صفحات
Showing posts with label islam. Show all posts
Showing posts with label islam. Show all posts
Tuesday, 14 November 2017
Saturday, 12 August 2017
Friday, 11 August 2017
Mazhab Aur Azadi
?Mazhab Kis Qadar Azadi Deta hai
مذہب
کس قدر آزادی دیتا ہے؟
انسان جس بھی مذہب یا معاشرے میں زندگی
گزارتا ہے اس میں کسی کے ہاتھ یا پاؤں باندھے تو نہیں جاتے کہ ہاتھ پاؤں باندھ کر
ایک طرف ڈال دیا جاتا ہو بلکہ وہ فرد معاشرے میں آزادانہ طور پر اُٹھ بیٹھ سکتا
ہے۔ کھا پی سکتا ہے۔ اتنی آزادی صرف اسلام ہی نہیں بلکہ تمام مذہب تمام تہذیبیں دیتی
ہیں جب اتنی آزادی ہر معاشرہ اورہر تہذیب دیتی ہے تو محاذآرائی و جستجو آج کل کس
بات کی ہو رہی ہے ۔ جگہ جگہ یہی نعرہ مقصود ومطلوب ہے کہ فلاں کی آزادی کا تحفظ کیا
جائے۔واضح رہے کہ مذہب یا معاشرے آزادی دیتے
ہیں بطور صلاحیت کے نہ کہ بطور حق یعنی آزادی کو پرکھا جائے گا کسی اور چیزپرمذہب یا
معاشرتی اقدار پراگر اس کے مطابق ہو تو ٹھیک وگرنہ آزادی نہیں دی جائے گی۔
دراصل مذہب خیر بھی متعین کرے گا شر بھی
متعین کرے گا کہ فلاں چیز میں خیر ہے بھلائی ہے اس کو اختیار کرواور فلاں چیز شر
ہے برائی ہے اس کو اختیار ہرگز نہ کرنا۔ شراورخیر کی تعیین کے بعد بندے کو آزادی
ہوتی ہے کہ شر کو اختیار کرتا ہے یا خیر کو مثلاً سچ بولنا خیر ہے نیکی ہے اب بندے
کو اختیار ہے بندہ آزاد ہے سچ بول کر رب کو راضی کرے یا جھوٹ بول کر اپنی قبر کو
برباد کرے۔ اسی طرح نماز پڑھنا خیر ہے اور چھوڑنا شر ہے اب بندہ آزاد ہے پڑھے یا
نہ پڑھے کسی نے بیڑیوں میں تو جکڑا ہوا نہیں ہے کہ اس کو کھینچ کر کوئی نماز کیلئے
لے جائے گا۔ یا جھوٹ بولنے سے اس کی زبان پر کوئی گرہ آ جائے گی۔
کسی کی غیبت کرنا بری بات ہے شر ہے اب بندہ
آزاد ہے کہ یہ کرگزرے یا اس سے رک جائے کسی کو تکلیف دینا شر ہے۔ بری بات ہے یہ تو
طے ہے مگر اس کو اختیار کرنے یا اس سے بچنے کا اختیار بندے کو ہے اس اختیار کو غلط
استعمال کرے گا تو عذاب کا مستحق ہوگا اور اگر درست استعمال کرے گا تو اپنے
پروردگار کی خوشنودی حاصل کرے۔
خلاصہ کلام :شر کیا ہے خیر کیا ہے یہ تو وحی
الٰہی اور سنت رسول سے ہی مقرر ہوگا
پھربندوں کو اختیار ہے
بندے آزاد ہیں کسی نے ہاتھ نہیں باندھے کسی نے مجبور نہیں کیا کہ تم شر کو اپناؤ یا
خیر کی طرف جاؤ لیکن ترغیب ضرور دی جاتی ہے کہ خیر کو اختیار کرو اور شر کو اختیار
کرنے پر ترہیب ہے یعنی خیر اور شر میں سے کسی پر بھی عمل کرنے میں بندہ آزاد ہے۔
مگر مغربی فلسفہ میں آزادی کا یہ معنی ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کے
نزدیک ایک اور معنی مراد ہے وہ یہ کہ بھلائی کیا ہے ؟ برائی کیا ہے؟ شر اور خیر کیا
ہے ان کو متعین کرنے کی آزادی۔ انسان خود طے کرے گا کہ سو دلینا صحیح ہے یا غلط یعنی
اچھا کیا ہے برا کیا ہے یہ بات مذہب خدا یا رسول سے نہ پوچھی جائے بلکہ بندہ آزاد
ہے جسے چاہے حلال قرار دے جسے چاہے حرام ۔ اور اس میں بھی آزاد ہے کہ جس کے بارے میں
جو رائے قائم کرئے ۔ جس کی رو سے بزرگوں کی آبرو ریزی کرنے اور انبیاء کی گستاخی
کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں لہٰذا اس معنی کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ آزادی
کے اس معنی کو مغرب بطور اصول کے قبول کرتا ہے پھر ہر چیز کے صحیح اور غلط قرار دینے سے مراد وہی پیمانہ
ہوتا ہے۔ جدت پسند طبقے کا طریقہ کار یہی ہے پہلے اہلِ مغرب کے بیان کردہ اصول کو
تسلیم کرتے ہیں پھر اسی اصول کو صحیح مانتے ہوئے اسلامی احکام ومسائل کی تاویلات
کرکے اسے مغربی اصولوں کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیںاوراسی مغربی اصول سے اسلام
کے احکام ومسائل کے حدوداربع جانچنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ ایک غلط طرز عمل ہے
لہٰذا ہم ان مغربی اصولوں کو عملی بنیادوں پر رد کریں گے۔
سوال: جب اسلام میں آزادی نہیں تو کیا غلامی ہے؟ عام
طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر آپ آزادی کا نظریہ غلط تسلیم کرتے ہو تو کیا
اسلام میں غلامی ہے؟
جواب: ہم جس آزادی کی نفی کررہے ہیں اس کے مقابلہ میں
غلامی نہیں آتی بلکہ اس کے مقابلے میں بندگی ہے۔ اور یہ بات ہم پوری اسلامی علمیت
کی روشنی میں کہتے ہیں کہ اسلام میں عبدیت ہے بندگی ہے مطلق العنانی نہیں ہے۔
جو کوئی مطلق العنان آزادی کی اسلام کاری کرنے کی کوشش نا حق کرے
تو اسے چاہیے کہ رحمت دوجہاںۖ کے فرمان عالی شان کا بغور مطالعہ کرے۔
ارشاد نبوی:
عن ابی ھریرة رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲۖ الدنیا سجن المؤمن وجنة الکافر ہذا حدیث حسن صحیح(ترمذی:ج2ص58)
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ۖ نے فرمایا دنیا مومن کیلئے قید خانہ ہے اور کافر کیلئے جنت۔ یہ حدیث حسن
صحیح ہے۔
ان ارشادات نبویۖ کو مدنظر رکھ کرانسان اس دنیا میں اپنی حیثیت دیکھے تو
معلوم ہوجائے گا کہ وہ اس دنیا میں آزاد ہے یا احکام الٰہی کا پابند ہے اور جو
اپنے لیے مطلق العنانی کا دعوے دار ہے اور اس کیلئے کوشاں ہے تو وہ مسلمان نہیں ہو
سکتا کیونکہ مسلمان کیلئے تو قدم قدم پر اﷲ کی بندگی کا حکم ہے یوں کرو یوں نہ کرو
۔ بیت الخلاء میں جاتے وقت سے لیکر انداز حکمرانی تک ایک ایک چیز کا پابند ہے ۔
قدم قدم پر رہنمائی ہے اور اچھا مسلمان تو وہ ہوگا جوجس قدر اﷲ کی بندگی میںلگا
ہوا ہے اس کے لیل ونہار رب کریم کی رضا تلاش کرنے میں گزریں اس کا اٹھنا بیٹھنا
اپنے نبی کے طریقے کے مطابق ہو اس کی خوشی غمی بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔ شادی
و بیاہ سے لیکر کفن و مرگ تک بندہ پابند ہے۔
بغیر کسی ابہام کے یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انسانیت کی
بھلائی عبدیت میں ہے بندگی میں ہے مطلق العنانی میں نہیں انسانی افضلیت اور شرف کا
اندازہ بھی اسلامی نقطہ نظرسے اس کی بندگی یعنی تقویٰ دیکھ کر لگایا جاتا ہے ۔ جو
جتنا زیادہ متقی ہے اتنا زیادہ مکرم و محترم ہے۔ مطلق العنانی اورآزادی کی اسلام
اجازت نہیں دیتا ۔
اعتاق کی طرف اسلام ضرور دعوت دیتا ہے کہ غلاموں کو آزاد کرو نبی
پاکۖ نے غلاموں کو آزاد کرنے کے بہت سے فضائل بیان فرمائے ہیں۔
حتیٰ کہ رحمت دو عالم ۖ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان غلام کو آزاد
کرنے کا اتنا اجر ہے کہ اﷲ جل شانہ اسکے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ہر
عضوکو جہنم سے بچالیتے ہیں۔
ارشاد نبویۖ:
عن ابی ھریرة رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲۖ من اعتق رقبة مسلمة اعتق اﷲ بکل عضو منہ عضو امن النار حتی فرجہ بفرجہ
متفق علیہ(مشکواة المصابیح: حدیث نمبر3233)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ جناب نبی اکرمۖ سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ ۖ نے ارشاد فرمایا جو آدمی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے
گا اﷲ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے عضو کو جہنم سے آزاد(بری)کردیں گے حتیٰ
کہ اس کی فرج کے بدلے اس کی فرج کو۔
غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی ۔ اسلام آزادی کی حمایت کرتا ہے
کہ زیادہ سے زیادہ غلام آزاد کیے جائیں۔ تمام بنی آدم اﷲ کی بندگی اور اطاعت میں
آجائیں اسلام اس کا داعی ہے مطلق العنان آزادی اسلام میں نہ مطلوب ہے اور نہ ہی اس
کی گنجائش ہے۔
برصغیر پاک وہند اور دیگر
اسلامی ممالک میں لفظ آزادی یا حریت کی مقبولیت کی وجہ کیا بنی؟
جب آزادی (Freedom) پر مغربی فکرونظر کے لحاظ سے روشنی ڈالی
جاتی ہے تو لاشعوری طور پر یہ سوال مسلمانوں کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ اس قدر دہریت
آمیز معنی جس میں لادینیت ہے لامذہبیت ہے تو آخر کیا اسباب و وجوہ بنے جس کی وجہ
سے مغربی نظریات اقوام مسلم میں تیزی سے پھیل گئے اور کم علمی کی وجہ سے یا مغربی
تہذیب سے عدم تعارف کے سبب مسلمانوں نے ان نظریات کو قبول کیا حتیٰ کہ ان کی اسلام
کاری کی بھی کوشش شروع کردی ۔ آزادی کو اسلام سے ثابت کرنے لگے مساوات کو بھی
اسلام کا نصب العین قرار دینے لگے؟
مغل بادشاہوں کے زوال کے بعد انگریز برصغیر پر قابض ہوگئے چونکہ
انہوں نے بادشاہت مسلمانوں سے چھینی تھی اس لیے انگریز مسلمانوں کی بیخ کنی کی
مکمل کوشش کرتے اور ہندوستان کی باقی اقوام کو بھی اپنے ساتھ ملا کر مسلمانوں کو
سماجی 'معاشرتی واخلاقی طور پر کمزور کرنے کی مکمل کوشش کرنے لگے۔
ایسی صورتحال میں مسلمان
اکابرین نے انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے لئے آزادی کی تحریک چلائی حریت کانعرہ لیکر
میدان عمل میں آئے اورزور و شور سے آزادی کی جدوجہد شروع کی۔ اگرچہ یہ تحریک کامیاب
نہ ہوسکی ۔ اس تحریک کو ختم کردیا گیا اور کارکن علماء کرام کو تختہ دار کی زینت
بنادیا گیا۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں علماء امت کے خون سے سرزمین ھند کو سرخ کیا گیا۔
اگرچہ یہ اولیاء وقت تو اس جہان فانی سے سرخرو ہوکر اپنے رب سے جاملے لیکن ان کی
چلائی ہوئی تحریک کااثر مسلمانوں میں باقی رہا وہ سوچ وفکر مسلمانوں میں چلتی رہی
کہ اس ظالم قوم سے نجات حاصل کرنی ہے۔ یہ حال صرف ہندوستان کا ہی نہ تھاکہ غیروں
کے زیر اثر تھا بلکہ خلافت عثمانیہ کا بھی 1919ء میں شیرازہ بکھر گیا تھا غرض تمام
اسلامی ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے اور انگریزوں نے ان پر اپنا تسلط
جمالیا تھا۔
مسلمانوں کے پاس اب کوئی بڑی حکومت نہ بچی تھی ۔ اس حالت میںان
کو شدت سے احساس ہوا کہ وہ ایک عظیم نعمت کو کھو چکے ہیں اور غیر مسلم قوموں کے مطیع
بن گئے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلم اُمہ کیلئے آزادی کی تحریکیں اور آزادی کا حصول
گراں قدر چیز تھی اس لیے کہ جب غلامی کی زنجیروں کا مزا چکھا تو آزادی کی قدر
معلوم ہوئی لہٰذا مسلم دنیا میں آزادی و حریت کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔
لفظ آزادی کا استعمال بے دریغ ہمارے لٹریچروں میں ہوا لیکن آزادی سے یہ بات ہٹ گئی
کہ کس سے آزادی اور کس لیے آزادی۔
Freedom
for Freedom from
کی تشریح کے بغیر لفظ آزادی کا استعمال ہوا اور اس کے معنی کے
ساتھ وضاحت کے ہٹ جانے کی وجہ سے وہ تصور آزادی ابھر کر سامنے آیا اور وہ معنی
مراد لیا جانے لگا جو مغربی دنیا میں مراد ہے جس معنی کی عکاسی اہل مغرب کرتے ہیں
بعض کلمہ گوافراد نے بھی آزادی سے وہ معنی مراد لینا شروع کردیااوربطور دلیل ہمارے
اکابر کی عبارات پیش کرنے لگے۔
حالانکہ مسلمان اگر آزادی کوقدر و اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
تو اس کا پس منظروہ سوسالہ غلامی ہے۔ ان کے ذہن میں آزادی کے مقابلے میں غلامی ہے
اس غلامی سے خلاصی کیلئے آزادی کی تحریکیں مسلمانوں نے چلائیں اورغیر مسلم قوموں کی
غلامی سے چھٹکاراحاصل کرنے کیلئے ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔تاکہ انگریزوں سے
آزادی حاصل کرکے پوری طرح اﷲ کی بندگی کرسکیں اوراللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کر
سکیں۔
Saturday, 22 July 2017
Jamhuriyat, Votes and Islam
جمہوریت، ووٹ اور
اسلام
جمہوریت اور ووٹ کے
بارے میں میرے ایک مضمون پر محمد مشتاق احمد صاحب نے ’’اوصاف‘‘ میں شائع شدہ
مراسلے میں تنقید کی ہے اور اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ میں جمہوریت کو کفر
بھی قرار دے رہا ہوں اور ووٹ کے مروجہ سسٹم کی حمایت بھی کر رہا ہوں۔ اس کے ساتھ
انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ
کرامؓ نے کبھی ووٹ کا طریقہ اختیار نہیں کیا اس لیے آج بھی عوامی ووٹ کی کوئی
ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لیے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔
جہاں تک جمہوریت کو
کفر قرار دینے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جمہوریت کا یہ بنیادی
فلسفہ سراسر کفر ہے کہ:
1- سوسائٹی اپنی
حکمران خود ہے،
2- سوسائٹی کی اکثریت
اپنے لیے جو قانون بھی طے کر لے وہی حرف آخر ہے، اور
3- وحی الٰہی اور
آسمانی تعلیمات پر عمل اختیاری چیز ہے کہ سوسائٹی ان میں سے جس حکم کو چاہے قبول
کر لے اور جسے چاہے نظر انداز کر دے۔
مگر وحی الٰہی کے
دائرے میں اور آسمانی تعلیمات کی حدود کو قبول کرتے ہوئے سوسائٹی اپنی حکومت کی
تشکیل اور روزمرہ امور طے کرنے کے لیے باہمی مشاورت کی بنیاد پر ووٹ کا طریقہ اختیار
کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بلکہ آج کے دور میں ان معاملات میں جن میں شریعت
اسلامیہ ’عوامی رائے‘‘ کے حق کو تسلیم کرتی ہے، عام لوگوں کی رائے معلوم کرنے کا
صحیح اور منظم طریقہ ووٹ ہی ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقہ سے استعمال کیا جائے۔
یہ کہنا کہ اسلام میں
عامۃ الناس کی رائے کوئی حیثیت نہیں رکھتی، قطعی طور پر غلط بات ہے۔ بلکہ اسلامی
حکومت کی تشکیل کی اصل اساس ’’عوامی رائے‘‘ ہے جس کی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کو
پہلا خلیفہ چنا گیا۔ اور خلافت پر بحث کرنے والے تقریباً تمام اصحاب علم اس بات کو
بطور اصول تسلیم کرتے ہیں کہ خلیفۂ اول کا انتخاب رائے عامہ کی بنیاد پر ہوا تھا۔
اس بارے میں دو واضح نقطۂ نظر چلے آرہے ہیں۔ ایک یہ کہ جناب نبی اکرمؐ نے حضرت علیؓ
کو اپنا خلیفہ نامزد کر دیا تھا، یہ نقطۂ نظر اہل تشیع کا ہے۔ دوسرا یہ کہ نبی
اکرمؐ نے خلیفہ کا انتخاب امت کی عمومی صوابدید پر چھوڑ دیا تھا اور رائے عامہ پر
اعتماد کیا تھا۔ یہ نقطۂ نظر اہل سنت کا ہے اور خلیفۂ اول کے انتخاب کی واقعاتی
صورت بھی یہی ہے۔ اس لیے اہل سنت کے ہاں یہ اصول طے شدہ ہے کہ خلیفہ کے انتخاب میں
عوام کے اعتماد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اس سلسلہ میں بخاری
شریف کی ایک روایت کی طرف اپنے سابقہ مضمون میں بھی اشارہ کیا تھا اور اس طویل روایت
کی تھوڑی سی تفصیل مزید عرض کر دیتا ہوں۔ امام بخاریؒ نے یہ روایت ’’کتاب المحاربین
من اہل الکفر والردۃ‘‘ میں نقل کی ہے اور اس کے راوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ نے جو آخری حج کیا اس میں ان
کے سامنے منیٰ میں کسی صاحب کی یہ بات نقل کی گئی کہ اگر حضرت عمرؓ کا انتقال ہوگیا
تو وہ فلاں صاحب کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کر کے اس کا اعلان کر دیں گے۔ اور جس
طرح حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر ہونے والی اچانک بیعت تسلیم ہوگئی تھی اسی طرح ان کی
اس بیعت کو بھی بالآخر قبول کر لیا جائے گا۔ حضرت عمر بن الخطابؓ نے اس بات پر سخت
غصے کا اظہار کیا اور فرمایا کہ وہ آج شام عام لوگوں کے اجتماع سے خطاب کریں گے
اور انہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبردار کریں گے جو یریدون ان یغصبوھم امورھم
لوگوں سے ان کے اختیارات غصب کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے
مشورہ دیا کہ امیر المومنین! یہاں دنیا بھر سے طرح طرح کے لوگ آئے ہوئے ہیں، آپ کی
بات سن کر کوئی کچھ سمجھے گا اور کوئی اس سے کچھ نتیجہ اخذ کرے گا۔ جبکہ یہ بات
انتہائی اہم ہے اس لیے زیادہ مناسب رہے گا کہ یہ بات دارالحکومت مدینہ منورہ جا کر
کی جائے۔ امیر المومنین نے مشورہ قبول کرلیا اور جب اس سفر سے مدینہ منورہ واپس
پہنچے تو پہلے جمعۃ المبارک کا خطبہ اسی موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں دیگر بعض
اہم امور کے ساتھ ساتھ خلیفہ کے انتخاب کے مسئلہ پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔
حضرت عمرؓ نے اپنے
خطبہ میں فرمایا کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت اگرچہ اچانک ہوئی تھی لیکن اسے دو وجہ سے
قبول کر لیا گیا تھا۔ ایک اس لیے کہ اس وقت حضرت ابوبکرؓ سے بہتر کوئی شخصیت ہمارے
درمیان موجود نہ تھی۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ انصار مدینہؓ نے جناب نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اپنے طور پر جمع ہو کر انصار میں سے امیر منتخب
کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اگر انہیں اس فیصلے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا موقع
مل جاتا تو باقی مسلمانوں کے لیے اسے قبول کرنا یا رد کرنا مشکل ہو جاتا اور
معاملہ بہت زیادہ بگڑ جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی اور ہم نے
صورتحال کو قابو میں کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے خطبہ میں سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ تفصیل
کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اب کوئی شخص یہ بات ذہن میں نہ لائے کہ وہ اسی
طرح کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسے باقی مسلمانوں سے قبول کرا لے گا۔ پھر امیرالمومنینؓ
نے فرمایا کہ
’’جس شخص نے بھی
مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس کی بات ہرگز قبول نہ
کی جائے۔‘‘
میں نے حضرت عمرؓ کے
طویل خطبہ سے صرف ایک دو متعلقہ امور کا ذکر کیا ہے جس میں وہ خلیفہ کی بیعت کو
مسلمانوں کے مشورہ کے ساتھ مشروط کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی مشاورت کے بغیر کی
جانے والی بیعت کو انہوں نے عام لوگوں کے اختیارات غصب کرنے سے تعبیر کیا ہے۔
اس حوالہ سے ایک اور
نکتہ پر غور کر لیجیے کہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت پر بیعت سے پہلے خلیفہ کے انتخاب
پر عمومی بحث و مباحثہ ہوا بلکہ مہاجرینؓ اور انصارؓ کے درمیان جھگڑا ہوتے ہوتے رہ
گیا۔ اس موقع پر مہاجرینؓ، انصارؓ اور خاندان نبوتؐ تینوں نے اپنے الگ الگ سیاسی تشخص
کا اظہار کیا اور الگ الگ رائے پیش کی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود حضرت عمرؓ اس
سارے عمل کو ’’اچانک‘‘ قرار دے رہے ہیں اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں
کہ اس وقت کے حالات میں یہی ممکن تھا۔ اس لیے اسے آئندہ کے لیے مثال نہیں بنایا جا
سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کے وقت صحابہ کرامؓ کے مختلف
طبقات کے درمیان جو بحث و مباحثہ ہوا اور جس کی بنیاد پر جمہور علماء امت خلیفۂ
اول کی بیعت کو ’’عامۃ الناس‘‘ کی بیعت قرار دے رہے ہیں، حضرت عمرؓ کے نزدیک وہ بھی
ناکافی تھا۔ اور اصل ضرورت اس سے کہیں زیادہ ’’عوامی مشاورت‘‘ کی تھی جو ہنگامی
حالات کی وجہ سے اس وقت قابل عمل نہیں تھی۔ اور اسی حوالہ سے حضرت عمرؓ آئندہ کے لیے
خبردار کر رہے ہیں کہ کوئی شخص مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ کے انتخاب کی بات
نہ کرے۔
اس لیے محمد مشتاق
احمد صاحب سے عرض ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن الخطاب ایک اسلامی حکومت کی
تشکیل کے لیے مسلمانوں کی عمومی مشاورت کو ضروری قرار دے رہے ہیں جس کا دائرہ
انہوں نے اس خطبہ میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ بیان فرمایا ہے۔ جبکہ آج کے دور
میں عام لوگوں اور مسلمانوں کی عمومی رائے معلوم کرنے کا طریقہ ’’ووٹ‘‘ ہی ہے۔ اس
کے علاوہ کوئی اور طریقہ ان کے ذہن میں ہو تو وہ ارشاد فرما دیں۔ مگر طریقہ ایسا
ہو کہ حکومت کی تشکیل اور حاکم کے انتخاب میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ کی رائے
کا فی الواقع اظہار ہوتا ہو۔
روزنامہ اوصاف، اسلام
آباد
تاریخ اشاعت:
۷ مارچ ۱۹۹۹ء
Islam, Democracy & Pakistan
اسلام، جمہوریت اور
پاکستان
۱۹۶۲ء کی بات ہے جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے مارشل لا
ختم کرتے وقت نئے دستور کی تشکیل وترتیب کے کام کا آغاز کیا تھا اور پاکستان کے
نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اسے صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کی تجویز
سامنے آئی تھی تو دینی وعوامی حلقوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو یہ
تجویز واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری عمر اس وقت چودہ برس تھی اور میں نے بھی
بحمد اللہ تعالیٰ اس جدوجہد میں اس طور پر حصہ لیا تھا کہ اپنے آبائی قصبہ گکھڑ میں
نظام العلماء پاکستان کی دستوری تجاویز پر لوگوں سے دستخط کرائے تھے اور اس مہم میں
شریک ہوا تھا۔ اس دوران اس حوالے سے ہونے والے عوامی جلسوں میں سعید علی ضیاء
مرحوم کی ایک نظم بہت مقبول ہوئی تھی جس کا ایک شعر مجھے اب تک یاد ہے کہ
ملک سے نام اسلام کا غائب، مرکز ہے
اسلام آباد
پاک حکمران زندہ باد، پاک حکمران زندہ
باد
تب سے اب تک ملک میں نفاذ اسلام کی
جدوجہد کا کارکن چلا آ رہا ہوں، ہر تحریک میں کسی نہ کسی سطح پر شریک رہا ہوں اور
اب بھی حسب موقع اور حتی الوسع اس کا حصہ ہوں۔ کسی دینی جدوجہد کے نتائج وثمرات تک
پہنچنا ہر کارکن کے لیے ضروری نہیں ہوتا، البتہ صحیح رخ پر محنت کرتے رہنا اس کی
تگ ودو کا محور ضرور رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مرتے دم تک اس جادۂ مستقیم پر قائم
رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
اس جدوجہد میں مجھے جن اکابر کی رفاقت
کا شرف حاصل ہوا ہے، ان میں مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ
، مولانا عبید اللہ انورؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ
خٹک، مولانا پیر محسن الدین احمدؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا عبد الستار
خان نیازیؒ ، مولانا مفتی ظفر علی نعمانیؒ ، مولانا معین الدین لکھویؒ ، قاضی حسین
احمدؒ اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
عوامی جلسوں، جلوسوں، قید وبند کے مراحل اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے ساتھ
ساتھ قلم وقرطاس کا میدان بھی میری جولان گاہ رہا ہیاور نفاذ اسلام کی جدوجہد کے بیسیوں
پہلوؤں پر اخبارات وجرائد میں سیکڑوں مضامین لکھنے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی ہے۔
عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے
موجودہ حالات کے تناظر میں میری ان تحریری گزارشات کا ایک جامع انتخاب ’’اسلام،
جمہوریت اور پاکستان‘‘ کے عنوان مرتب کیا ہے جو نفاذ اسلام کی جدوجہد کے معروضی
تقاضوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں میرا کوئی
الگ فکری یا علمی تعارف نہیں ہے اور میں اس کے کم وبیش تمام پہلوؤں میں انھی
بزرگوں اور جمہور علماء کی نمائندگی کرتا ہوں جن میں سے چند بزرگوں کا میں نے سطور
بالا میں تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند
فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
اسلامی نظام اور موجودہ دور کے تقاضوں
اور ضروریات کے مختلف پہلوؤں پر ایک نظر ڈال لی جائے تو غور و فکر کے لیے مندرجہ ذیل
بنیادی امور سامنے آتے ہیں اور ’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘ کے زیر عنوان اس
مجموعے میں انھی کو موضوع گفتگوبنایا گیا ہے:
1- اسلام کا تصور ریاست وحکومت کیا ہے
اور اسلام حاکمیت اور اقتدار کا سرچشمہ کس چیز کو قرار دیتا ہے؟
2- حکومت کی تشکیل میں عوام کی نمائندگی
اور عوامی رائے کی کیا اہمیت ہے؟
3- تاریخی تناظر میں اسلام کا سیاسی
نظا م کن کن مراحل سے گزرا ہے؟
4- مختلف سیاسی جماعتوں کے وجود، امیدواری
اور بالغ رائے دہی سے متعلق اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟
5- اسلامی ریاست میں قانون سازی کا طریق
کار کیا ہے؟
6- مغرب کے پیش کردہ جمہوری فلسفے اور
نظام کا اسلام کی نظر میں کیا مقام ہے؟
7- پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد
کے بنیادی اصول کیا رہے ہیں اور اس ضمن میں اب تک کیا پیش رفت ہو چکی ہے؟
8- پاکستان کے تناظر میں نفاذ شریعت کے
لیے ریاست کے ساتھ تصادم اور مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کی شرعی حیثیت کیا
ہے؟
میں نے قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے
ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے مطالعہ کی روشنی میں، ان امور پر کچھ معروضات پیش
کرنے کی جسارت کی ہے، اس امید کے ساتھ کہ اصحاب علم و دانش ان پر سنجیدہ توجہ دیں
گے اور یہ گزارشات اس موضوع پر بحث کو آگے بڑھانے میں مدد دیں گے۔
یہ مجموعہ اسلام آباد کے ایک تحقیقی
ادارے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS)
کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے۔ میں اس کی اشاعت پر پاک انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داران کا
شکر گزار ہوں کہ انھوں نے ان طالب علمانہ گزارشات کو لوگوں تک پہنچانے کو مناسب خیال
کیا۔ اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
مجلہ/مقام/زیراہتمام:
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت:
دسمبر
۲۰۱۳ء
Saturday, 25 March 2017
صراط مستقیم مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ، Short urdu Stories مختصر اردوکی کہانیاںIslamichistory,
صراط مستقیم
مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ،
" آج کچھ ھونے والا ھے " ( وہ بڑبڑایا ) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رھی تھی ۔
اسکی بیوی " ھند " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئ تھی
" کیا بات ھے ؟ کیوں پریشان ھو ؟ "
" ھُوں ؟ " ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رھی ھے میں ذرا گھوُم کر آتا ھوُں " وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باھر نکل گیا
مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھا
" آج کچھ ھونے والا ھے " ( وہ بڑبڑایا ) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رھی تھی ۔
اسکی بیوی " ھند " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئ تھی
" کیا بات ھے ؟ کیوں پریشان ھو ؟ "
" ھُوں ؟ " ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رھی ھے میں ذرا گھوُم کر آتا ھوُں " وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باھر نکل گیا
مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھا
اچانک اسکی نظر شہر سے باھر
ایک وسیع میدان پر پڑی ،
ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرھی تھی
اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رھے ھوں
ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرھی تھی
اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رھے ھوں
اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا
۔۔۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں
اتنا تو وہ سمجھ ھی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رھے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائ کیلیئے ھی آیا ھے
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں
اتنا تو وہ سمجھ ھی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رھے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائ کیلیئے ھی آیا ھے
وہ جاننا چاھتا تھا کہ یہ کون
ھیں ؟
وہ آھستہ آھستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھا
کچھ لوگوں کو اس نے پہچان لیا تھا
یہ اسکے اپنے ھی لوگ تھے جو مسلمان ھوچکے تھے اور مدینہ ھجرت کرچکے تھے
اس کا دل ڈوب رھا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ھے
وہ آھستہ آھستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھا
کچھ لوگوں کو اس نے پہچان لیا تھا
یہ اسکے اپنے ھی لوگ تھے جو مسلمان ھوچکے تھے اور مدینہ ھجرت کرچکے تھے
اس کا دل ڈوب رھا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ھے
اور یقیناً
" مُحمّد ﷺ اپنے جانثاروں
کیساتھ مکہّ آپہنچے تھے "
وہ چھپ کر حالات کا جائزہ لے ھی رھا تھا کہ عقب سے کسی نے اسکی گردن پر تلوار رکھ دی
اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا
لشکر کے پہرے داروں نے اسے پکڑ لیا تھا
اور اب اسے " بارگاہ محمّد ﷺ میں لیجا رھے تھے "
اسکا ایک ایک قدم کئ کئ من کا ھوچکا تھا
ھر قدم پر اسے اپنے کرتوت یاد آرھے تھے
وہ چھپ کر حالات کا جائزہ لے ھی رھا تھا کہ عقب سے کسی نے اسکی گردن پر تلوار رکھ دی
اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا
لشکر کے پہرے داروں نے اسے پکڑ لیا تھا
اور اب اسے " بارگاہ محمّد ﷺ میں لیجا رھے تھے "
اسکا ایک ایک قدم کئ کئ من کا ھوچکا تھا
ھر قدم پر اسے اپنے کرتوت یاد آرھے تھے
جنگ بدّر ، احد ، خندق ، خیبر
سب اسکی آنکھوں کے سامنے ناچ رھی تھیں
اسے یاد آرھا تھا کہ اس کیسے سرداران مکہّ کو اکٹھا کیا تھا " محمّد کو قتل کرنے کیلیئے "
کیسے نجاشی کے دربار میں جاکر تقریر کی تھی کہ ۔۔۔۔
" یہ مسلمان ھمارے غلام اور باغی ھیں انکو ھمیں واپس دو "
کیسے اسکی بیوی ھندہ نے امیر حمزہ کو اپنے غلام حبشی کے ذریعے شہید کروا کر انکا سینہؑ چاک کرکے انکا کلیجہ نکال کر چبایا اور ناک اور کان کاٹ کر گلے میں ھار بنا کر ڈالے تھے
اور اب اسے اسی محمّد ﷺ کے سامنے پیش کیا جارھا تھا
اسے یقین تھا کہ ۔۔۔
اسکی روایات کے مطابق اُس جیسے " دھشت گرد " کو فوراً تہہ تیغ کردیا جاۓ گا ۔
اُدھر ۔۔۔۔
اسے یاد آرھا تھا کہ اس کیسے سرداران مکہّ کو اکٹھا کیا تھا " محمّد کو قتل کرنے کیلیئے "
کیسے نجاشی کے دربار میں جاکر تقریر کی تھی کہ ۔۔۔۔
" یہ مسلمان ھمارے غلام اور باغی ھیں انکو ھمیں واپس دو "
کیسے اسکی بیوی ھندہ نے امیر حمزہ کو اپنے غلام حبشی کے ذریعے شہید کروا کر انکا سینہؑ چاک کرکے انکا کلیجہ نکال کر چبایا اور ناک اور کان کاٹ کر گلے میں ھار بنا کر ڈالے تھے
اور اب اسے اسی محمّد ﷺ کے سامنے پیش کیا جارھا تھا
اسے یقین تھا کہ ۔۔۔
اسکی روایات کے مطابق اُس جیسے " دھشت گرد " کو فوراً تہہ تیغ کردیا جاۓ گا ۔
اُدھر ۔۔۔۔
" بارگاہ رحمت للعالمین ﷺ میں
اصحاب رض جمع تھے اور صبح کے اقدامات کے بارے میں مشاورت چل رھی تھی کہ کسی نے آکر
ابوسفیان کی گرفتاری کی خبر دے دی
" اللہ اکبر " خیمہؑ میں نعرہ تکبیر بلند ھوا
ابوسفیان کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی
خیمہؑ میں موجود عمر ابن الخطاب اٹھ کر کھڑے ھوۓ اور تلوار کو میان سے نکال کر انتہائ جوش کے عالم میں بولے ۔۔
" اس بدبخت کو قتل کردینا چاھیئے شروع سے سارے فساد کی جڑ یہی رھا ھے "
" اللہ اکبر " خیمہؑ میں نعرہ تکبیر بلند ھوا
ابوسفیان کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی
خیمہؑ میں موجود عمر ابن الخطاب اٹھ کر کھڑے ھوۓ اور تلوار کو میان سے نکال کر انتہائ جوش کے عالم میں بولے ۔۔
" اس بدبخت کو قتل کردینا چاھیئے شروع سے سارے فساد کی جڑ یہی رھا ھے "
چہرہ مبارک رحمت للعالمین ﷺ
پر تبسّم نمودار ھوا
اور انکی دلوں میں اترتی ھوئ آواز گونجی
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔ اسے آنے دو "
عمر ابن خطاب آنکھوں میں غیض لیئے حکم رسول ﷺ کی اطاعت میں بیٹھ تو گۓ لیکن ان کے چہرے کی سرخی بتا رھی تھی کہ انکا بس چلتا تو ابوسفیان کے ٹکڑے کرڈالتے
اتنے میں پہرے داروں نے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ھونے کی اجازت چاھی
اجازت ملنے پر ابوسفیان کو رحمت للعالمین کے سامنے اس حال میں پیش کیا گیا کہ اسکے ھاتھ اسی کے عمامے سے اسکی پشت پر بندھے ھوۓ تھے
چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی
اور اسکی آنکھوں میں موت کے ساۓ لہرا رھے تھے
اور انکی دلوں میں اترتی ھوئ آواز گونجی
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔ اسے آنے دو "
عمر ابن خطاب آنکھوں میں غیض لیئے حکم رسول ﷺ کی اطاعت میں بیٹھ تو گۓ لیکن ان کے چہرے کی سرخی بتا رھی تھی کہ انکا بس چلتا تو ابوسفیان کے ٹکڑے کرڈالتے
اتنے میں پہرے داروں نے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ھونے کی اجازت چاھی
اجازت ملنے پر ابوسفیان کو رحمت للعالمین کے سامنے اس حال میں پیش کیا گیا کہ اسکے ھاتھ اسی کے عمامے سے اسکی پشت پر بندھے ھوۓ تھے
چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی
اور اسکی آنکھوں میں موت کے ساۓ لہرا رھے تھے
لب ھاۓ رسالت مآب ﷺ وا ھوۓ ۔۔۔
اور اصحاب رض نے ایک عجیب جملہؑ سنا
" اسکے ھاتھ کھول دو اور اسکو پانی پلاؤ ، بیٹھ جاؤ ابوسفیان ۔۔ !! "
ابوسفیان ھارے ھوۓ جواری کی طرح گرنے کے انداز میں خیمہؑ کے فرش پر بچھے قالین پر بیٹھ گیا ۔
پانی پی کر اسکو کچھ حوصلہ ھوا تو نظر اٹھا کر خیمہؑ میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا
عمر ابن خطاب کی آنکھیں غصّہ سے سرخ تھیں
ابوبکر ابن قحافہ کی آنکھوں میں اسکے لیئے افسوس کا تاثر تھا
عثمان بن عفان کے چہرے پر عزیزداری کی ھمدردی اور افسوس کا ملا جلا تاثر تھا
اور اصحاب رض نے ایک عجیب جملہؑ سنا
" اسکے ھاتھ کھول دو اور اسکو پانی پلاؤ ، بیٹھ جاؤ ابوسفیان ۔۔ !! "
ابوسفیان ھارے ھوۓ جواری کی طرح گرنے کے انداز میں خیمہؑ کے فرش پر بچھے قالین پر بیٹھ گیا ۔
پانی پی کر اسکو کچھ حوصلہ ھوا تو نظر اٹھا کر خیمہؑ میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا
عمر ابن خطاب کی آنکھیں غصّہ سے سرخ تھیں
ابوبکر ابن قحافہ کی آنکھوں میں اسکے لیئے افسوس کا تاثر تھا
عثمان بن عفان کے چہرے پر عزیزداری کی ھمدردی اور افسوس کا ملا جلا تاثر تھا
علیؑ ابن ابوطالبؑ کا چہرہ
سپاٹ تھا
اسی طرح باقی تما اصحاب کے چہروں کو دیکھتا دیکھتا آخر اسکی نظر محمّد ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر ٹھر گئ
جہاں جلالت و رحمت کے خوبصورت امتزاج کیساتھ کائنات کی خوبصورت ترین مسکراھٹ تھی
" کہو ابوسفیان ؟ کیسے آنا ھوا ؟؟ "
ابوسفیان کے گلے میں جیسے آواز ھی نہیں رھی تھی
بہت ھمّت کرکے بولا ۔۔ " مم ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں ؟؟ "
اسی طرح باقی تما اصحاب کے چہروں کو دیکھتا دیکھتا آخر اسکی نظر محمّد ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر ٹھر گئ
جہاں جلالت و رحمت کے خوبصورت امتزاج کیساتھ کائنات کی خوبصورت ترین مسکراھٹ تھی
" کہو ابوسفیان ؟ کیسے آنا ھوا ؟؟ "
ابوسفیان کے گلے میں جیسے آواز ھی نہیں رھی تھی
بہت ھمّت کرکے بولا ۔۔ " مم ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں ؟؟ "
عمر ابن خطاب ایک بار پھر اٹھ
کھڑے ھوۓ
" یارسول اللہ ﷺ یہ شخص مکّاری
کررھا ھے ، جان بچانے کیلیئے اسلام قبول کرنا چاھتا ھے ، مجھے اجازت دیجیئے ، میں
آج اس دشمن ازلی کا خاتمہؑ کر ھی دوں " انکے مونہہ سے کف جاری تھا ۔۔۔
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔۔ " رسالت مآب ﷺ نے نرمی سے پھر فرمایا
" بولو ابوسفیان ۔۔ کیا تم واقعی اسلام قبول کرنا چاھتے ھو ؟ "
" جج ۔۔ جی یا رسول اللہ ﷺ ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں میں سمجھ گیا ھوں کہ آپؐ اور آپکا دین بھی سچّا ھے اور آپ کا خدا بھی سچّا ھے ، اسکا وعدہ پورا ھوا ۔ میں جان گیا ھوں کہ صبح مکہّ کو فتح ھونے سے کوئ نہیں بچا سکے گا "
چہرہؑ رسالت مآب ﷺ پر مسکراھٹ پھیلی ۔۔
" ٹھیک ھے ابوسفیان ۔۔
تو میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ھوں اور تمہاری درخواست قبول کرتا ھوں جاؤ تم آزاد ھو ، صبح ھم مکہّ میں داخل ھونگے انشاء اللہ
میں تمہارے گھر کو جہاں آج تک اسلام اور ھمارے خلاف سازشیں ھوتی رھیں ، جاۓ امن قرار دیتا ھوں ، جو تمہارے گھر میں پناہ لےلے گا وہ محفوظ ھے ، "
۔
ابوسفیان کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی جا رھی تھیں
۔
" اور مکہّ والوں سے کہنا ۔۔ جو بیت اللہ میں داخل ھوگیا اسکو امان ھے ، جو اپنی کسی عبادت گاہ میں چلا گیا ، اسکو امان ھے ، یہاں تک کہ جو اپنے گھروں میں بیٹھ رھا اسکو امان ھے ،
جاؤ ابوسفیان ۔۔۔ جاؤ اور جاکر صبح ھماری آمد کا انتظار کرو
اور کہنا مکہّ والوں سے کہ ھماری کوئ تلوار میان سے باھر نہیں ھوگی ، ھمارا کوئ تیر ترکش سے باھر نہیں ھوگا
ھمارا کوئ نیزہ کسی کی طرف سیدھا نہیں ھوگا جب تک کہ کوئ ھمارے ساتھ لڑنا نہ چاھے "
۔
ابوسفیان نے حیرت سے محمّد ﷺ کی طرف دیکھا اور کانپتے ھوۓ ھونٹوں سے بولنا شروع کیا ۔۔
" اشھد ان لاالہٰ الا اللہ و اشھد ان محمّد عبدہُ و رسولہُ "
۔
سب سے پہلے عمر ابن خطاب آگے بڑھے ۔۔ اور ابوسفیان کو گلے سے لگایا
" مرحبا اے ابوسفیان ، اب سے تم ھمارے دینی بھائ ھوگۓ ، تمہاری جان ، مال ھمارے اوپر ویسے ھی حرام ھوگیا جیسا کہ ھر مسلمان کا دوسرے پر حرام ھے ، تم کو مبارک ھو کہ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہ معاف فرماۓ "
ابوسفیان حیرت سے خطاب کے بیٹے کو دیکھ رھا تھا
یہ وھی تھا کہ چند لمحے پہلے جسکی آنکھوں میں اس کیلیئے شدید نفرت اور غصّہ تھا اور جو اسکی جان لینا چاھتا تھا
اب وھی اسکو گلے سے لگا کر بھائ بول رھا تھا ؟
یہ کیسا دین ھے ؟
یہ کیسے لوگ ھیں ؟
سب سے گلے مل کر اور رسول اللہ ﷺ کے ھاتھوں پر بوسہ دے کر ابوسفیان خیمہؑ سے باھر نکل گیا
" وہ دھشت گرد ابوسفیان کہ جس کے شر سے مسلمان آج تک تنگ تھے انہی کے درمیان سے سلامتی سے گزرتا ھوا جارھا تھا ، جہاں سے گزرتا ، اس اسلامی لشکر کا ھر فرد ، ھر جنگجو ، ھر سپاھی جو تھوڑی دیر پہلے اسکی جان کے دشمن تھے اب آگے بڑھ بڑھ کر اس سے مصافحہ کررھے تھے ، اسے مبارکباد دے رھے تھے ، خوش آمدید کہہ رھے تھے ۔۔ "
اگلے دن ۔۔۔
مکہّ شہر کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابوسفیان تھا
مسلمانوں کا لشکر مکہّ میں داخل ھوچکا تھا
کسی ایک تلوار ، کسی ایک نیزے کی انی ، کسی ایک تیر کی نوک پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا
لشکر اسلام کو ھدایات مل چکی تھیں
کسی کے گھر میں داخل مت ھونا
کسی کی عبادت گاہ کو نقصان مت پہنچانا
کسی کا پیچھا مت کرنا
عورتوں اور بچوں پر ھاتھ نہ اٹھانا
کسی کا مال نہ لوٹنا
بلال حبشئ آگے آگے اعلان کرتا جارھا تھا
" مکہّ والو ۔۔۔ رسول خدا ﷺ کی طرف سے ۔۔۔
آج تم سب کیلیئے عام معافی کا اعلان ھے ۔۔
کسی سے اسکے سابقہ اعمال کی بازپرس نہیں کی جاۓ گی ،
جو اسلام قبول کرنا چاھے وہ کرسکتا ھے
جو نہ کرنا چاھے وہ اپنے سابقہ دین پر رہ سکتا ھے
سب کو انکے مذھب کے مطابق عبادت کی کھلی اجازت ھوگی
صرف مسجد الحرام اور اسکی حدود کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ھوگی
کسی کا ذریعہ معاش چھینا نہیں جاۓ گا
کسی کو اسکی ارضی و جائیداد سے محروم نہیں کیا جاۓ گا
غیر مسلموں کے جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گے
اے مکہّ کے لوگو ۔۔۔۔ !! "
۔
ھندہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی لشکر اسلام کو گزرتے دیکھ رھی تھی
اسکا دل گواھی نہیں دے رھا تھا کہ " حضرت حمزہ " کا قتل اسکو معاف کردیا جاۓ گا
لیکن ابوسفیان نے تو رات یہی کہا تھا کہ ۔۔۔
" اسلام قبول کرلو ۔۔ سب غلطیاں معاف ھوجائیں گی "
مکہّ فتح ھوچکا تھا
بنا ظلم و تشدد ، بنا خون بہاۓ ، بنا تیر و تلوار چلاۓ ،
لو گ جوق در جوق اس آفاقی مذھب کو اختیار کرنے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے مسجد حرام کے صحن میں جمع ھورھے تھے
اور تبھی مکہّ والوں نے دیکھا ۔۔۔
" اس ھجوم میں ھندہ بھی شامل تھی "
۔
یہ ھوا کرتا تھا اسلام ۔۔ یہ تھی اسکی تعلیمات ۔۔ یہ سکھایا تھا رحمت للعالمین ﷺ نے
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔۔ " رسالت مآب ﷺ نے نرمی سے پھر فرمایا
" بولو ابوسفیان ۔۔ کیا تم واقعی اسلام قبول کرنا چاھتے ھو ؟ "
" جج ۔۔ جی یا رسول اللہ ﷺ ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں میں سمجھ گیا ھوں کہ آپؐ اور آپکا دین بھی سچّا ھے اور آپ کا خدا بھی سچّا ھے ، اسکا وعدہ پورا ھوا ۔ میں جان گیا ھوں کہ صبح مکہّ کو فتح ھونے سے کوئ نہیں بچا سکے گا "
چہرہؑ رسالت مآب ﷺ پر مسکراھٹ پھیلی ۔۔
" ٹھیک ھے ابوسفیان ۔۔
تو میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ھوں اور تمہاری درخواست قبول کرتا ھوں جاؤ تم آزاد ھو ، صبح ھم مکہّ میں داخل ھونگے انشاء اللہ
میں تمہارے گھر کو جہاں آج تک اسلام اور ھمارے خلاف سازشیں ھوتی رھیں ، جاۓ امن قرار دیتا ھوں ، جو تمہارے گھر میں پناہ لےلے گا وہ محفوظ ھے ، "
۔
ابوسفیان کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی جا رھی تھیں
۔
" اور مکہّ والوں سے کہنا ۔۔ جو بیت اللہ میں داخل ھوگیا اسکو امان ھے ، جو اپنی کسی عبادت گاہ میں چلا گیا ، اسکو امان ھے ، یہاں تک کہ جو اپنے گھروں میں بیٹھ رھا اسکو امان ھے ،
جاؤ ابوسفیان ۔۔۔ جاؤ اور جاکر صبح ھماری آمد کا انتظار کرو
اور کہنا مکہّ والوں سے کہ ھماری کوئ تلوار میان سے باھر نہیں ھوگی ، ھمارا کوئ تیر ترکش سے باھر نہیں ھوگا
ھمارا کوئ نیزہ کسی کی طرف سیدھا نہیں ھوگا جب تک کہ کوئ ھمارے ساتھ لڑنا نہ چاھے "
۔
ابوسفیان نے حیرت سے محمّد ﷺ کی طرف دیکھا اور کانپتے ھوۓ ھونٹوں سے بولنا شروع کیا ۔۔
" اشھد ان لاالہٰ الا اللہ و اشھد ان محمّد عبدہُ و رسولہُ "
۔
سب سے پہلے عمر ابن خطاب آگے بڑھے ۔۔ اور ابوسفیان کو گلے سے لگایا
" مرحبا اے ابوسفیان ، اب سے تم ھمارے دینی بھائ ھوگۓ ، تمہاری جان ، مال ھمارے اوپر ویسے ھی حرام ھوگیا جیسا کہ ھر مسلمان کا دوسرے پر حرام ھے ، تم کو مبارک ھو کہ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہ معاف فرماۓ "
ابوسفیان حیرت سے خطاب کے بیٹے کو دیکھ رھا تھا
یہ وھی تھا کہ چند لمحے پہلے جسکی آنکھوں میں اس کیلیئے شدید نفرت اور غصّہ تھا اور جو اسکی جان لینا چاھتا تھا
اب وھی اسکو گلے سے لگا کر بھائ بول رھا تھا ؟
یہ کیسا دین ھے ؟
یہ کیسے لوگ ھیں ؟
سب سے گلے مل کر اور رسول اللہ ﷺ کے ھاتھوں پر بوسہ دے کر ابوسفیان خیمہؑ سے باھر نکل گیا
" وہ دھشت گرد ابوسفیان کہ جس کے شر سے مسلمان آج تک تنگ تھے انہی کے درمیان سے سلامتی سے گزرتا ھوا جارھا تھا ، جہاں سے گزرتا ، اس اسلامی لشکر کا ھر فرد ، ھر جنگجو ، ھر سپاھی جو تھوڑی دیر پہلے اسکی جان کے دشمن تھے اب آگے بڑھ بڑھ کر اس سے مصافحہ کررھے تھے ، اسے مبارکباد دے رھے تھے ، خوش آمدید کہہ رھے تھے ۔۔ "
اگلے دن ۔۔۔
مکہّ شہر کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابوسفیان تھا
مسلمانوں کا لشکر مکہّ میں داخل ھوچکا تھا
کسی ایک تلوار ، کسی ایک نیزے کی انی ، کسی ایک تیر کی نوک پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا
لشکر اسلام کو ھدایات مل چکی تھیں
کسی کے گھر میں داخل مت ھونا
کسی کی عبادت گاہ کو نقصان مت پہنچانا
کسی کا پیچھا مت کرنا
عورتوں اور بچوں پر ھاتھ نہ اٹھانا
کسی کا مال نہ لوٹنا
بلال حبشئ آگے آگے اعلان کرتا جارھا تھا
" مکہّ والو ۔۔۔ رسول خدا ﷺ کی طرف سے ۔۔۔
آج تم سب کیلیئے عام معافی کا اعلان ھے ۔۔
کسی سے اسکے سابقہ اعمال کی بازپرس نہیں کی جاۓ گی ،
جو اسلام قبول کرنا چاھے وہ کرسکتا ھے
جو نہ کرنا چاھے وہ اپنے سابقہ دین پر رہ سکتا ھے
سب کو انکے مذھب کے مطابق عبادت کی کھلی اجازت ھوگی
صرف مسجد الحرام اور اسکی حدود کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ھوگی
کسی کا ذریعہ معاش چھینا نہیں جاۓ گا
کسی کو اسکی ارضی و جائیداد سے محروم نہیں کیا جاۓ گا
غیر مسلموں کے جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گے
اے مکہّ کے لوگو ۔۔۔۔ !! "
۔
ھندہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی لشکر اسلام کو گزرتے دیکھ رھی تھی
اسکا دل گواھی نہیں دے رھا تھا کہ " حضرت حمزہ " کا قتل اسکو معاف کردیا جاۓ گا
لیکن ابوسفیان نے تو رات یہی کہا تھا کہ ۔۔۔
" اسلام قبول کرلو ۔۔ سب غلطیاں معاف ھوجائیں گی "
مکہّ فتح ھوچکا تھا
بنا ظلم و تشدد ، بنا خون بہاۓ ، بنا تیر و تلوار چلاۓ ،
لو گ جوق در جوق اس آفاقی مذھب کو اختیار کرنے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے مسجد حرام کے صحن میں جمع ھورھے تھے
اور تبھی مکہّ والوں نے دیکھا ۔۔۔
" اس ھجوم میں ھندہ بھی شامل تھی "
۔
یہ ھوا کرتا تھا اسلام ۔۔ یہ تھی اسکی تعلیمات ۔۔ یہ سکھایا تھا رحمت للعالمین ﷺ نے
Wednesday, 8 February 2017
ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ بيشک اسلام ہی مکمل ضابطہ حيات ہے.
ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ
!! ،ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ! ﺭﻭﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻟﻮﺋﯿﺲ ﭼﮩﺎﺭﺩﮨﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﮔﺌﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
:" ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻧﺪﮮ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺘﻌﻔﻦ ﮨﮯ " ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻮﻧﮉﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ " ﻣﻮﻧﭩﯿﺎﺳﺒﺎﻡ " ﺗﮭﺎ
ﺟﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺧﻮﺩ ﺭﻭﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺳﯿﺎﺡ ﺍﺑﻦ ﻓﻀﻼﻥ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :" ﺭﻭﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮ ﺗﺎ ﮨﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﺘﻨﺠﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﯾﺴﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ " ۔
ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻣﯿﮟ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻠﮑﮧ " ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻼ " ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﻧﮩﺎﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻤﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺎ ۔ ﺍﺳﭙﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ " ﻓﻠﯿﭗ ﺩﻭﻡ " ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻞ ﺩﻭﺋﻢ ﻧﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﻟﮕﮯ، ﺍﺳﯽ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﺌﯽ ۔
ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﯿﮟ، ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﯿﺎﺡ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺷﻤﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﭘﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
!! ﺟﺐ ﻟﻨﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ 30 ﺍﻭﺭ 40 ﮨﺰﺍﺭ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﯿﻦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ،ﻓﺮﻧﭻ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ۔ ﺭﯾﮉ ﺍﯾﮉﯾﻦ ﯾﻮﺭﭘﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﺲ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﯾﻮﺭﭘﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺗﯿﺰ ﮨﻮ ﺗﯽ ﺗﮭﯽ !! ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﻣﻮﺭﺥ " ﺩﺭﯾﺒﺎﺭ " ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :"
ﮨﻢ ﯾﻮﺭﭖ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﮈﮬﻨﮓ ﺳﮑﮭﺎ ﯾﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ، ﺟﺐ ﮨﻢ ﻧﻨﮕﮯ ﺩﮬﮍﻧﮕﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻣﺮﺩ، ﯾﺎﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﮐﻠﯿﺴﺎ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺻﺮﻑ ﻗﺮﻃﺒﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ 300 ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺣﻤﺎﻡ ﺗﮭﮯ " بيشک بيشک بيشک اسلام ہی مکمل ضابطہ
حيات ہے.
Subscribe to:
Posts (Atom)
Labels
Aabi Makhnavi
(4)
Aadam Shair
(6)
Aan Ziban or Jan
(2)
Abdul Hameed Adam
(2)
Acceptance
(3)
Afghan
(1)
Africa
(2)
Ahmad Faraz
(137)
Ahmad mushtaq
(23)
Ahmad nadeem qasmi
(12)
Ahmed Faraz
(5)
Al Aula (1st Year)
(6)
Aleppo
(2)
Allama Muhammad Iqbal
(82)
Answer
(4)
Auliya Allah
(2)
Aurat
(6)
Baa ki kahawtain
(18)
Bahadur Shah Zafar
(2)
Beautiful Urdu Barish Ghazal
(23)
Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi
(29)
Bismil Azeem Abadi
(18)
Books
(11)
Children
(2)
China
(2)
College
(3)
DHRAAM
(1)
Dagh Dehlawi
(118)
Democracy
(2)
Democracy & Pakistan
(2)
Divorce
(10)
Eain ki kahawtain
(2)
Education
(5)
Eid Ka Chand
(3)
English
(142)
English PROVERBS
(96)
Faiz Ahmad Faiz
(21)
Fatawa
(14)
Finance
(7)
Ghazal naaz ghazal
(2)
Ghazals by mirza asadullah ghalib
(123)
Ghulam Hussain
(2)
Ghulam Ibn e Sultan
(5)
Hadisa
(2)
Hajj
(3)
Halima Saadia
(2)
Hasrat Mohani
(2)
Hazar Al Ebaha
(3)
Hazrat Abu Bakr Siddiq
(2)
Ibn e Insha
(87)
Imran Sereis Novels
(8)
India
(3)
Intzar hussain
(2)
Ishq
(3)
Islamic Books
(8)
Islamic Poetries
(10)
Islamichistory
(18)
Janazah
(2)
Jawab
(3)
Jihad
(2)
Khawaja Haider Ali aatish
(2)
Krishn Chander
(5)
Krishna Chander
(6)
Letter
(2)
Love
(5)
Madrasa
(3)
Maka Zunga
(2)
Makrohat
(3)
Manzoor Hussain Tuor
(2)
Masnoon Duain
(2)
Maulana Faiz ul Bari sab
(2)
Mazameen
(96)
Mazhar Kaleem
(9)
Mazhar ul Islam
(3)
Menses
(3)
Munshi Prem Chand
(4)
Musharraf Alam zauqi
(6)
Mustahabbat
(3)
Novels
(15)
Novels Books
(11)
PROVERBS
(370)
Pakistan
(4)
Poetry By Ahmed Fawad
(41)
Professor Ibn Kanwal
(4)
Question
(3)
Qurbani
(2)
Raees Farogh
(27)
Rajinder Singh Bedi
(39)
Reading
(2)
Rozah
(4)
Saadat Hasan Manto
(39)
Sabolate Aager
(2)
Sahih Bukhari Sharif
(78)
Sahih Muslim Shareef
(4)
Sahih Muslim Sharif
(48)
Salma Awan
(11)
Samaryab samar
(4)
Sarwat Hussain
(5)
Saudi Arabia
(2)
Sawal
(3)
School
(3)
Shakeel Badauni
(2)
Sister
(2)
Society
(7)
Stop adultery
(2)
Stories
(218)
Students
(5)
Study
(2)
Sunan Abu Daud Shareef
(39)
Sunan Nasai Shareef
(49)
Sunnat
(5)
Syeda Shagufta
(6)
Syrian
(2)
Taharat
(2)
Tahreerain
(100)
Taqdeer
(2)
The Holy Quran
(87)
UMRAH
(3)
URDU ENGLISH PROVERBS
(42)
URDU PROVERBS
(202)
University
(2)
Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz
(44)
Urdu Poetry By Ahmed Faraz
(29)
Urdu Poetry By Dagh Dehlawi
(117)
Urdu Poetry By Raees Farogh
(27)
Urdu Short Stories By Aadam Shair
(6)
Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal
(4)
Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto
(5)
Urdu Short Stories By Salma Awan
(11)
Urdu Short Stories by Ghulam Hussain
(2)
Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed
(2)
Urdu Short Stories by Krishn Chander
(5)
Urdu Short Stories by Krishna Chander
(6)
Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand
(2)
Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi
(39)
Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan
(5)
Urdu Short Story By Ibn e Muneeb
(11)
Urdu Short Story By Mazhar ul Islam
(2)
Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi
(6)
Urdu poetry By Mir Taqi Mir
(171)
Urdu potries By Mohsin Naqvi
(10)
Valentine Day
(9)
Wasi Shah
(28)
Wudu
(2)
Zakat
(3)
aa ki kahawtain
(13)
afzal rao gohar
(4)
alama semab akbar abadi
(32)
alif ki kahawtain
(8)
andra warma
(2)
anwar masuod
(2)
aziz ajaz
(3)
babu gopinath
(2)
bail or gadha
(2)
band e quba
(1)
bano qudsia
(3)
barish
(30)
brautifull Urdu Poetries by parveen shakir
(3)
cha ki kahawtain
(10)
chor
(5)
daal ki kahawtain
(10)
dhal ki kahawtain
(2)
dil
(2)
download
(7)
elam
(5)
eman
(3)
faraiz
(6)
gaaf ki kahawtain
(8)
geet
(52)
ghazal
(1279)
girl
(3)
ha ki kahawtin
(3)
haa ki kahawtain
(4)
hadisain
(223)
halaku khan
(2)
haya
(4)
hijab
(13)
hikayaat
(48)
history
(35)
huqooq
(2)
ibraheem dahlvi zooq
(2)
iftkhar arif
(2)
intkhab Ahmad nadeem qasmi
(7)
islamic
(319)
jeem ki kahawtain
(13)
jumma
(2)
kaf ki kahawtain
(15)
karam hadri
(2)
khaa ki kahawtin
(4)
king
(6)
laam ki kahawtain
(4)
maa
(9)
marriage
(2)
meem ki kahawtain
(12)
mera jee
(71)
mir taqi mir
(252)
mirza asadullah ghalib
(126)
mohsin naqvi
(12)
molana tajoor najeeb abadi
(2)
molvi
(6)
mufsdat
(2)
muhammad bilal khan
(2)
mukalma
(2)
muskrahat
(2)
muzaffar warsi
(3)
naatain
(8)
namaaz
(14)
nasir kazmi
(5)
nikah
(5)
noon ki kahawtain
(5)
pa ki kahawtain
(8)
parveen shakir
(50)
poetry
(1309)
qaaf ki kahawtain
(2)
qateel shafai
(5)
ra ki kahawtain
(3)
sabaq aamoz
(55)
saghar Siddiqui
(226)
saghar nizami
(2)
saifuddin saif
(2)
sauod usmani
(2)
seen ki kahawtain
(10)
sheen ki kahawtain
(2)
sirat al nabi
(4)
syed moeen bally
(2)
ta ki kahawtain
(8)
toba
(4)
udru
(14)
urdu
(239)
urdu short stories
(151)
wadu
(3)
wajibat
(4)
wajida tabassum
(2)
waqeaat
(59)
wow ki kahawtain
(2)
writers
(2)
yaa ki kahawtain
(2)
yaer
(2)
za ki kahawtain
(2)
zina
(10)





