Showing posts with label meem ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label meem ki kahawtain. Show all posts

Saturday, 25 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain



م۔ کی کہاوتیں

(۱)  مانگے کا اُجالا  :

  یعنی ایسی شہرت یا ناموری جو کسی دوسرے شخص کی کوششوں  کی مرہون منت ہو۔ جب اپنی گرہ میں  کچھ نہ ہو اور دوسروں  کے نام کی آڑ میں  نام کمانے کی کوشش کی جائے تو ایسی ناموری مانگے کا اُجالا کہلائے گی۔

( ۲)  مالِ عرب پیشِ عرب  : 

یعنی جس کا مال ہے،  اُس کی تحویل میں  ہی رہنا چاہئے۔

(۳ )  مار کے آگے بھوت بھاگتا ہے  :

  مار پیٹ سے ہر شخص گھبراتا ہے یہاں  تک کہ بھوت بھی بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔

(۴ )  مارنے والے سے جِلانے والا بڑا  : 

 جِلانے والا یعنی خدا۔ کہاوت کا استعمال اس کے معنی سے ظاہر ہے۔

(۵)  مان نہ مان، میں  تیرا مہمان   :

  اگر کوئی شخص کسی معاملہ میں  خواہ مخواہ مداخلت کرے تو یہ کہاوت کہتے ہیں۔

(۶)  ماں  سے زیادہ چاہے، پھا پھا کُٹنی کہلائے   : 

 پھاپھا کٹنی یعنی چالاک اور مکار عورت۔یہ عورتوں  کی زبان ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے لئے اس کی ماں سے زیادہ محبت کا اظہار کرے تو یقیناً وہ جھوٹا اور مکار ہے اور اپنا  اُلّو سیدھا کرنے کی فکر میں ہے۔

( ۷ )  ماں  چیل باپ کوّا  : 

 یعنی بچہ ماں باپ دونوں  جانب سے ناکارہ ہے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain


م۔ کی کہاوتیں

( ۸ )  مایا کے ہیں  تین نام، پرسو، پرسا، پرسرام  :

 انسان  مایا( دولت) کی پرستش کرتا ہے۔ کسی شخص کو دولت مل جائے تو معاشرہ میں  اُس کا مقام ا ور حیثیت بدل جاتے ہیں۔ جو شخص پرسوؔ کے حقیر نام سے مشہور تھا اب پرساؔ کہلانے لگتا ہے اور بڑھتے بڑھتے پرسرامؔ ہو جاتا ہے۔

( ۹ )  مارتے کے ہاتھ پکڑ ے جا سکتے ہیں  بولتے کی زبان نہیں  پکڑی جاتی  :

 کہاوت کے معنی اور محل استعمال ظاہر ہیں۔

(۱۰)  ماروں  گّھٹنا، پھوٹے آنکھ  :

  یعنی ضرب تو گھٹنے پر لگی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ تمھاری آنکھ پھوٹ گئی۔ یہ کہاوت ایسے وقت استعمال ہوتی ہے جب کہا یا کیا تو کچھ جائے اور فریق اس کا مطلب کچھ اور ہی نکال لے جس کی کوئی تُک ہی نہ ہو۔

(۱۱)  ماں  سے پوت، نسل سے گھوڑا، بہت نہیں  تو تھوڑا تھوڑا  :

 بیٹا تھوڑا بہت ضرور اپنی ماں  کی فطرت اور عادت پر جاتا ہے اور اچھی نسل کے گھوڑے میں  کچھ نہ کچھ اچھائی ہوتی ہے۔ یہی اس کہاوت کا مطلب ہے کہ ہر اچھائی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔

( ۱۲ )  مانگی موت بھی نہیں ملتی  :

  وقت پڑے تو مانگی چیز بھی نہیں  ملتی۔

(۱۳)  مارے اور رونے نہ دے  : 

 یعنی ہر طرح سے مجبور کر رکھا ہے کہ ظالم مارتا بھی ہے اور پھر رونے بھی نہیں  دیتا۔

(۴ ۱)  مت کرساس برائی، تیرے بھی آگے جائی    : 

جائی یعنی بیٹی۔یہ عورتوں  کی کہاوت ہے یعنی  تو اپنی ساس کی برائی مت کر کیونکہ تیرے سامنے بھی بیٹی ہے جو کل بیاہی جائے گی اور ساس کے پاس چلی جائے گی۔اس کہاوت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اے ساس! تو اپنی بہو کی برائی مت کر کیونکہ تیرے آگے بھی بیٹی ہے۔اِنسان کو دوسروں  کی برائی سوچ سمجھ کر کرنی چاہئے کیونکہ کل وہ بھی اسی صورت سے دو چار ہو سکتا ہے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain


م۔ کی کہاوتیں

( ۱۵ )  متھرا کا چوہا ہے  : 

متھرا ( ہندوؤں کا متبرک شہر) کے پنڈے اور چوہے اپنے مٹاپے کی وجہ سے مشہور ہیں کہ مفت کا کھا کھا کر مستاتے ہیں۔ اسی رعایت سے یہاں  موٹے آدمی کو متھرا کا چوہا کہا گیا ہے۔ کہاوت میں  تحقیر و تضحیک کا عنصر غالب ہے۔

( ۱۶)  مٹی کا مادھو ہے  :

  یعنی بالکل بے وقوف اور نا سمجھ ہے جیسے مٹی کا  پُتلا ہو۔

( ۱۷ )   مجذوب کی بَڑ  : 

بَڑ یعنی بے تکی باتیں۔ فضول اور بیسود بات مجذوب کی بَڑ کہلاتی ہے۔

( ۱۸)  مچھلی کے پوت کو کون تیرنا سکھائے  :

  جیسے والدین ہوتے ہیں  ویسی ہی اولاد بھی ہوتی ہے۔ اولاد ابتدائی عادات و  اطوار اپنے ماں  باپ سے ہی سیکھتی ہے۔

( ۱۹ )  محبت بکتی تو کوئی امیر آدمی غریب نہ ہوتا    : 

امیر آدمی پیسے سے تو آسودہ ہوتا ہے لیکن عام طور پر محبت اور دوستی کا پیاساہوتا ہے اور دولت یہ کمی پوری نہیں  کر سکتی۔

(۲۰)  محرم کی پیدائش ہے  : 

محرم ماتم کے لئے مشہور ہے۔ کوئی شخص اگر ہر بات پر روتا یا شکایت ہی کرتا رہے تو اس کے بارے میں  یہ کہاوت بولتے ہیں۔

(۲۱)  مدعی سُست، گواہ  چُست  : 

کسی معاملہ میں  اگر اصلی فریق زیادہ مستعدی نہ دکھائے لیکن اُس کے ساتھی بہت آگے آگے ہوں  تو یہ کہاوت بو لی جاتی ہے۔

(۲۲)  مرزا پھویا  : 

یعنی انتہائی نازک مزاج شخص۔



اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain


م۔ کی کہاوتیں

(۲۳)  مرتا کیا نہ کرتا  :

  یعنی مجبور آدمی سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔

( ۲۴)  مردہ بدست زندہ  : 

 لا چار اور بے یار و مددگار آدمی جو بالکل دوسروں  کے بس میں  اس طرح ہو جیسے کوئی مردہ آدمی زندہ لوگوں  کے قابو میں  ہوتا ہے۔

( ۲۵)  مردے پر جیسے سو من مٹی ویسے ہزار من  :

  قبر پر سو من مٹی ڈالیں  یا ہزار من، مرنے والے کے لئے یکساں  ہے۔ یعنی  اگر کوئی کام ہاتھوں  سے نکل جائے  تو اس میں  تھوڑے سے اور بگاڑ سے کوئی فرق نہیں  پڑتا ہے۔

(۲۶ )  مرے کے مال کے سب حق دار  : 

مرنے والے کے مال کے بہت سے حقدار پیدا ہو جاتے ہیں  جب کہ اس کی زندگی میں  بیشتر لوگ اس کو پوچھتے بھی نہیں۔ کہاوت میں  انسانی لالچ اور مفت کے مال کی ہوس کی جانب اشارہ ہے۔

( ۲۷)  مرگ انبوہ  جشنے دارد    :

انبوہ یعنی گروہ  یا مجمع۔ اگر کسی وَبا یا حادثہ میں  کثیر تعداد میں  لوگ مارے جائیں  تو ایک ہنگامہ کی سی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور ایک آدمی کی موت پر جو ماتمی صورت ہوتی ہے وہ نظر نہیں  آتی۔ کہاوت یہی کہہ رہی ہے کہ کثیر تعداد میں   آدمیوں  کی موت جشن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

( ۲۸)  مُردہ جنت میں  جائے یا دوزخ میں  انھیں  حلوے مانڈے سے کام   : 

انسان کی عام خصلت کی جانب اشارہ ہے کہ اسے مرنے والے کے انجام کی فکر نہیں  ہوتی بلکہ وہ صرف میت کے بعد جو کھانے کا اہتمام ہوتا ہے اس کی جانب دیکھتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہ کہاوت دوسرے انسانی حالات پر بھی صادق آتی ہے کہ کسی کے بھلے برے سے دوسروں  کو کوئی سروکار نہیں  ہوتا،وہ  صرف اپنے فائدے کی راہ ڈھونڈتے ہیں۔



اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain




م۔ کی کہاوتیں

(۲۹)  مرضیِ مَولا، از ہمہ اولیٰ  : 

 اللہ کی مرضی دوسرے سب لوگوں  کی مرضی سے افضل ہے۔ موقعِ استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۳۰ )  مشتے نمونہ از خروارے  : 

خروار یعنی بھنڈار۔ مطلب یہ ہے کہ مٹھی بھر چیز بھنڈار میں  سے نمونے کے طور پر نکالی گئی ہے۔

( ۳۱ )  مشک آنست کہ خود ببوید نہ عطار بگوید  :

  یعنی اصل مشک وہ ہوتا ہے جو خود خوشبو دے،نہ کہ وہ جس کی تعریف عطار کرے۔  با صلاحیت آدمی کو سفارش اور دوسروں  کی پشت پناہی کی ضرورت نہیں  ہوتی کیونکہ وہ اپنے ہی بل پر اپنا جائز مقام بنا لیتا ہے۔

(۳۲)  مصیبت کبھی تنہا نہیں  آتی  :

   انسان پر جب مصیبت آتی ہے تو آگے پیچھے کئی ساتھ ساتھ آتی ہیں۔ آدمی سوچتا ہے کہ بس یہ آخری مصیبت ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں  ہے۔ اسی صورت حال کا کسی شاعر نے کیا خوب نقشہ کھینچا ہے:

ایک مشکل سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا          اور  یہ  پڑ گئی  کیسی  مرے  اَللہ   نئی!

( ۳۳)  مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے  :   
                                                        
کوئی چھوٹی چیز بھی مفت ہاتھ آ جائے تو غنیمت جاننا چاہئے۔کہاوت کا مطلب اور محل استعمال ظاہر ہے۔ یہ مرزا غالبؔ کے ایک شعر کادوسرا مصرع ہے:

ہم نے مانا کہ کچھ نہیں  غالبؔ          مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

( ۳۴ )  مفت کی شراب قاضی کو بھی حلال  : 

مفت کے مال میں  کسی کو اعتراض نہیں  ہوتا

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain

 
م۔ کی کہاوتیں

( ۳۵ )  مکر چکر کی کہانی، آدھا تیل آدھا پانی  :

  مکر چکر یعنی گول مول، دھوکہ فریب۔ آدھا تیل آدھا پانی اسی فریب کاری کی جانب اشارہ ہے کہ بات سیدھی اور سچی نہیں  کی جا رہی ہے۔

(۳۶ )  مگر وہ بات کہاں  مولوی مدن کی سی  :

  یعنی چیز اچھی ہے لیکن جو بات اس میں  ہونی چاہئے وہ نہیں  ہے۔مولوی مدّنؔ  نامی ایک بزرگ دربار اودھ میں بہت رسوخ رکھتے تھے اور اپنی حق گوئی اور انصاف پسندی کے لئے مشہور تھے۔  یہ فقرہ اکبرؔ  الہ آبادی کے ایک شعر کا دوسرا  مصرع ہے اور اپنے مزاح میں  مولوی صاحب کے متعلق غلط تاثر دیتا ہے کہ ان کی داڑھی بہت شاندار تھی  جب کہ اصل موضوع سخن ان کی بیباکی اور صاف گوئی ہے۔شعر یوں  ہے   ؎

اگر چہ شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی   سی
مگر وہ  بات کہاں  مولوی  مدن  کی  سی

(۳۷)  مگر مچھ کے آنسو  : 

جھوٹ موٹ یا دکھاوے کا رونا دھونا۔ معلوم نہیں  اس کو مگر مچھ کے آنسو کیوں  کہتے ہیں۔

 (۳۸ ) ملا کی دوڑ مسجد تک  : 

جس شخص کی جیسی عادت پڑ جائے وہ ویسا ہی کرتا رہتا ہے۔اس کی مثال ملا کی ہے جس کی دُنیا گھر اور مسجد تک محدود ہے چنانچہ اس کی دَوڑ انھیں  دو جگہوں کے درمیان رہتی ہے۔

( ۳۹ )  مُلا نہیں  ہو گا تو کیا اذان نہیں  ہو گی  :

  یعنی اگر مسجد کے ملا صاحب خفا ہو کر چلے جائیں تو کیا اُس مسجد میں اذان ہی نہیں  ہو گی؟ مطلب یہ ہے کہ کام کیسا ہی کیوں  نہ ہو کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے رُک نہیں  سکتا۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain



م۔ کی کہاوتیں

( ۴۰ )  ملک خدا تنگ نیست، پائے گدا لنگ نیست  : 

یعنی خدا کا ملک تنگ نہیں  ہے اور نہ ہی اِِس فقیر کے پیر میں  لنگ ہے۔گویا  میں  جہاں  چاہے اِس دُنیا میں  جاسکتا ہوں۔ کسی قسم کی کوئی رُکاوٹ میری راہ میں  نہیں  ہے۔

( ۴۱)  من بھر کا سر ہلا دیا، ٹکے بھر کی زبان نہیں  ہلائی   : 

 کسی بات کا جواب دینے کے لئے کوئی شخص صرف سر ہلائے لیکن زبان سے کچھ نہ کہے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

(۴۲)  منگائی مسّی لے آیا مٹّی  :

  یعنی اتنا احمق کہ ذرا سی بات بھی نہیں  سمجھ سکتا۔ اُس سے مسّی منگائی جائے تو وہ مٹّی اٹھا لاتا ہے۔

(۴۳)  من چاہے منڈیا ہلائے   :

  مُنڈیا یعنی سر۔  یعنی دل تو چاہ رہا ہے لیکن دُنیا کو دکھانے کے لئے سر کے اشارے سے نہیں  کہہ رہا ہے۔ کوئی شخص بظاہر کسی چیز کے لینے سے انکار کرے لیکن در اصل وہ اس کا خواہش مند ہو تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

( ۴۴)  منھ سے نکلی کوٹھوں  چڑھی  : 

یعنی بات اِدھر منھ سے نکلی اور اُدھر دنیا میں  مشہور ہوئی جیسے کوٹھے سے اس کا اعلان کیا جا رہا ہو۔ اسی مطلب کو دو اَور کہاوتیں  یوں  ادا کرتی ہیں  کہ’’ منھ سے نکلی ہوئی پرائی بات‘‘ اور ’’ نکلی حلق سے پہنچی خلق تک‘‘۔

(۴۵)  منھ سے بولے نہ سر سے کھیلے  : 

یعنی چپ سادھ لی ہے اور کسی بات کا جواب نہ تو زبان سے دیتا ہے اور نہ ہی سر کے اشارے سے کام لیتا ہے۔

( ۴۶)  منھ میں  دانت نہ پیٹ میں  آنت  : 

 انتہائی ضعیف اور عمر رسیدہ شخص کے بارے میں  کہا جاتا ہے کہ نہ منھ میں  دانت ہے اور نہ پیٹ میں آنت یعنی اتنا بوڑھا ہے کہ نہ تو کھانا ٹھیک سے چبا پاتا ہے اور نہ ہی اس کی آنتیں کھانا ہضم کر سکتی ہیں۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain


م۔ کی کہاوتیں

( ۴۷ ) منھ پر ٹھیکری رکھ لی ہے  : 

 ٹھیکری یعنی ٹوٹے گھڑے کا ٹکڑا۔ منھ پر ٹھیکری رکھ لی جائے تو کہی ہوئی بات دوسروں  کوسنائی نہیں  دیتی۔ گویا منھ پر ٹھیکر ی رکھ لینا چپ سادھ لینے کااستعارہ ہے۔

(۴۸)  منھ میں  گھُنگھنیاں  ڈالے بیٹھے رہنا  : 

گھنگھنیاں  ایک طرح کی دانہ دار مٹھائی ہوتی تھی جو منھ میں  دیر تک رہتی تھی اور اس کی وجہ سے کھانے والا بات کم ہی کرتا تھا۔ اب تو نظر بھی نہیں  آتیں۔ اس محاورہ کا استعمال ایسے شخص پر ہوتا ہے جو جانتے بوجھتے انجان بن کر خاموشی اختیار کر لیتا ہے اور کسی بات کا جواب نہیں  دیتا۔ اس کے بارے میں  کہتے ہیں کہ ’’وہ تو گھنگھنیاں  منھ میں  ڈالے بیٹھا ہے۔‘‘

( ۴۹ )  من ترا حاجی بگویم،تو مرا ملا بگو  : 

 یعنی میں  تجھے حاجی کہہ کر پکارتا ہوں ، تو مجھے مُلّا کہہ کر بُلا۔ یہ باہمی ستائش کی سانٹھ گانٹھ (سازش) ہے تاکہ دُنیا کو مصنوعی شرافت اور زہد کی ٹٹی کی آڑ سے دھوکا دیا جاسکے۔

( ۵۰ )  من آنم کہ من دانم  : 

 یعنی میں  جیساکچھ ہوں  خود ہی جانتا ہوں۔ یہ انکساری اور عجز کی کہاوت ہے۔

( ۵۱)  من خوب می شناسم پیران پارسا را    :

  یعنی میں  اُن پیروں  کو خوب جانتا ہوں  جو پارسا بنتے ہیں۔ کوئی شخص اپنے آپ کوبڑا  نیک و پارسا ظاہر کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔اس میں  تضحیک و طعنہ کا عنصر نمایاں  ہے۔

(۵۲)  منھ میں  رام بغل میں  چھُری  : 

گر کوئی شخص منھ پر تو چکنی چپڑی باتیں  کرے لیکن دل کا بدنیت اور بباطن نقصان کے درپے ہو تو یہ کہاوت کہتے ہیں  یعنی منھ سے تو رام کا نام جپ رہا ہے لیکن بغل میں  چھری چھپی ہے کہ کب موقع ملے اور کب سینہ میں  اتار دے۔



اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain


م۔ کی کہاوتیں

(۵۳)  منھ میں  لگام نہیں  ہے  : 

یعنی زبان پر اختیار یا قابو نہیں  ہے، جا و بیجا بولتے ہیں۔

(۵۴)  منھ چومتے ہی گال کاٹ لیا  :

  یعنی ذرا سی رعایت دیکھی تو زیادتی پر اُتر آئے۔ یہ چھچھورے پن کی نشانی ہے۔

( ۵۵)  منھ بھی اپنا، زبان بھی اپنی  :

  انسان اپنے کہے کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کہاوت میں  تنبیہ کی گئی ہے کہ آدمی کو اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہئے اور بے سوچے سمجھے کچھ کہنا نہیں  چاہئے۔

( ۵۶ )  منھ کا میٹھا، پیٹ کا کھوٹا  : 

یہ کہاوت ایسے شخص کے لئے کہی جاتی ہے جو بظاہر تو سیدھا سادا معلوم ہو لیکن جس کے دل میں بغض اور دشمنی بھری ہوئی ہو۔

( ۷ ۵)  موئے پر سو دُرّے  :

  مُوا یعنی مُردہ۔دُرّا  یعنی کوڑا۔کسی کا بڑا نقصان ہو اور اس پر اس کی بے عزتی بھی کی جائے تو گویا موئے پر سو دُرّے لگائے گئے۔ اسی پر محل استعمال قیاس کیا جا سکتا ہے۔

( ۵۸)  مو کو نہ  تو کو چولھے میں  جھونکو  :

  یہ عورتوں  کی زبان ہے۔ دو عورتوں  میں  کسی چیز پر لڑائی ہو رہی ہو اور مقدمہ کسی تیسری کے سامنے پیش کیا جائے تو فیصلہ یہ ہو سکتا ہے کہ’’ نہ یہ چیز تیری ہے اور نہ میری، چولھے میں جھونکو اس کو، جھگڑا کیوں  ہو رہا ہے ذرا سی بات پر؟‘‘

( ۵۹)  موم کی ناک ہے  : 

 یعنی بہت کمزور ہے، جس طرح چاہے موڑ لو۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain



م۔ کی کہاوتیں

(۶۰)  مُول سے بیاج پیارا ہوتا ہے  :

  بیاج(سود) پر روپے قرض دینے والے کو مول یعنی اصل رقم کی واپسی کی فکر بالکل نہیں  ہوتی بلکہ وہ بیاج وصول کرنے کا خواہشمند رہتا ہے تاکہ قرض کبھی ادا نہ ہو اور سود اِسی طرح ملتا رہے۔

( ۶۱)  موئی بھیڑ خواجہ خضر کی نیاز  :

  موئی یعنی مری ہوئی۔ لوگ خیرات یا نیاز میں  کم قیمت چیزیں  استعمال کرتے ہیں  تاکہ خرچ کم ہو لیکن نام بہر حال ہو جائے۔ خواجہ خضر کی نیاز سے مراد نیک کام ہے۔ مری ہوئی بھیڑ حرام ہوتی ہے لیکن کھانے والوں  کو تو اس کا علم نہیں  ہوتا کہ وہ مری تھی یا ذبیحہ۔ گویا کہاوت اِنسان کی خود غرضی کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

( ۶۲ )  موری کی اینٹ چوبارہ چڑھی  :

  موری یعنی نالی۔ چوبارہ یعنی بلند مقام۔ اگر کوئی نا اہل اور کم سواد آدمی اونچے مقام پر فائز ہو جائے تو گویا نالی کی اینٹ کو چوبارہ کی چنائی میں  جگہ دی گئی ہے۔ یہ کہاوت ایسے ہی موقع پر کہی جاتی ہے۔

 (۶۳)  مونچھ نیچی ہو جانا  : 

 اونچی مونچھ عزت و افتخار کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔مونچھ نیچی ہو جانا یعنی بے عزتی ہو جانا۔ اس سلسلہ میں  ایک کہانی مشہور ہے۔ ایک خان صاحب کی بڑی شاندار تلوار مارکہ مونچھیں  تھیں  جن کو وہ ہر وقت تاؤ دیتے رہتے تھے۔ ایک دن ان کو  بازار میں ایک بنیا نظر آیا جس کی مونچھیں  بھی اُنھیں  کی طرح تاؤ دار تھیں۔ بھلا ایک میان میں  دو تلواریں  کس طرح رہ سکتی تھیں ؟ خان صاحب نے غصہ میں  آکراُس بنئے سے کہا کہ وہ اپنی مونچھ نیچی کر لے لیکن بنئے نے بلا قیمت ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ آخر خان صاحب نے اس کو منھ مانگے پیسے بطور رشوت دئے اور بنئے نے اپنی ایک طرف کی مونچھ نیچی کر لی۔ خان صاحب نے جاتے جاتے مُڑ کر دیکھا کہ اُس کی دوسری جانب کی مونچھ پہلے کی طرح ہی اینٹھی ہوئی تھی تو چراغ پا ہو گئے۔ بنئے نے ہاتھ جو ڑ کر عرض کی کہ’’ سرکار ! ہمارا معاہدہ تو مونچھ نیچی کرنے کا تھا۔ اس میں  دونوں  طرف کی مونچھوں  کی شرط تو نہیں  تھی۔ اس کو نیچا کرنے کے لئے الگ سے کچھ عنایت کیجئے ‘‘۔ خان صاحب نے اُس کو مزید پیسے دئے اور بنئے نے دوسری مونچھ بھی نیچی کر لی۔ خان صاحب اب مطمئن ہو کر مونچھوں  پر تاؤ دیتے ہوئے اپنی راہ چل دئے۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs meem ki kahawtain



م۔ کی کہاوتیں

( ۶۴ )  موئے پر سو دُرّے  :

  مُوا یعنی مر اہوا۔ دُرّہ یعنی کوڑا۔ مرے ہوئے آدمی پر کوڑے لگانے سے کچھ حاصل نہیں  ہوتا۔یہ شقاوت اور ظلم کی نشانی ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے مظلوم پر مزید ظلم کرنا۔

( ۶۵)  میری جوتی سے  : 

یہ عورتوں  کی زبان ہے، یعنی میری بلا سے، یہ اتنی فضول بات ہے کہ اس کی فکر میری جوتی کو بھی نہیں  ہے۔

( ۶۶)  میاں  کی جوتی میاں  کے سر  : 

ا گر کوئی شخص دوسروں  کی بے عزتی کرے اور وہ لوٹ کراسی کے منھ پر مار دی جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ کہاوت میں  اہانت اور تحقیر کا پہلو غالب ہے۔

( ۶۷)  میری جوتی کی نوک پر  : 

یعنی میری بلا سے، مجھے فکر نہیں۔ یہ کہاوت بھی عورتوں کی زبان میں  ہے۔

( ۶۸ )  مینڈکی کو بھی زکام ہوا    :

  مینڈکی پانی میں  رہتی ہے اور محاور تاً بھی اس کو زکام لاحق نہیں  ہو سکتا۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اپنے ساتھ نا ممکن اور انہونی حادثہ پیش آنے کا دعویٰ کرے تو کہتے ہیں  کہ مینڈکی کو بھی زکام ہو گیا ہے۔

( ۶۹)  میٹھا میٹھا ہپ ہپ،کڑوا کڑوا تھو تھو  :

  ہپ ہپ  یعنی شوق سے کھانا اور تھو تھو یعنی ناپسند کر کے تھوک دینا۔ کوئی شخص آسان کام پر تو راضی ہو جائے لیکن محنت سے بھاگے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

 ( ۷۰)  میراث پدر خواہی، علم پدر آموز  : 

یعنی  اگر تو اپنے باپ کی میراث کا خواہاں  ہے تو پہلے اس کا سا علم حاصل کر۔ کہاوت کے مخاطب وہ لوگ ہیں  جو بزرگوں  کے مقام اور حیثیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں  حالانکہ خود ناکارہ اور نا اہل ہوتے ہیں۔

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)