Showing posts with label Valentine Day. Show all posts
Showing posts with label Valentine Day. Show all posts

Sunday, 19 February 2017

Love halal or haram


                      محبت حلال یا حرام 

رات کا آخری پہر تھا ، وہ دونوں مزے کی نیند سوۓ ھوئے تھے ، کیف و مستی میں ڈوبے ھوئے ، ، ،
 نوجوان کی آنکھ کھلی ،اس نے کمرے میں جلتی مدھم لائٹ میں کلاک کو دیکھا ، ، اوہ ،،،! بہت لیٹ ھو گئے ، ، اس نے سوچا ، ، ، ابھی اور آرام کر لیں !! نہیں ، ،اس نے اس خیال کو جھٹکا اور اُٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ، ، ، ، وہ غسل کر کے باہر نکلا تو اس نے ایک محبت بھری نگاہ اپنی منکوحہ پر ڈالی اور محبت بھری آواز سے اسے بیدار کرنا چاھا ، مگر وہ کامیاب نہ ھو سکا ، وہ دوبارہ باتھ روم میں داخل ھوا،اپنے ھاتھ گیلے کیے اور ایک چھینٹا اس پر مارا ،، اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں ۔وہ مسکرایا اور اسے تہجد کے لیے خبردار کیا ، ، !!

یہ تھی وہ محبت بھری کوشش اس مبارک جوڑے کی کہ جس پر اللہ تعالی بھی فرشتوں پر فخر فرماتے ھیں اور ان کی بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ، ان پر خاصی رحمتِ الٰہی کا نزول ھو رھا تھا ۔ ۔!!! ۔ ۔ایک پاکیزہ محبت ، ،!!!
چودہ فروری کی ایک تاریک شام ۔ ، ،۔ ۔ ۔!
اسے بار بار لوّ میسج وصول ھو رھا تھا ، اس نے مسکرا کر اسے اوکے کر دیا اور گھر سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگی ۔ ۔ !۔
تھوڑی دیر بعد ۔ ۔ ۔
وہ اپنے یونیورسٹی فیلو کے ساتھ ایک جدید ھوٹل میں بیٹھی آئس کریم کھا رھی تھی ۔ ۔ ۔ !
! ! ۔ ۔
 غیر محرم ھوتے ھوئے اس ملاپ پر ان پر لعنت اللہ تعالی کی طرف سے برس رھی تھی ۔ ۔ لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ ۔ ۔ ۔ ۔مگر وہ دونوں اس سے بے خبر تھے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ تعالی کے غیر محرموں سے اجتناب کے احکامات کی دھجیاں اُڑا کر اللہ تعالی کے غضب اور قہر میں داخل ہو رھے تھے , ,اور اللہ کے عذاب کا کوڑا کسی بھی وقت ، کسی شکل میں ان پر برس سکتا تھا ۔ ۔ ۔ ، ، ، ،

وہ اس کے حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رھا تھا ، شہوت اس کی آنکھوں میں ناچ رہی تھی ۔ ۔ ۔
آؤ ، ، ،
ڈنر کے لیے میں نے ایک سیپریٹ کمرے میں بندوبست کروایا ھے ۔ ۔ ، ،
اور وہ دونوں ایک خوبصورت ، ویل فرنشڈ کمرے میں داخل ہو رھے تھے ۔ ۔ ۔
 مگر اسے معلوم نہ تھا کہ آج جو اس کا مدعی عشق ھے ، وہ کل کا بڑا بلیک میلر ثابت ہو گا ، اور کمرے میں لگے خفیہ کیمرے سے بنی ہوئی ایچ ڈی ویڈیو جہاں اس کے نام نہاد محبوب کے لیے کمائی کا ذریعہ ھو گی، وھیں وہ اس کی معصوم زندگی کو تلخ اور ناکام بنا دے گی ، ، ،
 مگر اس وقت تو اس کی آنکھوں پر جھوٹی محبت اور مغربی تہذیب کی نقل کا ایسا پردہ پڑا ھوا تھا کہ ۔ ۔ ۔۔اسے اپنی عزت ،اپنے خاندان کی عزت کے اُٹھتے ھوئے جناذے کا بھی احساس تک نہ تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ ایک ایسی بند گلی میں پھنس چکی تھی جہاں سے واپسی ناممکن تھی ، ، ، ،

مگر وہ خوش تھی ، ۔ ۔ ۔
ناجائز اظہار ِ محبت کی آزادی پر ۔ ۔ ۔
ایک بےحیاء دن # ویلنٹائن ڈے#
کی یاد تازہ کرنے پر ۔ ۔ ۔
 بہت بڑی قیمت چکانے کے باوجود ۔ ۔ ۔ !!

کاش کوئی اس کو سمجھاتا تو آج اندھیروں اور ناکامیوں کے سفر سے وہ بچ جاتی ، ، ،
۔ ۔ یا اللہ اُمّتِ مسلمہ کی بچیوں کی حفاظت فرما ۔ ۔ ۔!!۔ ۔ آمین ، !!!




Love halal or haram

Dinner last night, he goes to sleep the sleep of the most fun, most submerged in Kiev, joy,,,
 Young's eyes opened, he saw a similar clock in the dim light in the room, oh ,,,! However, was too late, I thought, and just relax !! No, it was the idea of ​​the bathroom shock and up, so he got out of the bath, he put his covenant love filled eyes and love Chakha to wake her full voice, but he could not be successful, he has been re-enter the bathroom, wet your hands and has been a drop, hit his eyes, he smiled and water .Now they do it for the night, !!
It was going to be the name of the happy couple loved him proud to Allah and the angels would announce their forgiveness, mercy upon them greatly. .. . .A Pure love !!!
A dark night of the fourteenth of February. ,,. . .
He was going to receive the message may take time, her smile made it OK and I think the idea of ​​leaving home. . !.
After a while . . .
She'm eating ice cream in a modern Hotel with my fellow university. . . !
! ! . .
 The eyelashes are considered a curse on the combination of advancing years by Allah. . The curse of Pico Almanzor alnazr addressee. . . Although they were unaware. . . . The collection entered blow violation of orders from non-mahram avoid the wrath and anger of Allaah, and the whip at any time of Allah, may rain in any form. . . ,,,,
He was getting mixed hinges of the sky in praise of her beauty, lady was dancing in his eyes. . .
Come,,,
For dinner I had arranged a sypryt room. . ,,
And they were showing into a beautiful, well-furnished rooms. . .
 But she did not know that today the plaintiff's love, they will be earning for tomorrow's big black mailer will be, and made it hidden camera in the room HD video where the so-called love, uhyn she will make her innocent life bitter and unsuccessful,
 But then his eyes had been veiled way of the false, and Western civilization. . Did not even realize who earlier opened position up jnazy his honor, the honor of my family. . . And, it was impossible to return to where it was stuck in a dead end,
But she was happy. . .
At a higher expression of love. . .
A shameful day, Valentine's Day #
Remember to date. . .
 Despite paying a heavy price. . . !!
So I have to explain the darkness and to avoid failures, travel,,,
. . Or Allah protect Muslims of girls. . .?. . Amen.

Valentine's Day ... the truth and teachings of the day.


ویلنٹائن ڈے.. اس دن کی حقیقت اور اسلامی تعلیمات

 _________________________________
اس دن کے بارے میں سب سے پہلی روایت روم میں عیسائیت سے قبل کے دور میں ملتی ھے جب روم کے بت پرست مشرکین 15فروری کو ایک جشن مناتے جو کہ Feast Of Lupercaoius کے نام سے جانا جاتا.. یہ جشن وہ اپنے دیوی دیوتاؤں کے اعزاز میں انہیں خوش کرنے کے لئے مناتے تھے.. ان دیوتاؤں میں Pan (فطرت کا دیوتا) ' Februata Juno (عورتوں اور شادی کی دیوی) اورPastoraigol Lupercalius (رومی دیوتا جسکے کئی دیویوں کے ساتھ عشق ومحبت کے تعلقات تھے ) شامل ھیں..
اس موقع پر ایک برتن میں تمام نوجوان لڑکیوں کے نام لکھ کر ڈالے جاتے جس میں سے تمام لڑکے باری باری ایک پرچی اٹھاتے اور اس طرح لاٹری کے ذریعے منتخب ھونے والی لڑکی اس لڑکے کی ایک دن ' ایک سال یا تمام عمر کی ساتھی قرار پاتی.. یہ دونوں محبت کے اظہار کے طور پر آپس میں تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے اور بعض اوقات شادی بھی کر لیتے تھے..
اس طرح ویلنٹائن کارڈز پر دکھائے جانے والے نیم برھنہ اور تیر کمان اٹھائے ھوئے کیوپڈ (cupid) کی تصویر بھی ویلنٹائن کی خصوصی علامت ھے اور رومن عقیدے کی رو سے وینس (محبت اور خوبصورتی کی دیوی) کا بیٹا ھے جو کہ لوگوں کو اپنے تیر سے نشانہ لگا کر انہیں محبت میں مبتلا کر دیتا ھے..
جب روم میں عیسائیت منظر عام پر آئی تو عیسائیوں نے اس جشن کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی.. اس مقصد کیلئے 14فروری کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا جس دن رومیوں نے ایک عیسائی پادری ویلنٹائن کو سزائے موت دی تھی.. واقعہ کچھ یوں ھے کہ رومی بادشاہ Claudius-ll کے عہد میں روم کی سرزمین مسلسل کشت وخون کی وجہ سے جنگوں کا مرکز بنی رھی اور یہ عالم ھوا کہ ایک وقت میں Claudius کو اپنی فوج کیلئے مردوں کی تعداد بہت کم نظر آئی جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ روم کے نوجوان اپنی بیویوں کو چھوڑ کر پردیس میں لڑنے کیلئے جانا ناپسند کرتے تھے..
بادشاہ نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک خاص عرصے کیلئے شادیوں پر پابندی عائد کردی تاکہ نوجوانوں کو فوج میں آنے کیلئے آمادہ کیا جاسکے.. اس موقع پر ایک پادری سینٹ ویلنٹائن نے خفیہ طور پر نوجوانوں کی شادی کروانے کا اھتمام کیا.. جب اس کا یہ راز فاش ھوا تو بادشاہ (Claudius)کے حکم پر سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا اور سزائے موت کا حکم دیا گیا.. جیل میں یہ پادری صاحب جیلر کی بیٹی کو دل دے بیٹھے جوکہ ان سے ملنے آیا کرتی تھی لیکن یہ ایک راز تھا کیونکہ عیسائی قوانین کے مطابق پادریوں اور راھبوں کیلئے شادی کرنا یا محبت کرنا ممنوع تھا.. اس کے باوجود عیسائی ویلنٹائن کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ھیں کیونکہ جب رومی بادشاہ نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ عیسائیت کو چھوڑ کر رومی خداؤں کی عبادت کرے تو اسے معاف کر دیا جائے گا ' بادشاہ اسے اپنی قربت دے گا اور اپنی بیٹی سے اس کی شادی کردیگا تو اس نے ثابت قدمی کا مظاھرہ کرتے ھوئے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں اس رومی جشن سے ایک دن پہلے 14 فروری 270 ء کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا.. مرنے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کو ایک خط لکھا جس کا خاتمہ For your Valentine کے الفاظ سے کیا.. بہت سے ویلنٹائن کارڈز پر لکھے جانے والے Greetings کے الفاظ For your Valentine اسی واقعہ کی یاد تازہ کرنے کیلئے ھیں..
ویلنٹائن کے نام سے کم از کم تین مختلف پادری ھیں اور تمام کی موت کا دن 14 فروری ھے.. 496ء میں پوپ Gelaslus نے سرکاری طور پر 15 فروری کے فیسٹول Lupercalla کو بدل کر 14فروری کو سینٹ ویلنٹائن ڈے منانے کا اعلان کیا اور لاٹری کے ذریعے لڑکی کے انتخاب کی رومی رسم میں یہ ردوبدل کیا کہ پرچی میں نوجوان لڑکی کے نام کی بجائے عیسائی پادریوں کے نام لکھے جاتے اور تمام مرد اور عورتیں ایک ایک پرچی اٹھاتے.. اس کا مقصد یہ تھا کہ ھر مرد وعورت جس عیسائی پادری کے نام کی پرچی اٹھاتا اسے اگلے ایک سال تک پادری کے طور طریقوں کو اپنانا ھوتا تھا تاھم یہ سلسلہ چل نہ سکا..
(ماخوذ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ' کیتھولک انسائیکلو پیڈیا)
ویلنٹائن ڈے اور اسلامی تعلیمات..
 ______________________
1.. ھمیں ایسے تمام تہواروں سے اجتناب کرنا چاھیے جس کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ھو.. ھر قوم کا اپنا ایک علیحدہ خوشی کا تہوار ھوتا ھے اور اسلام میں مسلمانوں کے خوشی کے تہوار واضح طور پر متعین ھیں.. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیدالفطر کی طرف اشارہ کرتے ھوئے فرمایا..
"اِنَّ لِکُلِّ قَومٍ عِیداً وَہَذَا عِیدُنَا..
 ھر قوم کی اپنی ایک عید ھوتی ھے اور یہ ھماری عید ھے.." (صحیح مسلم ' کتاب صلاۃ العیدین ' حدیث نمبر :۱۴۷۹)
2.. ویلنٹائن ڈے منانے کا مطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ھے.. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا..
"مَن تَشَبَّہَ بِقَومٍ فَہُوَ مِنہُم..
 جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ھے وہ انہیں میں سے ھے.." (سنن ابی داؤد ' کتاب اللباس ' حدیث نمبر :۳۵۱۲)
3.. موجودہ دور میں ویلنٹائن ڈے منانے کا مقصد ایمان اور کفر کی تمیز کئے بغیر تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت ممنوع ھے.. اللہ تعالیٰ فرماتا ہے..
" لَا تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیرَتَہُمْ.. O
 آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں دیکھیں گے ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ھیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں سے دوستی کرتے ھوں.. خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ ھی ھوں.. " (سورۃ المجادلۃ :۲۲)
4.. اس موقع پر نکاح کے بندھن سے قطع نظر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ھے جس میں لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ ملاپ ' تحائف اور کارڈز کا تبادلہ اور غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بداخلاقی کی صورت میں نکلتا ھے جو اس بات کا اظہار ھے کہ ھمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ھے.. اھل مغرب کی طرح ھمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں.. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ھے..
"إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ.. O
 جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ھیں کہ اھل ایمان میں بےحیائی پھیلائی جاسکے ان کیلئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ھے.." (سورۃ النور : ۱۹)
5.. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو معاشرہ قائم فرمایا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا ھی نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ھے مگر اب لگتا ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کیلئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وھی کریں گے جو انکا دل چاھے گا.. فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھے..
"اِذَا لَم تَستَحیِ فَاصنَع مَا شِئتَ..
جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہار ا جی چاھے کرو.." (صحیح بخاری ' کتاب الادب ' رقم الحدیث :۵۶۵۵۵)
یعنی ایسے حالات میں ھمیں عفت و پاکدامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاھئے اور اپنی تہذیب و تمدن ' ثقافت و روایات کو اپنانا چاھیے اور اغیار کی اندھی تقلید سے باز رھنا چاھئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں..



Valentine's Day ... the truth and teachings of the day.
 _________________________________
The first report about it is known is found in the pre-Christian Rome celebrates the Roman pagan celebration for pagans Feb 15 that Feast Of Lupercaoius .. This celebration was in honor of their gods I wanted them to celebrate the gods are pleased. Pan (nature deity) 'Februata Juno (goddess of women and marriage) and Pastoraigol Lupercalius (Roman god of love and relationship insights with which the ladies).
Get her to put it to write the names of all the young girls in a vessel which carried a slip all the boys turn and through such lotteries being a girl could be a day, a year or so of all ages with this guy .. do exchange gifts with one another as an expression of the love and sometimes to get married.
The semi appearing on Valentine cards brhnh and bow raised last Cupid (cupid) image of Valentine's special symbol is and the son, according to the Roman faith Venus (goddess of love and beauty) that people arrows the target is to do them with love.
it is said that the Roman emperor Claudius-ll commitment in advancing the war the center of blood constantly shed Rome's territory and it was found that the number of men Claudius to the military at a time because of the low vision it was left to the young wives of Rome would like to go to fight abroad.
excluding one to worship Roman gods, then he will be forgiven, he will give it close and Roman ceremony in which his daughter will greatly his marriage, he refused considers the Demonstration initiative to your Valentine are reminiscent of the same event.
Is at least three are different pastor and the day of the death on 14 February by the name of Valentine. Pope in 496 AD Gelaslus officially changed Festival Lupercalla February 15 to February 14, the celebration of St. Valentine's Day and lotteries the name slip was sometimes adopt measures next year as pastor However, this process could not walk.
(Derived Encyclopaedia Britannica, Catholic Encyclopaedia)
Valentine's Day and Islam.
 ______________________
Messenger (saw) also said last point Fitr.
"The doors of ayda uhza aydna.
 Which is a feast of Eid every nation and it is true. "(Sahih Muslim, Book alaydyn prayer, Hadith 1479)
2 .. celebrate Valentine's Day is meant to imitate the Roman pagans and Christians. The Messenger of Allah (SAW) as saying.
"The imitation that bqum fhu mnhm.
 He who imitates a nation is one of them. "(Sunan Abu Dawud, Book allbas, Hadith 3512)

"The update quma ywmnun sworn allegiance to Allah forbid volume Aakhir yuadun syndromes from Kano Willow fathers Strait Come Come Come إkuanhm asyrthm .. O
 When you are friends with enemies (peace be upon him) not see those who believe in Allah and the Last Day, that the Allah and His Messenger (peace be upon him) .. whether these the son or brother or father or family do the same. "(Sura honorably: 22)
4. The result of matching is done independently of whether the marriage bond on the independent romantic kind of love in which boys and girls, exchanging gifts and cards and immorality and adultery.

یومِ مُحبت "" کی مناسبت سے عابی مکھنویValentine Day, urdu, poetry,

 یومِ مُحبت "" کی مناسبت سے   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہو تو میں بھی کہہ دُوں چاند کل تک لا کے دے دُوں گا
کہو تو کہہ دُوں بُلبل سے کہ آؤ وہ بُلاتے ہیں


کہو کیا راستے میں مور کے پر بھی بچھانے ہیں ؟؟؟؟؟؟

کہو تو کہہ دُوں تتلی سے عبث ہیں شوخیاں تیری



اگر بولو تو کہہ دُوں پُھول سارے پھیکے لگتے ہیں

تمنا ہے تو لکھ دُوں ہجر کے قصے لہو سے میں !!

کہو تو وصل کے خوابوں کو تعبیریں عطا کر دُوں
مگر ایسا نہیں ہوتا !!

یہ سب مہمل سی باتیں ہیں !!
ستارے چاند بُلبل مور تتلی پھول والے سب !!

ذرا موسم بدلتے ہی بدل دیتے ہیں منزل بھی
سُنو تُم گفتگو کی چاشنی کا زہر مت پینا !!

کہ جو ہوگا یہاں سچا !!
کِرائے کے مکاں کا رونا روئے گا !!

کہے گا کُچھ دِنوں میں نوکری بس ہونے والی ہے !!
فقط لفظوں کے گھن چکر سے بس جاتی اگر دُنیا !!

محض باتیں بنانے سے !!
اگر تو بات بن جاتی !!

تو ہر شاعر خُدا ہوتا !!
شعروں کی دُکاں ہوتی !!

غزل بازار میں بِکتی !!
مگر ایسا نہیں ہوتا کہ سب مہمل سی باتیں ہیں !!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت مِثلِ نزلہ ہے !!

ذرا موسم بدلتے ہی کسی سے ہو بھی سکتی ہے
دوا اچھی جو مِل جائے تو پہلی کھو بھی سکتی ہے

ذرا سا درد سر میں اور تھوڑی سُرخی آنکھوں میں !!
یہ دو ہفتوں میں بھرنے اور چلنے والا قصہ ہے

محبت وہ بھی سچی موسموں کے ساتھ چلتی ہے
یہ موسم آتے جاتے ہیں مگر عابی قسم لے لو !!

اعتبار ایک بار آتا ہے !!
اعتبار ایک بار جاتا ہے !!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درختوں کے تنوں پر نام کندہ کرنے والوں کو بتانا ہے
کسی ذی روح کے سینے کو کبھی چھلنی نہیں کرتے !!

بڑی تکلیف ہوتی ہے !!
محبت کے جتانے کو !!

کوئی وعدہ نبھانے کو !!
کسی کو زخم دینا اِک روایت ہے جہالت کی !!

اگر کوئی عہد لازم ہے وفاداری برتنے کو !!
تو مت کُھرچو درختوں کو !!

اگر کوئی عہد لازم ہے تو یُوں کر لو !!
نکاح کے تین بولوں کی سند پہ دستخط کر دو !!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اِکلوتا شعر کہ !!

لڑکیو !! ہوشیار ہو جاؤ !!
محبت ہارمونل چل رہی ہے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اپنا طور کہ !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمالِ یار کی باتیں
ادائے ناز کے نغمے

قصیدہ حُسنِ جاناں کا
لبوں کی تازگی کے گُن

سرکنا مست آنچل کا
کہانی زُلفِ برہم کی

غضب دَستِ حنائی کا
بہکنا چشمِ آہو کا

فسانہ قُربِ آتش کا
بیانِ موجِ انگڑائی

بہت بِکتا ہے عابی جی
مگر لِکھا نہیں جاتا

بہت تلقین ہوتی ہے
مگر سوچا نہیں جاتا

قلم میں توڑ سکتا ہوں
مگر بیچا نہیں جاتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 عابی مکھنوی

Monday, 13 February 2017

انسان یا جانور کلمۂ حق ۔ تحریر مولانا محمد منصور احمد Valentine Day


انسان یا جانور ؟
کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد 
(شمارہ 5311)

نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل اللہ کے عطا کردہ علم کی روشنی میں آنے والے ایام کے بارے میں جو پیشنگوئیاں کیں تھیں وقتاً فوقتاً ان کا ظہور ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے قیامت برپا ہو جائے گی ، موجودہ دور میں امت ِ مسلمہ میں جو فتنے پیدا ہو رہے ہیں اور جو مستقبل قریب اور بعید میں جنم لیں گے ان کے متعلق آقائے نامدار ﷺ نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم کو آگاہ فرما دیا تھا ، آنے والے فتنوں کے بارے میں وارد بے شمار احادیث میں سے ایک حدیث کا مفہوم یہ بھی ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ میری امت کے گروہ اللہ کے شمنوں (یہود و نصاریٰ ) کی پیروی کرتے ہوئے ان کے طریقوں کو اپنا لیں گے ۔
دشمنان اسلام کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمان جب تک قرآن اور سنت سے جڑے ہوئے ہیں ان کو شکست دینا ممکن نہیں ہے ۔ اس محاذ پر انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے اور کھاتے رہیں گے ۔
انہوں نے روایتی جنگ کے ساتھ ثقافتی جنگ بھی مسلمانوں پر مسلط کر دی اور اس کے لیے کروڑوں اربوں ڈالر مختص کر کے جدید وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی مادر پدر آزاد ثقافت ، مذہبی تہواروں اور عبادات کو زیب و زینت کا لبادہ اوڑھا کر مسلم ممالک میں منتقل کر دیا اور ذرائع ابلاغ ، سیٹلائٹ چینلز اور انٹرنیٹ کے ذریعے مسلم معاشرے میں اپنی عریاں ثقافت کا طوفان کھڑا کر دیا رہی سہی کسر ان مسلم ممالک کے ٹی وی چینلز نے اس طرح پوری کر دی کہ ان اسلام دشمن ممالک کے پروگرام اپنے ممالک میں عام کر کے ہر دیکھنے والے کی ان تک رسائی کو آسان کر دیا ۔ ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے خصوصی پروگرام تیار کئے گئے ۔ تجارتی کمپنیوں نے اپنا منافع بڑھانے کی غرض سے ان چینلز پر اس مناسبت سے اشتہارات کی بھر مار کر دی اور ویلنٹائن ڈے کو یوم محبت کے طور پر فروغ دیا ۔ نوجوانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ یہ محبت کرنے والوں کے لیے ایک ایسا دن ہے جس میں وہ اس ہستی کو تحفے ، کارڈز اور گلاب کے پھول پیش کر کے اپنی محبت اور چاہت کا اظہار کر سکتے ہیں جس سے وہ محبت کرتے ہیں ۔
اس سال بھی چودہ فروری آرہا ہے ۔ ویلنٹائن ڈے ۔ دنیا اسے محبت کا دن کہتی ہے لیکن درحقیقت یہ محبت جیسے پاکیزہ جذبہ کی بد ترین توہین ہے ۔
یہ محبت نہیں ہوس ہے ۔ محبت میں خلوص ہوتا ہے ، ہوس میں مفاد ہوتا ہے ۔
محبت دائمی اور باقی رہنے والا جذبہ ہے ‘ ہوس کیلئے بقاء نہیں ‘ فناء ہی فنا ہے ۔ محبت آتی ہے تو ساتھ غیرت اور حمیت لاتی ہے ۔
ہوس آتی ہے تو انسان بے غیرتی اور بے حمیتی کا پیکر بن جاتا ہے ۔
محبت کا جذبہ ‘ شرم و حیاء سے نکھرتا ہے اور ہوس اپنے ساتھ ایسی بے حیائی اور بے شرمی کے مناظر لاتی ہے کہ انسان تو کیا حیوان بھی ان سے شرماجائے ۔
محبت میں جب تک وفا نہ ہو ‘ وہ معتبر نہیں ہوتی اور ہوس میں تو مطلب نکالنے 

کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔
محبت کا انجام آبادی ہے اور ہوس کا نتیجہ بربادی ہے ۔
بھلا کہاں محبت کا پاکیزہ اور پر خلوص جذبہ اور کہاں ہوش و عقل سے عاری ، غیرت و حمیت سے خالی ، حرص و ہوس کے مارے یہ ناپاک کرتوت ۔
جیسے شراب کی بوتل پر روح افزاء کا لیبل لگا دینے سے وہ شربت نہیں بن جاتی اسی طرحی ہوسناکی کو ’’محبت ‘‘ کہہ دینے سے یہ گندے کام ‘ جائز نہیں ہو جاتے ۔
لوگ ’’ ویلنٹائن ڈے‘‘ کے تاریخی پس منظر کو بتانے کیلئے بہت سی بدبودار کہانیاں نقل کرتے ہیں ۔ ہمارا قلم اور القلم کے صفحات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ باتیں ہم یہاں لکھیں لیکن اتنا تو ہم ضرور کہنا چاہیں گے کہ جس نے بھی اس دن کو ’’یوم محبت‘‘ کا نام دیا ہے ‘ اس نے زبان و ادب پر ہی نہیں ‘ انسانیت پر بھی بہت بڑا ظلم کیا ہے ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مکر و فریب کا سب سے زیادہ نشانہ صنف ِ نازک بنی ۔ محبت کے نام پر اس کو ورغلایا گیا ۔ محبت کے عنوان سے اُسے بے آبرو کیا گیا اور محبت کے نام پر اس کے تقدس کی دھجیاں اڑائی گئیں لیکن یہ عورت سمجھتی رہی کہ شاید یہی میری عزت ہے ‘ یہی میرا کمال ہے اور اسی میں میری کامیابی ہے ۔
وہ عورت جسے اسلام نے نئی زندگی سے روشناس کروایا تھا ۔ عزت اور حیاء کی زندگی ، پاکیزگی اور کمال کی زندگی ، وقار اور باکردار زندگی ۔ لیکن جب یورپ نے اسے صرف ’’سراب‘‘ دکھایا ‘ جسے مسافر دور سے دیکھ کر پانی سمجھتا ہے اور پھر اس کی طلب میں دوڑ پڑتا ہے لیکن سراب صرف ایک سایہ اور فریب ہوتا ہے ۔ مسافر دوڑتے دوڑتے جان کی بازی ہار دیتا ہے لیکن کبھی اسے پانی نہیں ملتا ۔ یہ عورت یورپ کے دکھائے ہوئے سراب کے پیچھے ایسی دوڑی کہ سب کچھ ہی بھلا بیٹھی ۔
آج پاکستان میں جو خواتین اپنے لیے یورپ جیسے حقوق اور مغربی دنیا جیسی آزادی مانگتی ہیں ، کیا وہ بھول چکی ہیں کہ اسلام نے عورت کو کیا کچھ دیا تھا ؟ اور یورپ نے اس سے کیا کچھ لے لیا ہے؟ اسلام نے تو اس صنف ِ نازک کو ماں‘ بہن‘ بیوی اور بیٹی کا تقدس اور بلندی عطا کی تھی لیکن یورپ نے اسے سیلزگرل اور گرل فرینڈ کی ذلت اور پستی میں دھکیل دیا ۔
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ نے اپنی کتاب ’’کاروانِ مدینہ‘‘ میں خواتینِ اسلام کی طرف سے جو ہدیۂ تشکر ،بارگاہِ رسالت میں پیش کیا ہے ‘ وہ مغرب کی فریب زدہ مسلمان عورتوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:
’’بارگاہ ِ رسالت میں خواتین کا ہدیہ تشکر ‘‘
ہم آپ پر درود و سلام بھیجتی ہیں ۔ اے اللہ کے رسول! ایسے طبقے کا درود و سلام جس پر آپ کا بڑا احسان ہے ۔ آپ نے ہمیں خدا کی مدد سے ‘ جاہلیت کی بیڑیوں اور بندشوں‘ جاہلی عادات وروایات ‘ سوسائٹی کے ظلم اور مردوں کی زور دستی اور زیادتی سے نجات بخشی ۔ لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کے رواج کو ختم کیا ۔ مائوںکی نافرمانی پر وعید سنائی ۔ آپ نے فرمایا کہ جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے ۔ آپ نے وراثت میں ہم کو شریک کیا اور اس میں ماں‘ بہن ‘ بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے ہم کو حصہ دلایا ۔ یوم عرفہ کے مشہور خطبہ میں بھی آپ نے ہمیں فراموش نہیں کیا اور فرمایا :
’’ عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو ۔ اس لیے کہ تم نے ان کو اللہ کے نام کے 
واسطے سے حلال کیا ہے‘‘۔

اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر آپ نے مردوں کو عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک ، ادائِ حقوق اور بہتر معاشرت کی ترغیب دی ۔
اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے طبقہ کی طرف سے وہ بہتر سے بہتر جزائے خیر دے ‘جو انبیاء و مرسلین اور اللہ کے نیک اور صالح بندوں کو دی جا سکتی ہے‘‘۔
یہ سچ ہے کہ آج وطن عزیز میں کئی جگہ عورت کو وہ مقام حاصل نہیں‘ جو مقام اسے قرآن وحدیث نے بخشا تھا ۔ کئی علاقوں میں قرآن مجید کے ساتھ شادی کے نام پر اسے عمر قید کی سزا دی جاتی ہے اور کئی مرتبہ درندگی کے ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں‘ جن کی وجہ سے ملک و ملت کی بد نامی ہوتی ہے لیکن اس سے بڑا سچ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو جو عزت حاصل ہے ‘ وہ یورپ کی عورت کو شاید ایک ہزار سال بعد بھی نصیب نہ ہو ۔
آج بھی بہت سے گناہگار لوگ پرائی عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکالیتے ہیں ۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں احتراماً ان کیلئے نشست خالی کر دیتے ہیں ۔ ان کی موجودگی میں سگریٹ نہیں پیتے اور عزت و احترام سے بات کرتے ہیں ۔ آج بھی کئی لوگ اپنے گھر میں بیٹی پیدا ہونے پر شراب چھوڑ دیتے ہیں اور گناہوں کی زندگی سے تو بہ تائب ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں آج بھی ’’بھائی‘‘ کا لفظ سن کر لوگوں کی آنکھوں میں شرم و حیا آجاتی ہے اور وہ اعلیٰ انسانی اقدار کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی ماں کے نافرمان کو برا سمجھا جاتا ہے اور عورت پر ہاتھ اٹھانے والے کو بزدل اور کمینہ ۔ جہیز کی جو لعنت ہمارے معاشرے پر مسلط ہے آج بھی اُس کے ناجائز تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے باپ کن کن آزمائشوں سے گزرتے ہیں ، یہ بھی ایک دکھ بھری داستان ہے ۔
یورپ کا مادر پدر معاشرہ کب کا ایسی دقیانوسی باتوں اور عادتوں سے محروم ہو چکا ہے ۔ صرف ایک عبرت انگیز واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
مشہور عربی محلہ’ ’البحوث الاسلامیہ‘‘ کے چیف ایڈیٹر ، ڈاکٹر محمد بن سعد الشویعر نے لند ن سے شائع ہونے والے عربی اخبار ’’المسلمون‘‘ میں بہت پہلے اپنے سفرِ امریکہ کا ایک روح فرسامشاہدہ تحریر کیا تھا ۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ ۱۹۸۰ء میںسردیوں کے موسم میں ‘ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ کلو راڈواسپرنگ میں مشرقی کھانوںکی تلاش میں گھوم رہا تھا ۔ سردی بہت شدید تھی اس لیے ہم جلدی جلدی چل رہے تھے ۔ راستے میں ہم نے ایک نوجوان لڑکی کو لب سڑک سردی سے کپکپاتے دیکھا ۔ وہ ہرگزرنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ ہمارے ایک دوست کو تجسس ہوا ۔ اس نے لڑکی کے قریب جا کر اس کا حال پوچھا تو پتہ چلا کہ بے چاری مجبوراً گھر سے نکلی ہے کیونکہ اس کا باپ اس سے مکان کا کرایہ اور ہفتہ وار اخراجات کی رقم مانگ رہا ہے ۔ لڑکی کی عمر چونکہ ۱۸ سال ہے ، اسی لیے قانونی طور پر اسے خود اپنی کفالت کرنی ہے ۔ اس لیے باپ اُسے مفت رہائش اور کھانے کی سہولت دینے سے انکار کر رہا ہے‘‘۔
پاکستان میں ہماری نئی نسل کو یورپ کی صرف خوبصورت تصویر دکھائی جاتی ہے اور وہاں کی تباہ کاریاں ان سے چھپائی جاتی ہیں ۔ اس خوفناک کوتاہی کا بھیانک انجام اب ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ اگر وحیٔ الٰہی کی روشنی سے محروم اس معاشرے کی پوری تصویر سامنے رکھی جائے تو کوئی بھی شریف انسان ایک لمحے کیلئے بھی اسے قبول نہیں کر سکتا ۔
پاکستان کے ایک معروف صحافی پیرس گئے ۔ جہاں انہوں نے وہ اولڈ ہومز بھی دیکھے جہاں لوگ اپنے بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ جاتے ہیں ۔ ایک جگہ اُن کی ملاقات ایک بابا جی سے ہوئی جنہوں نے ان سے پوچھا : ’’کیا تم لوگوں نے بھی بوڑھوں کیلئے اس طرح کے گھر بنائے ہوئے ہیں؟‘‘ بوڑھا ہنستے ہنستے اچانک خاموش ہوگیا اور اس نے کھڑکی سے باہر نگاہیں جماتے ہوئے پوچھا۔ باہر گھپ اندھیرا تھا اور بوڑھے درخت جھکی ہوئی ٹہنیوں کا بوجھ سنبھالنے ایک دوسرے کے سامنے ساکت کھڑے تھے۔
’’نہیں ہمارے ہاں ایسا نہیںہوتا۔ وہ شروع سے آخر تک ہمارے درمیان رہتے ہیں اور ہم ان کی خدمت کرتے ہوئے راحت محسوس کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسا نہیں کرتے، لیکن معاشرے میں انہیں بہرحال اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔‘‘
’’تم یقینا ہم سے زیادہ مہذب لوگ ہو۔‘‘ بوڑھے نے گلوگیر لہجے میں کہا۔ ’’تو کیا آپ کے بچے آپ سے ملنے کیلئے نہیں آتے؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’شروع شروع میں جب وہ ہمیں یہاں داخل کراتے ہیں تو ہر ویک اینڈ پر ملنے کیلئے آتے ہیں، اس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ گیپ ڈالنا شروع کردیتے ہیں، اور پھر ایک مہینہ کے بعد اپنی شکل دکھاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ عرصہ طویل ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر ان سے صرف کرسمس کے موقع پر ملاقات ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے کہ کرسمس پر ان کی بجائے ان کی طرف سے کرسمس کارڈ موصول ہوتا ہے اور پھر ایک دن اطلاع ملنے پر وہ میت وصول کرنے آجاتے ہیں، جس کی آنکھیں اپنے بیٹوں کے انتظار میں مرنے کے بعد بھی کھلی ہوتی ہیں۔‘‘
مجھے یوں لگا جسے کسی نے میرا کلیجہ مسل دیا ہو۔ میں یہ گفتگو آگے نہیں بڑھانا چاہتا تھا، لیکن بوڑھے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:’’ہمیں گو یہاں ہر طرح کی سہولت اور آسائشیں حاصل ہیں، لیکن ہم اپنے بچوں کی شکلیں دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔ پہلے پالتو جانور رکھنے کی اجازت تھی، چنانچہ ہم لوگ بلیوں وغیرہ کو وہ محبت دے کر سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، جو ہمارے دلوں میں اپنی اولاد کیلئے ہے، لیکن اب انتظامیہ نے پالتو جانور رکھنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ چنانچہ اب کئی مائیں یہاں رات کو اپنے ساتھ گڈیوں کو تھپکیاں دے دے کر سلاتی ہیں۔ ہم تمہیں ہنستے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ ہمارے قہقہے کھوکھلے ہیں اور ہمارے سینوں میں چیخیں رکی ہوئی ہیں۔جب یہاں کسی کا کوئی ملاقاتی آتا ہے تو تھوڑی دیر کیلئے ہمارے چہروں پر رونق آجاتی ہے اور اس کے بعد ہم پھر غم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘اس لمحے مجھے بوڑھے کی آنکھوں میں ویرانیاں تیرتی نظر آئیں۔ اس نے اپنی کہنیاں میز پر ٹکاتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہا۔ ’’بیٹے اگر تم لوگ بھی صنعتی ترقی کے دور سے گزرو، تو اس کی نعمتوں سے ضرور بہرور ہونا، لیکن اس کیلئے ان نعمتوں کی قربانی نہ دینا جن کا کوئی بدل نہیں۔‘‘
یہ باتیں پڑھنے کے بعد ہر باشعور شخص یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا یہی وہ معاشرت اور طرزِ زندگی ہے ‘ جسے ہمارے وزیر اعظم ’’لبرل پاکستان‘‘ کے نام سے اور ہمارا میڈیا مختلف عنوانات سے ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے ۔
پوری دنیا میں چودہ فروری کو منایا جانے والا ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ بھی اسی مغربی ثقافت کا حصہ ہے ، جس کی بنیاد ہی بے شرمی اور بے حیائی پر رکھی گئی ہے ۔ یہ دن تو اس طرز زندگی کی نمائندگی کرتا ہے جس کا خمیر ہی ڈار ون کے نظریہ ارتقاء سے اٹھایا گیا ہے ۔ اس نظریہ کے مطابق چونکہ انسان اصل میں بند رتھا اس لیے اب بھی انسان کو جانوروں والے کا م کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور یہ اس کا بنیادی حق بھی ہے ، ان کی نظر میں شرم و حیاء غیرت و حمیت اب صرف ایسے الفاظ ہیں جن کا کوئی معنیٰ نہ ہو۔
اب ہر شخص فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی پاکیزہ تعلیمات پر چل کر انسان بننا چاہتا ہے یا مادر پدر آزادی حاصل کر کے ’’جانوروں‘‘ کے راستے پر چلنا چاہتا ہے ۔
اللہ کریم ہمیں ہر قسم کی گمراہیوں سے محفوظ فرمائے(آمین ثم آمین

Valentine Day ویلنٹائن مردار تہذیب کی دستک

             

وہ دن گئے جب ہم مغرب سے کہتے تھے تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی۔ وہ ہمیں ساتھ لیے بغیر مرنے کا ارادہ نہیں رکھتے… اورہم ان کے بغیر جینے کے روادار نہیں!
یہ موت کب سے ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔
 کلچرل گلوبلائزیشن‘ کی حالیہ رفتار سے اگر آپ واقف ہیں، تو ہرگز بعید مت جانئے کہ ہم جنس پرست بن مانس اور بجو کل آپ کی اِن گلیوں میں پھٹی ہوئی جینوں کے ساتھ جلوس نکالتے پھریں
 اور بدفعلی پہ ناک چڑھانے پر آپ کو اور آپ کے آباؤ اجداد کو بدتہذیبی کے طعنے دیں… بلکہ ’تہذیب‘ کا یہ آخری گھونٹ بھی زبردستی آپ کے حلق سے اتارنے کی کوشش کریں!
باؤلا جس کو کاٹ لے، باؤلا کر دے۔ 
 ایک نہایت کالی، باؤلی آندھی اب ہر ملک کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے۔ لبرلسٹ، سیکولر، جدت پسند سب اپنا اپنا کام کریں گے اور تاریخ کے اِس فسادِ عظیم کا راستہ صاف کرکے رخصت ہوں گے۔ 
 پیچھے، پیکیج ایک ہے؛ اور ہر کسی کو یہ پورے کا پورا لینا ہو گا؛ اِس پیکیج کے حصے کرنا ممکن نہیں!!!
 سرخ سویرا‘ بیت چکا، اب وہ سب بھاڑے کے لکھاری، ادیب، دانشور، اینکر، گویے، بھانڈ، ڈھولچی اِس ’کالے سویرے‘ کے بگل بردار ہیں۔
 حضرات! اِس کالی آندھی کے مقابلے پر نہیں اٹھیں گے، تو بِجو اور سوؤر آپ کے مال روڈ، لبرٹی اور آپ کے سوک سینٹرز کے آس پاس نکلا ہی چاہتے ہیں۔
اِس جدید بدبودار مخلوق کی ’ذات‘ کیا ہے؟ سید قطب کے الفاظ میں….:
دن کے وقت مشین، رات کے وقت حیوان۔ اور حیوان بھی ایسا ویسا نہیں!”
این جی اوز نے حرام کے بچوں کےلیے پہلے ہی ’کریڈل‘ نصب کر لیے ہیں!
ایک سماجی جنگ کا گھمسان؛ جبکہ ہمارے ’صالحین‘ اپنی نیکی کے نشے میں مست۔ 
 آپکی شریف زادیوں کے سر کی چادر تو کب کی فسانہ ہوئی، اور خدابخشے وہ اپنے ساتھ نہ جانے اور کیا کچھ لےگئی… بس یہ دیکھئے اتنا سا لباس بھی آپکی اِس آبرو کے تن پر کب تک سلامت ہے۔
 تعلیم‘ کا عفریت اور ’ابلاغ‘ کا بھیڑیا کس فنکاری اور مشاقی کے ساتھ ہم نمازیوں، روزہ داروں، حاجیوں، عبادت گزاروں اور علماء وفضلاء ومبلغین کے زیرِتماشا ہماری بچی کا لبادہ نوچتا چلا جارہا ہے۔۔۔۔ کیا ہوا، ہماری بیٹی سربازار ’’لباس‘‘ اور ’’روایات‘‘ کے بوجھ سے ہلکی ہی تو کی جارہی ہے…!
 ہرسال اس فیبرک کے کچھ ہی تَند نکالے جاتے ہیں! ہوتے ہوتے بہت اترا پھربھی ’مغرب جتنا‘ نہیں! آپ خوامخواہ پریشان ہوتے ہیں؛ وہاں تو آپ کو پتہ ہے…!
 خاطر جمع رکھئے؛ سب اُدھر ہی کو جارہے ہیں۔ ایک دم برہنہ تو نہیں ہوئی ہماری لختِ جگر۔۔پورا سو سال لگا ’اتنی سی‘ برہنہ ہونے میں۔۔زبردستی تو نہیں ہوئی! جتنا ہمیں ہضم ہوا اتنا ہوئی!
 ہاں اب ہمارا ’ہاضمہ‘ تیز کرنے کی وہ زوداثر خوراکیں جو ’انفرمیشن ریوولیوشن‘ کی پڑیوں میں ڈال کر ہمیں بیچی جارہی ہیں اپنا جادو دکھانے لگیں … نہ جانے فری میسن اِس بار اتنی مطمئن کیوں ہے!
 اپنی شریف زادیوں کی ایک برہنگی ہی کیا، اب تو ویلنٹائن، کنڈوم کلچر، شوقیہ قحبہ گری، ’سیکس ایجوکیشن‘، لِزبینز اینڈ گیز، کنواری ماؤں کو ’قبول‘ کروانے کی انسانی ہمدردی کی تحریکیں اور نہ جانے کیا کیا ہمیں ’’ہضم‘‘ ہوجانے والا ہے۔
 فکر مت کیجئے؛ پیکیج ایک ہے۔ بس یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے صاحب! یہ سب متلی جو ’کنواری ماؤں‘ کا لفظ سن کر فوراً آپ کے حلق کو آپہنچتی ہے، ’پُڑی‘ کے اثر سے زائل ہوجانے والی ہے! 
 آپ کوئی پہلے ’مریض‘ تھوڑی ہیں، اس سے پہلے بڑی بڑی قوموں کا کامیاب علاج کیا جاچکا ہے؛ معالج کی مہارت پر شک کرنے والا کوئی احمق جاہل ہی ہوسکتا ہے اور اس پر پردہ ڈالنے والا زندیق منافق… بلکہ ابلیس۔
حضرات خاموشی کب تک؟
اٹھیے۔ بولیے۔چیخیے… چودہ فروری آپکی تہذیب کا لٹمس ٹیسٹ ہے۔
 رونا اس بدکار میڈیا کا نہیں… رونا اس بات کا ہے کہ آج ہماری مسجدوں، منبروں اور محرابوں کو سانپ سونگھ گیا ہے!

ہوس کو پوجنے والے پجاری آج نکلیں گے محبت کا تماشا ہے مداری آج نکلیں گے Aabi Makhnavi, Valentine Day, urdu, poetry,


 ہوس کو پوجنے والے پجاری آج نکلیں گے
 محبت کا تماشا ہے مداری آج نکلیں گے

لگیں گے نرخ عصمت کے جمےگی ہرطرف بازی
 حیا سے کھیلنے والے جواری آج نکلیں گے

ہزاروں پھول سُولی پر چڑھیں گے آج پھر عابیؔ
 خدایا رحم گلشن پر شکاری آج نکلیں گے

عابی مکھنوی

Sunday, 12 February 2017

Valentine Dayویلنٹائن ڈے یا اسلام سے ریزائن( نعوذ باللہ)


ویلنٹائن ڈے یا اسلام سے ریزائن( نعوذ باللہ)

.
ہرسال 14 فروری کو دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کی تاریخ کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں جن میں بہر حال یہ بات مشترک ہے کہ یہ دن کسی سینٹ ویلنٹائن نامی غیر مسلم کی یاد میں منایا جاتا ہے جسےملکی قوانین کو توڑنے پر جیل کی سزا ہوئی اور بعد میں جیلر کی بیٹی سے ناجائز تعلقات رکھنے کی بناء پر روم کے بادشاہ کلاڈیس نے 14 فروری 270 عیسوی کو موت کی سزا دی۔ چنانچہ اس دور کے چند اوباش قسم کے نوجوانوں نے سینٹ ویلنٹائن کو شہیدِ محبت کا درجہ دے کر اس کی یاد میں ویلنٹائن ڈے منانے کا آغاز کیا۔ چونکہ اس دن کی بنیاد ہی گناہ اور بے حیائی پر رکھی گئی تھی چنانچہ بعد میں آنے والوں نے 14 فروری کو شرم و حیا اور شرفِ آدمیت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فحاشی و عریانی کی حد کر دی۔ پاکستان میں بھی 14فروری کو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو گلاب کے پھول ، تحفے، ویلنٹائن کارڈ اور موبائل پر اور انٹرنیٹ پر پیغامات بھیجتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غور فرمائیں!۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اللہ رب العزت کو اپنا رب اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول ماننے والوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کی یاد میں ویلنٹائن ڈے منائیں ؟ اس دن غیر محرم مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کریں اور پھول وغیرہ بھیجیں؟۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تہوار بھی کافروں کا اور کام بھی کافروں والے۔ ویلنٹائین ڈے منانا کفار کی مشابہت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے"۔(أبو داود۔4031) دینی غیرت وحمیت رکھنے والوں اور اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں کے لیے یہی حدیث کافی ہے ۔ تو کوئی ہے جو اپنے رب اور رسول صلی ا للہ علیہ وسلم کی محبت کی خاطر اس گندے تہوار کو منانے سے خود بھی باز رہے اور دوسروں کو بھی روکے؟ ویلنٹائن ڈے پرغیر محرم مردو عورت کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا ، پھول پیش کرنا اور دوستیاں لگانا کبیرہ گناہ ہے ۔ اسلام حیاء والا دین ہے جو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یوں اللہ کی حدوں کو توڑ کر معاشرے کو آلودہ کیا جائے۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں ، یہ ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالٰی سب سے خبردار ہے۔ (النور۔30) مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں(النور۔31) دوسرے مقام پر کائنات کا رب مسلمان عورتوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے !) اور اپنے گھروں میں قرار سے رہواور جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃدیتی رہو اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری کرو۔ سورة الأحزاب( یہ احکامات اللہ پاک کے ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور جو ہمارامالک ہے اور جس کے انعامات بے حد و حساب ہیں۔ لہٰذا اس کی نافرمانی پر رسوائی اور عذاب بھی بہت ہے ۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ( جو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ پاک کی حدود کو پھلانگتے ہیں ، اللہ پاک ان کو آگ میں داخل کرے گا اور ان کے لیے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے ۔القران) ویلنٹائن ڈے کھلی بے حیائی پر مبنی تہوار ہے ۔ چنانچہ اس دن کو منانا ،یا منانے میں مدد دینا ، یا منانے والوں میں شامل ہونا ، یا اس دن کےلیے خاص قسم کے پھول بنا کر بیچنا ، ویلنٹائن ڈے کا رڈ بیچنا یا کسی بھی طرح اس تہوار میں شامل ہونا سخت گناہ اور عذابِ جہنم کا باعث ہے ۔ اللہ پاک سورۃ النور میں ارشاد فرماتا ہے کہ بے شک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیاو آخرت میں الم ناک عذاب ہے ۔( القران ) محترم اور قابلِ احترام اسلامی بھائیو اور بہنو !ہم نے قرآن کریم کی آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں بات واضح کر دی ہے ۔ لہٰذا اگر اب بھی کوئی اس دن کو مناے تو یہ اللہ پاک کی آیات کا انکار ہے ، جس کے متعلق اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ بے شک جو لوگ اللہ پاک کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی ۔ اللہ پاک بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے ، زمین و آسمان کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ۔ ( العمران۔ القران) یہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ اگر دین سے ہٹ کر ہم برائی کی طرف چلیں گے تو اللہ پاک ہم کو عذاب دے گا۔ سب کے لیے فرمان ہے کہ اللہ پاک کے عذاب سے خود کو بچاؤ اور دوسروں کو بھی ، ، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس (جہنم کی) آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا تے ہیں) سورة التحريم ( اللہ پاک اپنے بندوں کے لیے پھر قرآن میں ایک اور جگہ فرماتا ہے کہ اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وه دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس (قیامت کے ) روز نہ تو کوئی پناه کی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی(. سورة الشورى۔ 47) ------------------------------ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیره) بھیجا ہے۔ اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ (کے احکام) کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا، اور ایسے ہی لوگ نافرمان (فاسق) ہوتے ہیں۔ اہل نار (جہنم والے ) اور اہل جنت (باہم) برابر نہیں۔ جو اہل جنت ہیں وہی کامیاب ہیں (اور جو اہل نار ہیں وه ناکام ہیں ) اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تو دیکھتا کہ خوف الٰہی سے وه پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وه غور وفکر کریں۔ ( سورة الحشر) اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کر سکیں۔ (البقرۃ۔ 48) ----------------------- پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی.( سورة عبس۔33) ------------------------- جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا۔ اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دھنکی ہوئی) رنگین اون اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے (اس روز) گنہگار خواہش کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دے دے یعنی اپنے بیٹے ، اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی ، اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا ، اور جتنے آدمی زمین میں ہیں (غرض) سب (کچھ دے دے) اور اپنے تئیں عذاب سے چھڑا لے ، (اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات د دے ) (لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے ، کھال ادھیڑ ڈالنے والی ، ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا ، (سورہ معارج) ---------------------------- اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے(سورة الزخرف۔67) ------------------------- جس دن کہ مال اور اود کچھ کام نہ آئے گی ، لیکن فائده وا وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے،( سورة الشعراء) ---------------------- اپنے رب کا حکم مان لو اس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وه دن آجائے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناه کی جگہ ملے گی نہ چھ کر انجان بن جانے کی ( سورة الشورى۔47) ------------------ بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے ، پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی ، اور چاند بے نور ہو جائے گا ، اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ، اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا ، اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے ، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے، اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے، کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا (سورة القيامة) ---------------------------- بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔( سورة الأنفال ۔ 2) اللہ پاک ہم کو ہر طرح کے گنا ہ سے بچنے کی توفیق دے اور غیر مسلم کی رسم و رواج کو چھوڑنے اور اپنے دین کی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہر قسم کے شرک اور بدعات سے بچنے کی توفیق دے ۔ آمین۔

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)