Showing posts with label Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi. Show all posts
Showing posts with label Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi. Show all posts

Tuesday, 20 June 2017

"Khudgarz"A Famou Urdu Short Story By Rajinder Singh Bedi


خود غرض
راجندر سنگھ بیدی
آخر مویشی، جن کی بدولت تین برس پیشتر جیا اور جیون جاٹ اور اُن کے حواریوں میں تصادم ہوا، بے سمجھ جانور ہی تھے نا۔ اگر عقل ہوتی تو کیوں کسی کے کھیت میں گھُس کر اُگتی ہوئی مکئی کی ہری بھری کونپلوں کو منھ مارتے۔ تلوں کے خشک پودوں کو اگر لتاڑ کر زمین پر بکھیر بھی دیا تھا ،تو جیا اور جیون دونوں کو چاہیے تھا کہ آرام سے بیٹھ کر ایک دوسرے کو تنبیہ کرتے۔ یا چار بھائیوں کے رو بہ رو اپنا معاملہ نپٹا لیتے اور اگر ممکن ہوتا تو جائز ہرجانہ طلب کرتے۔ نہ یہ کہ لٹھ لے کر ایک دوسرے کا سر پھوڑ دیتے اور پھر عدالتوں میں ناکوں چنے چبا کر سیکڑوں روپئے وکیلوں اور پولس والوں کی جیب میں داخل کر کے انجام کار راضی نامہ کر لیتے۔ لوگوں کی ایسی غلطیوں اور سماج کی چند تباہ کن رسوم کا ازالہ کرنے کے لیے رُہل گانو کے ایک بزرگ نے پنچایت بنا ڈالی۔ لوگوں نے اعزاز کے طور پر اُسی بزرگ کو پنچایت کا صدر چُنا۔
رُہل گانو میں ایک لالہ میّا داس ہی ایسے فرد تھے جن کی آنکھوں میں پنچایت خار کی مانند کھٹکتی تھی۔ وہ طبیعت کے نہایت خودغرض واقع ہوئے تھے۔ گانو میں ان کی دو دُکانیں تھیں۔ ایک آٹے دال کی اور دوسری کپڑے کی، جن سے اُنھیں باقی دُکان داروں کے مقابلے میں زیادہ آمدنی ہو جاتی تھی۔ پہلے وہ گانو کے چودھری تھے اور روپئے پیسے کے زور پر من مانی کارروائیاں کرتے تھے، مگر اب پنچایت کی وجہ سے اُن کا کچھ بس نہ چلتا تھا۔ پنچایت کے احکام مانے بغیر گزارا بھی نہ تھا، کیوں کہ اگر اُس کے فیصلے کے خلاف وہ ایک لفظ بھی کہتے، تو اُن کا روز گار خراب ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ ادھر اگر گانو والے اُن سے عدم تعاون کر دیتے تو وہ کوڑی کوڑی کے محتاج ہو جاتے۔ ہزاروں روپئے کی جائداد کو چھوڑ کر اس گانو سے چلے جانے کا خیال بھی وہ دل میں کیسے لاتے؟ پنچایت کا ایک ایک رکن اُن کی خود غرضی سے آگاہ تھا۔ یہاں تک کہ اگر بھولے سے وہ کسی کے بھلے کی بات بھی کرتے، تو لوگ مشکوک انداز سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور دل میں کہتے کہ اس بات میں کوئی نہ کوئی ایسا راز ضرور ہے، جس سے لالہ میّا داس کو کوئی ذاتی فائدہ پہنچے گا۔ جب لالہ میّا داس نے سیدھی انگلیوں گھی نکلتے نہ دیکھا تو پنچایت میں سے چند ایک آدمیوں کو روپئے سے خریدنے کی کوشش کی۔مگر یہ سودا اُنھیں مہنگا پڑا۔ بہت اصرار کے بعد جن چند اشخاص نے اُن کا حواری بننا قبول کیا، وہ پیسا ختم ہوتے ہی لالہ میّاداس کے گھر پہنچتے اور روپیا مانگتے۔ نفی میں جواب ملنے پر لالہ میّاداس کو دھمکی دیتے کہ وہ پنچایت میں اُس کی ہر بات کی مخالفت کریں گے۔ اور اگر پھر بھی لالہ میّاداس نظرِ التفات نہ کرتے، تو ہر اچھّی بری بات میں اُن لوگوں کی طرف سے پنچایت میں اُن کی کھلّم کھُلاّ مخالفت ہونے لگتی۔
لالہ میّا داس کے ایک لڑکی تھی اور ایک لڑکا۔ لڑکے کی عمر کوئی اِکّیس برس اور لڑکی کی سولہ برس تھی۔ لڑکا پاس ہی کے بڑے شہر میں نہر کے محکمے میں نوکر تھا۔ پوہ ماگھ کے اُن دنوں، جب کہ سورج ، دھن راس کو کاٹ کر، مکر راس میں داخل ہوتا ہے، یعنی تِل سنکرانت کے دن، جب کہ   سجی دھجی عورتیں تِل بانٹ رہی تھیں اور آپس میں گاجر، مٹر، امرود، بیر اور گنّے کا تبادلہ کر رہی تھیں اور سوئے ہوئے جذبات میں زندگی پھونک دینے والے تبسّم سے مسکراتی ہوئی ایک دوسری سے کہہ رہی تھیں ’’میٹھا میٹھا کھاؤ اور میٹھا میٹھا بولو‘‘۔ اور اُس دن کے بعد جب کہ دن تِل برابر ہر روز بڑھ کر آہستہ آہستہ چولھا سماج کی حاضری میں کمی پیدا کر رہا تھا، منورما—لالہ میّاداس کی لڑکی—سترھویں برس میں قدم رکھ رہی تھی اور یہ غم کہ لڑکی اِس قدر جوان ہو رہی ہے اور اس کے لیے کوئی مناسب رشتہ نہیں مل سکا، لالہ میّا داس کی بیوی کو کھائے جا رہا تھا۔ سنکرانت کے اُن دنوں میں منورما کی ماں کی ادھوری خوشی کا اُس کی نیم جان آواز سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ ایک دن گھر کی دہلیز پھاندتے ہوئے لالہ میّاداس کا ما تھا ٹھنکا۔
’’منورما کی ماں ‘‘ لالہ میّاداس نے کہا ’’آج کیا بات ہے ، بتّی کو دِیاسلائی تو دکھا دو‘‘۔
’’دِیا بتّی جائے بھاڑ میں‘‘ منورما کی ماں نے بھپرتے ہوئے کہا ’’مجھے دِیے بتّی کا ہوش ہے کیا ۔ مجھے تو اِس چھوکری کے غم نے کھا لیا ہے۔ پنچایت ماننے سے رہی، تو کیا اُسے بٹھا چھوڑیں گے‘‘۔
’’دیکھو—اگر اتنی ہی جلدی تھی، تو پھر دتّو سے کیوں نہ نسبت کرنے دی۔ یہ قرار پایا تھا نا کہ منورما کو کسی بڑے گھرانے میں دیا جائے اور پنچایت میں اِس بات کا چرچا کیا جائے کہ بیاہ شادیوں میں جہیز دینا فضول ہے، اِس سے سینکڑوں گھر برباد ہو چکے ہیں اور اگر کسی کو ضرور کچھ دینا ہی ہو، تو تحفے تحائف کے طور پر دیا جائے۔ مگر ایسی حالت میں بھی اُن اشیاء کی قیمت دو سو سے زیادہ نہ ہو — یہی ایک طریقہ ہے جس سے امیرانہ وضع داری کے ساتھ تھوڑے سے خرچ میں گزارا کرسکتے ہیں۔ برات کو روٹی اچھّی کھلا دی، جہیز میں کچھ نہ دیا اور اپنا روپیا بچا لیا … مگر بکرم اور بلاقی شاہ، شیشر اور گردھاری سب اِس کے خلاف ہیں۔ وہ اعلانیہ طور پر کہتے ہیں کہ منورما کا بیاہ درپیش ہے اور اسی لیے یہ تگ و دو ہو رہی ہے‘‘۔
’’تو کیا رامے اور بانشی اور اُن کے پِٹھّوؤں نے تمھارا ساتھ نہ دیا… اُنھیں پیسے کاہے کو دیے…‘‘
’’انھوں نے بُہتیرا شور غوغا کیا، مگر وہ ہیں آٹے میں نمک برابر—میں نے پردھان سے کہہ دیا ہے کہ میری ہر بات میں بلاوجہ مخالفت کی جار ہی ہے‘‘۔
’’مگر پردھان کس کروٹ ہے—‘‘
’’وہ کہتا تھا کہ باہر سے آئی ہوئی براتیں یہ بات گوارا نہ کرسکیں گی۔ تِس پر میں نے جواب دیا کہ جب وہ سمجھیں گے کہ یہاں کی پنچایت کا یہی دستور ہے، تو پھر وہ ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتے ،اور اگر وہ اس کے خلاف احتجاج کریں تو ہم دوسرے گانووں کی لڑکیاں لینی چھوڑ دیں گے اور اُن ہی چند ایک نزدیک کے گانووں میں، جہاں رُہل کی پنچایت کا دبدبہ ہے، اپنے ناطے کر لیں گے…‘‘
’’پھر کیا بولا وہ بُڑھؤ— ڈھانٹ—‘‘
’’سنو تو — میں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے گرام میں کئی ، پیسے ٹکے سے اچھّے ہیں اور کئی قصبوں کے لوگ اپنی لڑکیاں ہمیں مِنّت سے دینے کو تیار ہیں— بات تو یہ ہے کہ پنچایت مضبوط ہو اور گرام باسیوں میں ایکا ہو ایکا—‘‘
’’پھر کوئی تانا بانا بُنا کہ یوں ہی…‘‘
’’رام پہ بھروسا رکھو نا—کل شام کے آٹھ بجے اِس بات کے متعلق بحث ہے— میں نے ایک آدھ پِٹھّو اور تیار کیا ہے‘‘۔
پنچایت ، ماروتی مندر کے بغل میں ایک بڑے کمرے میں بیٹھی۔ منورما کی ماں بھی، درشن کے بہانے چند ایک عورتوں کو ساتھی بنا کر اُس کھڑکی میں، جو مندر سے پنچایت والے کمرے میں کھلتی تھی، آ بیٹھی۔
پردھان جی خاموشی سے سب کی باتوں کو سُن رہے تھے۔ لالہ میّا داس کا حواری بانشی مل کچھ پڑھا لکھا تھا اور سُلجھے الفاظ میں گفتگو کرسکتا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا ۔:
’’جہیز کی رسم بہت پراچین اور سناتن ہو چکی ہے۔ آج جب کہ بھارت ورش کی حالت بہت ابتر ہے اور اوسط آمدنی فی کس دو پیسے ہے، تو پُتری دھن کہاں سے تیار کیا جائے۔ پراچین سمے میں جب کہ بھارت ورش سونے کی چڑیا تھا، ہر ایک آدمی کو توفیق تھی کہ وہ پُتری دھن زیادہ سے زیادہ دے۔ میں نے کئی ایک گھرانے دیکھے ہیں جہاں پُتری دھن کے سوال نے غریب ماتا پِتا اور کنبے کو بہت دُکھی کیا۔ یہاں تک کہ کئی کنّیاؤں نے اپنے ماں باپ کی بُری حالت کو دیکھ کر اور سماج کے اِس سخت تکلیف دہ قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، اپنے کپڑوں پر تیل چھڑک لیا اور لوگوں کے دیکھتے دیکھتے جل مریں، یاد ریا میں کود کر جان دے دی ،یا چھت پر سے چھلانگ لگا کر پران تیاگ دیے۔ لوگوں نے اُن کی لاش پر آنسو بہا کر سماج کو خوب کوسا۔ مگر سماج کو آلائشوں سے پاک کرنے کی جرأت نہ کی۔ بنگال میں، جہاں یہ رسم زیادہ عام ہے، وہاں لوگوں نے اخباروں میں اِس کے خلاف آواز بھی اُٹھائی، مگر بڑی توند لے کر سماج مندر کا رقبہ گھیرنے والے سرمایہ دار کب کسی کی سنتے ہیں— اُن کی بلا سے کوئی جل مرے… کوئی ساگر میں کود کر پران تیاگ دے…‘‘
بانشی مل کے گلے میں رقّت (جو اُس نے کمال عیّاری سے پیدا کر لی تھی) سے رُکاوٹ پیدا ہو گئی اور وہ آگے بولنے سے معذور ہو گئے۔ لالہ میّا داس نے اِس ہوش رُبا تقریر کے بعد ایک ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے کہا:
’’آہ!— ہندو سماج ۔ تیرا ایشور ہی سہائی ہے‘‘۔ انھوں نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا ۔ منورما کی ماں کے چہرے پر اُنھیں خوشی اور شانتی کی لہر دکھائی دی۔ شاید وہ سمجھ رہی تھی کہ میدان آج اُس کے خاوند کا ہی ہے۔
رامے نے دیکھا کہ بانشی کا گلا رقّت سے رُک جانے کی وجہ سے سامعین پر بہت گہرا اثر پڑا تھا۔ موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس نے بانشی کی بات کو جاری رکھا
’’یہی نہیں بلکہ کئی والدین نے بھی ناک کی خاطر اپنے آپ پر منوں بوجھ ڈالا، جس کے نیچے دب کر وہ زندگی بھر ٹھنڈی سانسیں لیتے رہے اور اپنے بیوی بچّوں کو ہمیشہ کے لیے       ننگ و ناموس سے عاری کر گئے۔ ایک لمحے کی واہ وا کے لیے ہمیشہ کے لیے اپنی عزت اور آبرو برباد کر دی— پیسے کی کمی اور جہیز کی زیادتی کے نا اہل ہوتے ہوئے لوگوں نے مدّت تک اپنی کنّیاؤں کو کنوارا بٹھا چھوڑا، جس کا نتیجہ ہوا کہ کثرت سے اغوا کی وارداتیں ہونے لگیں اور اُن پاپی اتّیاچاری ناک کے ٹھیکے داروں کی ناک اپنی کنّیاؤں کی وجہ سے ایسی کٹی ،کہ پھر اُنھوں نے نکٹا چہرہ کسی کے سامنے نہ کیا اور یا خودکشی کر لی یا جنگل کا رُخ کیا—‘‘
’’مگر—‘‘ مخالف پارٹی کے ایک رکن نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے کہا— ’’میں اپنے محترم بھائیوں کی اِن باتوں کو صحیح مانتا ہوں کہ اِس غریبی کی حالت میں ہم بڑی پنچ کا جہیز نہیں دے سکتے۔ مگر اِس رسم کا تیاگ سارے دیش میں مجموعی طور پر ہو تو بہتر ہے۔ آپ سوچیں تو، کہ اگر ہم کسی کو جہیز نہ دیں تو باہر کے دیہات یا قصبے یا شہر کا کوئی آدمی کس لیے ہماری لڑکیاں لے گا۔ اُسے ہماری پنچایت کی پروا ہی کیا ہے۔ پنچایت کی سب سے بڑی سزا حُقّہ پانی بند کر دینا اور انجامِ کار پنچایت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے آدمی سے عدمِ تعاون کر کے اُسے گانو چھوڑ دینے پر مجبور کر دینا ہی ہے نا۔ مگر دوسرے گانووں کے آدمیوں کو اِس بات کی کیا پروا ہے۔ کل لالہ میّا داس اور بانشی مل نے کہا تھا کہ اگر باہر کے آدمی اِس بات کو گوارا نہیں کرتے تو اُن سے رشتے نہ کیے جائیں اور پڑوس کے دو چار گانووں میں رشتے ناتے دیکھ لیے جائیں۔ کتنی غلط بات کہی ——پردھان صاحب کی ہی مثال لو۔ ایشور نے انھیں اچھّا دھن وان بنایا ہے۔ کل ہی اِنھوں نے اپنی امبو کا بیاہ کیا، تو اُس پڑھی لکھی سوشیل کنّیا کے لیے تلاش اور تجسّس کا دائرہ نہایت تنگ ہونے کی وجہ سے کوئی مناسب وَر مل ہی نہیں سکتا۔ ایسا وَر ،جو کہ برسرِ کار ہونے کے علاوہ گھربار سے بھی اچھّا ہو — یہ سب کچھ تب ہی ہو سکتا ہے کہ سارے ملک میں مجموعی حالت ایک ہی ہو—‘‘ ’’بالکل ٹھیک کہا لالہ گردھاری لال نے‘‘ ایک شخص نے کہا۔ ’’اور پھر آپ حساب لگا کر دیکھیں کہ ہمارے پڑوس کے گانووں میں جو اس پنچایت کے دبدبے میں ہیں، لڑکیاں زیادہ ہیں اور لڑکے بہت تھوڑے——اور جو تھوڑے سے ہیں وہ بھی آوارہ اور شُہدے۔ ہر ایک ماتا پِتا کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اُسے اپنی کنّیا کے لیے اچھا وَر ملے۔ کوئی جان بوجھ کر اپنے جگر کے ٹکڑے کو آگ میں پھینکنا نہیں چاہتا ،مگر موجودہ حالات کی وجہ سے اور تلاش کا دائرہ نہایت محدود ہونے کی وجہ سے، یہ جب ہی ممکن ہے کہ یہ بات مجموعی طور پر ہر جگہ ہو‘‘۔
حُقّے کی نال کو پرے کرتے ہوئے اور منھ پر سے اپنی سفید اور بڑی بڑی مونچھوں کو ہٹاتے ہوئے پردھان نے کہا:
’’لالہ گردھاری لال اور روپ چند نے جو باتیں کہی ہیں، وہ زیادہ وزن رکھتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جہیز کی رسم مذموم ہے مگر جب تلک ملک کا بیشتر حصّہ اِس رسم کو خیرباد نہیں کہتا، ہمارے گانو میں اس کا ترک ہونا محال ہے——‘‘
لالہ میّاداس نے جواب دیا ’’مگر جب کبھی یہ رسم چھوڑی جائے گی تو پہلے اِس کے ترک کرنے والے چند افرادہی ہوں گے۔ کیوں نہ رُہل کے باسی مثال قائم کریں۔‘‘
اِس کے بعد چند سیکنڈ تک خاموشی رہی۔ کچھ سوچ کے بعد پردھان نے لالہ میّاداس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’لالہ میّاداس ——امید ہے کہ آپ اِس گستاخی کو معاف کریں گے— یہ جو لوگوں کا خیال ہے کہ آپ سب کچھ فلاح کے لیے نہیں، بلکہ خود غرضی کے لیے کر رہے ہیں—— آپ اِس بارے میں اپنی پوزیشن کیوں نہیں صاف کر دیتے۔‘‘
لالہ میّاداس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔ اِس سے پیشتر کسی نے اعلانیہ طور پر اُنھیں خود غرض کہنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ اغلب تھا کہ زیادہ شرمندگی کی وجہ سے وہ کچھ اناپ شناپ پر اُتر آتے۔ مگر اُن کے سرکردہ حواری نے صورتِ حالات کو قابو میں لے لیا اور بات کو ٹالنے کی غرض سے بولا
’’پردھان جی! مجھے افسوس ہے کہ لالہ میّاداس پر اِس طرح ذاتی حملہ ہوتا ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ یہ بات اُنھیں اُس وقت سوجھی، جب وہ اپنی کنّیا کی شادی کی فکر میں تھے— یہ سب کچھ منورما کے لیے نہیں ہو رہا۔ یہ سب ہماری تمھاری بیٹیوں کے لیے ہے۔ اُن کو ایشور نے بہت کچھ دھن دیا ہے۔ وہ نہایت آسانی سے لڑکی کے جہیز میں ڈیڑھ دو ہزار روپیا خرچ کرسکتے ہیں…‘‘
لالہ میّا داس کو گویا سہارا ہی تو مل گیا۔ اگرچہ اِس بات نے اُن کی پوزیشن کو زیادہ خراب کر دیا، کیوں کہ یہ حقیقت تھی کہ وہ روپیا بچانا چاہتے تھے اور اسی لیے وہ یہ ڈھونگ رچا رہے تھے، مگر موقع محل دیکھ کر اُنھوں نے لالہ بانشی مل کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا:
’’اِس بات میں ذرّہ بھی شک نہیں—میرے پاس ایشور کا دیا اتنا ہے کہ تین پشتوں تک ختم نہیں ہو سکتا۔ ایک لڑکی کے جہیز میں دو اڑھائی ہزار خرچ کرنے سے میں گھبراتا نہیں‘‘۔
لالہ میّاداس کے دوسرے حواری رامے نے کہا ’’ہاں— ہاں، توفیق والے نے تو کر لیا، ہم کیا کریں گے۔ پنچایت کو ہماری فکر بھی لازم ہے۔ کل میری بھتیجی بیاہی جانے والی ہے‘‘۔
پنچایت کے اِس اِکٹھ میں ایک اور شخص بھی تھا، جو اب تک چپ بیٹھا تھا۔ نام تو اُس کا بشیشر دیال تھا، مگر لوگ اُسے ’’منھ پھٹ‘‘ کہا کرتے تھے۔ بات یہ تھی کہ وہ ہر اچھّی بُری بات چھوٹے یا بڑے کے سامنے بلا تکلّف کہہ دیتا۔ حسبِ عادت اُس نے کہا:
’’اِس بات کا مزا تب ہے [کہ] میّا داس منورما کا بیاہ کر لیں، تو پھر اِس گرام میں جہیز نہ دینے کا رواج بنایا جائے۔ اس سے یہ پتا چلے گا کہ وہ سب کچھ خودغرضی کی وجہ سے نہیں کر رہے‘‘۔
’’بے شک …مجھے منظور ہے——‘‘ لالہ میّاداس کو کہنا پڑا۔ اوپر کھڑکی میں منورما کی ماں کچھ بڑبڑا رہی تھی۔ ایسی حالت میں لالہ میّا داس نے منظور تو کر لیا مگر گھر پہنچے تو وہ خجل سے تھے اور بہت تکان زدہ دکھائی دیتے تھے۔ منورما کی ماں نے اُن کے چہرے کا مطالعہ کرتے ہوئے کہا:
’’ہائیں —آپ روتے کیوں ہیں؟‘‘
’’میر ا بانشی اور رامے وغیرہ پر پیسا لگایا ہوا بھی یوں ہی گیا…‘‘ میّاداس نے پھوٹتے ہوئے کہا۔
’’مگر میں تو کہوں گی— اُنھوں نے کوشش بہت کی— اِس میں کسی کا کیا قصور۔ ہماری قسمت…‘‘
منورما کا جہیز ، چھت پر سجایا گیا تھا۔ لالہ میّا داس، پردھان کو جہیز دکھا رہا تھا اور پردھان یہ محسوس کر رہا تھا کہ میّا داس ہر چیز کی قیمت اُس کی اصلی اور ممکن قیمت سے دوگنی کے لگ بھگ بتاتا ہے۔ مگر تھالی میں نقد ایک ہزار روپیا دھرا تھا۔ تھالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور لالہ میّاداس سے علاحدہ ہو کر، اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
’’اب تو تمھیں میّاداس کے متعلق شک نہیں رہا…؟‘‘
’’آپ دیکھیں تو سہی ’’منھ پھٹ نے کہا‘‘ میّاداس دو اڑھائی ہزار بتاتا تھا، مگر یہ سارا جہیز، بھینس سمیت پندرہ سو سے زیادہ کا نہیں، میّاداس نے جو کچھ بھی کیا ہے، دکھاوے کو کیا ہے۔ تھال میں اس نے ایک ہزار کی رقم رکھ دی ہے تاکہ اسے کسی کے منھ پر جھوٹا نہ ہونا پڑے۔ چار سوٹ ہوتے کیا ہیں اور دوسرے کپڑے، کناری وغیرہ سے مجھے تو پُرانے دکھائی دیتے ہیں‘‘۔
پردھان نے کہا ’’ارے بھائی ! پندرہ سو اور دو ہزار میں کون سا زمین آسمان کا فرق ہے‘‘۔
’’یہ سب کچھ اُنھیں مجبور کر کے کروایا گیا ہے۔ ورنہ وہ اتنا بھی نہ کرتے—اِس سے اُن کی قربانی اور بے غرضی عیاں نہ ہو گی۔ میں لالہ میّا داس کو کئی بار پرکھ چکا ہوں۔ وہ نہایت خودغرض آدمی ہیں… میں ایک بات آپ کو بتاؤں، اگر آپ کسی سے ذکر نہ کریں تو —‘‘
’’ہاں کہو—میں کسی سے نہیں کہوں گا—‘‘ پردھان نے اپنا کان، منھ پھٹ کے پاس لاتے ہوئے کہا:
’’بانشی مل اور رامے، دونوں کو اُس رات لالہ میّاداس نے پچاس پچاس روپئے دیے تھے کہ وہ اِس بات کی کوشش کریں کہ جہیز کی رسم اُڑا دی جائے، تاکہ اُس کی رقم بچ جائے— اور یہی وجہ تھی کہ بانشی اور رامے اُس دن بڑھ بڑھ کر باتیں بنا رہے تھے، ورنہ آپ خود ہی سوچیے کہ بانشی اور رامے دونوں کے گھر لڑکیاں ہیں ہی نہیں، بلکہ بانشی کے گھر چار لڑکے اور رامے کے ہاں دو لڑکے ہیں۔ ایک بھتیجی ہے جو کہ جوان ہے۔ لیکن اُس کا بھائی زندہ ہے۔ جو ہو گا کرے گا۔ اِس لیے قاعدے کے مطابق اُنھیں اِس بات کے خلاف ہونا چاہیے تھا یا حق میں——بانشی کا سب سے بڑا چھوکرا بارہ برس کا ہے اور رامے کا آٹھ برس کا… اُنھوں نے سوچا ہو گا کہ چلو اب تو پچاس پچاس کھرے کرو۔ بعد میں دس بارہ برس کے بعد جب لڑکے شادی کے قابل ہو جائیں گے، یہ جہیز کو بند کرنے والا رواج خود بہ خود بند ہو جائے گا‘‘۔
’’مگر اِس بات کا ثبوت—؟‘‘
’’ثبوت یہی کہ لالہ میّاداس اپنے بیٹے کرشن گوپال کی شادی کے وقت اپنا روّیہ بدل ڈالے گا اور آپ دیکھیں گے کہ بانشی مل اور رامے وغیرہ بھی اس کے ساتھ اپنا روّیہ بدلیں گے اور کہہ دیں گے کہ ہم نے غلطی کی تھی۔ دراصل جہیز کی رسم مجموعی طور پر ترک ہونی چاہیے—یہ بھی کہیں گے کہ انسان کی عقل ہی ہے نا—غلطی ہو سکتی ہے—اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہو گا کہ لالہ میّاداس خواہش کریں گے کہ کرشن گوپال، جو کہ بر سرِ روزگار ہے کسی بڑے گھر میں بیاہا جائے اور بہت جہیز اُس کے ہاں شادی میں آئے—‘‘
پردھان نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا ’’یہ بات ہے!‘‘
اور منھ پھٹ نے برابر کی آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا ’’جی ہاں‘‘۔
’’تو میں دیکھوں گا کہ کس طرح پنچایت کو لالہ میّاداس ایسے خود غرض آدمی، پیسے سے خریدتے ہیں اور کس طرح وہ اور بانشی اور رامے سے، ضمیر فروش آدمی سماج میں آرام سے سانس لیتے ہیں—‘‘
لالہ میّا داس کی ہدایت کے مطابق بانشی اور رامے پنچایت کے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ماروتی مندر میں پہنچے ہوئے تھے۔ لالہ میّاداس کہہ رہے تھے:
’’پنچایت کے سب آدمی، جہیز رکھنے کے حق میں ہیں۔ اب میں اِس رسم کے اُڑانے پر چنداں زور نہیں دوں گا۔ کیوں کہ میں نے منورما کے بیاہ میں کافی سے زیادہ پیسا خرچ کیا ہے، اس لیے میری بھی خواہش ہے کہ میں بھی جتنا جہیز مل سکے منظور کر لوں—میرے لڑکے کرشن گوپال کو رام بھُج دت ریٹائرڈ منصف کی چھوٹی لڑکی کا رشتہ ملتا ہے—جہیز کافی ملے گا۔ اگر اِس بات کا ذکر چھڑے تو تم بھی خاموش رہنا۔‘‘
بانشی نے کہا ’’مگر یوں ہماری پوزیشن خراب ہوتی ہے۔ وہ کہیں گے، کل یہ اِس رسم کے خلاف تھے۔ آج حق میں ہو گئے ہیں ،بلکہ اگر وہ تجویز پیش بھی کریں کہ جہیز کی رسم بند ہونی چاہیے تو آپ کو فوراً منظور کر لینی چاہیے کیوں کہ اِس طرح نہ صرف آپ کی پوزیشن برقرار رہے گی، بلکہ اُن کا الزام کہ آپ خودغرض ہیں، غلط ثابت ہو گا۔‘‘
’’مگر میں کہہ دوں گا کہ میں غلطی پر تھا۔ بیاہ بغیر جہیز، شوبھان نہیں ہو سکتا۔ یہ میں نے اپنی لڑکی کے بیاہ پر اندازہ لگایا ہے۔ وہ اِس بات کی تہ تک کب پہنچ سکیں گے کہ یہ میں اس لیے کر رہا ہوں کہ کرشن گوپال کی شادی میں کافی سے زیادہ جہیز آئے…‘‘
’’میں یہ بھی کہوں گا کہ جہیز نہ دینے سے نہ صرف سسرال میں لڑکی کی عزّت کم ہوتی ہے بلکہ ——‘‘
رامے نے کہا ’’مگر وہ شخص [لوگ؟] جنھوں نے یہ اندازہ لگا لیا کہ جہیز کی رسم اُڑانے کی تیاّریاں محض منورما کے بیاہ کی خاطر ہو رہی ہیں، وہ یہ بھی تاڑ جائیں گے کہ اب سب کچھ کرشن گوپال کے بیاہ کا پیش خیمہ ہے۔ کڑوا کڑوا تھو — میٹھا میٹھا ہپ!‘‘
’’اُن کے دل میں خواہ خیال تک بھی نہ آئے—چور کی داڑھی میں تنکا— پہلے تم نے میرے پیسے گنوائے ہیں۔ اُن کا حق تو ادا کرو کہ اگر وہ کہیں کہ جہیز کی رسم اُڑ جائے تو تم اُس کی مخالفت کرنا‘‘۔
بانشی نے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ’’رام رام ——وہ کہیں گے، یہ کس قماش کے آدمی ہیں‘‘۔
رامے بولا ’’شاید وہ یہ بھی اندازہ لگا جائیں [کہ؟] یہ کسی مخصوص وجہ سے اِس بات میں حصّہ لے رہے ہیں‘‘۔
بانشی اور رامے نے یک زبان ہو کر کہا ’’ہم نہیں ماننے کے… اب ہم کسی صورت میں جہیز کے حق میں نہیں ہو سکتے‘‘۔
پردھان جی نے پنچایت کے کمرے میں داخل ہوتے ہی، روپئے کی خفیف سی کھنکار [کھنک؟] سُنی… اُن کا ما تھا ٹھنکا——تینوں کو ایسے موقعے پر یک جا ہوتے دیکھ کر وہ کچھ سمجھ گئے۔ مگر انھوں نے یوں ظاہر کیا ،جیسے کچھ جانتے ہی نہیں اور اُن کے ساتھ خوش گپیّوں میں مصروف ہو گئے۔
پنچایت لگتے ہی پردھان جی نے جہیز بند کر دینے کا تذکرہ چھیڑا:
’’اب کہ لالہ میّاداس نے منورما کے بیاہ سے آپ کے شکوک رفع کر دیے ہیں۔ اُمید ہے آپ جہیز بند کر دینے کے حق میں ہوں گے۔‘‘
لالہ میّاداس نے بڑے لمبے چوڑے طریقے سے بتایا کہ وہ اُن کی غلطی تھی اور وہ منورما کے بیاہ کے بعد اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بیاہ میں جہیز نہایت ضروری چیز ہے۔ اس کے بغیر کنّیا کی سسرال میں عزت نہیں ہو گی— —‘‘ اور اِس بات کی بانشی نے تائید کی۔
رامے کہنے لگا ’’لالہ گردھاری لال نے درست کہا تھا کہ رسم مجموعی طور پر بند ہو تب ہی اچھّا ہے… میرے خیال میں…‘‘
’’نہیں نہیں—— ایسا نہیں ہو سکتا ’’منھ پھٹ نے بات کاٹتے ہوئے کہا ’’اب یہ سب باتیں کرشن گوپال کے بیاہ کی خاطر ہو رہی ہیں۔‘‘
—— اور پنچایت کے سب آدمی میّاداس کے خلاف بولنے لگے۔ حُقّے کی نال پرے کرتے ہوئے اور اپنی سفید مونچھوں کو سنوارتے ہوئے پردھان نے پوچھا:
’’کیا کرشن کی شادی کا انتظام ہو گیا ہے؟‘‘
میّاداس نے جواب دیا ’’ابھی نہیں‘‘۔
’’کیوں نہیں ——‘‘منھ پھٹ نے کہا ’’رام بھُج دت کون شخص ہے— اُس دن کشمیری ٹوکری میں شگن نہیں تھا کیا؟‘‘
لالہ میّاداس کچھ کھسیانے سے ہو گئے۔ اُن سے کوئی جواب نہ بن آیا۔ پردھان جی نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا:
’’لالہ میّا داس نے لڑکی کی شادی کے وقت جہیز کے خلاف ہو کر اور کرشن کی شادی پر اُس کے حق میں ہو کر اپنی خود غرضی کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔ ہمارے پاس اِس بات کا بھی کافی ثبوت ہے کہ انھوں نے پنچایت کے چند افراد ——بانشی، رامے ، نرائن وغیرہ کو پیسے سے خریدنے کی کوشش کی ہے اور پنچایت کی تاریخ میں ایسی بددیانتی کی مثال نہیں ملتی…‘‘
’’جھوٹ—سفید جھوٹ—‘‘ بانشی نے تڑپتے ہوئے کہا ’’اِس بات کا ثبوت؟‘‘
’’اِس بات کا ثبوت وہ باتیں ہیں جو ابھی پنچایت لگنے سے چند منٹ پیشتر تم کر رہے تھے اور جو اِن کانوں نے خود سُنی ہیں۔ اگر اِس سے زیادہ ثبوت چاہتے ہو، تو مجھے اپنی جیبیں ٹٹولنے کی اجازت دو…‘‘
بانشی نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا’’…مگر یہ بیس روپئے میں نے میّاداس سے اُدھار لیے ہیں—‘‘
’’اونہہ‘‘—پردھان جی نے کہا ’’رامے نے بھی اِتنے ہی روپئے میّاداس سے قرض لیے ہیں اور تم سود خوار، جو جاٹوں کو سیکڑوں روپیا قرضہ دیتے ہو،میّاداس سے بیس روپئے کی حقیر رقم کیوں لینے گئے تھے — ٹھیک … عذرِ گناہ بد تر از گناہ —‘‘
لالہ میّا داس ، بانشی رام، رامے شاہ، نارائن مل اور اُن کے حواریوں نے شرم سے اپنی گردنیں جھکا لیں۔ حاضرین پانچ منٹ کے قریب خاموش رہے۔ اِس اثنا میں پردھان جی نے کاغذ پر کچھ لکھا۔ اُن لوگوں کے سوا سب نے وہ تحریر پڑھی اور اُس سے اتفاق کیا۔ تحریر تھا۔ ’’لالہ میّاداس سے مکمل عدم تعاون کیا جائے تا آں کہ اُن کے کرم اور اُچّار سے اُن کے شُدھ ہونے کا پتا چلے اور لالہ بانشی مل ، رامے شاہ، نارائن اور اُن کے ساتھیوں کو دو سال کے عرصے تک رائے دینے کے حق سے محروم رکھا جائے— جہیز کی رسم فی الحال جاری رہے‘‘۔
چند ماہ بعد لوگوں نے دیکھا کہ میّاداس اپنے کاروبار کو تباہ و برباد ہوتا دیکھ کر رُہل گانو چھوڑ رہا تھا۔ اُڑتی اُڑتی یہ خبر بھی پردھان کے کانوں میں پہنچی کہ رام بھُج دت نے اپنی لڑکی کا رشتہ لالہ میّاداس کے لڑکے سے اِس بنا پر توڑ لیا ہے کہ اِن لوگوں کی برادری میں نہیں بنتی۔

٭٭٭

"jhelum aur taru" A Famous Urdu Short Story By Rajinder Singh Bedi


جہلم اور تارو
راجندر سنگھ بیدی
 ڈھوک عبد الاحد کے پچھم کی طرف کھاڑی کی جانب سے آنے والی بھیگی ہوئی ہواؤں کی عین زد میں چند ٹوٹے پھوٹے مکان تھے۔ سماج کے غریب طبقے کے لوگوں کو اس جگہ اکٹھا کر کے ،اِن کے علاقے کو ٹھٹّی کا نام دے دیا تھا۔ ٹھٹّی کے باسی اپنی محنت کشی اور مصائب سے پُر زندگی کے باوجود خوش اور مطمئن رہتے تھے۔ آئے دِن اِن کے ہاں کوئی نہ کوئی تقریب ہوتی۔ وگرنہ بھوت نکالنے کے لیے تھالیوں کے کوٹے جانے کی آواز اور دف کی چوٹ تو اکثر سنائی دیتی۔ یہاں ایک ایسی مخلوق بستی تھی جو دنیا کی چوٹیں سہتی ہوئی بھی مُڑ مُڑ کر دنیا کو دعائے خیر دیتی ہے۔ کام اِس کا ہے ایک اَنتھک خدمت گزاری۔ شاعر کی مانند اپنے محنت کش کام سے، جس کا نعم البدل کبھی بھی کوئی ادا نہیں کرسکا— وہ ایک دلی شغف رکھتی ہے۔ اس کی آنکھیں تو کھلی ہوتی ہیں، لیکن شکایت کے لب بند۔ یہ لوگ پیتے ہیں، لیکن غم کو غلط کرنے کے لیے نہیں اور عموماً غیر قانونی طور پر کماد میں چھپ کر کشید کرتے ہیں۔ پکڑے جاتے ہیں۔ قید ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی ایسا کرنے سے چوکتے نہیں۔
کبھی کبھی بیساکھی یا رنگ پور کا میلہ [کے مِیلے] میں یہ لوگ پھُنمیاں، بھنگڑا، جھُمّر، لُڈّی اور اِس قسم کے مستانہ دیہاتی ناچ ناچتے ہوئے، الغوزے بجاتے ہوئے، ایک ہاتھ کو کان پر رکھ لیتے ہیں اور گلے کی رگوں کو پورے زور سے پھُلاتے ہوئے گاتے ہیں۔
لاٹ مُلکھ دامور مورنسی1 جے خوشیاں2 وچ آ جاوے
بتّی چک3 تے صوبے سارے میرے ناں لوا جاوے
رشتے داراں4 آ پنیاں نوں بانْہوں پھڑکے تار دیاں
ٹھیکہ دار5 بشن سنگھ نوں پھاہے لا کے مار دیاں
اس وقت متمدّن انسان، جو کہ اپنی مہذّب لیکن دُکھوں سے بھری ہوئی زندگی سے فرار ہو کر اپنی اسی محروم الارث اولاد کے پاس آ کر کھڑا ہوتا ہے، وہ حیرت سے چند لمحات کے لیے انگلیاں منھ میں ڈال کر سوچتا ہے۔ کیا ہم لوگوں نے اِنھیں اپنی میراث سے محروم کر دیا ہے یا اِن لوگوں نے ہمیں اپنی میراث سے!
پھُوس کی اِن جھونپڑیوں اور خستہ حالت کچّے مکانوں میں دو پکّی اینٹ کے مکان نمایاں نظر آتے تھے۔ ایک مکان داروغہ قدرت اللہ کا تھا۔ جب لوگوں کو اِن سے [پر؟] بہت پیار آتا ، تو وہ ناچنے کی بجائے داروغہ میں الف کے تکلّف کو برطرف کرتے ہوئے بے تحاشا دروغا جی، دروغاجی پکارنے لگتے۔ دروغا کے لفظ سے یوں سمجھائی دیتا ،جیسے صرف و نحو کے کسی اناڑی طالب علم نے اسمِ تصغیر کی مشق کرتے ہوئے کھاٹ سے کھٹولا ، ٹٹو سے ٹٹوا، مرد سے مردُوا اور دروغ سے دروغا بنا لیا تھا ۔ جدّت تو بہت تھی، لیکن فقط اتنی سی کسر تھی کہ اسمِ تصغیر کی رو سے اگر دروغا کا کوئی مفہوم نکل سکتا تھا تو وہ چھوٹے جھوٹے کا تھا۔ حالاں کہ وہ ایک عظیم الشان جھوٹے تھے۔ ان میں سے بعض اس قدر معصوم تھے کہ وہ دروغ کا مطلب نہیں سمجھتے تھے۔ اِس میں طرفین کو فائدہ تھا… دراصل قدرت اللہ کو یہ نام اللہ کی قدرت نے ودیعت کیا تھا۔ زبان کر کے مکر جانا، رشوت ستانی کے لیے باپو کی بیکری کی روٹی میں خواہ مخواہ نقص بینی کرنا، اُن کا خاص مشغلہ تھا… اور داڑھی اُن کی بالکل شرعی تھی!
داروغہ جی کے مکان کی بغل میں ایک لمبا چوڑا احاطہ تھا۔ اس کے اندر ایک بڑا وسیع مرغی خانہ تھا، جس میں ولایتی قسم کے مرغ بھی تھے اور بڑی رقم صرف کر کے کھاڑی کے اُس پار سے منگوائے گئے تھے۔ اِس مرغی خانے کے مالک ڈھوک کے بڑے شاہ (بینکر) دیوان مُنّی ڈبّی تھے۔ ان کا اصلی نام تو دیوان چند اور پھر دیوان چند شاہ تھا، لیکن بعد میں یہ دیوان مُنّی ڈبّی کے نام سے ہی مشہور ہو گئے۔ مُنّی ڈبّی کا مطلب ہے پون پڑوپی1 ۔ روایت ہے کہ جب دیوان چند شاہ صاحب ابھی سود کھانے والے شاہ نہیں ہوئے تھے، یعنی فقط دیوان چند بلکہ دیوانے اور او دیوانے ہوتے تھے، تو ان کی روز مرّہ کی ضروریات اور چھوٹے موٹے کپڑے کی بھی دُکان تھی۔ جب گرد نواح کے گانووں سے عورتیں اجناس لے کر اُس کے عوض میں چیزیں خریدنے آتیں، تو خواہ وہ سیر ہی جنس لاتیں، دیوان مُنّی ڈبّی اُسے اتنے فنی کمال سے تولتے کہ وہ پاؤ پڑوپی ہی ثابت ہوتیں (جس میں عورتیں مستثنیات ہیں) اس لیے بدصورت عورتوں نے اسے یہ خوب صورت نام دے دیا تھا۔ قصبے میں دو تین بیکریوں کے کھُل جانے سے انڈوں کی بِکری ہونے لگی تھی اور اب تو انڈوں کا نکاس اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ نہ صرف بابو وغیرہ ہی وہاں سے انڈے خریدتے، بلکہ کھاڑی کے دوسری طرف شہر کو بھی بھیجے جاتے تھے۔
پکّی اینٹ کا سب سے اونچا مکان نبی بخش کا تھا، جو کہ اُس نے اپنی چہیتی جہلم کے اصرار پر بنوایا تھا۔ نبی کی عمر چوّن پچپن برس کے قریب تھی۔ وہ اُن کشتیوں کا واحد مالک تھا جن میں مال و اسباب اور مسافروں کو کھاڑی کے اِس کنارے سے دوسرے کنارے اور دوسرے کنارے سے اِس کنارے تک لانے اور لے جانے کا اُسے سرکاری طور پر ٹھیکا ملا ہوا تھا۔ ہر سال نبی بخش بوڑد کے ممبروں کو کھِلا پلا کر اپنا کام بنا لیا کرتا۔ دوسرے کنارے کے بابو لوگ اِس کشتی کو ’’فیری‘‘ کہتے تھے۔ اور یہ نام نہ صرف نبی بخش کو بلکہ سب گانْو والوں کو حفظ ہو گیا تھا۔ وہ اُسے کشتی کے بجائے فیری ہی کہنے لگے تھے۔
تو وہ مکان نبی بخش نے جہلم کے لیے بنوایا۔ اوپر چوبارے پر جہلم کے بیٹھنے کے لیے ایک خوب صورت دریچہ بھی بنوا دیا۔ اور دریچے کے پاس ایک کالی ہانڈی لٹکا دی۔
جہلم نبی بخش کی چوتھی بیوی تھی۔ اِس سے پہلے اُس کی تین بیویاں مر چکی تھیں۔ باپو کا خیال تھا کہ نبی بخش منگلیک تھا۔ تیسری بیوی کے فوت ہونے تک نبی بخش اس بات کو نہ مانا۔ لیکن اس کے بعد اُس نے سوچا کہ ہندو عورتیں بھی تو پیروں کے مزار پر جا کر اولاد کے لیے اپنی چوٹی کے بال باندھ آتی ہیں۔ منّتیں مانتی ہیں، اِس لیے اُس نے چپ چاپ اوپائے کروا لیا۔ چونکہ فیری سے اچھّی خاصی آمدنی ہو جاتی تھی، اس لیے چوتھی بیوی کی تلاش میں اُسے کوئی بھی دقّت پیش نہ آئی۔ جہلم کے ماچھی (ماہی گیر) والدین نے ایک سو پندرہ روپئے آٹھ آنے نقد یک مشت اور سال بھر فیری پر مُفت مچھلیاں پکڑنے کے عوض اپنی منجھلی بیٹی کو نبی بخش کے ہاتھ بیچ دیا۔ نبی بخش کو یہ سودا مہنگا پڑا۔ اب شادی کو چار سال ہو گئے تھے اور ابھی تک جہلم کا باپ اُسی کی فیری میں مچھلیاں پکڑتا۔ اُسی کی کمائی میں ہاتھ بٹاتا۔ اور جہلم ،جس کی عمر بیس اِکیس سال سے زیادہ نہ تھی اور جو شکل سے اُس کی پوتی دکھائی دیتی تھی،اُس سے نفرت کرتی تھی اور بڑی حسرت سے نو عمر چھوکروں کو دیکھا کرتی۔ خاص طور پر تارُو کو۔ لوگ اِس بات پر حیران تھے کہ چار برس کے گزر جانے پر بھی جہلم زندہ تھی۔ وہ اوپائے کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔ تارُو کے گھر میں بھی، جب اِس ضمن میں بات ہوتی، تو باپو بڑے زور سے مُکاّ گھما کر کہتا ’’اوجی میں سمجھتا ہوں جہلم خود بھی تو منگلیک ہے نا۔ اور جو سانپ کو سانپ لڑے[ڈسے؟] تو بِس کس کو چڑھے؟۔‘‘
جہلم ایک چھوٹے سے قد کی، پتلی سی خوب صورت عورت تھی۔ بچپن میں باپ کے ساتھ کھاڑی کی دھوپ دیکھنے سے اُس کا رنگ پکّا ہو گیا تھا۔ اُس کے ہونٹوں میں موٹائی کی جھلک تھی اور اُن پر چھوٹی چھوٹی لکیریں عمداً [کذا] پڑی ہوئی تھیں، جس طرح جونک کی پشت پر ہوتی ہیں اور   حسبِ ضرورت سمٹ سکتی ہیں یا پھیل جاتی ہیں۔وہ لب گیلے ہوتے تھے تو اچھّے دکھائی دیتے تھے اور جب سوکھے ہوتے تو پھر… پھر اور بھی اچھّے دکھائی دیتے۔ ایک قسم کی غنودگی سے پٹی ہوئی آنکھوں اور گھنے ابروؤں کے بالوں نے خود ہی اپنے تیر اور ترکش کو چھپا لیا تھا۔ آنکھوں میں دراصل ایک ہمیشہ شبابی، شرابی کیفیت تھی جو پل بھر میں اضطرابی ہو جاتی، اور آنکھیں بہت تیزی سے پپوٹوں میں حرکت کرنے لگتیں۔ گویا کسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش کر رہی ہوں۔ جہلم کے بال بھورے تھے اور روکھے۔ ان میں سے وہ ایک لٹ علاحدہ کر کے عمداً منھ پر ڈال لیتی تھی۔
بچپن میں وہ بہت سیدھی سادی تھی۔ لیکن زمانے نے اُسے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ اب وہ اپنے شباب کے ساتھ کی گئی بے انصافی کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ تارو کو جہلم کی نگاہوں نے پالا ہے۔ گویا تارو نے ماں کا دودھ تو پیا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ تارو کو زبانی پیار کرتے، لیکن دل سے کوستے تھے۔ تارو کے متعلق اُن کا خیال محض ایک حسین تخیل تھا،کیوں کہ تارو جہلم سے نفرت کرتا تھا۔ تارو1 میں جنسی جذبہ سنِ بلوغ سے بہت پہلے بیدار ہو چکا تھا۔ وہ پتلی، نازک اندام عورتوں کی بجائے قدرے موٹی اور گدرائے ہوئے جسم کی عورتوں کو پسند کرتا تھا۔ وہ گوشت کا قائل تھا۔ سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ نوخیز اور کنواری لڑکیوں پر ، درمیانی عمر کی شادی شدہ عورتوں کو ترجیح دیتا۔ سامنے سے آتی ہوئی عورت اُسے کبھی بھی متاثر نہیں کرتی تھی۔ وہ عموماً عورتوں کو پشت کی جانب سے دیکھنا پسند کرتا۔ وہ اکثر سب سے لمبی گلی کے موڑ پر کھڑا ہو کر جاتی ہوئی عورت کے نشو و نما پائے ہوئے کولھوں کو اُس کی رفتار کے ساتھ ہلتے ہوئے دیکھتا اور اُس وقت تک دیکھتا رہتا ،جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔ اس کے بعد تارو کو دل کی دھک دھک کی آواز سنائی دیتی، یا منھ کو گیلا کرنے کے لیے پانی کے ایک گھونٹ کی ضرورت محسوس ہوتی۔ تارو جہلم کو محض اِس لیے ناپسند کرتا تھا کہ وہ پتلی تھی اور عمر کی چھوٹی اور پیٹھ کی طرف سے تو وہ ایک کم سِن بچّی دکھائی دیتی تھی۔
البتّہ جہلم، تارو کو کھلاتی بہت تھی۔ وہ مُنّی ڈبّی کے، یعنی اُس کی مرغیوں کے انڈے چُرا لاتی اور گھی میں بھون دیتی۔ جب تارو سارا دن بیکری میں جان مارنے کے بعد تھک ٹوٹ کر چُور، اُس راستے سے گھر جاتا ،تو اُسے بلا کر کھلا دیتی۔باوجود نفرت کے تارو ،جہلم کے ہاں کیوں جاتا، اِس کی وجہ تارو کا بچپن تھی۔ وہ کھانے کے معاملے میں کمزور واقع ہوا تھا۔ جب کبھی اُسے کھانے کا خیال آتا، تو وہ نفرت اور نتیجہ دونوں کی پروا نہ کرتا۔ جہلم اُس کے بچپن سے واقف تھی اور اُسے اپنے فن کے متعلق ضرورت سے زیادہ خوش فہمی تھی۔
اُس دن تارو ،باپو کی دھمکی کی وجہ سے اُس راستے سے نہ گزرا۔ جہلم اپنی چارپائی پر پڑی پہلو بدلتی رہی، حتّی کہ بہت اندھیرا ہو گیا۔ اور ہر روز شام کو کھاڑی کی جانب سے آنے والی بھیگی ہوئی ہوائیں دروازوں سے ٹکرانے لگیں۔ روشن دان کے ایک چھوٹے سے خانے میں کوئی جانور اس طور پر مر گیا تھا کہ اُس میں سے گزرتی ہوئی ہوا سیٹی بجاتی تھی اور یہی نبی بخش کے آنے کا الارم ہوتا تھا۔
تھوڑی دیر میں دروازہ پٹ سے کھُلا اور نبی بخش اندر داخل ہوا۔ اُس نے پینس کی چادر کو اُتار، کنڈے دیوار کے ساتھ رکھے اور آتش دان کے قریب کھڑا ہو کر جہلم کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد آگے بڑھا اور اُس کے کندھے کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا۔
’’سو رہی ہے نبّو؟1 ‘‘
جہلم سو نہیں رہی تھی، لیکن سونے کے انداز سے پہلو بدلتے اور جمائی لیتے ہوئے بولی۔
’’ہاں، ہاں۔‘‘
نبی بخش نے پیار سے اُس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔ اور پُچکارتے ہوئے بولا ’’مجھے بھوک لگ رہی ہے، لیکن تم سو رہی ہو، میں خود ہی کھانا نکال لوں گا‘‘ اور پھر خود ہی معترض ہوتے ہوئے کہنے لگا ’’اوہ ! میں کتنا تنگ کرتا ہوں نبّو کو…‘‘
نبی بخش کی آواز میں پدرانہ شفقت تھی۔ اس سے جہلم محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔ گو وہ خاوند کے طور پر اُس سے نفرت کرتی تھی، لیکن باپ کے طور پر اُس پر فدا تھی۔ اِس وقت وہ محبت بھری نگاہ سے بوڑھے کی سب حرکتوں کو دیکھتی رہی۔ نبی بخش آتش دان کے قریب کھڑا ہو گیا اور چھینکے پر روٹیاں ٹٹولنے لگا۔ کچھ دیر بعد اُس نے دو تازی اور دو باسی روٹیاں نکالیں۔ بٹھل میں سے پیاز اور نمک لیا۔ پھر اُس کی نظر ٹوکری کے قریب رکابی میں بھُنے ہوئے انڈوں پر جا پڑی۔ نبی بخش نے اس میں سے کچھ منھ میں ڈال لیے۔ جہلم نے منع نہیں کیا۔ اب تارو تو آئے گا نہیں۔ بوڑھے نے سوچا، کتنی محبت سے انڈے بنائے ہیں میری بنّو نے میرے لیے۔ اس کے بعد اُس نے دوسرا چمچہ منھ میں ڈالا۔ وہ اتنا لذیذ تھا کہ وہ پھر اپنی نبّو کو پیار کرنے کے لیے مجبور ہو گیا۔ اور جب وہ جہلم کو پیار کر رہا تھا ، تو جہلم کا جی چاہا کہ وہ مچل جائے۔ بچّوں کی طرح کوئی ضد کرے۔ یہی کہہ دے۔ اکیلے اکیلے کھا رہے ہونا۔ پوچھا تک نہیں۔ پھر نبی تیسرا چمچہ اُس کے منھ میں ڈالے گا۔ پھر پانچواں پھر ساتواں… اور آملیٹ سی ختم ہو جائے گی۔ پھر تارو نہ ہو گا تو کیا ہو گا؟
کھاڑی کی طرف سے آنے والی ہوا دروازوں کو بہ دستور تھپ تھپا رہی تھی۔ دروازے پر ایک ہلکا سا کھٹکا ہوا۔ جہلم جانتی تھی۔ اس کا کیا مطلب ہے— تارو! اُس نے گھبرا کر آتش دان کے قریب خالی پڑی ہوئی رکابی کو دیکھا۔ اور اُس کے ہونٹ سوکھنے لگے۔ یہ بہت اچھی بات تھی… اور بوڑھا اِس وقت سونے کے لیے اپنے گرم و نرم بسترے میں داخل ہو چکا تھا۔ جہلم ایک مصنوعی انگڑائی لے کر اٹھی اور نبی بخش کے بستر پر جھکتے ہوئے بولی۔
’’سوجاؤ۔ سو رہے ہونا۔ جگانا مت مجھے… اوئی اللہ، صبح سے سر میں درد ہو رہا ہے— کچھ آنکھ لگ جائے تو …‘‘
نبی بخش نے پھر اُسی لہجہ میں کہا۔
’’میں کیوں جگانے لگا اپنی نبّو کو۔‘‘
’’میں دیا بجھا دوں نا۔‘‘
’’ہاں بجھا دو —لوٹا رکھ دیا سرہانے؟‘‘
’’رکھ دیا۔‘‘
جہلم نے دِیے کو ایک ہاتھ مارا اور تاریکی چاروں کونوں میں پھیلی گئی۔ اُس نے دِیا سلائی کو ہاتھ میں لیا۔ آہستہ سے دروازہ کھولا۔ باہر نکلی۔ باہر سے ہی دروازے کی زنجیر چڑھا دی۔ اب اُس کے قریب تارو کھڑا تھا۔ جہلم نے کئی دفعہ اُسے رات کو آنے کے لیے کہا تھا۔ دن کو لوگ دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن تارو لاکھ ذہین تھا ،پھر بھی بچّہ تھا۔ وہ جانتی تھی آج اِتنی رات گئے اُس کے یہاں آنے کا کیا مطلب ہے۔ جہلم کی رگوں میں خون دوڑنے لگا۔ تارو شروع سے بے اعتنا رہا تھا۔ آج خود بخود ہی چلا آیا۔
تارو نے اندھیرے میں جہلم کے ہاتھوں کو پکڑا۔ ہاتھوں میں دیا سلائی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ معاً جہلم کا خیال رکابی کی طرف چلا گیا۔ اِس سے پہلے جو اُس کی زبان کو تالا لگ گیا تھا۔ اُس کی کُنجی مل گئی۔ وہ بولی ۔
آج تمھاری چیز بڈّھے نے کھا لی ہے۔ تارو!‘‘
’’میں آج کھانے نہیں آیا۔‘‘
جہلم کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اُس نے محسوس کیا، تارو کے ہاتھ اُس کی نسبت بہت ٹھنڈے تھے۔ اور تارو پر کچھ اضطراب اور بے دلی کی سی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ جہلم بولی۔
’’بہت تھک گئے ہو آج؟‘‘
’’نہیں ، یوں تو آج دوپہر سے کوئی کام نہیں۔‘‘
’’تو کیا ہے پھر؟‘‘
’’لکھمی نے پکوڑیاں لینے بھیجا ہے—— جلدی ہے مجھے نبّو۔‘‘
جہلم کو اِس نام سے سخت نفرت پیدا ہوئی۔ لیکن وہ خاموش رہی۔ اُس کا دل بُجھ سا گیا۔ تو آخر تارو اپنی بھابی کے کسی کام پر آیا ہے لیکن … شاید اُسے اپنے آنے کی کوئی وجہ تو بیان کرنی ہے ہی نا۔۔ وہ پُر شِکوہ انداز سے بولی۔
’’لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں۔‘‘
’’کس بات کا؟‘‘
’’یہی، ملنے کا… عورتیں کہتی میں تو تارو سے بہت رات گئے ملتی ہے۔‘‘
تارو اِس کنائے کو سمجھ کر کانپ اُٹھا، اور بولا ’’مجھے جانا ہے۔ ایک بات پوچھتا ہوں تم سے۔‘‘
جہلم نے جی ہی جی میں ایک کاہش سی محسوس کرتے ہوئے کہا ’’کہو۔‘‘
تارو بولا ’’میں پوچھتا ہوں——وہ لج لجے بالوں والا خوب صورت کالا کُتّا، جس کی تم اُس روز اتنی تعریف کر رہی تھیں کسی کا ہے؟‘‘
——————
 ڈھوک عبد الاحد، دوسرا کنارہ اور بیکری
ڈھوک کے ٹیلے پر چڑھنے سے پشت کی جانب ایک پورا اور مدوّر منظر کھل جاتا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے قدرت نے جادو کی چھڑی سے تین چھوٹے چھوٹے خوب صورت گانووں کی تخلیق کر دی ہو، یا ایک بڑا گھڑیال اور اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچّے پانی سے نکل کر دھوپ تاپنے کے لیے کنارے کی خوب صورت اور چمکیلی ریت پر لیٹ گئے ہوں۔ ڈھوک عبد الاحد کا قصبہ، کھنگواڑی اور بٹّی نور بیگ کے گانو ایک دوسرے سے تھوڑے فاصلے پر واقع ، سرسبز و شاداب درختوں میں گھرے ہوئے باغِ عدن کے حسین ما بقی، ایک بے ربط سی مساوی الثاقین مثلّث کے کونے بنتے ہیں۔ کھاڑی کے جوار بھاٹے کے عین زد میں واقع، لیکن حیرت انگیز طور پر بچی ہوئی کھنگواڑی اور بٹّی کی جھونپڑیاں ٹیلے پر سے بالشتیوں کے محلوں کا دھوکا دیتی ہیں۔ اِن گانووں کا فاصلے کی قربت ہی کی وجہ سے تعلق نہیں، بلکہ اگر ڈھوک میں پیدا ہونے والی ناجو، کھنگواڑی کے کسی جاٹ کی بیوی ہو جاتی، تو ڈھوک کا کوئی گوجر، کھنگواڑی کی مہذان کا بہنوئی بن بیٹھتا ہے۔ اور اس طرح ہر روز ڈھوک، کھنگواڑی اور بٹّی کے کسانوں کی بہو بیٹیاں تحصیل کے آوے کے نیم پختہ برتنوں میں چھلکتی ہوئی چھاچھ لیے، سر پر برتنوں کا وزن درست کرتی ہوئی، ایک دم میکے سے سسرال اور سسرال سے میکے چلی جاتی ہیں۔ باجرے کے کسی کھیت کے کنارے اُن کا ملاپ ہو جاتا ہے پھر وہ آپس میں بڑے لطیف ٹھٹھّے کرتی ہیں۔ کبھی کبھی اپنے کسی باہمی رشتے دار کی کم ظرفی کا طول و طویل قصّہ چھیڑ کر ایک دوسرے کو طعنے دیتی ہیں۔ وہ گاجر سے لڑتی ہیں اور مولی سے مان جاتی ہیں۔
پھر ایک طرف سے ’’ہٹ ہٹ‘‘ کی آواز آتی ہے۔
لکھا سنگھ اور اس کا بھائی شیرو ہل چلا رہے ہیں۔
’’ہٹ ہٹ!‘‘
لکھا سنگھ نے اپنے لج لجے پَلّو کو ایک بڑی سی گانٹھ دے کر کمر کے پیچھے کس لیا ہے۔ اگرچہ پنجاب کے دیہاتی پیمانے کے مطابق، سورج سوا نیزے پر اُتر آیا ہے، لیکن لکھا سنگھ قریب ہی اُگے ہوئے شیشم کی جاں بخش اوٹ کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ دھوپ میں ننگا کھڑا ہل کی ہتھّی پر اپنی بساط سے زیادہ زور ڈالتا ہے، تاکہ پھال دور تک زمیں دوز ہوتی چلی جائے۔ سورج کی گرمی سے اُس کی آنکھوں کے ڈورے پھول جاتے ہیں۔ پنڈلیوں اور بازوؤں پر رگیں اُبھر آتی ہیں۔ چہرے کے آڑے ترچھے خطوط میں سے پسینہ بہہ بہہ کر داڑھی میں بڑے بڑے قطروں کی صورت میں اَٹکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پھر وہی ’’ہٹ ہٹ‘‘ کی آواز دُہرائی جاتی ہے، اور بیلوں کی مریل سی جوڑی مُڑ کر زمین پر پڑتی ہوئی مستطیلوں کے اندر ایک اور کا اضافہ کر دیتی ہے— اور لکھاسنگھ کی محنت کا اجر شہری لے جاتے ہیں۔ اور وہاں سے مانچسٹر اور برمنگھم والے۔ لکھّا اور اُس کے بچّوں کے پیٹ توے کے مانند پشت سے لگ رہے ہیں۔ خدا معلوم اِس پر بھی وہ کیوں خوش ہیں اور غیر جوں جوں ان کی محنت کے اجر کو لیتے ہیں، اُن کی ہوس رانی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ جب تلک لکھّا کے گندم کے تمام خوشے کا نگیاری1 میں تبدیل نہیں ہو جاتے، یا جب تک اُس کے کھیت کے گندم کے ایک خوشے میں پچّیس تیس بالیاں اور اُن بالیوں میں ایک تندرست دانہ بھی اُن کے لیے بچ رہتا ہے، وہ شکایت نہیں کرتا۔ البّتہ جب کبھی لگان ملبہ2 کا ذکر آتا ہے تو وہ ببراکالی3 کی طرح خوف ناک بن جاتا ہے۔ پھر اُسے گورو کے باغ کا مورچا یاد آتا ہے، جس میں اُس نے ایک سو چار لاٹھیاں کھائی تھیں اور تب کہیں گرا تھا۔ اُس کی ہمت پر بیٹی صاحب بھی عش عش کر اُٹھا تھا اور اسپتال کی تمام نرسیں اُس کے قد آور جسم کو باری باری دیکھنے آئی تھیں۔ اس وقت لکھا سنگھ آٹھ دس گالیاں سناتا ہے۔ نصف ملکی خادموں کو اور نصف سرکار کو اور اس کے اعضا حرکتِ عمل کے لیے پھڑکنے لگتے ہیں۔ آخر اس کا جوش اُداسی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ ہَل کی ہتھّی چھوڑ کر شیشم کی جاں بخش اوٹ میں بیٹھ جاتا ہے۔ اپنے بکھرے ہوئے کیشوں میں سے جوئیں نکال کر مارتا ہے اور پھر ناچار وارثؔ کا سہارا لیتا ہے۔
چھالے 4 پئے نے ہتھ تے پیر پھُٹے
سانوں داہی دا کم نہ آؤندا ای
راتیں دُکھاں دے نال نہ نیند پیندی
دن روونے نال دہاوندا ای
کھاڑی کے اِس کنارے، ڈھوک کے اِس ٹیلے کے اوپر کھڑے ہونے سے کھاڑی کا دوسرا کنارہ بہت دور ایک دھُندمیں لپٹا ہوا نظر آتا تھا۔ دوسرے کنارے پر اور اُس سے پرے کیا ہے، یہ دیہات کے بہت سے لوگ نہیں جانتے تھے۔ وہ لکھا ، شیرا اور اس کے بہت سے بھائیوں کی طرح محنت کشی کے باوجود اپنا اجر نہ پاکر اپنی اِس حالت کو کبھی کانگریس کے ستیہ گرہ اور کبھی سرکار کی سخت گیری پر محمول کرتے اور دونوں کو بے تحاشا گالیاں دیتے اور ایسا کرنے میں اُنھیں مساوات کا خاص خیال رہتا۔ آخر میں وارثؔ ہی پر قناعت ہوتی۔ بہت ہوتا تو ’’قادر یار‘‘ بھی ہو جاتا۔ کھاڑی کے آسمان پر وہی پرند دکھائی دیتے جن کے پروں کے کھلنے کے لیے اِس بے ربط مثلّث پر کا آسمان ناکافی تھا۔ کنارے پر وہی یا چک (دان لیوا) منڈلاتے، جن کے دامن کی وسعتوں کے لیے ادھر کا دان تھوڑا تھا۔
سندر ، سوہن اور تارو، دوسرے کنارے کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور نہ ہی انھیں جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ یہی گانو ان کی کل کائنات تھی۔ بیکری کا کام اتنا زیادہ تھا کہ اُس پر سے ایک پل بھر کی فرصت نہ ملتی تھی۔ البتہ باپو بیکری کی روٹیوں اور بسکٹوں کے سلسلے میں کئی مرتبہ دوسرے کنارے پر گئے تھے اور اکثر اُس پار کے بہت سے واقعات تینوں بھائیوں، بہنوں اور اس کی ماں کو سنایا کرتے تھے۔ بنتو کو کچھ سمجھ نہ آتی اور امّاں فقط ایک تسکین کا سانس لیتی، جس کا مطلب ہوتا ’’میں تو خوش ہوں کہ طوفان کے باوجود تم اس نامراد کھاڑی سے صحیح سلامت واپس آ گئے۔‘‘ تینوں بھائیوں کا تخیّل بیدار ہو جاتا، اور بسا اوقات جب وہ بیکری کے دوزخ نما چولھے میں سے اپنی آخری ڈبل روٹی نکالتے تو فوراً کھاڑی کے کنارے پر جا کھڑے ہوتے، اور مستفسرانہ نگاہوں سے فیری میں سے اترنے والے مال و اسباب، مسافروں کے رنگ روپ، چال ڈھال اور وضع قطع کا معائنہ کرتے۔
ٹیلے پر سے اُس پار، حدِّ نگاہ سے ورے، انھیں صرف ایک نقرئی سی لکیر سورج کی شعاعوں میں چمکتی ہوئی نظر آتی جو کہ دن ڈھلے پر دھُند کے ایک کثیف سے پردے کے پیچھے غائب ہو جاتی۔ شاید وہ لکیر پانی کی ایک ندی تھی، جو کہ ڈھوک عبد الاحد کے شمال میں میلوں دور کھاڑی سے علاحدہ ہو کر دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ بہہ رہی تھی۔
دوسرا کنارہ ہمیشہ پُر اسرار ہوتا ہے، اور اِس لیے انسان کا مطمحِ نظر ۔ انسان ہمیشہ پہنچ سے باہر چیز کا مشتاق ہے۔ اِس کی زندگی کے بہت سے رومان کا فلسفہ بھی یہی ہے۔ زندگی کے دوسرے کنارے پر کیا ہے؟ یہ زید جانتا ہے نہ بکر ——راستے میں موت حائل ہے…… ڈھوک عبد الاحد کے ٹیلے پر کھڑے ہو کر دھُندلے دکھائی دینے والے دوسرے کنارے پر کیا تھا؟ یہ اُن تینوں بھائیوں میں سے ایک بھی نہ جانتا تھا — راستے میں موت کی سی ذخّار کھاڑی حائل تھی۔
 دوپہر ، ایک بجے کا عالم
باپو اور تینوں بھائی بیکری میں کام کر رہے تھے۔ تنّور کی تیز جوالا سے اُن کے بدن پھُنک رہے تھے۔ آنکھوں میں ڈورے اُبھر آئے تھے اور بدن پر رگوں کا جال دکھائی دینے لگا تھا۔ باپو ابھی ابھی فیئر1 سے راکھ سمیٹ کر ایک کونے میں ڈال آیا تھا۔ اگرچہ تنّور صرف چھے پترّوں2 ہی کا تھا، تاہم کچھ اِس ڈھب سے بنایا گیا تھا کہ ضرورت سے زیادہ لکڑیاں سماجائیں اور ایندھن کا خرچ زیادہ ہونے کے علاوہ راکھ بھی زیادہ بنتی تھی، اور اُسے سمیٹتے ہوئے بھیروں کی طرح کا کالا سروپ ہو جاتا۔ اسی وجہ سے تارو فیئر کے پاس تک نہیں پھٹکتا تھا۔ اور نہ ہی وہ دُکان کو صاف کرنے کا غلیظ کام کرتا۔ تارو کے دونوں بھائی، بھابی لکھمی ، بہن برّ [کذا]، تارو کی اِس شوقین مزاجی سے بہت جلتے تھے، لیکن کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ ہاں بہت ہوا تو ان سب نے مِل جُل کر تارو کو ’’لاٹ‘‘ کا خطاب دے دیا۔
باپو کے انداز کے مطابق راکھ سمیٹنا ایک بڑی مہم تھی جو اُس نے سر کر ڈالی۔ اب وہ کسی نہ کسی بہانے سے اُسے جتانا چاہتا تھا۔ اگر تینوں بھائیوں میں سے ایک بھی باپو کی محنت کا اعتراف کر لیتا ،تو اُسے بولنے کی نوبت ہی نہ آتی۔ لیکن سب اپنے اپنے خیالات اور اپنے اپنے کاموں میں مستغرق تھے۔ اچانک سندر بولا۔
’’باپو!‘‘
باپو جو گھوما تو ایک دم چکّر کاٹ گیا۔ بولا ’’کیا ہوا؟‘‘
سندر نے پیشانی پر سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا ’’میں تو ناحق ڈرتا تھا، ننھّے کے چولے پر پچاس سے اوپر ایک نہیں کھلنے کا۔‘‘
گھر میں ننّھے پنجو کو چولا (قمیص) پہنوانے کی رسم ادا ہونے والی تھی۔ باپو یوں تو سناتن تھا اور رسوم و رواج کا دل دادہ۔ پھر پوتوں کو تو دادا لوگ بیٹوں سے سِوا چاہتے ہیں۔ مول سے بیاج پیارا ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت باپو بے ڈر ہو رہا تھا۔ ہانپتے ہوئے بولا ’’کچھ کِیا بھی ہے… تم لوگوں نے صبح سے، یا …یا حرام کھانے پر کمر باندھ رکھی ہے۔ میں پوچھتا ہوں یہاں پنجو سے دلار ہو رہا ہے۔ یا…۔‘‘
سندر ڈرتے ڈرتے بولا ’’تو چولا ڈالنے کی رسم——‘‘
’’ادا ہو گی اور اُس کا پاجامہ اُتارنے کی بھی…!‘‘
سندر چپ ہو گیا۔ اُس وقت تارو کے ہاتھ میں آ کرہ کانپ رہا تھا۔ پتّر پر چھے سانچے رکھے تھے اور اُس پر میدے کی ٹکیاں۔ یہ وزن اُس نازک بدن کے لیے زیادہ تھا۔ اُسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے باپو بولا۔
’’یہ کام ہو رہا ہے، حرام کار ؟‘‘
نتیجہ برعکس ہوا۔ تارو کے ہاتھ زیادہ کانپنے لگے۔ اور آ کرہ سنبھالنے کی کوشش میں زمین کے ساتھ جا لگے۔ سوہن جو اُس وقت انڈوں کے چھلکے اِکٹّھے کر رہا تھا، بولا۔
’’کام کیوں کرے گا۔ لاٹ جو ٹھہرا۔‘‘
یہ باپو کی جلن پر تیل تھا۔ اُس وقت تارو نے انصاف طلب نگاہوں سے ایک ہی وقت میں باپو اور سوہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’وزن بہت ہے، دیکھتے نہیں پتّر بھی ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔‘‘
باپو نے غصّے سے اُچھلتے ہوئے کہا۔
’’تو روٹی نہیں کھاتا… جہلم کے انڈے اور گھی بھی حرام کر رہا ہے، مسلمان کی اولاد!‘‘
’’میں نے کب انڈے کھائے ہیں اُس کے، بہکا دیا تم لوگوں کو کسی نے۔‘‘
’’تو اور کل رات تم اپنی ماں کے پاس گئے تھے؟‘‘
’’کب؟‘‘
’’جب لکھمی نے باہر بھیجا تھا۔‘‘
تارو کی نظروں میں بیکری کی آگ کھولنے لگی۔ اُس نے چپکے سے مان لیا۔ بولا، ’’ہاں گیا تھا، باپو۔‘‘
’’میں نے تمھیں پرسوں منع نہیں کیا تھا، سور کے بچّے۔‘‘
تارو نے سہمے [سہمتے؟] ہوئے جواب دیا۔ ’’منع کیا تھا…۔‘‘
——لیکن باپو نے قریب ہی پانی میں بھگوئی ہوئی بیت کی چھڑی اُٹھا لی۔ تارو کا دم رُک گیا۔ وہ ہٹ کر دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ جسم کمان کی طرح دُہرا ہونے لگا۔ شانے سکڑ گئے۔
سامنے باپو غُرّا رہا تھا۔ اس کا کالا رنگ اور بھی سیاہ ہو گیا تھا۔ جسم پر بال تن گئے تھے۔ تارو بولا۔
’’لیکن، لیکن میں تو زلفُو (کُتّا) کے متعلق پوچھنے گیا تھا، یہ تو بری بات نہیں باپو… وہاں سے کچھ کھایا ہو تو گائے کا خون پیا ہو۔‘‘
بیت بے تحاشا تارو کے جسم کے ساتھ پیوست ہونے لگا۔ تارو راکھ میں پڑا تڑپ رہا تھا۔ اُس کے کپڑے غلیظ ہو گئے تھے، اور منھ سیاہ ہو چکا تھا۔ سر کے چمکتے ہوئے بالوں میں دھول پڑ گئی تھی۔ تارو کے خَنّے ٹھیک کرنے کے لیے ایک بیت کافی تھا۔ یا شاید دو۔ اِس پر سندر اور سوہن بھی خوش تھے۔ لیکن جب باپو نے اُسے تقریباً ادھ موا ہی کر دیا تو دونوں کے اوسان خطا ہو گئے۔ لیکن اُن میں سے کسی کو بھی چھُڑانے کی ہمت نہ پڑی۔
اب وہ دونوں، تینوں، دل سے رو رہے تھے۔ وہ تارو کے ہر کام میں حصّہ نہ لینے کے خلاف تو بہت تھے، لیکن اِس کا کیا علاج کہ اُن کے تحت الشعور میں ایک جذبہ تھا ،جس کے تحت وہ تارو کو اُسی طرح اُجلے اُجلے کپڑے پہنے، بال بنائے ، اور کنھیّا بنا ہوا ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ اُسے لاٹ دیکھنا ہی پسند کرتے تھے…۔
(سال نامہ ’’ساقی‘‘ دہلی۔ جنوری 1941)
٭٭٭

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)