Showing posts with label seen ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label seen ki kahawtain. Show all posts

Thursday, 23 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain



س۔ کی کہاوتیں

( ۱)  سانچ کو آنچ نہیں     : 

سانچ یعنی سچائی، آنچ یعنی آگ کی گرمی، گزند یا نقصان۔ مطلب یہ ہے کہ سچ کی ہمیشہ ہی جیت ہوتی ہے۔ اس کو نہ چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کو کوئی گزند پہنچائی جا سکتی ہے۔

( ۲)  ساون ہر ے نہ بھادوں سوکھے   : 

ساون کے مہینہ میں  بہت بارش ہوتی ہے اور ہر طرف ہریالی دکھائی دیتی ہے۔ بھادوں  میں  شدید گرمی پڑتی ہے اور ہر چیز سوکھ جاتی ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ اِن پر نہ تو ساون میں  ہریالی آتی ہے اور نہ یہ بھادوں  میں  سوکھتے ہیں  گویا ہر وقت ایک سا ہی حال رہتا ہے۔

(۳ )  سات ماموؤں  کا بھانجہ بھوکا ہی رہتا ہے  : 

 یعنی اگر کوئی کام کئی آدمیوں  پر چھوڑ دیا جائے تو وہ کبھی نہیں ہوتا کیونکہ ہر ایک دوسرے پر ٹال دیتا ہے۔ اس کی مثال کہاوت ایسے بھانجے سے دیتی ہے جس کے سات ماموں  ہوں اور وہ بھوکا رہے کیونکہ ہر ماموں  کھلانے کی ذمہ داری دوسروں  پر ٹال دیتا ہے۔

(۴)  ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہراسوجھتا ہے  : 

 ساون میں  اگر کوئی  اندھا ہو جائے تو اس کے دماغ میں  آنکھیں  جانے سے پہلے کا سر سبز موسم ہی بسا رہتا ہے۔گویا ہر شخص کا نقطہء نظر اس کے حالات کا پابند ہوتا ہے اور  وہ ان سے باہر نہیں  جا سکتا۔

( ۵)  سانپ نکل گیا اب لکیر پیٹ رہے ہیں   : 

یعنی کام کا وقت جب گزر گیا تو شور مچایا جا رہا ہے۔ سانپ گزر جائے تو ریت میں  اس کی بنائی ہوئی لکیر کو پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ۔ سانپ کو تو پہلے ہی مار دینا چاہئے تھا۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain


س۔ کی کہاوتیں

 ( ۶ )  :  سارا گھر جل گیا تب چوڑیاں پوچھیں   : 

 ایک حکایت ہے کہ ایک عورت نے قیمتی اور خوبصورت چوڑیاں  خریدیں ۔ اسے شوق ہوا کہ لوگ اس کی چوڑیاں  دیکھیں  اور ان کی تعریف کریں۔ چنانچہ وہ بہانے سے لوگوں  کے سامنے جا کر ہاتھ نچا نچا  کر باتیں  بنانے لگی۔ اتفاق سے کسی نے چوڑیوں  پر غور نہیں  کیا۔ کھسیا کر اُس نے اپنے گھر میں  آگ لگا لی اور ہاتھ پھیلا پھیلا کر شور مچانے لگی۔ لوگ آگ بجھانے دوڑ پڑے۔ اس افراتفری میں  بھی کسی نے اس عورت کی چوڑیاں  نہیں  دیکھیں۔ گھر جل کر خاک ہو گیا تو ایک شخص کی نگاہ چوڑیوں  پر پڑی اور اس نے اُن کی خوبصورتی کی تعریف کی۔ عورت جھلا کر بولی کہ ’’سارا گھر جل گیا تب چوڑیاں  پوچھیں۔‘‘کہانی کی مناسبت سے کوئی شخص اپنی بے جا تعریف کرانے کی خاطر اپنا ہی نقصان کر نے سے بھی باز نہ آئے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

( ۷)  ساجھے کی ہنڈیا چوراہے پر پھوٹتی ہے  : 

ساجھا یعنی شراکت۔ چوراہے پر پھوٹنا یعنی راز کی تمام باتوں  کا ہر کس و ناکس کو معلوم ہو جانا۔ ساجھے کے کام میں  عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ فریقین لڑتے ہیں  اور لوگ تماشہ دیکھتے ہیں۔محل استعمال ظاہر ہے۔

(۸)  سانس ہے تو آس ہے  : 

جب تک انسان زندہ رہتا ہے اس کی اُمیدیں  بھی قائم رہتی ہیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

(۹ )  ساس بہو کی ہوئی لڑائی، کرے پڑوسن ہا تھا پائی  :

  دوسرے کے معاملات میں  خواہ مخواہ پیر اَڑانا دانشمندی نہیں  ہے بلکہ اس سے مزید مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ جھگڑا تو ساس بہو میں  ہو رہا ہو اور پڑوسن دخل دے رہی ہو۔کوئی کسی کے معاملہ میں  غیر ضروری دخل اندازی کرے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۱۰)  سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے  : 

یعنی ایسی دانشمندی سے کام لینا کہ گوہر مقصود بھی حاصل ہو جائے اور کوئی  نقصان بھی نہ ہو۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain



س۔ کی کہاوتیں


(۱۱)  ساری خدائی اک طرف، جورو کا بھائی اک طرف  : 

جورو  یعنی بیوی۔جورو کا بھائی یعنی سالا۔ مشہور ہے کہ ہر شخص بیوی سے مرعوب ہو کر اسی کی طرفداری کرتا ہے حتیٰ کہ اگر ساری دُنیا اُس کے سالے کے خلاف ہو تب بھی وہ بیوی کے خوف سے اپنے سالے کی ہی طرفداری کرے گا۔

 (۱۲)  ساری رامائن پڑھ گئے،یہ نہیں پتہ کہ سیتاؔ رامؔ کی کون تھی  : 

رامائنؔ( ہندوؤں  کی مقدس کتاب) میں  بھگوان رامؔ چندر کی بیوی کا نام سیتاؔ  ہے۔ اگر کوئی شخص پوری رامائنؔ پڑھ جائے اور اس کو یہ بھی پتہ نہ چلے کہ سیتا،ؔ  رامؔ  کی کون تھی تو یہ بہت ہی نا لائقی کی بات ہو گی۔ اگر کوئی شخص کسی معاملہ میں  بہت دخیل ہو لیکن اس کے کلیدی نکات و واقعات سے ہی ناواقف ہو تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

(۱۳)  سات سمندر پار  : 

 یعنی بہت دور۔ سات سمندربڑے فاصلے کا استعارہ ہے۔کوئی بہت دور جا بسے تو کہتے ہیں  کہ وہ تو سات سمندر پار جا بسا۔

 ( ۱۴)  سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں    : 

 یہ کہاوت انسان کی زندگی کی بے ثباتی اور نا پائداری کا ذکر کر رہی ہے۔ معنی اور محل استعمال کہاوت سے ظاہر ہیں۔

( ۱۵ )  سانپ کا کاٹا رسّی سے ڈرتا ہے  : 

 اگر کسی چیزسے کسی شخص کو نقصان پہنچے تو وہ اُس طرح کی ہر چیز سے ڈرتا ہے۔اسی بات  کو سانپ اور رسّی کی مشابہت سے ظاہر کیا گیا ہے۔

( ۱۶ )  سانپ سونگھ گیا  :

  عوام میں  غلط مشہور ہے کہ اگر کسی کو سانپ سونگھ جائے تو اس کی بولنے کی قوت عارضی طور پر ختم ہو جاتی ہے۔  کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ بالکل خاموش ہو گیا یا عرف عام میں  اُس کی بولتی بند ہو گئی۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain



س۔ کی کہاوتیں

 ( ۱۷ )  سانپ کے منھ میں  چھنچھوندر  : 

عام خیال ہے کہ اگرسانپ چھنچھوندر کو پکڑ لے تو وہ نہ تو اس کو نگل سکتا ہے اور نہ ہی اُگل سکتا ہے۔ سانپ کی اِس کشمکش کی وجہ کا علم نہیں  ہو سکا۔ یہاں  اشارہ ایسے مسئلہ کی جانب ہے جو کیا جائے تو زحمت کا باعث ہو اور چھوڑ دیا جائے تو بھی مصیبت پیدا کرے۔ یعنی تذبذب اور  کشمکش کی کیفیت کا اظہار مقصود ہے۔

( ۱۸ )  سانپ کا پوت سنپولیا   :

 پوت یعنی بیٹا۔ سنپولیا یعنی سانپ کا بچہ۔ جس طرح سانپ کا بچہ بھی چھوٹا سانپ ہوتا ہے اسی طرح برے آدمی کی اولاد بھی بری ہوتی ہے۔ گویا بچوں  پر والدین کا اثر ہونا فطری بات ہے۔

( ۱۹ )  سات پوت کا باپ بھوکا مرتا ہے  :

 یعنی سات بیٹوں  میں  سے ہر ایک یہ فرض کر لیتا ہے کہ آج باپ کسی دوسرے بیٹے کے گھر کھانا کھا لے گا۔ نتیجہ میں  کوئی بھی اسے نہیں  کھلاتا اور وہ بھوکا رہ جاتا ہے۔

( ۲۰ )  ساجھے کا کام اُتارے چام  : 

 چام یعنی کھال۔ ساجھا یعنی شراکت۔ شرکت کا کام ہمیشہ مسائل اور فساد پیدا کرتا ہے کیونکہ اس میں  پیسوں  کا سوال پیش پیش رہتا ہے اور پیسہ جھگڑے کی جڑ ہے۔ یہاں  کھال اُتارنے سے شرکت کے برے نتائج کی طرف اشارہ ہے۔

( ۲۱)  ساری عمر بھاڑ ہی جھونکا  : 

ساری عمر محنت کی لیکن کچھ کما کے نہ دیا۔

( ۲۲)  ساکھ لاکھ سے اچھی  : 

 ساکھ یعنی اعتماد، اعتبار، عزت۔ لاکھ سے مراد لاکھ روپے یا بہت سی دولت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی کا اعتماد اور عزت دولت سے بیش قیمت ہوتی ہے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain



س۔ کی کہاوتیں

( ۲۳ )  سب دن چنگے،تہوار کے دن ننگے  :

  فضول خرچ آدمی کو جب ضرورت پیش آتی ہے تو اس کے پاس کچھ نہیں  ہوتا اور اسے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ کہاوت کا محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

(۲۴)  سب دھان بائیس پنسیری  : 

کلو گرام سے پہلے تولنے کے لئے سیر استعمال ہوتا تھا۔ پانچ سیر کو عوام  پنسیری کہتے تھے۔ گویا کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ اچھا برا ہر طرح کا دھان ایک روپے کا بائیس پنسیری (۱۱۰ سیر) بک رہا ہے۔ اگر کسی میدان عمل میں  بھی اچھے برے کی تمیز اُٹھ جائے تو کہتے ہیں  کہ’’ سب دھان بائیس پنسیری بک رہا ہے‘‘۔

( ۲۵) سب کتے گئے کاشی تو ہنڈیاکس نے چاٹی  : 

کاشی (بنارس)ہندوؤں  کا متبرک شہر ہے۔یعنی جب شہر کے سارے کتے کاشی تیرتھ کو چلے گئے تو آخر یہ ہنڈیا کون چٹ کر گیا؟ اگر کوئی کام خراب ہو جائے لیکن ہر شخص اپنے آپ کو بے گناہ ظاہر کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

( ۲۶)  سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے  : 

ہر ایک کو اپنی خوشامد اچھی لگتی ہے۔ کہاوت میں  عبادت کو خدا کی خوشامد سے تعبیر کیا گیا ہے۔

(۲۷)  سر منڈاتے ہی اولے پڑے  :

  ظاہر ہے کہ منڈے ہوے سر پر اولوں  سے سخت چوٹ آئے گی۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ابھی کام کی ابتدا ہی کی ہے اور طرح طرح کی مشکلات سامنے آنے لگیں۔

(۲۸)  سر ڈھکو تو پیر کھل جاتے ہیں   : 

 اگر سوتے وقت چادر سے سر ڈھکیں  تو پیر کھُلے رہ جائیں  اور پیر ڈھکیں  تو سر کھُلا رہ جائے تو چادر یقیناً چھوٹی ہے۔ اسی مناسبت سے جب ایک مسئلہ حل کیجئے اور اس کے نتیجہ میں  دوسرا سامنے آ جائے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain



س۔ کی کہاوتیں

 (۲۹ )  سرائے کا کُتا ہر مسافر کا  یار    : 

پرانے زمانے میں  مسافروں  کے لئے راستہ میں  جا بجا سرائے بنی ہوتی تھیں  جہاں  وہ رات کو قیام کر لیتے تھے۔ سرائے کا کتا کھانے کے لالچ میں  ہرمسافر کے سامنے دُم ہلاتا گویا اپنی دوستی کا اظہار کرتا۔ جب کوئی شخص مجبوری کی حالت میں  ہر ایک کو پر اُمید نظروں  سے دیکھے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۳۰)  سرخاب کا پر لگا ہے  :

  سرخاب کا خوبصورت پَر لوگ پگڑی یا ٹوپی میں  امتیاز ظاہر کرنے کے لئے لگاتے ہیں۔ گویا سرخاب کا پر لگنا  غیر معمولی خوبی کا استعارہ ہے۔  یہ کہاوت عام طور سے طنزیہ کہی جاتی ہے کہ’’ اِن میں  کون سا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے؟‘‘ یعنی ایسی کون سی غیر معمولی خصوصیت ہے جو اتنا اِترا رہے ہیں ؟

(۳۱)  سر کھجانے کی فرصت نہیں  ہے  :

  عدیم الفرصتی کا اظہار مقصود ہے کہ اتنی بھی فرصت نہیں کہ سر کھجا لیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

(۳۲)  سستا روئے بار بار، مہنگا روئے ایک بار  : 

 کوئی بھی چیز محض پیسے بچانے کے لئے سستی سے سستی نہیں  لینا چاہئے کیونکہ سستی چیز اکثر گھٹیا ہوتی ہے اور بار بار مرمت اور توجہ چاہتی ہے۔ اچھی اور قیمتی چیز کار کردگی میں بہتر ہوتی ہے اور جلدی خراب نہیں  ہوتی۔

(۳۳)  سفر نمونۂ سقر  : 

سقر یعنی دوزخ یا جہنم۔ کہاوت سفر کو دوزخ کا نمونہ کہہ رہی ہے کیونکہ سفرہمیشہ تکلیف دہ اور صبر آزما ہوتا ہے۔

( ۳۴)  سکھ کے سب ساتھی،دُکھ میں  نہ کوئے  : 

دُکھ میں  بقول کسے آدمی کا سایہ تک اُس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ وقت اچھا ہو تو دوست احباب سبھی گھیر ے رہتے ہیں۔ محل استعمال ظاہر ہے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain


س۔ کی کہاوتیں

( ۳۵)  سگ بباش، برادر خورد مباش  :

  یعنی کتّا بن جا لیکن چھوٹا بھائی مت بن۔ گھر میں  چھوٹے بھائی پر ہر شخص حکم چلایا کرتا ہے اور اس کی کوئی نہیں  سنتا۔گویا سب سے زیادہ کمزور ہونا بھی ایک لعنت ہے۔

( ۳۶)  سنگ آمد و سخت آمد  : 

 یعنی ایک تو پتھر آیا، وہ بھی سخت۔ کسی بڑی مصیبت کا سامنا ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۳۷) سونے کا نوالہ کھلاؤ اور شیر کی نگاہ دیکھو  : 

یہ کہاوت بچوں  کی اچھی پرورش کا راز بتاتی ہے کہ اگر بچوں  کا من بھاتا کھلایا جائے لیکن ان کی نگہ داشت اور تربیت سختی سے کی جائے تو اولاد اچھی نکلتی ہے۔

( ۳۸ )  سو  نا اُچھالتے ہوئے چلے جاؤ   : 

یعنی شہر میں  اس قدر امن و اَمان اور قانون کی پاسداری ہے کہ سر عام ہاتھ میں  سونا لے کر اس کو بغیر کسی تردد یا خوف و خطر کے اُچھالتے چلے جائیے۔

(۳۹)  سوت نہ کپاس، جُلاہے سے لٹھم لٹھا  : 

 لٹّھم لٹّھا یعنی مار پیٹ، جھگڑا، بے تحاشہ لاٹھی چلانا۔ مطلب یہ ہے کہ سوت اور کپاس تو پاس ہے نہیں  اور جلاہے سے جھگڑا ہو رہا ہے۔ جب کوئی شخص بلا وجہ بحث یا دنگا فسادکرے تب یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اس کے پس منظر کے طور پر کئی حکایتیں  بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہاں دَرج کی جاتی ہے۔ ایک ٹھاکر صاحب ایک جلاہے کے گھر پہنچے اور اس سے کہا کہ ’’میرے لئے ایک کرتے کا کپڑا بُن دو۔‘‘ جُلاہے نے کہا کہ ’’ میرے پاس سُوت نہیں  ہے۔ آ پ سوت دے دیں  تو کپڑا بن  دوں  گا۔‘‘ ٹھاکر نے جھلا کر کہا کہ ’’ سوت نہیں  ہے تو کپاس لے کر کات کیوں  نہیں  لیتے۔‘‘ جلاہے نے جواب دیا کہ ’’ کپاس بھی نہیں  ہے۔میں  کیا کروں۔‘‘ ٹھاکر صاحب غصہ میں  لاٹھی تان لی، جلاہے نے بھی جواب میں  ڈنڈا اُٹھا لیا اور دونوں  میں  خوب لاٹھی چلی۔

Wednesday, 22 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain



س۔ کی کہاوتیں

(۴۰)  سونے پر سہاگہ  : 

سونے کا رنگ نکھارنے کے لئے سہاگہ (ایک طرح کا کیمیاوی مرکب) استعمال ہوتا ہے۔ کسی بات کی معنویت یا لطف بڑھانے کے لئے کوئی اضافی نکتہ بیان کیا جائے تو اسے سونے پر سہاگہ کہتے ہیں گویا یہ بات تو یوں  بھی خوبصورت تھی مگر اب اور بہتر ہو گئی ہے۔

(۴۱ )  سورج خاک ڈالنے سے نہیں  چھپتا  : 

جس طرح سورج پر خاک اُچھالنے سے اس کی توانائی میں  کوئی فرق نہیں آتا ہے اسی طرح  بزرگوں  اور اہل حیثیت پر کسی کی اوچھی باتوں  کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کہاوت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جس طرح سورج پر پھینکی  ہوئی خاک لوٹ کر خود پھینکنے والے پر آ گرتی ہے اُسی طرح بڑوں  کی برائی کرنے والا بھی اپنی زبان درازی اور کم فہمی کا خمیازہ بھگتتا ہے۔

( ۴۲)  سو دِن چور کے تو ایک دن شاہ کا  : 

چور آخر کار پکڑ کر کیفر کردار کو پہنچا ہی دیا جاتا ہے۔یعنی برائی کبھی نہ کبھی ظاہر ہو کر رہتی ہے اور پھر برا کرنے والے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

(۴۳)  سویا مرا برابر  : 

 سویا ہوا آدمی اسی طرح اپنے گردو پیش سے بے خبر ہوتا ہے جیسے مردہ۔ کہاوت کا یہی مطلب ہے۔

(۴۴)  سو سُنار کی، ایک لوہار کی  : 

سُنار اپنے نازک اور باریک کام میں  بہت ہلکی ہتھوڑی سے کام لیتا ہے جب کہ لوہار اپنے بھاری کام میں  بڑا ہتھوڑا استعمال کرتا ہے۔ اس طرح لوہار کی ایک ضرب سُنار کی سیکڑوں  ضربوں  کے برابر ہوتی ہے۔ جب کوئی مسئلہ بہت سی  نرم باتوں  سے حل نہ ہو لیکن ایک پر زور اور سخت بات کام کر جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain



س۔کی کہاوتیں

(۴۵)  سولہا سنگھار کرنا  : 

 پرانے زمانے میں خواتین مسّی، سرمہ، مہندی، سرخی وغیرہ سنگھار کے لئے استعمال کرتی تھیں۔ زیورات ان کے علاوہ تھے۔ سولہا سنگھار کرنا یعنی بہت اچھی طرح بنناسنورنا۔ یہ نہیں  معلوم ہو سکا کہ سولہا سے واقعی سولہا قسم کے لوازماتِ  آرائش مقصود ہیں  یا یہ محض بھر پورسنگھار کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ گمان اغلب ہے کہ اچھی طرح سنگھار ہی مقصود ہے۔

( ۴۶  )  سوئی کا بھالا بنا دیا   :

  یعنی چھوٹی سے بات کو بڑھا چڑھا کر کہیں  سے کہیں  پہنچا دیا۔ اس کو’’ بات کا بتنگڑ بنانا‘‘  یا’’ رائی کا پربت بنانا‘‘ بھی کہتے ہیں۔

(۴۷)  سہج پکے سو میٹھا   :

  جو پھل شاخ پر ہی پک کر تیار ہو وہ زیادہ  لذیذ اور  میٹھا ہوتا ہے۔اسی مناسبت سے جو کام بھی صبر کے ساتھ کیا جائے بہتر ہوتا ہے جبکہ وہی کام  جلد بازی میں  خراب ہو سکتا ہے۔ اسی سے ملتی جلتی  ایک اور کہاوت ہے کہ’’ جلدی کا کام شیطان کا‘‘۔ اس کو’’ صبر کا پھل میٹھا‘‘ بھی کہتے ہیں۔

( ۴۸ )  سینگ کٹا کر بچھڑوں  میں  شامل ہو گئے  : 

 سینگ کاٹنے سے بیل، بچھڑا نہیں  بن جاتا ہے۔ اپنی اصل عمر چھپا کر کوئی شخص خود کو اگر کم عمر نوجوان ظاہر کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ کہاوت میں  ہتک اور طنز کا پہلو مخفی ہے کیونکہ  لوگ اپنی عمر عموماً کسی گھٹیا مقصد کی خاطر ہی کم بتاتے ہیں۔

(۴۹)  سیر کو سوا سیر مل ہی جاتا ہے    : 

 کلو گرام سے پہلے ہند و پاک میں  سیر استعمال ہوتا تھا۔ یہاں  سیر سے مراد ایسا آدمی ہے جس کو اپنی طاقت یا دولت پر غرور ہو۔ ایسا آدمی شیخی میں اکثر بھول جاتا ہے کہ دُنیا میں  اس سے بھی زیادہ طاقت ور اور دولت مند لوگ موجود ہیں ۔  زندگی کسی نہ کسی موقع پر اس کو یہ سبق بھی سکھا ہی دیتی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs seen ki kahawtain



س ۔ کی کہاوتیں

(۵۰)  سیدھی انگلی گھی نہیں نکلتا  :

  دودھ کو بلویا جائے تو گھی الگ ہو کر اُ س میں  تیرنے لگتا ہے۔ اس کو چکھنے کے لئے ایک انگلی چمچے کی طرح ٹیڑھی کر کے گھی نکالا جاتا ہے۔ اگر دودھ میں  انگلی سیدھی ڈال کر کھینچ لی جائے تو گھی نہیں  نکلے گا۔ کسی مسئلہ کے حل میں  سیدھے سبھاؤ  کام نہ چلے اور سختی کی ضرورت نا گزیر ہو جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے یعنی اب سختی کرنی ہی پڑے گی۔

( ۵۱)  سیّاں  بھئے کوتوال،  اب ڈر کاہے کا   :

  سیّاں  یعنی محبوب یا شوہر جب شہر کوتوال ہو گیا تو گویا خود محبوبہ بھی شہر کی مالک ہو گئی۔ اگر کوئی صاحب دولت و رسوخ کسی شخص کا پشت پناہ ہو جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے کہ اب ڈر کس بات کا۔

( ۵۲ )  سینے پر سانپ لوٹ گیا  : 

 یعنی بے حد رشک و حسد کا شکار ہوا۔ کسی کے سینہ پر سانپ لوٹ جائے تو وہ انتہائی خوف زدہ تو یقیناً ہو گا لیکن حسد کیوں  محسوس کرے گا یہ معلوم نہیں  ہو سکا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)