Showing posts with label alif ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label alif ki kahawtain. Show all posts

Friday, 17 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں ، ضرب الامثال alif ki kahawtain urdu PROVERBS


الف ۔ کی کہاوتیں

(۱۰۲ )  اندھوں  نے ہاتھی کو چھوا، سب نے الگ الگ دیکھا  : 

 قصہ مشہور ہے کہ چار اندھوں  نے پوچھا کہ’’ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔‘‘ ان کو ایک ہاتھی کے پاس کھڑا کر دیا گیا۔ ایک نے سونڈ چھوئی اور کہا کہ’’ ہاتھی تو ایک موٹے سانپ کی طرح ہوتا ہے‘‘۔ دوسرے نے اس کے دانت چھوکر اس کو سخت اور خطرناک بھالے کی طرح بتایا۔  تیسرے نے ہاتھی کے پیروں  پر ہاتھ پھیرے اور  اس کو ستون کی شکل کا سمجھا جب کہ چوتھے نے اُس کا بدن چھوا اور کہا کہ ’’ہاتھی تو ایک دیوار کی طرح ہوتا ہے۔‘‘  ہاتھی پوری طرح کسی کی بھی سمجھ میں  نہ آیا۔ یہی حال ایسے لوگوں  کاہے جو مسئلہ کو پوری طرح نہیں  سمجھ سکتے بلکہ اس کے کسی حصے کو ہی پورا مسئلہ سمجھ کر اس پر خیال آرائی کیا کرتے ہیں۔

( ۱۰۳ )  انسان اَن کا کیڑا ہے  : 

اَن یعنی اناج۔ا َناج کے کیڑے کی طرح انسان بھی بغیر اناج کے زندہ نہیں رہ سکتا۔

( ۱۰۴ )  اندھے کے آگے روئے، اپنے بھی نین کھوئے  :

  اندھے کے آگے دُکھڑا رونے سے کوئی فائدہ نہیں  کیونکہ وہ کسی کو  نہیں  دیکھ سکتا۔ اس میں  اپنی ہی آنکھوں  کا نقصان ہے۔گویا جو شخص آپ کے مسائل سے بیگانہ ہو اس سے شکایت کرنا بیکار ہے۔

( ۱۰۵)  اندر کی سانس اندر، باہر کی سانس باہر  :


  شدید خوف وہراس یا حیرت میں  انسان ہکا بکا کھڑا کا کھڑا رہ جاتا ہے گویا سانس تک لینا بھول جاتا ہے۔ ایسے وقت یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۱۰۶)  اندھا گائے، بہرا بجائے  : 

 اگر اندھے گانے والے کی سنگت کوئی بہرا کر رہا ہو تو اندھا یہ نہ سمجھ سکے گا کہ ساز کس رُخ پر جا رہا ہے اور بہرے کو صحیح سنگت کے لئے گانا نہیں  سنائی دے گا۔  لہٰذا دونوں  کا گانا بجانا بے سود ہو گا۔  اگر دو آدمی مل کر ایسا کام کرنا چاہیں  جس میں  وہ ایک دوسرے کی صلاحیت سے نا واقف ہوں تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۱۰۷)  اندھے کو دن رات برابر ہے  :

  اندھے آدمی کو دن اور رات کی تمیز نہیں  ہوتی ہے۔اسی طرح کم عقل آدمی کے لئے بھی اچھی بری بات ایک سی ہوتی ہے۔

( ۱۰۸)  انگلی پکڑ کر پُہنچا پکڑ لیا  :


  پہنچا یعنی کلائی۔ مطلب یہ ہے کہ ذرا سی رعایت کا ملنا تھا کہ زیادہ کی جانب لپک پڑے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں ، ضرب الامثال alif ki kahawtain urdu PROVERBS


الف ۔ کی کہاوتیں

( ۱۰۹)  اوچھے کے گھر کھانا، جنم جنم کا طعنہ  :

            کم ظرف میزبان کے گھر دعوت کھانا خطرہ سے خالی نہیں  کیونکہ وہ ہر موقع پر اپنا احسان جتانے سے نہیں  چوکے گا اور طعنے الگ دے گا۔

( ۱۱۰ )  اونٹ سستا ہے، پٹا مہنگا ہے  : 

 اگر کوئی چیزخودتوسستی ہو لیکن اس کے لوازمات مہنگے ہوں  تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اگر کسی اچھی چیز کے ساتھ کوئی کم درجہ چیز بھی لینی پڑ جائے تب بھی کہاوت استعمال ہوتی ہے۔ کہاوت کا پس منظر ایک کہانی ہے۔ایک شخص کا اونٹ بھاگ گیا۔ جب وہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے پریشان ہو گیا تو اس نے غصہ میں  قسم کھا لی کہ’’ اگر اونٹ مل گیا تو کم بخت کو اپنے پاس نہیں  رکھوں گا اور اسے پانچ روپے میں  فروخت کر دوں  گا۔‘‘ اتفاق سے دوسرے ہی دن اونٹ مل گیا۔اس کے دل میں  لالچ آئی کہ کسی طرح قسم بھی پوری ہو جائے اور اونٹ بھی بچ جائے۔ اس نے اونٹ کے گلے میں  ایک خوبصورت پٹّا ڈال دیا اور بازار میں  لوگوں  کو بتایا کہ’’ اونٹ کی قیمت پانچ روپے ہی ہے لیکن پٹّا پانچ سو روپے کا ہے۔‘‘ کوئی شخص اس قیمت پر یہ سوداکر نے کو تیار نہیں ہوا اور اس طرح اس کا اونٹ بچ گیا۔

( ۱۱۱ )  اونٹ چڑھے پر کتا کاٹے  :

  یعنی مصیبت آنے والی ہوتی ہے توکسی نہ کسی صورت آ ہی جاتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے اونٹ پر بیٹھنے کے بعد بھی کتا کاٹ کھائے۔

( ۱۱۲ )  اوس سے پیاس نہیں  بجھتی  :

  یعنی چیز بہت کم ہو تو کام نہیں  چلتا ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۱۱۳ )  اَوّل خویش، بعدہٗ دَرویش  : 


 سب سے پہلے خود،پھر اس کے بعد فقیر یعنی سب سے اہم خود اپنی ذات ہے، دوسرے اس کے بعد آتے ہیں۔اسی معنی میں  ’’خیرات اپنے گھرسے شروع ہوتی ہے‘‘ بھی بولتے ہیں۔

اردو محاورے ۔ کہاوتیں ، ضرب الامثال alif ki kahawtain urdu PROVERBS


الف۔کی کہاوتیں

(۱۱۴)  اوکھلی میں  سر دیا تو موسل کا کیا ڈر  : 

 پہلے زمانہ میں  ہر گھر میں موسل اور اوکھلی مسالہ، تل وغیرہ کوٹنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے اپنا سراوکھلی میں  ڈال دے (یعنی کوئی مصیبت اپنے سر خود ہی بلائے )تو پھر اُس کو موسل (یعنی اپنی غلطی کے فطری انجام )کا ڈر نہیں  ہونا چاہئے کیونکہ وہ تو پیش آ کر ہی رہے گا۔

(۱۱۵)  اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ  : 

  اگر کوئی شخص اونگھ رہا ہو اور اس کو ٹھیل دیا جائے یعنی ہلکا سا دھکا دے دیا جائے تو لیٹ کر سونے میں  اُسے ذرا بھی دیر نہیں  لگتی۔ گویا ٹھیلنا اس کے لئے سونے کا بہانہ بن جاتا ہے اور وہ دھکا دینے والے کو اپنی سستی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ یہی حال ایسے شخص کا ہے جو کسی کام میں  طرح طرح سے آنا کانی کر رہا ہو اور اُس کو ٹالنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہو۔

 (۱۱۶)  اوچھے کو پدوی ملے، ٹیڑھو  ٹیڑھو جائے  : 

   یہ سنت کبیرؔ کے ایک ہندی دوہے کا مصرع ہے۔ اوچھے یعنی کم ظرف۔ ہندی میں  پدوی، خطاب، عہدہ  یا گدّی کو کہتے ہیں۔ٹیڑھو یعنی ٹیڑھا۔ کہاوت کا یہ مطلب ہوا کہ اگر کسی کم ظرف آدمی کو کوئی عہدہ یا اعلیٰ مقام مل جائے تو اس کا دماغ خراب ہوتے دیر نہیں  لگتی اور وہ اپنی نئی عزت کا بوجھ سنبھال نہیں  سکتا۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

(۱۱۷)  اونٹ کی داڑھ میں  زیرہ  : 

  زیرہ کا دانہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور اگر وہ اونٹ کے منھ میں  ہو تو اونٹ کو اس کا احساس بھی نہیں  ہو گا۔ لہٰذا کسی کے سامنے کوئی کھانے کی چیز نہایت قلیل مقدار میں  رکھی جائے تو کہیں  گے کہ’’ یہ تو ایسا ہے جیسے اونٹ کی داڑھ میں زیرہ۔‘‘

(۱۱۸)  اونٹ رے اونٹ، تیری کون سی کل سیدھی؟  :


  اونٹ بہت ٹیڑھا میڑھا اور  بھونڈا جانور ہے۔  لفظ کل یوں  تو مشین یااس کے پرزہ کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں  اس سے مراد اُونٹ کے جسم کا عضو ہے۔ اگر کسی شخص کی ہر بات ہی بے سر پیر کی ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے یعنی کبھی تو کوئی تُک کی بات کر لیا کرو۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال alif ki kahawtain urdu PROVERBS


الف ۔ کی کہاوتیں

(۱۱۹)  اونچی دوکان، پھیکا پکوان  :

              کسی کا نام بہت بڑا ہو لیکن کام بہت معمولی تو یہ کہاوت بولتے ہیں  یعنی نام  تو بہت سن رکھا تھا لیکن اصلیت کچھ بھی نہ نکلی۔ اسی معنی میں  یہ شعر بھی مستعمل ہے:

بہت شور سنتے تھے  پہلو  میں  دل کا           جو چیرا  تو  اک  قطرۂ  خوں  نہ  نکلا

( ۱۲۰ )  اوچھے کے گھر تیتر، باہر باندھوں  کہ بھیتر:  

 کم ظرف آدمی کو ذرا سی دولت یا نام و نمود مل جائے تو اس کی سمجھ میں  نہیں  آتا کہ کس کس طرح سے اسے دُنیا پر ظاہر کرے جیسے کسی اوچھے کے ہاتھ ایک تیتر آ جائے اور وہ یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ اس کو گھر کے باہر نمائش کے لئے رکھوں  یا گھرکے اندر۔

( ۱۲۱ )   اوروں  کی تجھ کو کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو  : 

  نبیڑنا یعنی بھگتنا  یا حل نکالنا۔ دوسروں  کے مسائل میں  خواہ مخواہ الجھنا دانشمندی کی نشانی نہیں  ہے۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ آدمی پہلے اپنے مسائل حل کر لے۔

   ( ۱۲۲ )  ایک آم کی دو پھانکیں  ہیں   : 

 یعنی بالکل ہم شکل و ہم طبع ہیں  جیسے آم کی دو قاشیں  ہوتی ہیں۔کوئی فرق نہیں  ہے۔

( ۱۲۳)  ایک سے دو بھلے اور دو سے بہتر چار  :

  ہر کام میں ایک سے دو رائے بہتر ہوتی ہیں  اور اگر مزید مل جائیں  تو وہ اور  بھی اچھی بات ہے۔

( ۱۲۴)  ایک حمام میں  سب ننگے  : 

 یعنی سبھی ایک سی حالت میں  ہیں۔کوئی کسی سے بہتر نہیں  ہے۔ جب آدمیوں  کا پورا گروہ کسی جرم یا غلط کام میں  ملوث ہو اور کسی کا ہاتھ برائی سے صاف نہ ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۱۲۵ )  ایک ہاتھ سے تالی نہیں  بجتی ہے  :

  جس طرح تالی کے لئے دو ہاتھ درکار ہوتے ہیں اسی طرح جھگڑے فساد کے لئے بھی دو فریقوں  کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی شخص سارا الزام دوسرے فریق پر رکھے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

 (۱۲۶ )  ایک جان دو قالب ہیں   :


  آپس میں  بہت محبت ہے۔ ایسا ساتھ ہے جیسے جسم و جان میں  ہوا کرتا ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال alif ki kahawtain urdu PROVERBS


الف ۔ کی کہاوتیں

(۱۲۷ )  اینٹ سے اینٹ بجا دی  : 

 بالکل تباہ  و برباد کر دیا،  تہس نہس کر دیا۔

(۱۲۸)  ایرا غیرا، نتھو خیرا  :

  یعنی  بلا تمیز و امتیاز ہر شخص۔ اَیرا غیرا  یعنی غیر شخص۔ ایرا غیرا  میں  تحقیر کا پہلو ہے۔ نتھو اور خیرا مخفف ہیں  بالترتیب ہندو اور مسلم ناموں  کے۔ ان سے مراد ہے ہر شخص۔

(۱۲۹)  ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ  : 

 گدھے کے سینگ نہیں  ہوتے۔ اگر کوئی شخص اچھا خاصہ بیٹھے بٹھائے غائب ہو جائے یا وقتِ ضرورت نظر ہی نہ آئے تو کہتے ہیں  کہ وہ توایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

( ۱۳۰)  ایران توران ایک کر دیا  : 

 یعنی کوئی کسر نہیں  اٹھا رکھی،بُری محنت کی۔

( ۱۳۱)  ایک منہ  ہزار باتیں   : 

 جہاں  جائیں  ایک ہی بات کا چرچا ہو رہا ہے۔

( ۱۳۲)  ایک دَر بند،ہزار دَر کھلے  : 

 یعنی روزی کا ایک ذریعہ بند ہوتا ہے تو اَللہ اس کے بجائے ہزار دروازے اور کھول دیتا ہے۔ گویا روزی کسی نہ کسی طرح ملتی ہی رہتی ہے۔

( ۱۳۳)  ایک رنگ آتا ہے، ایک جاتا ہے  :

  اضطرابی کیفیت ہے اور پریشانی کے عالم میں  چہرہ رنگ بدل رہا ہے۔ اس کو ’’چہرہ پر ہوائیاں  اُڑنا‘‘ بھی کہتے ہیں۔

( ۱۳۴)  ایک کرے، دَس بھریں   :

  یعنی جرم یا غلطی تو ایک شخص کرے اور اس کا خمیازہ بہت سے لوگوں  کو اٹھانا پڑے۔ محل استعمال ظاہر ہے۔

( ۱۳۵)  ایں  خانہ ہمہ آفتاب است  :


  یہ گھر تو سارا کا ساراآفتاب کی طرح روشن ہے یعنی سب ایک ہی جیسے ہیں۔یہ کہاوت اچھائی اور برائی دونوں  کے لئے بولی جاتی ہے۔

اردو محاور ، کہاوتیں ، ضرب الامثال alif ki kahawtain urdu PROVERBS


الف ۔ کی کہاوتیں

( ۱۳۶)  ایں  کار از تو آید ومرداں  چنیں  کنند  : 

یہ کام تو بس تو ہی کر سکتا تھا اور مرد ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔بہادری یا بڑے کام کرنے والے کی تعریف میں  یہ کہاوت بولتے ہیں۔

(۱۳۷)  ایک پَر کے سَو کوّے بناتا ہے  : 

 بہت چالاک اور شاطر ہے کہ ذرا سی بات کو بڑھا چڑھا کر اپنا مطلب نکال لیتا ہے۔ کہاوت کا ایک مطلب ’’بات کا بتنگڑ بنانا‘‘ بھی ہے۔

 ( ۱۳۸)  ایک سر ہزار سَودا  : 

 سودا یعنی فکر و پریشانی۔ آدمی کی ایک جان کے ساتھ سیکڑوں  فکریں  لگی ہوئی ہیں۔

( ۱۳۹)  ایک تو دیوانہ، اِس پر آئی بہار  :

  مشہور ہے کہ دیوانے آدمی کی دیوانگی بہار آنے پر بڑھ جاتی ہے۔ یہ کہاوت تب بولی جاتی ہے جب کسی شخص کا غصہ یا ایسی ہی کوئی اور خراب عادت کسی خارجی اور غیر متعلقہ وَجہ سے بڑھ جائے۔

( ۱۴۰)  ایں  ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دِگر  : 

 یہ بھی عشق کے دوسرے غموں  کے ساتھ ایک اور غم لگا ہوا ہے۔ یہ کہاوت تب بولی جاتی ہے جب صبر و شکر کے طور پر یہ کہا جائے کہ جہاں  اتنی مصیبتیں  ہیں  وہاں  یہ ایک اور سہی۔

(۱۴۱)  ایک انار، سو بیمار  : 

  طاقت پہنچانے کی غرض سے مریض کو انار کا مقوی رس پلایا جاتا ہے۔ اگر انار ایک ہی ہو اور مریض کئی تو پھر یہ سوال پیدا ہونا یقینی ہے کہ کس کو کتنا دیا جائے یا دیا بھی جائے کہ نہیں۔  جب آدمی تو ایک ہی ہو لیکن اس کی خدمات کی بہت سے اشخاص کو ضرورت ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

(۱۴۲)  ایک ہی تھالی کے چٹّے بٹّے  : 


  یعنی ایک ہی خصلت کے لوگ جو ملی بھگت سے کام کریں اور اپنا ہی مفاد پیش نظر رکھیں۔  ’’ایک ہی آوے کے برتن‘‘ بھی اسی معنی میں  ایک اور کہاوت ہے۔

اردو محارورے، کہاوتیں ، ضرب الامثال alif ki kahawtain urdu PROVERBS


الف ۔ کی کہاوتیں

(۱۴۳)  ایسے لا کر رکھ دیاجیسے سوت کا لونڈا  :

    یہ عورتوں  کی زبان ہے۔ اگر کسی آدمی کی دو یا دو سے زیادہ بیویاں  ہوں تو وہ ایک دوسرے کی سوت (سوکن) کہلاتی ہیں۔ ایسی عورتوں  میں  فطری طور پر رقابت اور حسد کا شدید جذبہ ہوتا ہے۔  لونڈا یعنی کم سن بچہ۔ ظاہر ہے کہ ایک سوت کو دوسری سوت کی اولاد سے محبت نہیں  ہو تی۔ لہٰذا اگر کسی شخص کے سامنے کوئی چیز بے دلی سے لا کر رکھ دی جائے تو کہتے ہیں کہ’’  ایسے لا کر رکھ دیا جیسے سوت کا لونڈا۔‘‘

( ۱۴۴)  ایسی گرمی جس میں  ہرن کالے ہوتے ہیں   : 

   نا قابل برداشت گرمی کے لئے کہتے ہیں  کہ اتنی سخت گرمی ہے کہ ہرن اس سے کالے پڑے جا رہے ہیں۔ ’’ اتنی گرمی کہ چیل انڈا چھوڑ رہی ہے‘‘ بھی اسی معنی میں  بولا جاتا ہے۔

( ۱۴۵ )  ایک پنتھ دو کاج  :

  ایک ہی ترکیب سے دو مسئلے حل ہو گئے، ایک تیر سے دو شکار ہو گئے۔

( ۱۴۶ )  ایک ہاتھ سے تالی نہیں  بجتی ہے  :

  جس طرح تالی کے لئے دو ہاتھ درکار ہوتے ہیں اسی طرح جھگڑے فساد کے لئے بھی دو فریقوں  کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی شخص سارا الزام دوسرے فریق پر رکھے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۱۴۷ )  ایک دن مہمان، دوسرے دن مہمان، تیسرے دن بے ایمان  :

  مستقل کسی کے گھر مہمان رہنا  میزبان کے لئے قیامت ہوتا ہے۔ چنانچہ بزرگوں  نے کہا ہے کہ مہمان کو تیسرے دن میزبان کا شکریہ ادا کر کے رخصت ہو جانا چاہئے۔

( ۱۴۸ )  ایک جھوٹ سو جھوٹ کو جنم دیتا ہے  :

  ایک جھوٹ کو سچ بنانے کے لئے بہت سے جھوٹ اور بولنے پڑتے ہیں۔

( ۱۴۹ )  ایک سچ سو جھوٹ کو ہرائے  : 

 اگر ایک مرتبہ سچ بول دیا جائے تو اوّل تو یہ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں  ہوتی کہ کس سے کیا کہا تھا اور دوم یہ کہ ایک جھوٹ بول کر بار بار جھوٹ بولنے کی بھی حاجت نہیں  رہ جاتی ہے۔

( ۱۵۰ )  ایک انڈا، وہ بھی گندا  : 

  اگر کسی کے ایک ہی اولاد ہو اور وہ بھی نا خلف نکل جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال alif ki kahawtain urdu PROVERBS

الف ۔ کی کہاوتیں
(۱۵۱)  ایک آوے کے برتن ہیں   : 

آوا  یعنی گھان، ایک مرتبہ کی تیار کی ہوئی چیز۔ مطلب یہ ہے کہ سب کے سب ایک ہی  خصلت کے ہیں  جیسے ان کی ساخت و پرداخت ایک ہی وقت میں  ہوئی ہو۔ اس کو’’ ایک ہی تھالی کے چٹّے، بٹّے ہونا‘‘ بھی کہتے ہیں۔

( ۱۵۲ ) ایک آنچ کی کسر ہے  : 

 کام پورا ہونے تھوڑی سی کسر رہ گئی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۱۵۳)  ایک پاؤں  اندر، ایک پاؤں  باہر  : 

 یعنی اتنا مصروف کہ ایک پاؤں گھر کے اندر ہے اور ایک باہر۔مستقل سفر میں ہے۔

(۱۵۴) ایک نیام میں  دو تلواریں  نہیں  رہ سکتی ہیں  :

  یعنی ایک جگہ برابر کے دو بہادر نہیں  رہ سکتے۔ جلد یا بدیر ایک کو پیچھے ہٹنا ہی ہو گا۔

( ۱۵۵ )  ایک نہیں  ستّر بلائیں  ٹالتی ہے  :

  ہر بات پر بلا سمجھے بوجھے ہاں  کہہ دینا اپنے اوپرم شکلات کو بلانے کے برابر ہے۔ بہتر یہ   ہے کہ موقع کی مناسبت دیکھ کر کام سے انکار کر دیا جائے کیونکہ ایک نہیں  سے بے شمار آنے والی بلائیں  ٹل سکتی ہیں۔

( ۱۵۶)  ایک چُپ سو کو ہراتی ہے  :

  اگر مستقل باز پرس کے جواب میں  خاموشی اختیار کر لی جائے تو بہت سے مشکلوں سے بچا جا سکتا ہے۔

( ۱۵۷ )  ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے  :

 جس طرح ایک سڑی مچھلی سے سارا تالاب گندا ہو جاتا ہے اسی طرح ایک خراب آدمی سارے معاشرہ کی خرابی اور بدنامی کا باعث ہو سکتا ہے۔



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)