Showing posts with label Poets. Show all posts
Showing posts with label Poets. Show all posts

Sunday, 23 April 2017

Wazeer Agha a Famous Urdu Poetess وزیر آغا ک امختصر تعارف حالات زندگی



 ( 1922 -2010)
اردو کے مشہور نقاد شاعر انشائیہ نگار۔ پیدائش18مئی 1922ء ۔۔انتقال 8 ستمبر2010
ڈاکٹر وزیر آغا کی پیدائش 18مئی 1922ء کو سرگودھا میں ہوئی تھی اور انہوں نے 1943 ء میں گورنمنٹ کالج لاہو ر سے معاشیات میں ایم اے کیا تھا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1956ء میں حاصل کی۔ اپنی ادبی صحافت کا آغاز انہوں نے ادبی دنیا لاہو ر کے جوائنٹ ایڈیٹیر کی حیثیت سے 1960ء میں کیا تھا پھر انہوں نے لاہور سے اپنا سہ ماہی رسالہ اوراق 1965ء میں شائع کرنا شروع کیا۔ جو 2003ء تک باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا اور ان برسوں میں اس رسالے نے تو تین ادبی نسلوں کی آبیاری کی اوراق نے مضامین نو کے انبار لگا دیے۔
بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔ دوسرا مقالہ بھاگلپور یونیورسٹی میں پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی انشائیہ نگاری پر لکھا گیا اور تیسرا رانچی یونیورسٹی میں وہاب اشرفی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی تنقید کے موضوع پر لکھا گیا جن پر پی ایچ ڈی ایوارڈ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ جے پور یونیورسٹی میں وزیر آغا کی تنقید نگاری پر ایم فل اور پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا تحقیقی مقالہ لکھا گیا ہے۔ پاکستان میں وزیر آغا کے فن پر 14کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

saifuddin saif a Famous Urdu Poetess سیف الدین سیف کا مختصر تعارف حالات زندگی



 (1922–1993)
سیف الدین سیف (پیدائش: 20 مارچ، 1922ء - وفات: 12 جولائی، 1993ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، مکالمہ و کہانی نگار اور فلمساز تھے۔
سیف الدین سیف 20 مارچ، 1922ء کو کوچۂ کشمیراں امرتسر، برطانوی ہندوستان کے ایک معزز اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
 ان کے آباء و اجداد کشمیر سے ہجرت کرکے امرتسر میں آباد ہوئے تھے۔ والد کا نام خواجہ معراج دین تھا جو ایک نیک صفت اور درویش منش آدمی تھے۔ سیف الدین سیف کی عمر جب ڈھائی برس ہوئی تو ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ سیف  کا بچپن امرتسر کی گلیوں میں گزرا۔

 ابتدائی تعلیم مسلم ہائی اسکول امرتسر سے حاصل کی لیکن میٹرک کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ پھر ایم اے او کالج امرتسر میں داخل ہو گئے۔ یہاں پر کالج پرنسپل ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر اور انگریزی لیکچرار فیض احمد فیض کی قربت نے علمی و ادبی ذوق پیدا کیا۔


راہ آسان ہو گئی ہوگی
جان پہچان ہو گئی ہوگی

موت سے تیرے درد مندوں کی
مشکل آسان ہو گئی ہوگی

پھر پلٹ کر نگہ نہیں آئی
تجھ پہ قربان ہو گئی ہوگی

تیری زلفوں کو چھیڑتی تھی صبا
خود پرشان ہوگئی ہوگی

ان سے بھی چھین لوگے یاد اپنی
جن کا ایمان ہو گئی ہوگی

دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ
ہاں مری جان ہو گئی ہوگی

مرنے والے پہ سیف  حیرت کیوں
موت آسان ہو گئی ہوگی


مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے
مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانۂ محبت
میں اُسے سنا کے رؤں وہ مجھےے سنا کے روئے

مری آرزو کی دنیا دلِ ناتواں کی حسرت
جسے کھو کے شادماں تھےاسے آج پا کے روئے

تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر
کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے

جو سنائی انجمن میں شبِ غم کی آپ بیتی
کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے

کہیں سیف  راستے میں وہ ملیں تو اُن سے کہنا                      میں اداس ہوں اکیلا میرے پاس آ کے روئے


لطف فرما سکو تو آ جاؤ
آج بھی آ سکو تو آ جاؤ

اپنی وسعت میں کھو چکا ہوں میں
راہ دکھلا سکو تو آ جاؤ

اب و دل ہی نہیں وہ غم ہی نہیں
آرزو لا سکو تو آ جاؤ

غم گسارو بہت اُداس ہوں میں
آج بہلا سکو تو آ جاؤ

فرصتِ نامہ و پیام کہاں
اب تم ہی آ سکو تو آ جاؤ

وہ رہی سیف  منزلِ ہستی
دو قدم آسکو تو آ جاؤ


وصل کی بات اور ہی کچھ تھی
ان دنوں رات اور ہی کچھ تھی

پہلی پہلی نظر کے افسانے
وہ ملاقات اور ہی کچھ تھی

دل نے کچھ اور ہی لیا مطلب
آپ کی بات اور ہی کچھ تھی

سیف  پی کر بھی تشنگی نہ گئی
اب کے برسات اور ہی کچھ تھی


دل سے جاتا نہیں دھواں اب تک
تیرے جلتے ہوئے مکانوں کا

وفات


سیف الدین سیف 12 جولائی، 1993ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کرگئےاور لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

Shakeel Ahmad Zia a Famous Urdu Poetess شکیل احمد ضیا کامختصر تعارف حالات زندگی



 (1921-1999)
شکیل احمد ضیا (پیدائش: 25 دسمبر، 1921ء - وفات: 7 مارچ، 1999ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو، ہندی، فارسی زبان کے ممتاز شاعر اور ادیب تھے۔
شکیلاحمد ضیا 25 دسمبر، 1921ء کو جھانسی، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدناصرعلی ، شیخ الہند محمود الحسن (اسیر مالٹا) کے بھتیجے تھے۔ سات سال کی عمر میں حفظ قرآن کے علاوہ فارسی کی چند درسی کتب اور مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کی تمام اردو ریڈرز پڑھ لیں۔انیس برس کی عمر میں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے (آنرز) کیا اور اسی دوران الہ آباد بورڈ سے علوم شرقیہ کے تمام امتحانات پاس کیے۔ 1934ء میں صحافت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ انہیں شعروسخن کا شوق کم عمری سے تھا۔ 1939ء میں صادق جھانسوی اور پھر مولانا حسرت موہانی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ 1942ء میں ہندی کے شاعر کان شرن گپت کی شاگردی اختیار کی۔ تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں شکیل احمد ضیا پاکستان منتقل ہوگئے اور کراچی میں سکونت پزیر ہوئے۔
تصانیف
1939ء - گیت مالا (ہندی گیتوں کا مجموعہ)
1940ء - لمعۂ طور (اُردو اور فارسی غزلیات کا مجموعہ)
1944ء - توریت عجم (اُردو غزلیات و منظومات)
1966ء -جدید نظری سیاسیات (سیاسیات)
1974ء - موج گل (شاعری)
1980ء - شعلۂ رنگ (شاعری)
1993ء - دوسرا قدم (شاعری)
موج صبا (1970ء سے 1980ء تک کی غیر مطبوعہ غزلیات و منظومات کا مجموعہ)
A History of Jewish Crimes (انگریزی، تاریخ)
وفات
شکیلاحمد ضیا 7 مارچ، 1999ء کو کراچی،پاکستان میں وفات پاگئے۔ 


Akhtar Ansari akbrabadi A Famous Urdu Poetess اختر انصاری اکبر آبادی کا مختصر تعارف حالات زندگی

اختر انصاری اکبر آبادی
 (1920-1985)
اختر انصاری اکبر آبادی (پیدائش: 15 اگست، 1920ء - وفات: 18 اگست، 1985ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر، افسانہ نگار، نقاد اور ادبی جریدے نئی قدریں کے مدیر تھے۔
اختر انصاری اکبر آبادی 15 اگست، 1920ء کو آگرہ (اکبر آباد)، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م محمد اختر ایوب تھا۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے پہلے کراچی اور پھر حیدرآباد، سندھ میں سکونت اخٹیار کی۔ 1956ء میں حیدرآباد، سندھ سے نئی قدریں کے نام سے ادبی جریدہ جاری کیا۔
 ان کے شعری مجموعوں میں
 کیف و رنگ
 جام و رنگ
 جام نور
 دل رسوا
 غم فردا
 منظر جاں
 لب گفتار
 نالہ پابندِ نے
 نئی راہ گزر
 نئی رہگذر نئی کہکشاں
 لسان العصر
 فردوس نغمہ کے نام شامل ہیں.
 جبکہ افسانوی مجموعوں میں ہوس کار اور زندگی کے رُخ،نثری کتب میں مفکر مہران، ادبی رابطے لسانی رشتے (مضامین)، ذکر ان کا باتیں ان کی (تذکرہ)، سبدِ چیں  شعرا کا تعارف و انتخاب)، نظریات (تنقید)، جمالِ آگہی (تنقید)، مضامین (تنقید)، گارشات (مضامین) اور شاہ عبداللطیف: حیات اور شاعری شامل ہیں۔

اختر انصاری اکبر آبادی 18 اگست، 1985ء کو بہاولپور،پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ حیدرآباد، سندھ میں کنٹونمنٹ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔


Qateel shafai a Famous Urdu Poetess قتیل شفائی کا مختصر تعارف حالات زندگی


 (1919–2001)
قتیلشفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء - وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ 
 قتیل شفائی خیبر پختونخوا ہری پورہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔
قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے

آج تک ہے دل کو اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ

لاکھ چاہا ہے کہ اس کو بھول جاؤں، پر قتیل

حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ

مجروح سلطانپوری کامختصر تعارف حالات زندگی Majroh Sultanpuri a Famous Urdu Poetess


 (1919-2000)
 کا اصل نام اسرارالحسن خان تھا۔ وہ یکم اکتوبر 1919 کو اتر پردیش کے ضلع سلطانپور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ایک سب انسپکٹر تھے۔
مجروح نے صرف ساتویں جماعت تک اسکول میں پڑھاتھا۔ اس کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی جس کے ساتھ ہی انہوں نے سات سال کا کورس پورا کیا تھا۔ درس نظامی کا کورس مکمل کرنے کے بعد عالم قرار پائے تھے۔اس کے بعد لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ علاج میں تعلیم حاصل کی اورحکیم بن گئے۔

ایک موقع پر سلطان پور میں مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر مجروح نے غزل پڑھی جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ یہیں سے حکمت پس منظر میں چلی گئی اور شاعری میدان عمل میں رہنما بن گئی تھی۔ جگر مرادآبادی بھی مجروح کے مصاحبوں میں سے ایک تھے۔
1945ء میں مجروح ایک مشاعرے میں شرکت کی غرض سے ممبی آئے تھے۔ مشاعرہ گاہ میں انہیں خوب سراہا گیا تھا ۔ مداح شرکا میں پروڈیوسر اے۔ آر۔ کاردار بھی تھے۔ انہوں نے مجروح کو نوشاد سے ملایا۔ نوشاد نے مجروح کو ایک دھن سنائی اور اس پر ایک نغمہ لکھنے کو کہا۔ مجروح نے اس دھن پر یوں لکھا:
جب اس نے گیسو بکھرائے
نوشاد کو یہ گیت پسند آیا اور انہوں نے مجروح کے ساتھ فلم شاہ جہاں کے گیت لکھنے کا معاہدہ کیا۔ اس فلم کے گیت بے حد مقبول ہوئے۔
مجروح نے پچاس سال فلمی دنیا سے جُڑے رہے۔ انھوں نے300 سے بھی زائد فلموں میں ہزاروں گیت لکھے جو بے حد مقبول ہوئے تھے۔
مجروح کا 24 مئی 2000 کوانتقال ہوگیا تھا۔


Wednesday, 19 April 2017

احمد فواد مختصر تعارف حالات زندگی Ahmed Fawad A Famous Urdu Poetess

احمد فواد ایک تعارف

احمد فواد کا اصل نام فریداحمد ہے۔ 1954ء میں سوات کے شگہ، شانگلہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیممدرسہ میں حاصل کی۔ حیدرآباد بورڈ سے میٹرک کیا۔ بی اے (آنرز)، تاریخ اورانگریزی میں ایم اے کراچی یونی ورسٹی سے کئے۔ ان کی مادری زبان پشتو ہےلیکن اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔فرانسیسی زبان سے بھی تھوڑی بہت شناسائی ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کا آغازساتویں جماعت سے کیا ہے۔ کراچی یونی ورسٹی کے مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکتکرتے اور اپنی منفرد شاعری کی وجہ سے پوری یونی ورسٹی میں خاص شہرت رکھتےتھے۔ اس طرح کراچی یونی ورسٹی سے باہر بھی ادبی حلقوں میں ان کی شاعری کواپنی جدت اور انفرادیت کی وجہ سے ہمہ گیر شہرت مل گئی تھی۔ اپنے منفرداُسلوب کی وجہ سے ان کو ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام دیا جاتا ہے۔
زمانۂ طالب علمی میں کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات روزنامہجسارت، نوائے وقت اور پندرہ روزہ وقت کے ساتھ منسلک رہے۔روزنامہ امت کراچیمیں کافی عرصہ تک کالم لکھتے رہے ہیں۔ آج کل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیبکالج سیدو شریف، سوات میں انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین کی حیثیت سے اپنےفرائض انجام دے رہے ہیں۔
احمد فواد کے زیرِ نظر شعری مجموعے سمیت ان کے تین شعری مجموعے زیورِطبع سے آراستہ ہو چکے ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں۔ یہ کوئی کتاب نہیں ، دل ورقورق تیرا اور ایک جانب چاندنی۔ ان کا ایک شعری مجموعہ پشتو زبان میں بھی ’’کہ تہ راغلے زہ بہ گل شم‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ انھوں نے اردو میںایک ناول بھی لکھا ہے جب کہ ان کا چوتھا شعری مجموعہ زیرِ طبع ہے۔

ان کی شاعری میں تازگی اور نیا پن ہے۔ خصوصاً اچھی نظم لکھتے ہیں۔احمد فواد اپنی شاعری میں کائنات کے خوب صورت عناصر مثلاً آسمان، زمین،سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، دریا، بیل بوٹے، پھول اور سمندر وغیرہ بہت عمدگیسے تشبیہات اور استعاروں کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔

Wednesday, 12 April 2017

خمار بارہ بنکوی کامختصر تعارف حالات زندگی Khumar bara bankvi A Famous Urdu Poetess, poetry,




 (1919–1999)

ایک ہندوستانی شاعر اصلی نام محمد حیدر خان تھا اورتخلص خمار۔ 19 ستمبر 1919 کو بارہ بنکی (اودھ) میں پیدا ہوئے۔ نام کے ساتھ بارہ بنکوی اسی مناسبت سے تھا۔ 19 فروری 1999 کوبارہ بنکی میں انتقال کر گئے۔

بارہ بنکی اترپردیش (یوپی)کا ایک چھوٹاسا شہر ہے جس نے باکمال فنکار پیدا کیے ہیں۔ ان میں تین نام تو زبردست اہمیت کے حامل ہیں۔ نصیرالدین شاہ، سروربارہ بنکوی اور خماربارہ بنکوی۔ 1919ء میں پیدا ہونے والے خماربارہ بنکوی کا شماربھی انہی فنکاروں میں ہوتا ہے جن کی وہ قدرومنزلت نہیں کی گئی جس کے وہ مستحق تھے۔ یہ بہرحال ایک المیہ ہے۔ 

برصغیر پاک و ہند کی فلمی تاریخ میں ایسے شعراء بہت کم ملتے ہیں جو غزل گوئی میں بھی منفردمقام کے حامل تھے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلمی گیت نگاری میں بھی اپنے نام کا ڈنکا بجایا۔ پاکستان میں اس حوالے سے قتیل شفائی، سیف الدین سیف، تنویر نقوی، حبیب جالب اور منیر نیازی کی مثالیں دی جا سکتی ہیںجبکہ ہندوستان میں شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی، قمر جلال آبادی اور خماربارہ بنکوی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل گوئی میں بھی اپنی صلاحیتوں کو منوایا اور نغمہ نگاری میں بھی شہرت حاصل کی۔

    خمار باری بنکوی  کی غزلیات پڑھ کر فوری طور پر تو یہ  احساس ہوتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک رومانوی شاعر ہیں۔ ان کے اشعار میں شعری طرز احساس اور جمالیاتی طرز احساس کا بڑا خوبصورت امتزاج ملتا ہے لیکن پھر ان کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ان کی شاعری کے کئی رنگ ہیں اور کئی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کا کینوس محدود نہیں رکھا۔ ان کی قوت مشاہدہ اور قوت متخیلہ شاندار شاعری کے روپ میں قاری کے سامنے آشکار ہوتی ہے… وہ مشاعروں کے بڑے کامیاب شاعر تھے اور ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ مشاعرہ لوٹ لیتے تھے۔ 

ذیل میں ہم اپنے قارئین کیلئے خمار بنکوی کی غزلیات کے چند   اشعار درج کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے دامن یار سے کوئی نسبت نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں مری یاد سے جنگ فرما رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات جب دوستوں کی آتی ہے دوستی کانپ کانپ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حال غم ان کو سناتے جائیے شرط یہ ہے مسکراتے جائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا دوستوں کو آزماتے جائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قید رکھا مجھے صیاد نے کہہ کہہ کے یہی ابھی آزاد کیا، بس ابھی آزاد کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا تم کیوں اداس ہوگئے کیا یاد آ گیا ترے در سے اٹھ کرجدھر جائوں میں چلوں دوقدم اور ٹھہر جائوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔ 

1999 میں یہ بے مثل شاعر اور گیت نگار اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا… ان کا شعری ورثہ ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔
نمونۂ کلام

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا
تم کیوں اداس ہوگئے کیا یاد آگیا

کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر
کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آگیا

مانگیں گے اب دعا کہ اسےبھول جائیں ہم
لیکن جو وہ بوقتِ دعا یاد آگیا

قیامت کے آنے میں رندوں کو شک تھا
جو دیکھا تو واعظ چلے آرہے تھے



کیفی اعظمی کا مختصر تعارف حالات زندگی kafi Aazmi A Famous Urdu Poetess Naghma, nazam



 (1918–2002)
کیفی اعظمی (ولادت 19 فروری، 1925ء، وفات 10 مئی، 2002ء) کا پورا نام اطہر حسین رضوی تھا۔ ان کی پیدائش اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں ہوئی۔ وہ محض گیارہ سال کی عمر میں شاعری شروع کر چکے تھے۔ ان کی پہلی نظم اس طرح تھی:

مدت کے بعد اس نے جو الفت سے کی نظر
جی خوش تو ہوگیامگر آنسو نکل پڑے

اک تم، کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے
اک ہم کہ چل پڑے تو بہر حال چل پڑے

کیفی کی ابتدائی تعلیم روایتی اردو، عربی اور فارسی پر محیط تھی۔

 کیفی اعظمی صاحب کا اتر پردیش کے ضلع اور شہربہرائچ سے گہرا تعلق تھا ۔ شمیم اقبال خاں اور کاوش شوکتی کے ذریعہ مرتب کردہ دیوان شوق طوفان اور شاعر اور ادیب شارق ربانی کے حوالے سے کئی روزناموں میں اسکا ذکر آتا ہے کہ کیفی کے والد سید فتح حسین رضوی نانپارہ کے قریب نواب قزلباش کے تعلقہ نواب گنج میں تحصیل دار تھے اور شہر بہرائچکے محلہ قاضی پورہ میں رہتے تھے،اور اس طرح کیفی کے بچپن کے کئی سال بہرائچ کی سرزمین پر گزرے ہیں۔اور بعد میں بھی کیفی کا بہرائچ آناجانا بنا رہا جس میں وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے ملاقات کرتے تھے،اور شفیع بہرائچی کی دکان پر ادبی محفل کا حصہ بنتے تھے۔جہاں بہرائچ کے مشہور شاعر وصفی بہرائچی ،جمال بابا،شوق بہرائچی ،ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی،عبرت بہرائچی ،اظہار وارثی وغیرہ شرکت کرتے تھے۔ 

1943ء میں کیفی بمبئی اپنے ایک دوست کی دعوت پر آئے تھے۔ یہاں انہیں قریب دس سال کی جدوجہد کے بعد انہیں بالی وڈ میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔

1950ء کے دہے میں ڈاکٹر منشاء الرحمٰن خان منشاء کی دعوت پر کیفی ایوت محل کے مشاعرے کے لیے بلائے گئے تھے۔ شرکت کے لیے 80 روپیے طے ہوئے۔ تاہم اسی زمانے میں کیفی کی بیٹی شبانہ اعظمی پیدا ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ مشاعرے میں شرکت سے قاصر تھے مگر پیشگی رقم 40 روپیے ان کی وقتیہ ضروریات کے کام آئی۔ کیفی نے منشاء سے خط لکھ کر معذرت خواہی کی اور ساتھ ہی پیشگی رقم کی واپسی کا وعدہ کیا۔

کیفی بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ ان کی قابل ذکر نظموں میں عورت، اندیشہ، ٹرنک کال، حوصلہ، تبسم، مکان، بہروپی اور دوسرا بن باس شامل ہیں۔ ان کے مجموعات کلام اس طرح ہیں:
آخر شب
آوارہ سجدے
سرمایہ  

بابری مسجد کے انہدام پر لکھی گئی نظم 

رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئے

یاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئے
رقصِ دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہو گا

چھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہو گا
اتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئے

دھرم کیا ان کا ہے کیا ذات ہے یہ جانتا کون
گھر نہ جلتا تو انہیں رات میں پہچانتا کون

گھر جلانے کو مرا لوگ جو گھرمیں آئے
شاکاہاری ہیں مرے دوست تمہارے خنجر

تم نے بابر کی طرف پھینکے تھے سارے پتھر
ہے مرے سر کی خطا زخم جو سر میں آئے

پاؤں سریو میں ابھی رام نے دھوئے بھی نہ تھے
کہ نظر آئے وہاں خون کے سارے دھبے

پاؤں دھوئے بنا سریو کے کنارے سے اٹھے
رام یہ کہتے ہوئے اپنے دوارے سے اٹھے

راجدھانی کی فضا آئی نہیں راس مجھے
چھ دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے 

 نغمے

ہم دیوانے ہم پروانے اپنے وطن کے اپنے چمن کے۔
لائی پھر ایک لغزش مستانہ تیرے چہرے میں۔

آج کی رات گرم ہوا چلی ہے۔
دل کی سنو دنیا والو

کرچلے ہم فدا جان و تن ساتھیوں
ملو نہ تم تو ہم گھبرائیں، ملو تو آنکھ چرائیں

بچھڑے سبھی باری باری
ذرا سی آہٹ ہوتی تو دل سوچتا

ہو کے مجبور مجھے اس نے بھلایا ہوگا
وقت نے کیا کیا حسیں ستم   


Friday, 31 March 2017

جگن ناتھ آزاد کامختصر تعارف حالات زندگی Jagan Nath AzadA Famous Urdu Poetess




جگن ناتھ آزاد

 (1918–2004)

جگن ناتھ آزاد 5 دسمبر، 1918ء کو عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان میں ہے۔ان کے والد تلوک چند محروم اردو کے شاعر تھے۔ آزاد کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والد کے ہاتھوں ہوئی۔
جگن ناتھ آزاد نے 1933ء میں میانوالی سے میٹرک کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ 1935ء میں انہوں نے ڈی․اے․بی کالج راولپنڈی سے انٹرمیڈیٹ کیا اور 1937ء میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی․اے کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جگن ناتھ آزاد نے لاہور کا رخ کیا۔ انہوں نے لاہور میں 1942ء میں فارسی آنرز کیا اور پھر 1944ء میں جامعہ پنجاب لاہور سے فارسی میں ایم․اے․ کیا تھا۔ یہاں انہیں ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال، ڈاکٹر سید عبد ﷲ، صوفی غلام مصطفی تبسم، پروفیسر علیم الدین سالک اور سید عابد علی عابد جیسےاساتذہ سے ملنے اور فیض یاب ہونے کا موقع ملا تھا۔

جگن ناتھ آزاد کی ایک شادی 11 دسمبر، 1940ء کو ہوئی تھی۔ ان کی اہلیہ کا نام شکنتلا تھا۔ اس بیاہ سے پرمیلا اور مُکتا نام کی دو بیٹیاں ہوئیں۔ شکنتلا 1946ء میں بیمار ہو گئیں اور ہر ممکن علاج کے باوجود صحت یاب نہ ہو سکیں۔ اسی سال ان کا انتقال ہو گیا۔ آزاد نے ’’شکنتلا‘‘، ’’ایک آرزو‘‘ اور ’’استفسار‘‘ نامی نظمیں اپنی رفیقہ حیات کی یاد میں لکھیں۔

کچھ گوشوں سے یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے جگن ناتھ آزاد کا لکھا یہ قومی ترانہ نشر کیا گیا ؂
ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
اے سر زمین پاک
تاہم محققین نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

تقسیم ہند کے بعد آزاد دیگر ارکانِ خانہ کے ساتھ بھارت چلے آئے اور دہلی میں بس گئے۔ انہیں اولاً ’’ملاپ‘‘ میں نائب مدیر کی ملازمت ملی تھی۔ پھر ’’ایمپلائمنٹ نیوز’’ میں روزگار پایا اسی سے منسلک ’’پبلی کیشنز ڈویژن’’ میں اردو کے اسسٹنٹ ایڈیٹر بنے۔ یہاں ان کی ملاقاتیں جوش ملیح آبادی سے ہوئییں جو رسالہ ’’آجکل‘‘ (اردو) کے مدیر تھے۔ جوش ملیح آبادی کے علاوہ عرش ملسیانی، بلونت سنگھ اور پنڈت ہری چند اختر جگن ناتھ آزاد کے ہم منصب رہے۔ ان کی مصاحبت سے آزاد نے بہت کچھ جانا تھا۔

جولائی 1948ء میں آزاد کی دوسری شادی وملا نامی خاتون سے ہوئی۔ اس بیاہ سے تین بچے مولود ہوئے۔ سب سے بڑا بیٹا آدرش، چھوٹا بیٹا چندر کانت اور سب سے چھوٹی بیٹی پونم تھی۔

جگن ناتھ آزاد کا پہلا شعری مجموعہ ’’طبل و علم‘‘ 1948ء میں چھپا۔ 1949ء میں دوسرا مجموعۂ کلام ’’بیکراں‘‘ چھپا۔

1968ء میں آزاد نے ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن آفیسر پریس انفارمیشن بیورو کے طور پر سری نگر، کشمیر میں ملازمت اختیار کی۔ وہ ڈائرکٹر پبلک ریلشنز کے طور پر 1977ء تک کام کرتے رہے۔ 1977ء میں ہی آزاد کو پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی کی پیش کش ہوئی جسے آزاد نے منظور کیا تھا۔ 1977ء سے 1983ء تک وہ پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی اور ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرنینگ جموں یونیورسی کے عہدے پر فائز رہے۔ 1984ء سے 1989ء تک پروفیسر ایمریٹس فیلو کی حیثیت سے شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی میں رہے اور پھر 1989ء سے اپنی زندگی کے اخیر تک وہیں رہے۔


جگن ناتھ آزاد 24 جولائی، 2004ء کوانتقال کر گئے تھے۔  

شان الحق حقی کامختصر تعارف حالات زندگی Sean ul Haque AFamous Urdu Poetess ,


شان الحق حقی

 (1917–2005)

شان الحق حقی اردو زبان کے ممتاز ماہر لسانیات، محقق، نقاد، مترجم اور مدیر تھے۔
شان الحق حقی 15 دسمبر 1917ء کو ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل کی، علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے اور سینٹ اسٹیفنر کالج (دہلی یونیورسٹی) سے ایم اے (انگریزی ادب) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے کراچی آگئے۔

آپ مختلف علمی رسائل و جرائد کے مدیر رہے، نیز قومی محکمۂ اطلاعات، اشتہارات و مطبوعات و فلم سازی سے منسلک رہے۔ اردو لغت بورڈ (کراچی) اور مقتدرہ قومی زبان کے لئے گراں قدر علمی خدمات انجام دیں۔ آپ کثیراللسان محقق تھے اور اردو، عربی، فارسی، انگریزی، ہندی، سنسکرت، ترکی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ جدیدآکسفورڈ اردو انگریزی ڈکشنری آپ ہی کی مرتب کردہ ہے۔

تارِ پیراہن (منظومات)، نکتۂ راز (مضامین)، خیابانِ پاک، نشیدِ حریت، ارتھ شاستر (ترجمہ) اور انجان راہی آپ کی اہم کاوش ہیں۔


11اکتوبر2005ء کو آپ کا کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں انتقال ہوا۔

شکیل بدایونی کامختصر تعارف حالات زندگی Shakeel Badauni A Famous Urdu Poetess, poetry,



شکیل بدایونی

 (1916–1970)

اردو شاعر۔ اگست سنہ 1916کو اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ والد جمیل احمد سوختہ قادری بدایونی ممبئی کی مسجد میں خطیب او رپیش امام تھے اس لئے شکیل کی ابتدائی تعلیم اسلامی مکتب میں ہوئی ۔ اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کے بعد مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول بدایوں سے سند حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے وہ سنہ 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور بی ۔ اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سنہ 1942 میں دہلی میں سرکاری ملازم ہو گئے ۔ علی گڑھ میں قیام کے دروان جگر مراد آبادی سے ملاقات ہوئی۔ ان کی وساطت سے فلمی دنیا میں داخل ہوئے۔ اور سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔ فلمی گیتوں کے علاوہ شاعری کے پانچ مجموعے غمہ فردوس ، صنم و حرم ، رعنائیاں ، رنگینیاں ، شبستاں کے نام سے شائع ہوئے۔ 20 اپریل 1971 کو ممبئی میں انتقال ہوا۔ اور وہیں دفن ہوئے۔ مگر قبرستان کی انتظامیہ نے اور دوسرے بہت سی مشہور شخصیات کی طرح 2010 میں ان کی قبر کا نام و نشان تک مٹا دیا۔

جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں
زہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیں

دشمنوں کے ستم کا خوف نہیں

دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

Thursday, 30 March 2017

ضمیر جعفری کامختصر تعارف حالات زندگی Zamir Jafri A Famous Urdu Poetess,


ضمیر جعفری
 (1916–1999)

ضمیر جعفری اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر ہیں۔ انکا پورا نام سید ضمیر حسین جعفری تھا۔ 1 جنوری 1916ء کو جہلم کے ساتھ ایک گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوۓ۔ تعلیم جہلم، اٹک اور لاہور سے حاصل کی۔
صحافت سے وابستہ ہوۓ۔ دوسری جنگ عظیم میں فوج میں شامل ہوۓ۔ 1948ء میں اخبار نکالا۔ 1950ء میں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا دوبارہ فوج میں آۓ۔ سی ڈی اے اسلام آباد، نیشنل سنٹر اور اکادمی ادبیات پاکستان سے متعلق رہے۔ مافی الضمیر شعری مجموعہ ہے۔

آپ نے 16 مئی 1999ء کو وفات پائے

احمد ندیم قاسمی کامختصر تعارف حالات زندگی Ahmad nadeem qasmi a Famous Urdu Poetess

احمد ندیم قاسمی
  (1916–2006)
احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار تھے۔ افسانہ اور شاعری میں شہرت پائی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین شمار ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے کچھ اوپر کتابیں تصنیف کیں .

احمد ندیم قاسمی مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ندیم ان کا تخلص تھا۔

آپ کے والد پیر غلام نبی مرحوم اپنی عبادت، زہد تقویٰ کی وجہ سے اہل اللہ میں شمار ہوتے تھے ندیم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ 1920 میں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ 1923ء میں والد کے انتقال کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے۔ وہاں مذہبی، عملی، اور شاعرانہ ماحول میسر آیا۔1921-25 میں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930-31 میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931 صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہوگئے جہاں سے 1935ء میں بی اے۔ کیا۔

قاسمی صاحب کی ابتدائی زندگی کافی مشکلات بھری تھی۔ جب وہ اپنے آبائی گاؤں کو خیرباد کہہ کر لاہور پہنچے تو ان کی گزر بسر کا کوئی سہارا نہ تھا۔ کئی بار فاقہ کشی کی بھی نوبت آ گئی لیکن ان کی غیرت نے کسی کو اپنے احوال سے باخبر کرنے سے انہیں باز رکھا۔ انھی دنوں ان کی ملاقات اختر شیرانی سے ہوئی۔ وہ انہیں بے حد عزیز رکھنے لگے اور ان کی کافی حوصلہ افزائی بھی کی۔ قاسمی صاحب اختر شیرانی کی شاعری کے گرویدہ تو پہلے ہی سے تھے، ان کے مشفقانہ رویے نے قاسمی صاحب کو ان سے شخصی طور پر بھی بہت قریب کر دیا۔ اختر شیرانی رند بلانوش تھے لیکن ان کے ساتھ خاصا وقت گزارنے کے باوجود قاسمی صاحب نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ان کی طبیعت میں لاابالی پن آیا۔ اس سے ان کے مزاج کی استقامت اور اپنے آپ پر قابو رکھنے کی ان کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازا ہوتا ہے۔ اختر شیرانی کی شاعری اور شخصیت سے قاسمی صاحب کا لگاؤ آخر تک رہا۔انھی دنوں احمد ندیم قاسمی کی ملاقات امتیاز علی تاج سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنے ماہانہ رسالے پھول کی ادارت کی پیش کش کی جو انھوں نے قبول کر لی۔ پھول بچوں کا رسالہ تھا۔ اس کی ایک سالہ ادارت کے زمانے میں قاسمی صاحب نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھیں جو بچوں میں بہت پسند کی گئیں۔

1936 میں ریفارمزکمشنر لاہور کے دفتر میں بیس روپے ماہوار پر محرر کی حیثیت سے ملازم ہوئے اور 1937تک یہیں کام کرتے رہے۔ 1939-41 کے دوران ایکسائز سب انسپکٹر کے طور پر ملازمت کی ۔

1939ء میں محکمہ آبکاری میں ملازم ہوگئے۔ 1942 میں مستعفی ہو کر لاہور چلے آئے۔ تہذیب نسواں اور پھول کی ادارت سنبھالی 1943ء میں (ادب لطیف) کے ایڈیٹر مقرر ہوئے 1945-48 میں ریڈیوپشاور سے بحیثیت اسکرپٹ رائٹر وابستہ رہے تقسیم کے بعد ڈیڑھ سال ریڈیو پشاور میں ملازم رہے۔

قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتدا 1931 میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہی نہیں بعد میں بھی 1934 اور 1937 کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انہیں عالمِ نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔

مطبوعات

افسانوی مجموعے

چوپال (دارالاشاعت پنجاب لاہور 1939)
بگولے (مکتبہ اردو لاہور 1941)
طلوع و غروب (مکتبہ اردو، لاہور، 1942)
گرداب (ادارہ اشاعت اردوحیدرآباد دکن1943)
سیلاب (ادارہ اشاعت اردو، حیدرآباد دکن 1943)
آنچل(ادارہ فروغ اردو، لاہور 1944)
آبلے (ادارہ فروغِ اردو لاہور 1946)
آس پاس (مکتبہ فسانہ خواں، لاہور 1948)
درو دیوار (مکتبہ اردو،لاہور1948)
سناٹا (نیا ادارہ لاہور 1952)
بازارِ حیات (ادارہ فروغِ اردو، لاہور 1959)
برگِ حنا (ناشرین، لاہور 1959)
سیلاب و گرداب(مکتبہ کارواں، لاہور 1961)
گھر سے گھر تک (راول کتاب گھر،راولپنڈی1963
کپاس کا پھول (مکتبہ فنون، لاہور 1973)
نیلا پتھر (غالبپبلشرز، لاہور 1980)
کوہ پیما (اساطیر، لاہور۔ 1995)

شاعری

دھڑکنیں (قطعات، اردو اکیڈمی۔ لاہور) 1942
رِم جھم (قطعات و رباعیات، ادارہفروغِ اردو۔ لاہور 1944
جلال و جمال (شاعری۔ نیا ادارہ، لاہور 1946)
شعلۂ گُل (قومی دارا لاشاعت لاہور 1953)
دشتِ وفا (کتاب نما، لاہور 1963)
محیط(التحریر، لاہور 1976)
دوام (مطبوعات لاہور 1979)
لوح و خاک (اساطیر لاہور 1988)

تحقیق و تنقید

تہذیب و فن (پاکستان فاؤنڈیشنلاہور 1975)
ادب اور تعلیم کے رشتے (التحریر، لاہور 1974)

ترتیب و ترجمہ

انگڑائیاں (مرد افسانہ نگاروں کا انتخاب، ادارہاشاعت اردو حیدرآباد دکن 1944)
نقوشِ لطیف (خواتین افسانہ نگاروں کا انتخاب،ادارہ اشاعتِ اردو حیدرآباد دکن 1944)
پاکستان کی لوک کہانیاں (از میریلن سرچ،ترجمہ، شیخ علی اینڈ سنز لاہور)
کیسر کیاری (مضامین، ڈرامے، تراجم، مکتبہ شعرو ادب، لاہور 1944
منٹو کے خطوط بنام احمد ندیم قاسمی (ترتیب، کتاب نما،لاہور 1966
نذیر حمید احمد خاں (ترتیب، مجلس ترقی ادب، لاہور 1977) میرے ہم سفر

احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006ء کو مختصر علالت کے بعد حرکت قلب بند ہونے سے قریبا 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہفتہ 8 جولائی 2006ء کو انہیں سانس کی تکلیف کے بعد لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کروایا گیا جہاں انہیں عارضی تنفس فراہم کیا گیا اور پیر 10 جولائی 2006ء کی صبح کو انتقال ہو گیا۔

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن

یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ


Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)