی کے پاس جا رہی ہے، کہہ رہی تھی دو دن نہیں آؤں گی۔
شوہر: ٹھیک ہے، زیادہ کپڑے نہیں نکالوں گا۔
بیوی: اور ہاں !!! ماسی کو پانچ سو روپے دے دوں؟
شوہر: کیوں؟ ابھی عید آ ہی رہی ہے، تب دے دیں گے۔
 بیوی: ارے نہیں بابا !! غریب ہے بیچاری، بیٹی اور نواسی کے پاس جا رہی ہے، تو اسے بھی اچھا لگے گا۔اور کچھ اپنی نواسی کے لئے بھی لے جائے گی۔ اس کی بیٹی اور نواسی بھی خوش ہوجائیں گی۔ویسے بھی اس مہنگائی کے دور میں اس کی تنخواہ سےکیا بنتا ہوگا۔ اپنوں کے پاس جا رہی ہے،کچھ ہاتھ میں ہوگا تو خوش رہے گی۔
شوہر: تم تو ضرورت سے زیادہ ہی جذباتی ہو جاتی ہو میرا خیال اس کی ضرورت نہیں۔
 بیوی:آپ فکر مت کریں میں آپ سے ایکسٹرا پیسے نہیں مانگو گی۔ میں آج کا پیزا کھانے کا پروگرام منسوخ کر دیتی ہوں۔ خواہ مخواہ 500 روپے اڑ جائیں گے، اس موٹی روٹی پیزا کے آٹھ ٹکڑوں کے بدلے اس کی مدد مجھے بہتر لگتی ہے۔
 شوہر: واہ، واہ بیگم صاحبہ آپ کے کیا کہنے !! ہمارے منہ سے پیزا چھین کر ماسی کی پلیٹ میں؟ چلو آپ کی محبت میں یہ بھی برداشت کئے لیتے ہیں۔

تین دن بعد
شوہر: (پونچھا لگاتی كام والی ماسی سے پوچھا) اماں کیسی رہی چھٹی؟

 ماسی: صاحب بہت اچھی رہیں۔ مالکن جی نے پانچ سو روپے دیئے تھے بڑے کام آئے۔ اللہ سلامت رکھے اور اللہ آپ کو بہت زیادہ عطا کرے۔
شوہر: اماں 500 روپے کا کیا کیا لیا؟
ماسی: نواسی کے لئے 150روپے کی فراک لی اور 40روپے کی گڑیا، بیٹی کے لئے 500روپے کے پیڑے لے گئی تھی، 50 روپے کی جلیبیاں محلے میں بانٹ دیں' 60 روپے کرایہ لگ گیا تھا۔ 25 روپے کی چوڑیاں بیٹی کے لئے اور داماد کے لئے 50روپے کا بیلٹ لیا۔ باقی 75 روپے بچے تھے وہ بھی میں نے نواسی کو کاپی اور پنسل خریدنے کے لئے دے دئیے۔
جھاڑوپونچھا لگاتے ہوئےپوراحساب اس کی زبان پر رٹا ہوا تھا۔
شوہر: 5000روپے میں اتنا کچھ ؟؟؟ وہ حیرت سے دل ہی دل میں غور کرنے لگا۔


اس کی آنکھوں کے سامنے آٹھ ٹکڑوں والا پیزا گھومنے لگا، وہ ان آٹھ ٹکڑوں کا موازنہ ماسی کے خرچ سے کرنے لگا۔ پہلا ٹکڑا بچے کی ڈریس کا، دوسرا ٹکڑا پیڑےکا، تیسرا ٹکڑا محلے کے لوگو ں کا' چوتھا کرایہ کا، پانچواں گڑیا کا، چھٹا ٹکڑا چوڑيوں کا، ساتواں داماد کی بیلٹ کا اور آٹھوا ں ٹکڑا بچی کی کاپی پنسل کا۔

 آج تک اس نے ہمیشہ پیزا کا اوپر والا حصہ ہی دیکھا تھا، کبھی پلٹ كر نہیں دیکھا تھا کہ پیزا پیچھے سے کیسا لگتاہے۔ لیکن آج كا م والی ماسی نے پیزے کا دوسراحصہ دکھا دیا تھا۔ پیزے کے آٹھ ٹکڑے اسے زندگی کا مطلب سمجھا گئے تھے۔زندگی کے لئے خرچ یا خرچ کے لئے زندگی کا جدید مفہوم ایک جھٹکے میں اسے سمجھ میں آگیا۔
 ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں پرکبھی غور ہی نہیں کرتے ہمارے لئے پانچ سو یا ہزار کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہوتی لیکن یہ ہزار پانچ سو غریبوں کے لئے بڑی رقم ہوتے ہیں۔ اس لئے کبھی کبھی اپنی نہ محسوس ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کسی کے نام کرکے دیکھو آپ کو کیسے بڑی خوشی ملتی ہے۔

Monday, 30 January 2017

Wo Nokrani Nahi Thi Mari Maan Thi '' A beautiful Heart touching Urdu short story

 وہ نوکرانی نہیں تھی میری  تھی

  ایک دن میں اور زاہد صاحب آفس کینٹین پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ میں نے ان کے ہمہ وقت کے بجھے بجھے سے رویے کی وجہ پوچھی۔ 

وہ کہنے لگے: ’’مجھے آج مرے ہوئے تین سال ہو گئے‘‘میں نے نظریں اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس جملے کے ساتھ ہی دنیا بھر کی نقاہت اتر آئی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگے: ’’میں ہمیشہ سے بد تمیز رہا ہوں۔ بچپن میں سکول جاتے ہوئے ضد، کھانا کھاتے ہوئے نخرے، وہ نہیں یہ کھانا ہے، یہ نہیں وہ کھانا ہے۔۔۔ 

مجھے نہیں یاد کہ پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا، کھانا کھایا، کپڑے پہنے یا جوتوں کے تسمے بند کیے ہوں۔ باپ کا تو مجھے صرف نام ہی ملا۔ نہ کبھی اس کی صورت دیکھی اور نہ پیار۔ بھائی کا سہارا کیا ہوتا ہے اور بہن کی محبت کیا ہوتی ہے کچھ معلوم نہیں۔ پرائمری، مڈل اور پھر میٹرک تک یہی عادت رہی کہ رات کو سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بستہ غرض تمام چیزیں ادھر ادھر بکھری چھوڑ کر سو جاتا تھا مگر صبح آنکھ کھلتے ہی دیکھتا کہ تمام چیزیں بہت سلیقے سے بستے میں پڑی ہیں اور بستہ بڑی نفاست سے میز پر پڑا ہے۔

مجھے لاکھ بار کہا جاتا کہ دودھ پی کر سونا مگر میں نہیں پیتا تھا۔ لیکن جب صبح اٹھتا تولب شیریں اور منھ کا ذائقہ بدلا ہوتا۔ پہلے پہل تو پتہ نہیں چلتا تھا مگر آہستہ آہستہ پتہ چل گیا کہ رات کو نیند میں ہی دودھ پلا دیا جاتا ہے۔ رات کو کبھی آنکھ کھلتی تو دیکھتا کہ بارش ہو رہی ہے اور مجھ پر کمبل ڈال دیا گیا ہے کہ سردی نہ لگے۔ مجھے ہمیشہ گھر میں دو ہی چیزوں سے چڑ رہی۔۔۔

 ایک 11 سے 13 گھنٹے تک ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین سےاور دوسری روٹی کے کناروں سے کہ ان پر اکثر گھی لگنے سے رہ جاتا تھا مگر روٹی کے وہ سوکھے ٹکڑے جو میں اتار دیتا تھا نہ تو کبھی گھر سے باہر فروخت ہوتے دیکھے اور نہ ہی کوڑا دان میں کبھی نظر آئے۔ 

اور جب بھی مجھے پیسے چاہیے ہوتے تو میں اسی سلائی مشین کا رخ کرتا جس سے مجھے چڑ تھی۔ جب بھی مجھے کبھی معمول سے ہٹ کر زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی تو دیکھتا کہ گھر میں سلائی مشین کے چلنے دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ مجھے یاد ہے کالج میں داخلہ کے وقت مجھے 1500 روپیہ چاہیے تھا، میں نے گھر آ کر بتا دیا۔

 اُسی رات 2 بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو گھر کے برآمدے میں کچھ کھٹ پٹ ہوتی محسوس ہوئی ذرا مزید غور کرنے پر یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے کوئی گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ رو رہا ہو۔ چپکے سے برآمدے میں جا کر دیکھا تو موٹے شیشے کا چشمہ لگائے میری ماں جانے کب مشین میں دھاگہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ آنسو بھی گر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا کر رہی ہے ماں؟؟؟ ماں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور جلدی سے آنسو صاف کرتے ہوئےاور چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بالکل صاف آواز میں کہنے لگی۔۔۔

 وہ سامنے والی ثریا کے بھائی کی شادی ہے تو اس نے کہا کہ صبح تک دو سوٹ سلائی کردو اس لئے بیٹھی ہوں لیکن دھاگا سوئی میں نہیں ڈل رہا۔۔۔ اس دن مجھے ماں کی حالت اور آنسو دیکھ کر احساس ہوا کہ مجھے کوئی چھوٹا موٹا کام کرنا چاہیے۔۔۔ میں مناسب کام بھی ڈھونڈتا رہا اور پڑھتا بھی رہا۔

 اُدھر ایف۔اے مکمل ہوا اور ادھر آفس میں کام مل گیا۔ میں نے گھر جا کر ماں کو بتایا تو وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔ فوری شکر پارے لا کر محلے میں بانٹے۔ ایک دن میں کام سے گھر آ کر لیٹ گیا۔ 

تھوڑی تھکاوٹ ہو رہی تھی۔ پاؤں چارپائی سے لٹکائے ہی سو گیا۔ جب اٹھا تو دیکھا کہ خلاف معمول آج نہ جوتے میرے پاؤں سے اترے تھے اور نہ ہی کھانا بنا تھا۔ ماں کو آواز دی: ’’ماں، ماں ، ماں اٹھ بھوک لگی ہے، ماں ں ں ں‘‘ چیخ چیخ کر رویا، ہزار منتیں او ر ترلے کیے مگر شاید ماں اب کی بار اٹھنے کے لئے نہیں سوئی تھی۔ ماں کے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔ قبرستان لگتا تھا۔ ادھر دیارِ غیر میں آ کر میں اپنا سارا کام خود کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں نے کبھی جس کی خدمت نہ کی اور نہ کبھی آسائش و سکوں دیا ’

’وہ میری ماں تھی نوکرانی نہیں تھی‘‘

 یہ کہتے ہوئے زاہد کے دو موٹے موٹے آنسو رخساروں پر بہہ گئے۔

اللہ تعالیٰ میرے اور جس کے بھی والدین حیات ہیں سب کے والدین کو ایمان و صحت کے ساتھ خوش رکھے۔ جن کے والدین وفات پا گئے اللہ تعالی ان کو صبر دے اور ان کے والدین کی مغفرت فرمائے

آمین.
.

Badshah Ka Zulam o Sitam Aur Reaya " A Heart touching Urdu King Story

    ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کرکے بہت سا خزانہ جمع کیا تھا۔

 اور شہر سے باہر جنگل بیابان میں ایک خفیہ غار میں چھپا دیا تھا اس خزانہ کی دو چابیاں تھیں ایک بادشاہ کے پاس دوسری اس کے معتمد وزیر کے پاس ان دو کے علاوہ کسی کو اس خفیہ خزانہ کا پتہ نہیں تھا۔.ایک دن صبح کو بادشاہ اکیلا سیر کو نکلا۔
 اور اپنے خزانہ کو دیکھنے کے لئے دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگیا۔ خزانے کے کمروں میں سونے چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ ہیرے جواہرات الماریوں میں سجے ہوئے تھے۔
 دنیا کے نوادرات کونے کونے میں بکھرے ہوئے تھے۔ وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔. اسی دوران وزیر کا اس علاقہ سے گذر ہوا۔ اس نے خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا اسے خیال ہوا کہ کل رات جب وہ خزانہ دیکھنے آیا تھا شاید اس وقت وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا ہو اس نے جلدی سے دروازہ بند کرکے باہر سے مقفل کردیا۔

. ادھر بادشاہ جب اپنے دل پسند خزانہ کے معائنہ سے فارغ ہوا تو واپس دروازہ پر آیا لیکن یہ کیا...؟ دروازہ تو باہر سے مقفل تھا اس نے زور زور سے دروازہ پیٹنا اور چیخنا شروع کیا لیکن افسوس اس کی آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا ۔ وہ لوٹ کر پھر اپنے خزانے کی طرف گیا اور ان سے دل بہلانے کی کوشش کی لیکن بھوک اور پیاس کی شدت نے اسے تڑپانا شروع کیا وہ پھر بھاگ کر دروازہ کی طرف آیا لیکن وہ بدستور بند تھا۔ 

وہ زور سے چیخا چلایا۔ لیکن وہاں اس کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا وہ نڈھال ہوکر دروازے کے پاس گرگیا۔. جب بھوک پیاس سے وہ بری طرح تڑپنے لگا تو رینگتا ہوا ہیروں کی تجوری تک گیا اس نے اسے کھول کر بڑے بڑے ہیرے دیکھے جن کی قیمت لاکھوں میں تھی اس نے بڑے خوشامدانہ انداز میں کہا اے لکھ پتی ہیرو! مجھے ایک وقت کا کھانا دیدو۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ ہیرے زور زور سے قہقہے لگا رہے ہوں۔
 اس نے ان ہیروں کو دیوار پر دے مارا۔ پھر وہ گھسٹتا ہوا موتیوں کے پاس گیا اور ان سے بھیک مانگنے لگا ۔ اے آبدار موتیو! مجھے ایک گلاس پانی دیدو ۔ لیکن موتیوں نے ایک بھر پور قہقہہ لگایا اور کہا اے دولت کے پجاری کاش تو نے دولت کی حقیقت سمجھ لی ہوتی۔ تیری ساری عمر کی کمائی ہوئی دولت تجھے ایک وقت کا کھانااور پانی نہیں دے سکتی۔
. بادشاہ چکرا کر گرگیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے سارے ہیرے اور موتی بکھیر کر دیوار کے پاس اپنا بستر بنایا اور اس پر لیٹ گیا وہ دنیا کو ایک پیغام دینا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس کاغذ اور قلم نہیں تھا ۔ اس نے پتھر سے اپنی انگلی کچلی اور بہتے ہوئے خون سے دیوار پر کچھ لکھ دیا۔. حکومتی عہدیدار بادشاہ کو تلاش کرتے رہے لیکن بادشاہ نہ ملا, جب کئی دن کی تلاش بے سود کے بعد وزیر خزانہ کا معائنہ کرنے آیا تو دیکھا بادشاہ ہیرے جواہرات کے بستر پر مرا پڑا ہے۔ اور سامنے کی دیوارپرخون سے لکھا ہے ۔ ’’یہ ساری دولت ایک گلاس پانی کے برابر بھی نہیں ہے

Saturday, 21 January 2017

Aik Dolat Mand Sodagar " A Heart touching Urdu Short Story

ایک دولت مند سوداگر کی بیوی مر گئی تھی، تھوڑے عرصے کے بعد وہ خود بھی دمے کے مرض میں مبتلا ہوگیا تو اس نے اپنی کل جائداد اپنے جوان بیٹے کے نام کردی۔
 ہزاروں کی جائداد پاکر پہلے پہلے تو نوجوان لڑکا اور اس کی بیوی بچے سب سوداگر کی خوب اچھی طرح خاطر داری کرتے رہے مگر برس چھ مہینے میں جوش ٹھنڈا ہوکر حالت یہ ہوگئی کہ علاج معالجہ بھی چھوٹ گیا اور کھانا بھی وہی ملنے لگا جو معمولی انداز کا گھر میں پکتا تھا؛ بلکہ ایک دن تو نوجوان بیٹے نے صاف کہہ دیا کہ بابا! آپ اپنی چارپائی ڈیوڑھی میں بچھالیں تو بہتر ہو کہ ہر وقت کھانستے رہنے سے بچوں میں بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
 
بیمار باپ کو صبروشکر کے سوا چارہ ہی کیا تھا،اس نے کہا مجھے تو عذر نہیں مگر ایک کمبل اوڑھنے کو چاہیے کہ ابھی سردی باقی ہے۔
 
نوجوان نے چھوٹے بیٹے سے کہا: دادا کے لیے گائے کو اوڑھنے والا کمبل اُٹھا لاؤ۔ لڑکا جھٹ کمبل اُٹھا لایا،اور دادا سے کہا: لو دادا،اس میں سے آدھا تم پھاڑ لو اور آدھا مجھے دے دو۔ دادا بولا: بھلا آدھے کمبل سے سردی کیا جائے گی؟باپ نے بھی بیٹے سے کہا کہ دادا کو سارا ہی کمبل دے دو۔
 
جس پر چھوٹے لڑکے نے باپ کو مخاطب کر کے جواب دیا: گھر میں ایسا کمبل تو ایک ہی ہے، اگر سارا دادا کو دے دیا تو جب تم بوڑھے اور بیمار ہوکر ڈیوڑھی میں چارپائی بچھاؤ گے تو میں تمہیں کیا دوں گا!۔
 
نوجوان باپ لڑکے کی یہ بھولی بات سن کر سُن ہوگیا اور باپ سے معافی مانگ کر پوری اطاعت اور خدمت کرنے لگا جس سے باپ بھی خوش ہوگیا اور اس کی اپنی عاقبت بھی سنور گئی۔
 
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے کیا خوف فرمایا تھا : ’’اپنے باپ کی فرماں برداری کرو جب تک وہ حیات سے ہیں اور(کسی حال میں) ان کی نافرمانی نہ کرو‘‘۔
اَطِعْ أبَاکَ مَا دَامَ حَیًّا وَ لاَ تَعْصِ
م

Khalonay Ki Dukan " A Heart touching Urdu Short Stories


ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮭﻠﻮﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮨﮯ،ﺍﻧﺎﺭ ﮐﻠﯽ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ۔۔۔ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺩﯾﺴﯽ ﺑﺪﯾﺴﯽ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﮐﮭﻠﻮﻧﺎ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ ﮨﯿﮟ۔  ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﮏ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﯾﮑﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ !!!
 
   ﺁﺧﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺟﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺭﮮ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﮫ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ۔ ﮨﻠﮑﮯ ﮔﻼﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻠﮯ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﭘﮭﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺋﺠﺎﻣﮯ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻘﯿﺮﻧﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ : “ ﺍﻭﺋﮯ ﺗُﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﮔُﮭﺴﯽ؟ ”
ﺍُﺳﮑﺎ ﺭﻧﮓ ﺍُﮌ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﯿﭽﺎﺭﯼ ﺗﮭﺮ ﺗﮭﺮ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ﯾﮧ ﺳﺐ ﻓﻘﯿﺮ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﺮﺱ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮭﯿﮏ ﺩﯾﮟ۔۔۔  “ ﺩﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯽ؟ “ ﻭﮦ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ “ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺎﺭﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ، ﭼﻞ ﺩﻭﮌ ﺟﺎ۔ ”
ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﮨﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺩﮬﮑﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﯿﺎ۔ﻭﮦ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺑﭽﯽ ﺩﻭﮌﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺩُﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ۔  “ ﭼﻮﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯽ، ﺩُﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺲ ﮐﺮ ﺩُﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺣﺎﻝ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮐﺎﻥ ﻟﻮﭦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ”
ﻣﯿﺮﯼ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﺑﯿﮕﻤﺎﺕ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﮞ ﻣﻼﺋﯽ۔۔۔  ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ، ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮐﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﮐﮭﻠﻮﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ “ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺁﮔﺌﯽ؟ ”
“
“ “ ﺻﺎﺏ ﺟﯽ ، ﺻﺎﺏ ﺟﯽ۔۔۔ ” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳُﻨﯽ ﺍﻥ ﺳُﻨﯽ ﮐﺮ ﺩﯼ۔۔۔ “ ﺍﮮ ﮐﮭﮉﻭﻧﺎ ﮐِﻨﮯ ﺩﺍ ﺍﮮ؟؟ ” ( ﯾﮧ ﮐﮭﻠﻮﻧﺎ ﮐﺘﻨﮯ ﮐﺎ ﮨﮯ ) ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔۔۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ۔۔۔۔ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔۔۔۔ “ ﺻﺎﺏ ﺟﯽ۔۔۔۔ ”
 “
 “
 “ ﺗﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔۔ “ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺩﮬﮑﯿﻼ۔ “ ﮔﻨﺪﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﻮ۔۔۔۔ ”
ﻭﮦ ﺯﻭﺭ ﮐﺎ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻟﮕﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ، ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﯽ ﺗﻮ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔ “ ﺍﻭ ﻭﺍﻻ ﮐﮭﮉﻭﻧﺎ ﮐِﻨﮯ ﺩﺍ ﺍﮮ۔۔۔۔ ” ﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﮕﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻗﻢ ﺗﯿﻦ ﮔُﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺘﺎﺋﯽ۔ “ ﻭﯼ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﺍ۔ ” ( ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ )  ﯾﮧ ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻓﻄﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ۔۔۔ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻏﺮﯾﺒﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺩﻻﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺮﺗﺮﯼ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﺍﻣﯿﺮ ﻟﻮﮒ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻢ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔  ﻭﮦ ﮈﺍﻝ ﮨﺎﺅﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺭﻗﻢ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ، ﮐﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ﺩﻭﺭ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮨﯽ۔۔۔  ﻣﯿﮟ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﻗﺘﺎً ﻓﻮﻗﺘﺎً ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔۔۔ ﻭﮦ ﺭﻗﻢ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺟﺎ ﭼُﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔  ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ۔۔۔ ﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﻧﮧ ﺩﯼ،ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻼﺯﻡ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ : “ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﭽﯽ ﺷﻮﮐﯿﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮨﺎﺅﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺗﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ” ۔۔۔ “ ﺍﭼﮭﺎ ” ۔۔۔۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔۔۔  ﻭﮦ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮐﯿﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ﭘﮭﺮ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ “ ﮈﺍﻝ ﮨﺎﺅﺱ “ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺑﺪﻟﺘﯽ، ﮔﮍﯾﺎ ﮐﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺭﮐﮭﺘﯽ۔۔۔۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﯽ۔۔۔ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮔﯿﺎ۔۔۔ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﯽ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ۔  ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﯿﻞ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﮐﺒﮭﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﻠﻮﻧﺎ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ، ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ۔۔۔ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺟﺮﺍﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﮩﻨﮕﺎ ﮐﮭﻠﻮﻧﺎ ﺍﯾﮏ ﻓﻘﯿﺮﻧﯽ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ۔۔۔  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺳﮑﺎ ﮐﮭﻠﻮﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭽﺎ۔۔۔ ﮐﺌﯽ ﮔﺎﮨﮑﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﻨﮧ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ،ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ۔۔۔۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍُﺳﮑﺎ ﻣﯿﻼ ﺳﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﻝ ﮨﺎﺅﺱ ﺑﯿﭻ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺎ۔۔۔۔  ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺘﻨﮯ ﺑﯿﺖ ﮔﺌﮯ۔۔۔۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮈﺍﻝ ﮨﺎﺅﺱ ﮐﻮ ﺷﻮﮐﯿﺲ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ۔۔۔

ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔۔ﻭﮦ ﺁﺋﮯ۔۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮍﯼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ۔۔۔ﺍﺣﺴﺎﺱِ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔۔۔ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﮈﺍﻝ ﮨﺎﺅﺱ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ۔۔۔  ﺍﺳﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﯿﺎ۔۔۔۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺷﮑﻠﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﯿﮟ۔۔۔ ﻭﮨﯽ ﮔﻨﺪﮮ ﻣﯿﻠﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﭩﮯ
ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ۔۔۔ ﻣﮕﺮ۔۔۔ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺁﮔﺌﯽ۔۔۔  ﻣﯿﺮﯼ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﯽ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔۔۔۔ ﺍُﺳﮑﮯ ﺭﻧﮓ ﮈﮬﻨﮓ ﺳﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻌﻠﻖ ‘ ﺍُﺱ ﺑﺎﺯﺍﺭ ’ ﺳﮯ ﮨﮯ ،ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ،ﺳﺎﺗﮫ ﺍُﺳﮑﺎ ’ ﻣﻼﺯﻡ ’ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔۔۔ﯾﮧ ﮔﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ۔۔۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ۔۔۔ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭨﺎﺋﻢ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ۔۔۔ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﭽﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺟﻤﻠﮧ ﺑﻮﻻ۔۔۔ﮈﺍﻝ ﮨﺎﺅﺱ ﺑِﮏ ﭼُﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻤﺖ ﺗﮭﯽ ۔۔۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺗﺎ ﺣﯿﺎﺕ
ﺍﺣﺴﺎﺱِ ﻧﺪﺍﻣﺖ..

Friday, 20 January 2017

Abu An Nasar Al Sayaad Aur Ghurbat " A Heart touching Urdu Short Story

ا بو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔
شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔
 
سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔
جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔
ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا، میں نے تمہارے ساتھ نیکی گویا اپنی بھلائی کیلئے کی تھی نا کہ کسی اجرت کیلئے۔ تم یہ پراٹھے لے کر جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔
ابو نصر پراٹھے لئے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں بھوکوں ماری ایک عورت کو روتے دیکھا جس کے پاس ہی اُس کا بیحال بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پراٹھوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اُس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے، معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں۔ پراٹھے کن کو دے؟ عورت کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو اس کے بہتے آنسو نا دیکھ سکا اور اپنا سر جھکا لیا۔ پراٹھے عوررت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ لو؛ خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی بھی کھلاؤ۔ عورت کے چہرے پر خوشی اور اُس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ابو نصر غمگین دل لئے واپس اپنے گھر کی طرف یہ سوچتے ہوئے چل دیا کہ اپنے بھوکے بیوی بیٹے کا کیسے سامنا کرے گا؟
گھر جاتے ہوئے راستے میں اُس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا؛ ہے کوئی جو اُسے ابو نصر سے ملا دے۔ لوگوں نے منادی والے سے کہا یہ دیکھو تو، یہی تو ہے ابو نصر۔ اُس نے ابو نصر سے کہا؛ تیرے باپ نے میرے پاس آج سے بیس سال پہلے تیس ہزار درہم امانت رکھے تھے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ ان پیسوں کا کرنا کیا ہے۔ جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں کہ کوئی میری ملاقات تجھ سے کرا دے۔ آج میں نے تمہیں پا ہی لیا ہے تو یہ لو تیس ہزار درہم، یہ تیرے باپ کا مال ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میں بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا۔ میرے کئی کئی گھر بنے اور میری تجارت پھیلتی چلی گئی۔ میں نے کبھی بھی اللہ کے نام پر دینے میں کنجوسی نا کی، ایک ہی بار میں شکرانے کے طور پر ہزار ہزار درہم صدقہ دے دیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ کیسے فراخدلی سے صدقہ خیرات کرنے والا بن گیا ہوں۔
ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے اور میدان میں ترازو نصب کر دیا گیاہے۔ منادی کرنے والے نے آواز دی ابو نصر کو لایا جائے اور اُس کے گناہ و ثواب تولے جائیں۔
کہتا ہے؛ پلڑے میں ایک طرف میری نیکیاں اور دوسری طرف میرے گناہ رکھے گئے تو گناہوں کا پلڑا بھاری تھا۔
میں نے پوچھا آخر کہاں گئے ہیں میرے صدقات جو میں اللہ کی راہ میں دیتا رہا تھا؟
تولنے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیئے۔ ہر ہزار ہزار درہم کے صدقہ کے نیچے نفس کی شہوت، میری خود نمائی کی خواہش اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا جس نے ان صدقات کو روئی سے بھی زیادہ ہلکا بنا دیا تھا۔ میرے گناہوں کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ میں رو پڑا اور کہا، ہائے رے میری نجات کیسے ہوگی؟
منادی والے نے میری بات کو سُنا تو پھر پوچھا؛ ہے کوئی باقی اس کا عمل تو لے آؤ۔

میں نے سُنا ایک فرشہ کہہ رہا تھا ہاں اس کے دیئے ہوئے دو پُراٹھے ہیں جو ابھی تک میزان میں نہیں رکھے گئے۔ وہ دو پُراٹھے ترازو پر رکھے گئے تو نیکیوں کا پلڑا اُٹھا ضرور مگر ابھی نا تو برابر تھا اور نا ہی زیادہ۔
مُنادی کرنے والے نے پھر پوچھا؛ ہے کچھ اس کا اور کوئی عمل؟ فرشتے نے جواب دیا ہاں اس کیلئے ابھی کچھ باقی ہے۔ منادی نے پوچھا وہ کیا؟ کہا اُس عورت کے آنسو جسے اس نے اپنے دو پراٹھے دیئے تھے۔


عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جن کے پہاڑ جیسے وزن نے ترازو کے نیکیوں والے پلڑے کو گناہوں کے پلڑے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا۔ ابو نصر کہتا ہے میرا دل خوش ہوا کہ اب نجات ہو۔

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)