Showing posts with label Aadam Shair. Show all posts
Showing posts with label Aadam Shair. Show all posts

Sunday, 7 May 2017

Insan Numa A Famous Urdu Short Stories By Aadam Shair



































انسان نما
آدم شیر  
رفیق پڑھائی مکمل کر کے نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا لیکن کہیں بات نہ بنی۔ جہاں امید نظر آتی وہاں تنخواہ اتنی کم بتائی جاتی کہ وہ صحیح طرح کوشش بھی نہ کرتا۔ رفیق کے والد نے، جو پرچون فروش تھے، ایک سال بیٹے کی نوکری لگنے کا انتظار کیا اور دوسرے برس کے آغاز میں ہی رفیق کو اپنا چھوٹا موٹا کام کرنے کے لیے زور دینے کے ساتھ دُکان پر وقت بیتانے کے لیے مجبور کرنے لگے۔ رفیق کچھ مہینے کڑھتے ہوئے دُکان پر کام کرتا رہا اور روتے دھوتے گُر بھی سیکھ گیا۔
نئے ہوائی اڈے کو جانے والی سڑک پر نئی آبادی باقاعدہ منصوبے کے تحت بسائی گئی جس میں رہائش کے لیے تگڑی رقم کی ضرورت ہوتی اور اسی پوش نگری کے پاس غرباء نے بھی آہستہ آہستہ اپنی بستی بسالی۔ اِن دو آبادیوں کے درمیان ایک گندا نالا بہتا تھا جس میں دونوں طرف کا فضلہ گرتا تھا۔ امیر کہلانے والوں کی سوسائٹی کے ساتھ ساتھ گندا نالا کنکریٹ بچھا کر ڈھانپ دیا گیا اور اس کے ساتھ سڑک بھی بچھا دی گئی تھی جس کا فائدہ دوسری طرف رہنے والوں کو بھی ہوا۔ غریبوں کی طرف سے جو مکان بدرو کے قریب تھے، اُن میں دکانیں بنائی گئیں اور انہی میں سے ایک مکان کی چار دُکانوں میں سے ایک کاسمیٹکس کی تھی جس کے باہر رفیق نے اپنا کاؤنٹر سجا لیا اور میٹھی گولیاں ، ٹافیاں اور چاکلیٹ جیسی چیزیں فروخت کرنے لگا۔ اس کے کاؤنٹر پر پہلے عام لوگوں کے بچے آتے تھے لیکن بعد میں خود کو خواص سمجھنے والوں کے بچے بھی بِکری بڑھانے لگے۔ سڑک کے دونوں طرف سے بچوں کی آمد پر اُس نے سستی کے ساتھ مہنگی ٹافیاں بھی رکھنا شروع کر دیں اور بات صرف میٹھی گولیوں تک محدود نہ رہی۔ وہ اکبری منڈی سے کھانے کی ایسی ایسی اشیاء ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتا کہ بچے بھاگے بھاگے آتے۔
کاؤنٹر سجائے سال پورا نہیں ہوا تھا کہ رفیق کو دُکان کی ضرورت محسوس ہونے لگی اور اسے یہ کام بھی پسند آ گیا ورنہ پہلے چھ ماہ وہ روز اخبار میں نوکری کے اشتہار ڈھونڈتا اور درخواستیں بھیجتا رہا تھا۔ جب اُسے نئی سڑک کے قریب دکان ڈھونڈتے دو مہینے ہونے کو آئے تب کاسمیٹکس سٹور کے ساتھ والی دُکان خالی ہو گئی جو رفیق نے والد کی مالی مدد سے کرایہ پر لے لی۔
رفیق نے دُکان میں بھی پہلے بچوں کی چیزوں کو ترجیح دی اور اس کے بعد اپنی جیب کے مطابق گھریلو استعمال کی اشیاء تھوڑی تھوڑی لانا شروع کر دیں جنہیں وہ تول کر چھوٹے چھوٹے شاپروں میں بھر کے رکھتاجس سے دُکان اُس کی ترتیب میں آتی زندگی سے زیادہ سجی نظر آنے لگی اور سڑک کے اطراف میں بسے لوگ جو بچوں کو ٹافیاں دِلانے آتے تھے، اشیائے خوردنی بھی خریدنے لگے۔
رفیق کو دُکان ڈالے پانچ سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ کاسمیٹکس سٹور سمیت تین دوسری دُکانیں بھی اُس کے استعمال میں آ چکی تھیں اور اُس کی دُکان اب جنرل سٹور بن چکی تھی جہاں سے نئی سڑک کی ہری بھری جانب بسنے والے لوگ تیس تیس ہزار کا راشن لے جاتے تھے اور پچھلی طرف سے تیس روپے کا سودا لینے والے بھی آتے تھے۔ پہلے وہ خود نوکری ڈھونڈتا تھا، اب اُس کے پاس چھ ملازم تھے۔ ایک سال ہی اور گزرا تھا کہ رفیق نے وہ مکان بھی خرید لیا تھا جس میں اُس کا سٹور تھا۔ مکان کا پچھلا حصہ رفیق نے گودام بنا لیا۔ رفیق کے والد جب پہلی بار مکان دیکھنے آئے تو بولے۔
’’اوئے کھوتے، تیرا اک بھرا وکیل اے تے دوجا حساب کتاب کر دا اے پر اصلی ترقی تے توں کیتی اے۔ ہون میں تیرا وی ویاہ کر دینا اے ایسے مہینے۔ ‘‘ رفیق نے والد کی بات پر خوشی کا اظہار کیے بغیر اپنے میں اطمینان کی ایک لہر دوڑتی محسوس کی، کیونکہ زندگی میں پہلی بار اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے والد کو اپنے بیٹے پر فخر ہے۔ اُس کے والد نے محض خوشی میں شادی کا عندیہ نہیں دیا تھا بلکہ اپنا قول پورا بھی کر دیا۔ بیاہ کے بعد چند مہینے تو خیر خیریت سے گزرے لیکن گھر، جو اصل میں عورتوں کا ہوتا ہے، مردوں کے لیے تو مسافر خانہ ہوتا ہے، کی پرانی اور نئی عورتوں میں چپقلش اتنی بڑھ گئی کہ والد نے وکیل اور اس سے چھوٹے رفیق کو دو مہینے میں اپنا اپنا بندوبست کرنے کا کہہ دیا، صرف چھوٹے حسابی کتابی بیٹے کو ساتھ رکھنے کا فیصلہ سنایا کیونکہ وہ ابھی کنوارا تھا۔
رفیق نے مکان کی تلاش نئی سڑک کی اُس جانب شروع نہ کی جس طرف اس کا سٹور تھا بلکہ سامنے والی آبادی میں ڈھونڈا۔ اس مکان نما کوٹھی کی خریداری کے لیے رفیق کو بیوی کا زیور بھی بیچنا پڑا اور وراثت سے زیادہ حصہ ملنے کے باوجود قرض لینا پڑا جو اُتارنے میں اُسے سال تو لگا لیکن اُس کی بیوی کا گھر بن گیا جو دراصل ایک مختصر سی کوٹھی تھی۔
اِس مکان نما کوٹھی میں پہلی بار قدم رکھتے ہی جس چیز نے اُس کے اَبا کو متوجہ کیا، وہ تھی بیٹھک۔ ۔ ۔ اسی کی وجہ سے وہ کوٹھی نہیں تھی بلکہ مکان نما کوٹھی تھی اور اسی کے سبب قیمت کم تھی لیکن رفیق کے والد کو بیٹھک پسند بہت آئی اور اُس نے پہلی بات ہی قہقہہ لگاتے ہوئے اِسی کے متعلق کی۔
’’اوئے ! تُوپیو دے گھر وی بیٹھ کچ رہندا سی۔ ایتھے وی بیٹھک ملے گی۔ ‘‘
اگرچہ مکان نما کوٹھی کی بیٹھک آبائی گھر جیسی نہ تھی جہاں بیٹھنے سے گلی میں ہوتی چہل پہل اور پڑوس میں ہونے والی تو تکار کی خبر رہتی تھی، یہاں تو بغل میں رہنے والوں کا کچھ پتا نہ چلتا، لیکن وہ دوپہر کو سٹور سے واپسی پر بیٹھک میں ہی ڈیرہ ڈالتا۔ ایک روز وہ لیٹا ہی تھا کہ نیند کے ہلکورے لینے لگا گو وہ اپنے تئیں بیدار تھا لیکن سویا ہوا تھا اور معلوم نہیں کتنی دیر خواب میں رہتا کہ کسی کی کانوں کے پردے پھاڑ کر سینے میں گھس جانے والی آواز آئی۔
’’نی باجی، نی باجی، روٹی کھانی اے۔ اللہ دا واسطہ ای۔ نی باجی، روٹی کھانی اے۔ ‘‘
رفیق نے کروٹ بدل کر نیند میں رہنے کی کوشش کی مگر وہ آواز مسلسل آ رہی تھی۔
’’نی باجی، نی باجی، روٹی کھانی اے۔ اللہ دا واسطہ ای۔ نی باجی، روٹی کھانی اے۔ ‘‘
وہ آنکھیں ملتے ملتے اُٹھ بیٹھا اور بیوی کو آواز دی، ’’کچھ دو اور چلتا کرو۔ ‘‘ بیوی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے جواب دیا، ’’کتنوں کو دوں ؟ سارا دن لائن لگی رہتی ہے۔ ہر بندہ ہی بھکاری بن گیا ہے۔ میں کیا کروں؟‘‘
رفیق نے بیوی کی طرف یوں دیکھا جیسے کہہ رہا ہو ’اچھا جیسے آپ کی مرضی‘ اور دوبارہ لیٹ گیا۔ اُس کی آنکھیں چھت میں لٹکتے پنکھے کے پروں کو گھور رہی تھیں لیکن کان باہر کی طرف متوجہ تھے۔ پہلے اسے آواز ہلکی ہوتی محسوس ہوئی اور پھر بالکل بند ہو گئی۔ اُس نے سکون کا سانس لیا کہ چلو کچھ دیے بغیر ہی گزارا ہو گیا۔ وہ بیوی کو کھانا لگانے کا کہہ ٹی وی دیکھنے لگا جس پر خبریں پڑھی جا رہی تھیں لیکن نیوز کاسٹر خبر سنا کم اور گلا پھاڑ پھاڑ کر اعلان زیادہ کر رہا تھا جیسے سیاسی جلسے میں تقریر کر رہا ہو۔ وہ خبروں والے چینل مسلسل بدلتا رہا مگر سب اسے ایک جیسے لگ رہے تھے۔ کچھ نہ بھایا تو اُس نے ٹی وی کی آواز بند کر دی اور تبھی وہ آواز کانوں سے دوبارہ ٹکرانے لگی۔
’’نی باجی، نی باجی، روٹی کھانی اے۔ اللہ دا واسطہ ای۔ نی باجی، روٹی کھانی اے۔ ‘‘
وہ آواز کے گھٹنے بڑھنے پر غور کرنے لگا۔ آواز پہلے ہلکی تھی پھر تیز ہونے لگی۔ ۔ ۔ لمحہ بہ لمحہ۔ ۔ ۔ اور اس قدر بلند ہو گئی کہ بیٹھک کی دیوار کے دوسری طرف کوئی کھڑا پکار رہا ہو۔ اسی دوران میں رفیق کی بیوی ٹرالی پر کھانا سجائے آ گئی۔ اُس کے سامنے کھانا پڑا تھا اور کوئی آواز لگا رہا تھا۔
’’نی باجی، نی باجی، روٹی کھانی اے۔ ۔ ۔ ‘‘
وہ نہ چاہتے ہوئے اٹھا، بیوی نے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ بیٹھک سے نکلا، بڑے گیٹ میں نصب چھوٹا دروازہ کھول دیا اور صدا دینے والا سامنے آن کھڑا ہوا جو پہلے بیٹھک کی طرف ہی کھڑا تھا۔ اُس کے چہرے سے میک اپ کا لیپ یوں اکھڑ رہا تھا جیسے رفیق کے اَبا کے آبائی گھر میں غسل خانے کی دیوار سے ڈسٹمپر کی پپڑیاں بن کر جھڑتی رہتی تھیں جو بہتیرے ٹوٹکے اپنانے کے باوجود سیلن نمی کی وجہ سے ٹھہر نہ پاتی تھیں ۔ وہ گھر جو چھوٹ گیا تھا، جس سے دُکھی یادیں وابستہ تھیں ، جس سے بچپن کا سکھ بھی جڑا تھا، چھوڑنا پڑا مگر وہ اب تک اس کے گھیرے میں تھے جس کے اندر ایک نوری ہیولا سکڑتا نظر آتا تھا۔
اُس نے غسل خانے کی یاد دِلانے والے سترہ اٹھارہ سال کے شبیر احمد کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ سر پر سفید دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا اور مردانہ شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ وہ جگہ جگہ سے داغی قمیص کا ایک کونا باہنے ہاتھ سے مسلے جا رہا تھا اور رفیق کو یوں دیکھ رہا تھا کہ خود ہی کچھ دے دے لیکن رفیق اُسے جانچنے میں مصروف تھا اور چند لمحوں میں سب جان لینا چاہتا تھا۔
رفیق کے سٹور پر روز درجن بھر مانگنے والے آتے تھے اور ہر ایک کے لیے رفیق نے پانچ روپے کے سکے رکھے تھے۔ ایک ملازم کی ڈیوٹی تھی کہ وہ ہر آنے والے کو سٹور کے باہر کھڑے کھڑے بھگتا دے۔ اُس نے کبھی کسی کو پانچ روپے سے زیادہ نہیں دیے تھے سوائے کوئی بوڑھا یا بوڑھی آ جائے۔ اُس کی بیوی بھی گھر آنے والوں کے ساتھ یونہی پیش آتی تھی، کبھی کسی کو پانچ روپے سے زیادہ نہیں دیتی تھی مگر جاننے والوں پر اچھا خاصا خرچ کر لیتی تھی جیسے رفیق بھی ایک دو گھروں میں ہر مہینے راشن بھجواتا تھا لیکن مانگنے والوں کو علیحدہ خانے میں رکھتا تھا۔ ۔ ۔ دل میں اُن کے لیے غصہ پاتا اور نہ چاہتے ہوئے سکے بھی دیتا تھا۔ میاں بیوی کو مشکل اس وقت پیش آتی تھی جب کوئی پانچ روپے لینے سے انکار کر دیتا تھا لیکن آہستہ آہستہ وہ اِس کے بھی عادی ہو گئے اور انہیں خود بخود پتا چل جاتا کہ انکاری کو زیادہ دینے چاہئے یا نہیں گو ایسا موقع کبھی کبھار ہی آتا جیسے اِس وقت رفیق طے نہیں کر پا رہا تھا کہ پانچ روپے کا سکہ دے یا زیادہ نکالے ؟ اور زیادہ دے تو کتنے ؟ دس۔ ۔ ۔ بیس۔ ۔ ۔ پچاس؟ اسے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر راندۂ درگاہ کے گلے سے وہی آواز گھسٹتے ہوئے نکلی۔
’’صاب جی، وے صاب جی، روٹی کھوا دے۔ ‘‘
رفیق نے سوچنا ترک کیا، مُٹھی میں دبا پانچ کا سکہ بغل کی جیب میں ڈالا، اُسے رکنے کا کہہ کر اندر گیا اور واپس آ کر پچاس کا نوٹ پکڑا دیا جسے مردودِ حرم نے پکڑتے ہوئے دعائیں دینے کی بجائے التجا کی۔
’’صاب جی، روٹی نئیں مل سکدی؟‘‘
رفیق کو غصہ آ گیا، ’’پچاس روپے دیے تو ہیں ۔ اور کیا دوں ؟‘‘
وہ ڈرتے ڈرتے بولا، ’’صاب جی! ایس علاقےچ تے اینے دی دال دی پلیٹ نئیں ملدی۔ تسی روٹی دے دیو۔ ‘‘ اُس نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ’’اے لو۔ پیسے رکھ لو۔ ‘‘
رفیق اُس کی بات سن کر لاجواب ہو کر بیٹھک میں گیا اور سرہانے کے نیچے پڑے نوٹوں میں سے پانچ سو کا نوٹ نکال لایا جو اُس نے مردودِ حرم کی طرف مسکراتے ہوئے بڑھا دیا۔ شبیر نے نوٹ کو دیکھا اور پہلے سے زیادہ ڈرتے ہوئے کہا، ’’صاب جی! روٹی آکھی سی۔ تسی۔ ۔ ۔ ‘‘
’’روٹی کے لیے ہی دے رہا ہوں ۔ ‘‘
’’اچھا۔ صرف روٹی لئی؟‘‘
’’ہاں ۔ ہاں ۔ صرف روٹی لئی۔ کیوں ؟
’’ کدی کسے نے صرف روٹی لئی اینے پیسے دتے نئیں ۔ ‘‘ شبیر نے نوٹ پکڑتے ہوئے کہا تو رفیق کا ہاتھ لرز گیا۔ اُس نے منہ سے چند الفاظ نکالنے کی کوشش کی اور ناکامی پر ہونٹ بھینچ لیے۔ ایک پل میں محسوس ہوا کہ کسی نے زمین پر پٹخ دیا ہے اور دوسرے لمحے شبیر پر ترس آ رہا تھا کہ زندگی نے اسے کیسے کیسے گھسیٹا ہے۔ اس نے دوبارہ کچھ کہنے کی کوشش کی مگر کہہ نہ سکا اور اپنی قمیص کا داہنا کونہ مسلنے لگا جیسے اس کے سامنے چپ چاپ کھڑا شبیر باہنے کنارے کو انگلیوں سے رگڑ رہا تھا۔ یہ عمل نجانے کتنی دیر خاموشی سے جاری رہتا کہ پیچھے سے رفیق کی بیوی نے تیسری بار کھانے کے لیے پکارا تو اُس نے گردن گھما کر ٹھہرنے کے لیے کہا اور دوبارہ شبیر کی طرف دیکھنے لگا۔ اُس نے چند ثانیے بعد ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا، اندر جا کر بیوی سے بیٹھک خالی کرنے کے لیے کہا، واپس گیٹ پر آیا اور اُسے بازو سے پکڑ کر ساتھ لے گیا۔
اگلے دن رفیق کے سٹور پر ملازموں کی تعداد بڑھ چکی تھی اور شبیر لپک لپک کر چیزیں پکڑا رہا تھا۔ اُس کے لمبے لمبے بال کٹ چکے تھے۔ سر سے دوپٹہ غائب تھا۔ شلوار قمیص نئی تو نہ تھی البتہ صاف تھی۔ اُس کے چہرے پر نمی سے اکھڑنے والا پلستر بھی نہیں تھا مگر خراشوں کے نشانات باقی تھے۔ وہ پہچانا نہیں جا رہا تھا لیکن شکاریوں کے لیے شناخت مشکل نہ تھی جو بھرے بازار میں جان لیتے ہیں کہ کس عورت سے پیسے پوچھنے ہیں اور کس سے کترا کے نکل جانا بہتر ہے یا کون سی شریف زادی زیادہ اُچھل رہی ہے۔ وہ بھی سب کے سامنے ٹھیک تھا لیکن ایک ساتھی اُسے۔ ۔ ۔ اور باقی رفیق کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔
وہ ساتھی جو شبیر کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھ رہا تھا، بعد میں اُس کا دوست بن گیا گو اس نے آغاز میں گھیرنے کی کوشش کی لیکن جلد اسے معلوم ہو گیا کہ وہ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس نئے دوست کو ہر ماہ کے آخر پر پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی جو شبیر تھوڑی بہت پوری کر دیتا جیسے وہ گودام، جو اس کا گھر ٹھہرا تھا، میں چوہے پکڑنے کے لیے رکھی گئی بلی کی دودھ کا کٹورا بھر کر خوراک پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ پہلے پہلے جب بلی کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا تو وہ کھسک جاتی لیکن چند دن میں اتنی مانوس ہو ئی کہ اس کے پاس بیٹھنے لگی۔ جب بلیجیسا نک چڑھا جانور سدھ سکتا ہے تو سٹور پر کام کرنے والے ساتھی کیوں نہ رویہ بدلتے۔ ۔ ۔
اُسے سٹور پر کام کرتے چند ماہ گزرے تھے کہ رفیق کو اُس کے دس جماعتیں پاس ہونے کا علم ہو گیا اور رفیق نے شبیر کی ڈیوٹی مختلف چیزوں پر نظر رکھنے پر لگا دی۔ ایک رات سٹور بند کرتے وقت اُس نے مزید پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور اوقات کار میں کچھ تبدیلی کی درخواست کی تو رفیق نے اُسے سوچنے کا کہہ کر ٹرخا دیا لیکن گھر آ کر جب وہ سونے کے لیے لیٹا تو اُسے اپنا وہ استاد یاد آ گیا جو اُسے کبھی مفت ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا۔ ان دنوں رفیق کا خاندان قصور سے نیا نیا لاہور آیا تھا اور مالی حالت بڑی پتلی تھی۔ ۔ ۔ اِس قدر کہ اُسے دودھ دہی کی دُکان پر کام کرنا پڑتا جہاں استاد اسے بطور گاہک ملا تھا اور وہ یہ جان کر حیران ہوا تھا کہ وہ اکیلا نہیں جو فیض پا رہا ہے۔
ہر رات کے بعد دن آتا ہے جیسے رفیق کی زندگی میں آیا تھا، جیسے شبیر کے لیے پو پھٹ رہی تھی۔ وہ کالج جانے لگا تھا جہاں اُسے بُری طرح ستایا گیا لیکن وہ ایک اصلی مرد کی طرح ڈٹا رہا گو اسے مردانگی سے عاری سمجھا جاتا تھا۔ وہ کالج سے سٹور آ جاتا اور رات کو گودام میں اِس آس پر بے سدھ سو جاتا کہ ایک دن وہ سویراہو گا جو تاریکی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا اور بلی اُسے اپنے پنجوں سے جگا دیتی تاکہ وہ وقت پر اُسے کچھ کھلا سکے اور خود کالج جا سکے۔ یہی دور تھا جب اسے رفیق کا کارِ خاص ٹھہرا دیا گیا۔ رفیق اکثر اُس کی باتیں اپنی بیوی سے کرتا تھا جو پہلے حیران ہوتی اور ٹوہ لینے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن جب اُسے یقین ہو گیا کہ رفیق ہم جنس پرست نہیں تو وہ بھی شبیر کی مدد کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے لگی۔
شبیر کی قسمت اچھی تھی یا وہ بڑا ڈھیٹ تھا کہ ہار نہیں مانتا تھا۔ اِتنی ڈھٹائی کا کچھ نتیجہ تو نکلتا ہے۔ ۔ ۔ کبھی اچھا۔ ۔ ۔ کبھی برا۔ ۔ ۔ ایک دن وہ سٹور پر آیا تو اُس کے ہاتھ میں مٹھائی کے دو ڈبے تھے۔ ایک بڑا اور دوسرا چھوٹا۔ ۔ ۔ بڑا اُس نے رفیق کے آگے رکھا جسے وجہ پوچھتے ہوئے رفیق نے کھولا تو شبیر نے خوشی سے آنکھیں مٹکاتے ہوئے بتایا کہ وہ گریجوایٹ ہو گیا ہے۔ رفیق نے باقی ملازموں کو بلا کر شبیر کی کامیابی کا اعلان کیا اور مٹھائی بانٹی۔ چند منٹ پر مشتمل یہ پارٹی ختم ہوئی تو شبیر نے چھوٹا ڈبا رفیق کو گھر والوں کے لیے پکڑا دیا جس پر اُس نے حیرانی کے ساتھ دیکھا، کچھ سوچ کر شلوار کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ہزار ہزار کے چند نوٹ نکال کر شبیر کے ہاتھ میں تھما دیے جو اُس نے ناں ناں کرتے ہوئے لے لیے۔
رفیق کے سٹور میں دو سال بعد پھر مٹھائی بٹ رہی تھی۔ اب شبیر پوسٹ گریجوایٹ ہو گیا تھا۔ اِس کے بعد بھی ایک بار مٹھائی تقسیم ہوئی تھی جب اُس نے بتایا کہ وہ ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہو گیا ہے۔ اُس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
’’سر جی! کبھی کاغذات کی تصدیق کروانی ہو تو میں خادم ہوں ۔ ‘‘
رفیق نے ملازموں کی موجودگی میں اپنی سیٹ سے اُٹھ کر اُسے گلے لگایا تھا اور شبیر کی آنکھوں سے نکلے کسیلے پانی نے رفیق کے کالر پر دو آنکھیں بنا دی تھیں جو شکریہ ادا کر رہی تھیں ۔ رفیق کو خوشی تھی کہ اُس نے برسوں پہلے صحیح فیصلہ کیا تھا اور اس جشن منانے کے لیے ملازموں کو کوٹھی میں رات کے کھانے کی دعوت دی جس کے اختتام پر شبیر نے رفیق کو بتایا کہ اب وہ جلد کہیں کرائے پر کمرہ حاصل کر لے گا لیکن رفیق نے اسے کہا، ’’ وہ جب تک چاہے، گودام میں رہ سکتا ہے۔ ‘‘
رات گئے جب شبیر قبرستان کی طرح خاموش بستی کی پُر رونق کوٹھی سے نکلنے لگا تو بے اختیار رفیق کے گلے لگ گیا اور اب کی بار شکر گزار آنکھوں کے ساتھ ساتھ مسکراتے ہونٹ بھی بنا دیے۔
اُس نے چند ہفتوں میں رہنے کے لیے ایک مکان ڈھونڈ نکالا جو سٹور کی پچھلی طرف بسی آبادی میں واقع تھا لیکن سامنے والی کالونی میں رہنے والے مالک مکان وہ گھر کرایہ پر دینے میں تامل تھا مگر رفیق کی ضمانت پر مان گیا۔
وہ اتوار کے روز سٹور پر چکر لگاتا اور ضرورت کی چیزیں خریدنے کے ساتھ کچھ دیر بیٹھ کر رفیق سے گپیں بھی ہانکتا تھا۔ رفیق نے اسے کئی بار کہا کہ دفتر سے واپسی پر اس کے پاس سٹور پر آ جایا کرے لیکن وہ اتوار کے اتوار ہی آتا۔ ایک دن رفیق کی نگرانی میں ملازم سٹور بند کر رہے تھے کہ وہ نمودار ہو گیا۔ رفیق نے اُسے حیرانی سے دیکھا کہ آج اتوار نہیں تو یہ یہاں کیسے آ گیا؟
’’خیر تو ہے ؟‘‘
شبیر نے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا اور رفیق کو ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ جب سٹور بند ہو گیا اور ملازم اپنی اپنی راہ ہو لیے تو رفیق نے بھی سڑک پار کرنے کے لیے قدم اٹھایا لیکن اُس نے ہاتھ پکڑ کر پچھلی جانب جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو رفیق اس کے ساتھ چپ چاپ چل پڑا۔
’’سر جی! آپ کو یاد ہے کہ جب میں آپ سے پہلی بار ملا تھا؟‘‘
’’ہاں ۔ اچھی طرح یاد ہے۔ ‘‘
’’اُس دن مَیں پہلی مرتبہ اس علاقے میں آیا تھا۔ ‘‘ شبیر نے اپنا گال کھجاتے ہوئے رفیق کو غور سے دیکھا اور دوبارہ گویا ہوا۔ ’’ مجھے گرو نے بڑا برا بھلا کہا تھا۔ گروپ کے دوسرے لوگ بھی ناراض تھے۔ مَیں اُن پر بوجھ بن گیا تھا۔ اس لیے مَیں اِدھر آ گیا کہ چلو مانگ کر کچھ کھا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ وہ کام ضرور کرنا ہے جو کرنے کو من نہیں کرتا لیکن مجبوری میں کرتا رہا۔ ‘‘ شبیر سانس لینے کو رکا تو رفیق نے جھٹ سے پوچھا۔
’’یہ گرو کون تھا؟‘‘
’’وہ بس گرو تھا۔ یوں کہہ لیں کہ مائی باپ تھا۔ میٹرک اُسی نے کرایا تھا۔ ۔ ۔ پرائیویٹ۔ ۔ ۔ جس دِن نتیجہ نکلا تھا، اُسی روز میری ایسی تیسی کر دی اور میں نے گروپ چھوڑ دیا۔ اچھا بندہ تھا، بس کبھی کبھی پھرکی گھوم جاتی تھی اُس کی۔ ۔ ۔ ‘‘
رفیق نے راکھ کریدنے کی کوشش کی، ’’تم نے کبھی اپنوں کے متعلق بتایا نہیں ۔ ماں باپ، بہن بھائی؟‘‘
’’سرجی! آپ نے کبھی صحیح طرح پوچھا ہی نہیں تو بتاتا کیا؟‘‘
وُہ چلتے چلتے رُک گیا اور اندھیرے میں آسمان کو تکنے لگا جہاں گہرے بادلوں نے چاند کو چھپا دیا تھا اور بہت دُور اِک تارا اکیلا نظر آ رہا تھا۔ خبر نہیں وہ کب تک یونہی دوسرا تارا تلاشتا کہ رفیق نے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اُس نے کہا، ’’ ہوں ۔ ۔ ۔ سرجی! آج سن لیں ۔ میں چھوٹا سا تھا جب گلی میں کھیلتے ہوئے اغوا ہو گیا۔ گرو کہتا تھا میں اغوا نہ بھی ہوتا تو میرے گھر والے ہی مجھے کسی کو دے دیتے۔ بھلا وہ کیسے کسی کو دے دیتے۔ گرو کو مجھ میں پہلے سے کسی کمی کا یقین تھا مگر مجھے لگتا ہے کہ ہماری گلی میں بے سرا گا کر۔ ۔ ۔ بے ڈھنگا ناچ کر پیسے اکٹھے کرنے والے گرو نے مجھ میں کوئی خرابی ڈالی تھی۔ شبیر سے شبانہ کیا تھا۔ ‘‘ اُس نے گہری سانس لی اور دوبارہ بولا۔
’’کئی سال بعد جب گھر لوٹا تو مَیں ، مَیں نہ رہا تھا، انسان نما بن چکا تھا اور موت کے گولے کے گرد ناچ ناچ کر پیسے کمانا میرا پیشہ ہو چکا تھا۔ میرے ابا۔ ۔ ۔ ابا مر چکے تھے اور۔ ۔ ۔ ابا سے پہلے ماں کب کی دم توڑ چکی تھی۔ گھر میں ایک عورت تھی جسے میری سوتیلی ماں بتایا گیا۔ دوسری عورت میری سگی بہن تھی۔ وُہ۔ ۔ ۔ ہاں وہ میری بہن تھی۔ بڑا روئی تھی گلے لگ کر۔ ۔ ۔ میں بھی رویا تھا جی۔ ۔ ۔ ہائے۔ ۔ ۔ کتنا رویا تھا میں ۔ ۔ ۔ ‘‘ شبیر پر خاموشی چند لمحوں کے لیے طاری رہی اور وہ خالی ہاتھوں کی ہتھیلیاں باہم رگڑ کر حرارت سے قوت کشید کرتے ہوئے بولا۔
’’اُس کی دو مہینے بعد شادی ہو گئی۔ یہ دو مہینے بھی میں گھر میں نہیں رہا تھا۔ سوتیلی ماں نے رہنے ہی نہیں دیا تھا لیکن ان دو مہینوں میں مَیں نے زیادہ سے زیادہ پیسے بنانے کی کوشش کی۔ گرو سے بھی ترلے کر کے کافی رقم لی اور جہیز بنا کر دیا۔ جب میں نے روپوں کی تھیلی اسے پکڑائی تھی، وہ بڑا روئی تھی۔ ۔ ۔ ‘‘
’’توجس دن گرو نے تمہیں نکال دیا تھا۔ تم اُس کے پاس چلے جاتے۔ ‘‘ رفیق نے بات کاٹی تو وہ بولا، ’’نکالا نہیں تھا، سر جی۔ میں نے اُسے چھوڑا تھا۔ بہن کے پاس کیسے جاتا؟ شادی کے بعد تین بار گیا تھا۔ ہر دفعہ کچھ نہ کچھ لے کر گیا۔ تیسری بار سونے کا ہار لے کر گیا تو اس نے منع کر دیا۔ کہتی تھی، نہ آیا کرو، میری بے عزتی ہوتی ہے۔ ‘‘
رفیق سوچ میں ڈوب گیا لیکن شبیر نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’وہ دن اور آج کا دن۔ ۔ ۔ کبھی ماں جائی کا چہرہ تک نہیں دیکھا۔ سکھی ہو گی۔ وہ کھاتے پیتے لوگ تھے۔ ‘‘
’’تو اپنے ابا کے گھر چلے جاتے۔ تم وارث تھے۔ ‘‘
’’وہاں اور بھی کئی وارث تھے۔ میری دال کیا گلتی؟‘‘
اُس نے غم اور غصے کا مرکب قہقہہ لگایا۔ ۔ ۔ چند خاموش ساعتوں کے بعد ایک تان اُٹھائی اور سب سے بے پروا ہو کر سُروں میں الفاظ ڈھالنے لگا۔
نی مائے ! سانوں کھیڈن دے، مِیرا وَت کھیڈن کون آسی
ایہہ جگ جھوٹا، دنیا فانی، ایویں گئی میری اَہل جوانی
غفلت نال میری عمر وِہائی، جو لکھیا سو اِسی ہوسِی
شاہ حسینؔ فقیر رَبانا، سو ہوسی جو رَبّ دا بھانا
اوڑک اِیتھوں اوتھے جانا، اُس ویلے نُوں پچھوتاسی
نی مائے ! سانوں کھیڈن دے، مِیرا وَت کھیڈن کون آسی
رفیق جذب کے عالم میں سنتا رہا اور معنی جانے بغیر سر دھنتا رہا اور جب آہ و زاری تھم گئی تو اُسے معلوم ہوا کہ اُس نے کچھ نہیں سنا اور اُس کا ذہن دوبارہ بے عزتی کی طرف مرکوز ہو گیا۔ شبیر پر خاموشی کے خول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ صورتِ احوال کی پیچیدگی کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا جب تک ہم راہی نے اپنے لب نہ کھول لیے۔
’’سرجی۔ مزے کی بات بتاؤں ۔ جب میں ناچ کر گزارا کرتا تھا تب بے عزت تھا۔ اب میں سرکاری افسر لیکن بے عزت ہی ہوں ۔ ‘‘
’’نہیں ۔ یار۔ ایسے نہ کہو۔ سب تمہیں سَر سَر کہتے ہیں ۔ ‘‘
’’نہیں ۔ ایسی بات نہیں ۔ مَیں اب اچھا لباس پہنتا ہوں لیکن لوگ مجھ سے اُسی طرح کَنی کتراتے ہیں جس طرح میری ماں جائی۔ ۔ ۔ لوگ میرے پاس آنے سے ڈرتے ہیں ، اور جو آتے ہیں ، اُن کے اِرادے نیک نہیں ہوتے۔ ‘‘
’’میں سمجھا نہیں ۔ اِرادے تو گنتی کے لوگوں کے نیک ہوتے ہیں تو اس میں پریشانی کیا ہے ؟‘‘ رفیق اُس گلی کی نکڑ پر رُک گیا جو شبیر کے گھر کو جاتی تھی اور بڑی سنجیدگی سے ہاتھ ہلا کر جواب طلب کیا۔
’’سر جی! میں اُن ارادوں کی بات نہیں کر رہا جن کی آپ کر رہے ہیں ۔ میں سمجھاتا ہوں ۔ جب مَیں ناچتا تھا تو مجھے ’ایسا ویسا‘ سمجھا جاتا تھا اور اب تک ’ویسا‘ ہی مانا جاتا ہوں ۔ دفتر میں ساتھی افسروں کا برتاؤ گزارے لائق ہونے کے باوجود ٹھیک نہیں ہوتا۔ مسئلے حل کرانے والوں کا رویہ بھی جو ہوتا ہے سوہوتا ہے مگر وہ کام نکلوا کر واپس جاتے ہوئے کھسر پھسر کرتے چوری چوری مسکراتے ہیں اور آج کی بات سنیں ۔ دفتر سے نکلا تو سوچا، پیدل گھر جاتا ہوں ۔ ذرا ورزش ہو جائے گی۔ یہاں سے تھوڑی دور تھا کہ ایک کار میرے پاس آ کر رُکی اور اِس میں سے ایک بُرا سا منہ باہر نکلا جو پوچھ رہا تھا۔ ۔ ۔ کی پروگرام اے ؟۔ ۔ ۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ ‘‘
’’تم پریشان نہ ہوا کرو۔ کوئی بات نہیں ۔ آہستہ آہستہ سب کو پتا چل جائے گا۔ ‘‘ رفیق نے کمر تھپکتے ہوئے کہا تو وہ بولا، ’’آپ سے کبھی کسی نے پروگرام پوچھا ہے ؟‘‘
’’نہیں ۔ ‘‘ رفیق نے ترنت جواب دیا تو شبیر نے ہنسی میں کَرب چھپاتے ہوئے کہا، ’’پھر پریشانی والی بات تو ہے نا، سر جی۔ ‘‘
رفیق نے اب کی بار کوئی سوال کیا نہ جواب دیا۔ اُس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ بس سوچ رہا تھا اور یونہی خیالوں میں کھویا اُس کے گھر پہنچ گیا۔ جب اُس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو رفیق ہکا بکا رہ گیا۔ وہاں ایک اور مُنا انسان نما کرسی پر بیٹھا تھا جس نے دروازہ کھلنے پر ہاتھ میں پکڑی کتاب ایک طرف رکھ دی اور سلام لے کر چمکتی آنکھوں سے رفیق کو دیکھنے لگا۔ رفیق نے کچھ دیر ننھے کو اُسی طرح اوپر سے نیچے تک دیکھا جیسے شبیر کو برسوں پہلے گیٹ میں کھڑے کھڑے جانچنے کی کوشش کر چکا تھا۔ پھر اس نے چھوٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بڑے کے گلے لگ گیا۔ اُس کی آنکھوں سے چند قطرے نکلے جسے شبیر نے خوشی کے آنسو سمجھا مگر رفیق کو اپنا وہ بھائی یاد آ رہا تھا جسے برسوں پہلے کسی نے اِنسان نُما جان کر استعمال کیا تھا اور وہ انسان سمجھے جانے کا انتظار کرتے کرتے کبھی نہ جاگنے کے لیے سو گیا تھا۔


٭٭٭

Girqab A Famous Urdu Short Stories By Aadam Shair










غرقاب
آدم شیر  
مَیں نے آج تک سمندر نہیں دیکھا۔ ٹی وی لاؤنج کی دیوار پر آویزاں ایل سی ڈی میں لہراتی موجیں دیکھتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ اِن کے ساتھ ساتھ جاؤں دور تک… لیکن ’کوئی ماضی کے جھروکوں سے صدا دیتا ہے۔
میں ایک خواب دیکھتا ہوں ۔ عمر پچاس برس سے اوپر ہو تو ایک بڑی سی کشتی خرید لوں اور اِس میں ڈھیروں کتابیں اور کھانے پینے کی اشیاء بھر کر بحری سفر پر نکل جاؤں ۔ سمندر میں ہی رہنا شروع کر دوں ۔ بس پڑھوں ، لکھوں اور سوتا رہا ہوں ۔ ہر طرف پھیلے پانی کو دیکھوں جو لوگوں کے لیے رزق چھپائے رکھتا ہے اور کشٹ کرنے پر اُگل دیتا ہے۔ موت کا باعث بنتا ہے مگر اس میں زندگی بھی سانس لیتی ہے۔ پانی۔ ۔ ۔ ہر طرف پانی جس میں بڑی مچھلیاں زندہ رہنے کے لیے چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی ہیں اور زندگی یوں ہی موجوں کی طرح اوپر نیچے، آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے، میرے خواب کی طرح۔ ۔ ۔ کسی کو یہ خواب جیسا بھی لگے، مجھے پروا نہیں کیونکہ یہ میرا خواب ہے جو میں دیکھتا رہوں گا کہ میں سمندر میں ہوں ۔ ایک کشتی میں ہوں ۔ خشکی سے دور۔ ۔ ۔ بہت دور۔ ۔ ۔ موٹی موٹی کتابوں کے درمیان دبلا پتلا سا میں ۔ ۔ ۔ حروف کے سمندر میں غوطہ زن۔ ۔ ۔ فطرت کی گود میں زندگی گزارتا ہوا۔
جی چاہتا ہے کہ ساحل پر ایک گھر بنا لوں ۔ لوگ ریت سے گھروندے بناتے ہیں جو ٹھہر نہیں پاتے۔ میں بھی ایک بناؤں لیکن پکا والا۔ ۔ ۔ اتنا مضبوط کہ طوفانی موجیں بھی نہ ڈھا سکیں ۔ گھر کے باہر آرام کرسی رکھ کرتا حدِ نظر پھیلے پانی کو دیکھوں جس کے پار اُبھرتے سورج کی کرنیں مجھ میں بے قابو ہو جانے والی توانائی بھر دیں اور سمندر میں ڈوبتا آفتاب مجھے لوری سنا جائے۔ کبھی سوچتا ہوں کہ وہاں جا کر بیٹھ جاؤں جہاں موجیں میرے قدموں میں آ کر دم توڑیں ۔ موجیں جو بڑے بڑے جہازوں کو الٹانے میں دیر نہیں لگاتیں ، پورے پورے شہر نگل لیتی ہیں ، اور کچھ خاص لوگوں کی طرح ہمارا مال اپنے پیٹ میں بھی چھپا لے جاتی ہیں ، میرے پیر چوم کر لوٹ جائیں ۔
افسوس کہ مَیں سمندر سے بہت دور ہوں ۔ اتنا دور بھی نہیں کہ جا نہ سکوں لیکن۔ ۔ ۔ مَیں مہم جوئی پر مبنی فلمیں دیکھنے پر اکتفا کرتا ہوں جو سمندر کی زندگی پر بنی ہوتی ہیں ۔ مجھے ایسی دستاویزی فلمیں بھی بہت پسند ہیں جن میں پانی کے نیچے رہنے والی رنگ برنگی، دل للچانے اور ڈرانے والی مخلوق نظر آتی ہے مگر سکرین پر دیکھ کر اُکتا سا جاتا ہوں ۔ میں پانی میں اتر کر دیکھنا چاہتا ہوں ہر چیز جو اِس میں چھپی ہوئی ہے۔ جان داروں کے ساتھ ساتھ آبی پودے، گڑھے اور غاریں ۔ ۔ ۔ وہ غاریں جن میں بڑے جان داروں نے اپنا ٹھکانا بنایا ہوتا ہے اور علیحدہ علیحدہ نظر آنے والے پتھر جو پہاڑوں کی یادگار ہیں ۔ مونگوں کی چٹانوں سے اپنی مرضی کے ٹکڑے بھی تراشنا چاہتا ہوں جو میں اپنے گھر کے کمروں میں آتش دانوں پر سجا سکوں ۔ سیپ کو اپنے داہنے ہاتھ کی دو بڑی انگلیوں اور انگوٹھے کے درمیان رگڑنا چاہتا ہوں اور اِس میں سے موتی بھی پانے کی تمنا ہے جس کی چمک لوگوں کی آنکھیں پھیر دیتی ہے۔ میں وہ سب محسوس کرنا چاہتا ہوں اندر تک۔ ۔ ۔ جو پانی کے اوپر اور نیچے ہے۔ ۔ ۔ اور اپنے گمان میں موجود اطمینان خود میں بھر لوں کہ یہ دنیا واقعی اتنی رنگیں ہے جتنی سکرین پر دکھائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ اِس سے کہیں بڑی ساحرہ ہے۔
میں صرف سکرین پر سمندر نہیں دیکھتا بلکہ کاغذوں پر اُترے ہوئے حروف میں بھی سحر تلاشتا ہوں ۔ مجھے ہرمن میلول کی موبی ڈک پسند ہے جو سفید شکاری اور شکار کے درمیان رومان کی ان مٹ داستان ہے۔ ارنسٹ ہیمنگوے کی وہ کہانی بھی کئی بار پڑھی ہے جس میں ایک بوڑھا مچھلی پکڑنے جاتا ہے اور ایک بہت بڑی مچھلی اُس کے ساتھ کھیلنے لگتی ہے۔ وہ جیت کر بھی ہار جاتا ہے لیکن ناکامی میں اُس کی کامیابی چھپی ہوتی ہے کیونکہ اُس کا حوصلہ باقی رہتا ہے۔ ۔ ۔ اور اَنگ اَنگ میں جوش بھر دینے والی اوڈیسی تو میرے سرہانے تلے دھری رہتی ہے۔ جب جی چاہتا ہے، کتاب کھولتا ہوں اور اِس میں کھو جاتا ہوں کہ میں ایک بڑی کشتی میں ہوں جو بادبانوں کے سہارے ہوا کے دباؤ پر بہہ رہی ہے اور کبھی کبھی ہچکولے کھاتی ہے میرے خیالات کی طرح۔ ۔ ۔ اور میں طے نہیں کر پاتا کہ سمندر دیکھنا ہے تو کراچی جا کر دیکھ لوں یا اس سے آگے ساحلی پٹی پر سفر کرتے ہوئے گوادر تک جاؤں اور راستے میں بھانت بھانت کے لوگوں سے ملوں کہ حقیقی علم تو وہی ہے جو انسانوں سے مل کر حاصل ہوتا ہے۔ سمندر کی منہ زور موجوں کے سامنے اب تک ڈٹی بستیاں دیکھوں جن میں رہنے والوں کی زندگی پتا نہیں کیسی ہو گی۔ ہر وقت کے شور و غل سے مضمحل اعصاب والے شہریوں سے تو بہت مختلف ہو گی۔
میں نے پڑھا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقے شام کے وقت بڑا دل کش نظارہ پیش کرتے ہیں ۔ اگلے وقتوں میں روشنیوں کے اِس مشہور شہر میں ، جو اب گولیوں کی تڑ تڑ سے بدنام ہو چکا ہے، آسماں کا پیچھا کرتی عمارتوں کا عکس جب سمندر پر پڑتا ہو گا تو کیا نظر آتا ہو گا؟ کیا وہ اتنی ہی پرکشش دکھائی دیں گی جیسی سر اوپر اٹھا کر دیکھنے سے محسوس ہوتی ہیں ؟ جب پانی میں ڈوبتی عمارتوں کو دیکھنے کے لیے سر جھکانا پڑے گا تو ان کی شان میں فرق آئے گا ؟ اور چاہتا ہوں کہ سمندر کے بیٹے جب مچھلی پکڑنے جائیں تو ان میں سے کسی کی کشتی پر سوار ہو جاؤں جو گہرے پانیوں میں جائے گی کیونکہ قریب قریب ساری مچھلیاں بڑے ٹریلر کھا چکے ہیں جن سے وابستہ مچھیرے روز مچھلی پکڑنے کے باوجود خود نہیں کھا سکتے۔ ساحل کے نزدیک مچھلی تو دور کی بات ہے، سمندر کا پانی بھی دریائی پانیوں کے ساتھ آتی گندگی، کارخانوں کا تیزابی پانی اور بندرگاہ سے بہایا جانے والا تیل نگل چکا ہے۔ عفریت کی طرح پھیلے شہر کی اپنی گندگی بھی رہی سہی کسر نکال رہی ہے۔ پھر بھی سارے ملک سے لوگ کراچی جاتے ہیں سمندر کے کنارے خوشی ڈھونڈنے کے لیے۔ ۔ ۔ میں بھی جانا چاہتا ہوں ۔ پانی کے باہر اور اندر بنتے مٹتے نقوش سے کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور آگے بڑھ کر ہوا کے دروازے پر دستک دینا چاہتا ہوں ۔
ہر منظر کی پانی پر علیحدہ چھاپ دیکھنے کی چاہ بھی عجیب ہے۔ جب ہلکے بادل ہوں گے تو سمندر کیسا ہو گا؟ گہری کالی گھٹائیں سطح آب کو ڈراؤنا بنا دیں گی یا سحر انگیز۔ ۔ ۔ رات کو کالی چادر اوڑھے سمندر کیا کرتا ہو گا؟ اور دن میں کیسا روپ بھرتا ہو گا؟ سوچتا ہوں کہ ساحلی پٹی پر سفر کے دوران ہر لمحہ گاڑی کی رفتار کے ساتھ منظر بدلے گا تو میرے باطن میں بھی تبدیلی کی لہریں اُٹھیں گی۔ سورج کی چھنکتی کرنوں سے میرے بائیں ہاتھ موجود چیزیں دائیں جانب پانی پر کتنا حسین عکس پھینکیں گی۔ مناظر ہیبت ناک بھی ہوں گے لیکن حیرانی زیادہ ہو گی۔ جب منزل پر پہنچ جاؤں گا تو وہاں ہزاروں سال سے سانسیں لیتے شہر کو ملتی نئی زندگی دیکھوں گا۔ سنا ہے کہ نیا جنم پرانے سے زیادہ خوبصورت ہو گا۔ وہاں ایک نئی بندر گاہ بھی بن رہی ہے جو کہتے ہیں کہ خوشحالی کا دروازہ کھولے گی اور منقول ہے کہ اس کی بدولت یہ شہر بلوچوں کو ایک ہی جھٹکے میں غاروں کی دنیا سے نکال کر اکیسویں صدی میں لا سکتا ہے۔
میں اس شہر کو دیکھنا چاہتا ہوں جو لوگوں کو خواب دکھانے لگا ہے۔ پتا نہیں پورے ہوں گے یا نہیں ۔ میں خوابوں کے ٹوٹنے سے ڈرتا ہوں اور اس وقت سے پہلے اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یقین کرنا چاہتا ہوں کہ سبز باغ محاورے سے نکل کر روزمرہ کا روپ دھار لے گا۔ مجھے مائل کرے گا کہ میں اِسی باغ کے کسی گوشے میں بس جاؤں یا اِس کے آس پاس کہیں اپنا کوئی درخت اُگا لوں جو میٹھے میٹھے پھل دے جن پر گزر بسر کروں ۔ اور اِس شہر میں ، جہاں میں جنمایا گیا ہوں اورجس کی گندگی میں بھی اپنا ایک حسن ہے، واپس نہ آؤں کہ اب اسے بھیڑ بکریوں کا باڑہ بنا دیا گیا ہے اور چارہ بھی کم کر دیا گیا ہے۔
خواب سچ ہو جائے تو میں اِسی ساحلی علاقے میں کہ جسے ہوا کا دروازہ کہتے ہیں ، اپنی کشتی کے راستے پانی میں اترتا اور چڑھتا رہوں ۔ جی چاہے تو ساحل پر کھڑے ہو کر سمندر کی طرف دیکھوں جس کے پانی میں مجھے اپنے پیچھے موجود پہاڑیاں نظر آئیں ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا لہرائے اور میرا من بہلائے۔ خیال کی حسین دنیا میں لے جائے اور اَن دیکھے مناظر دل کھول کر دکھائے۔ جب من چاہے نگر کی سیر سے تھک جاؤں تو واپس اپنے باغ میں آ کر آرام سے سو جاؤں ۔
میں خیالی پلاؤ ہی نہیں پکاتا بلکہ عملی طور پر بھی جانا چاہتا ہوں اور ایک بار گوادر جانے کی پوری تیاری کر لی لیکن۔ ۔ ۔ ایل سی ڈی پر سمندری دنیا کے مناظر ہی نہیں نظر آتے بلکہ ہر وقت ٹی وی پر گلا پھاڑ پھاڑ کر خبریں بھی سنائی جاتی ہیں ۔ سوچا کہ وہ شہر پھر کبھی دیکھ لوں گا جو خواب دکھانے لگا ہے۔ اب کراچی جا کر دیرینہ خواہش پوری کر لیتا ہوں ، اس سے پہلے کہ حسرت بن جائے لیکن ٹی وی پر صرف گوادر کے متعلق خبریں نہیں آتیں ، کراچی کا ذکر بھی صبح شام ہوتا ہے۔ اس شہرِ بے مثال کو سدا کے بھوکے بھیڑیوں نے گھیر رکھا ہے اور اسے اپنا جنگل سمجھ کر دوسروں کو نوچ رہے ہیں ۔ وہ شہر جہاں جنگل کے قانون سے بھی بدتر راج ہے، میرے دیس کی شریانوں میں لہو کی مانند ہے مگر کبھی سرخ اور کبھی سفید خلیوں کی زیادتی کا شکار ہو جاتا ہے۔
میں وسائل کے لیے محتاج ہوں نہ کوئی چھوٹا لڑکا ہوں ۔ اپنے شہر میں ، جو کبھی اپنے آپ میں بڑا پر سکون ہوتا تھا اور اب تبخیر معدہ کا شکار ہے جس کے سبب گیس اس کے سر کو چڑھ گئی اور یوں ہمہ وقت کن پٹیاں دکھتی رہتی ہیں ، آدھی آدھی رات کو بھی بے مقصد گھر سے نکل پڑتا ہوں اور گاڑی میں گھومتا رہتا ہوں لیکن میں پرانی بندرگاہوں کا دیس دیکھنا اور نئی بندرگاہ کے ساتھ انگڑائیاں لے رہی دھرتی کو بھی چومنا چاہتا ہوں ۔ پھلوں اور پھولوں سے لدے ہرے بھرے باغوں سے سجی دھرتی کا نظارہ کرنے کی آرزو ہے جو جنگجوؤں اور جارحیت پسندوں کا کھیل تماشا دیکھنے والے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان لے جاتی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ مرغزاروں کے دیس میں جاؤں ۔ صحرا کی ریت کو ناک کے راستے اندر گھستامحسوس کرنے کی آس میں سفر کروں ۔ ٹھنڈی نیلی جھیلوں میں ٹانگیں ڈبو کر کسی سے ڈھیر ساری باتیں کروں ۔ پرانی بستیوں پر بوجھ بنتے نئے شہر دیکھوں ۔ جب تھک جاؤں تو ان سخت جان یودھاؤں کی دھرتی پر بسیرا کروں جنہیں لوری ملتی ہے۔ ۔ ۔ ’میرا پھول سا بچہ جواں ہو گا۔ ۔ ۔ کاندھے پہ رکھ بندوق رواں ہو گا
اس دھرتی کے متعلق عجیب و غریب آوازیں کانوں میں پڑتی رہتی ہیں مگر ہر بات سے یہی بات نکلتی ہے کہ جو دھرتی سونے سے زیادہ قیمتی ہے، اُس کے باسیوں کو روٹی بھی پوری نہیں ملتی اور تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اُن کے مصائب کے لیے ذمہ دار بھی کوئی نہیں ٹھہرایا جاتا۔ مرکز میں بیٹھے حکمران ہوں کہ صوبے کی مالک بنی حکومت یا سردار۔ ۔ ۔ کوئی اپنا گناہ قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ ایک دوسرے پر انگلی اٹھاتے ہیں اور مرتے وہی عام آدمی ہیں جو دنیا بھر میں مر رہے ہیں ۔
پیسے کی ریل پیل ہو تو لوگ گھر سے نکلتے ہیں لیکن میں گھر میں گھسا رہتا ہوں ۔ ٹی وی پر سمندر کی ہیبت ناک خوبصورتی دیکھ کر اسے چھونے کی تمنا کرتا ہوں اور خواب دیکھتا ہوں کہ میں ہوا کا دروازہ کھول رہا ہوں ۔ آنکھیں بند کیے، بانہیں پھیلائے، ریت میں پاؤں دھنسائے کھڑا ہوں ۔ سمندر پر تیرتی ٹھنڈی ہوا میرے روم روم میں اطمینان کی لہر بھر رہی ہے لیکن گرم ہوا کا جھونکا مجھے جگا دیتا ہے۔
میرا خوف بے سبب ہے نہ مَیں اکیلا اِس میں مبتلا ہوں ۔ میں ایک عام آدمی ہوں اور مجھ ایسے بے شمار ہیں جو اپنوں کی نفرت کا شکار ہیں ۔ ایک عامی کی دوسرے سے نفرت سمجھ سے بالاتر ہے مگر دیسی اور بدیسی خواص کی مہربانی ہے جو چہرے بگاڑ بگاڑ کر نفرت کا بازار گرم رکھتے ہیں اور اپنا کاروبار چلاتے ہیں ۔ ۔ ۔ لیکن بگڑے ہوئے چہروں پر ملا ہوا گند صاف کرنے کے لیے کوئی نمکین پانی دینے کو تیار نہیں ، سمندر سے بھی زیادہ نمکین پانی۔ ۔ ۔ اتنا کہ پانی نہیں رہتا، تیزاب بن جاتا ہے جو سب صاف کر دیتا ہے۔ اگر یہ کہیں باہر سے مل گیا تو صفائیکیسے ہو گی؟ صرف کالک اترے گی یا چمڑی بھی پگھل جائے گی اور میں اپنے دوست کی طرح پہچانا نہیں جاؤں گا جو بھری جیب لیے پھل کے ساتھ گھنی چھاؤں دینے والے درخت لگانے خواب نگر گیا تھا یا آج خبر بنے ان گورے چٹے محنت کشوں جیسا انجام ہو گا جو روٹی کے چند ٹکڑوں کے عوض اپنوں سے بہت دور کسی کے چمن کی آبیاری کے لیے پسینہ بہانے جا رہے تھے لیکن شناخت کر کے ناقابل شناخت بنا دیے گئے۔

(پہلے اس کا عنوان ’’چہرے کی تلاش‘‘ تھا۔ حلقہ اربابِ ذوق، لاہور کے اجلاس منعقدہ تیرہ ستمبر دو ہزار پندرہ میں پڑھا گیا۔ )
٭٭٭

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)