Showing posts with label Faiz Ahmad Faiz. Show all posts
Showing posts with label Faiz Ahmad Faiz. Show all posts

Saturday, 15 April 2017

Ajao ma na sun li tari dhool ki tarang '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz


آ جاؤ، میں نے سن لی ترے ڈھول کی ترنگ
آ جاؤ، مست ہو گئی میرے لہو کی تال


آ جاؤ، میں نے دھول سے ماتھا اٹھا لیا
آ جاؤ، میں نے چھیل دی آنکھوں سے غم کی چھال

آ جاؤ، میں نے درد سے بازو چھڑا لیا
آ جاؤ، میں نے نوچ دیا بے کسی کا جال


پنجے میں ہتھکڑی کی کڑی بن گئی ہے گرز
گردن کا طوق توڑ کے ڈھالی ہے میں نےڈھال


جلتے ہیں ہر کچھار میں بھالوں کے مرگ نین
دشمن لہو سے رات کی کالک ہوئی ہے لال


دھرتی دھڑک رہی ہے مرے ساتھ ایفریقا
دریا تھرک رہا ہے تو بن دے رہا ہے تال

میں ایفریقا ہوں، دھار لیا میں نے تیرا روپ
میں تو ہوں ،میری چال ہے تیری ببر کی چال

dard aya ga daby paoon '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz

 درد آئے گا دبے پاؤں

اور کچھ دیر میں ، جب پھر مرے تنہا دل کو
فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے

درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ
وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے

شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا
دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا

حلقۂ زلف کہیں، گوشۂ رخسار کہیں
ہجر کا دشت کہیں، گلشنِ دیدار کہیں

لطف کی بات کہیں، پیار کا اقرار کہیں
 دل سے پھر ہوگی مری بات کہ اے دل اے دل

یہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کا
یہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا، چلا جائے گا

اس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہوگا
مشتعل ہو کے ابھی اٹھّیں گے وحشی سائے

یہ چلا جائے گا، رہ جائیں گے باقی سائے
رات بھر جن سے ترا خون خرابا ہوگا

جنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دل
دشمنِ جاں ہیں سبھی، سارے کے سارے قاتل

یہ کڑی رات بھی ، یہ سائے بھی ، تنہائی بھی
درد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دل

لاؤ سلگاؤ کوئی جوشِ غضب کا انگار
طیش کی آتشِ جرار کہاں ہے لاؤ

وہ دہکتا ہوا گلزار کہاں سے لاؤ
جس میں گرمی بھی ہے ، حرکت بھی توانائی بھی

 ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر

ان کو شعلوں‌کے رجز اپنا پتا تو دیں‌گے
خیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی ، صدا تو دیں گے
دور کتنی ہے ابھی صبح ، بتا تو دیں گے


  


Hum jo tareek e rahoon ma mary gay '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
   
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتوں‌کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں‌کی لالی لپکتی رہی

تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم
ہم چلے آئے ،لائے جہاں تک قدم

لب پہ حرفِ غزل ، دل میں قندیلِ غم
اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی

دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں‌میں مارے گئے

نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی

کس کا شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے

کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں‌مارے گئے




Mulaqat '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz


ملاقات

یہ رات اُس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے ، تجھ سے عظیم تر ہے

عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں
میں لاکھ مشعل بکف ستاروں

کے کارواں، گھِر کے کھو گئے ہیں
ہزار مہتاب، اس کے سائے

میں اپنا سب نور، رو گئے ہیں
 یہ رات اُس درد کا شجر ہے

جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
مگر اسی رات کے شجر سے

یہ چند لمحوں کے زرد پتے
گرے ہیں، اور تیرے گیسوؤں میں

الجھ کے گلنار ہو گئے ہیں
اسی کے شبنم سے خامشی کے

یہ چند قطرے، تری جبیں پر
برس کے ، ہیرے پرو گئے ہیں

بہت سیہ ہے یہ رات لیکن
اسی سیاہی میں رونما ہے

وہ نہرِ خوں جو مری صدا ہے
اسی کے سائے میں نور گر ہے
وہ موجِ زر جو تری نظر ہے

وہ غم جو اس وقت تیری باہوں
کے گلستاں میں‌سلگ رہا ہے

وہ غم، جو اس رات کا ثمر ہے
کچھ اور تپ جائے اپنی آہوں

کی آنچ میں تو یہی شرر ہے
ہر اک سیہ شاخ کی کماں سے

جگر میں‌ٹوٹے ہیں تیر جتنے
جگر سے نوچے ہیں، اور ہر اک

کا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے
 الم نصیبوں، جگر فگاروں

کی صبح، افلاک پر نہیں ہے
جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں

سحر کا روشن افق یہیں ہے
یہیں‌پہ غم کے شرار کھل کر

شفق کا گلزار بن گئے ہیں
یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے

قطار اندر قطار کرنوں
کے آتشیں ہار بن گئے ہیں

یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے

یقیں جو غم سے کریم تر ہے
سحر جو شب سے عظیم تر ہے


Mozo e Sukhan '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz

موضوعِ سخن

گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام
دھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات

اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی
اور اُن ہاتھوں سے مَس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات

ان کا آنچل ہے ، کہ رخسار ، کہ پیراہن ہے
کچھ تو ہے جس ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں

جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں
ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں

آج پھر حسنِ دلآرا کی وہی دھج ہوگی
وہی خوابیدہ سی آنکھیں، وہی کاجل کی لکیر

رنگِ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبار
صندلی ہاتھ پہ دھندلی سی حنا کی تحریر

اپنے افکار کی ، اشعار کی دنیا ہے یہی
جانِ مضموں ہے یہی، شاہدِ معنی ہے یہی

آج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے
آدم و حوّا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟

موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں
ہم پہ کیا گزرے گی، اجداد پہ کیا گزری ہے

ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق
کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے؟

یہ حسین کھیت ، پھٹا پڑتا ہے جو بن جن کا!
کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے

یہ ہر اک سمت پر اسرار کڑی دیواریں
جل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغ

یہ ہر اک گام پہ اُن خوابوں کی مقتل گاہیں
جن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغ

یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے
لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ

ہائے اس جسم کے کمبخت دلآویز خطوط
آپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے

اپنا موضوعِ سخن ان کے سوا اور نہیں
طبعِ شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں

Iqbal '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz

اقبال

آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا

سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں
ویران میکدوں کا نصیبہ سنور گیا

تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا

اب دور جا چکا ہے وہ شاہِ گدا نما
اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں

چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص
وہ اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں

پر اُس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے
اور اس کی لَے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں

اس گیت کے تمام محاسن ہیں لازوال
اس کا وفور اس کا خروش، اس کا سوز و ساز

یہ گیت مثلِ شعلۂ جوالہ تند و تیز
اس کی لپک سے بادِ فنا کا جگر گداز

جیسے چراغ وحشتِ صر صر سے بے خطر
یا شمع بزم صبح کی آمد سے بے خبر

chand roz or mari jaan '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz

چند روز اور مری جان

چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم

اور کچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رولیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم

جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس کے

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں

اک ذرا صبر، کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں

ہم کو رہنا ہے پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام گرانبار ستم

آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے
یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد

اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار
چاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد

دل کی بے سود تڑپ، جسم کی مایوس پکار
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز

raqeeb sa '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz

  
رقیب سے

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا

جس کی الفت میں بھُلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہے ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے

کارواں گزرے ہیں جن سے اُسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے

تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے

تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی ، غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس حرماں کے، دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے
اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں

ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہوئے منڈ لاتے ہوئے آتے ہیں

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

sooch '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz


سوچ

کیوں میرا دل شاد نہیں
کیوں خاموش رہا کرتا ہوں

چھوڑو میری رام کہانی
میں جیسا بھی ہوں اچھا ہوں

میرا دل غمگیں ہے تو کیا
غمگیں یہ دنیا ہے ساری

یہ دکھ تیرا ہے نہ میرا
ہم سب کی جاگیر ہے پیاری

تو گر میری بھی ہو جائے
دنیا کے غم یونہی رہیں گے

پاپ کے پھندے، ظلم کے بندھن
اپنے کہے سے کٹ نہ سکیں گے

غم ہر حالت میں مہلک ہے
اپنا ہو یا اور کسی کا

رونا دھونا، جی کو جلانا
یوں بھی ہمارا، یوں بھی ہمارا

کیوں نہ جہاں کا غم اپنا لیں
بعد میں سب تدبیریں سوچیں

بعد میں سکھ کے سپنے دیکھیں
سپنوں کی تعبیریں سوچیں

بے فکرے دھن دولت والے
یہ آخر کیوں خوش رہتے ہیں

ان کا سکھ آپس میں بانٹیں
یہ بھی آخر ہم جیسے ہیں

ہم نے مانا جنگ کڑی ہے
سر پھوڑیں گے ، خون بہے گا

خون میں غم بھی بہہ جائیں گے
ہم نہ رہیں ، غم بھی نہ رہے گا


aik rahguzar par '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz

ایک رہگزر پر

وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں
وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں

ہزار فتنے تہِ پائے ناز، خاک نشیں
ہر اک نگاہِ خمارِ شباب سے رنگیں

شباب جس سے تخیّل پہ بجلیاں برسیں
وقار، جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں

ادائے لغزشِ پا پر قیامتیں قرباں
بیاضِ رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں

سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم
طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم

وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اِترائے
زبانِ شعر کی تعریف کرتے شرم آئے

وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہارِ لالہ فروش
بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بدوش

گداز جسم ، قبا جس پہ سج کے ناز کرے
دراز قد جسے سروِ سہی نماز کرے

غرض وہ حسن جو محتاجِ وصف و نام نہیں
وہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیں

کسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھا
بصد غرور و تجمّل، ادھر سے گزرا تھا

اور اب یہ راہگزر بھی ہے دلفریب و حسیں
ہے اس کی خاک میں کیف ِ شراب و شعر مکیں

ہوا میں شوخیِ رفتار کی ادائیں ہیں
فضا میں نرمیِ گفتار کی صدائیں ہیں

غرض وہ حسن اب اس رہ کا جزوِ منظر ہے
نیازِ عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے


٭٭٭

Subha e Azadi '' Beautiful urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz

صبح آزادی

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل
کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غمِ دل

جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں باہیں، بدن بلاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن

سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام
بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور
نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام
جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

٭ 

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)