Showing posts with label Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan. Show all posts
Showing posts with label Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan. Show all posts

Saturday, 13 May 2017

SAHNA A Famous Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan
















سیہنا
غلام ابن سلطا ن

نوجوان سیہنا کی عین عالمِ شباب میں ناگہانی موت کی خبر سن کر بستی کا ہر حساس انسان لرز اُٹھا۔ زندگی کا ساز بھی ایک عجیب نوعیت کا ساز ہے، اس کے ساز سے نمو پانے والا زندگی کا سوزِ دروں قلب اور روح کے احساسات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ زندگی میں کچھ ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو بادی النظر میں تو معمولی لوگ ہوتے ہیں لیکن ان سے وابستہ یادیں غیر معمولی نوعیت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ لوگ جب ہمارے پاس ہوتے ہیں تو ہم ان کی کوئی قدر نہیں کرتے لیکن جب یہی معمولی لوگ زینۂ ہستی سے اُتر کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب رختِ سفر باندھ لیتے ہیں تو معاشرتی زندگی میں جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ اندیشۂ شام و سحر کے امین اوقات، اتفاتات، سانحات، ، تعلقات، زندگی کے ارتعاشات، اور احباب سے وابستہ تلخ و شیریں یادوں کے ہیجانات کے لوحِ دِل پر غیر مختتم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سیہنا بھی ایک انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے نہایت دیانت دار محنت کش کا بیٹا تھا۔ سیہناکی بے بسی کے عالم میں موت نے بستی کے تمام مکینوں کو یاس و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ یہ کڑیل نو جوان تن تنہا آٹھ برقی کھڈیاں چلاتا۔ صبح سے شام تک فیکٹری ایریا میں انتہائی صبر آزما اور کٹھن حالات میں مزدوری کرتا اور کئی بار اسی فیکٹری میں دن اور رات کی ڈبل شفٹ بھی لگاتا۔ رزقِ حلال کما کر اپنے بوڑھے والدین کے لیے دو وقت کی روٹی اور دوا، علاج کے لیے درکار رقم کا بندو بست کرتا تھا۔ جب سے سیہنانے مزدوری پر جانے کے کام کا آغاز کیا اس کے گھر والوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی جس سے اس کے گھر کی روزانہ آمدنی میں اضافہ ہو گیا۔ قرض کا بوجھ اُترنے لگا اور خزاں کے سیکڑوں مناظر دیکھنے کے بعد طلوعِ صبحِ  بہاراں کی موہوم سی اُمید پیدا ہو گئی۔ اپنے والدین کی ہدایت کے مطابق سیہنا نے ایک ڈاکیے کی رہنمائی سے نزدیکی ڈاک خانے میں اپنا بچت کھاتہ بھی کھو ل لیا تھا۔ سیہنا کی ماں شاہدہ اور باپ فدا بہت مطمئن و مسرور رہنے لگے۔ وہ اس آس پر زندہ تھے کہ شاید پتھر کی بھی تقدیر بل جائے۔ ان کا قدیم آبائی مکا ن جو طُوفانِ نوحؑ کی باقیات کا منظر پیش کر رہا تھا اب ایک کھنڈر کی شکل اختیا ر کر گیا تھا۔ سیہنا کے کام پر جانے کے بعد اس میں تعمیری نوعیت کی مرمت اور برائے نام سی تبدیلیا ں رونما ہونے لگیں۔ پہلے اس بوسیدہ مکان میں دن کو بھی شب کی سیاہی کا سماں ہوتا تھا، اب اس میں بجلی کا میٹر لگ گیا۔ نصف صدی سے مرمت طلب شکستہ دیوار وں اور چھلنی کی طرح ٹپکنے والی چھتوں کی مرمت کر دی گئی۔ یوں تو سیہنا کا مکان گارے اور کچی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا لیکن گلی کی جانب والی دیوار دوم اینٹوں سے نئے سرے سے تعمیر کی گئی، اس دیوار کو پلستر کر دیا گیا۔ ایک دن میں وہا ں سے گزرا تو یہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہو ئی کہ سیہناکے گھر کی گلی والی دیوار میں کیکر کے پُرانے دیمک خوردہ دروازے کی جگہ لوہے کا ایک خوب صورت دروازہ نصب ہو چکا تھا، جس پر نیلا روغن بہت بھلا لگ رہا تھا۔ اور ایک مربع فٹ لکڑی کی تختی پر سفید روغن کر کے اس پر نیلی روشنائی سے جلی حروف میں لکھا تھا ’’ قصرِ سیہنا‘‘۔ بعض لوگوں کی کسرِ  نفسی اور عجز و انکسار میں لپٹی رعونت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے بلند و بالا قصر و ایوان پر جھونپڑی لکھ دیتے ہیں جیسے ’’ نمرود کاٹیج‘‘ وغیرہ۔ ہر فرعون، نمرود، فریدوں اور قارون عام آدمی کا مکھوٹا اپنے چہرے پر چڑھا کر سادہ لوح لوگوں کی آنکھوں میں دُھول جھونکتا ہے مگر اس کا کچا چٹھا سب کے سامنے ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایک کُٹیا پر قصر کی تختی دیکھ کر ہر شخص حیرت اور استعجاب میں ڈوب جاتالیکن غریبوں نے اپنے دل کی شادمانی کے لیے جس انتہائی مختصر اورسہل راہ کا انتخاب کیا وہ خواب سراب کے سوا کچھ بھی تو نہ تھا۔
محنت کش طبقے کا یہ نفسیاتی مسئلہ ہے کہ یہ روکھی سوکھی کھا کر نل کا پانی پی کر بھی ہر حال میں اپنے خالق کا شکر ادا کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نوشتۂ تقدیر اور حالات کا جبر ہے جو انھیں صبر و شکر کے ساتھ زندگی کے دن پورے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ فدا اور شاہدہ نے اپنے اکلوتے بیٹے سیہنا کی شادی کے اخراجات کے لیے مناسب رقم جمع کر لی۔ انھوں نے اپنے بیٹے سیہنا کو ہدایت کر دی کہ وہ گھر کے اخراجات کے لیے درکار رقم الگ کر نے کے بعد باقی رقم نزدیکی ڈاک خانے میں اپنے کھاتے میں جمع کر ا دیا کرے۔ فدا اور شاہدہ بھی مہینے میں ایک بار مقامی ڈاک خانے میں جاتے اور مہینہ بھر میں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر جو رقم پس انداز کرتے وہ سیہناکے بچت کھاتے میں جمع کرا دیتے۔ جاگتی آنکھوں سے روشن مستقبل کے خواب دیکھنے کی آرزو اور اُن سُندر سپنوں کی تعبیر کے انتظار میں اُن کی آنکھیں پتھر ا گئی تھیں۔ الم نصیبوں کے ساتھ المیہ یہ رہا ہے کہ جب وہ فاقہ کشی کا شکار ہوں تو کوئی اُنھیں نانِ جویں تک دینے پر آمادہ نہیں ہوتا اور جب وہ روکھی سُوکھی کھا کر پیٹ کا دوزخ بھرنے کی سکت رکھتے ہوں تو کوئی انھیں دیکھ نہیں سکتا۔ حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے تھے۔ سیہنا کے والدین فدا اور شاہدہ اپنی زندگی کے بہت کٹھن حالات سے گزر رہے تھے۔ اُس کی ماں شاہدہ دن بھر دولت مند لوگوں کے گھروں میں صفائی اور خانہ داری کے کام انجام دینے کے لیے نوکری کرتی۔ اپنے فارغ اوقات میں یہ محنت کش عورت کپڑوں پر کشیدہ کاری کرتی، شیشوں والی پنکھیاں بناتی اور اُونی سوئیٹر بنا کر رزقِ حلال کماتی۔ فدا نے زندگی بھر معماروں کے ساتھ مل کر مکانات کی تعمیر میں مزدوری کی۔ چار سا ل قبل ایک مکان کی تعمیر میں مزدوری کے دوران وہ زیرِ  تعمیر ہال کی تعمیر کے لیے بنائے گئے ایک قالب پر کھڑا تھا کہ قالب کے تختے ٹوٹ گئے۔ اس حادثے کے نتیجے میں دو مزدور زندگی کی بازی ہار گئے، فدا شدید زخمی ہو اور اس کی ایک ٹانگ ٹُوٹ گئی مگر اس نے غم کو گلے کا ہار نہ بنایا۔ زیرِ تعمیر ہال کے مالک سرمایہ داروں میں سے کسی نے ان مزدوروں کے شکستہ دل کا حال نہ پُوچھا۔ اس کی زندگی تو بچ گئی لیکن اس حادثے کے بعد وہ مزدوری کرنے اور بھاری بوجھ اُٹھانے کے قابل نہ تھا۔ انسانی زندگی کئی سانحات اور حوادث سے عبارت ہے وہ یہ بات اچھی طرح جا نتا تھا کہ ان حادثات کے بعد انسان کی زندگی کا سفر تو جیسے تیسے کٹ ہی جاتا ہے لیکں اس کی روح زخم زخم ہو جاتی ہے اور پُورا  وجودکر چیوں میں بٹ جاتا ہے۔ اس تکلیف دہ حادثے کے زخم بھرنے کے بعد فدا نے ایک نئے عزم کے ساتھ زندگی کے کٹھن سفر کا آغاز کیا۔ وہ منہہ اندھیرے گھر سے نکلتا، دریائے جہلم اور چناب کے سنگم پر واقع تریموں ہیڈ ورکس کے نواح میں میلوں تک پھیلے خود رو سر کنڈوں سے مونج کا ٹتا اور اس کا گٹھا سر پر اُٹھا کر گھر لاتا، مونج سوکھ جانے کے بعد اپنے گھر کے چھپر میں بیٹھ کر مونج کُو ٹتا۔ اس کے بعد ہاتھ پر مونج کا بان بناتا اور مونج کا یہ پُختہ بان شہر میں جا کر فروخت کر دیتا۔ فدا کا بنایا ہو مونج کا بان لوگوں میں بہت مقبول تھا چار پائیاں بُننے کے لیے لوگ یہ بان ہاتھوں ہاتھ لیتے مگر اس کے بد طینت حاسد اس کی بڑھتی ہوئی آمدنی، متوقع خوش حالی اور فراغت کو دیکھ کر اپنی بے بصری پر کفِ افسوس ملتے اور اپنے شب و روز کے معمولات کے انجام کے بارے میں سوچ کے ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جاتے۔
فدا اور شاہدہ نے سیہنا کی شادی کے لیے ہم پلہ رشتے کی تلاش شروع کر دی۔ چار سال کے مختصر عرصے میں فدا، شاہدہ اور سیہنا کی خون پسینے کی کمائی میں جو بچت ڈاک خانے کے بچت کھاتے میں جمع ہو سکی وہ پانچ لاکھ تھی۔ سب نے اسے قدرتِ  کاملہ کی کرم نوازی پر محمول کیا۔ موسم کی اداؤں کو سمجھنے والے اس امر سے بخوبی آگا ہ ہیں کہ لوگ تیزی سے تغیر پذیر موسم کے مانند روپ بدل لیتے ہیں۔ بعض ابن الوقت لوگ تو اپنا سوانگ بدلنے میں گرگٹ کو بھی مات دیتے ہیں۔ ہر قسم کی سہولیات سے محروم قدیم کچی آبادی کے وہ لوگ جو اس غریب خاندان کی غربت کے باعث ان لوگوں کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، وہ بھی اب ان کی جانب مائل بہ کرم ہو گئے۔ خزاں کی مسموم ہواؤں نے ان کے گلشنِ ہستی میں اُمیدوں کی کلیوں اور توقعات کے شگوفوں کو جُھلسا دیا تھا۔ اچھے دنوں کے بارے میں اب ان کی اُمید بر آنے اور چشم کے زار رونے کی کیفیت کے تھمنے کی صورت نظر آ رہی تھی۔ میر ے ایک پڑوسی ارشد کے ساتھ اس خاندان کے دیرینہ مراسم تھے۔ ارشد نے اس مفلوک الحال خاندان کی زندگی کے بارے میں مجھے بتا یا کہ ہمیشہ کوئی بلا ان بد نصیبوں کے تعاقب میں رہتی ہے۔ عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں کئی نشیب و فراز آتے ہیں لیکن ان مجبوروں کی زندگی میں فراز عنقا ہیں اور نشیبوں کی بھر مار ہے۔ تقدیر کے رازوں کا مظہر یہ ایک ایسا معما ہے جسے سمجھنا اور سمجھاناممکن ہی نہیں۔ یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ ان مجبوروں کی حیات مستعارکی سب رُتیں بے ثمر، کلیاں شرر، زندگیاں مختصر اور آہیں بے اثر کیوں کر دی جاتی ہیں۔ جب بھی ان کے گلشن ہستی میں اُمید کا کوئی گلاب نمو پاتا ہے تو اہلِ جور اس میں حسد کے خارِ مغیلاں چبھو کر ان کی روح کو ناقابل اندمال صدمات سے دو چار کر دیتے ہیں۔ نامعلوم ان کے گھر پر آسیب کا سایہ ہے، کسی جن، بھوت، چڑیل، آدم خور، کالے جادو یا بد روح کا اثر ہے کہ جب بھی ان کے گھر میں خوشی کا کوئی امکان پیدا ہوتا ہے، ایسے پُر اسرار حالات پیدا ہو جاتے کہ اِن کی اُمیدوں کی فصل غارت ہو جاتی اور صبح شام کی تمام محنت اکارت چلی جاتی۔ ایک دن اسی موضوع پر گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ ارشد نے کہا:
’’آج سیہنا، اس کا باپ فدا اور اس کی ماں شاہدہ یہاں مجھے ملنے آ رہے ہیں۔ تم بھی یہیں رُک جاؤ اور ان الم نصیبوں کے پیچیدہ مسائل کی گُتھی سُلجھانے کی کوششوں میں میری مدد کرو۔ ان کے ساتھ میرا درد مندی اور خلوص کا جو تعلق ہے و ہ میں بر قرار رکھنا چاہتا ہوں۔ ‘‘
میں نے ارشد سے پوچھا ’’خیر تو ہے !وہ کس مقصد کے لیے یہاں آ رہے ہیں۔ ‘‘
’’کوئی خاص مقصد تو نہیں ‘ارشد نے سرسری انداز میں کہا’’ یہ بھی عجیب لوگ ہیں، خود کو تباہ کر لینے کا جب بھی کوئی غیر ذمہ دارانہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو محض مجھے آگاہ کرنے اور دِل دُکھانے کی خاطر مشورے کے لیے یہاں چلے آتے ہیں۔ ‘‘
’’ یہ تو بڑی حیران کُن بات ہے۔ ‘‘ میں نے کہا ’’کوئی بھی انتہا پسندانہ فیصلہ کر لینے اور اس پر عمل کرنے کی ٹھان لینے کے بعد کسی کو اس سے آگاہ کر کے آزردہ کرنے اور اس کے بارے میں مشورہ کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟‘‘
’’اب میں ان لوگوں کی ضرورت کی وضاحت کیسے کروں ؟‘‘ارشد نے بیزاری سے کہا’’جس مشورے اور آگاہی کو آپ غیر ضروری سمجھتے ہیں، اُسی کو یہ لوگ نا گزیر خیال کرتے ہیں۔ اپنی بربادی اور انہدام کی پہاڑ جیسی غلطیاں کرنے کے باوجود بھی انھیں کچھ دکھائی نہیں دیتا اور ذرا ملال تک نہیں ہوتا۔ یہ مزدور اپنے دِل کی ویرانی کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال کر اپنی زندگی آہوں، پچھتاووں، سسکیوں اور خون کے گھونٹ پینے میں گزار دیتے ہیں۔ یہ مجبور انسان وہم و گُمان کے اسیر ہیں اور نشے کی لت میں مبتلا ہیں۔ ان کی کور مغزی اور بے بصری کا یہ حال ہے کہ جب تک ٹھو کر پہ ٹھوکر نہ کھائیں انھیں سکون نہیں ملتا۔ گردشِ ایّام نے ان کے ساتھ ہمیشہ عجب کھیل کھیلے ہیں۔ بے چین، گھبرائے ہوئے خاک بہ سر پھرنا اور در در کی ٹھوکریں کھانا ان کا مقدر ہیں۔ اُمنگوں کے لاشے اُٹھائے، حسرتوں کی دہکتی آگ میں ہمہ وقت سُلگتے یہ خزاں رسیدہ لوگ بُزدلانہ توہم پر ستی، مجنونانہ مہم جوئی اور احمقانہ قسمت آزمائی کی خاطر ٹھوکر کے علاقے میں جانے والے ہیں۔ ‘‘
ابھی ہم یہ باتیں کر رہے تھے کہ فدا، شاہدہ اور سیہنا پریشانی اور مایوسی کے عالم میں وہاں آ پہنچے۔ ایک ان جانے خوف کے باعث فدا اور شاہدہ دونوں کے چہرے ہلدی ہو رہے تھے۔ سیہنا کی آنکھیں بوٹی ہو چُکی تھیں اور وہ لڑ کھڑا رہا تھا۔ ہمارے قریب آ کر فدا نے بھرائی ہو ئی آواز میں کہا:
’’ہم نے یہ بستی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہت ہو چُکی، اب ہم چاروں طرف بکھرے دُکھوں کے جال سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ہم محنت کشوں کی یہاں کوئی قدر نہیں کرتا۔ ہم جان مار کے کام کرتے ہیں لیکن کبھی ہمیں کوئی انعام نہیں ملا۔ ‘‘
’’کیا معاملہ ہے ؟اس قدر پریشان کیوں ہو ؟‘‘ارشد نے نرم لہجے میں پُوچھا ’’اس بستی کو چھوڑنے کے بعد تم کہاں جاؤ گے؟یہاں تمھیں کن مشکلات کا سامنا ہے جن سے گھبرا کر تم بستی چھوڑنا چاہتے ہو؟حوصلے اور اعتماد سے کام لو، سب مشکلات کا حل نکل آئے گا۔ کرب ناک حالات کے جبر کے باوجود صبر سے کام لینا چاہیے۔ قادرِ مطلق کے انصاف اور مظلوموں کی دادرسی میں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن وہاں اندھیر ہر گز نہیں۔ تمھارا دماغ تو نہیں چل گیا کہ تم مزدور ہو کر انعام کی تمنا کر رہے ہو۔ یہاں تو صرف جاہل کو اس کی جہالت کا انعام ملتا ہے۔ ‘‘
’’اس بستی میں واقع ہمارے پُرانے گھر میں جن، بُھوت، چڑیلیں، آسیب، بد روحیں، آدم خور اور سر کٹے انسان مستقل طور پر ڈیرہ ڈال چُکے ہیں۔ ‘‘شاہدہ نے روتے ہوئے کہا ’’اب ہم یہاں نہیں رہ سکتے، ہماری زندگی خطرے میں ہے۔ چڑیلیں ہمارے گھر سے سامان اور پیسے چُرا کر لے جاتی ہیں۔ میرے کانوں میں ڈالی ہوئی سونے کی بالیاں تک چڑیلوں نے اُتار لیں۔ ‘‘
’’ سونے کی بالیاں چوری ہونے کے بعد تم نے نا معلوم چڑیلوں کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کیوں نہیں کرایا، یہ سب توہم پرستی اور خام خیالی ہے۔ ‘‘ارشد نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا’’ جس مخلوق کا ذکر تم لوگ کر رہے ہو اس پُر اسرار مخلوق کو پہلے تو اس علاقے میں کسی نے کبھی نہیں دیکھا۔ ‘‘
’’  ہم تھانے میں گئے تھے اور تھانے دار سے کہا تھا کہ وہ جلد از جلد چڑیلوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کریں لیکن اس نے ہنس کر ہمیں دھتکار دیا اور ہم مظلوموں کا مذاق اُڑایا۔ جہاں آگ جلتی ہے صرف وہی جگہ آگ کی گرمی کو محسوس کر سکتی ہے ‘‘ سیہنا  نے اضطراب سے جواب دیا ’’  صرف ہمیں خبر ہے کہ ہم یہاں کن مصیبتوں میں گِھر گئے ہیں۔ گنڈے، ٹونے اور کالے جادو نے ہماری زندگی بر باد کر دی ہے۔ ہم ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں تو چار قدم پیچھے کی جانب جا پڑتے ہیں۔ یہاں ہر روز صبح کے وقت جب میں کام کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلتا ہوں تو ایک منحوس کالی بلی میرا راستہ کاٹتی ہے، ہمارے کمرے کی چھت سے چمگادڑ چمٹے رہتے ہیں، صحن میں کیکر کے سوکھے درخت پر بے شمار اُلّو اپنے گھونسلوں میں رہتے ہیں، دن کے وقت ہمارے گھر کے گرتے ہوئے کمرے کی منڈیروں پر بیٹھے درجنوں زاغ و زغن اور کرگس ہمہ وقت پر جھاڑتے رہتے ہیں۔ ‘‘
’’ کاہلی، غربت اور احساسِ محرومی نے تمھیں جذباتی طور پر اس قدر پریشان کر رکھا ہے کہ تم نفسیاتی مریض بن گئے ہو۔ ‘‘ ارشد نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا’’ کالے جادو کے بارے میں تمھاری بات تو سفید جُھوٹ ہے۔ بلاوجہ لال پیلا ہونے اور خوف زدہ رہنے کی ضرورت نہیں تم نے جن بلاؤں کا ذکر کیا ہے ان کی سرے سے کوئی حقیقت ہی نہیں۔ کھسیانی کالی بِلیوں کو تو کھمبا نوچنے سے فرصت نہیں وہ تمھارا رستہ روکنے میں کیسے کامیاب ہو سکتی ہیں ؟رہ گئے زاغ و زغن، کر گس اور بُوم و شپر تو یہ سب طیور تو عرصہ ہوا عقابوں کے نشیمن میں جا گُھسے ہیں جہاں وہ آرام سے دادِ عیش دے رہے ہیں۔ اُنھیں باؤلے کُتے نے کاٹا ہے کہ وہ سیم و زر سے آراستہ آشیاں، مے و انگبیں اور شباب کی رنگینیاں چھوڑ کر تمھارے زندان نما گھر کا رُخ کریں۔ ‘‘
’’یہ مکان منحوس ہے اور یہاں رہنے والوں کی زندگی ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے۔ ‘‘سیہنا نے پُر نم آنکھوں سے کہا ’’ہم کل صُبح یہ گھر چھوڑ دیں گے۔ میں نے اپنے تین مرلے کے مکان کا سودا دو لاکھ روپے کے عوض کر دیا ہے۔ بستی کا ایک باشندہ’’ ناسو‘‘جو آتش بازی کے سامان، سیمنٹ، کھاد اور نمک کا کاروبار کرتا ہے، وہ یہاں سٹور بنائے گا۔ اپنے آبائی مکان کی پُوری رقم میں نے وصول کر لی ہے۔ اس وقت ہم سب آپ سے الوداعی مُلاقات کے لیے آئے ہیں۔ اس بار ہم جس طرح بچھڑ ر ہے ہیں شاید ہماری اگلی ملاقات نیند اور خوابوں میں ہوسکے گی۔ ‘‘
ارشد سمجھ گیا کہ ’’ ناسو‘‘ جو ایک رسوائے زمانہ سمگلر اور منشیات کے دھندے میں ملوث کالے دھن والا نو دولتیا تھا، اس نے ان لوگوں کو یہاں سے نکال کر ان کے مکان میں اپنا دھندہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ جگہ اس نا ہنجار کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوسکتی تھی۔
’’اچھا تم لوگ جہاں رہو خوش رہو ‘‘ارشد نے اس لا حاصل بحث کو ختم کرتے ہوئے کہا ’’اگر تم نے اپنی تخریب کے ذریعے اپنی لُٹیا ڈبونے کا فیصلہ کر لیا ہے توکس کی یہ تاب ہے کہ تمھیں اس سے بچا سکے؟‘‘
بوجھل قدموں سے یہ تینوں وہاں سے اپنی نا معلوم منزل کی جانب چل پڑے۔ میں نے محسوس کیا کہ فدا اور شاہد دُکھی دِل سے اپنا آبائی مکان چھوڑ رہے تھے۔ وہ اس بستی سے اس طرح اُٹھے جس طرح کوئی جہاں سے اُٹھتا ہے۔
وقت برق رفتاری سے گزرتا رہا، وقت کا یہی توسب سے بڑا المیہ ہے کہ یہ بڑی تیزی کے ساتھ بیت جاتا ہے۔ جب ہمیں ہوش آتا ہے تو ہم یہ دیکھ کر ششدر رہ جاتے ہیں کہ بیتے لمحات اب ہماری دسترس میں نہیں رہے۔ دو ماہ کے بعد ارشد تعلیمی مسائل کے سلسلے میں تین سال کے لیے بیرون ملک چلا گیا۔ اپنے گھریلو معاملات کے باعث مجھے اپنے آبائی گاؤں منتقل ہونا پڑا۔ اس عرصے میں مجھے ان لوگوں کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکیں۔ زندگی کی برق رفتاریوں، تقدیر کے اشاروں اور سیلِ زماں کے تھپیڑوں کی زد میں آ کر انسانی تدابیرخس و خاشاک کے مانند بہہ جاتی ہیں۔ ان مجبوروں کی یادوں کے زخم کبھی نہ بھر سکے، میں کسی نہ کسی بہانے ان کو یاد کرتا رہا لیکن ان کی تلاش میں نکلنے کا حوصلہ نہ تھا۔ یہ تو اپنا کوئی نشانِ منزل تک دے کر نہیں گئے تھے۔ انھوں نے تو جاتے جاتے یک طرفہ طور پر معتبر ربط کے تمام سلسلے ہی منقطع کر لیے تھے۔ رہا دید وا دید کا معاملہ تو میرے ساتھ ان کے اتنے قریبی مراسم کبھی نہیں رہے تھے کہ میں ان لوگوں سے ملنے کے لیے ان کی نئی بستی میں جاتا یا وہ میرے ہاں آ کر اپنے حالات سے مجھے آ گاہ کرتے۔ وقت کے ہاتھوں زندگی کی ایسی دُوریاں رفتہ رفتہ مجبوریوں کا روپ دھار لیتی ہیں اور انسان گردشِ حالات کے قہر کے سامنے سپر انداز ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے مدارج کی تکمیل کے بعد ارشد واپس اپنے گھر پہنچا تو میں اپنے اس دیرینہ رفیق سے ملنے اس کے گھر چلا گیا۔ باتوں باتوں میں ارشد نے فدا، شاہدہ اور سیہنا کا بھی ذکر کیا۔ وہ  ان تین مفلوک الحال محنت کشوں کے بارے میں فکر مند تھا جو آلام روزگار کے مسموم بگولوں کی زد میں آنے کے بعد حالات کے ر حم و کرم پر تھے۔ اس نے مجھے بتایا:
’’ قحط الرجال کے موجودہ دور میں بے حسی کا عفریت ہر سُو منڈلا رہا ہے۔ معاشرتی زندگی ایک جنگل کا منظر پیش کرتی ہے جہاں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ اس گھنے اور مخدوش جنگل میں منگل ہو یا جنگل میں مور ناچے کسی کو ا س کی پروا نہیں۔ ہماری محفل سے اُٹھ کر سرابوں کے عذابوں میں اُلجھنے والوں کی داستانِ حسرت سن کر کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ‘‘
’’یہ بات تو سچ ہے مگر ہم ان تین محنت کشوں کی تلاش میں جائیں تو کہاں جائیں ؟‘‘میں نے کہا ’’نا معلوم اب وہ کس حال میں ہوں گے؟ان خانماں برباد لوگوں کو گردشِ افلاک نے حالات کی قبروں کے دلخراش کتبوں میں بدل دیا ہے۔ ‘‘
’’ ان لوگوں کا اتا پتا صرف رسوائے زمانہ منشیات فروش ناسوکو معلوم ہے اور اس قماش کے مسخرے سے ملنا میرے لیے ممکن ہی نہیں تھا‘‘ ارشد نے اطمینان سے کہا ’’میں نے ہمت نہیں ہاری اور ناسو کے ایک معتمد ساتھی کی مدد سے ا ن لوگوں کا ٹھکانہ معلوم کر لیا ہے۔ اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں ہونا بے حسی کی علامت ہے، اگلے منگل کو ہم وہاں چلیں گے اور ان سے مل کر ان کی پُر آشوب زندگی کی حقیقی معنویت کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔ ‘‘
اپنے طے شدہ وقت کے مطابق اگلے منگل کو ہم اپنے ان پُرانے پڑوسیوں سے ملنے ٹھوکر کے علاقے میں پہنچے۔ ایک شکستہ سی کٹیا میں زمین پر بچھی پھٹی ہوئی میلی چٹائی پر فدا اور شاہدہ بیٹھے اپنے شباب اور ایام گزشتہ کی نوحہ خوانی میں مصروف تھے۔ ہمیں دیکھ کر ان کی آنکھوں سے جوئے خوں رواں ہو گئی۔ ان کے اعضا مضمحل ہو چُکے تھے اور آلامِ  روزگار کی دُھوپ میں مسلسل جلنے کے بعد دونوں سُوکھ کر کا نٹا ہو چُکے تھے۔ اس دنیا کے آئینہ خانے میں مصائب و آلام نے انھیں تماشا بنا دیا تھا۔ سامنے ایک کھری چارپائی پر میلے اور پھٹے کپڑوں میں لپٹا ایک نو جوان بے حد پرانی اور پیوند لگی میلی کچیلی چادر اوڑھے لیٹا تھا۔ یہ سیہنا تھا جو اس قدر نحیف و نا تواں ہو چکا تھا کہ اس کی شناخت بھی مشکل تھی۔ ہمیں دیکھ کر فدا نے روتے ہوئے کہا:
’’  یہ  ہمارا لختِ جگر سیہنا ہے جسے اٹھارہ برس تک ہم نے گود میں لے کر پالا ہے، حالات کے ستم نے اس گور کنارے پہنچا دیا ہے۔ ‘‘
شاہدہ کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور مدام فاقہ کشی کے باعث وہ بہت دھیمے لہجے میں بولی ’’تم اب آئے ہو جب سارا کھیل ہی ختم ہو چُکا ہے۔ اب تو موت ہی ہمارے دُکھوں کا مداوا کر سکے گی۔ اس بے حس دنیا سے تو ہمیں کسی قسم کی ہمدردی کی کوئی توقع نہیں۔ ‘‘
’’تمھارا یہ حال کیسے ہوا ؟‘‘ارشد نے گلو گیر لہجے میں پُوچھا ’’  جب تم ہماری بستی سے نکلے تھے تو تمھارے پاس معقول رقم تھی وہ کہاں گئی؟‘‘
’’جب بُرا وقت آتا ہے تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ ‘‘فدا نے آہ بھر کر کہا ’’مکان فروخت کرنے کے بعد اور ڈاک خانے میں جمع رقم ملا کر ہمارے پاس کُل چھے لاکھ روپے تھے۔ سیہنا نے اس راز سے ناسو کو آ گا ہ کر دیا تھا۔ بس یوں سمجھ لو کہ یہیں سے ہماری بد قسمتی کا آغاز ہو گیا۔ عیارناسو نے سادہ لوح سیہنا کو منشیات کا عادی بنا دیا اور اس نا ہنجار کی صحبت میں ہمارے بیٹے کو قحبہ خانے، چنڈو خانے، جوئے اور سٹے بازی کی لت پڑ گئی۔ ‘‘
’’میرا خالق جلد اس بے غیرت ناسو کا ستیاناس کرے جس نے ہمارے بیٹے کو جیتے جی مار ڈالا۔ ‘‘شاہدہ نے زار و قطار روتے ہوئے کہا’’ سیہنا اس کے چنڈو خانے، قحبہ خانے اور قمار خانے میں کثرت سے جانے لگا۔ دولت، صحت، شباب اور عزت کا بھرم ختم ہو گیا، اب اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ سیہناسب کچھ سٹے بازی، شراب و شباب اور رقص و سرود کی محفلوں میں لُٹوا بیٹھا۔ ‘‘
’’تم سیہنا کے والدین تھے، تم نے اس کو بُری صحبت سے روکا کیوں نہیں تھا؟‘‘ارشد نے دُکھ بھرے لہجے میں پُوچھا ’’ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ناسو نے تمھارا تعاقب کیسے کیا ؟تم تو وہ بستی چھوڑ کر دور آ گئے تھے پھر ناسو نے سیہنا کو اپنے رنگ میں کیسے رنگ لیا ؟‘‘
’’ناسو خود کہتا پھرتا ہے کہ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ ملک کے بڑے بڑے لوگوں سے اس کے قریبی تعلقات ہیں ‘‘فدا نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’ناسو ایک مافیا کا نام ہے جس کا جال ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ ناسو مافیا اپنے مکر کی چالوں سے غریبوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے، پھر ان مظلوموں کا خون چُوس لیتا ہے۔ اس کے جال میں پھنسنے والے کوڑی کوڑی کے محتاج ہو جاتے ہیں مگر کالا دھن کمانے والا یہ سیاہ کار سدا اپنی تجوری بھرنے میں مصروف رہتا ہے۔ مظلوموں کی فقیرانہ صدا پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ ناسو نے میرے بیٹے سے ساری رقم ہتھیا لی اور اس کے بعد مشکوک نسب کا یہ درندہ ہماری جان کا دشمن بن گیا۔ اس کالے زہریلے ناگ کے پھن کو کچلنے والا کوئی نہیں۔ خدا نخواستہ اگر کوئی شخص ناسو کے جال میں پھنس جائے تو اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اس کالے زہریلے ناگ کا زہر میرے مظلوم بیٹے کے جسم کے ریشے ریشے میں سرایت کر گیا ہے۔ ناسو ایک ایسا ظالم و سفاک، موذی و مکار درندہ ہے کہ اس کے دماغ میں ہوس اور رعونت کا خناس سما گیا ہے۔ اس بھیڑیے نے تو پُورے شہر کو عقوبت خانے، چنڈو خانے اور  قحبہ خانے میں بدلنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ ‘‘
’’ سچ ہے ناسو جیسے ہوس پرست اورجنسی جنونی سرمایہ دار کا ذہنی افلاس زندگی بھر ختم نہیں ہوتا۔ جب سیہنا منشیات فروشوں کے ہتھے چڑھ گیا تو اس کی اصلاح کی کوشش کیوں نہ کی گئی ؟  سیہنا کے علاج پر تم نے بر وقت توجہ کیوں نہ دی ؟‘‘ارشد نے پوچھا’’ جو کچھ ہونے والا ہے میں اس کے بارے میں اتنا فکر مند نہیں جتنا اس بارے میں تشویش میں مبتلا ہوں جو کچھ ہو چُکا ہے۔ جو سانحات ہو چُکے ہیں اُن کا مُجھے سرے سے یقین ہی نہیں آتا۔ یہ تو بتائیں کہ سیہنا کو کون سی بیماری لاحق ہو گئی ہے؟‘‘
’’کیسا علاج اور کہاں کی دوا؟‘‘شاہدہ بولی’’ یہاں آنے سے پہلے تو اچھا خاصا گزارا ہو جاتا تھا لیکن اب تو دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں دوا اور علاج کے لیے رقم کہاں سے لائیں ؟۔ منشیات کا یہ خاصہ ہے کہ ان کے زیادہ استعمال سے پہلے تو دِل کی نازک رگیں اور پُوراجسم ٹُوٹتا ہے یہاں تک کہ انسان کی گردن ٹُوٹ جاتی ہے۔ ‘‘
فدا نے اپنی بیوی کو ٹوکتے ہوئے کہا ’’ کثرتِ مے نوشی اور جنسی جنون کے باعث نوجوان سیہنا کے دونوں گُردے ناکارہ ہو چُکے ہیں۔ اس وقت کڑیل جوان سیہناایڈز جیسے جان لیوا روگ میں مبتلا ہو چُکا ہے۔ ڈاکٹروں نے اس کا مرض لا علاج قرار دیا ہے۔ نوجوان بیٹے کی جان لیوا بیماری نے تو ہم بُوڑھے والدین کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ ‘‘
ہماری گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک سیہنا نے آنکھ کھولی۔ اس کی ہر مُسرت غمِ  دیروز کا عنوان بن گئی تھی اور وہ حسرت بھری نگاہوں سے ہم سب کو اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے یہ اس کی ہمارے ساتھ آخری ملاقات ہو۔ ہماری باتیں سُن کر وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اس کے الفاظ ہونٹوں پر پتھر ا گئے تھے۔ وقت کی گود میں لمحات رفتہ رفتہ دم توڑ رہے تھے۔ حالات کی سنگینی کا یہ عالم تھا کہ سیلابِ بلا اب سر سے گُزر گیا تھا۔ اس کی باقی ماندہ زندگی ریگِ ساحل پر نوشتہ وقت کی ایک ایسی تحریر کے مانند تھی جسے سیلِ زماں کی مہیب موجیں کسی بھی وقت دھو کر ہمیشہ کے لیے مٹا سکتی تھیں۔ اس بد قسمت نو جوان کی زندگی کی محفلیں ظالموں نے لُوٹ لیں جس کے نتیجے میں اس کے جذبات و احساسات نے دم توڑ دیا۔ ارشد نے جب سیہنا کی حالتِ زار دیکھی تو وہ اپنے آ نسو ضبط نہ کر سکا۔ سیہنا کی زندگی کے ساز خاموش ہو رہے تھے اور نغمات مہیب سناٹوں میں ڈھل رہے تھے۔ اس کے رگ و پے میں درد، کرب اور اذیت و عقوبت کا رقص بالکل اسی طرح جاری تھا جس طرح جنگل میں مور محوِ رقص ہو مگر کوئی محرمانہ نگاہ اس طرف نہ اُٹھ رہی ہو۔
ارشد نے سیہنا کی متوازن غذا کے لیے کچھ رقم اس کی ماں کے حوالے کی اور پُر نم آنکھوں سے ان سب کو الوداع کہا۔ جہاں تک نظر جاتی تھی ویران زندگی کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ شام کو ہم بوجھل قدموں سے گھر روانہ ہوئے۔ ہم دیر تک سیہنا کی جوانی کے بارے میں سوچتے رہے جو موجِ نسیم کے ما نند اِدھر آئی اور اُدھر چلی گئی۔ ایک ہفتے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ نوشتۂ تقدیر اور غمِ حیات کے دام میں اُلجھی سیہنا کی زندگی کی شمع بُجھ گئی۔ اس کے والدین کی ہر دعا بے اثر گئی اور ان کی آہ و فغاں بھی نا معلوم کہاں جا کے دم توڑ گئی۔

٭٭٭

BADAMI BAGH AND HADISA '' URDU SHORT STORY BY GHULAM IBN E SULTAN












بادامی باغ
غلام ابن سلطا ن 
 منشی گھسیٹا خان بھی عجیب شخص تھا،خود ستائی اور خود نمائی اس کی گھُٹی میں پڑی تھی۔واجبی سی تعلیم کے باوجود یہ خود کو عصرِ حاضر سب سے بڑا مورخ اور فلسفی سمجھتا تھا۔ اپنی زندگی کی ستر خزائیں دیکھنے کے بعد بھی اس کی رجائیت پسندی کا یہ حال تھا کہ اس کی زندگی کے دن موہوم بہاروں کے روگ میں کٹنے لگے اوراس کا دل و جگر کرچیوں میں بٹنے لگے۔جب کوئی اس کندۂ  نا تراش کو اس کے جنسی جنون،منشیات کے نشے کی قبیح عادت،چنڈو خانوں اور قحبہ خانوں کے گورکھ دھندے سے تائب ہونے کا مشورہ دیتا، تو یہ نا ہنجار عف عف کر کے کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ سینگ کٹا کر بچھڑوں میں شامل ہو جاتا،پریوں کا اکھاڑہ سجا کر اس میں راجا اِندر بن کر ہنہناتا،اپنی جہالت پر اِتراتا اور ڈھٹائی سے ہر طر ف دندناتا پھرتا تھا۔اس سٹھیائے ہوئے بُڈھے کھوسٹ کی ہیئتِ کذائی دیکھ کر ہنسی ضبط کرنا مشکل تھا۔ سیلِ زماں کے تھپیڑوں کے باعث یہ خبطی شامتِ اعمال اور گردشِ حالات کی زد میں اس طرح آیا کہ اس کے سب کس بل نکل گئے۔اس کے باوجود یہ چکنا گھڑا بے حسی اور بے غیرتی کی تصویر بنا حسن و رومان اور عشق و جنون کی خا ر زار راہوں پر خوار و زبوں گھومتا،نشے میں دھت یہ متفنی ہر حسین چہرے کو دیکھ کر جھُومتا اور ضعفِ پیری کے باوجود سیرگاہوں اور چرا گاہوں میں ٹانگیں گھسیٹتا پھرتا تھا اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا۔ شریف لوگوں کو فرضی مقدمات میں گھسیٹنا اس متفنی کا وتیرہ تھا، اسی وجہ سے اس ننگِ اسلاف کا نام منشی گھسیٹا خان پڑ گیا۔ مغز سے یکسر خالی گنجی کھو پڑی پر خچر کی دُم کے لمبے بالوں سے تیار کی ہوئی خود ساختہ وِگ پہنے، موٹے سفید شیشیوں کی نظر کی عینک اپنی کرگسی آنکھوں اور کٹی ناک پرسجائے، ہاتھ کی انگلیوں میں عقیق کی انگوٹھیاں ٹھونسے، یہ زمین کا بوجھ کسی مر ے ہوئے منحوس گورے کا کُوڑے کے ڈھیر پر پھینکا ہوا لنڈے کا بد رنگ،بد وضع اور بوسیدہ سُوٹ اپنے بے حس تن پر کس کر نکلتا۔بھرے بازار کی لعنت و ملامت اور دو طرفہ ندامت اس کے ہم رکاب رہتی۔اس کے ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز عادی دروغ گو زادو لُدھیک اور منشیات کا بد نام سمگلراکرو بھٹیارا بھی اس کے ساتھ ہوتے۔ گرمیوں کے موسم میں سہ پہر کے وقت یہ تینوں سٹھیائے ہوئے گھٹیا عیاش اور بدنام اُچکے ایامِ گُزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی اور لُٹی محفلوں کی نوحہ خوانی کے لیے اکٹھے ہوتے۔تین اُچکوں کی یہ کہانی ایک بلائے نا گہانی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ عام طور پر منشی گھسیٹا خان ہذیان بکتا لیکن کبھی کبھی یہ سارق شاعری کو بھی منہ مار لیتا تھا یہی وجہ ہے کی پاپ بیتی میں اس متشاعر کی جسارت سارقانہ کے بھونڈے انداز بھی اس کا منہ چڑا رہے ہیں۔زادو لُدھیک نے چمگادڑ کی طرح سورج سے منہ چھپا کر کان کھُجاتے ہوئے اور دُم ہلاتے ہوئے کفن پھاڑ کر کالی زبان ہلائی:
راوی کے کنارے پر
وقت گزارتے ہیں
یادو ں کے سہارے پر
اکرو بھٹیارا اُلو کی طرح آنکھیں گھُماتا ہوا منشی گھسیٹا خان سے مخاطب ہو کر ہرزہ سرا ہوا
’’تمھاری رائیگاں زیست کی ورق ورق داستاں کو آلام روزگار کے مہیب بگولوں نے جس طرح گندے نالوں میں بکھیرا ہے وہ نشانِ عبرت ہے۔آج ان رازوں سے نقاب اُٹھائیں جن کے باعث تمھاری زندگی بے ثمر ہو کر رہ گئی۔ِِ‘‘
منشی گھسیٹا خان نے پاؤں گھسیٹتے ہوئے اور سر پیٹتے ہوئے کہا:
’’ سہہ رہا تھا غمِ نہاں کا عذاب
سر پہ وہ تھوپ کر خضاب آئے
آؤ میری نادانی کی کہانی منہ زبانی میری زبانی سُنو اور اسے سن کر ارد گرد کی سُن گُن لو اور سر دھُنو۔ تین سو سال پہلے کی بات ہے لاہور میں دریائے راوی کے دونوں کناروں پر تین میلوں پر محیط ایک وسیع باغ تھا۔اس باغ میں اثمار کے بُور لدے چھتنار، ہزارہا شجرِ سایہ دار سروو صنوبر،سنبل و ریحان موجو د تھے۔ اس میں کثرت سے اُگے بادام کے پودوں کی وجہ سے اس کا نام بادامی باغ پڑ گیا۔اس مقام پر نازک اندام اور ان کے نمک حرام ہوس پرست آشنا مے گلفام سے سیراب ہوتے۔چُلّو میں اُلّو بن جانے والے یہاں اپنا اُلّو سیدھا کرنے کی غرض سے آتے مگر ان کی کج روی کے باعث سب تدبیریں اُلٹی ہو جاتیں۔جب ان کی قسمت اور تقدیر پھُوٹتی تو ان میں پھُوٹ پڑ جاتی اور یہ پھُوٹ پھُوٹ کر رونے لگتے۔جب میں جوان تھا تو یہی جگہ میری گزرگاہِ خیال بن گئی اور یہیں میری زندگی کے ساتھ ایسا کِھلواڑ  ہوا کہ حسین تتلیوں کی اکھاڑ پچھاڑ سے میری زندگی وبال بن گئی۔ ‘‘
’’منشی گھسیٹا خان!  مجھے تو یوں لگتا ہے کہ تمھاری اِن دل خراش یادوں ہی کی وجہ سے تمھیں خارش کا متعدی عارضہ لا حق ہو گیا ہے۔‘‘زادو لُدھیک نے اپنی کٹی ناک پر اُنگلی رکھ کر کہا ’’تمھاری یادیں خزاں رسیدہ شجر کے مانند ہیں جسے سمے کی دیمک چُپکے چُپکے کھاتی رہی اور پُورا تنا ہی کھوکھلا ہو گیا۔‘‘
’’مردہ جب بھی بولتا ہے وہ کفن پھاڑ کر ہی بو لتا ہے۔‘‘منشی گھسیٹا خان بولا ’’میر ا تن کھوکھلا ہوتا چلا گیا، من کی ترنگ ختم ہو گئی،میں بو کھلا گیا اور میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ میں اپنے دل و جگر میں بھڑکنے والی یہ آگ برف میں لگی مے کی صراحی اپنے حلق میں اُنڈیل کر بجھاتا۔گھر پھونک کر تماشا دیکھنا میرا معمول اور شوقِ فضول بن گیا۔‘‘
’’  واہی تباہی بکنے والے شخص کی واہیات واردات کو اس کی زندگی کے معمولات کی ہفوات کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے؟‘‘ دھن کا دیوانہ اکر و بھٹیارا اپنا بھاڑ جیسا دہن کھول کر مجنونانہ انداز میں کہنے لگا’’سٹھیائے ہوئے آدمی اور خزاں رسیدہ درخت میں کوئی فرق نہیں۔جس طرح بادِ سموم کے باعث درخت کی کومل کلیاں،پھُول اور ثمرِ نورس رزقِ خاک بن جاتے ہیں،اسی طرح ہر مخبوط الحواس جنسی جنونی درندے کی کور مغزی،بے بصری،ذہنی افلاس کے باعث اس کی زندگی وقفِ یاس ہو جاتی ہے۔جب کسی درخت پر بُرا وقت آتا ہے تو طائران خوش نوا درخت پر موجود اپنے آشیانوں کو چھوڑ کر لمبی اُڑان بھر جاتے ہیں۔اسی طرح حسن و عشق اور تقدیر کا مارا جب حالات کی زد پر آتا ہے تو اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا ہے۔اس کے سب محبوب اپنی اپنی راہ لیتے ہیں اور وہ اپنی حسرتوں پر آنسو بہانے کے لیے تنہا رہ جاتا ہے۔‘‘
’’اب مجھے اپنی داستان سنانے دو گے اور کچھ میری طرف بھی دھیا ن دو گے یا یوں ہی جی کا زیاں کر کے اپنے ہذیان اور خلجان سے مجھے اپنے وجود سے بد گُمان کرو گے۔‘‘ منشی گھسیٹا خان نے اپنے لنڈے کے کوٹ کی جیب سے بائیسیکل کا ایک زنگ آلود پیچ نکال کر اپنے عفونت زدہ منہ میں ڈال کر کہا’’ میں نے بہت کوشش کی لیکن کہیں سے تاب نہ لا سکا اگر تم نے میری بات پر توجہ نہ دی تو میں یہ پیچ کھا لوں گا۔‘‘
’’بس بہت ہو چُکی!اب تمھیں نہ تو پیچ کھانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی تاب لانا تمھارے بس میں ہے۔‘‘زادو لُدھیک خارش زدہ باؤلے سگِ آوارہ کی طرح غُرّایا ’’تم نے حبس کا جو ماحول بنایا،اس نے زندگی کی سبھی رُتیں بے ثمر کر دیں۔میری طرح تمھارے جسم سے بھی عفونت اور سڑاند کے بھبھوکے اُٹھتے ہیں۔ہم تینوں کی منزل خارزار زیست میں آبلہ پا مارے مارے پھرنا ہے جہاں بے شمار خارِ مغیلاں اپنی نوک کو تیز کیے ہماری راہ میں بچھے ہیں۔اس صحرا میں حنظل،دھتورا،تمباکو،پوست،بھنگ،اکڑا،تھوہر اور پوہلی کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔تمھاری ہرزہ سرائی سُن کر کون ہے جو تمھاری مدح سرائی کرے ؟ میری طرح تمھاری کھوپڑی بھی مغز سے خالی ہے تمھارا سب کر و فر جعلی ہے،تیری زبان کالی ہے اور تو محض شیر قالی ہے۔تجھے باتیں بنانے کے سوا کچھ نہیں آتا اور تمھاری بنائی ہوئی باتیں سننے والے کے دل،دماغ اور روح کو شدید کرب،اذیت اور ذہنی دباؤ کا شکار کر دیتی ہیں۔چلو چھوڑو اب جو کہنا ہے وہ کہو اور دوستو اس کے ستم سہو۔‘‘
منشی گھسیٹا خان بولا ’’ماضی کی یادیں میرے لیے پیرِ تسمہ پا ثابت ہوئی ہیں۔ میں نے منشیات فروشی،قحبہ خانے اور چنڈو خانے کے کاروبار سے جو کالا دھن کمایا،اُسی نے میرا منہ کالا کر دیا۔میری تجوری میں گنجِ قارون جمع ہو گیا۔میں نے جوں ہی سر اُٹھایا تو پری چہرہ لوگوں نے مجھے سبزۂ نو دمیدہ کے مانند پامال کر دیا اب تم دیکھ رہے ہو کہ میری کھو پڑی پر صرف گنج رہ گیا ہے اور قارون حسن و عشق کی یلغار اور حسیناؤں کی کفش اندازی کی بھر مار میں کہیں گُم ہو چُکا ہے۔ میری دولت پر گلچھرے اُڑانے والے سب طوطے اُڑ  گئے۔ان کی طوطا چشمی دیکھ کر میرے ہاتھوں کے طوطے بھی اُڑ گئے۔راتوں کے پچھلے پہر میں تنہائیوں کا زہر پی کر اور تارے گِن کر وقت گزارنا میرا معمول بن گیا۔
’’اتنی تباہی،روسیاہی اور جگ ہنسائی کے بعد بھی تم نے عقل کے ناخن نہیں لیے۔‘‘زادو لُدھیک نے کہا’’ عام طور پر تمھاری ہر بات ہفوات ہوتی ہے لیکن یہ بات خوب ہے کہ تمھارے پاس گنجِ قارون تھا لیکن قارون تو حسن و جمال پر قربان ہو گیا اب صرف کھو پڑی پر گنج ہی رہ گیا ہے۔یہ گنج حسینوں کی تڑ تڑ پیزاروں کا عطیہ ہے۔‘‘
’’ یہ مُو رکھ منشی گھسیٹا خان عقل کے ناخن کیسے لیتا ؟‘‘ اکر و بھٹیارا بولا ’’ عاشقی کی کفش اندازی سے آرزوئیں مات کھا کر رہ جاتی ہیں۔سب لوگ یہی دعا کرتے تھے کہ خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ناخنِ  تدبیر ایسے عشقی ٹڈوں کو کبھی نہیں مل سکتے۔‘‘
’’  تم میں کوئی بھی نکتہ سنج نہیں،اب صرف گنج ہی کی گفتگو جاری رکھ کر رنگ میں بھنگ نہ ڈالو۔‘‘ منشی گھسیٹا خان نے کہا’’ میری داستانِ حسرت پر غور کرو۔گرمیوں کی ایک صبح میں بادامی باغ کی سیر کر رہا تھا کہ میرے دل میں نئی ترنگ اُٹھی اور میں نے یہ گیت گایا:
کچی گر ی دا رنگ ہووے تے اکھ بادامی
ایو جیہی مُٹیار مِلے تے دیواں سلامی
ترجمہ:رنگ ہو کچے ناریل جیسا اورآنکھ ہو مثلِ بادام
ایسی دوشیزہ کہیں ملے تو جھُک کے کروں سلام
میری تان سُن کر گوالمنڈی کی جانب سے ایک گوالا میر ی طرف بڑھا اور کہنے لگا کہ تمھاری آواز تو پھٹے ہوئے ڈھول جیسی ہے،آئندہ اس طرح بے سُری آواز میں گیت نہ گایا کرو۔اس خوف ناک آواز کوسُن کر اس کی بھینسیں ڈر جاتی ہیں اور رسی تڑا کر بچ نکلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ہر بھینس یہ چاہتی ہے کہ اس طوفان بد تمیزی سے بچ دور کہیں دور نکل جائے۔‘‘
’’   ارے او بھینسے !تمھاری مظلوم بھینسوں کا اندازہ غلط نہیں۔‘‘ میں نے دانت پیستے ہوئے،عفونت زدہ تھُوک نگلتے ہوئے اور زہر اُگلتے ہوئے کہا’’ تمھاری بھینسیں تمھارے استحصالی روّیے کی وجہ سے تم سے نفرت کرتی ہیں۔تم بے زبان بھینسوں کا دُودھ فروخت کر کے اپنی تجوری بھر لیتے ہو لیکن مظلوم بھینسوں کو پیٹ بھر کر کھانے کو مناسب چارہ نہیں دیتے۔تُف ہے تمھاری سوچ پر،تہمت لگا کے بھینسوں پر جو اپنی تجوری بھرے ایسے شیر فروش کو تو مر جانا چاہیے۔بھینسیں اس سماج سے ناخوش و بیزار ہیں وہ دنیا کے رسم و رواج کو پسند نہیں کرتیں وہ چاہتی ہیں کہ ان کے لیے مٹی کا ڈیری فارم کہیں اور بنا دیا جائے۔ جہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس جیسا جنگل کا قانون نافذ نہ ہو۔ سفید کووں،گندی مچھلیوں،بگلا بھگتوں،جو فروش گندم نما سفہا، کالی بھیڑوں اور بھینسوں کی راہ میں جو دیوار بنے گا وہ نہیں رہے گا۔تمھارے جیسے مفاد پرست گوالے جو ظلم و جور کے حوالے بن گئے ہیں انھیں تو محکمہ انسدادِ  بے رحمیِ حیوانات کے حوالے کرنا چاہیے۔آج کے دور کا لرزہ خیز المیہ اور طُرفہ تماشا یہ ہے کہ محکمہ انسدادِ بے رحمیِ حیوانات کی کایا پلٹ گئی ہے اور اب یہ محکمہ اِمدادِ بے رحمی ء حیوانات بن چُکا ہے۔ اب تو یہی ڈیری فارمنگ اور سائنس کا حوالہ ہے،ہر زباں پر بھینس اور گوالا ہے۔‘‘
’’بند کر ویہ بے سرو پا فلسفیانہ باتیں۔‘‘گوالے نے اپنی آستین سے اپنے منہ سے بہنے والا جھاگ صاف کرتے ہوئے کہا ’’تمھیں فلسفے کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں اور رواقیت کے داعی بن بیٹھے ہو۔میر ی یہ بات کان کھو ل کر سن لو اگر آئندہ تم نے یہ بے سُرے گیت الاپے تو میں تمھاری زبان گُدی سے کھینچ لوں گا۔کہاں سے آ گیا ہے شُوم ناہنجار پیدائشی ڈُوم۔‘‘
اس کی قدر ناشناسی کے باوجود میں نے ہمت نہ ہاری اور گلوکاری کا یہ سلسلہ چوری چھُپے جاری ر کھا۔ایک دن میری اُمید بر آئی اور ہیرا منڈی سے ایک حسینہ نمودار ہوئی۔ یہ میرے خوابوں کی حسین و جمیل ملکہ تھی۔اس کا رنگ کچے ناریل کی طرح سفید تھا اور چشمِ غزال بالکل بادام کی صورت میں تھیں۔اس کی چال کڑی کمان کے تیر کے مانند تھی۔اس حسینہ کو دیکھتے ہی میرے ہوش و حواس رخصت ہو گئے اور میں وصل کی تمنا لیے اسے دیکھتا رہ گیا۔میرا سینہ و دِ ل جو حسرتوں سے چھا گیا تھااس حسینہ کو دیکھتے ہی میرے دِل میں ایک لہر سی اُٹھی۔میں اُٹھا اور میں نے اُٹھ کے قدم نازنیں کے لیے۔میرا جگر دیکھو کہ میں کاسۂ چشم لیے اپنی جان پر کھیل کر اس حسینہ کے قدموں پر گر گیا اور اس سے حسن کے جلووں کی خیرات طلب کی۔میری یہ بے ساختگی،بے تکلفی اور بے باکی اس شوخ کو پسند نہ آئی اور اس نے میرے گریبان کو اس طرح حریفانہ کھینچا کہ دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں کوئی فاصلہ نہ رہا۔اس کے بعد اس حسینہ نے میری وہ دُرگت بنائی کہ مجھے دن کے وقت سورج کی روشنی میں تارے دکھائی دینے لگے اور چھٹی کا دُودھ بھی یاد آ گیا۔‘‘
علاقے کے لوگوں مجھے وہاں سے اس طرح نکالا جیسے دودھ سے مکھی نکالی جاتی ہے۔ بے نیل مرام اور بے آبر و ہو کر کوچۂ محبوب سے نکلنے کے بعد کافی عرصہ تک میں بے یار و مددگار اسی راہوں پر بھٹکتا رہا  جو منزل کا نشاں نہ تھیں۔تلاشِ بسیار کے بعد مجھے سر چھپانے کے لیے جس کٹیا میں جگہ ملی وہ بہت بوسیدہ تھی۔ ایک رات موسلادھار بارش ہوئی چھت کا پر نالہ ٹوٹ گیا اور پانی سے ساری کٹیا بھر گئی۔ جل تھل ایک ہو گیا۔ میرے سارے کپڑے اور بسترعفونت زدہ کیچڑسے لت پت ہو گئے۔ اس عالم یاس میں کسی نے میرے دل شکستہ کا حال نہ پوچھا۔ میں نے اپنے کپڑوں کی گٹھڑی اٹھائی اور گندے نالے پر دھونے  کے لیے لے آیا۔ آنکھوں سے جوئے خوں رواں تھی اور دل اشک بار تھا۔ میں نے تان لگائی:
ٹوٹا پرنالہ ہے
صفائی اور نہانے کو
یہی گند ا نالہ ہے
نالے کے کنارے پر کئی مگر مچھ اور کچھوے رینگ رہے تھے۔میں نے انہیں مخاطب کر کے کہا:
نالے کا کنارا ہے
مگر مچھ کے جبڑوں پر
افسانہ ہمارا ہے
اچانک دریا سے ایک ناگن باہر نکلی  اور بولی :
ــــ   ’’صرف مگرمچھ کے جبڑوں پر ہی نہیں بل کہ بجو، سانپ، بچھو اور لدھڑ بھی تمھارے تغیر حال کو زمانے کے اتفاقات کا نام دیتے ہیں۔ کل تک تمھیں زندگی کی ہر آسائش میسر تھی مگر اب تمھیں اس شہر نا پر ساں میں مانگنے پر بھیک بھی نہیں ملتی‘‘
میں نے ناگن سے پوچھا تم کون ہو؟میرے سب دیرینہ ساتھی تو ابتدا ہی میں دفینہ لُوٹ کر نو دو گیارہ ہو گئے اب تم انتہا کی خبر لینے کیسے پہنچی ہو؟تم ایک خزاں رسیدہ درخت کے پاس اس وقت سایہ طلب پہنچی ہو جب سمے کی دیمک نے تنے کو مکمل طور پر کھوکھلا کر دیا اور آلامِ روزگار کی تمازت اثمار و اشجار کی تازگی کو کھا گئی۔‘‘
ناگن نے کہا’’ میرا نام ظِلو ہے میں نے پا زمین دفن میں اپنی کرگسی آنکھیں کھولیں پچھلے جنم میں طوائف کی حیثیت سے گزرنے والی  میری زندگی میرے لیے شرمندگی کا باعث بن گئی۔میرے چاہِ زقن سے ایک عالم سیراب ہوا،قلزمِ وقار کا ہر گوشہ پایاب ہوا۔میری موت کے بعد زمانے نے مجھے اس ناگن کی صورت میں بازیاب کیا۔ میر ی طرح تم بھی سادیت پسندی کے جان لیوا روگ کے علیل ہوا سی لیے ہر جگہ ذلیل ہو۔ اب تم مرو گے اور اگلے جنم میں تم ایک اژدہا کی صورت میں لذتِ ایذا حاصل کرو گے۔ تمھارے نئے جنم کے بعد ہم دونوں ایک ہو جائیں گے اور انسانیت پر بے پناہ ستم ڈھائیں گے، مظلوموں کے چام کے دام چلائیں گے،ہر گھر میں صفِ ماتم بچھائیں گے اور مجبوروں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیں گے۔‘‘
تم میری حقیقت سے کیسے آگاہ ہو؟ میں نے پوچھا ’’  اگلے جنم کی بات تو تم نے کہ دی لیکن یہ نہیں بتا یا کہ میرا یہ پہلا جنم کب اپنے انجام کو پہنچے گا؟میری زندگی کا موجودہ سفر کبھی منزل سے آشنا ہو سکے گا۔دمِ  آخریں بلا شبہ بر سرِ را ہ ہے لیکن میرے دِلِ نا صبور میں اب بھی وصل کی تمنا انگڑائیاں لے رہی ہے۔کیا مرنے سے پہلے مجھے کسی حسین و جمیل محبوب کی زلفوں کا گھنا سایہ نصیب ہو سکے گا؟‘‘
’’تمھارا وصل اب موت ہی سے ہو گا۔ تم اس وقت اژدہا سے بھی زیادہ زہریلے ہو ‘‘ ناگن اپنا پھن لہراتے ہوئے بولی ’’ تم اپنی انگلی کو اپنے دانتوں سے کاٹو تو تمھارے عفونت زدہ اورسڑاند کے مارے پُورے بدن میں زہر سرایت کر جائے گا۔ تمھارے دانتوں کے مہلک زہر کا تریاق کہیں نہیں ملے گا اور تم خارش زدہ باؤلے کتے کی طر ح تڑپ تڑپ کر مر جا ؤ گے‘‘
’’نہیں ہر گز نہیں مجھے اپنا یہ اذیت نا ک انجام پسند نہیں ‘‘ میں نے روتے ہوئے کہا ’’  اس جبر کا انسداد کرو میری کچھ امداد کرو اور میرا انجام کچھ سہل کرو اور ہمدردی میں اب پہل کرو۔‘‘
’’ ایک صورت اور ہے اور وہ تمھارے لیے محلِ غور ہے۔‘‘ غصے سے بپھری اور شکل سے نِکھری ہوئی ناگن نے کہا’’ جذبۂ رقابت سے خجل بڑے سہل طریقے سے میں تمھیں ڈس لوں لیکن میر ا زہر بہت کم ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ تمھیں ڈسنے سے تمھارا زہر میرے ریشے ریشے میں سرایت کر جائے گا۔ تجھ سے تو زہر خواری کی ذلت اٹھ سکتی ہے لیکن مجھ میں یہ تاب نہیں ‘‘ یہ کہہ کر ناگن دریا ڈُبکی لگا کر غائب ہو گئی اور اچانک ایک مُذی و مکار لومڑی ادھر سے گزری،جس نے نارسائی کے باعث دم رُکنے کے بعد انگوروں کی تُرشی کا بہانہ بنا کر انھیں کھانے کا ارادہ ترک کر کے اس کھسیانی بلی کو بھی مات دی تھی جس نے کھمبا نوچ کر اپنی اندرونی سفلگی کا بر ملا اظہار کیا تھا۔ لومڑی نے جب منشی گھسیٹاخان کو خاک بہ سر،پائمال اور خوار و زبوں دیکھا تو اپنے مکر کی چالوں سے اس کو متوجہ کر نے کی خاطر ٹسوے بہاتے ہوئے بولی ’’اب تو تم پر یہ راز کھُل گیا ہو گا کہ جب ظلم کی فصل پک جاتی ہے تو دست قضا فوراً درانتی سنبھا لیتا ہے اورسروں کی فصل سے کھلیان پٹ جاتے ہیں۔اس وقت فطرت کی تعزیروں سے بچنے کی دوڑ بے فائدہ ہوتی ہے،حالات کا جبر تمھاری کلائی مروڑ کر گردن توڑ دیتا ہے۔اس وقت تم حالات کے نرغے میں آ چُکے ہو۔‘‘
’’تم کون ہو منشی گھسیٹا خان نے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہا ’’تم نے منشی گھسیٹا خان جسے اپنے عہد کے نعمت خان کلانونت کی حیثیت سے ہر بوالہوس اچھی طرح جانتا  ہے،کے ساتھ اس گستاخانہ لہجے میں گفتگو کی جسارت کیسے کی؟ یہ بھی بتاؤ کہ کُو بہ کُو میری ذلت کی داستان سنا کر میری رسوائی کی جو نوبت آئی ہے اس میں جو قبیح کردار تم نے ادا کیا ہے اس کے پیچھے کس کا اشارہ تھا؟‘‘
’’تُف ہے تم پر کہ تم اپنے خون کو بھی نہ پہچان سکے۔‘‘لومڑی نے عیاری کی منحوس چمک سے لبریز آنکھیں مٹکاتے اور خون سے لتھڑے دانت پیستے ہوئے کہا’’  میں پچھلے جنم میں تیری ماں تھی۔میرا نام ثباتو تھا۔ میری پہچان شہر کی سب سے بڑی نائکہ،رقاصہ،مغنیہ اور طوائف کی تھی۔ ‘‘
’’لوگ مجھے مشکوک نسب کا درندہ قرار دیتے ہیں۔‘‘منشی گھسیٹا خان نے چمگادڑ کی طرح آنکھیں بند کرتے ہوئے اور بُوم کے مانند منہ کھول کر منحوس چیخ نکالتے ہوئے کہا ’’میرا مرحوم باپ زوال کے وبال کے بعد کس حال اور کس خیال میں ہے؟‘‘
’’تمھارا نسب یقیناً مشکوک ہی سمجھا جائے گا کیونکہ میں خود بھی تمھاری حقیقت کی شناسا نہیں۔‘‘مکار لومڑی نے دُم ہلاتے ہوئے کہا’ ’  تو نہ صرف ثقلِ سماعت کے باعث بہرا ہے بل کہ عقل و فہم سے بھی یکسر بے بہرہ ہے۔ تمھارے باپ کو شہر کا سب سے ظالم بھڑوا سمجھا جاتا تھا۔اب وہ مسخرادوسرے جنم میں بھیڑیے کے روپ میں جنگلوں کی خاک چھانتا پھرتا ہے۔‘‘
’’اب میں یہ بات اچھی طرح سمجھ گیا ہوں۔‘‘منشی گھسیٹا خان نے مثلِ  حمار کان ہلاتے ہوئے اور دُم دباتے ہوئے کہا ’’جب میں جوان تھا تو لوگ مجھے علاقے کا مشاق خرسوار،مضبوط لٹھ بردار بھتہ خور قرار دیتے تھے۔‘‘
’’سچ کہتے ہو،یوں تو جھُوٹی ہے ؟ذات منشی کی لیکن دِل کو لگتی ہے بات منشی کی۔‘‘لومڑی نے اپنے غلیظ پنجوں سے اپنا منہ صاف کرتے ہوئے کہا ’’تمھار باپ بھی ملک کا بڑا خر سوار تھا۔وہ ایک بار بپھرے ہوئے گدھے سے گتھم گتھا ہو گیا اور گدھے کو پچھاڑ ر اسے دو لتیاں رسید کیں۔اس کے بعد وہ پورے علاقے میں خر افگن کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔تمھارا باپ بہلو خان ایک خو نخوار  بھیڑیا بن کر جنگل میں منگل کی کیفیت سامنے لا رہا ہے۔یوں تو جنگل میں اب بدھ اور یُدھ کا سماں ہے اس کے باوجود اس بھیڑیے پرخچر کا گُماں ہے۔اس جنگل میں نافذ جنگل کا قانون مسلسل مظلوموں کی آرزوؤں کا خون کر رہا ہے اور ہر درندہ اس خون آشامی پر دوسرے درندے کو مطعون کر رہا ہے۔کئی چرواہے اپنی اپنی ڈفلی لیے اور اپنا اپنا راگ الاپتے اس جنگل میں بد روح نما ہوتے ہیں لیکن مضبوط کاٹھی کو جو بھی لٹھ بر دار چرواہا خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنے میں کام یاب ہو جاتا ہے،وہی اپنی پسند کی بھینس کو ہانک کر لے جاتا ہے اور میدان ما ر لیتا ہے۔
منشی گھسیٹا خان،زادو لُدھیک اور اکرو بھٹیارا ہوس اور جنسی جنون کی جن راہوں پر چل نکلے تھے وہ انھیں مکمل تباہی اور انہدام کی جانب لے جا رہی تھیں۔ تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ وقت کے تقاضے بھی بر ق رفتاری کے ساتھ بدلتے رہے،خوشی کے لمحات غموں میں ڈھلتے رہے۔ان کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ ان کی آستینوں میں سانپ بھی پلتے رہے مگر یہ ان تلخ حقائق سے بے خبر اپنی دھُن میں مگن رہے مگر من ہی من میں کُڑھتے اور جلتے رہے۔موقع پرستی اور منافقت کی اساس پر استوران تینوں بے ضمیروں کی رفاقت گرگ آشتی کی مثال تھی۔دن کی روشنی میں تو یہ تینوں بادامی باغ میں مل بیٹھتے اور چوری،ٹھگی اور لوٹ مارکی وارداتوں کے منصوبے بناتے۔ چور محل میں جنم لینے والے کئی سانپ تلے کے بچھو، بے شمار زاغ و زغن اور شہر خموشاں کے بجو بھی ان کے ہم نوا تھے۔شام کے سائے ڈھلتے ہی و ہ سب اپنی اپنی راہ لیتے مگر یہ تینوں ایک دوسرے سے چھُپ چھُپ کر منشیات اور جنس و جنون کے مکروہ دھندے سے کالا دھن کمانے میں مصروف ہو جاتے۔ منشی گھسیٹا خان ان کا گُرو تھا لیکن اس کے کرگس قماش کے دونوں چیلے زندگی بھر اپنے گُرو کو نوچتے رہے اور اس کی بربادی کے بارے میں سوچتے رہے۔ گردشِ حالات سے ظاہر ہوتا تھا کہ منشی گھسیٹا خان اب اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا تھا،فطرت کی سخت تعزیریں اس کی منتظر تھیں۔جب بھی ہجوم یاس میں اس کا دل گھبراتا تو بادامی باغ کا چکر لگا کر راوی کے کنارے پر جا نکلتا اور ایام گزشتہ کی کتاب کے اوراق پلٹنے لگتا۔
گرمیوں کا موسم تھا،منشی گھسیٹا خان راوی کے کنارے چہل قدمی میں مصروف تھا۔شام کے سائے ڈھل رہے تھے منشی گھسیٹا خان واپس بادامی باغ جانے کے لیے ہڑ بڑا کر اٹھا۔ اچانک اس کا سر چکرا گیا اور پاؤں لڑکھڑا گئے۔ وہ دریائے راوی کے کنارے لڑھکتا ہوا دریا کے گرداب میں جا گرا۔ بے شمار مگر مچھ پانی پر تیرتے ہوئے اس ننگ وجود پر جھپٹے اور پلک جھپکتے میں اس کی تکا بو ٹی کر دی۔ اگلے روز راوی کے کنارے پر ایک خون آشام اژدہا نمودار ہوا جسے پہلے کسی نے نہ دیکھا تھا۔ اس اژدہا کے خوف سے لوگ راوی کے کنا رے پر جانے سے خوف زدہ رہنے لگے۔بادامی باغ میں جرائم پیشہ اُچکوں میں سے ایک کم ہو گیا۔اب اس کے باقی دو ساتھی زادو لُدھیک اور اکرو بھٹیارا جب بادامی باغ سے نکل کر راوی کے کنارے پہنچتے اور وہاں آنکھوں سے شعلے نکالتے،منہ سے خون اُگلتے اس مانوس نووارد اژدہا کو دیکھتے جو چوہوں اور حشرات پر جھپٹ رہا ہوتا   تو دائمی مفارقت دے جانے والے  اپنے گُرو کو یاد کر کے دل کو سنبھالنے کی کوشش کرتے اور وہ بے اختیار پُکار اُٹھتے:
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور

٭٭٭

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)