٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭کچھ
فکر آخرت بھی ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہاں گر سوگیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال
سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
یہاں پیرو
جواں سب کو مزہ اک دن یہ چکھناہے
غنی ہو یا گدا کوئی یہاں سب کو ہی مرنا ہے
یہ دنیا
چھوڑ کر اک دن یہاں سے کوچ کرنا ہے
یہاں کوئی ولی کوئی شقی ٹکنے نہ پائے گا
یہاں گر سو
گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
یہ بیٹے بیٹیاں تیری یہ آنکھوں کے ستارے ہیں
انہیں کے واسطے تونے کفن کتنے اتارے ہیں
کری سب خواہشیں پوری یہ سب تیرے دلارےہیں
یہ اک دن تجھ سے بھاگیں گے انھیں جب تو بلائے گا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال
سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
انہیں کے واسطے تونے زمیں نا حق دبائی تھی
جوانی بھی انہیں کے واسطے اپنی مٹائی تھی
ملے منصب کوئی انکو بڑی رشوت چکائی تھی
یہ اک دن
بھول جائیں گے ترا جب نام آئے گا
یہاں گر
سوگیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال
سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
تجارت میں یہاں اکثر ترا ہی بول بالا تھا
ترا تھا مال بھی گھٹیا مگر دھندا نرالا تھا
تو اکثر تولتا کم تھا ترا جھوٹا حوالہ تھا
یہ طلسم بھی ترے ہاتھوں کااک دن ٹوٹ جائے گا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
یہ دولت ہے یہ شہرت ہے یہ سونےکے خزانے ہیں
یہ اونچے اونچے بنگلے ہیں یہ تیرے آشیانےہیں
یہ محلوں میں ترے آگے جو رقصاں آب گینےہیں
یہ دولت کا
نشہ ہے جو یہیں پر ٹوٹ جائے گا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
غریبوں کا لہو پی کر یہ گھر اپنے سجائے ہیں
فقیروں کوبھاگنے کیلئے درباں بٹھا ئے ہیں
یہ موتی آج چن چنکرجو دھاگے میں پروئے ہیں
بکھرجائیں گے اک دن سب یہ دھاگاٹوٹ جائے گا
یہاں گر سو
گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
یہ جوچاندی کے برتن ہیں یہیں پرٹوٹ جائیں گے
یہ عالیشان بنگلے بھی یہیں پر چھوٹ جائیں گے
تری آنکھوں کے سب سپنے یہیں پر ٹوٹ جائیں گے
کفن ہی تیرا ساماں ہے کفن ہی ساتھ جائے گا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال
سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
ترے بچے
ہزاروں قسم کے پکوان کھاتے تھے
تری دیوار کے نیچے بھی کچھ مسکین رہتے تھے
مگر بن ماں کےبیچارے وہ بھوکے پیٹ سوتےتھے
خبر ہے ایک دن تجھ سے یہ سب پوچھا بھی جائے گا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال
سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
یہ ایرانی حسیں قالیں ترے قدموں میں بچھتے ہیں
مگر کچھ بے سہارا ہیں جو کپڑوں کو ترستےہیں
یتیموں کا یہ عالم ہے کہ سردی میں ٹھٹرتے ہیں
خرچ کر لے
ذرا ان پر یہی تو کام ۔۔۔۔۔آئےگا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال
سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
قبر ہے پر خطر منزل وہی تیرا ٹھکانا ہے
وہاں پر سانپ بچھو ہیں ونہیں تیرا گھرانا ہے
جہاں ہر سو اندھیرے میں اکیلا تجھکورہنا ہے
کوئی مونس کوئی ہمدم تجھے ملنے نہ آئے گا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال
سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
یہ دنیا ہے
ترے اعمال کی کھیتی سمجھ لینا
اگر جنت کی
چاہت ہے تخم اچھے سے بولینا
خدا کا سامنا ہوگا ذرا کچھ ہوش کر لینا
یہاں جو بیج
بوئے گا وہاں پھل اسکا پائے گا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال
سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
یہ دنیا اپنے رب کی یاد سے معمور کر لینا
نبی نے جو
بتایا ہے ثمر منظور ۔۔۔ کر لینا
قبر میں
روشنی ہوگی تلاوت خوب کر لینا
یہ قرآں ہی سر محشر تری بخشش کرائے گا
یہاں گر سو گیا اک بار پھر جگنے نہ پائے گا
ہزاروں سال سوکر بھی کبھی واپس نہ آئے گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ثمریاب
ثمر٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭