Showing posts with label Saadat Hasan Manto. Show all posts
Showing posts with label Saadat Hasan Manto. Show all posts

Monday, 19 June 2017

"Jee Aaya Sahib" A Famous Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto

 جی آیا صاحب
سعادت حسن منٹو
باورچی خانے کی دھندلی فضا میں بجلی کا ایک اندھا قمقمہ چراغِ گور کی مانند اپنی سرخ روشنی پھیلا رہا تھا۔ دھوئیں سے اٹی ہوئی دیواریں ہیبتناک دیووں کی طرح انگڑائیاں لیتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ چبوترے پر بنی ہوئی انگیٹھیوں میں آگ کی آخری چنگاریاں ابھر ابھر کر اپنی موت کا ماتم کر رہی تھیں۔ ایک برقی چولھے پر رکھی ہوئی کیتلی کا پانی نہ معلوم کس چیز پر خاموش ہنسی ہنس رہا تھا۔ دور کونے میں، پانی کے نل کے پاس ایک چھوٹی عمر کا لڑکا بیٹھا برتن صاف کرنے میں مشغول تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انسپکٹر صاحب کا نوکر تھا۔
برتن صاف کرتے وقت یہ لڑکا کچھ گنگنا رہا تھا، یہ الفاظ ایسے تھے جو اسکی زباں سے بغیر کوشش کے نکل رہے تھے۔
"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔"
ابھی برتنوں کو راکھ سے صاف کرنے کے بعد انہیں پانی سے دھو کر قرینے سے رکھنا بھی تھا، اور یہ کام جلدی سے نہ ہو سکتا تھا۔ لڑکے کی آنکھیں نیند سے بند ہوئی جا رہی تھیں۔ سر سخت بھاری ہو رہا تھا مگر کام کئے بغیر آرام، یہ کیونکر ممکن تھا۔
برقی چولھا بدستور ایک شور کے ساتھ نیلے شعلوں کو اپنے حلق سے اگل رہا تھا۔ کیتلی کا پانی اسی انداز میں کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔
دفعتاً لڑکے نے نیند کے ناقابلِ مغلوب حملے کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جسم کو ایک جنبش دی اور "جی آیا صاحب، جی آیا صاحب" گنگناتا ہوا پھر کام میں مشغول ہو گیا۔
دیوار گیروں پر چنے ہوئے برتن اس لڑکے کو ایک غیر مختتم ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ پانی کے نل سے روزانہ ایک ہی واقعہ دیکھ قطروں کی صورت میں آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ بجلی کا قمقمہ حیرت سے اس لڑکے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کمرے کی فضا سسکیاں بھرتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔
"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم"
"جی آیا صاحب" لڑکا جو انہی الفاظ کی گردان کر رہا تھا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔
انسپکٹر صاحب نے کمبل سے منہ نکالا، اور لڑکے پر خفا ہوتے ہوئے کہا۔ "بیوقوف کے بچے، آج پھر یہاں صراحی اور گلاس رکھنا بھول گیا ہے۔"
"ابھی لایا صاحب ۔۔۔۔۔۔ ابھی لایا صاحب۔"
کمرے میں صراحی اور گلاس رکھنے کے بعد وہ ابھی برتن صاف کرنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ پھر اسے کمرے سے آواز آئی۔
"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم"
"جی آیا صاحب" قاسم بھاگتا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔
"بمبئی کا پانی کس قدر خراب ہے۔ جاؤ پارسی کے ہوٹل سے سوڈا لیکر آؤ۔ بس بھاگے ہوئے جاؤ، سخت پیاس لگ رہی ہے۔"
قاسم بھاگا ہوا گیا اور پارسی کے ہوٹل سے جو گھر سے قریباً نصف میل کے فاصلے پر واقع تھا، سوڈے کی بوتل لے آیا اور اپنے آقا کو گلاس میں ڈال کر دی۔
"اب تم جاؤ، مگر اس وقت تک کیا کر رہے ہو، برتن صاف نہیں ہوئے کیا؟"
"ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔"
"اور ہاں، برتن صاف کرنے کے بعد میرے سیاہ بوٹ کو پالش کر دینا مگر دیکھنا احتیاط رہے، چمڑے پر کوئی خراش نہ آئے، ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔"
قاسم کو "ورنہ" کے بعد کا جملہ بخوبی معلوم تھا۔ "بہت اچھا صاحب" کہتے ہوئے وہ باورچی خانہ میں واپس چلا گیا، اور برتن صاف کرنا شروع کر دیے۔
اب نیند اسکی آنکھوں میں سمٹی چلی آ رہی تھی۔ پلکیں آپس میں ملی جا رہی تھیں، سر میں سیسہ اتر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ صاحب کے بوٹ ابھی پالش کرنے ہیں۔ قاسم نے اپنے سر کو زور سے جنبش دی، اور وہی راگ الاپنا شروع کر دیا۔
"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوٹ ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔"
مگر نیند کا طوفان ہزار بند باندھنے پر بھی نہ رکا۔ اب اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند ضرور غلبہ پا کر رہے گی۔ لیکن ابھی برتنوں کو دھو کر انہیں اپنی اپنی جگہ پر رکھنا باقی تھا۔ اس وقت ایک عجیب خیال اسکے دماغ میں آیا۔ "بھاڑ میں جائیں برتن، اور چولھے میں جائیں بوٹ۔۔۔۔کیوں نہ تھوڑی دیر اسی جگہ پر سو جاؤں، اور پھر چند لمحات آرام کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
اس خیال کو باغیانہ تصور کرتے ہوئے قاسم نے ترک کر دیا اور برتنوں پر جلدی جلدی راکھ ملنا شروع کر دی۔
تھوڑی دیر کے بعد جب نیند پھر غالب آئی تو اسکے جی میں آیا کہ ابلتا ہوا پانی اپنے سر پر انڈیل لے اور اسطرح اس غیر مرئی طاقت سے جو اسکے کام میں حارج ہو رہی تھی، نجات پائے، مگر اتنا حوصلہ نہ پڑا۔
بصد مشکل منہ پر پانی کے چھینٹے مار مار کر اس نے برتنوں کو بالآخر صاف کر ہی لیا۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ آرام سے سو سکتا تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیند، جس کے لیے اسکی آنکھیں اور دماغ شدت سے انتظار کر رہے تھے، اب بالکل نزدیک تھی۔
باورچی خانے کی روشنی گل کرنے کے بعد قاسم نے باہر برآمدے میں اپنا بستر بچھایا اور لیٹ گیا۔ اور اس سے پہلے کہ نیند اسے اپنے آرام دہ بازوؤں میں تھام لے، اسکے کان "بوٹ، بوٹ" کی آوازوں سے گونج اٹھے۔
"بہت اچھا صاحب، ابھی پالش کرتا ہوں" بڑبڑاتا ہوا قاسم بستر سے اٹھا۔ جیسے اسکے آقا نے ابھی بوٹ روغن کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔
ابھی قاسم بوٹ کا ایک پیر بھی اچھی طرح پالش کرنے نہ پایا تھا کہ نیند کے غلبے نے اسے وہیں پر سلا دیا۔
سورج کی خونیں کرنیں اس مکان کے شیشوں سے نمودار ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم کی کتابِ حیات میں ایک اور پُر از مشقت باب کا اضافہ ہو گیا۔
صبح جب انسپکٹر صاحب نے اپنا نوکر باہر برآمدے میں بوٹوں کے پاس سویا ہوا دیکھا تو اسے ٹھوکر مار کر جگاتے ہوئے کہا۔ "یہ سور کی طرح یہاں بیہوش پڑا ہے اور مجھے خیال تھا کہ اس نے بوٹ صاف کر لئے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔نمک حرام۔۔۔۔۔۔۔ابے قاسم۔"
"جی آیا صاحب۔"
قاسم کے منہ سے اتنا ہی نکلا تھا کہ اس نے اپنے ہاتھ میں بوٹ صاف کرنے کا برش دیکھا۔ فوراً ہی اس معاملے کو سمجھتے ہوئے اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
"میں سو گیا تھا صاحب، مگر۔۔۔۔۔مگر بوٹ ابھی پالش ہو جاتے ہیں صاحب۔۔۔۔۔۔۔"
یہ کہتے ہوئے اس نے جلدی جلدی بوٹ کو برش سے رگڑنا شروع کر دیا۔
بوٹ پالش کرنے کے بعد اس نے اپنا بستر تہہ کیا اور اسے اوپر کے کمرے میں رکھنے چلا گیا۔
"قاسم"
"جی آیا صاحب"
قاسم بھاگا ہوا نیچے آیا اور اپنے آقا کے پاس کھڑا ہو گیا۔
"دیکھو، آج ہمارے یہاں مہمان آئینگے۔ اس لئے باورچی خانے کے تمام برتن اچھی طرح صاف کر رکھنا۔۔۔۔۔۔فرش بھی دھلا ہوا ہونا چاہیئے، اسکے علاوہ تمھیں ملاقاتی کمرے کی تصویروں، میزوں اور کرسیوں کو بھی صاف کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔سمجھے، مگر خیال رہے میری میز پر ایک تیز دھار چاقو پڑا ہوا ہے، اسے مت چھیڑنا۔ میں اب دفتر جا رہا ہوں مگر یہ کام دو گھنٹے سے پہلے ہو جانا چاہیئے۔"
"بہت بہتر صاحب"
انسپکٹر صاحب دفتر چلے گئے۔ قاسم باورچی خانہ صاف کرنے میں مشغول ہو گیا۔
ڈیڑھ گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد اس نے باورچی خانے کے تمام کام کو ختم کر دیا۔ اور ہاتھ پاؤں صاف کرنے کے بعد جھاڑن لیکر ملاقاتی کمرے میں چلا گیا۔
وہ ابھی کرسیوں کو جھاڑن سے صاف کر رہا تھا کہ اسکے تھکے ہوئے دماغ میں ایک تصویر سی کھچ گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ اسکے گرد و پیش برتن ہی برتن پڑے ہیں اور پاس ہی راکھ کا ایک ڈھیر لگ رہا ہے۔ ہوا زوروں پر چل رہی ہے جس سے وہ راکھ اڑ اڑ کر فضا کو خاکستری بنا رہی ہے۔ یکا یک اس ظلمت میں ایک سرخ آفتاب نمودار ہوا جس کی کرنیں خون آشام برچھیوں کی طرح ہر برتن کے سینے میں گھس گئیں۔ زمین خون سے شرابور ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔فضا خوشی کے قہقہوں سے معمور ہو گئی۔
قاسم یہ منظر دیکھ کر گھبرا گیا اور اس وحشت ناک خواب سے بیدار ہو کر "جی آیا صاحب، جی آیا صاحب" کہتا ہوا پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔
تھوڑی دیر کے بعد اسکی آنکھوں کے سامنے ایک اور منظر رقص کرنے لگا۔ اب اسکے سامنے چھوٹے چھوٹے لڑکے آپس میں کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ دفعتاً آندھی چلنا شروع ہوئی، جسکے ساتھ ہی ایک بدنما اور بھیانک دیو نمودار ہوا، جو ان سب لڑکوں کو نگل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم نے خیال کیا کہ وہ دیو اسکے آقا کے ہم شکل تھا۔ گو قد و قامت کے لحاظ سے وہ اس سے کہیں بڑا تھا۔ اب اس دیو نے زور زور سے ڈکارنا شروع کیا۔۔۔۔۔قاسم سر سے پیر تک لرز گیا۔
ابھی تمام کمرہ صاف کرنا تھا اور وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ چنانچہ قاسم نے جلدی جلدی کرسیوں پر جھاڑن مارنا شروع کر دیا۔ ابھی وہ کرسیوں کا کام ختم کرنے کے بعد میز صاف کرنے جا رہا تھا کہ اسے یکا یک خیال آیا۔ "آج مہمان آ رہے ہیں۔ خدا معلوم کتنے برتن صاف کرنے پڑیں گے اور یہ نیند کمبخت ستا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
یہ سوچتے وقت وہ میز پر رکھی ہوئی چیزوں کو پونچھ رہا تھا کہ اچانک اسے قلمدان کے پاس ایک کھلا ہوا چاقو نظر آیا۔۔۔۔۔وہی چاقو جسکے متعلق اسکے آقا نے کہا تھا کہ بہت تیز ہے۔
چاقو کا دیکھنا تھا کہ اسکی زبان پر یہ لفظ خود بخود جاری ہو گئے۔ "چاقو۔۔۔۔۔۔تیز دھار چاقو۔۔۔۔۔۔یہی تمھاری مصیبت کو ختم کر سکتا ہے۔"
کچھ اور سوچے بغیر قاسم نے تیز دھار چاقو اٹھا اپنی انگلی پر پھیر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ شام کے وقت برتن صاف کرنے کی زحمت سے بہت دور تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔پیاری، پیاری نیند اب اسے بآسانی نصیب ہو سکتی تھی۔
انگلی سے خون کی سرخ دھار بہہ رہی تھی۔۔۔۔۔سامنے والی دوات کی سرخ روشنائی سے کہیں چمکیلی۔ قاسم اس خون کی دھار کو مسرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور منہ میں یہ گنگنا رہا تھا۔ "نیند، نیند۔۔۔۔۔۔پیاری نیند۔"
تھوڑی دیر کے بعد وہ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا جو زنان خانے میں بیٹھی سلائی کر رہی تھی۔ اور اپنی زخمی انگلی دکھا کر کہنے لگا۔ "دیکھئے بی بی جی۔۔۔۔۔۔"
"ارے قاسم یہ تو نے کیا کیا؟۔۔۔۔۔۔۔کمبخت صاحب کے چاقو کو چھیڑا ہو گا تو نے۔"
"بی بی جی۔۔۔۔۔بس میز صاف کر رہا تھا اور اس نے کاٹ کھایا۔" قاسم ہنس پڑا۔
"ابے سور اب ہنستا ہے، ادھر آ، میں اس پر کپڑا باندھ دوں۔ مگر اب بتا تو سہی، آج یہ برتن تیرا باپ صاف کرے گا؟"
قاسم اپنی فتح پر زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔
انگلی پر پٹی بندھوا کر قاسم پھر کمرے میں آ گیا اور میز پر پڑے ہوئے خون کے دھبے صاف کرنے کے بعد خوشی خوشی اپنا کام ختم کر دیا۔
"اب اس نمک حرام باورچی کو برتن صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔۔ضرور صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔کیوں میاں مٹھو۔" قاسم نے انتہائی مسرت میں کھڑکی میں لٹکے ہوئے طوطے سے دریافت کیا۔
شام کے وقت مہمان آئے اور چلے گئے۔ باورچی خانے میں صاف کرنے والے برتنوں کا ایک طومار سا لگ گیا۔ انسپکٹر صاحب قاسم کی زخمی انگلی دیکھ کر بہت برسے۔ اور جی کھول کر گالیاں دیں، مگر اسے مجبور نہ کر سکے، شاید اس لیئے کہ ایک بار انکی اپنی انگلی میں قلم تراش کی نوک چبھ جانے سے بہت درد محسوس ہوا تھا۔
آقا کی خفگی آنے والی مسرت نے بھلا دی اور قاسم کودتا پھاندتا ہوا اپنے بستر میں جا لیٹا۔ تین چار روز تک وہ برتن صاف کرنے کی زحمت سے بچا رہا، مگر اسکے بعد انگلی کا زخم بھر آیا۔۔۔۔۔۔اب پھر وہی مصیبت نمودار ہو گئی۔
"قاسم، صاحب کی جرابیں اور قمیص دھو ڈالو۔"
"بہت اچھا بی بی جی۔"
"قاسم اس کمرے کا فرش کتنا بدنما ہو رہا ہے۔ پانی لا کر ابھی صاف کرو، دیکھنا کوئی داغ دھبہ باقی نہ رہے۔"
"بہت اچھا صاحب"
"قاسم شیشے کے گلاس کتنے چکنے ہو رہے ہیں۔ انہیں نمک سے صاف کر دو۔"
"جی اچھا صاحب"
"قاسم طوطے کا پنجرہ کس قدر غلیظ ہو رہا ہے، اسے صاف کیوں نہیں کرتے۔"
"ابھی کرتا ہوں بی بی جی"
"قاسم ابھی خاکروب آتا ہے، تم پانی ڈالتے جانا، وہ سیڑھیوں کو دھو ڈالے گا۔"
"بہت اچھا صاحب"
"قاسم ذرا بھاگ کر ایک آنے کا دہی تو لے آنا۔"
"ابھی چلا بی بی جی۔"
پانچ چھ روز اسی قسم کے احکام سننے میں گزر گئے۔ قاسم کام کی زیادتی اور آرام کے قحط سے تنگ آگیا۔ ہر روز اسے نصف شب تک کام کرنا پڑتا اور پھر علی الصباح چار بجے کے قریب بیدار ہو کر ناشتے کے لیے چائے تیار کرنی پڑتی۔ یہ کام قاسم کی عمر کے لڑکے کے لیے بہت زیادہ تھا۔
ایک روز انسپکٹر صاحب کی میز صاف کرتے وقت اسکے ہاتھ خود بخود چاقو کی طرف بڑھے، اور ایک لمحے کے بعد اسکی انگلی سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔انسپکٹر صاحب اور انکی بیوی قاسم کی یہ حرکت دیکھ کر بہت خفا ہوئے۔ چنانچہ سزا کی صورت میں اسے شام کا کھانا نہ دیا گیا، مگر وہ اپنی ایجاد کردہ ترکیب کی خوشی میں مگن تھا۔۔۔۔۔۔۔ایک وقت روٹی نہ ملی۔ انگلی پر معمولی سا زخم آگیا مگر برتنوں کا انبار صاف کرنے سے نجات مل گئی۔۔۔۔۔۔یہ سودا کچھ برا نہ تھا۔
چند دنوں کے بعد اسکی انگلی کا زخم ٹھیک ہو گیا، اب پھر کام کی وہی بھر مار شروع تھی۔ پندرہ بیس روز گدھوں کی سی مشقت میں گزر گئے۔ اس عرصے میں قاسم نے بارہا ارادہ کیا کہ چاقو سے پھر اپنی انگلی زخمی کر لے۔ مگر اب میز پر سے وہ چاقو اٹھا لیا گیا اور باورچی خانے والی چھری کند تھی۔
ایک روز باورچی بیمار پڑ گیا اب اسے ہر وقت باورچی خانے میں موجود رہنا پڑتا، کبھی مرچیں پیستا، کبھی آٹا گوندھتا، کبھی کوئلوں کو جلا دیتا۔ غرض صبح سے لیکر آدھی رات تک اسکے کانوں میں "ابے قاسم یہ کر، ابے قاسم وہ کر" کی صدا گونجتی رہتی۔
باورچی دو روز تک نہ آیا۔۔۔۔۔۔قاسم کی ننھی جان اور ہمت جواب دے گئی، مگر سوائے کام کے اور چارہ ہی کیا تھا۔
ایک روز اسکے آقا نے اسے الماری صاف کرنے کو کہا۔ جس میں ادویات کی شیشیاں اور مختلف چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔ الماری صاف کرتے وقت اسے ڈاڑھی مونڈنے کا ایک بلیڈ نظر آیا۔ بلیڈ کو پکڑتے ہی اس نے اپنی انگلی پر پھیر لیا۔ دھار تھی بہت تیز اور باریک، انگلی میں دور تک چلی گئی، جس سے بہت بڑا زخم بن گیا۔
قاسم نے بہت کوشش کی کہ خون نکلنا بند ہو جائے مگر زخم کا منہ بڑا تھا، وہ نہ تھما۔۔۔۔۔۔۔سیروں خون پانی کی طرح بہہ گیا۔ یہ دیکھ کر قاسم کا رنگ کاغذ کی مانند سپید ہو گیا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا۔
"بی بی جی میری انگلی میں صاحب کا استرا لگ گیا ہے۔"
جب انسپکٹر صاحب کی بیوی نے قاسم کی انگلی کو تیسری مرتبہ زخمی دیکھا، فوراً معاملے کو سمجھ گئی۔ چپ چاپ اٹھی اور کپڑا نکال کر اسکی انگلی پر باندھ دیا اور کہا۔ "قاسم، اب تم ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتے۔"
"وہ کیوں بی بی جی"
"یہ صاحب سے دریافت کرنا"
صاحب کا نام سنتے ہی قاسم کا رنگ اور بھی سپید ہو گیا۔
چار بجے کے قریب انسپکٹر صاحب دفتر سے گھر آئے اور اپنی بیوی سے قاسم کی نئی حرکت سن کر اسے فوراً اپنے پاس بلایا۔
"کیوں میاں، یہ انگلی کو ہر روز زخمی کرنے کے کیا معنی ہیں؟"
قاسم خاموش کھڑا رہا۔
"تم نوکر یہ سمجھتے ہو کہ ہم لوگ اندھے ہیں اور ہمیں بار بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اپنا بستر بوریا دبا کر ناک کی سیدھ میں یہاں سے بھاگ جاؤ، ہمیں تمھارے جیسے نوکروں کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔سمجھے۔"
"مگر۔۔۔۔۔۔۔مگر صاحب"
"صاحب کا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگ جا یہاں سے، تیری بقایا تنخواہ کا ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔"
قاسم روتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔ طوطے کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ طوطے نے بھی خاموشی میں اس سے کچھ کہا اور اپنا بستر لیکر وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ مگر دفعتاً کچھ خیال آیا اور بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا اور درد انگیز آواز میں اتنا کہہ کر "سلام بی بی جی۔۔۔۔۔۔میں ہمیشہ کے لیے آپ سے رخصت ہو رہا ہوں" وہاں سے رخصت ہو گیا۔
خیراتی ہسپتال میں ایک نوخیز لڑکا درد کی شدت سے لوہے کے پلنگ پر کروٹیں بدل رہا ہے۔ پاس ہی دو ڈاکٹر بیٹھے ہیں۔
ان میں سے ایک ڈاکٹر اپنے ساتھی سے مخاطب ہوا۔ "زخم خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔"
"بہت بہتر۔"
یہ کہتے ہوئے دوسرے ڈاکٹر نے اپنی نوٹ بُک میں اس مریض کا نام درج کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چوبی تختے پر جو چارپائی کے سرہانے لٹکا ہوا تھا، مندرجہ ذیل الفاظ لکھے تھے۔
نام: محمد قاسم ولد عبدالرحمٰن (مرحوم)

عمر: دس سال

Friday, 9 June 2017

اپاہج افسانہ سعادت حسین منٹو "Apahaj '' A Famous Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto ''


سعادت حسن منٹو

    11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے ۔

 سعادت حسن منٹو  ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ ا‌فزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کےبعد انہوں نے 1931 میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔
        جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر ، ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں ، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری 1955ء ان کا انتقال ہوا۔

سعادت حسن منٹو اردو کا واحد افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں ۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جن کے افسانہ مضامینن اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-
 
     اور میں یہاں آپ کو سعادت حسن منٹو  کی طرف سے ایک مقبول ترین افسانہ "اپاہج " پوسٹ کرنے جارہا ہوں ،امید ہے کہ آپ لطف اندوز ہونگے۔
 اپاہج

عائشہ نے شفقت کی چھاتی کے بالوں پر انگلیوں سے کنگی کرتے ہوے کہا شفقت صاحب کون شادی کرے گا ایک اپاہج سے؟
نہیں نہیں ایسا نہ کہوں عائشہ
اتنی بڑی قربانی کون کر سکتا ہے شفقت صاحب؟
تم ٹھیک کہتی ہو
خوبصورت ہے اچھے کھاتے پیتے ماں باپ کی لڑکی ہے سب ٹھیک ہے مگر.......
میں سمجھتا ہوں لیکن.....
مردوں کے دل میں رحم کہاں......
شفقت نے کروٹ بدلی ایسا نہ کہو عائشہ....
عائشہ نے بھی کروٹ بدلی دونوں روبرو ہو گئے سب جانتی ہو کوئی ایسا مرد ڈھوڈئیے جو اس بے چاری سے شادی کرنے پر آمادہ ہو.....
مجھے معلوم نہیں لیکن.........
بڑی بہن ہے غریب کو کتنا دُکھ ہے کہ اس کی چھوٹی بہن کی شادی کی بات ہو رہی ہے....
سہی کہتی ہو تم.......
عائشہ نے ایک لمبی آہ بھری کیا بچاری ساری عمر کڑھتی رہے گی.......
نہیں یہ کہہ کر شفقت اُٹھ کر بیٹھ گیا......
عائشہ نے پوچھا کیا مطلب.....؟
تمہیں اس سے ہمدردی ہے...؟
کیوں نہیں..............
خدا کی قسم کھا کر کہو.....
ہائے یہ بھی کوئی قسم کھلوانے والی بات ہے..
ہر انسان کواس سے ہمدردئ ہونی چائیے.....
شفقت نے چند لمحات خاموش رہنے کے بعد کہا تو میں نے ایک بات سوچی ہے....
عائشہ نے خوش ہو کر کہا کیا...؟
مجھے ہمیشہ اس بات کا احساس رہا کہ تم بہت بلند خیال عورت ہو آج تم نے میرے اس خیال کو ثابت کر دیامیں نے ......... خدا میرے اس فصلیہ کو استقامت بخشے.......میں نے اردہ کر لیا ہے کہ میں نگہت سے شادی کروں گا سارا ثواب تمہیں ملے گا.....
تھوڑی خاموشی رہی پھر ایک دم جیسے گولا پٹھا
شفقت صاحب گولی مار دوں گی اُسے اگر آپ نے اس سے شادی کی......
شفقت نے ایسا محسوس کیا کے اسے زبردست گولی لگی ہے اور وہ مر کر اپنی بیوی کی آغوش میں دفن ہو گیا ہے...
(سعادت حسن منٹو)

حجِ اکبر افسانہ سعادت حسین منٹو Haj e Akbar '' A Famous Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto ''

سعادت حسن منٹو

    11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے ۔

 سعادت حسن منٹو  ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ ا‌فزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کےبعد انہوں نے 1931 میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔
        جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر ، ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں ، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری 1955ء ان کا انتقال ہوا۔

سعادت حسن منٹو اردو کا واحد افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں ۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جن کے افسانہ مضامینن اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-
 
     اور میں یہاں آپ کو سعادت حسن منٹو  کی طرف سے ایک مقبول ترین افسانہ "حجِ اکبر " پوسٹ کرنے جارہا ہوں ،امید ہے کہ آپ لطف اندوز ہونگے۔

حجِ اکبر
امتیاز صغیر کی شادی ہوئی تو شہر بھر میں دھوم مچ گئی، آتش بازیوں کا رواج باقی نہیں رہا تھا مگر دولہے کے باپ نے اس پرانی عیاشی پر بے دریغ روپیہ صرف کیا، جب صغیر زیوروں سے لدے پھندے سفید براق گھوڑے پر سوار تھا تو اس کے چاروں طرف انار چھوٹ رہے تھے ، مہتابیاں اپنے رنگ برنگ شعلے بکھیر رہی تھیں، پٹاخے چھوٹ رہے تھے ، صغیر خوش تھا۔
صغیر نے امتیاز کو ایک شادی کی تقریب میں دیکھا تھا، اس کی جھلک اسے دکھائی دی تھی، مگر وہ اس پر سو جان سے فریضہ ہو گیا، اور اس نے دل میں عہد کر لیا کہ وہ اس کے علاوہ کسی کو اپنی رفیقہ حیات نہیں بنائے گا، چاہے دنیا ادھر کی ادھر نہ ہو جائے ، دنیا ادھر کی ادھر نہ ہوئی، صغیر نے امتیاز کے راستے ڈھونڈ لئے شروع شروع میں اس خوبرو لڑکی کے حجاب آڑے آیا، لیکن بعد میں صغیر کو اس کا التفات حاصل ہو گیا۔
صغیر بہت مخلص دل کا نوجوان تھا، اس میں ریا کاری نام کو بھی نہیں تھی، اس کو امتیاز سے محبت ہو گئی تو اس نے یہ سمجھا کہ اسے اپنی زندگی کا اصل مقصد حاصل ہو گیا، اس کو اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ امتیاز اسے قبول کرے گی یا نہیں وہ اس قسم کا آدمی تھا کہا اپنی محبت کے جذبے کے سہارے ساری زندگی بسر کر دیتا، اس کو جب امتیاز سے پہلی بار بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے گفتگو کی ابتدا ہی ان الفاظ سے کی، دیکھو لالی، میں ایک نا محرم آدمی ہوں، میں نے مجبور کیا ہے تم مجھ سے ملو، اب اس ملاپ کا انجام بھی نیک ہونا چاہئے ، یہ میرے ضمیر اور دل کی اکھٹی آواز ہے ، تم بھی وعدہ کرو کہ جب تک میں زندہ ہو مجھے کوئی آزا رنہیں پہنچاؤ گی اور میری موت کے بعد بھی مجھے یاد کرتی رہو گی، اس لئے کہ قبر میں بھی میری سوکھی ہڈیاں تمہارے پیار کی بھوکی ہوں گی۔
امتیاز نے دھڑکتے ہوئے دل سے وعدہ کیا کہ وہ اس عہد پر قائم رہے گی، اس کے بعد ان دونوں میں چھپ چھپ کے ملاقاتیں رہیں، صغیر مطمئن تھا کہ امتیاز اس کی محبت کی دعوت قبول کر چکی ہے ، اس لئے اب اور زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت تھی، ویسے وہ بھی اپنی محبوبہ سے ملنا اس لئے ضروری سمجھتا تھا کہ وہ اس کے عادات و خصائل سے واقف ہو جائے اور وہ بھی اس کو اچھی جان پہچان لے تاکہ وہ اس خصلت کا اندازہ کر سکے اور اس کو شکایت کا کوئی موقع نہ ملے ، اس نے ایک دن امتیاز سے بڑے غیر عاشقانہ انداز میں کہا، نازی میں اب بھی تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم نے مجھ میں کوئی خامی دیکھی ہے اگر میں تمہارے معیار پر پورا نہیں اترا تو مجھے سے صاف صاف کہہ دو، تم کسی بندھن میں گرفتار نہیں ہو، تم مجھے دھتکارا تو مجھے کوئی شکایت نہیں ہو گی، میری محبت میرے لئے کافی ہے ، میں اس کے اور ان ملاقاتوں کے سہارے کافی دیر تک جی سکتا ہوں۔
امتیاز اس سے بہت متاثر ہوئی اس کا جی چاہا کہ صغیر کو اپنے گلے سے لگا کر رونا شروع کر دے مگر وہ اسے نا پسند کرتا تھا، اس لئے اس نے اپنے جذبات اندر ہی مسل ڈالے ، وہ چاہتی تھی کہ صغیر اس سے فلسفیانہ باتیں نہ کرے، لیکن کبھی کبھی اس طور پر بھی اس سے پیش آئے ، جس طرح فلموں میں ہیرو اپنی ہیروئن سے پیش آتا ہے ، مگر صغیر کو ایسی عامیانہ حرکت سے نفرت تھی۔
پہلی رات کو حجلہ عروسی میں جب صغیر داخل ہوا تو امتیاز چھینک مار رہی تھی، وہ بہت متفکر ہوا امتیاز کو بلا شبہ زکام ہو رہا تھا لیکن وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا خاوند اس معمولی سے عارضے کی طرف متوجہ ہو کر اس کی تمام امنگوں کو فراموش کر دے وہ سرتاپا سپردگی تھی مگر صغیر کو اس بات کی تشویش تھی کہ امتیاز اس کی جان سے زیادہ عزیز ہستی علیل ہے ، چنانچہ اس نے فورا ڈاکٹر بلوایا، جو دوائیاں اس نے تجویز کیں بازار سے خرید کر لایا، اور اپنی نئی دلہن کو جس کو ڈاکٹر کی آمد سے کوئی دلچسپی تھی نہ اپنے خاوند کی تیمار داری سے مجبور کیا کہ وہ انجکشن لگوائے اور چار چار گھنٹے کے بعد دار پئے ، زکام کچھ شدید قسم کا تھا اس لئے چار دن اور چار راتین صغیر اپنی دلہن کی تیمار داری میں مصروف رہا، امتیاز چڑ گئی، وہ جانے کیا سوچ کر عروسی جوڑا پہن کر صغیر کے گھر آئی تھی، مگر وہ بے کار، اس کے زکام کو درست کرنے کے پیچھے پڑا ہوا تھا، جیسے دلہا دلن کیلئے بس ایک یہی چیز اہم ہے باقی اور باتیں سب فضول ہیں۔
تنگ آ کر ایک دن اس نے اپنے ضرورت سے زیادہ شریف شوہر سے کہا، آپ چھوڑئیے میرے معالجے کو، میں اچھی بھلی ہوں، پھر اس نے دعوت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا میں دلہن ہوں آپ کے گھر آئی ہوں، اور آپ نے اسے اسپتال بنا دیا ہے ، صغیر نے بڑے پیار سے دلہن کا ہاتھ دبایا اور مسکرا کر کہا، نازی خدا نہ کرے کہ یہ کوئی اسپتال ہو، یہ میرا گھر نہیں تمہارا گھر ہے ، اس کے بعد امتیاز کو جو فوری شکایت تھی وہ دور ہو گئی، اور شیر و شکر ہو کر رہنے لگے صغیر اس سے محبت کرتا تھا لیکن اس کو ہمیشہ امتیاز کی صحت اس کے جسم کی خوبصورتیوں اور اس کو ترو تازہ دیکھنے کا خیال رہتا تھا، وہ اسے کانچ کے نازک پھولدان کی طرح سمجھتا تھا، جس کے متعلق ہر وقت یہ خدشہ ہو کہ ذرا سی بے احتیاطی سے ٹوٹ جائے گا، امتیاز اور صغیر کا رشتہ دوہرا تھا دو بھائی اصغر حسین اور امجد حسین تھے ، کھاتے پیتے تاجر، صغیر بڑے بھائی اصغر حسین کا لڑکا تھا اور امتیاز امجد حسین کی بیٹی تھی، اب یہ دنوں میاں بیوی تھے ، شادی سے پہلے دونوں بھائیوں میں کچھ اختلافات تھے جو اب دور ہو گئے۔
امتیاز کی دو بہنیں اور تھیں اور جو اس پر جان چھڑکتی تھیں، امتیاز کا بیاہ تو ہوا ان دونوں کی باری قدرتی طور پر آ گئی، وہ اپنے گھروں میں آباد خوش تھیں، کبھی کبھی امتیاز سے ملنے آتیں، اور صغیر کے اخلاق سے متاثر ہوتیں ان کی نظر میں وہ آئیڈیل شوہر ہے۔
دو برس گزر گئے امتیاز کے ہاں کوئی بچہ نہ ہوا، دراصل وہ چاہتا تھا کہ اتنی چھوٹی عمر میں وہ اولاد کے بکھیڑوں میں نہ پڑے ، ان دنوں کے دن کے ابھی کھیلنے کودنے کے تھے ، صغیر ہر روز اسے سینما لے جاتا باغوں کی سیر کراتا، نہر کے کنارے کنارے اسکے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرتا، اس کی ہر آسائش کا خیال تھا، بہترین کھانے ، اچھے سے اچھا باورچی اگر امتیاز کبھی باورچی خانے کا رخ کرتی تو وہ اسے کہتا تازی انگیٹھیوں میں پتھر کے کوئلے جلتے ہیں، ان کی بو بہت بری ہوتی ہے ، اور صحت کیلئے نا مفید، میری جان تم اندر نہ جایا کرو، دو نوکر ہیں، کھانے پکانے کا کام جب تم نے ان کے سپرد کر رکھا ہے تو اس زحمت کی کیا ضرورت ہے ، امتیاز مان جاتی۔
سردیوں میں صغیر کا بڑا بھائی اکبر جو نیروبی میں ایک عرصہ مقیم تھا اور ڈاکٹر تھا کسی کام کے سلسلے میں کراچی آیا ہوا تھا تو اس نے سوچا کہ چلو لاہور صغیر سے مل آئیں بذریعہ ہوائی جہاز لاہور پہنچا اور اپنے چھوٹے بھائی کے پاس ٹھہرا، وہ صرف چار روز کیلئے آیا کہ ہوائی جہاز میں اس کی سیٹ پانچویں دن کی بک تھی، مگر جب اس کی بھابی نے جو اس کی آمد پر خوش ہوئی تھی، اصرار کیا تو چھوٹے بھائی صغیر نے اس سے کہا، بھائی جان آپ اتنی دیر کے بعد آئے ہیں کچھ دن اور ٹھہر جائیے ، میری شادی میں آپ شریک ہوئے تھے جتنے آپ فالتو ٹھہریں گے اتنا جرمانہ سمجھ لیجے گا، امتیاز مسکرائی اور اکبر سے مخاطب ہوئی، اس تو آپ کو ٹھہرنا ہی پڑے گا اور پھر مجھے آپ نے شادی پر کوئی تحفہ بھی تو نہیں دیا، میں جب تک وصول نہیں کر لوں گی آپ کیسے جا سکتے ہیں اور آپ کو میں جانے بھی کب دوں گی۔
دوسرے روز اکبر اس کو ساتھ لے گیا اور سچے موتیوں کا ایک ہار لے دیا، صغیر نے اپنے بڑے بھائی کا شکریہ ادا کیا، اس لئے کہ ہار بہت قیمتی تھا کم از کم پانچ ہزار کا ہو گا ہی، اسی دن اکبر نے واپسی نیروبی جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور صغیر سے کہا کہ وہ ہوائی جہاز میں اس کے ٹکٹ کا بندوبست کر دے اس لئے کے اس کی لاہور شہر میں کافی واقفیت تھی اکبر نے اس کو روپے دئیے مگر اس نے خود دارانہ انداز میں کہا، آپ ابھی اپنے پاس رکھئے میں لے لوں گا، اور ٹکٹ کا بندوبست کرنے چلا گیا، اسے کوئی دقت نہ ہوئی اس لئے کہ ہوائی جہاز سروس کا ایک جنرل مینیجر اس کا دوست تھا اس نے فورا ٹکٹ لے دیا، صغیر کچھ دیر اس کے ساتھ بیٹھا گپ لڑا تا رہا اس کے بعد گھر کا رخ کیا، موٹر گیراج میں بند کر کے وہ اندر داخل ہوا لیکن فورا باہر نکل آیا، گیراج سے موٹر نکالی اور اس میں بیٹھ کے جانے کہاں روانہ ہو گیا، اکبر اور امتیاز دیر تک اس کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آیا انہوں نے موٹر کے آنے اور گیراج میں بند ہونے کی آواز سنی تھی، مگر انہوں نے سوچا کہ شاید ان کے کانوں کو دھوکا ہوا تھا، اس لئے کہ صغیر موجود تھا نہ اس کی موٹر وہ غائب ہو گیا تھا؟ اکبر کو واپس جانا تھا، مگر اس نے ایک ہفتہ انتظار کیا ادھر ادھر کئی جگہ پوچھ گچھ کی پولیس میں رپورٹ لکھوائی مگر صغیر کی کوئی سن گن نہ ملی، آخری دن جب کہ اکبر جا رہا تھا پولیس اسٹیشن سے اطلاع ملی کہ پی بی ایل 100591 نمبر کی موٹر کار جس کے ایک خانے میں صغیر اختر نام کے لائسنس نکلا ہے ، ہوائی اڈے کے باہر کئی دنوں سے پڑی ہے ، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اکبر امجد حسین نام کے ایک آدمی نے آٹھ روز پہلے ہوائی جہاز میں نیروبی کا سفر کیا ہے ، اکبر کی سیٹ نیروبی کیلئے بک تھی امتیاز سے رخصت لے کر جب وہ کینیا پہنچا تو اسے بڑی مشکلوں کے بعد صرف اتنا پتہ چلا ایک صاحب جن کا نام اکبر امجد تھا ہوائی جہاز کے ذریعے سے یہاں پہنچے تھے ایک ہوٹل میں دو روز ٹھہرے اس کے بعد چلے گئے۔
اکبر نے بہت تلاش کی مگر کوئی پتہ نہ چلا اس دوران میں اس کو امتیاز کے کئی خطوط آئے ، پہلے دو تین خطوں کی تو اس نے رسید بھیجی اس کے بعد جو بھی خط آیا پھاڑ دیتا تاکہ اس کی بیوی نہ پڑھ لے ، دس برس گزر گئے امجد حسین یعنی امتیاز کا باپ بہت پریشان تھا، بہت لوگوں کا خیال تھا کہ صغیر مر کھپ چکا ہے مگر امجد حسین کا دل نہیں مانتا تھا۔
کہیں اس کی لاش ہی مل جاتی، خود کشی کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ بڑا نیک ، شریف اور برخوردار لڑکا تھا، امجد کو اس سے بہت محبت تھی، ایک ہی بات اس کی سمجھ میں آئی تھی کہ اس کی بیٹی امتیاز نے کہیں اس جیسے ذکی الحس آدمی کو ایسی ٹھیس نہ پہنچائی ہو کہ وہ دل شکستہ ہو کر کہیں رو پوش ہو گیا ہے ، چنانچہ اس نے امتیاز سے کئی مرتبہ اس بارے میں پوچھا مگر وہ صاف منکر ہو گئی، خدا اور رسول کی قسمیں کھا کر اس نے اپنے باپ کی تشفی کر دی، کہ اس سے اسی کوئی حرکت سرز نہیں ہوئی اکثر اوقات وہ روتی تھی، اس کو صغیر یاد آتا تھا، اس کی نرم و نازک محبت یاد آتی تھی، اس کو وہ دھیما دھیما نسیم سحری کا سلوک یاد آتا تھا، جو اس کی فطرت تھی، نیا پیرا امجد کا ایک دوست حج کو گیا، واپس آیا تو اس نے اس کو یہ خوشخبری سنائی کہ صغیر زندہ ہے اور ایک عرصے سے مکے میں مقیم ہے امجد حسین کو ہوش ہوا، اس کو اس کے دوست نے صغیر ہندی کا پتا دیا تھا، اس نے اپنی بیٹی کو تیار کیا کہ وہ اس کے ساتھ حجاز چلے ، فورا ہوائی جہاز کا سفر کا انتظام کیا، امتیاز ساتھ جانے کو تیار نہ تھی، اس کو جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی۔
بہر حال باپ بیٹی سرزمین حجاز میں پہنچے ، ہر مقدس مقام کی زیارت کی، امجد حسین نے ایک ایک کونہ چھان مارا مگر صغیر کا پتہ نہ چلا، چند آدمیوں سے جو اس کو جانتے تھے ، صرف اتنا معلوم ہوا کہ وہ آپ کی آمد سے دس روز پہلے ، کیونکہ اسے کسی نہ کسی طریق معلوم ہو چکا تھا، کہ آپ تشریف لا رہے ہیں، کھڑکی سے کود اور گر کر ہلاک ہو گیا، مرنے سے پہلے چند لمحات اس کے ہونٹوں پر ایک لفظ کانپ رہا تھا غالباً امتیاز تھا۔
اس کی قبر کہاں ہے وہ کب اور کیسے دفن ہوا اس کے متعلق صغیر کے جاننے والوں نے کچھ نہ بتایا، یہ ان کے علم میں نہیں تھا، امتیاز کو یقین ہو گیا کہ اس کے خاوند نے خودکشی کر لی ہے ، اس کو شاید اس کا سبب معلوم تھا، مگر اس کا باپ یہ ماننے سے یکسر منکر تھا، چنانچہ اس نے ایک بار اپنی بیٹی سے کہا میرا دل کہتا ہے وہ زندہ ہے ، وہ تمہاری محبت کی خاطر اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک خدا اس کو موت کے فرشتے کے حوالے نہ کر دے ، میں اس کو اچھی طرح سمجھتا تمہاری جگہ اگر وہ میرا بیٹا ہوتا تو میں خود کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھتا، یہ سن کر امتیاز خاموش رہی۔
دونوں سرزمین حجاز سے بے نیل و مرام واپس آ گئے ، ایک برس گزر گیا، اس دوران میں امجد حسین بڑی مہلک بیماری یعنی دل کے عارضے میں گرفتار ہوا اور وفات پا گیا، مرتے وقت اس نے اپنی بیٹی کو کچھ کہنا چاہا مگر وہ شاید بڑی اذیت دہ تھی کہ وہ خاموش رہا اور صرف سرزنش بھری نگاہوں سے امتیاز کو دیکھتے دیکھتے مر گیا، اس کے بعد امتیاز اپنی بہن ممتاز کے پاس راولپنڈی چلی گئی، ان کی کوٹھی کے سامنے ایک اور کوٹھی تھی، جس میں ایک ادھیڑ عمر کا مرد بہت تھکا تھکا سا دکھائی دیتا تھا، دھوپ تاپتا اور کتابیں پڑھتا رہتا تھا، ممتاز اس کو ہر روز دیکھتی، ایک دن اس نے امتیاز سے کہا، مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے یہ صغیر ہے ، کیا تم نہیں پہچان سکتی ہو، وہی ناک نقشہ متانت وہی سنجیدگی، امتیاز نے اس آدمی کی طرف غور سے دیکھا ایک دم چلائی ہاں ہاں وہی ہے پھر فورا رک گئی، لیکن وہ کیسے ہو سکتے ہیں وہ تو وفات پا چکے ہیں۔
انہیں دنوں ان کی چھوٹی بہن شہناز بھی آ گئی ممتاز اور امتیاز نے ان کو قبل از وقت مرجھایا اور افسردہ مرد دکھایا جس کی داڑھی کھچڑی تھی، اور اس سے پوچھا تم بتاؤ اس کی شکل صغیر سے ملتی ہے یا نہیں؟ شہناز نے اس کو بڑی گہری نظروں سے دیکھا اور فیصلہ کن لہجے میں کہا، شکل ملتی کیا ہے یہ خود صغیر ہے سونی صدی صغیر اور یہ کہہ کہ وہ سامنے والی کوٹھی میں داخل ہو گئی وہ شخص کتاب پڑھنے میں مشغول تھا چونکا، شہناز جس نے شادی کے موقع پر اس کی جوتی چرائی تھی، اسی پرانے انداز میں کہا، جناب آپ کب تک چھپے رہیں گے ؟
اس شخص نے شہناز کی طرف دیکھا اور بڑی سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے پوچھا آپ کون ہیں؟
شہناز طرار تھی اس کے علاوہ اس کو یقین تھا کہ جس سے وہ ہم کلام ہے وہ اس کا بہنوئی ہے چنانچہ اس نے بڑے نوکیلے لہجے میں کہا جناب میں آپ کی سالی شہناز ہوں، اس شخص نے شہناز کو سخت نا امید کیا اس نے کہا، مجھے افسوس ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ، اس کے بعد شہناز نے اور بہت سی باتیں کیں مگر اس نے بڑے ملائم انداز میں اس سے جو کچھ کہا، اس کا یہ مطلب تھا کہ تم ناحق اپنا وقت ضائع کر رہی ہوں، میں تمہیں جانتا ہوں نہ تمہاری بہن کو جس کے متعلق تم کہتی ہو کہ میری بیوی ہے ، میری بیوی اپنی زندگی میں ہے اور میں ہی اس کا خاوند ہوں۔
شہناز اور ممتاز کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ امتیاز کے متعلق تمام معلومات حاصل کرتا ہے ، ان کو یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ اس پر اسرار مرد کے نوکر کے ذریعے سے کہ وہ راتوں کو اکثر روتا ہے نمازیں پڑھتا ہے اور دعائیں مانگتا ہے کہ زندہ رہے وہ چاہتا ہے کہ اس کو جو اذیت پہنچی ہے اس سے دیر تک لطف اندوز ہوتا رہے ، نوکر حیران تھا کہ انسان کی زندگی میں ایسی کون سی تکلیف ہو سکتی ہے ، جس سے وہ حظ اٹھا سکتا تھا، سب باتیں امتیاز سنتی تھی اور اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ مر جائے ، چنانچہ اس نے جب یہ سنا کہ وہ شخص جس کو امتیاز اچھی طرح پہچانتی تھی، اس کے نام سے قطعاً نا آشنا ہے تو اس نے ایک روز افیم کھا لی اور یہ ظاہر کیا کہ اس کے سر میں درد ہے اور اکیلی آرام کرنا چاہتی ہے ، وہ آرام کرنے چلی گئی لیکن شہناز نے جب اس کو غنودگی کے عالم میں دیکھا تو اسے شبہ ہوا اس نے ممتاز سے بات کی، اس کا ماتھا بھی ٹھنکا کمرے میں جا کر دیکھا تو امتیاز بالکل بے ہوش پڑی تھی، اس کو جھنجھوڑا مگر نہ جاگی شہناز دوڑی دوڑی سامنے کوٹھی میں گئی اور اس شخص جس کا نام راولپنڈی میں کسی کو نا معلوم تھا، سخت گھبراہٹ میں یہ اطلاع دی کہ اس کی بیوی نے زہر کھا لیا ہے ، اور مرنے کے قریب ہے ، یہ سن کر اس نے اتنا کہا آپ کو غلط فہمی ہے وہ میری بیوی نہیں ہے ، لیکن میرے ہاں اتفاق سے ایک ڈاکٹر آیا ہوا ہے ، آپ چلیئے میں اسے بھیج دیتا ہوں۔
شہناز گئی تو وہ اندر کوٹھی میں گیا اور اپنے بھائی اکبر سے کہا، یہ جو کوٹھی سامنے ہے اس میں کسی عورت نے زہر کھا لیا ہے ، بھائی جان آپ جلدی سے جائیے ، اور کوشش کیجئے کہ بچ جائے ، اس کا بھائی جو نیروبی میں بہت بڑا ڈاکٹر تھا امتیاز کو نہ بچا سکا دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو اس کا رد عمل بہت مختلف تھا، امتیاز فورا مر گئی اور اکبر اپنا بیگ لے کر واپس چلا گیا، صغیر نے اس سے پوچھا کیا حال ہے مریضہ کا؟

اکبر نے جواب دیا مر گئی، صغیر نے اپنے ہونٹ بھینچ کر بڑے مضبوط لہجے میں کہا میں زندہ رہوں گا، لیکن ایک دم سنگین فرش پر لڑکھڑانے کے بعد گرا اور جب اکبر نے اس کی نبض دیکھی تو وہ ساکت تھی۔

Wednesday, 12 April 2017

پہچان افسانہ: سعادت حسین منٹو کی مختصر اردو کہانیاں Pehchani '' Urdu Short Stories BySaadat Hasan Manto ''

سعادت حسن منٹو 

    11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے ۔ 

 سعادت حسن منٹو  ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ ا‌فزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کےبعد انہوں نے 1931 میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔
        جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر ، ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں ، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری 1955ء ان کا انتقال ہوا۔

سعادت حسن منٹو اردو کا واحد افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں ۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جن کے افسانہ مضامینن اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی- 
  
     اور میں یہاں آپ کو سعادت حسن منٹو  کی طرف سے ایک مقبول ترین افسانہ "پہچان " پوسٹ کرنے جارہا ہوں ،امید ہے کہ آپ لطف اندوز ہونگے۔ 












Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)