Showing posts with label sirat al nabi. Show all posts
Showing posts with label sirat al nabi. Show all posts

Wednesday, 29 March 2017

Sahih Bukhari Shareef Main Jihad Aur Sirat ka Bayan " with Urdu English translation

  بخاری شریف  جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جہاد کی فضیلت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے جنت کے بدلے انکی جانوں کو خرید لیا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں تو قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں، تورات اور انجیل اور قرآن میں یہ خدا کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون وعدے کو پورا کرنے والا ہے پس تم اس خرید و فروخت پر خوشی کا اظہار کرو، تم نے جو تجارت کی ہے، یہ بڑی کامیابی ہے، اللہ تعالیٰ کے قول وبشرالمومین تک اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حدود سے مراد خدا کی اطاعت ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ الْعَيْزَارِ ذَکَرَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَی مِيقَاتِهَا قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَسَکَتُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
حسن بن صباح، محمد بن سابق، مالک بن مغول، ولید بن عیزار ابوعمرو شیبانی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ کون سا عمل سب سے افضل ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا میں نے عرض کیا پھر کون سا فرمایا اپنے والدین کی خدمت کرنا میں نے عرض کیا کہ پھر کون سا فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں پوچھا اگر میں آپ سے زیادہ پوچھتا تو آپ اور زیادہ مجھے بتا دیتے۔

Narrated Abdullah bin Masud:
I asked Allah's Apostle, "O Allah's Apostle! What is the best deed?" He replied, "To offer the prayers at their early stated fixed times." I asked, "What is next in goodness?" He replied, "To be good and dutiful to your parents." I further asked, what is next in goodness?" He replied, "To participate in Jihad in Allah's Cause." I did not ask Allah's Apostle anymore and if I had asked him more, he would have told me more.



Tuesday, 28 March 2017

مختصر اردو کہانیاں * love An everlasting story Short Urdu Stories


  🌼 *محبت کی*

*ایک لازوال داستان*

ابو العاص بعثت سے پہلے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا :---
 
میں اپنے لیے آپ کی بڑی بیٹی زینب کا ہاتھ مانگنے آیا ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔
گھر جا کر رسول اللہ ﷺ نے زینب سے کہا :
 
تیرے خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لیا ہے کیا تم اس پر راضی ہو ؟
زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائی- رسول اللہ ﷺ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور ابو العاص بن الربیع کا رشتہ زینب کے لیے قبول کیا۔
یہاں سے محبت کی ایک داستان شروع ہوتی ہے۔
ابو العاص سے زینب کا بیٹا "علی" اور بیٹی"امامۃ" پیدا ہوئے۔
پھر آزمائش شروع ہوجاتی ہے کیونکہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپ اللہ کے رسول بن گئے،
ابو العاص کہیں سفر میں تھے جب واپس آیا تو بیوی اسلام قبول کر چکی تھی۔
جب گھر میں داخل ہوا بیوی نے کہا :
 
میرے پاس تمہارے لیے ایک عظیم خبر ہے۔
یہ سن کر وہ اٹھ کر باہر نکلتا ہے۔
زینب خوفزدہ ہو کر ان کے پیچھے پیچھے باہر نکلتی ہے اور کہتی ہے :
 
میرے ابو نبی بنائے گئے ہیں اور میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔
ابو العاص :
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟
 
اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جو کہ عقیدے کا مسئلہ تھا۔
زینب : میں اپنے ابو کو جھٹلا نہیں سکتی، نہ ہی میرے ابو کبھی جھوٹے تھے وہ تو صادق اور امین ہیں ،
میں اکیلی نہیں ہوں میری ماں اور بہنیں بھی اسلام قبول کر چکی ہیں،
 
میرا چاچا زاد بھائی ( علی بن ابی طالب ) بھی اسلام قبول کر چکے ہیں، تیرا چاچا زاد ( عثمان بن عفان ) بھی مسلمان ہوچکے ہیں، تیرے دوست ابو بکر بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔
ابو العاص :
 
مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دیا، اپنے آباو اجداد کو جھٹلایا۔ تیرے ابو کو ملامت نہیں کرتا ہوں۔
بہر حال ابو العاص نے اسلام قبول نہیں کیا یہاں تک کہ ہجرت کا زمانہ آگیا اور زینب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا :
 
اے اللہ کے رسول کیا آپ مجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے شوہر اور بچوں کے پاس ہی رہو۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا اور ابو العاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ہوا۔
زینب خوفزدہ تھی کہ اس کا شوہر اس کے ابا کے خلاف جنگ لڑے گا اس لیے روتی ہوئی کہتی تھی :
 
اے اللہ میں ایسے دن سے ڈرتی ہوں کہ میرے بچے یتیم ہوں یا اپنے ابو کو کھودو۔
ابو العاص بن الربیع رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدر میں لڑے ، جنگ ختم ہوئی تو داماد سسر کے قید میں تھا، خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابو العاص جنگی قیدی بنائے گئے۔
زینب پوچھتی رہی کہ میرے والد کا کیا بنا ؟
 
لوگوں نے بتا یا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے اس پر زینب نے سجدہ شکر ادا کیا۔
پھر پوچھا :
میرے شوہر کو کیا ہوا ؟
لوگوں نے کہا :
 
اس کو اس کے سسر نے جنگی قیدی بنایا۔
زینب نے کہا :
میں اپنے شوہر کا فدیہ (دیت) بھیج دوں گی۔
 
شوہر کا فدیہ دینے کے لیے زینب کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں تھی اس لیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہ کا ہار اپنے گلے سے اتار دیا اور ابو العاص بن الربیع کے بھائی کو دے کر اپنے والد ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔
رسول اللہ ﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے ان کو آزاد کر رہے تھے اچانک اپنی زوجہ خدیجہ کے ہار پر نظر پڑی توچھا :
 
یہ کس کا فدیہ ہے ؟
لوگوں نے کہا :
 
یہ ابو العاص بن الربیع کا فدیہ ہے۔
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ روپڑے اور فرمایا :
یہ تو خدیجہ کا ہار ہے،
پھر کھڑے ہوگئے اور فرمایا :
 
اے لوگو یہ شخص برا داماد نہیں کیا میں اس کو رہا کروں ؟ اگر تم اجازت دیتے ہو میں اس کا ہار بھی اس کو واپس کردوں؟
لوگوں نے کہا :
 
کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔
رسول اللہ ﷺ نے ہار ابو لعاص کو تھا دیا اور فرمایا : زینب سے کہو کہ خدیجہ کے ہار کا خیال رکھے۔
پھر فرمایا :
 
اے ابو العاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ہوں؟
ان کو ایک طرف لے جا کر فرمایا :
 
اے ابو العاص اللہ نے مجھے کافر شوہر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے میری بیٹی کو میرے حوالے کرو گے؟
ابو العاص نے کہا: جی ہاں۔
دوسر طرف زینب شوہر کے استقبال کے لیے گھر سے نکل کر مکہ کے داخلی راستے پر ان کی راہ دیکھ رہی تھی۔
جب ابو العاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فورا کہا :
 
میں جا رہا ہو۔
زینب نے کہا : کہاں ؟
ابو العاص : میں نہیں تم اپنے باپ کے پاس جانے والی ہو ۔
زینب : کیوں؟
ابو العاص : میری اور تمہاری جدائی کے لیے۔
 
جاو اپنے باپ کے پاس جاو۔
زینب : کیا تم میرے ساتھ جاو گے اور اسلام قبول کرو گے؟
ابو العاص : نہیں۔
زینب اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئی۔ جہاں 6 سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینب نے قبول نہیں اور اسی امید سے انتظار کرنے لگی کہ شوہر شاید اسلام قبول کر کے آئے گا۔
6 سال کے بعد ابو العاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ہوا،
سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے ان کو گرفتار کر کے ساتھ مدینہ لے گئے،
 
مدینہ جاتے ہوئے زینب اور ان کے گھر کے بارے میں پوچھا ، فجر کی آذان کے وقت زینب کے دروازے پر پہنچا ۔
زینب نے ان پر نظر پڑتے ہی پوچھا کیا اسلام قبول کر چکے ہو ؟
 
ابو العاص : نہیں
زینب : ڈرنے کی ضرورت نہیں خالہ زاد کو خوش آمدید، علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید۔
رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ :
 
میں ابو العاص بن الربیع کو پناہ دیتی ہو۔
نبی ﷺ نے فرمایا :
 
کیا تم لوگوں نے سن لیا جو میں نے سنا ہے؟
سب نے کہا :
 
جی ہاں اے اللہ کے رسولﷺ۔
زینب نے کہا :
 
اے اللہ کے رسول ابو العاص میرا خالہ زاد ہے اور میرے بچوں کا باپ ہے میں ان کو پناہ دیتی ہو۔
نبی ﷺ نے قبول کر لی اور فرمایا :
اے لوگو یہ برا داماد نہیں،
اس شخص نے مجھ سے جو بھی بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کیا وہ نبھایا۔
 
اگر تم چاہتے ہو کہ اس کو اس کا مال واپس کر کے اس کو چھوڑ دیا جائے یہ اپنے شہر چلا جائے یہ مجھے پسند ہے۔
 
اگر نہیں چاہتے ہو تو یہ تمہارا حق ہے اور تمہاری مرضی ہے میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا۔
لوگوں نے کہا :
 
ہم اس کا مال اس کو واپس کر کے اس کو جانے دینا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
 
اے زینب تم نے جس کو پناہ دی ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں۔
اس پر ابو العاص زینب کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا :
 
اے زینب ان کا اکرام کرو یہ تیرا خالہ زاد ہے اور بچوں کا باپ ہے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔
زینب نے کہا :
 
جی ہاں اے اللہ کے رسول۔
گھر جا کر ابو العاص بن ربیع سے کہا :
 
اے ابو العاص جدائی نے تجھے تھکا دیا ہے کیا اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ رہو گے۔
ابو العاص : نہیں۔
اپنا مال لے کر مکہ روانہ ہو گئے جبکہ مکہ پہنچے تو کہا :
اے لوگو :
یہ لو اپنے اپنے مال،
 
کیا کسی کا کوئی مال میرے ذمے ہے ؟
لوگوں نے کہا :
اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا۔
 
ابو العاص نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
اس کے بعد مدینہ روانہ ہوئے اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا ۔
 
سیدھا نبی ﷺ کے پاس گئے اور کہا : کل آپ نے مجھے پناہ دی تھی اور آج میں یہ کہنے آیا ہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
ابو العاص نے کہا :
 
اے اللہ کے رسول کیا زینب کے ساتھ رجوع کی اجازت دیتے ہیں؟
نبی ﷺ ابوالعاص کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
آو میرے ساتھ،
زینب کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینب سے فرمایا :
یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ہے تم سے رجوع کی اجازت مانگ رہا ہے کیا تمہیں قبول ہے؟
 
زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائی۔
عجیب بات یہ ہے کہ اس واقعے کے صرف ایک سال بعد زینب کا انتقال ہوا جس پر ابو العاص زارو قطار رونے لگے حتی کہ لوگوں کے سامنے اور رسول اللہ ﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر تسلی دیتے تھے، جواب میں ابو العاص کہتے :
اے اللہ کے رسول
 
اللہ کی قسم زینب کے بغیر میں دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا اور ایک سال کے بعد ہی ابو العاص بھی انتقال کر گئے۔
🔺مصدر : روائع من التاریخ الاسلامی
راوی کا شکریہ 


Sunday, 12 March 2017

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

بنی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپکی والدہ آمنہ نے نودن دودھ پلایا پھر ابولہب کی باندی ثوبیہ نے چند دن دودھ پلایا پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنھا کی آئی۔اس زمانہ میں عرب میں دستور تھا کہ پیدائش کے بعد بچوں کو دیہات سے آنے والی دائیوں کے حوالے کردیتے تاکہ دیہات میں بچوں کی نشوونما بہتر ھواور وہ خالص عربی زبان سیکھ سکیں
نبی   ﷺ کو گود لینے سے پہلے حضرت حلیمہ سعدیہ کی حالت
حضرت حلیمہ سعدیہ  دوسری عورتوں کے ھمراہ اپنی بستی سے بچے لینے کو روانہ ھوئیں انکا خچر بہت کمزور و مریل تھا ساتھ میں کمزور و بوڑھی اونٹنی تھی جو بہت آھستہ چلتی اور اسکی وجہ سے حضرت حلیمہ قافلے سے بہت پیچھے رہ جاتیں اسی وجہ سے وہ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ھوئیں قافلہ کی عورتیں بار بار انہیں کوستیں کہ جلدی چلوتمہاری وجہ سے دیر ھو رھی ھے
مکہ میں آکر دائیوں نے مختلف بچے لے لئے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے اس خیال سے نہ لیا کہ یہ یتیم ھیں انکے گھر سے انہیں کیا معاوضہ ملے گا۔ یہاں تک کہ ھر دائی کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا صرف حضرت حلیمہ رہ گئیں
جب حضرت حلیمہ کو کوئی بچہ نہ ملا اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم رہ گئے تو انہوں نے اپنے شوھر سے کہا کہ
مجھے یہ بات بڑی ناگوار ھے کہ میں بغیر بچہ کے جائوں دوسری عورتیں بھی مجھے طعنہ دیں گی کیوں نہ ھم اس یتیم بچہ کو لے لیں۔
شوھر نے اجازت دی کہ شاید اللہ اسی بچہ کے ذریعہ ھمیں خیر و برکت عطا فرمائیں
حضرت حلیمہ عبدالمطلب کے گھر پہنچیں حضرت آمنہ انہیں بچہ کے پاس لائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید اونی چادر میں لپٹے ھوئے تھے آپکے نیچے ایک سبز ریشمی کپڑا تھا سیدھے لیٹے ھوئے تھے آپکے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رھی تھی آپکا حسن و جمال دیکھ کر حضرت حلیمہ حیرت زدہ رہ گئیں آپ سوئے ھوئے تھے جونہی انہوں نے آپکے سینہ پر محبت سے ھاتھ رکھاآپ مسکرا دیے اور آنکھیں کھول کر انکی طرف دیکھنے لگے حضرت حلیمہ فرماتی ھیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک نور سا آپکی آنکھوں سے نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا
نبی  ﷺ کی برکات
حضرت حلیمہ فرماتی ھیں کہ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر اپنے خچر پر سوار ھوئی تو ھمارا خچر اتنا تیز چلا کہ سارے قافلہ کو پیچھے چھوڑ دیا حالانکہ پہلے وہ سب سے پیچھے رھتا تھا ساتھی عورتیں کہنے لگیں
اے حلیمہ کیا یہ وھی خچر ھے جس پر تم آئیں تھیں
انھوں نے جواب دیا کہ
یہ وھی خچر ھے  بخدا اسکا معاملہ عجیب ھے
حضرت حلیمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر بستی پہنچیں ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا شام کو جب انکی بکریاں چر کر آئیں تو انکے تھن بھرے ھوئے تھے حالانکہ پہلے ان سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا لیکن اس دن سارے برتن بھر گئے سب نے جان لیا کہ سب برکت اس بچہ کی وجہ سے ھے باقی لوگوں کی بکریاں بدستور کم دودھ دے رھی تھیں
دو ھی ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلنے پھرنے لگے آٹھ ماہ کے ھوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپکی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں ۔ نو ماہ کی عمر میں تو آپ ﷺبہت صاف گفتگو کرنے لگے۔ جب سے آپ ﷺبستی بنوسعد میں آئے تو ھر گھر سے مشک کی خوشبو آنے لگی سب لوگ آپ ﷺسے محبت کرنے لگے۔
والدہ  کی خدمت میں
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سال کے ھوئے تو حضرت حلیمہ آپکو لیکر آپکی والدہ کے پاس آئیں چونکہ وہ  آپکی برکات دیکھ چکی تھیں اس لئے وہ آپکو مذید اپنے پاس رکھنا چاھتی تھیں لہذا وہ حضرت آمنہ کو منا کر پھر آپکو لے آئیں  جب آپﷺ کچھ بڑے ھوئے تو اپنے دودھ شریک بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جانے لگے پھر کچھ ایسے واقعات ھوئے کہ حضرت حلیمہ کو آپکے نقصان کا ڈر ھوا لہذا وہ آپکو واپس آپکی والدہ کے پاس چھوڑ آئیں (وہ واقعات یہ ھیں
۱
ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دودھ شریک بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے گئے کہ دو آدمی (جبرائیل و میکائیل علیہما السلام)سفید کپڑے پہنے آئے انہوں نے آپکو پکڑ کر لٹایا اور پیٹ چاک کیا اور کوئی چیز نکال کر باھر پھینک دی پھر سی دیا۔ (دوسری روایات سے پتہ چلتا ھے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ تھا یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ھوتا ھے  اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ھے) جب حضرت حلیمہ کو یہ سب معلوم ھوا تو ڈر گئیں
۲
حضرت حلیمہ کے پاس سے ایک بار یہودیوں کی جماعت گذری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تفصیلات معلوم کرکے انہوں نے آپکو قتل کرنے کا مشورہ کیا انہوں نے حلیمہ سے پوچھا
کیا یہ بچہ یتیم ھے ؟
حضرت حلیمہ انکا قتل کا مشورہ سن چکی تھیں لہذا انہوں نے جلدی سے اپنے شوھر کی طرف اشارہ کیا کہ
نہیں! یہ رھے اس بچہ کے باپ۔
تب انھوں نے کہا کہ اگر یہ بچہ یتیم ھوتا تو ھم ضرور اسے قتل کر دیتے (یہ اس لئے کہ پرانی کتب میں آخری نبی کی نشانیوں میں یہ بھی ھے کہ وہ یتیم ھونگے)چونکہ حضرت حلیمہ نے کہہ دیا کہ یہ بچہ یتیم نہیں تو انہوں نے خیال کیا کہ یہ وہ بچہ نہیں لہذا قتل کا ارادہ ترک کر دیا
۳
حضرت حلیمہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عکاظ کے میلے میں لے گئیں جاھلیت کے دور میں یہاں بڑا مشہور میلہ لگتا تھا  عرب کے لوگ حج کرنے آتے تو شوال کا مہینہ اس میلے میں گزارتے کھیلتے کودتے اپنی بڑائیاں بیان کرتے ۔ حلیمہ آپکو لے کر اس میلہ میں گھوم رھی تھیں کہ ایک کاھن کی نظر آپ پر پڑی  اسے آپ میں نبوت کی تمام نشانیاں نظر آگئیں اس نے پکار کر کہا
لوگو! اس بچہ کو مار ڈالو۔
حضرت حلیمہ اسکی بات سن کر گھبرا گئیں اور جلدی سے وھاں سے سرک گئیں اس طرح اللہ نے آپکی حفاظت فرمائی۔لوگوں نے کاھن سے پوچھا کہ
کس بچہ کی بات کر رھے ھو
اس نے کہا
معبودوں کی قسم میں نے ابھی ایک لڑکا دیکھا ھے وہ تمھارا دین ماننے والوں کو قتل کرے گا تمہارے بتوں کو توڑدے گا اور تم سب پر غالب آئے گا۔
لوگ آپکی تلاش میں دوڑے مگر ناکام رھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم
۴
حضرت حلیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر جارھی تھیں کہ ذی الجاز کے میلہ پر سے گزر ھوا اس میں ایک نجومی بیٹھا تھا جب نجومی کی نظر آپ پر پڑی تو اسے آپ کی مہر نبوت اور آنکھوں کی خاص سرخی نظر آگئی وہ چلا اٹھا
اے عرب کے لوگو اس لڑکے کو قتل کردو یہ یقینا تمہارے دین کے ماننے والوں کو قتل کرے گا تمہارے بتوں کو توڑ دے گا اور تم پر غالب آئے گا
یہ کہتے ھوئے وہ آپ کی طرف جھپٹا لیکن اسی وقت پاگل ھوگیا اور اسی پاگل پن میں مر گیا یوں اللہ نے آپ کی حفاظت فرمائی صلی اللہ علیہ وسلم
۵
حضرت حلیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی والدہ کے حوالہ کرنے جا رھی تھیں کہ حبشہ کے عیسائیوں کی ایک جماعت پاس سے گزری انہوں نے آپ کی مہر نبوت اور آنکھوں کی خاص سرخی کو دیکھا تو حضرت حلیمہ کو کہا
اس بچہ کو ھمارے حوالہ کردو ھم اسے اپنے ملک میں لے جائیں گے  یہ بچہ پیغمبر اور بڑی شان والا ھے ۔
حلیمہ سعدیہ یہ سنتے ھی وھاں سے دور چلی گئیں یہاں تک کہ آپکو آپکی والدہ کے پاس پہنچا دیا صلی اللہ علیہ وسلم
جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپکی والدہ کے حوالہ کیا تو اس وقت آپکی عمر ۴ یا ۵ یا ۶ سال تھی
والدہ  کی وفات
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ آپکو لے کر اپنے میکے مدینہ منورہ گئیں ام ایمن بھی ساتھ تھیں ایک دن مدینہ کے دو یہودی ام ایمن کے پاس آئے اور کہا
ذرا محمد کو ھمارے سامنے لائو ھم انھیں دیکھنا چاھتے ھیں ۔
انھوں نے اچھی طرح دیکھا پھر ایک اپنے ساتھی سے بولا کہ
یہ اس امت کا نبی ھے اور یہ شہر انکی ھجرت گاہ ھے یہاں زبردست جنگ ھوگی ۔
جب آپکی والدہ کو معلوم ھوا تو ڈر گئیں اور آپکو لیکر مکہ روانہ ھوئیں مگر راستہ ھی میں ابواء کے مقام پر وفات پا گئیں  آپکو یہیں دفن کیا گیا  پانچ دن بعد ام ایمن آپکو لیکر مکہ پہنچیں اور آپکے دادا عبدالمطلب کے حوالہ کیا ۔صلی اللہ علیہ وسلم
دادا عبدالمطلب کی آغوش میں
ایک روز بنو مدلج کے کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب کے پاس آئے یہ لوگ قیافہ شناس تھے آدمی کا چہرہ دیکھ کر اسکے مستقبل کا اندازہ لگاتے تھے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا
اس بچہ کی حفاظت کرو اس لئے کہ مقام ابراھیم پر جو حضرت ابراھیم علیہ السلام کے قدم کا نشان ھے اس بچہ کے پائوں کا نشان بالکل اس سے ملتا جلتا ھے اس قدر مشابہت ھم نے اور کسی کے پائوں میں نہیں دیکھی ھمارا خیال ھے کہ یہ بچہ نرالی شان کا مالک ھوگااس لئے اسکی حفاظت کریں
ایک روز عبدالمطلب حجر اسود کے پاس بیٹھے تھے کہ نجران کے عیسائی آگئے ان میں ایک بڑا پادری بھی تھا اس نے کہا
ھماری کتابوں میں ایک ایسے نبی کی علامات ھیں جو اسماعیل کی اولاد میں ھونا باقی ھے یہ شہر اسکی جائے پیدائش ھوگا اسکی یہ یہ نشانیاں ھیں۔
ابھی یہ بات ھورھی تھی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر وھاں آپہنچا پادری کی نظر جونہی آپ پر پڑی وہ چونک اٹھا آپکی آنکھوں کمر اور پیروں کو دیکھ کر چلا اٹھا کہ
یہی وہ نبی ھیں یہ تمہارے کیا لگتے ھیں
عبدالمطلب نے کہا
یہ میرے بیٹے ھیں
اس پر پادری بولا
تب یہ وہ نھیں ھماری کتابوں میں لکھا ھے کہ اسکے والد کا انتقال اسکی پیدائش سے پہلے ھوجائے گا
اس پر عبدالمطلب نے کہا
یہ دراصل میرا پوتا ھے اسکے والد کا انتقال اسکی پیدائش سے پہلے ھوگیا تھا
تب پادری نے کہا
ھاں یہ ھوئی ناں بات۔۔۔ آپ اسکی پوری طرح حفاظت کی
دادا کی وفات
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ سال کے ھوئے تو آپکے دادا عبدالمطلب وفات پاگئے عبد المطلب نے مرتے وقت آپکو ابو طالب کے سپرد کیا  ام ایمن کہتی ھیں کہ جس وقت عبدالمطلب کا جنازہ اٹھا تو آپکو دیکھا کہ جنازے کے پیچھے روتے جاتے تھے
چچا کی نگرانی میں
عبدالمطلب کے بعد ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نگران ھوئے یہ مالی اعتبار سے کمزور تھے دو وقت سارے گھرانے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انکے ساتھ کھاتے تو تھوڑا کھانا بھی سب کو کافی ھوجاتا سب کے سیر ھونے کے بعد بھی کھانا بچ جاتا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند سال اپنے دوسرے چچا زبیر کے ساتھ بھی رھے ایک بار انکے ساتھ قافلہ میں یمن تشریف لے گئے راستہ میں ایک وادی پر سے گزر ھوا جس میں سرکش اونٹ رھتا تھا جو آنے جانے والوں کا راستہ روک لیتا تھامگر جونہی آپکو دیکھا تو بیٹھ گیا اور چھاتی زمین سے رگڑنے لگا آپ اپنے اونٹ سے اتر کر اس پر سوار ھوگئے اونٹ آپکو وادی کے پار لے گیا پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا


حضرت حلیمہ سعدیہ Halima Saadia, sirat al nabi,

 اسلام انسانیت کے عمومی مفاد کے لئے معاشرے کو اکٹھا رکھنے پر زور دیتا ہے۔ یہ والدین اور بچوں میں ایک مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے۔ اسلام رشتوں کو حتیٰ کہ ان دودھ پلانے والی عورتوں تک بھی پھیلا دیتا ہے کہ جو شیر خوار بچوں کی خدمت کرتی ہیں۔ اگر حقیقی ماں کے علاوہ کوئی اور عورت کسی بچے کی پرورش کرے اور اسے دودھ پلائے تو وہ ایک اضافی ماں کا سا درجہ حاصل کر لیتی ہے جسے اُم رِداہ یا رضائی ماں یا دودھ پلانے والی ماں کہتے ہیں۔اس عورت کے شوہر کو بھی بچے کے باپ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔جبکہ اس کے بچوں کو بھی اس بچے کے حقیقی بہن بھائیوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اس کی ان میں سے کسی سے شادی نہیں ہو سکتی۔اس طرح، ایک عورت جس نے کسی بچے کے دو برس کے ہونے سے پہلے اسے کم از کم پانچ بار دودھ پلایا ہو، اسلامی قانون کے دئیے ہوئے خصوصی حقوق کے تحت، وہ اپنے دودھ کے رشتے سے اس بچے کی ماں بن جاتی ہے۔ دودھ پینے والا بچہ رضائی ماں کے دوسرے بچوں کا مکمل طور پر بہن یا بھائی سمجھا جاتا ہے، یعنی کہ ایسا لڑکا اپنی رضائی بہن اور ایسی لڑکی اپنے رضائی بھائی کی محرم ہوتی ہے۔ کوئی دوسرا مذہب کسی دودھ پلانے والی ماں کو ایسا رُتبہ نہیں دیتا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی شیر خوار تھے توعلاقے کی روایت کے مطابق، کھلے صحرائی ماحول میں نومولود بچوں کو لے جانے کے لئے خواتین کا ایک گروہ مکہ آیا۔
قبیلہ بنو سعد کی حضرت حلیمہ سعدیہ، وہ خوش نصیب خاتون تھیں جنہوں نے رضائی ماں کے طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گود لیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر صرف آٹھ روز تھی۔
گروہ کی دیگر خواتین نے امیر خاندانوں کے بچے گود لئے، لیکن حلیمہ سعدیہ نے اس یتیم بچے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کو گود لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ، عبداللہ ان کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ جل شانہٗ کی جانب سے انعامات لے کر آئے تھے اور یہ انعامات فوراً ہی ظاہر ہونے لگے۔حضرت حلیمہ سعدیہ کی چھاتی دودھ سے بھر گئی۔ ان کی سواری توانا ہوگئی اور قافلے سے آگے نکل گئی۔
جب وہ گھر پہنچیں تو ان کی بکریوں نے خاندان کے لئے کہیں زیادہ دودھ دیا۔ حضرت حلیمہ سعدیہ سمجھ گئیں کہ یہ کوئی عام بچہ نہیں بلکہ کو ئی رحمت کا فرشتہ ہے۔
؂ حضرت حلیمہ سعدیہ، عبداللہ بن حارث کی بیٹی تھیں اور حارث ابو زوہیب کی بیوی تھیں۔ جب وہ اللہ کی رحمتوں کے زیر سایہ اس بچے کو اپنے گھر لے کر آئیں تو اس وقت ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام شیمارضی اللہ تعالیٰ عنہا تھا اور ایک دودھ پینے والا بیٹا تھا جس کا نام عبداللہ تھا۔ شیما رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی عمر پانچ برس تھی اور وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال رکھنے میں اپنی ماں کی مدد کیا کرتی تھیں۔وہ انہیں نہلاتیں اور سیر کے لئے لے جاتیں اور انہیں ہمیشہ پیار سے گود لئے رکھتیں۔ شیما رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ، اس بچے پر برسنے والی رحمتوں کے سبب اپنے خاندان کی غربت کو آسودگی میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوری دیا کرتیں اور کہا کرتیں : ’’اے ہمارے رب! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لئے زندہ رکھ تاکہ میں انہیں پہلے جوان ہوتے اور پھر رہنما بنتے دیکھ سکوں۔ان کے دشمنوں اور حاسدین کو شکست دے دے اور انہیں ہمیشہ رہنے والی عظمت عطا فرما!‘‘
24
ماہ کا وقت تیزی سے گزر گیا اور وہ موقع آگیا جب نوعمر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ کے یہاں سے رخصت ہونا تھا۔شیما رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی ان کے جانے کا بہت صدمہ ہوا ۔حضرت حلیمہ سعدیہ بچے کو مکہ واپس لائیں لیکن وہ انہیں اپنی چھاتی سے الگ کرتے ہوئے بہت روئیں۔ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاان کی اس محبت سے متاثر ہوئیں اور بچے کو حضرت حلیمہ کو واپس دے دیا کہ وہ اسے لے جائیں اور طائف کے قریب بنو سعد کے علاقے ہی میں اس کی پرورش کریں۔یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت مکہ واپس آئے جب ان کی عمر تقریباً پانچ برس تھی۔ وہ مزید صرف ایک برس تک اپنی حقیقی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی محبت بھری گود میں رہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنی نجار سے تعلق رکھنے والے اپنے آباؤاجداد سے ملوانے کے لئے مدینہ لے گئیں اور واپسی پر ابوا کے مقام پر وفات پا گئیں۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا اور پھر چچا ابو طالب نے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک محترم انسان کی شہرت کے ساتھ جوان ہوئے اور ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امین کہا کرتا۔25برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک محترم خاتون، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کر لی۔40برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبوت کے منصب سے نوازے گئے۔13 برس تبلیغ کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر گئے ۔ اللہ جل شانہٗ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قوت عطا فرمائی اور بلآخر8ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا۔حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک بار مکہ میں پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اورحضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں 40بھیڑیں تحفے میں دیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے آخری ایّام میں ایک بار پھر حضرت حلیمہ سعدیہ مدینہ کے مقدس شہر میں آئیں اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔اس مقدس قبرستان میں ان کے نام کی ایک قبر کی نشاندہی کی گئی ہے۔
غزوہ حنین کے دوران، 6000جنگی قیدی رہا کر دئیے گئے، محض اس لئے کہ ان میں سے کئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دودھ کا رشتہ رکھتے تھے۔ یہ اس طرح ہوا کہ جب ہوازن کے قبیلے نے مکہ پر حملے کا منصوبہ بنایاتو انہیں بہت زیادہ نقصانات بھی اٹھانے پڑے اور شکست بھی ہوئی۔ ان کے 6000لوگ قید ہوئے جن میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی تھیں۔ 24000اونٹ اور 40000 بکریاں بھی مسلمانوں کے ہاتھ لگیں۔
یہ اسی موقع پر ہوا کہ جب ایک بوڑھی خاتون، جن کی عمر ساٹھ برس سے زائد تھی، قیدیوں کے درمیان سے نمودار ہوئیں اور دعویٰ کیا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہن تھیں۔ انہیں نہایت عزت اور احترام کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جایا گیا۔انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا، ’’اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، میں شیما ہوں، آپ کی رضائی بہن۔ ابو قبشا اور حلیمہ سعدیہ بنتِ زوہیب کی بیٹی۔‘‘ پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا اور اپنی چادر ان کے لئے بچھا دی اور فرمایا کہ میرے قریب بیٹھ جائیں۔وہ بولیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوٹے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کندھے پر کاٹ لیا تھا ، جس کا نشان ابھی تک میرے جسم پر موجود ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نشان کو پہچان لیا اور ان پرانے دنوں کو یاد کر کے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضرت شیما رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام قبول کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی اجازت مانگی۔پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک لونڈی، چند اونٹ اور بکریاں بطور تحفہ دیں اور وہ بخوشی اپنے قبیلے کی طرف لوٹ گئیں۔
چند روز کے انتظار کے بعد، پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت فیاضی سے مالِ غنیمت مکہ کے مسلمان اور غیر مسلم سرداروں میں تقسیم کر دیا۔
بعد میں بنو سعد اور ہوازن سے 14مسلمانوں کا ایک وفد، زوہیر ابنِ سُراد اور ابو برقان (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضائی چچا) پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ۔ انہوں نے دل کو چھو لینے والے انداز میں اپنے قیدیوں کی رہائی کی درخواست کرتے ہوئے کہا، ’’یہاں، ان جھونپڑیوں میں، دوسرے قیدیوں کے ساتھ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضائی مائیں اور بہنیں(حضرت حلیمہ اور حضرت شیما رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نسبت سے) بھی موجود ہیں۔انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی چھاتیوں سے لگا کر پیار کیا ہے۔ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دودھ پیتے بچے اور ایک فیاض اور محترم جوان، دونوں حوالوں سے جانتے ہیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس معتبر مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ہم سے سخاوت برتیں۔بالکل اسی طرح جیسے اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مہربان ہے۔‘‘
ان الفاظ سے پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے تمام 6000قیدیوں کی رہائی کا بندوبست کیااور ان میں سے ہر ایک کو تحفے کے طور پر ایک چادر بھی دی گئی، جس کی قبائلی جنگوں کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس احسان نے لوگوں کے دل جیت لئے اور ان ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح حضرت حلیمہ سعدیہ اور ان کی صاحبزادی حضرت شیما بنتِ حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مہربانی سے ان کا آبائی قبیلہ مستفید ہوا۔
حضرت حلیمہ سعدیہ کے گھر کی جگہ ابھی تک طائف کے قریب بنی سعد کی وادی میں واقع ہے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ اور حضرت شیما رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نام مسلمان خواتین میں بہت مقبول ہیں۔

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)