Showing posts with label kaf ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label kaf ki kahawtain. Show all posts

Friday, 24 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,



ک۔ کی کہاوتیں

(۱)  کان پڑی آواز سنائی نہ دینا  :

  شور و غل کی جگہ اگر کسی سے کچھ کہنا ہو تو اس کے کان کے قریب منھ لا کر بلند آواز میں  بات کہی جاتی ہے۔ اس کو’’ کان پڑی آواز‘‘ کہتے ہیں۔ اگر پھر بھی بات سمجھ میں  نہ آئے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

( ۲ )  کانی کوڑی کا بھی نہیں    :

  پہلے زمانے میں  کوڑی بھی بازار میں چھوٹے سکے کے طور پر چلتی تھی۔ایک پیسے میں  پانچ کوڑیاں  ہوتی تھیں۔ اگر کوڑی میں سوراخ ہو تو وہ کا نی کہلاتی ہے اور اس کی کوئی قیمت نہیں  رہ جاتی ہے۔کہاوت کا مطلب ہے کہ بالکل بے وقعت اور ناکارہ ہے۔

(۳)  کانوں  کان خبر نہ ہونا  :

کانوں  کان یعنی کان میں  راز داری سے کہہ کر۔ مطلب یہ کہ کسی کو بھی خبر نہ ہونا۔

(۴)  کان پر جوں  تک نہیں رینگتی  :

  کسی کے کان پر جوں  رینگے تواس کو بے چینی ہوتی ہے۔کان پر جوں  رینگنے کا احساس نہ ہونا مکمل بے حسی کی نشانی ہے۔ جب کسی شخص پر مسلسل تنبیہ کا کوئی اثر نہ ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۵) کاٹو تو لہو نہیں  بدن میں   :

  انتہائی شرمندگی یا خوف و ہراس میں  آدمی کے ہوش وحواس اُڑ جائیں  تو یہ کہاوت استعمال ہوتی ہے۔ اسے’’ خون خشک ہو جانا‘‘ بھی کہتے ہیں۔

(۶ )  کالے آدمی صابن سے گور ے نہیں ہو جاتے  :

  آدمی کی خصلت لاکھ تدبیریں  کرنے کے بعد بھی نہیں  بدلتی۔ کہاوت اس کی مثال ایسے کالے آدمی سے دے رہی ہے جو صابن سے اپنا رنگ گورا کرنے کی فکر میں  ہو۔

 (۷ )  کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے  : 

 یعنی انتہائی غصہ کے عالم میں  ہے۔ کہاوت سے پاگل کتے کی خوفناک تصویر سامنے آتی ہے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,



ک۔ کی کہاوتیں

(۸)  کام کا نہ کاج کا، دُشمن اناج کا  :

 یہ فقرہ ناکارہ اور  مفت خور شخص کے لئے کہا جاتا ہے۔اناج کا دشمن  یعنی کھانے پینے کا شوقین۔

 (۹ )  کام چور،نوالہ حاضر  :

  یعنی وہ آدمی جو کام کے وقت بہانہ بنا کر غائب ہو جائے لیکن کھانے کے وقت دسترخوان پر آ دھمکے۔

( ۱۰)  کاٹھ کی ہانڈی کب تک چولھے پر چڑھی رہے گی   :

  جھوٹی اور غلط بات بہت دنوں تک نہیں  چلتی ہے اور آخر کار اُس ڈھول کا پول کھل جاتا ہے، گویا جھوٹی بات لکڑی کی ہانڈی کی طرح ہے جو آگ پر زیادہ دیر تک نہیں  چڑھی رہ سکتی۔

( ۱۱ )  کاغذ کے گھوڑے دوڑاتے ہیں   : 

یعنی محض کاغذی کارروائی کرتے ہیں، عملی طور پر کوئی کام نہیں  کرتے۔

( ۱۲ )  کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی  : 

 یعنی کوئی بے بنیاد اور فضول بات کس طرح قبول کی جاسکتی ہے۔ ایک نہ ایک دن یہ کاغذ کی ناؤ کی طر ح خود ہی ڈوب جائے گی اور لوگوں  کو سب حالات معلوم ہو جائیں  گے۔ جب کوئی شخص بے بنیاد اور فضول باتیں  کرے یا دھوکہ اور فریب سے کام نکالنا چاہے تو تنبیہ کی خاطر یہ کہاوت کہتے ہیں۔

( ۱۳)  کابل میں  کیا گدھے نہیں  ہوتے   : 

یعنی دنیا میں  کوئی ایسی جگہ نہیں  ہے جہاں  کم عقل لوگ موجود نہ ہوں ۔نہ عقل پر کسی کا اجارہ ہے اور نہ بے عقلی پر۔ ہر طرح کا انسان ہر جگہ مل جاتا ہے۔

( ۱۴)  کالے کے آگے چراغ نہیں  جلتا   :

  عوام میں  (غلط)مشہور ہے کہ اگر گھر میں  چراغ جل رہا ہو اور ناگ سانپ آ جائے تو وہ پھونک مار کر چراغ کو بجھا دیتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ظالم شخص کو ذرا سی نیکی بھی نہیں  بھاتی۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,




ک۔ کی کہاوتیں

( ۱۵ )  کان کھڑے ہو گئے  : 

خطرہ کا احساس ہوتے ہی جانوروں  کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں  تاکہ وہ چھوٹی سی آواز بھی سُن سکیں۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ ہوشیار ہو گئے اور سار ی توجہ ایک جانب مرکوز ہو گئی۔

( ۱۶ )  کان کے کچے ہیں   :

  یعنی بغیر دیکھے بھالے ہر ایک کی بات کا اعتبار کر لیتے ہیں۔

(۱۷ )  کالے کا کاٹا پانی نہیں  مانگتا  :

  کالا یعنی ناگ۔ عوام کا (غلط)خیال ہے کہ ناگ کا کاٹا ہوا آدمی اتنی جلد مر جاتا ہے کہ اس کو پانی مانگنے کی بھی مہلت نہیں  ملتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے شخص کو مرنے میں  کافی وقت لگتا ہے اور اگر فوری طبی امداد مل جائے تو بچ بھی سکتا ہے۔ بہر حال کہاوت میں  کالا ظالم اور زبردست شخص کااستعارہ ہے کہ اس کی مار سے آدمی جلد ہی برباد ہو جاتا ہے۔

( ۱۸ ) کان میں  تیل ڈالے بیٹھے ہیں   :

  لوگ کان میں  تیل ڈال کر روئی کا پھایہ لگا لیتے ہیں ۔ اس سے اور کچھ ہو نہ ہو سنائی ضرور کم  دینے لگتا ہے۔  اسی مناسبت سے یہ کہاوت ہے یعنی سننے کو تیار نہیں ہیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۱۹ )  کالا اچّھر بھینس برابر  :

ا َ چّھر( ہندی اَکچھر)یعنی حرف۔ کہاوت ایسے آدمی کے متعلق ہے جس کے لئے لکھے ہوئے حرف اور بھینس میں  کوئی فرق نہیں  ہے، یعنی جاہل مطلق، اَن پڑھ۔

(۲۰)  کاتا اور لے دوڑی  :

  یعنی اِدھر کرگھے پر کچھ کاتا اور فوراً ہی دوسروں  کو دکھانے کو دوڑ پڑے۔ کوئی کام کیا جائے تو دوسروں  کو دکھانے سے پہلے اُس کو اچھی طرح جانچ پرکھ لینا چاہئے۔ ’’جلدی کا کام شیطان کا‘‘ بھی اسی معنی میں مشہور ہے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,



ک۔ کی کہاوتیں

( ۲۱)  کاٹھ کا اُلّو  :

  یعنی جاہل مطلق، بالکل احمق۔

(۲۲)  کاجل کی کوٹھری  :

  اگر کوئی ایسی کوٹھری میں  جائے جو کاجل سے بھری ہو تو وہ اُس میں  سے کالا منھ لے کر نکلے گا۔چنانچہ کاجل کی کوٹھری سے مراد ایسی جگہ یا معاملہ ہے جہاں  سوائے رُسوائی اور بدنامی کے اور کچھ حاصل نہ ہو۔

(۲۳ )  کبھی نہ دیکھا بوریا اور سپنے آئی کھاٹ  :

  بوریا یعنی بورے کا ٹکڑا، کھاٹ یعنی چارپائی۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ مفلسی کا ہی عالم رہا لیکن خواب بڑے بڑے دیکھتے ہیں۔

(۲۴)  کباب میں  ہَڈی  : 

 اگر کباب میں  ہڈی نکل آئے تو سارا مزا کرکرا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اچھے بھلے کام میں  کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۲۵ )  کبوتر با کبوتر، باز با باز  :

  یعنی کبوتر، کبوتر کے ساتھ اور باز، باز کے ساتھ (پرواز کرتا ہے)۔ یہ ایک فارسی شعر کا مصرع ہے:

کند ہم جنس  با  ہم جنس  پرواز         کبوتر  با  کبوتر  باز  با     باز

(ہم جنس ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی اُڑتے ہیں۔کبوتر، کبوتر کے ساتھ اور باز، باز کے ساتھ)

( ۲۶ )  کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں   : 

 کہاوت دُنیا اور انسانی زندگی کی مستقل بدلتی ہوئی کیفیت کا ذکر کر رہی ہے کہ ہمیشہ دن ایک سے نہیں  رہتے۔ کسی شاعر نے اس حقیقت کو یوں  بیان کیا ہے     ؎
ثبات  ایک  تغیر  کو  ہے  زمانے  میں             سکوں  محال  ہے قدرت کے کارخانے میں

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,


ک۔ کی کہاوتیں

( ۲۷ )  کبھی گاڑی ناؤ پر، کبھی ناؤ گاڑی پر   : 

 دُنیا ہمیشہ تغیر پذیر ہے۔ حالات، وقت، لوگ سبھی کچھ بدلتا رہتا ہے۔ کہاوت اسی حقیقت کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ کبھی بیل گاڑی کو  ناؤ پر دریا پار لے جانے کے لئے چڑھانا پڑتا ہے اور کبھی ناؤ کو  گاڑی پر لادنا پڑتا ہے۔ جیسی ضرورت اور حالات کا تقاضہ ہو اُسی طرح کرنا چاہئے۔

( ۲۸ )  کتّا بھی بیٹھتا ہے تو دم ہلا کر بیٹھتا ہے   : 

 کتّا جب بیٹھتا ہے تو عام طور پر دو ایک چکر لگا کر اور دُم اِدھر اُدھر ہلا کر بیٹھتا ہے جیسے وہ اپنی جگہ صاف کر رہا ہو۔ گویا جب کتے کو صفائی کا اتنا خیال ہے تو انسان کو بھی چاہئے کہ بیٹھنے سے پہلے جگہ صاف کر لے۔

( ۲۹)  کتے کی دُم بارہ سال نلکی میں  رکھی تب بھی ٹیڑھی کی ٹیڑھی  :

  اِ   نسان کی فطرت بدلی نہیں  جا سکتی۔ تعلیم و تربیت سے اس میں  ایک حد تک نرمی اور لچک پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس کی اصلیت نہیں  بدلتی۔ کہاوت اس کی مثال کتّے کی دُم سے دیتی ہے جو ہمیشہ ٹیڑھی رہتی ہے اور برسوں  سیدھی نلکی میں  رکھنے کے بعد بھی ٹیڑھی ہی نکلتی ہے۔

( ۳۰)  کتے کو گھی نہیں  پچتا   : 

 تیل کے مقابلہ میں گھی بہتر مانا جاتا ہے۔ پچنا یعنی ہضم ہونا۔مشہور ہے کہ کتّا اگر گھی پی لے تو اس کو بدہضمی ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اوچھے آدمی کو اچھوں  کی صحبت راس نہیں  آتی ہے اور وہ اس کے تقاضے پورے نہیں  کر سکتا۔

( ۳۱ )  کچی گولیاں  نہیں  کھیلی ہیں   :

کچی گولیاں  کھیلتے میں  ٹوٹ جاتی ہیں اور اس سے کھلاڑی کی نا تجربہ کاری ظاہر ہوتی ہے۔گویا کچی گولیاں  نا تجربہ کاری اور ناعاقبت اندیشی کا استعارہ ہیں۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ ایسے نا تجربہ کار نہیں  ہیں  کہ فاش غلطی کریں۔

(۳۲)  کچے گھڑے کی چڑھی ہے  : 

 دیسی شراب، خصوصاً تاڑی، گھڑے میں  رکھی جاتی ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ نشہ میں  ہیں۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,


ک۔ کی کہاوتیں

( ۳۳)  کچھ بسنت کی بھی خبر ہے؟   : 

یعنی کچھ دُنیا کی بھی خبر ہے ؟ آدمی گھر میں  بند رہے تو اسے بسنت کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب کوئی شخص اپنے اِرد گرد کے حالات سے بے خبر ہو۔

( ۳۴ )  کچھ سونا کھوٹا، کچھ سنار کھوٹا   : 

 بگاڑ یا فسادصرف ایک طرف سے نہیں  ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے ہی کچھ نہ کچھ زیادتی ہوتی ہے۔

(۳۵ )  کریلا اور نیم چڑھا  : 

کریلا اور نیم دونوں  کڑوے ہوتے ہیں۔ اگر کریلے کی بیل، نیم کے درخت پر چڑھی ہو تو اس کا کریلا نیم کی کڑواہٹ جذب کر کے (محاورہ کی حد تک ہی سہی! )مزید کڑوا ہو جائے گا۔ اسی طرح کوئی بد دماغ اور غصہ ور شخص دوسرے بد دماغ اور غصہ ور لوگوں  کی صحبت میں  رہے تو وہ اپنی فطرت اور عادت میں  کچھ زیادہ ہی کڑوا اور پختہ ہو جائے گا۔

( ۳۶ )  کر سیوا، کھا میوہ   : 

یعنی خدمت کا صلہ میٹھا ہوتا ہے۔ خدمت سے کوئی مادّی فائدہ نہ ہو تب بھی جو دلی سکون ملتا وہ بڑی نعمت ہے۔

( ۳۷ ) کرے داڑھی والا، پکڑا جائے مونچھوں  والا   : 

 یعنی غلطی تو ایک آدمی کرے اور اس کی پاداش میں  پکڑا جائے کوئی اور ۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۳۸ )  کرے کوئی بھرے کوئی  :

  یہ کہاوت بھی انہیں  معنی میں  استعمال ہوتی ہے جس میں ’’کرے داڑھی والا، پکڑا جائے مونچھوں  والا ‘‘مستعمل ہے۔

( ۳۹)  کس کھیت کی مولی ہے  : 

 کم حیثیت آدمی کے لئے یہ کلمہ حقارت سے بولا جاتا ہے کہ بھلا اس کی کیا حیثیت یا اوقات ہے۔



Thursday, 23 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,


ک۔ کی کہاوتیں

(۴۰)  کس برتے پر تتّا پانی   :

  یعنی ایسا کس بات کا غرور ہے کہ زور دکھا رہے ہیں اور  خود کو بڑا ظاہر کر تے ہیں۔

( ۴۱ )  کس نہ می پرسد کہ بھیا کون ہو  : 

س کہاوت کا پہلا حصہ فارسی ہے اور دوسرا اُردو۔ یعنی کوئی نہیں  پوچھتا کہ بھائی تم کون ہو؟ گویا کس مپرسی کا عالم ہے۔دنیا کی عام کیفیت ایسی ہی ہے کہ کوئی کسی کو نہیں  پوچھتا۔

( ۴۲)  کسی کا گھر جلے، کوئی تاپے  : 

یعنی کسی کو کسی کا غم نہیں  ہے۔ دنیا کا عام حال یہ ہے کہ کسی کا گھر جلتا ہے تو بجائے ہمدردی اور مدد کرنے کے لوگ اپنے ہاتھ تاپنے کی فکر کرتے ہیں۔

( ۴۳ )  کس کی رہی ہے اور کس کی رہ جائے گی  : 

دُنیا میں  کوئی ہمیشہ نہیں  رہا اور نہ ہی کبھی رہے گا۔ سب کچھ آنی جانی ہے۔

( ۴۴)  کس مرض کی دَوا ہے؟  : 

کسی کی نا اہلیت کا ذکر مقصود ہو تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔ یعنی بیکار ہے، کسی کام کا نہیں۔

( ۴۵ )  کسی کا ہاتھ چلے کسی کی زبان  : 

وئی شخص غصہ میں  مار پیٹ سے کام لیتا ہے اور کوئی صرف زبان سے برا بھلا کہہ لیتا ہے۔

 ( ۴۶ )  کسی نے پیا دودھ کسی نے پیا پانی،دونوں  کو ایک رین گنوانی  :

  رَین یعنی رات۔ وہ دولت مند ہو یا غریب زندگی دونوں  کی بہرحال گزر ہی جاتی ہے، ایک کی اچھی اور دوسرے کی نسبتاً خراب۔

( ۴۷ )  کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے  :

 یعنی بڑی مشکل سے راضی کیا۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,



ک۔ کی کہاوتیں

( ۴۸ )  ککڑی کے چور کو پھانسی نہیں دیتے   :

  یعنی معمولی جرم پرکسی کو سخت سزانہیں  دینی چاہئے۔

( ۴۹)  کل کے جوگی اور کندھے پر جٹا  :

  جوگی یعنی فقیر،جٹا یعنی وہ لمبی زلفیں  جو بعض فقیر بڑھا لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی کچھ کیا بھی نہیں  لیکن اپنے کامل فن ہونے کا اعلان کر دیا جیسے کوئی فقیری لیتے ہی نمائش کے لئے جٹا رکھ لے۔ اسی معنی میں جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش بھی بولتے ہیں۔

( ۵۰)  کلھیا میں  گُڑ پھوڑتے ہیں   : 

 کلھیا یعنی مٹّی کی چھوٹی ہنڈیا۔ اس کے اندر ہی اندر گڑ پھوڑا جائے تو کسی اور کو خبر نہیں  ہوسکتی۔  کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ اندر ہی اندر راز داری کی باتیں  ہو رہی ہیں  تاکہ کسی کو خبر نہ ہو جائے۔

( ۵۱ )  کل گیا ٹل  : 

جو کام کرنا ہو اس کو ٹالنا نہیں  چاہئے۔ کل پر چھوڑا ہو اکام کبھی نہیں  ہوتا کیونکہ کل کبھی آتا ہی نہیں ہے۔

( ۵۲)  کم خرچ بالا نشین  : 

ایسی چیز کو کہتے ہیں  جو قیمت میں  کم لیکن شان و شوکت اور تام جھام میں  بہت اونچی ہو۔

( ۵۳)  کمہار سے بس نہ چلے گدھے کے کان اینٹھے  : 

یعنی جب کسی کا کمھار پر بس نہیں  چلتا تو وہ اپنا غصہ غریب گدھے کے کان اینٹھ کر اُتارتا ہے۔ اسی طرح ہر شخص اپنا غصہ اپنے سے کمزور شخص پر ہی اُتارتا ہے۔ یہی حقیقت ایک اور کہاوت میں  یوں  کہی گئی ہے کہ  ’’نزلہ عضو ضعیف پر ہی گرتا ہے‘‘۔

(۵۴)  کمبل اوڑھے سے کوئی فقیر نہیں  ہو جاتا  : 

جس طرح صرف کمبل اوڑھ لینے سے کوئی فقیر نہیں  ہو جاتا اسی طرح اپنی ظاہری صورت یا بھیس بدل لینے سے کسی شخص کی فطرت یا اصلیت نہیں  بد ل جاتی ہے۔ اپنے آپ میں  بڑی اور بنیادی تبدیلی لانے کے لئے اور بہت سی باتیں  بھی کرنی ہوتی ہیں۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,


ک۔ کی کہاوتیں

(۵۵)  کمبل نہیں  چھوڑتا  : 

 یعنی کسی طرح چھٹکارہ نہیں  مل رہا ہے،جان نہیں  چھوٹ رہی ہے۔ اس کے پس منظر میں  ایک کہانی ہے۔ ایک شخص دریا کے کنارے کھڑا تھا کہ اس کے سامنے سے ایک کالا کمبل بہتا ہوا گزرا۔مفت کا کمبل حاصل کرنے کی لالچ میں وہ دریا میں   کود پڑا اور چاہا کہ کمبل کو کھینچ لائے۔ وہ دراصل ایک کالا ریچھ تھا جو دور سے کمبل کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ ریچھ نے اُس شخص کو دبوچ لیا تو اُس نے شور مچانا شروع کیا۔کنارے سے لوگوں  نے پکار کر کہا کہ ’’تو کمبل کو کیوں  نہیں  چھوڑ دیتا ہے؟‘‘ جواباً اس نے چلا کر کہا کہ ’’بھائی میں  تو کمبل کو چھوڑ دوں  لیکن کمبل مجھ کو نہیں  چھوڑ رہا ہے۔‘‘

( ۵۶) کنویں  پر گئے اور پیاسے واپس آئے   : 

 یعنی کام کی جگہ تو گئے لیکن کام نہ بنا اور خالی ہاتھ واپس پلٹ آئے۔

( ۵۷)  کنویں  کے پاس پیاساہی جاتا ہے  : 

 یعنی ضرورت مند ہی دوسروں  کے پاس حاجت روی کے لئے جاتا ہے۔ دوسرے اس کے پاس اس کی حاجت پوری کرنے کے لئے نہیں  آ تے۔

( ۵۸ )  کنّی دبتی ہے  : 

کمزور پڑتے ہیں، دوسروں  سے دَبتے ہیں۔کنّی دبنا پتنگ بازی کی اصطلاح ہے۔

( ۵۹)  کنّی کاٹ کر نکل گئے  : 

نگاہ بچا کر بالا ہی بالا نکل گئے، سامنے نہیں  آئے۔ عام طور پر ایسے آدمی کے بارے میں  کہتے ہیں  جو اپنی ذمہ داری سے جی چرا کر خاموشی سے اِدھر اُدھر ہو جائے۔ کنّی کاٹنا بھی پتنگ بازی کی اصطلاح ہے۔




اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,


ک۔ کی کہاوتیں 

( ۶۰ )  کنواں  بیچا ہے، کنویں  کا پانی نہیں  بیچا  : 

اس کہاوت کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ایک شخص نے دوسرے آدمی کے ہاتھ اپنا کنواں  فروخت کر دیا۔ جب وہ آدمی کنویں  سے پانی کھینچنے آیا تو اُس شخص نے اُس کو یہ کہہ کر روک دیا کہ’’ میں  نے کنواں  بیچا ہے،کنویں  کا پانی تو نہیں  بیچا‘‘۔  جھگڑا بڑھا تو کنویں  کا خریدار قاضی ٔ  شہر کے پاس فریاد لے کر گیا۔ قاضی نے مقدمہ کی رُوداد سُن کر کہا کہ ’’کنویں  کا سابق مالک بات تو صحیح کہہ رہا ہے۔ اس نے واقعی کنویں  کا پانی نہیں  بیچا۔ چنانچہ اس کو عدالت کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ وہ دو دن کے اندر کنویں  میں  سے اپنا پانی نکال لے ورنہ دوسرے کے کنویں  میں  اپنا پانی رکھنے کا کرایہ دینا ہو گا۔‘‘  یہ سُن کر کنویں  کے سابق مالک کے ہو ش اُڑ گئے اور اُس نے اُسی وقت ہاتھ جوڑ کر عدالت اور  کنویں  کے مالک سے معافی مانگی،کنواں  مع پانی کے اس کےسپرد کیا اور اس طرح گلو خلاصی حاصل کی۔ کہاوت ایسی ہی فضول دلیل کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

( ۶۱ )  کند ہم جنس با ہم جنس پرواز  : 

یہ کہاوت ایک شعر کا پہلا مصرع ہے۔ اس کا ذکر پہلے آ چکا ہے:

کند ہم جنس با ہم جنس پرواز     کبوتر با کبوتر، با ز با باز

( ہم جنس ہمیشہ اپنے ہی گروہ میں اُڑتے ہیں،کبوتر کبوتروں  کے ساتھ اور باز دوسرے بازوں  کے ہمراہ پرواز کرتا ہے۔) 

( ۶۲ )  کنجوس مکھی چوس   :

  یعنی ایسا کنجوس کہ دودھ میں  اگر مکھی گر جائے تواس کو پھینکنے سے پہلے چوس لیتا ہے۔کہاوت میں  حقارت اور نفرت کا عنصر غالب ہے۔

(۶۳)  کنویں  سے نکلے، باولی میں  گرے  :  

باولی یعنی وہ بڑا کنواں  جس میں  پانی تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں  بنی ہوتی ہیں۔  کوئی ایک مصیبت سے بمشکل بچے اور فوراً  ہی اس سے بڑی مصیبت میں  جا پھنسے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ درج ذیل شعر بھی یہی مطلب ادا کرتا ہے:
ایک مشکل سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا       اور یہ پڑ گئی کیسی مرے اللہ نئی



اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,



ک۔ کی کہاوتیں

(۶۴ ) کنواری کو ارمان، بیاہی پشیمان  : 

 یعنی کنواری لڑکی کو تو شادی کا بہت ارمان ہوتا ہے لیکن شادی شدہ لڑکی سوچتی ہے کہ کس مصیبت میں  پھنس گئی۔گویا جب تک کسی صورت حال کا سامنا نہ ہو اُس وقت تک اس کے مسائل اور مشکلات کا علم نہیں  ہوتا۔

(۶۵)  کوئلے کی دلالی میں  ہاتھ بھی کالے، منھ بھی کالا  : 

آدمی کے پیشے کے نشانات و اثرات اس کی شخصیت اور اطوار میں  دَر آ تے ہیں۔ اس کی مثال کوئلوں  کی دلالی سے دی جا سکتی ہے کہ اس کام میں  ہاتھ اور منھ دونوں  کالے ہوتے ہیں۔گویا آدمی کو کام دیکھ بھال کر اختیار کرنا چاہئے۔

( ۶۶)  کوڑی کے تین تین  : 

 پہلے زمانے میں  کوڑی بھی چھوٹے سکے کی طرح بازار میں  چلتی تھی۔ ایک پیسے میں  پانچ کوڑی ہوتی تھیں چنانچہ کوئی چیز اگر ایک کوڑی میں  تین ملیں  تو وہ بہت کم قیمت ہوئیں۔ لہٰذا انتہائی بے حیثیت چیز یا شخص کے لئے یہ کلمہ استعمال ہوتا ہے۔ اس میں  تحقیر و تضحیک دونوں  کا پہلو ہے۔

( ۶۷ )  کوڑیوں  کے مول بک گئی  : 

 پہلے زمانے میں  کوڑی بھی چھوٹے سکے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ایک پیسہ میں  پانچ کوڑیاں  ہوتی تھیں  گویا قیمت میں  نہایت کم۔ چنانچہ کہاوت کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی چیز نہایت سستی بک گئی۔

 ( ۶۸ )  کوئی کسی کی قبر میں  نہیں  جاتا    : 

 ہر شخص اپنے اعمال کا خود ہی جواب دہ ہوتا ہے۔لوگوں  کا عقیدہ ہے کہ قبر میں  مرحوم سے سوال و جواب کے لئے دو  فرشتے منکر و نکیر آتے ہیں۔ کہاوت یہی کہہ رہی ہے کہ سوالوں  کا جواب تو مرحوم کو خود ہی دینا ہو گا کیونکہ اس کی قبر میں  اور کسی کا گزر نہیں۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,



ک۔ کی کہاوتیں

(۶۹)  کولھو کا بیل ہونا  :

 کولھو مختلف قسم کے  بیجوں  سے تیل نکالنے والی دیسی مشین کا نام ہے۔ اس میں  لگے ہوئے موسل کو ایک بیل مستقل کولھو کے اِرد گرد گھماتا رہتا ہے۔ بیل کی آنکھوں  پر پٹی بندھی ہوتی ہے تاکہ چکرا کے گر نہ جائے۔ چنانچہ کولھو کا بیل نہ صرف  دیکھنے سے معذور ہوتا ہے بلکہ ایک بندھے ٹکے چکر میں  کولھو کے اِرد گرد گھومنے پر بھی مجبور ہوتا ہے۔ اسی پس منظر میں  کولھو کا بیل ایسے شخص کو کہتے ہیں  جو بغیر سوچے سمجھے ایک ہی کام کئے چلا جاتا ہے جس کے مقصد سے بھی وہ واقف نہیں  ہے ۔

(۷۰)  کولھو میں پیلو تو نو من پکا تیل نکلے  :

  کولھو کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اس میں  بیجوں  کو پیل کر(دَبا کر) تیل نکالا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بہت مالدار ہو لیکن اپنی حیثیت کو جان بوجھ کر کم بتائے تواس کے بارے میں یہ کہاوت بولی جاتی ہے کہ یہ وہ نہیں  ہے جو ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہ تو بڑی حیثیت کا ہے۔ پکے تیل سے مراد  اچھا اور صاف تیل  ہے۔

( ۷۱ )  کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا  : 

 ہنس خوبصورت پرندہ ہوتا ہے اور اس کی چال بھی بڑی بانکی ہوتی ہے۔ بر خلاف اس کے کوّے کی چال بے ڈھنگی ہوتی ہے۔ کوئی شخص اچھوں کی نقل میں  وہ کرنا چاہے جس کا وہ اہل نہیں  ہے تو اپنی شخصیت یا تو کھو بیٹھے گا یا وہ مضحکہ خیز اور مسخ ہو کر رہ جائے گی۔ یہ کہاوت اسی حقیقت کو ایسے کوے سے تعبیر کرتی ہے جو ہنس بننے کے شوق میں  اُس کی چال چلنے کی کوشش کرے اور اپنی فطری چال بھی بھول جائے۔

( ۷۲)  کوّے کا بچہ کوّے کو پیارا ہوتا ہے  :

  کوّے کا بچہ اُسی کی طرح کالا اور بد شکل ہوتا ہے لیکن وہ کوے کو عزیز ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنی چیز ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے خواہ وہ کیسی ہی کیوں  نہ ہو۔

( ۷۳ )  کوئلوں  کی دلالی میں  ہاتھ کالے  : 

برا کام کیا جائے تو اس کا انجام بھی بدنامی یا سزا کی شکل میں  بھگتنا پڑتا ہے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs kaf ki kahawtain,


ک ۔ کی کہاوتیں

( ۷۴) کہیں  کھیت کی، سنے کھلیان کی   : 

یعنی بات کچھ ہو رہی ہے اور مخاطب سمجھ کچھ اور رَہا ہے۔ کھلیان وہ جگہ ہے جہاں  فصل کاٹ کر اکٹھی کی جاتی ہے۔

( ۷۵ )  کہاں  راجہ بھوج اور کہاں  گنگو تیلی   : 

راجہ بھوج سے مراد صاحب حیثیت شخص ہے جب کہ گنگو تیلی کم حیثیت آدمی کا استعارہ  ہے۔ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب دو ایسے آدمیوں  کا موازنہ کیا جا رہا ہو جو دولت و حیثیت میں  ایک دوسرے کی ضد ہوں۔

( ۷۶)  کھوٹا بیٹا،کھوٹا پیسا کام آ ہی جاتا ہے  : 

اپنی چیز خواہ وہ خراب اور عیب دار ہی کیوں  نہ ہو کبھی نہ کبھی کام دے ہی جاتی ہے۔

( ۷۷)  کھیر کھاتے دانت ٹوٹا   :

  یعنی اتنے نازک مزاج ہیں  کہ ذراسی بات کی بھی برداشت نہیں  ہے جیسے کھیر کھاتے میں  کسی کا دانت ٹوٹ جائے۔

( ۷۸)  کھسیانی بلی کھمبا نوچے  :

 کسی کی خواہش پوری نہ ہو تو اس کی الجھن کا اظہار اکثر بے تکی باتوں  سے ہوتا ہے۔ یہ وہی صورت ہے کہ بلی کھسیا کر کھمبا نوچنے لگتی ہے حالانکہ ایسا کرنے سے اس کو کچھ نہیں  ملتا۔

( ۷۹ )  کھلائے کو کوئی نہیں  دیکھتا، رُلائے کو دُنیا دیکھتی ہے  : 

اگر کوئی شخص غریب پروری کرے تو شاید ہی کوئی اس کی جانب نظر اٹھا کر دیکھے گا لیکن اگر وہ کسی کو دُکھ پہنچائے تو سب اسے بری نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ کہاوت بچہ کی پرورش پر بھی صادق آتی ہے کہ بچے کا اچھے سے اچھا کھلائیں  پلائیں  تو دنیا بے خبر رہتی ہے لیکن ایک بار وہ کسی بات پر رو دے تو ساری نگاہیں  اس کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔ اسی پر اور صورتیں  قیاس کی جا سکتی ہیں۔

(۸۰)  کہیں  کی اینٹ، کہیں  کاروڑا، بھان متیؔ نے کنبہ جوڑا   :

  بے جوڑ اور بے محل باتیں  بنا کر خواہ مخواہ اپنی بات کی تاویل نکالی جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ بھان متی ایک فرضی کردار ہے جو کہاوت کو پر لطف بنانے کے لئے ایجاد کیا گیا  ہے۔


Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)