Showing posts with label daal ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label daal ki kahawtain. Show all posts

Wednesday, 22 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain


 د ۔ کی کہاوتیں

(۱ )  دانتوں  پسینہ آنا  :

  ظاہر ہے کہ دانتوں  میں  پسینہ نہیں  آ سکتا ہے۔ یعنی یہ کہاوت نہایت مشکل کام سراانجام دینے کا استعارہ ہے، اتنا مشکل کام کہ اسے کرنے سے دانتوں پسینہ آ جائے۔

( ۲ )  داشتہ آید بکار  :

  رکھی ہوئی چیز کام آ جاتی ہے۔ عام تجربہ ہے کہ جس چیز کو بیکار جان کر پھینک دیا جائے اس کی ضرورت دوسرے ہی دن ہوتی ہے۔ کہاوت اسی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

( ۳ )  دائی سے کیا پیٹ چھپانا  : 

 پہلے زمانے میں  زیادہ تر بچے دائی ( midwife ) کی مدد سے گھروں  پر ہی پیدا ہوتے تھے۔  کام کی نوعیت کے پیش نظر دائی سے کوئی بات چھپی نہیں  ہوتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ راز کی بات ایسے شخص سے چھپانا بے سود و بے معنی ہے جس کو بالآخر وہ کام نمٹانا ہے۔

(۴)  دال میں  کالا ہونا  :

  دال میں  کوئی کالی چیز گر جائے تو اس کی سیاہی صاف نظر آ جاتی ہے۔ اسی نسبت سے یہ کہاوت کسی کام میں  شک کے اظہار کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۵ )  دانہ دانہ پر مہر لگی ہے  : 

 عقیدہ ہے کہ جوجس کی تقدیر میں ہے وہ اُسے مل کر رہے گا گویا رزق کے دانے دانے پر اللہ نے اس کے نام کی مہر لگا دی ہے۔ اس کہاوت سے ایک لطیفہ بھی منسوب ہے۔ ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ایک دن اپنے آموں  کے باغ کی سیر کر رہے تھے۔ مرزا غالبؔ بھی ہمراہ تھے۔ مرزا نوشہؔ  ہر درخت کے قریب جا کر آموں  کو بہت غور سے آنکھیں  پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔ بادشاہ ظفرؔ نے دریافت کیا ’’مرزا نوشہ، کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘  مرزا غالبؔ نے کہا ’’حضور! بزرگوں  نے کہا ہے کہ دانے دانے پر کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے۔ میں  دیکھ رہا ہوں  کہ کسی آم پر میرا نام بھی لکھا ہوا ہے کہ نہیں۔‘‘  بادشاہ یہ سن کر ہنس پڑے اور ملازم کو تاکید کی کہ آموں  کا ایک ٹوکرا  مرزا نوشہ کے گھر پہنچا دیا جائے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs


د۔کی کہاوتیں

 ( ۶ )  دال نہیں  گلتی  : 

یعنی بات نہیں  بنتی،کام ہونے کی کوئی صورت نہیں  نکل رہی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۷ )  دانت کاٹی روٹی ہے  :

  کسی کی جھوٹی (یا دانت کاٹی)روٹی کوئی دوسرا مشکل سے ہی کھاتا ہے۔ لہٰذا دانت کاٹی روٹی پکی دوستی اور قربت کا استعارہ بن گئی ہے۔ دو اشخاص میں  بہت یارانہ اور بے تکلفی ہو تو یہ کہاوت کہتے ہیں ۔ ایسے دوستوں  کے لئے لنگوٹیا یار  کی اصطلاح بھی مستعمل ہے یعنی اتنے پکے دوست کہ ایک دوسرے کا لنگوٹ بھی پہننے میں  انھیں  کوئی عار یا تکلف نہیں  ہے۔

( ۸ )  دانت کریدنے کو تنکا نہیں   : 

دانت کریدنے کے تنکے کی کوئی بساط نہیں  اور یہاں  یہ انتہائی مفلسی کا استعارہ ہے۔کہاوت کا مطلب ہے کہ بے حد مفلسی کا عالم ہے،سب کچھ لُٹ گیا۔

( ۹ )  دبی بلّی چوہوں سے کان کٹواتی ہے  :

  مجبوری بہت بری چیز ہے۔ آدمی حالات سے مجبور ہو جائے تو سب کچھ برداشت کر لیتا ہے۔ کہاوت اس حقیقت کا اعتراف کر رہی ہے۔

( ۱۰ )  دبے مُردے اُکھاڑتا ہے   : 

 یعنی ایسی بھولی بسری باتیں  نکال نکال کر لاتا ہے جن سے نا اتفاقی اور فسادبڑھ جائے۔ پُرانی رنجشوں  اور مناقشات کا شمار ان مُردوں  میں  ہے۔

( ۱۱)  دبنے پر چیونٹی بھی کاٹ لیتی ہے  :

  کمزور آدمی بھی عاجز آ جائے تو وہ بھی لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔جیسے ننھی سی چیونٹی بھی اگر دب جائے تو کاٹ لیتی ہے۔

( ۱۲ )  دروغ گو را حافظہ نہ باشد  : 

 یعنی جھوٹ بولنے والے کے حافظہ نہیں ہوتا۔ اس کے لئے یہ یاد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس شخص سے کس معاملہ میں  کون سا جھوٹ بولا ہے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain


د ۔ کی کہاوتیں

(۱۳)  دریا میں  رہ کر مگر مچھ سے بیر   : 

کسی مردم آزار شخص کے علاقہ میں  رہتے ہوئے اُس سے دشمنی رکھنا دانشمندی نہیں  ہے۔ جس طرح دریا میں  رہ کر مگر مچھ سے دشمنی میں  خطرہ ہے اسی طرح ظالم آدمی کسی وقت بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

( ۱۴ )   در کارِ خیر حاجتِ ہیچ استخارہ نیست  :

   یعنی نیک کام میں  کسی استخارہ کی حاجت نہیں  ہوتی۔ استخارہ وہ دُعا ہے جو اہم کام کرنے سے پہلے کچھ لوگ مانگتے ہیں  کہ کام کیا جائے یا نہیں اور کیا  جائے تو کس طرح؟ کچھ لوگ دو رکعت نماز پڑھ کر اس اُمید میں  سو جاتے ہیں  کہ خواب میں کوئی اشارہ ملے گا۔ کچھ لوگ آنکھ بند کر کے قرآن پاک کے کسی صفحہ پر انگلی رکھ کر متعلقہ عبارت سے اشارہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ نیک کام کا انجام تو اچھا ہی ہوتا ہے اس لئے اس میں  فکر کی کیا بات ہے؟

( ۱۵ )  دروغِ مصلحت آمیز  : 

 یعنی وہ جھوٹ جو کسی مصلحت سے بولا جائے۔ یہ جھوٹ تو ہے لیکن چونکہ اس کا مقصد بھلائی ہے اس لئے یہ برائی میں  شمار نہیں  ہوتا۔

(۱۶ )  در عمل کوش ہر چہ خواہی پوش  : 

 یعنی اپنے کام میں  محنت کرو چاہے کپڑے کیسے ہی پہنو۔ گویا اصل اہمیت کام کی ہے ظاہری لباس اور نمود و نمائش کی نہیں  ہے۔

(۱۷)  دروازہ پر ہاتھی جھولنا  :

  پرانے زمانے میں  رئیس لوگ ہاتھی پالنے میں  اپنی شان سمجھتے تھے۔ ہاتھی مستی کے عالم میں  جھومتا ہے جس کو ’’جھولنا‘‘ کہتے ہیں۔  دروازہ پر ہاتھی جھولنا اَمارت کی نشانی ہے۔

(۱۸ )  دستِ  خود دَہانِ خود  : 

 اپنا ہاتھ ہے اور اپنا منھ، گویا کسی کی محتاجی نہیں  ہے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain


د ۔ کی کہاوتیں

( ۱۹ )  دستر خوان کی مکھی  : 

 دستر خوان پر مکھی بن بلائے مہمان کی طرح آ بیٹھتی ہے۔ایسا شخص جو عادتاً عین کھانے کے وقت ٹپک پڑے اور دسترخوان کا شریک بن بیٹھے ’’دستر خوان کی مکھی‘‘ کہلاتا ہے۔

( ۲۰)  دل کو دل سے  راہ ہوتی ہے  :

  یعنی اگر دو دِلوں  میں  محبت ہو تو وہ ایک دوسرے کی بات خوب سمجھتے  ہیں  اور زیادہ تشریح و توضیح کی ضرورت نہیں  ہوتی۔

(۲۱ )  دمڑی کی مُنڈیا، ٹکاسر منڈائی  :

  پرانے زمانے میں دمڑی اہل نہایت کم قیمت سکّہ ہوتا تھا۔ ٹکا یعنی ایک روپیہ۔مُنڈیا یعنی سر۔مطلب یہ ہے کہ سر تو ذرا سا ہے اور اس کی حجامت کی قیمت بہت دی جا رہی ہے۔ کسی چیز پر اس کی قیمت سے زیادہ صرف کیا جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۲۲ )  دمڑی کی ہانڈی گئی، کتّے کی ذات تو پہچانی گئی  :

  دمڑی کی ہانڈی یعنی تھوڑا سا نقصان۔ مطلب یہ ہے کہ کچھ نقصان تو ضرور ہوا لیکن اسی بہانے اچھے برے انسان کی پہچان ہو گئی۔

(۲۳ ) دمڑی کی گڑیا،  ٹکا ڈولی کا   : 

 ٹکا یعنی ایک روپیہ۔  دمڑی،پیسہ سے بھی بہت چھوٹا ایک سکہ ہوتا تھا۔  پرانے زمانے میں   رئیس زادیاں  تفریح کے لئے آپس میں  گڑیوں  کی شادیاں  دھوم دھام سے کیا کرتی تھیں۔ گڑیا دلہن بھی دستور زمانہ کے مطابق چار کہاروں  والی ڈولی میں  رخصت کی جاتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ ستم ظریفی دیکھئے کہ گڑیا تو دمڑی بھر کی قیمت کی ہے لیکن اس کے لئے مہنگی ڈولی کا اہتمام کیا گیا ہے۔اگر اصل بات چھوٹی سی ہو لیکن اس کے فروعات بہت قیمتی ہوں  تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۲۴)  دماغ ساتویں  آسمان پر ہے   : 

 یعنی مغرور اور بد دماغ ہے، دوسروں کو خاطر ہی میں  نہیں  لاتا۔

( ۲۵ )  دن دونی رات چوگنی ترقی ہو  : 

دُعائیہ جملہ ہے جو بزرگ عموماً  چھوٹوں کے لئے کہتے ہیں۔ محل استعمال ظاہر ہے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain


د ۔ کی کہاوتیں

( ۲۶)  دن کو دن، رات کو رات نہیں  جانا   :

  یعنی کوئی کسر نہیں  اُٹھا رکھی یہاں  تک کہ دن کا چین اور رات کی نیند بھی چھوڑ دی۔

(۲۷)  دُنیا اُمید پر قائم ہے  : 

کہاوت کا مطلب اور محل استعمال ظاہر ہیں۔

(۲۸ )  دن میں  تارے نظر آ گئے  : 

یعنی انتہائی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ سر پر چوٹ لگ جائے تو چند لمحوں  کے لئے ایسا ہی لگتا ہے۔

(۲۹)  دودھ کے دانت نہیں  ٹوٹے 
 :
  بچوں  کے دودھ کے دانت پیدائش کے کئی سال بعد ٹوٹتے ہیں۔ یہاں  یہ نا تجربہ کاری اور کم علمی کااستعارہ ہیں  یعنی ابھی نا تجربہ کاری کا عالم ہے۔

(۳۰)  دولت مند کے سب ہی سالے  : 

دُنیا دولت کی دیوانی ہے۔ سالے بہنوئی کا رشتہ قریبی اور جذباتی ہوتا ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ دولت مند کی قربت کا ہر شخص خواہاں  ہوتا ہے کیونکہ اس سے فائدہ کی امید ہوتی ہے۔

( ۳۱)  دودھوں  نہاؤ،پوتوں  پھلو  :

 پوتوں  پھلو یعنی بیٹوں  سے، پھلو یعنی بھرے رہو۔  یہ دُعائیہ جملہ ہے جو بڑی بوڑھیاں  چھوٹوں کے لئے کہتی ہیں۔ یعنی تمھارا اقبال اتنا بلند ہو کہ پانی کے بجائے دودھ سے نہایا کرو اور بیٹوں  سے تمھارا گھر آباد رہے۔

 ( ۳۲)  دو دِل راضی تو کیا کرے گا قاضی  :

 یعنی اگر دو اشخاص کسی بات پر رضامند ہو جائیں  تو کوئی کچھ بھی نہیں  بگاڑ سکتا جیسے دو دِل اگر شادی پر راضی ہو جائیں  تو بیچارہ قاضی کیا کر سکتا ہے سوائے اس کے کہ نکاح پڑھا دے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain


د۔کی کہاوتیں

( ۳۳)  دودھیل گائے کی دو لاتیں  بھی سہہ لیتے ہیں   :

  دودھیل یعنی دودھ دینے والی۔ ایسی گائے اگر دو لاتیں  بھی مار دے تو مالک  طوعاً  و کرہاً برداشت کر لیتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص سے اپنی کوئی غرض اٹکی ہو  تو آدمی اُس کی دو کڑوی باتیں  بھی سُن لیتا ہے۔

( ۳۴)  دُور کے ڈھول سہانے  :

  ڈھول تاشے کی آواز دُور سے بھلی معلوم ہوتی ہے مگرپاس جائیں  تو شور سے کان پھٹنے لگتے ہیں۔ یعنی جو چیز دُور سے اچھی معلوم ہو، ضروری نہیں  ہے کہ وہ پاس سے بھی بھلی لگے۔ یہ کہاوت انسان پر بھی صادق آتی ہے کہ چاہے وہ سرسری نظر سے دیکھنے میں  کتنا ہی اچھا لگے جب تک اس کو قریب سے نہ پرکھا جائے اس کی اصل معلوم نہیں  ہوتی۔

(۳۵)  دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے  :

  دودھ سے مکھن نکال لیا جائے تو باقی بچاہوا دودھ چھاچھ کہلاتا ہے۔ اگر کسی  شخص کا منھ گرم دودھ سے جل جائے تو وہ ٹھنڈی چھاچھ بھی پھونک مار مار کر احتیاط سے پئے گا کیونکہ وہ بھی دودھ کی طرح سفید ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی معاملہ میں  کوئی شخص نقصان اٹھائے تو اس سے ملتے جلتے معاملہ میں  وہ بہت محتاط رہتا ہے۔

(۳۶)  دودھ کا دودھ اور  پانی کا پانی  : 

بازار میں  دودھ کی مقدار بڑھانے کے لئے اس میں بے ایمان دوکاندار پانی ملا دیتا ہے۔ اگر کسی طرح اس مرکب سے دودھ اور پانی الگ الگ کر دیے جائیں تو اصل اور اس کی ملاوٹ ظاہر ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر کسی معاملہ میں  سچ اور جھوٹ  ملے ہوں اور انھیں  الگ الگ کر دیا جائے تو اصل حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ ایک دوسری کہاوت میں اسے  ’’ڈھول کا پول کھولنا ‘‘بھی کہتے ہیں ۔ ایک کہانی اس کہاوت سے وابستہ ہے۔ ایک دودھ والا دودھ میں بہت پانی ملا کر گاہکوں  کو دھوکا دیا کرتا تھا۔ ایک دن ایک بندر اس کی دوکان میں گھس آیا اور اس کے پیسوں  کا ڈبہ اٹھا کر ندی کنارے ایک درخت پر جا بیٹھا۔
دوکاندار نے بہت بہلایا پھسلایا لیکن بندر نے ڈبہ واپس نہ کیا بلکہ اس میں  سے روپے نکال نکال کر ندی میں  پھینکنے لگا اور پیسے دوکاندار کی طرف۔ ایک شخص یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔اس نے دوکاندار سے کہا کہ ’’بندر ٹھیک تو کر رہا ہے۔ دودھ کے دام تمھاری طرف پھینک رہا ہے اور پانی کے روپے پانی میں۔ یعنی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔‘‘


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain



د۔کی کہاوتیں

(۳۷ )  دُودھ دیا سو مینگنیوں  بھرا    : 

مینگنی یعنی بکری کا فضلہ۔ کوئی اچھی چیز کسی کو دی جائے اور اس میں  خرابی نکل آئے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اسی پر دوسری مثالیں  قیاس کی جا سکتی ہیں۔

(۳۸)  :دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکنا  :

  اگر دودھ میں  مکھی گر جائے تو اسے نکال پھینکتے ہیں ۔دودھ کی مکھی یہاں  اچھی چیز میں  بری چیز کی آمیزش کا استعارہ ہے۔ اسی مناسبت سے اگر کسی شخص کو کہیں  سے بیک بینی و دو گوش نکال دیا جائے تو بھی کہتے ہیں  کہ دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکا۔

(۳۹)  دوسرے کے پھٹے میں  پیر اَڑانا  :

  کسی کے پھٹے کپڑے میں  پیر اَڑا  یا جائے تو وہ اور پھٹ جاتا ہے۔ کہاوت سے مراد دوسروں  کے معاملات میں  خواہ مخواہ دخل اندازی  ہے۔ ایسا کرنے سے معاملہ کے بہتری کے بجائے بات بگڑ نے کا امکان زیادہ ہے۔

( ۴۰ )  دو میں  تیسرا، آنکھوں  میں  ٹھیکرا  :

آنکھوں  میں  ٹھیکرا  یعنی کھٹکنے والی چیز۔ اگر دو اشخاص بیٹھے ذاتی گفتگو کر رہے ہوں  تو کسی اور کا وہاں  آ بیٹھنا مناسب نہیں  ہے۔اس کہاوت سے متعلق مرزا غالبؔ  کا ایک لطیفہ مشہور ہے جو مرزا نوشہ کے منھ بولے بیٹے زین العابدین خاں  عارفؔ کی بہو معظم زمانی بیگم (عرف بُگا بیگم)نے بیان کیا ہے۔بگا بیگم نے مرزا غالبؔ کی زندگی کا آخری دَور دیکھا تھا۔  فرماتی ہیں  کہ’’ برسات کے دن تھے، مینہہ بہت برسنے لگا۔ مرزا صاحب  بیٹھے بیوی سے باتیں  کر تے تھے، میں  یوں  بیٹھی تھی گاؤ تکیہ کے کونے سے لگی ہوئی۔ کہنے لگے ’’ایک بیوی،دو میں ، تیسرا آنکھوں میں  ٹھیکرا۔ بہو !  میں  اور میری بیوی بیٹھے ہیں  تم کیوں  بیٹھی ہو؟‘‘  اس پر میری ساس بولیں  ’’ارے توبہ توبہ ! بڈھا دیوانہ ہے۔ اسے تو ٹھٹھے کے لئے کوئی چاہئے۔ اب بہو ہی مل گئی۔‘‘  میں  اتنے میں  اُٹھ کر کونے میں  جا چھپی۔ اب اُنہیں یہ فکر کہ برسات کا موسم اور  کیڑے پتنگے کا عالم۔ مجھے ڈھونڈتے پھریں  اور کہتے جائیں ’’ مجھے کیا خبر تھی کہ بہو اس بات کا اتنا برا  مان جائے گی۔‘‘

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain


د۔کی کہاوتیں

(۴۱)  دو مُلاؤں  کے بیچ میں  مُرغی حرام  : 

 اگر کوئی کام دو اشخاص کے سپرد کیا جائے توآپس کے  جذبۂ مسابقت کے باعث کام میں  بہتری کے بجائے خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس صورت کی تشبیہ دو  مُلاؤں  سے دی گئی ہے جو اکیلے مرغی کھانے کے لالچ میں  ایک دوسرے کی حلال کی ہوئی مرغی کو حرام کہتے ہیں گویا وہ اگر خود ذبح نہیں  کریں  گے تو  مرغی حلال ہی نہیں  ہو گی۔

(۴۲)  دور کی کوڑی لانا  : 

 پہلے زمانہ میں  کَوڑی بھی سکّے کی طرح استعمال ہوتی تھی۔تَب ایک روپے میں  چونسٹھ  پیسے ہوا کرتے تھے اور ایک پیسے میں  پانچ کوڑی۔’’دُور کی کوڑی لانا‘‘ کی وجہ تسمیہ نہیں  معلوم ہو سکی۔ البتہ کہاوت کا مطلب ہے بڑے پتے کی بات کہنا، غیر معمولی بات کہنا۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

(۴۳)  دولت اندھی ہوتی ہے  :

  یہ ضروری نہیں  ہے کہ دولت صرف مستحق لوگوں  کو ہی ملے۔ وہ کسی کو بھی مل سکتی ہے اور ملتی بھی ہے۔ اس کہاوت سے ایک حکایت منسوب ہے۔ مغل بادشاہ تیمورؔ لنگڑا تھا اور اسی لئے تاریخ میں  اسے تیمورؔ لنگ کے نام سے یا د کیا جاتا ہے۔ ایک بار اس کے دربار میں  ایک اندھا آدمی حاضر ہوا جس کا نام دولتؔ  تھا۔ تیمورؔ نے از راہ تمسخر کہا کہ ’’کیا دولت بھی اندھی ہوتی ہے؟‘‘ اُس اندھے نے دست بستہ عرض کی کہ ’’حضور! اگر اندھی نہ ہوتی تو لنگڑے کے پاس کیسے آتی؟‘‘ تیمورؔ اس کی حاضر جوابی سے محظوظ ہوا اور اس کو انعام و اکرام سے نوازا۔

( ۴۴ )  دھوتی کے بھیتر سب ننگے  : 

بھیتر یعنی اندر یا نیچے۔ مطلب یہ ہے کہ کریدا جائے تو ہر شخص میں کوئی نہ کوئی عیب نکل آتا ہے۔

( ۴۵)  دھوبی کا کُتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا  : 

پہلے زمانے میں  دھوبی لوگوں  کے گھر آ کر ان کے کپڑے دھونے کے لئے ندی یا جھیل کے گھاٹ پر لے جایا کرتا تھا۔  پیشہ کی مناسبت سے دھوبی کی دَوڑ گھر اور گھاٹ کے درمیان ہی ہوا کرتی تھی اور  اُس کا کتا بھی اس کے ساتھ کبھی گھر اور کبھی گھاٹ مارا مارا پھرتا تھا۔مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خانماں  برباد اور بے سرو سامان ہوتے ہیں  اُن کو قسمت جہاں  لے جائے وہاں  جانا پڑتا ہے


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain


د ۔ کی کہاوتیں

(۴۶ )  دھوکے کی ٹٹی  :

  اکثر شکاری جنگل میں ایک ٹٹی کے پیچھے چھپ جاتے ہیں  اور جب شکار بے علمی میں  قریب آتا ہے تو اُس کو مار لیتے ہیں۔ اسے دھوکے کی ٹٹی کہا گیا ہے۔ اِنسانی تعلقات میں  بھی لوگ دوسروں  سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایسی ہی ٹٹی بنا لیتے ہیں۔

 ( ۴۷ )  دیر آید دُرست آید  :

  یعنی دیر (اطمینان) سے کیا گیا کام دُرست ہوتا ہے کیونکہ اس کی پیروی میں  غور وفکرسے کام لیا جاتا ہے۔  ہندی کی ایک کہاوت اسی معنی میں  کہی جاتی ہے’’ سہج پکے سو میٹھا‘‘  (جو پھل آہستہ آہستہ پکے وہ زیادہ میٹھا ہوتا ہے)۔

(۸ ۴)  دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے  :

  اونٹ بہت بے ڈھب جانور ہے اور اس کہاوت میں مشکل مسئلہ کا استعارہ ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے بظاہر مسئلہ نہایت ٹیڑھا ہے۔اب دیکھئے کہ یہ کس طرح سے حل ہوتا ہے۔ایک حکایت اس کہاوت کے بارے میں  مشہور ہے۔ ایک کمھار اور ایک سبزی فروش نے مل کر ایک اونٹ کرایے پر لیا۔ سبزی فروش نے اونٹ کے ایک طرف اپنی سبزی ترکاری لاد دی اور کمھار نے اپنے برتن دوسری جانب باند ھ دئے۔ بازار کی طرف جاتے ہوئے اونٹ بار بار منھ گھما کر سبزیوں میں  سے کچھ نہ کچھ کھاتا رہا اور سبزی فروش کے نقصان پر کمھارہنستا رہا۔ سبزی فروش بار بار یہی کہتا تھا کہ ’’دیکھئے اونٹ کس کرو ٹ بیٹھتا ہے۔‘‘ جب وہ بازار پہنچے تو اونٹ برتنوں  کی کروٹ بیٹھ گیا کیونکہ اُس جانب بوجھ زیادہ تھا اور اس کے لئے اُ س کروٹ بیٹھنا آسان۔کمھار کے بہت سے برتن دب کر ٹو ٹ گئے اور وہ سبزی فروش کا منھ دیکھتا رہ گیا۔

( ۴۹)  دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں   : 

یعنی بات کرنے میں  احتیاط ضروری  ہے کیونکہ نا معلوم ذریعوں  سے بات آنا فاناً پھیل جاتی ہے جیسے دیواروں  نے سن کر دوسروں  تک پہنچا دی ہے۔ اسی معنی میں  دوسری کہاوتیں  بھی ہیں  مثلاً نکلی حلق سے، پہنچی خلق تک، منھ سے نکلی ہوئی پرائی بات‘‘ وغیرہ۔

( ۵۰)  دیوانہ بکارِ خویش ہشیار  :

  دیوانہ اپنے کام میں  ہوشیار ہوتا ہے۔ یعنی ہر شخص اپنے مطلب کی خوب سمجھتا ہے چاہے بظاہر وہ کیسا ہی نادان نظر آئے

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs daal ki kahawtain



د ۔ کی کہاوتیں

( ۵۱)  دیا ہاتھ، کھانے لگا ساتھ  : 

یعنی کسی کو ذرا سی رعایت دی تو وہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے لگا۔ اسی معنی میں  ایک اور کہاوت  ہے کہ’’ انگلی پکڑتے ہی پہنچا پکڑ لیا‘‘۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)