Showing posts with label Urdu poetry By Mir Taqi Mir. Show all posts
Showing posts with label Urdu poetry By Mir Taqi Mir. Show all posts

Tuesday, 30 May 2017

Shab Ka Pahna Jo Din Talk Hai Magar " A Beautiful Urdu poetry By Mir Taqi Mir


دل جو ناگاہ بے قرار ہوا
اس سے کیا جانوں کیا قرار ہوا

شب کا پہنا جو دن تلک ہے مگر
ہار اس کے گلے کا ہار ہوا

گرد سر اس کے جو پھرا میں بہت
رفتہ رفتہ مجھے دوار ہوا

بستر خواب سے جو اس کے اٹھا
گل تر سوکھ سوکھ خار ہوا

مجھ سے لینے لگے ہیں عبرت لوگ
عاشقی میں یہ اعتبار ہوا

روز و شب روتے کڑھتے گذرے ہے
اب یہی اپنا روزگار ہوا

روؤں کیا اپنی سادگی کو میرؔ

میں نے جانا کہ مجھ سے یار ہوا

Jis Sitam Deda Ko Is Ishaq Ka Aazar Hova " A Beautiful Urdu poetry By Mir Taqi Mir


جس ستم دیدہ کو اس عشق کا آزار ہوا
اک دو دن ہی میں وہ زار و زبوں خوار ہوا

روز بازار میں عالم کے عجب شے ہے حسن
بک گیا آپ ہی جو اس کا خریدار ہوا

دھوپ میں آگے کھڑا اس کے جلا کرتا ہوں
چاہ کر اس کے تئیں میں تو گنہگار ہوا

ہوش کچھ جن کے سروں میں تھا شتابی چیتے
حیف صد حیف کہ میں دیر خبردار ہوا

ہو بخود تو کسو کو ڈھونڈ نکالے کوئی
وہی خود گم ہوا جو اس کا طلبگار ہوا

مرغ دل کی ہے رہائی سے مرا دل اب جمع
پرشکن بالوں میں وہ اس کے گرفتار ہوا

پیار کی دیکھی جو چتون کسو کی میں جانا
کہ یہ اب سادہ و پرکار مرا یار ہوا

تکیہ اس پر جو کیا تھا سو گرا بستر پر
یعنی میں شوق کے افراط سے بیمار ہوا

کیونکے سب عمر صعوبت میں کٹی تیری میرؔ

اپنا جینا تو کوئی دن ہمیں دشوار ہوا

Ansoo Ki bund Aankhoon Say Dono Ab Tu Niklti Aik Nahi " A Beautiful Urdu poetry By Mir Taqi Mir


آج اس خوش پرکار جواں مطلوب حسین نے لطف کیا
پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا


آنسو کی بوند آنکھوں سے دونوں اب تو نکلتی ایک نہیں
دل کے طپیدن روز و شب نے خوب جگر کا لوہو پیا


مرتے جیسے صبر کیا تھا ویسی ہی بے صبری کی
ہائے دریغ افسوس کوئی دن اور نہ یہ بیمار جیا


ہاتھ رکھے رہتا ہوں دل پر برسوں گذرے ہجراں میں

ایک دن ان نے گلے سے مل کر ہاتھ میں میرا دل نہ لیا

Jo Qafilay Gaey Thay Unhoon Ki Uthi Bhi Gard " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

اب یار دوپہر کو کھڑا ٹک جو یاں رہا
حیرت سے آفتاب جہاں کا تہاں رہا

جو قافلے گئے تھے انھوں کی اٹھی بھی گرد
کیا جانیے غبار ہمارا کہاں رہا

سوکھی پڑی ہیں آنکھیں مری دیر سے جو اب
سیلاب ان ہی رخنوں سے مدت رواں رہا

اعضا گداز عشق سے ایک ایک بہ گئے
اب کیا رہا ہے مجھ میں جو میں نیم جاں رہا

منعم کا گھر تمادی ایام میں بنا
سو آپ ایک رات ہی واں میہماں رہا

اس کے فریب لطف پہ مت جا کہ ہمنشیں

وہ دیر میرے حال پہ بھی مہرباں رہا

Hai Jan Tu Jahan Hai Mashoor Hai Misal " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

اب در پہ اس کے گھر کے گرا ہوں وگر نہ میں
مدت خرابہ گرد ہی بے خانماں رہا

ہے جان تو جہان ہے مشہور ہے مثل
کیا ہے گئے پہ جان کے گو پھر جہاں رہا

ترک شراب خانہ ہے پیری میں ورنہ میرؔ

ترسا بچوں ہی میں رہا جب تک جواں رہا

Sukhan Mushtaq Hai Alam Humara " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
بہت عالم کرے گا غم ہمارا

پڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھے
رہے گا دیر تک ماتم ہمارا

نہیں ہے مرجع آدم اگر خاک
کدھر جاتا ہے قد خم ہمارا

زمین و آسماں زیر و زبر ہے
نہیں کم حشر سے اودھم ہمارا

کسو کے بال درہم دیکھتے میرؔ

ہوا ہے کام دل برہم ہمارا

Kia Ajab " Mar Jey Koi Khasta Jigar Tu Hai " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir


ہے عشق میں جو حال بتر تو ہے کیا عجب
مر جائے کوئی خستہ جگر تو ہے کیا عجب

لے جا کے نامے کتنے کبوتر ہوئے ہیں ذبح
اڑتی سی ہم کو آوے خبر تو ہے کیا عجب

شبہائے تار و تیرہ زمانے میں دن ہوئیں
شب ہجر کی بھی ہووے سحر تو ہے کیا عجب

جیسے ہے رخنہ رخنہ یہ چرخ اثیر سب
اس آہ کا ہو اس میں اثر تو ہے کیا عجب

جاتی ہے چشم شوخ کسی کی ہزار جا
آوے ادھر بھی اس کی نظر تو ہے کیا عجب

لغزش ملک سے ہووے لچک اس کمر کی دیکھ
عاشق سے جو بندھے نہ کمر تو ہے کیا عجب

ترک وطن کیا ہے عزیزوں نے چاہ میں
کر جائے کوئی رفتہ سفر تو ہے کیا عجب

برسوں سے ہاتھ مارتے ہیں سر پہ اس بغیر
ہووے بھی ہم سے دست بسر تو ہے کیا عجب

معلوم سودمندی عشاق عشق میں
پہنچے ہے اس سے ہم کو ضرر تو ہے کیا عجب

گھر بار میں لٹا کے گیا گھر سے بھی نکل
اب آوے وہ کبھو مرے گھر تو ہے کیا عجب

ملتی نہیں ہے آنکھ اس آئینہ رو کی میرؔ

وہ دل جو لے کے جاوے مکر تو ہے کیا عجب

Aya Hai Shaib Sar Pa Gaya Hai Shabab Ab " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب
کرنا جو کچھ ہو تم کو سو کر لو شتاب اب

بگڑا بنا ہوں عشق سے سو بار عاقبت
پایا قرار یہ کہ رہوں میں خراب اب

خوں ریزی عاشقوں کی ہے ظالم اگر ثواب
تو تو ہوا ہے تجھ کو بہت سا ثواب اب

بھڑکی دروں میں آتش سوزندہ عشق کی
دل رہ گیا ہے پہلو میں ہو کر کباب اب

ہوں اس بہشتی رو سے جدا میں جحیم میں
رہتا ہے میری خاک کو ہر دم عذاب اب

قاصد جو آیا چپ ہے نشاں خط کا کچھ نہیں
دیکھیں جو لاوے باد کوئی کیا جواب اب

کیا رنج و غم کو آگے ترے میں کروں شمار
یاں خود حسابی میری تو ہے بے حساب اب

جھپکی ہیں آنکھیں اور جھکی آتی ہیں بہت
نزدیک شاید آیا ہے ہنگام خواب اب

آرام کریے میری کہانی بھی ہو چکی
کرنے لگو گے ورنہ عتاب و خطاب اب

جانا سبھوں نے یہ کہ تو معشوق میرؔ ہے

خلع العذار سے نہ گیا ہے حجاب اب

Mara Karay Hai Sham o Sahar Chakar Aftab " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir


منہ دھوتے اس کے آتا تو ہے اکثر آفتاب
کھاوے گا آفتابہ کوئی خودسر آفتاب

سر صدقے تیرے ہونے کی خاطر بہت ہے گرم
مارا کرے ہے شام و سحر چکر آفتاب

ہر خانہ کیوں نہ صبح جہاں میں ہو پر فروغ
پھرتا ہے جھانکتا اسی کو گھر گھر آفتاب

تجرید کا فراغ ہے یک دولت عظیم
بھاگے ہے اپنے سائے سے بھی خوشتر آفتاب

نازک مزاج ہے تو کہیں گھر سے مت نکل
ہوتا ہے دوپہر کے تئیں سر پر آفتاب

پیدا ہے روز مشرق نو کی نمود سی
آئے ہے کوئے یار سے بچ بچ کر آفتاب

ہو پست اس کے نور کا زیر زمیں گیا
ہر چند سب ستاروں سے تھا برتر آفتاب

اس رخ کی روشنی میں نہ معلوم کچھ ہوا
مہ گم کدھر ہوا ہے گیا کدھر آفتاب

کس زور کش کی قوس قزح ہے کمان پاک
جس کی اٹھا سکا نہ کبھو سیسر آفتاب

روشن ہے یہ کہ خوف ہے اس غصہ ور کا میرؔ

نکلے ہے صبح کانپتا جو تھر تھر آفتاب

Bemurawat Is Zamanay Main Hama Hairat Hai Ab " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

آئینہ سا جو کوئی یاں آشنا صورت ہے اب
بے مروت اس زمانے میں ہمہ حیرت ہے اب

کیا کوئی یاری کسو سے کر کے ہووے شاد کام
دوستی ہے دشمنی الفت نہیں کلفت ہے اب

چاہتا ہے درد دل کرنا کسو سے دل دماغ
سو دماغ اپنا ضعیف اور قلب بے طاقت ہے اب

کیونکے دنیا دنیا رسوائی مری موقوف ہو
عالم عالم مجھ پہ اس کے عشق کی تہمت ہے اب

اشک نومیدا نہ پھرتے ہیں مری آنکھوں کے بیچ

میرؔ یہ دے ہے دکھائی جان کی رخصت ہے اب

Mar Hi Dalay Hai Jis Ka Zindagi Main Iztrab " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

مارے ہی ڈالے ہے جس کا زندگی میں اضطراب
ساتھ میرے دل گڑا تو آ چکا مرنے کا خواب

ٹک ٹھہرتا بھی تو کہتے تھا کسو بجلی کی تاب
یا کہ نکہت گل کی تھا آیا گیا عہد شباب

کی نماز صبح کو کھو کر نماز اشراق کی
ہو گیا مجھ پر ستم اچٹا نہ ٹک مستی میں خواب

دیکھنا منھ یار کا اس وجہ سے ہوتا نہیں
یا الٰہی دے زمانے سے اٹھا رسم نقاب

ضعف ہے اس کے مرض اور اس کے غم سے الغرض
دل بدن میں آدمی کے ایک ہے خانہ خراب

یار میں ہم میں پڑا پردہ جو ہے ہستی ہے یہ
بیچ سے اٹھ جائے تو ہووے ابھی رفع حجاب

صورت دیوار سے مدت کھڑے در پر رہے
پر کبھو صحبت میں اس کی ہم ہوئے نہ باریاب

مے سے توبہ کرتے ہی معقول اگر ہم جانتے
ہم پہ شیخ شہر برسوں سے کرے ہے احتساب

جمع تھے خوباں بہت لیکن پسند اس کو کیا

کیا غلط میں نے کیا  اے میرؔ وقت انتخاب

AAkhir Un Khubaan Nay Ashiq Jan Kar Mara Mujhay " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

اس مغل زا سے نہ تھی ہر بات کی تکرار خوب
بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب

لگ نہیں پڑتے ہیں لے کر ہاتھ میں شمشیر تیز
بے کسوں کے قتل میں اتنا نہیں اصرار خوب

آخر ان خوباں نے عاشق جان کر مارا مجھے
چاہ کا اپنی نہ کرنا ان سے تھا اظہار خوب

آج کل سے مجھ کو بیتابی و بدحالی ہے کیا
مجھ مریض عشق کے کب سے نہ تھے آثار خوب

کیا کریمی اس کی کہیے جنت دربستہ دی
ورنہ مفلس غم زدوں کے کچھ نہ تھے کردار خوب

مخترع جور و ستم میں بھی ہوا وہ نوجواں
ظلم تب کرتا ہے جب ہو کوئی منت دار خوب

دہر میں پستی بلندی برسوں تک دیکھی ہے میں
جب لٹا پامالی سے میں تب ہوا ہموار خوب

کیا کسو سے آشنائی کی رکھے کوئی امید
کم پہنچتا ہے بہم دنیا میں یارو یار خوب

کہتے تھے افعی کے سے  اے میرؔ مت کھا پیچ و تاب

آخر اس کوچے میں جا کھائی نہ تو نے مار خوب

Jo KOi Is Bewafa Say Dil Lagata Hai Bohat " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

جو کوئی اس بے وفا سے دل لگاتا ہے بہت
وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت

اس کے سونے سے بدن سے کس قدر چسپاں ہے ہائے
جامہ کبریتی کسو کا جی جلاتا ہے بہت

کیا پس از چندے مری آوارگی منظور ہے
مو پریشاں اب جو شب مجھ پاس آتا ہے بہت

چاہ میں بھی بیشتر جانے سے کم ہوتا ہے وقر
اس لیے جاتا ہوں تب جب وہ بلاتا ہے بہت

گرچہ کم جاتا ہوں پر دل پر نہیں کچھ اختیار
وہ کجی سے سیدھیاں مجھ کو سناتا ہے بہت

بھول جاوے گا سخن پردازی اس کے سامنے
شاعری سے جو کوئی باتیں بناتا ہے بہت

بامزہ معشوق کیا کم ہیں پر اس کو کیا کروں
ناز و انداز اس ہی کا جو مجھ کو بھاتا ہے بہت

وہ نہیں ہجراں میں اس بن خواب خوش آوے مجھے
اب خیال اس کی طرف ہر لحظہ جاتا ہے بہت

کیا کروں کہنے لگا ایدھر نہ آنے پائے وہ

بد کہیں ہنگامہ آرا میرؔ  آتا ہے بہت

Mun Pa Rakhta Hai Woh Niqab Bohat " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

منہ پہ رکھتا ہے وہ نقاب بہت
ہم سے کرتا ہے اب حجاب بہت

چشمک گل کا لطف بھی نہ اٹھا
کم رہا موسم شباب بہت

دیر بھی کچھ لگی نہ مرتے ہمیں
عمر جاتی رہی شتاب بہت

ڈھونڈتے اس کو کوچے کوچے پھرے
دل نے ہم کو کیا خراب بہت

چلنا اپنا قریب ہے شاید
جاں کرے ہے اب اضطراب بہت

توبہ مے سے بہار میں نہ کروں
گو کرے شیخ احتساب بہت

اس غصیلے سے کیا کسو کی نبھے
مہربانی ہے کم عتاب بہت

کشتن مردماں اگر ہے ثواب
تو ہوا ہے اسے ثواب بہت

دیر تک کعبے میں تھے شب بے ہوش

پی گئے میرؔ جی شراب بہت

Kia Kahain Hai Hal E Dil DarHam Bohat " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

کیا کہیں ہے حال دل درہم بہت
کڑھتے ہیں دن رات اس پر ہم بہت

رہتا ہے ہجراں میں غم غصے سے کام
اور وے بھی سن کے ہیں برہم بہت

اضطراب اس کا نہیں ہوتا ہے کم
ہاتھ بھی رکھتے ہیں دل پر ہم بہت

اس گلی سے جی اچٹتا ٹک نہیں
دل جگر کرتے ہیں پتھر ہم بہت

میرؔ کی بدحالی شب مذکور تھی

کڑھ گئے یہ حال سن کر ہم بہت

Monday, 29 May 2017

Bahir Chalnay Main Abadi Say Kat Na Taghaful Yar Bohat " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

باہر چلنے میں آبادی سے کر نہ تغافل یار بہت
دشتی وحش و طیر آئے ہیں ہونے تیرے شکار بہت

دعویٰ عاشق بیچارے کا کون سنے گا محشر میں
خیل ملائک واں بھی ہوں گے اس کے خاطر دار بہت

خشکی لب کی زردی رخ کی نمناکی دو آنکھوں کی
جو دیکھے ہے کہے ہے ان نے کھینچا ہے آزار بہت

جسم کی حالت جی کی طاقت نبض سے کر معلوم طبیب
کہنے لگا جانبر کیا ہو گا یہ تو ہے بیمار بہت

چار طرف ابرو کے اشارے اس ظالم کے زمانے میں
ٹھہرے کیا عاشق بیکس یاں چلتی ہے تلوار بہت

پیش گئی نہ کچھ چاہت میں کافر و مسلم دونوں کی
سینکڑوں سبحے پھینکے گئے اور ٹوٹے ہیں زنار بہت

جی کے لگاؤ کہے سے ہم نے جی ہی جاتے دیکھے ہیں
اس پہ نہ جانا آہ برا ہے الفت کا آزار بہت

کس کو دماغ سیر چمن ہے کیا ہجراں میں واشد ہو
کم گلزار میں اس بن جا کر آتا ہوں بیزار بہت

میرؔ دعا کر حق میں میرے تو بھی فقیر ہے مدت سے

اب جو کبھو دیکھوں اس کو تو مجھ کو نہ آوے پیار بہت

Lutf Jaisay Hain Is Ki Chah K Bech " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

لطف جیسے ہیں اس کی چاہ کے بیچ
رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ

ذوق صید اس کو تھا تو خیل ملک
دھوم رکھتے تھے دام گاہ کے بیچ

کب مزہ ہے نماز صبح میں وہ
جو صبوحی کے ہے گناہ کے بیچ

اس غصیلے کی سرخ آنکھیں دیکھ
اٹھے آشوب خانقاہ کے بیچ

جان و دل دونوں کر گئے تھے غش
دیکھ اس رشک مہ کو راہ کے بیچ

اس کی چشم سیہ ہے وہ جس نے
کتنے جی مارے اک نگاہ کے بیچ

سانجھ ہی رہتی پھر اگر ہوتا
کچھ اثر نالۂ پگاہ کے بیچ

کیا رہیں جور سے بتوں کے ہم
رکھ لے اپنی خدا پناہ کے بیچ

منھ کی دو جھائیوں سے مت شرما
جھائیں ہوتی ہے روئے ماہ کے بیچ

میرؔ بیمار ہے کہ فرق نہیں

متصل اس کے آہ آہ کے بیچ

Wamaq O Farhad O Majnu Kon Hai Yaroon K Bexh" A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

وامق و فرہاد و مجنوں کون ہے یاروں کے بیچ
جو کہوں میں کوئی ہے میرے بھی غمخواروں کے بیچ

جمع خوباں میں مرا محبوب اس مانند ہے
جوں مہ تابندہ آتا ہے کبھو تاروں کے بیچ

جو جفا عاشق پہ ہے سو اور لوگوں پر نہیں
اس سے پیدا ہے کہ میں ہی ہوں گنہگاروں کے بیچ

مر گئے بہتیرے صاحب دل ہوس کس کو ہوئی
ایسے مرنے جینے کی ان عشق کے ماروں کے بیچ

رونا کڑھنا عشق میں دیکھا مرا جن نے کہا
کیا جیے گا یہ ستم دیدہ ان آزاروں کے بیچ

منتظر برسوں رہے افسوس آخر مر گئے
دیدنی تھے لوگ اس ظالم کے بیماروں کے بیچ

خاک تربت کیوں نہ اپنی دلبرانہ اٹھ چلے
ہم بھی تھے اس نازنیں کے ناز برداروں کے بیچ

صاف میداں لامکاں سا ہو تو میرا دل کھلے
تنگ ہوں معمورۂ دنیا کی دیواروں کے بیچ

باغ میں تھے شب گل مہتاب میرے آس پاس
یار بن یعنی رہا میں میرؔ انگاروں کے بیچ


Dil Yahi Hai Jis Ko Dil Kahtay Hain Is Alam K Bech " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

دل یہی ہے جس کو دل کہتے ہیں اس عالم کے بیچ
کاش یہ آفت نہ ہوتی قالب آدم کے بیچ

چھاتی کٹتی سنگ ہی سے دل کے جانے میں نہیں
نعل سینوں پر جڑے جاتے ہیں اس ماتم کے بیچ

نقشہ اس کا مردم دیدہ میں میرے نقش ہے
یعنی صورت اس ہی کی پھرتی ہے چشم نم کے بیچ

شاد وے جو اب جواں تازہ ہوئے ہیں شہر میں
دل زدہ ہم شیب میں رہتے ہیں اپنے غم کے بیچ

دل نہ ایسا کر کہ پشت چشم وہ نازک کرے
سو بلائیں ہیں یہاں ان ابروؤں کے خم کے بیچ

حد سے افزوں اس گلی میں شور ہے عشاق کا
کون سنتا ہے کسو کی بات اس اودھم کے بیچ

رونق آبادی ملک سخن ہے اس تلک

ہوں ہزاروں دم الٰہی میرؔ کے اک دم کے بیچ

Ya Fasana Raha Zabanoon Par " A Beautiful Urdu Ghazal By Mir Taqi Mir

دل گئے آفت آئی جانوں پر
یہ فسانہ رہا زبانوں پر

عشق میں ہوش و صبر سنتے تھے
رکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر

گرچہ انسان ہیں زمینی ولے
ہیں دماغ ان کے آسمانوں پر

شہر کے شوخ سادہ رو لڑکے
ظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر

عرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلند
سیر رہتی ہے ان مکانوں پر

جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع
بھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر

لوگ سر دیتے جاتے ہیں کب سے
یار کے پاؤں کے نشانوں پر

کجی اوباش کی ہے وہ دربند
ڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر

کوئی بولا نہ قتل میں میرے
مہر کی تھی مگر دہانوں پر

یاد میں اس کے ساق سیمیں کی
دے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر

تھے زمانے میں خرچی جن کی روپے
ٹھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر

غم و غصہ ہے حصے میں میرے
اب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر

قصے دنیا میں میرؔ بہت سنے

نہ رکھو گوش ان فسانوں پر

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)