Tuesday, 31 January 2017

Ya dolat Bhi Lalo Ya Shohrat Bhi Lalo " Bachpan Ki Yadain" A beautiful Urdu Ghazal

یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو
 بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی

مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون
 وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی

 محلے کی سب سے پرانی نشانی
 وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے نانی

 وہ نانی کی باتوں میں پریوں کا ڈھیرا
وہ چہرے کی جہریوں میں میں صدیوں کا پھیرا

 بھلائے نہیں بھول سکتا ہے کوئی
 وہ چھوٹی سی راتیں وہ لمبی کہانی

 کھڑی دھوپ میں اپنے گھر سے نکلنا
 وہ چڑیاں وہ بلبل وہ تتلی پکڑنا

 وہ گھڑیا کی شادی میں لڑنا جھگڑنا
وہ جھولوں سے گرنا وہ گر کہ سنبھلنا

 وہ پیتل کے چھلوں کے پیارے سے تحفے
 وہ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی نشانی

 کبھی ریت کے اونچے ٹیلوں پہ جانا
 گھروندے بنانا بنا کہ مٹانا

 وہ معصوم چاہت کی تصویر اپنی
 وہ خوابوں خیالوں کی جاگیر اپنی

 نہ دنیا کا غم تھا نہ رشتوں کا بندھن
 بڑی خوبصورت تھی وہ زندگانی

Khu Gaey Ho Tum Kahan Janan " A Beautiful Urdu Ghazal By Aarhat Abbas Shah

کھو گئے ہو یہ تم کہاں جاناں
 چار سو ہیں اداسیاں جاناں

 ورنہ اک روز مل ہی جاتے ہم
عمر آئی ہے درمیاں جاناں

تم کو دھوکہ ہوا تھا بارش کا
 رو دیا ہو گا آسماں جاناں

 ہجر ہر موڑ پر کھڑا ہوگا
بھاگ کر جاؤ گے کہاں جاناں

 شام ہوتے ہی چھیڑ دیتا ہے
 دل مرا دکھ کی داستاں جاناں

 دل نے پھر چھیڑ دی غزل کوئی
 پھر طبیعت ہوئی رواں جاناں

 ایک دنیا ہوئی ہے فرحت سے
 تم بھی ہو جاؤ بد گماں جاناں

 فرحت عباس شاہ

kut hi gai judai bhi kub ya hova k mar gay '' urdu ghazal by adeem hashmi

  کٹ ہی گئی جدائی بھی
کب یہ ہوا کہ مر گئے

 تیرے بھی دن گزر گئے ،
میرے بھی دن گزر گئے

 تو بھی کچھ اور،اور ہے
ہم بھی کچھ اوراور ہیں

 جانے وہ تو کدھر گیا،
 جانے وہ ہم کدھر گئے

 راہوں میں ملے تھے ہم ،
 راہیں نصیب بن گئیں

 تو بھی نہ اپنے گھر گیا،
ہم بھی نہ اپنے گھر گئے

 وہ بھی غبارِ خاک تھا،
ہم بھی غبارِ خاک تھے

 وہ بھی کہیں بکھر گیا،
ہم بھی کہیں بکھر گئے

 کوئی کنارِآبِ جو بیٹھا ہوا ہے سرنگوں
 کشتی کدھر چلی گئی،

جانے کدھر بھنور گئے
, تیرے لئے چلے تھے ہم ،

تیرے لئے ٹھہر گئے
 تو نے کہا تو جی اٹھے،

 تو نے کہا تو مر گئے ,
, وقت ہی جدائی کا اتنا طویل ہو گیا

 دل میں ترے وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے
بارش وصل وہ ہوئی سارا غبار دُھل گیا

 وہ بھی نکھر نکھر گیا،
 ہم بھی نکھر نکھر گئے

اتنے قریب ہو گئے،
 اتنے رقیب ہو گئے

 وہ بھی عدیم ڈر گیا،
 ہم بھی عدیم ڈر گئے

 عدیم ہاشمی  

Jub Bachpan Tha Tu Jawani Aik Khwab Tha "


 جب بچپن تھا تو جوانی ایک خواب تھا ...

جب جوان ہوئے تو بچپن ایک زمانہ تھا ... !!

جب گھر میں رہتے تھے، آزادی اچھی لگتی تھی ...
آج آزادی ہے، پھر بھی گھر جانے کی جلدی رہتی ہے ... !!

کبھی ہوٹل میں جانا پزا، برگر کھانا پسند تھا ...
آج گھر پر آنا اور ماں کے ہاتھ کا کھانا پسند ہے ... !!!

اسکول میں جن کے ساتھ جھگڑتے تھے، 
آج ان کو ہی انٹرنیٹ پہ تلاشتے ہیں ... !!

Aain girny pa to kohram macha daty hain '' urdu ghazal by Ahmad basheer tahit



آئیں گرنے پہ تو کہرام مچا دیتے ہیں
 ہم پیمبر پہ بھی بہتان لگا دیتے ہیں

 ہم قباوں میں وہ لپٹے ہوئے بیمار بدن
 جو مسیحا کو ہی سولی پہ سجا دیتے ہیں

 آئیں بننے پہ اگر رونقِ بازار کبھی
 عصمتِ جبہ و دستار لٹا دیتے ہیں

 لوگ دامن پہ لگے داغ چھپانے کے لئیے
 اپنے ماتھے پہ سجا داغ دکھا دیتے ہیں

 دُور پڑتا ہے گریبان ہمارا ہم کو
 غیر کے دل کا مگر حال بتا دیتے ہیں

جس طرح اہل نظر اٹھتے چلے جاتے ہیں
 آنے والے کسی محشر کا پتہ دیتے ہیں

خوب! کہتے ہیں کہ میں موت سے ڈرتا ہی نہیں
 میرے دشمن مجھے الزام بھی کیا دیتے ہیں!

 ہم ہیں صحرا کے جلاے ہوئے پیاسے طاؔہر
 اپنے دشمن کو بھی بارش کی دعا دیتے ہیں

 (احمد بشیر طاؔہر)

Mara Makan Tu Sara Hova Nisar " A Beautiful Urdu Poetry


مرا مکان تو سارا ہوا 'نثار '
 یعنی فلک کا کوئی ستارا ہوا 'نثار '

قدموں میں آ کے سارا زمانہ ٹھہر گیا
پہنا کبھی جو اس کا اتارا ہوا 'نثار '

بارش بھی اس زمین کو بھر پور چاہیے
 شبنم سے کب گلوں کا گزارا ہوا 'نثار '

جب بھی فلک اچھال دے تارے سجا کے تھال
 سمجھو یہی کہ کوئی تمہارا ہوا 'نثار '

ڈھونڈا کیا جہان میں لیکن نہیں ملا
 مجھ سا کوئی نصیب کا مارا ہوا 'نثار '

دریا کا تھا قصور کہ پیاسا نہیں رکھا
 پانی مگر زبان سے کھارا ہوا 'نثار '

Yun Apni Bhol Ki Main Saza KaTnay Laga " A Beautiful Urdu Ghazal

 یوں اپنی بھول کی میں سزا کاٹنے لگا
 جس کو گلے لگایا گلا کاٹنے لگا

اب کے عجیب طرح کی بارش ہوئی یہاں
 سیلِ وفا بھی راہِ وفا کاٹنے لگا

کس کشمکش میں تھا کہ میں دیوارِ عشق پر
 لکھّا پہ لکھ کے نام تِرا کاٹنے لگا

اپنی جفا پہ پھوٹ کے رونا پڑا اُسے
جس وقت وہ بھی فصلِ جفا کاٹنے لگا

آب و ہوا کی آنکھوں میں کیوں اشک آ گئے
شاید کوئی درخت ہرا کاٹنے لگا

راغبؔ نہ پوچھ اُس کے بھروسے کی خستگی
جو شخص لکھ کے حرفِ وفا کاٹنے لگا


 افتخار راغبؔ دوحہ قطر

Bahar Rut Main Ujar Rastay Taka Karo Gay Tu Ro Paro gay" A Beautiful Urdu Ghazal


  بہار رُت میں اجاڑ رستے، تکا کرو گے تو رو پڑو گے
کسی سے ملنے کو جب بھی محسن سجا کرو گے تو رو پڑو گے

 تمہارے وعدوں نے یار مجھ کو تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے
 کہ زندگی میں جو پھر کسی سے، دغا کرو گے،، تو رو پڑو گے

 میں جانتا ہوں میری محبت، اجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسے
 کہ چاند راتوں میں اب کسی سے ملا کرو گے تو رو پڑو گے

 برستی بارش میں یاد رکھنا تمہیں ستائیں گی میری آنکھیں
 کسی ولی کے مزار پر جب،، دعا کرو گے،، تو رو پڑو گے

Monday, 30 January 2017

Ay Sal e Rafta " Beautiful Urdu Poetry By Samaryab Samar


 ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔اے سال رفتہ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آج اشکوں کا سمندر ہے مری آنکھوں میں
کتنی خاموشی سے نکلا ہے تو سال رفتہ
کتنی امیدیں تھی وابسطہ تہ خاک ہوئیں
کتنے غم د ے کے تو گزرا ہے اے سال رفتہ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تھوڑی سی شکایت ہے کہ سن کر جانا
تجھ سے نالاں ہیں یہاں آج نظارے کتنے
آج تنہا ہوں مری بزم پڑی ہے ۔۔۔۔۔۔ سونی 
تونے چھینے ہیں مری آنکھوں کے تارے کتنے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے دیکھی ہیں وہ بہتی ہوئی خوں کی ندیاں
جن میں معصوموں کا پاکیزہ لہو تھا شامل
میں نہ بھولا ہوں نہ بھولوں گا کبھی وہ منظر
جس میں بہنو ں کے بھی سینوں پہ چڑھا تا قاتل
۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مرے نورِ نظر میرے جگر کے ٹکڑے
جن کی آہوں کا کسی دل پہ اثر تک نہ ہوا
قتل گاہوں میں کہاں لاشوں کے انبار نہ تھے
جن کی لاشوں کو کفن تک بھی میسر نہ ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنے متمول تھے گھرانے کہ وہ برباد ہوئے 
میں نے انسانوں کی صورت میں بھی حیواں دیکھے
آن ِ واحد میں جلیں بستیاں انسانوں کی
اپنا کردار نبھاتے ہوئے شیطاں دیکھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس طرح جشن مناؤں کہ مرے گلشن میں
پھول کلیوں پہ یہاں آگ کے گولے برسے 
زندہ در گور کیا کتنے ہی معصوموں کو
کتنی ماؤں کو یہاں پھول سے چہرے ترسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
یہ مرے آنسو نہیں خون جگر ہے دیکھو 
زخمی کتنا ہے مرا دل یہ دکھاؤں کیسے 
میرے گھر سے ہیں اٹھے کتنے جنازے دیکھو 
سال ۔۔۔ نو۔۔ تجھ کو مناؤں تو مناؤں کیسے

سال نو تجھ کو مناؤں تو مناؤں کیسے

✍�✍�۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمریاب ثمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✍�✍�

علامہ محمد اقبال كا تعارف حالت زندگی '' Allama Muhammad Iqbal A Famous Urdu Poetess

علامہ ڈا کٹر  محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔
  1899ء میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ 1905ء میں علامہ اقبال یورپ چلے گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد آپ وکالت کے پیشے سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوگئے۔
  علامہ اقبال کی شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی ہی سے ہوچکا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے داغ دہلوی سے اصلاح لی۔
1910ء کی دہائی میں آپ نے شکوہ، جواب شکوہ، شمع اور شاعر اور خضر راہ جیسی یادگار نظمیں تحریر کیں۔ اسی زمانے میں آپ کی فارسی مثنویاں اسرار خودی اور رموز بے خودی شائع ہوئی۔
1922ء میں حکومت برطانیہ نے آپ کو سر کا خطاب عطا کیا۔ 1930ءمیں آپ نے الٰہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے جو خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا۔

علامہ سر محمد اقبال کا انتقال 21 اپریل 19388ءکو لاہور میں ہوا۔ آپ کو بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں کے پاس سپرد خاک کیا گیا ہے۔ علامہ اقبال کے شعری مجموعوں میں بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبرئیل، اسرار خودی، رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ، اور ارمغان حجاز وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

Wo Nokrani Nahi Thi Mari Maan Thi '' A beautiful Heart touching Urdu short story

 وہ نوکرانی نہیں تھی میری  تھی

  ایک دن میں اور زاہد صاحب آفس کینٹین پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ میں نے ان کے ہمہ وقت کے بجھے بجھے سے رویے کی وجہ پوچھی۔ 

وہ کہنے لگے: ’’مجھے آج مرے ہوئے تین سال ہو گئے‘‘میں نے نظریں اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس جملے کے ساتھ ہی دنیا بھر کی نقاہت اتر آئی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگے: ’’میں ہمیشہ سے بد تمیز رہا ہوں۔ بچپن میں سکول جاتے ہوئے ضد، کھانا کھاتے ہوئے نخرے، وہ نہیں یہ کھانا ہے، یہ نہیں وہ کھانا ہے۔۔۔ 

مجھے نہیں یاد کہ پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا، کھانا کھایا، کپڑے پہنے یا جوتوں کے تسمے بند کیے ہوں۔ باپ کا تو مجھے صرف نام ہی ملا۔ نہ کبھی اس کی صورت دیکھی اور نہ پیار۔ بھائی کا سہارا کیا ہوتا ہے اور بہن کی محبت کیا ہوتی ہے کچھ معلوم نہیں۔ پرائمری، مڈل اور پھر میٹرک تک یہی عادت رہی کہ رات کو سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بستہ غرض تمام چیزیں ادھر ادھر بکھری چھوڑ کر سو جاتا تھا مگر صبح آنکھ کھلتے ہی دیکھتا کہ تمام چیزیں بہت سلیقے سے بستے میں پڑی ہیں اور بستہ بڑی نفاست سے میز پر پڑا ہے۔

مجھے لاکھ بار کہا جاتا کہ دودھ پی کر سونا مگر میں نہیں پیتا تھا۔ لیکن جب صبح اٹھتا تولب شیریں اور منھ کا ذائقہ بدلا ہوتا۔ پہلے پہل تو پتہ نہیں چلتا تھا مگر آہستہ آہستہ پتہ چل گیا کہ رات کو نیند میں ہی دودھ پلا دیا جاتا ہے۔ رات کو کبھی آنکھ کھلتی تو دیکھتا کہ بارش ہو رہی ہے اور مجھ پر کمبل ڈال دیا گیا ہے کہ سردی نہ لگے۔ مجھے ہمیشہ گھر میں دو ہی چیزوں سے چڑ رہی۔۔۔

 ایک 11 سے 13 گھنٹے تک ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین سےاور دوسری روٹی کے کناروں سے کہ ان پر اکثر گھی لگنے سے رہ جاتا تھا مگر روٹی کے وہ سوکھے ٹکڑے جو میں اتار دیتا تھا نہ تو کبھی گھر سے باہر فروخت ہوتے دیکھے اور نہ ہی کوڑا دان میں کبھی نظر آئے۔ 

اور جب بھی مجھے پیسے چاہیے ہوتے تو میں اسی سلائی مشین کا رخ کرتا جس سے مجھے چڑ تھی۔ جب بھی مجھے کبھی معمول سے ہٹ کر زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی تو دیکھتا کہ گھر میں سلائی مشین کے چلنے دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ مجھے یاد ہے کالج میں داخلہ کے وقت مجھے 1500 روپیہ چاہیے تھا، میں نے گھر آ کر بتا دیا۔

 اُسی رات 2 بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو گھر کے برآمدے میں کچھ کھٹ پٹ ہوتی محسوس ہوئی ذرا مزید غور کرنے پر یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے کوئی گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ رو رہا ہو۔ چپکے سے برآمدے میں جا کر دیکھا تو موٹے شیشے کا چشمہ لگائے میری ماں جانے کب مشین میں دھاگہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ آنسو بھی گر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا کر رہی ہے ماں؟؟؟ ماں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور جلدی سے آنسو صاف کرتے ہوئےاور چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بالکل صاف آواز میں کہنے لگی۔۔۔

 وہ سامنے والی ثریا کے بھائی کی شادی ہے تو اس نے کہا کہ صبح تک دو سوٹ سلائی کردو اس لئے بیٹھی ہوں لیکن دھاگا سوئی میں نہیں ڈل رہا۔۔۔ اس دن مجھے ماں کی حالت اور آنسو دیکھ کر احساس ہوا کہ مجھے کوئی چھوٹا موٹا کام کرنا چاہیے۔۔۔ میں مناسب کام بھی ڈھونڈتا رہا اور پڑھتا بھی رہا۔

 اُدھر ایف۔اے مکمل ہوا اور ادھر آفس میں کام مل گیا۔ میں نے گھر جا کر ماں کو بتایا تو وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔ فوری شکر پارے لا کر محلے میں بانٹے۔ ایک دن میں کام سے گھر آ کر لیٹ گیا۔ 

تھوڑی تھکاوٹ ہو رہی تھی۔ پاؤں چارپائی سے لٹکائے ہی سو گیا۔ جب اٹھا تو دیکھا کہ خلاف معمول آج نہ جوتے میرے پاؤں سے اترے تھے اور نہ ہی کھانا بنا تھا۔ ماں کو آواز دی: ’’ماں، ماں ، ماں اٹھ بھوک لگی ہے، ماں ں ں ں‘‘ چیخ چیخ کر رویا، ہزار منتیں او ر ترلے کیے مگر شاید ماں اب کی بار اٹھنے کے لئے نہیں سوئی تھی۔ ماں کے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔ قبرستان لگتا تھا۔ ادھر دیارِ غیر میں آ کر میں اپنا سارا کام خود کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں نے کبھی جس کی خدمت نہ کی اور نہ کبھی آسائش و سکوں دیا ’

’وہ میری ماں تھی نوکرانی نہیں تھی‘‘

 یہ کہتے ہوئے زاہد کے دو موٹے موٹے آنسو رخساروں پر بہہ گئے۔

اللہ تعالیٰ میرے اور جس کے بھی والدین حیات ہیں سب کے والدین کو ایمان و صحت کے ساتھ خوش رکھے۔ جن کے والدین وفات پا گئے اللہ تعالی ان کو صبر دے اور ان کے والدین کی مغفرت فرمائے

آمین.
.

Bachpan Kia Tha Is Ka Ihsas Ab Hova Hai " A Beautiful Urdu poem


خوشی كس میں ہوتی ہے، 

یہ پتہ اب چلا ہے ...
بچپن کیا تھا، 
اس کا احساس اب ہوا ہے ...

کاش تبدیل کر سکتے ہم زندگی کے کچھ سال ..

كاش جی سکتے ہم،
زندگی بھرپور ایک بار ... !!

جب ہم اپنے شرٹ میں ہاتھ چھپاتے تھے اور لوگوں سے کہتے پھرتے تھے 
دیکھو میں نے اپنے ہاتھ جادو سے غائب کر دیے
| 

✏جب ہمارے پاس چار رنگوں سے لکھنے والی ایک قلم ہوا کرتی تھی اور ہم سب کے بٹن کو ایک ساتھ دبانے کی کوشش کیا کرتے تھے | 

جب ہم دروازے کے پیچھے چھپتے تھے تاکہ اگر کوئی آئے تو اسے ڈرا سكیں

جب آنکھ بند کر سونے کا ڈرامہ کرتے
تھے تاکہ کوئی ہمیں گود میں اٹھا کے بستر تک پہنچا دے |

سوچا کرتے تھے کہ یہ چاند ہماری سائیکل کے پیچھے پیچھے کیوں چل رہا ہے | 

On / Off والے سوئچ کو درمیان میں
اٹكانے کوشش کیا کرتے تھے |

پھل کے بیج کو اس خوف سے نہیں کھاتے تھے 
کہ کہیں ہمارے پیٹ میں درخت نہ اگ جائے |


برتھڈے صرف اس وجہ سے مناتے تھے
تاکہ ڈھیر سارے گفٹ ملیں |

فرج آہستہ سے بند کر کے یہ جاننے کی کوشش کرتے تھے 
کہ اس کی روشنی کب بند ہوتی ہے |

سچ، 
بچپن میں سوچتے ہم بڑے
کیوں نہیں ہو رہے؟

اور اب سوچتے ہم بڑے کیوں ہو گئے؟ 

يے دولت بھی لے لو .. 
یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی ...

مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون .... 

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی .. 

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)