Showing posts with label hikayaat. Show all posts
Showing posts with label hikayaat. Show all posts

Tuesday, 16 May 2017

ZAN MUREED


زن مرید
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی مرتبہ وہ مجھے جمرات پر نظر آئے۔ مناسب قد و قامت کے حامل تھے۔ چہرے پہ سجی سفید داڑھی نہایت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ بڑے جذبے سے کنکریاں مار رہے تھے۔ سات کنکریاں مار چکے تو پھر سات اور ماریں۔ خیال ہوا کہ شاید کسی اور نے اپنی رمی کرنے کے لئے وکیل بنایا ہو گا۔ پھر قربان گاہ میں دیکھا تو یکے بعد دیگرے دو دنبے ذبح کئے۔ ظاہر ہے قربانی کے لئے بھی بہت سے لوگ ذمہ داری لے لیتے ہیں، سو اس میں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ لگی۔ اگلے روز طواف وداع کے لئے حرم پہنچا توطواف کے آغاز پر پھر وہ نظر آئے۔ میں طواف شروع کر رہا تھا اور وہ طواف مکمل کر کے ہجوم سے باہر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر انہیں دوبارہ طواف کرتے ہوئے پایا۔ سخت تعجب ہوا کہ اس قدر ہجوم میں ایک ہی طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا اور یہ حضرت دوسرا طواف کرنےلگ گئے۔ بعد ازاں صفا مروہ کی سعی کے دوران پھر ان پر نگاہ پڑی ۔ مروہ پر سعی مکمل کر کے میں چپل اٹھانے کی غرض سے صفا پر پہنچا تو انہیں ایک بار پھر سعی کی نیت کرتے اور پھر صفا سے مروہ کی جانب چلتے دیکھا۔ اب تو سخت حیرت ہوئی کہ حضرت ہر عمل دو دو بار کر رہے ہیں۔ خیال ہوا کہ پوچھنا چاہئے لیکن اس قدر ہجوم میں کہاں موقع تھا ان باتوں کا۔ سو اپنی راہ لی۔ لیکن ایک کھٹک سی دل میں برقرار رہی۔
حج کے بعد ایک روز میں ناشتے کی غرض سے بقالے کی جانب جا رہا تھا کہ وہ گلی میں داخل ہوتے نظر آئے۔ سلام دعا کے بعد باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ قریبی عمارت میں ہی رہائش پزیر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ کہنے لگے : چلئے میاں ! ہمارے کمرے میں آ جائیے۔ ناشتہ ساتھ ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرے میں دو بستر پڑے تھے۔ اور باقی سامان سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔
ناشتے کے دوران کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر انہوں نے کہا: میاں پوچھئے کیا پوچھنا چاہ رہے تھےآپ ؟عرض کی : حضرت ! حج کے ارکان کی ادائیگی کے دوران آپ مجھے جا بجا نظر آئے۔ آپ کو ہر عمل دو دو بار کرتے دیکھا۔ بس یہی بات کھٹک رہی تھی ۔ اگر مناسب سمجھیں تو وجہ بتا دیجئے۔ سوال سن کر وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ پھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجھے سخت افسوس ہوا کہ ناحق ان کو دکھی کر دیا۔ معذرت کرنےلگا ۔ کہنے لگے: نہیں میاں ! معذرت کیسی؟ بتائے دیتے ہیں آپ کو۔ شاید کچھ دل کا بار کم ہو جائے۔ پھر رومال سے آنکھیں پونچھ کے آہستہ آہستہ بتانے لگے:
میاں کیا بتائیں؟ بیگم کو حج کی شدید آرزو تھی۔ چھ ماہ پہلے کی بات ہے جب حج فارم جمع ہونے کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو پیچھے لگ گئی کہ اس بار ہم بھی فارم بھر دیں۔ ہم نے کہا کہ بھئی ابھی وقت مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں۔ رقم پس انداز کرنی شروع کر دینی چاہئے۔ آخر کو ان کی شادیاں کرنی ہیں۔لگی حدیثیں سنانے۔ کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ حج فرض ہو جانے کے بعد حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے کہ جانے کب کیا رکاوٹ پیش آ جائے۔ پھر دوسری حدیث یہ سنا دی کہ جو حج کی ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے تو وہ چاہے یہودی ہو کے مرے یا نصرانی۔ پھر تیسری حدیث کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ایک دلیل یہ دی کہ پہلے کوئی کام رکا ہے ہمارا جو آئندہ رکے گا؟ جب جس چیز کی ضرورت پڑی، اللہ نے اپنے فضل سے پوری کر دی۔ آئندہ بھی کر دے گا۔ تو میاں سمجھو یوں حج کا فارم جمع کرا دیا۔ اور پھر یہاں چلے آئے۔
میاں مت پوچھو کہ بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑی تو کیا حالت ہوئی۔ کیسا سرور ملا۔ جھوم کے کہا :بیگم !اس ایک نگاہ میں ہی سارے پیسے وصول ہو گئے۔ عمرہ ادا کیا تو نشاط طاری ہو گیا۔ یہی خیال آتا رہا کہ عمرہ میں اتنی لذت ہے تو حج کیا ہو گا؟ حج کے انتظار کے دنوں میں طواف اور نماز کے لئے بیت اللہ کے چکر لگتے رہے ۔ اس دوران سرکار ﷺ کے دربار میں حاضری کا موقع بھی ملا۔ دیار نبی ﷺ سے فیض پا کر مکہ لوٹے تو مزید ایک عمرہ کا موقع ملا۔ ہر لمحہ اللہ کی رحمت کا ہالہ اپنے گردا گرد محسوس ہوتا تھا۔ میاں دعائیں تو یوں قبول ہو رہی تھیں گویا اللہ انتظار میں بیٹھا ہو کہ بندے کے منہ سے کوئی سوال نکلے اور وہ پورا کرے۔ اللہ اکبر۔ بھئی یقین مانو اسی کا ظرف ہے ورنہ کہاں ہم سا گنہگار کہ حج ایسے فریضے کی ادائیگی کی فکر کرنے کے بجائے ٹال مٹول اور بہانے بازیاں ، اور کہاں اس کا کرم۔ چاہتا تو وہ بھی ہماری دعاؤں کو ٹال دیتا ۔ لیکن نہیں میاں۔ بلا بھی لیا اور مان بھی گیا۔
دن یونہی مزے میں گزر رہے تھے۔ حج قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ جمعہ کی شام تھی۔ آسمان پر کالے بادل گھر گھر کے آنے لگے ۔ پھر باران رحمت کا نزول ہوا۔ شدید بارش ہوئی۔ ہم اور ہماری بیگم حرم کے بیرونی صحن میں تھے۔ لمحوں میں کپڑے تر بتر ہو گئے ۔ طے ہوا واپس رہائش گاہ پر چلا جائے۔ دو چار قدم چلے تھے کہ ہمیں خیال آیا کہ پانی کے تھرماس میں زم زم ختم ہو چکاہے۔ بیگم سے ذکر کیا تو جھٹ سے بولی : آپ ٹھہریں ۔ میں بھر کے لاتی ہوں۔ اور پاس ہی موجود زم زم کی ٹنکی کی جانب دوڑ پڑی۔ چند قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ ایک دھماکہ ہوا اور اوپر سے ٹنوں وزنی کرین آ گری۔ میاں بس مت پوچھو آن کی آن میں کیا ہو گیا۔ ان کی آواز بیٹھتی چلی گئی۔میری بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ حادثہ تھا ہی اتنا اندوہناک ۔ ایک لمحہ میں بیسیوں حاجی شہید ہو گئے تھے۔ اور بے شمار زخمی۔ حرم کا مرمریں صحن سرخ ہو گیا تھا۔ تعزیت کرنی چاہی لیکن الفاظ گویا حلق میں پھنس کر رہ گئے۔
کچھ دیر سکوت کے بعد انہوں نے ہی خاموشی توڑی: میاں! کیا بتاؤں کتنی خوبیاں تھیں اس میں۔ نہایت صابر و شاکر ۔ وفا شعار ۔ سلیقہ مند۔ اللہ کی رضا میں راضی۔ بھاگ بھاگ کے ہماری خدمتیں کیا کرتی تھی۔ ہماری مرضی پہ اپنی مرضی کو قربان کر دیا۔ اپنی پسند نا پسند کو ہماری پسند نا پسند کے مطابق ڈھال لیا۔ ہر خوشی غمی میں ہمارے شانہ بشانہ۔ وہ کہتی تھی کہ عورت کا مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا اصل اور پسندیدہ طریقہ اس کی نظر میں یہی ہے۔
میاں ! نکاح میں قبول ہے کہا نا ۔۔۔ تو پھر ہر طرح سے ہمیں قبول کر کے دکھایا۔ ہماری جھڑکیاں اور نخرے برداشت کئے ۔ کبھی شکوہ نہ کیا۔ وقت بے وقت کی فرمائشیں پوری کیں۔ سفر حج کے سامان کی پیکنگ کے وقت ہماری ضرورت کی تمام اشیاء خود ہی جمع کر کے رکھیں۔ کپڑوں سے لے کر سیفٹی پن تک، اور عینک سے لے کر دواؤں تک ہر چیز کی موجودگی کو یقینی بنایا۔ تربیتی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کا اہتمام کیا۔
اور یہاں آ کے تو وہ گویا بچھی ہی چلی جا رہی تھی۔ ہل کے پانی تک نہ پینے دیتی ہمیں۔ حرم میں حاضری کے بعد تھک ہار کر واپس آتے تو خود باوجود تھکان کے ہمارے پیر دبانے لگ جاتی۔ ہم روکتے تو کہتی کہ پہلے تو آپ صرف شوہر تھے، اب تو اللہ کے مہمان بھی ہیں۔ اللہ کے مہمان کی خدمت کرنے دیجئے۔ کبھی کبھی احساس تشکر سے بھیگی آنکھیں لئے ہمارے ہاتھ پکڑ کر کہتی کہ آپ نے مجھے اللہ کا گھر دکھا دیا۔ حالانکہ درحقیقت وہ ہمیں لے کر آئی تھی۔ ہاہ !وہ صرف ہماری دنیا ہی کے نہیں، آخرت کے بارے میں بھی فکر مند رہا کرتی تھی۔ میاں اللہ والی تھی ۔۔۔ بڑی اللہ والی۔ جبھی تو اللہ نے اسے پاک صاف کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ شہادت کی موت عطا فرما دی۔ سیدہ خدیجہؓ کے قدموں میں جگہ عطا فرما دی۔ کیسے بلند درجات پا لئے۔ بچوں کی بھی ایسی تربیت کی کہ جب بچوں کو اس کی شہادت کی اطلاع دی تو وہ الٹا ہمیں ہی صبر کی تلقین کرنے لگے۔ سچ فرمایا سرکار ﷺ نے کہ دنیا کی بہترین نعمت نیک بیوی ہے۔ اس نیک بخت نے خدمتیں کر کر کے ہمیں اپنا مرید بنا لیا تھا۔
میاں حج پر ہر ہر رکن کی ادائیگی کے دوران اس کی کمی محسوس ہوئی ۔ سو اس کی طرف سے بھی رمی، قربانی، طواف وداع اور سعی کر دی ۔۔۔ بس یونہی اپنے دل کے بہلاوے کو۔۔۔ کہ ہم نے قدم قدم پر خود کو اس کی محبتوں اور وفاؤں کا مقروض پایا۔
سارے خاندان والے ہمیں زن مرید کہتے ہیں۔
چاہو تو تم بھی کہہ لو 


Wednesday, 3 May 2017

Bail or Gadha A Beautiful Urdu Short Story


بیل اور گدھا


کسی گاؤں میں ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ دیے تھے،
جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اوربھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھی قسم کا بیل اور عربی گدھا بھی تھا۔
بیل سے کھیتوں میں ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔
ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر نکل آیا۔
زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس نے فقیر کواپنے ہاں ٹھہرایا۔
اس کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا "چودھری!
تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔
تم دیکھ رہے ہو کہ میں ایک فقیر ہوں۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں،
جو تمھاری خدمت میں پیش کروں۔ ہاں، میں جانوروں اور حیوانوں کی بولیاں سمجھ سکتا ہوں۔
تم چاہو تو یہ علم میں تمھیں سکھا سکتا ہوں، لیکن تم کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہو گا کہ تم یہ بھیدکبھی کسی کو نہیں بتاؤ گے،
اور یہ بھی سن لو کہ اگر تم نے یہ بھید کسی سے کہہ دیا تو پھر زندہ نہ رہ سکو گے۔"چودھری نے کہا: "
بابا! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں یہ بھید کبھی کسی کو نہیں بتاؤں گا اور تمھارا یہ احسان عمر بھر یاد رکھوں گا۔"
خیر، فقیر نے اسے جانوروں اور حیوانوں کی باتیں سمجھنے کا عمل سکھا دیا اور چلا گیا۔
زمیندار کے پاس جو بیل تھا، وہ بیچارہ صبح سے پچھلے پہر تک ہل میں جتا رہتا۔
شام کو جب وہ گھر آتا تو اس کے کھانے کے لیے بھوسا ڈال دیا جاتا، لیکن گدھے کو سبز گھاس اور چنے کا دانہ کھانے کو ملتا۔
غریب بیل یہ سب کچھ دیکھتا اور چپ رہتا۔وقت اسی طرح گزر رہا تھا۔
ایک دن جب بیل کھیتوں سے واپس آتے ہوئے گدھے کے پاس سے گزرا تو گدھے نے اسے لنگڑاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا: "بھائی آج تم لنگڑا لنگڑا کر کیوں چل رہے ہو؟"
بیل نے جواب دیا: "
گدھے بھائی! آج مجھے بہت کام کرنا پڑا۔
میں جب تھک جاتا تھا تو نوکر میری پیٹھ اور ٹانگوں پر زور زور سے لاٹھیاں مارتا۔
میری ٹانگ میں چوٹ لگ گئی ہے۔ خیر! اپنی اپنی قسمت ہے۔
"گدھا چپ رہا اور بیل اپنے تھان کی طرف چلا گیا۔
جہاں بیل بندھا کرتا تھا، وہاں زمیندار کو اپنے نوکر کے لئیے گھر بنوانا تھا۔
کچھ دنوں کے بعد زمیندار نے بیل کے لیے بھی گدھے کے پاس ہی کھرلی بنوا دی۔
جب دونوں کو وقت ملتا، ایک دوسرے سےباتیں بھی کر لیتے۔ایک روز بیل کو اداس اور خاموش دیکھ کر گدھے نے اس سے پوچھا: "
بیل بھائی! کیا بات ہے؟
آج تم چپ چپ کیوں ہو۔ کوئی بات ہی کرو۔"بیل نے کہا: "گدھے بھائی! کیا بات کروں؟
آج پھر بڑی لاٹھیاں پڑی ہیں۔"گدھا کہنے لگا:
"بیل بھائی! سچ جانو تم۔
تمھاری جو درگت بنتی ہے، وہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں تمھارا دکھ بانٹ نہیں سکتا۔"
بیل بولا: "گدھے بھائی!
تم نے سچ کہا۔ دکھ تو کوئی کسی کا نہیں بانٹ سکتا، لیکن تم کچھ مشورہ تو دو کہ اس مصیبت سے میری جان کیسے چھوٹے گی،
اور نہیں تو دو چار دن ہی آرام کر لوں۔"گدھے نے کہا: "
ایک ترکیب میری سمجھ میں آئی ہے۔ اس پر عمل کرو گے تو پانچ، سات روز کے لیے تو بچ جاؤ گے۔
کہو تو بتاؤں؟"
بیل بولا:" نیکی اور پوچھ پوچھ۔ بتاؤ، کیا ترکیب ہے؟"
گدھے نے بتایا:
"تم یہ کرو کہ جب ہل والا تمھیں ہل میں جوتنے کے لیے لینے آئے تو تم آنکھیں بند کر کے کھڑے ہو جانا۔
وہ تمھیں کھینچے تو تم دو قدم چلنا اور ٹھہر کر گردن ڈال دینا۔
پھر بھی اگر اسے رحم نہ آئے اور کھیت پر لے ہی جائے تو کام نہ کرنا اور زمین پر بیٹھ جانا۔
کیسا ہی مارے پیٹے، ہرگز نہ اُٹھنا۔
گر گر پڑنا، پھر وہ تمھیں گھر لے آئے گا۔ گھر لا کر تمھارے آگے چارا ڈالے تو کھانا تو ایک طرف رہا تم اسے سونگھنا تک نہیں۔ گھاس، دانہ نہ کھانے سے کم زوری تو ضرور آ جائے گی،
مگر کچھ دن آرام بھی مل جائے گا، کیونکہ بیمار جانور سے کوئی محنت نہیں لیا کرتا۔
لو یہ مجھے ایک ترکیب سوجھی تھی، تمھیں بتا دی۔
اب تم کو اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔"
اتفاق سے زمیندار جو اس وقت ان کے پاس سے گزرا تو اس نے ان دونوں کی باتیں سن لیں اور مسکراتا ہوا اِدھر سے گزر گیا۔
چارے بھوسے کا وقت آ گیا تھا۔ نوکر نے گدھے کے منہ پر دانے کا توبڑا چڑھایا اور بیل کے آگے بھی چارا رکھ دیا۔ بیل دو ایک منھ مار کر رہ گیا۔
اگلے دن ہل والا بیل کو لینےآیا تو دیکھا کہ بیل بیمار ہے۔ رات کو کچھ کھایا بھی نہیں۔ نوکر دوڑا ہوا مالک کے پاس گیا اور کہنے لگا:
"نہ جانے رات بیل کو کیا ہوا۔ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور آج مجھے پورے کھیت میں ہل چلانا ہے،
کہو تو باغ میں سے دوسرا بیل لے آؤں؟"
زمیندار نے بیل اور گدھے کی باتیں تو سن ہی لی تھیں۔ دل میں بہت ہنسا کہ گدھے نے خوب سبق پڑھایا ہے۔
زمیندار ہل والے سے بولا: "
اچھا جاتا کہاں ہے؟
دوسرا بیل لانے کی کیا ضرورت ہے۔ گدھے کو لے جاؤ۔ ہل میں لگا کر کام نکال لو۔"
گدھے پر مصیبت آ گئی۔ پہلے تو دن بھر تھان پر کھڑے کھڑے گھاس کھایا کرتا،
اب جو صبح سے ہل میں جتا تو شام تک سانس لینے کی مہلت نا ملی۔
دم بھی مروڑی گئی، ڈنڈے بھی پڑے۔ سورج ڈوبنے کے بعدجب گدھا لوٹ کر اپنے تھان پر آیا تو بیل نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا:"
بھیا تمھاری مہربانی سے آج مجھ کو ایسا سکھ ملا کہ ساری عمر کبھی نہیں ملا تھا۔ خدا تم کو خوش رکھے۔"
گدھا کچھ نہ بولا۔
وہ اس سوچ میں تھا کہ اگر دو چار دن یہی حال رہا تو میری جان ہی چلی جائے گی۔
اچھی نیکی کی کہ اپنے کو مصیبت میں پھنسا دیا۔دوسرے دن پھر ہل والا گدھے کو لے گیا اورشام تک اسے ہل میں لگائے رکھا۔
جب گدھا تھکا ہارا واپس آیا تو بیل نے پھر اس کا شکریہ ادا کیا اور خوشامد کی باتیں کرنی چاہیں۔
گدھا کہنے لگا: "
میاں ان باتوں کو رہنے دو۔ آج میں نے مالک کی زبان سے ایک ایسی بُری خبرسنی ہے کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں۔ خدا تم کو اپنی حفاظت میں رکھے۔"
بیل نے کان کھڑے کر کے پوچھا: "
گدھے بھائی! سناؤ تو، میرا تو دل دھڑکنے لگا۔"گدھا بولا:
کیا سناؤں۔ مالک ہل والے سے کہہ رہا تھا کہ اگر بیل زیادہ بیمار ہو گیا ہے اور اُٹھنے کے قابل نہیں رہا تو قصائی کو بلا کر اس پر چھری پھروا دو۔"
بیل قصائی کے نام سے کانپ اٹھا اور کہنے لگا:
"پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو؟"
گدھا بولا: "میں تو ہر حال میں تمھاری بھلائی چاہتا ہوں۔ اب میرا یہ مشورہ ہے کہ تم کھڑے ہو جاؤ۔ چارا، بھوسا کھانے لگو اور صبح کو جب ہل والا آئے تو خوشی خوشی اس کے ساتھ جا کر ہل میں جت جاؤ۔"
یہ باتیں بھی زمیندار چھپا ہوا سن رہا تھااور دونوں کی باتوں پر اسے دل ہی دل میں ہنسی آ رہی تھی۔
جان جانے کے ڈر سے بیل نے پھر گدھے کے مشورے پر عمل کیا۔
چارے کی ساری ناند صاف کر دیں اور کلیلیں کرنے لگا۔ صبح ہوئی تو زمیندار اپنی بیوی کوساتھ لیے بیل کے تھان پر پہنچا۔
بیل نےجو اپنے مالک کو دیکھا تو اچھلنا شروع کر دیا۔
اتنے میں ہل والا بھی آ گیا۔
تحریر---چھوٹا نواب
اس نے بیل کو بالکل تندرست پایا۔ کھول کر لے چلا، تو وہ اس طرح دُم ہلاتا اور اکڑتا ہوا چلا کہ مالک کو بے اختیار ہنسی آ گئی۔بیوی نے پوچھا: "
تم کیوں ہنسے؟
ہنسی کی تو کوئی بات نہیں۔"زمیندار نے جواب دیا: "ایسی ہی ایک بھید کی بات ہے،
جو میں نے سنی اور دیکھی جس پرمیں ہنس پڑا۔"بیوی بولی: "
مجھے بھی وہ بات بتاؤ۔"زمیندار نے کہا: "وہ بتانے کی بات نہیں ہے، اگر بتا دوں گا تو مر جاؤں گا۔"
بیوی بولی: "تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تم مجھ پر ہنسے تھے۔" زمیندار نے بہت سمجھایاکہ نیک بخت! تجھ پر میں کیوں ہنسوں گا،
تجھ کو تو وہم ہو گیا ہے۔ اگر مرنے کا ڈر نہ ہوتا تو ضرور بتا دیتا۔مگر وہ کب ماننے والی تھی،
بولی: "چاہو مرویا جیو، میں پوچھ کر ہی رہوں گی
۔"جب بیوی کسی طرح نہیں مانی تو زمیندار نے سارے پڑوسیوں کو جمع کیا اور سارا قصہ سنایا کہ میری بیوی ایک ایسی بات کے لئے ضد کر رہی ہے،
جسے ظاہر کرنے کے بعد میں مر جاؤں گا۔ لوگوں اس کی بیوی کو بہت سمجھایا اور جب وہ نہ مانی تو اپنے گھر چلے گئے۔
زمیندار لاچار ہو کر وضو کرنے چلا گیا کہ بھید کھلنے سے پہلے دو نفل پڑھے۔زمیندار کے ہاں ایک مرغا اور پچاس مرغیاں پلی ہوئی تھیں اور ایک کتا بھی تھا۔
زمیندار نے جاتے جاتے سنا کہ کتا مرغے پر بہت غصے ہو رہا ہے
کہ کم بخت! تُو کہاں مرغیوں کے ساتھ ساتھ بھاگا چلا جاتا ہے۔ ہمارے تو آقا کی جان جانے والی ہے۔مرغ نے پوچھا:
"کیوں بھائی! اس پر ایسی کیا آفت آ پڑی! جو اچانک مرنے کو تیار ہو گیا۔"
کتے نے ساری کہانی مرغے کو سنا دی۔مرغے نے جو یہ قصہ سنا تو بہت ہنسا اور کہنے لگا:
"ہمارا مالک بھی عجیب بے وقوف آدمی ہے۔ بیوی سے ایسا دبنا بھی کیا کہ مر جائے اور اس کی بات نہ ٹلے، مجھے دیکھو!
مجال ہے جو کوئی مرغی میرے سامنےسر اٹھائے۔ مالک ایسا کیوں نہیں کرتا کہ گھر میں جو شہتوت کا درخت ہے، اس کی دوچار سیدھی سیدھی ٹہنیاں توڑے اور اس ضدن کو تہہ خانے میں لے جا کر اسے ایسا پیٹے کہ وہ توبہ کر لے اور پھر کبھی ایسی حرکت نہ کرے۔"
زمیندار نے مرغ کی یہ بات سن کر شہتوت کی ٹہنیاں توڑیں اور انھیں تہہ خانے میں چھپا آیا۔بیوی بولی: "
لو اب وضو بھی کر آئے اب بتاؤ؟
"زمیندار نے کہا: "ذرا تہہ خانے چلی چلو، تاکہ میں بھید بھی کھولوں تو کوئی دوسرا جانے بھی نہیں اور وہیں مر بھی جاؤں۔"
بیوی نے کہا: "اچھا۔"
اور آگے آگے تہہ خانے میں گھس گئی۔ زمیندار نے دروازہ بند کر کے بیوی کو اتنا مارا کہ وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی:
"میری توبہ ہے، پھر کبھی میں ایسی ضد نہیں کروں گی۔"اس کے بعد دونوں باہر نکل آئے۔
کنبے والے اور رشتے دار جو پریشان تھے، خوش ہو گئےاور میاں بیوی مرتے دم تک بڑے اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے۔


Thursday, 27 April 2017

Kunta kinte Gambia Africa Zulam O Ghulami Ki Dastan

  کنٹا کنٹے انسانیت کے ٹھیکیداروں کے ایک فراموش کردہ ظلم و غلامی کی داستان 
تحریر۔۔۔۔احید حسن

••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
یہ 17500ء کی ایک خوشگوار صبح ہے۔افریقہ کے ملک گیمبیا میں دریائے گیمبیا کے کنارے پہ واقع دیہات جوفورے میں اومورو کنٹے اور بنتا کنٹے کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوتا ہے۔علاقے کی روایت کے مطابق اس کا باپ اومورو کنٹے رات کی تاریکی میں اسے جنگل میں لے جاتا ہے اور دونوں ہاتھوں میں لے کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کنٹا کنٹے۔ وقت گزرتا جاتا ہے۔کنٹا کنٹے قبیلے کی آنکھ کا تارا بن جاتا ہے۔اس کے بعد اس کا ایک بھای پیدا ہوتا ہے۔
 یہ وہ وقت ہے جب امریکا میں یورپی پہنچ چکے ہیں۔اور نئے براعظم کی آبادکاری کے لیے افریقہ سے غلام خرید کر اور اغوا کر کے دھڑا دھڑ امریکہ لے جائے جا رہے ہیں۔گیمبیا میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ہر کوئ ایک دوسرے کو اپنے بچوں،جوانوں اور جوان لڑکیوں کی توبوب یعنی یورپی سفید فاموں سے حفاظت کی تلقین کر رہا ہے۔خوف کی اتنی فضا قائم ہے کہ لوگ باہر اور ویرانوں میں جانے سے ڈرتے ہیں۔
یہ 17677ء کا ایک خوشگوار دن ہے۔کنٹا کنٹے سترہ سال کا ہوچکا ہے۔ یہ سترہ سالہ نوجوان،باپ اومورو کنٹے اور ماں بنتا کنٹے کا جواں سال بیٹا اپنی دادی کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہے۔اسے نہیں معلوم کہ اسے ہمیشہ کے لیے اپنوں سے جدا کرنے والے لوگ اس کے دیہات کے بہت قریب آچکے ہیں۔
 کنٹا کنٹے اپنے چھوٹے بھائی کے لئے ڈھول بنانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرنے قریبی جنگل جاتا ہے۔وہ لکڑیاں اکٹھی کرنے میں مصروف ہے۔اغواکار گورے اپنے چار ساتھیوں کی مدد اس کے گرد اپنا چنگل مضبوط کرنے میں مصروف ہیں اور اچانک اس کے پیچھے بھاگ پڑتے ہیں۔وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتا ہے لیکن اس کا محاصرہ کر کے اسے پکڑ لیا جاتا ہے۔اغوا کار اسے پکڑ کر دریائے گیمبیا کے دہانے اور بحر اوقیانوس کے ساحل کے قریب واقع جزیرے جیمز آئی لینڈ لے جاتے ہیں جو کہ ان قیدیوں کی امریکا روانگی سے پہلے ایک عارضی قیام گاہ ہے۔
 کنٹا کنٹے اور اس کے ساتھی باقی قیدیوں کو برطانوی بحری جہاز لارڈ لیگونیئر پر سوار کر کے چار مہینے کے سمندری سفر پر امریکا میں غلامی کی زندگی کے لیے روانہ کر دیا جاتا ہے۔راستے میں ان قیدیوں کے ساتھ جانوروں والاسلوک ہوتا ہے۔یہ قیدی بری طرح بندھے ہوئے حرکت نہ کر سکنے کے قابل جہاز کے سب سے نچلے درجے میں موجود ہیں جہاں ان کو آلودہ کھانا ناکافی مقدار میں مہیا کیا جاتا ہے۔راستے کی ان صعوبتوں کی وجہ سے سو کے لگ بھگ قیدی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کی لاشوں کو سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔
کنٹا کنٹے بچ جانے والے ان بد نصیب قیدیوں میں شامل ہے جن کو امریکا پہنچ کر قیدیوں کی منڈی میری لینڈ میں ورجینیا کے ایک گورے ماسٹر ویلر کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے۔
ماسٹر ویلر کنٹا کنٹےکو زنجیروں میں جکڑ کر ورجینیا لے آتا ہے اور اسکا افریقی مسلم نام کنٹا کنٹے تبدیل کر کے اسے ٹوبی کا نام دیتا ہے۔جسے کنٹا کنٹے مسترد کر دیتا ہے۔اس پرکنٹا کنٹے کو درخت سے باندھ کر کوڑے مارے جاتے ہیں۔مجبوری میں وہ یہ نام قبول کرتا ہے لیکن اپنی اصل شناخت نہیں بھولتا۔
 دوسری طرف کنٹا کنٹے کے والدین اپنے جواں سال بیٹے کی گمشدگی پہ غم کی شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔لیکن کنٹا کنٹے کا کوئ پتہ نہیں۔ان کو نہیں معلوم کہ ان کے بیٹے کو توبوب یاگورے اغوا کر کے دوہزار کلومیٹر دور امریکا لے گئے ہیں۔
 کنٹا کنٹے اس غلامی میں رہا لیکن اس نے اس غلامی سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تین بار اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔چوتھی بار جب وہ بھاگا تو پکڑے جانے پہ اس کے پاؤں کا اگلا حصہ کاٹ دیا گیا اور آخر اسے اس غلامی سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔اس کی افریقی اور اسلامی شناخت ختم کر کے اسے زبردستی انگریز عیسائ بنا دیا گیا۔لیکن اس نے اپنی اصل پہچان کبھی فراموش نہ کی۔
 کنٹا کنٹے کی ایک ساتھی غلام بیل ویلر سے شادی کی گئ جس سے اس کی بیٹی کزی پیدا ہوئ۔ کنٹا کنٹے نے اپنی ساری داستان اپنی بیٹی کو سنائ۔کزی جب سولہ سال کی ہوئ تو اسے شمالی کیرولینا کے ایک گورے کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔اس کے۔ مالک ٹام لی نے اس کے ساتھ ریپ کیا جس سے ایک بیٹا جارج پیداہوا۔جارج اپنے مالک کے لیے مرغے لڑاتا جس کی بنیاد پہ اسے چکن جارج کا نام دیا گیا۔کزی نے اپنی اور اپنے والد کنٹا کنٹے کی ساری داستان چکن جارج کو سنائ۔دوسری طرف بہت لمبے عرصے بعد کزی کو پتہ چلا کہ اس کی والدہ بیل ویلر کو ایک اور گورے کے ہاتھ بیچ دیا گیا اور اسکا والد کنٹا کنٹے اسکے غم میں 1822ء میں وفات پاگیا۔جارج کی شادی ایک اور افریقن غلام لڑکی میتلدا سے ہوئ جس سے ایک بیٹا ٹام مورے پیدا ہوا۔ٹام مورے کی شادی ایک سیاہ فام غلام لڑکی آئرین سے ہوئ جس سے باقی بچوں کے علاوہ ایک لڑکی سنتھیا پیدا ہوئ۔سنتھیا کی شادی ایک اور امریکی افریقن غلام ول پامر سے ہوئ جس سے برتھا پیدا ہوئ۔برتھا کی شادی ایک اور افریقن امریکی افریقن غلام سائمن الیگزینڈر ہیلے سے ہوئ جس سے ایلیکس ہیلے پیدا ہوئے۔
کنٹا کنٹے نے اپنے اغوا اور افریقہ کی یاداشت کی ساری کہانی کزی کو سنائ  اور پھر کزی سے جارج،میتلدا،آئرین،سنتھیا اور برتھا سے ہوتے ہوئے 1912ء میں پیدا ہو کر 1992ء میں وفات پانے والے ایلیکس ہیلے تک پہنچی اور ایلیکس ہیلے نے اپنی ساری خاندانی یاداشت کو دیکھتے ہوئے اپنے جد امجد کنٹا کنٹے کے اس افریقی خاندان کو ڈھونڈ نکالا جس کے ایک فرد کنٹا کنٹے کو برطانوی اغوا کر کے امریکہ لے گئے تھے۔
قارئیں یہ ظلم و ستم کی وہ داستان ہے جس میں کروڑوں  انسانوں کوافریقہ سے اغوا کرکے جبری مشقت کے لیے امریکہ لے جایا گیا اور ان میں سے آدھی تعداد راستے میں ہی ظلم و ستم کی وجہ سے موت کا شکار ہوگئ اور باقی نسل کو امریکا پہنچا کر ساڑھے تین سو سال زبردستی نسل در نسل غلام بناکر رکھا گیا۔اور ان کے پیدا ہونے والے بچوں میں سے بیٹی کو الگ،باپ کوالگ اور ماں کو الگ بیچا گیا۔اور یہ ظلم و ستم کا وہ سلسلہ تھا جس کی مثال دنیا کی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔بچ جانے والوں سے جبری مشقت کرائ گئ،زبردستی عیسائ بنایا گیا۔معمولی باتوں پر آنکھیں نکالنا اور قتل کرنا آج کے امریکا میں صرف کچھ عشرے پہلے تک عام بات رہی ہے۔
 یہ لوگ اور ملحدین کس طرح اسلام کو ظلم و ستم کا الزام دے سکتے ہیں جب کہ اسلام نے غلامی کا خاتمہ کیا۔اسلامی دنیا میں ہونے والی چھوٹی باتوں پہ شور کرنے والے ملحدین اس ظلم و ستم پہ کیوں خاموش ہیں؟یہ منافقت اور دوہرا معیار اسلام کے ساتھ کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب لبرل و ملحدین کبھی نہیں دے سکیں گے۔
 نیچے دی گئی تصاویر کنٹا کنٹے کے حوالے سے آپ کو گیمبیا اور جیمز آئ لینڈ کی مزید داستان بتائیں گی۔امید ہے یہ مضمون پڑھنے کے بعد آپ حضرات کے لیے اسے سمجھنا مشکل نہیں ہوگا






Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)