Showing posts with label Krishn Chander. Show all posts
Showing posts with label Krishn Chander. Show all posts

Saturday, 10 June 2017

"Pani ka Darakhat" A Famous Urdu Short Story By Krishn Chander
















پانی کا درخت
کرشن چندر
 جہاں ہمارا گاؤں ہے اس کے دونوں طرف پہاڑوں کے روکھے سو کھے سنگلاخی سلسلے ہیں۔مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ بالکل بے ریش و برودت ہے۔اس کے اندر نمک کی کانیں ہیں۔مغربی پہاڑی سلسلے کے چہرے پر جنڈ،بہیکڑ،املتاس اور کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں ۔اس کی چٹانیں سیاہ ہیں لیکن ان سیاہ چٹانوں کے اندر میٹھے پانی کے دو بڑے قیمتی چشمے ہیں، اور ان دو پہاڑی سلسلوں کے بیچ میں ایک چھوٹی سی تلہٹی پر ہمارا گاؤں آباد ہے۔ہمارے گاؤں میں پانی بہت کم ہے۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے اپنے گاؤں کے آسمان کو تپے ہوئے پایا ہے، یہاں کی زمین کو ہانپتے ہوئے دیکھا ہے اور گاؤں والوں کے محنت کرنے والے ہاتھوں اور چہروں پر ایک ایسی ترسی ہوئی بھوری چمک دیکھی ہے جو صدیوں کی نا آسودہ پیاس سے پیدا ہوتی ہے۔ہمارے گاؤں کے مکان اور آس پاس کی زمین بالکل بھوری اور خشک نظر آتی ہے۔زمین میں باجرے کی فصل جو ہوتی ہے اس کا رنگ بھی بھورا بلکہ سیاہی مائل ہوتا ہے۔یہی حال ہمارے گاؤں کے کسانوں اور ان کے کپڑوں کا ہے۔صرف ہمارے گاؤں کی عورتوں کا رنگ سنہری ہے کیونکہ وہ چشمے سے پانی لاتیں ہیں۔
بچپن ہی سے میری یادیں پانی کی یادیں ہیں۔ پانی کا درد اور اس کا تبسم اس کا ملنا اور کھو جانا۔یہ سینہ اس کے فراق کی تمہید اور اس کے وصال کی تاخیر سے گودا ہوا ہے۔مجھے یاد ہے جب میں بہت چھوٹا سا تھا دادی اماں کے ساتھ گاؤں کی تلہٹی کے نیچے بہتی ہوئی رویل ندی کے کنارے کپڑے دھونے کے لیے جایا کرتا تھا۔دادی اماں کپڑے دھوتی تھیں میں انہیں سکھانے کے لیے ندی کے کنارے چمکتی ہوئی بھوری ریت پر ڈال دیا کرتا تھا۔اس ندی میں پانی بہت کم تھا۔یہ بڑی دبلی پتلی ندی تھی۔چھریری اور آہستہ خرام جیسے ہمارے سردار پیندا خان کی لڑکی بانو۔ مجھے اس ندی کے ساتھ کھیلنے میں اتنا  ہی لطف آتا تھا۔جتنا بانو کے ساتھ کھیلنے میں ۔دونوں کی مسکراہٹ میٹھی تھی ،اور مٹھاس کی قدر وہی لوگ جانتے ہیں جو میری طرح نمک کی کان میں کام کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے ہماری رویل ندی سال میں صرف چھ مہینے بہتی تھی،چھ مہینے کے لیے سوکھ جاتی۔ جب چیت کا مہینہ جانے لگتا تو ندی سوکھنا شروع ہو جاتی اور جب بیساکھ ختم ہونے لگتا تو بالکل سوکھ جاتی،اور پھر اس کی تہہ پر کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے نیلے پتھر رہ جاتے یا نرم نرم کیچڑ جس میں چلنے سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ریشم کے دبیز غالیچے پر گھوم رہے ہوں ۔چند دنوں میں ہی ندی کا کیچڑ بھی سوکھ جاتا اور اس کے چہرے پر باریک درزوں اور جھریوں کا جال پھیل جاتا ،کسی محنتی کسان کے چہرے کی طرح اس کے ہونٹوں پر خشک پپڑیاں جم جاتیں اور ایسا معلوم ہوتا جیسے اس کی گرم گداز ریت نے سالہا سال سے پانی کی ایک بوند نہیں چکھی۔
مجھے یاد ہے پہلی بار جب میں نے ندی کو اس طرح سوکھتے ہوئے پایا تھا تو بے کل ،بے چین اور پریشان ہو گیا تھا،اور رات سو بھی نہ سکا تھا۔اس رات دادی اماں مجھے بہت دیر تک گود میں لے کر عجیب عجیب کہانیاں سناتی رہیں اور ساری رات دادی اماں کی گود میں لیٹے لیٹے مجھے رویل ندی کی بہت سی پیاری باتیں یاد آنے لگیں اس کا ہولے ہولے پتھروں سے ٹھمکتے ہوئے چلنا،اور پتھروں کے درمیان سے اس کا ذرا تیز ہونا اور کترا کر چلنا،جیسے کبھی کبھی بانو غصے میں گلی کے موڑ پر سے تیزی سے نکل جاتی ہے او ر جہاں دو پتھر ایک دوسرے کے بہت قریب ہوئے تھے وہاں میں اور بانو باجرے کی ڈنڈیوں کی بنی ہوئی پن چکی لٹکا دیتے تھے اور گیلا آٹا پساتے تھے۔پن چکی ندی کی آہستہ خرامی کے باوجود کیسے تیز تیز چکر لگا کر گھومتی تھی اور اب یہ ندی سوکھ گئی۔
ان سب باتوں کو یاد کر کے میں نے دادی اماں سے پوچھا: ’’دادی اماں یہ ہماری ندی کہاں چلی گئی؟‘‘ زمین کے اندر چھپ گئی۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ ’’سورج کے ڈر سے‘‘ ’’کیوں ؟یہ سورج سے کیوں ڈرتی ہے؟سورج تو بہت اچھا ہے۔ ‘‘
’’سورج ایک نہیں بیٹا،دو سورج ہیں۔ایک تو سردیوں کا سورج ہے۔وہ بہت اچھا اور مہربان ہوتا ہے۔دوسرا سورج گرمیوں کا ہے۔یہ بڑا تیز چمکیلا اور غصے والا ہوتا ہے، اور یہ دونوں باری باری ہر سال ہمارے گاؤں میں آتے ہیں۔جب تک تو سردیوں کا سورج رہتا ہے ہماری ندی اس سے بہت خوش رہتی ہے،لیکن جب گرمیوں کا ظالم سورج آتا ہے تو ہماری ندی کے جسم سے اس کا لباس اتار نا شروع کرتا ہے۔ہر روز کپڑے کی ایک تہہ اترتی چلی جاتی ہے اور جب بیساکھی کا آخری دن آتا ہے تو ندی کے جسم پر پانی کی ایک پتلی سی چادر رہ جاتی ہے۔اس رات کو ہماری ندی شرم کے مارے زمین پر چھپ جاتی ہے اور انتظار کرتی ہے سردیوں کے سورج کا جو اس کے لئے اگلے سال پانی کی نئی پوشاک لائے گا۔‘‘
میں نے آنکھ جھپکتے ہوئے کہا:’’سچ مچ گرمیوں کا سور ج تو بہت برا ہے۔‘‘
’’لو اب سو جاؤ بیٹا۔‘‘
مگر مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔اس لئے میں نے ایک اور سوال پوچھا؟’’دادی یہ ہمارے نمک کے پہاڑ کا پانی کیوں کڑوا ہے۔‘‘ہمارے گاؤں میں بچے پانی کے لیے بہت سوال کرتے تھے۔پانی ان کے تخیل کو ہمیشہ اکساتا رہتا ہے۔دوسرے گاؤں میں،جہاں پانی بہت ہوتا ہے،وہاں کے لڑکے شاید سونے کے جزیرے ڈھونڈتے ہوں گے یا پرستان کا راستہ تلاش کرتے ہوں گے لیکن ہمارے گاؤں کے بچے ہوش سنبھالتے ہی پانی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔اور تلہٹی پر اور پہاڑی پر اور دور دور تک پانی کو ڈھونڈنے کا کھیل کھیلتے ہیں میں نے بھی اپنے بچپن میں پانی کو ڈھونڈا تھا اور نمک کے پہاڑ پر پانی کے دو تین نئے چشمے دریافت کئے تھے۔مجھے آج تک یاد ہے میں نے کتنے چاؤ اور خوشی سے پانی کا پہلا چشمہ ڈھونڈا تھا ،کس طرح کانپتے ہوئے ہاتھوں سے میں نے چٹانوں کے درمیان سے جھجھکتے ہوئے پانی کو اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں کا سہارا دے کر باہر بلایا تھا اور جب میں پہلی بار اسے اوک میں لیا تو پانی میرے ہاتھ میں یوں کانپ رہا تھا جیسے کوئی گرفتار چڑیا بچے کے ہاتھوں میں کانپتی ہے۔پھر جب میں اسے اوک میں بھر کر اپنی زبان تک لے گیا تو مجھے یاد ہے میری کانپتی ہوئی خوشی کیسے تلخ بچھو میں تبدیل ہو گئی تھی ۔پانی نے زبان پر جاتے ہی بچھو کی طرح ڈنک مارا اور اس کے زہر نے میری روح کو کڑوا کر دیا۔میں نے پانی تھوک دیا اور پھر کسی نئے چشمے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ،لیکن نمک کے پہاڑ پر مجھے آج تک میٹھا چشمہ نہ ملا ۔اس لئے جب ندی سوکھنے لگی تو میٹھے چشمے کی یاد نے مجھے بے چین کر دیا ۔اور میں نے دادی اماں سے پوچھا:
’’دادی ماں یہ نمک کے پہاڑ کا پانی کڑوا کیوں ہے؟‘‘
دادی اماں نے کہا۔’’یہ تو ایک دوسری کہانی ہے۔‘‘ ’’تو سناؤ۔‘‘ ’’نہیں اب سو جاؤ۔‘‘ میں چیخا:’’نہیں سناؤ۔‘‘
’’اچھا بابا سناتی ہوں،مگر تم اب چیخو گے نہیں۔‘‘
’’نہیں‘‘
’’اور نہ ہی بیچ بیچ میں ٹوکو گے۔‘‘ ’’نہیں‘‘
’’اچھا تو سنو۔یہ تم اس طرف نمک کی پہاڑی جو دیکھتے ہو یہ پرانے زمانے میں ایک عورت تھی جو اس پہاڑ کی بیوی تھی ،جہاں آج کل میٹھے پانی کا چشمہ ہے۔‘‘
’’پھر‘‘
’’پھر ایک روز دیووں میں بڑی جنگ چھڑی اور یہ سامنے پہاڑ بھی جو اس عورت کا خاوند تھا،جنگ میں بھرتی ہو گیا اور بیوی کو پیچھے چھوڑ گیا اور سے کہہ گیا کہ وہ اس کے آنے تک کہیں نہ جائے ،نہ کسی سے بات کرے،صرف اپنے گھر کا خیال کرے۔‘‘
’’اچھا‘‘ ’’ہاں ۔پھرکئی سال تک بیوی اپنے دیو خاوند کا انتظار کرتی رہی لیکن اس کا خاوند جنگ سے نہ لوٹا۔ آخر ایک دن اس کے گھر میں ایک سفید دیو آیا اور اس پر عاشق ہو گیا۔‘‘
’’عاشق کیا ہوتا ہے۔‘‘ دادی اماں رک گئیں،بولیں:تو نے پھر ٹوکا۔’’میں نے دل میں سوچا:دادی اماں اگر خفا ہو گئیں تو باقی کہانی سننے کو نہیں ملے گی اور کہانی اب دلچسپ ہوتی جا رہی ہے اس لیے چپکے سے سن لینا چاہیے عاشق کا مطلب بعد میں پوچھ لیں گے۔اس لیے میں نے جلدی سے سوچ کر دادی ماں سے کہا۔’’اچھا اچھا ،دادی اماں آگے سناؤ،اب نہیں ٹوکوں گا۔‘‘
دادی امان رکھائی سے اس طرح خفا ہو کے بولیں جیسے انہیں کہانی کا آگے آنے والا حصہ پسند نہیں ہے۔کہنے لگیں:’’ہونا کیا تھا،مغربی پہاڑی کی بیوی بے وفا نکلی۔جب اسے سفید دیو نے جھوٹ موٹ یقین دلا دیا کہ اس کا پہلا خاوند دیووں کی جنگ میں مارا گیا ہے تو اس نے سفید دیو سے شادی کر لی۔‘‘
’’دیووں کی جنگ کیوں ہوتی تھی؟’’میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔‘‘
’’تو نے پھر ٹوکا۔‘‘دادی اماں بہت خفا ہو کے بولیں ’’چل اب آگے نہیں سناؤں گی۔‘‘نہیں دادی اماں میری اچھی دادی اماں اچھا اب بالکل نہیں ٹوکوں گا ۔‘‘میں نے منت سماجت کر تے ہوئے کہا۔
’’پھر؟‘‘ ’’پھر ایک دن بہت سالوں کے بعد ایک بوڑھا دیو اس وادی میں آیا۔یہ اسی عورت کا پہلا خاوند تھا۔جب ا س نے اپنی بیوی کو سفید دیو کے ساتھ دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا اور اس نے کلہاڑا لے کر سفید دیو اور اپنی بیوی کو قتل کر دیا ۔جب سے ان دونوں دیوؤں کو بڑے پیر کی بد دعا ملی ہے اور یہ لوگ سل پتھر ہو گئے۔ سامنے والے پہاڑ کا پانی اس لیے میٹھا ہے کیونکہ اسے اپنی بیوی سے سچی محبت تھی۔اس کے مقابل پہاڑ کا پانی کھارا ہے اور اس میں نمک ہے کیونکہ وہ عورت ہے اور اپنی بے وفائی پر ہر وقت روتی رہتی ہے۔اور جب اس کے آنسو خشک ہو جاتے ہیں تو نمک کے ڈلے بن جاتے ہیں ،جنہیں ہر روز تمہارا باپ پہاڑ کے اندر کھود کے نکالتا ہے۔‘‘
’’پھر؟‘‘ ’’پھر کہانی ختم۔‘‘
کہانی ختم ہو گئی اور میں بھول گیا کہ میں نے کیا سوال کیا تھا۔مجھے کیا جواب ملا۔ میں نے کہانی سن لی،اطمینان کا سانس لیا اور پلک جھپکتے ہی سو گیا۔سوتے سوتے میری آنکھوں کے سامنے نمک کی کان کا منظر آیا، جہاں میرے ابا کام کرتے تھے،جہاں جوان ہو کر مجھے کام کرنا پڑا اور جہاں پہلی بار میں اپنی اماں کے ساتھ اپنے ابا کا کھانا لے کر گیا تھا۔افوہ!کتنی بڑی کان تھی وہ چاروں طرف نمک کے پہاڑ نمک کے ستون ،نمک کے آئینے نمک کی دیواروں میں لگے ہوئے تھے۔ایک جگہ نمک کی آبی جھیل تھی جس کے چاروں طرف نیلگوں دیواریں تھیں اور چھت بھی نمک کی تھی جس سے قطرہ قطرہ کر کے نمک کا پانی رستا تھا اور نیچے گر کر جھیل بن گیا تھا اور یکا یک مجھے خیال آیا یہ اس عورت کے آنسو میں جو بڑے پیر کی بددعا سے نمک کا پہاڑ بن چکی ہے۔میرے ابا اس جھیل کو دیکھ کر بولے:’’یہاں اس قدر پانی ہے پھر بھی پانی کہیں نہیں ملتا۔دن بھر نمک کی کان میں کام کرتے کرتے سارے جسم پر نمک کی پتلی سی جھلی چڑھ جاتی ہے جسے کھرچو تو نمک چورا چورا ہو کر گرنے لگتا ہے۔ اس وقت کس قدر وحشت ہوتی ہے۔جی چاہتا ہے کہیں میٹھے پانی کی جھیل ہو اور آدمی اس میں غوطے لگا تا جائے۔‘‘
’’پانی !پانی!
پانی سارے گاؤں میں کہیں نہیں تھا۔ پانی نمک کے پہاڑ پر بھی نہیں تھا۔ پانی تھا تو سامنے پہاڑ پر جس کی محبت میں بے وفائی نہیں کی تھی۔یا پانی پھر رویل ندی میں تھا۔ لیکن یہ ندی بھی چھ مہینے غائب رہتی تھی اور پھر آخر ایک دن یہ بالکل غائب ہو گئی اور آج تک اس کے نیلے پتھر اور سوکھی ریت اور اس کے کنارے کنارے چلنے والی عورتوں کے نا اُمید قدم اس کی راہ تکتے ہیں۔لیکن یہ میرے بچپن کی کہانی نہیں ہے،یہ میرے لڑکپن کی کہانی ہے۔جب ہمارے گاؤں سے بہت دوران پہاڑی سلسلوں کے دوسری طرف سینکڑوں میل لمبی جاگیر کے مالک راجہ اکبر علی خان نے ہمارے دیہات والوں کی مرضی کے خلاف رویل ندی کا بہاؤ موڑ کر اپنی جاگیر کی طرف کر لیا اور ہماری تلہٹی کو او ر آس پاس کے بہت سارے علاقے کو سوکھا ،بنجر اور ویران کر دیا۔ اس وقت ندی کے کنارے ہمارا گاؤں اور اس وادی کے اور دوسرے بہت سے گاؤں پریشان ہو گئے۔اس طرح ہمارے لئے رویل ندی مر گئی اور اس کا پانی بھی مر گیا اور ہمارے لئے ایک تلخ یاد چھوڑ گیا۔مجھے یاد ہے اس وقت گاؤں والوں نے دوسرے گاؤں والوں سے مل کر سرکار سے اپنی کھوئی ہوئی ندی مانگی تھی کیونکہ ندی تو گھر کی عورت کی طرح ہے۔وہ گھر میں پانی دیتی ہے،کھیتوں میں کا م کرتی ہے،ہمارے کپڑے دھوتی ہے جسم کو صاف رکھتی ہے۔ندی کے گیت اس کے بچے ہیں۔
جنہیں وہ لوری دیتے ہوئے ،تھپکتے ہوئے مغرب کے جھولے کی طرف لے جاتی ہے۔ پانی کے بغیر ہمارا گاؤں بالکل ایسا ہے جیسے گھر عورت کے بغیر گاؤں والوں کو بالکل ایسا معلوم ہوا جیسے کسی نے ان کے گھر سے ان کی لڑکی اغوا کر لی ہو۔وہی غم،وہی غصہ تھا،وہی تیور تھے،وہی مرنے مارنے کے انداز تھے۔لیکن راجہ اکبر علی خاں چکوال کے علاقے کا سب سے بڑا زمیندار تھا۔ حکومت کے افسروں کے ساتھ اس کا گہرا اثر و رسوخ تھا ۔نمک کی کان کا ٹھیکہ بھی اس کے پاس تھا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ گاؤں والوں کو ان کی ندی واپس نہ ملی،الٹا ہمارے بہت سے گاؤں والے ،جو نمک کی کان میں کام کرتے تھے، باہر نکال دیئے گئے۔ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے گاؤں کے اغوا شدہ پانی کو واپس بلانے کی جرات کی تھی۔مجھے یاد ہے اس روز ابا کانپتے کانپتے گھر آئے تھے۔ ان کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا اور بار بار اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہتے:توبہ توبہ ! کیسی غلطی ہوئی۔وہ تو اللہ کا کام تھا کہ میں بچ گیا ورنہ راجہ صاحب مجھے نکال دیتے،میں تو اب کبھی راجہ کے خلاف عرضی نہ دوں ،چاہے وہ پانی کیا میری لڑکی ہی کیوں نہ اغوا کر کے لے جائیں ۔توبہ توبہ! اور یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے گاؤں میں پانی کی عزت لڑکی کی طرح بیش قیمتی ہے۔پانی جو زندگی دیتا ہے۔ پانی جو رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ پانی ،جو منہ دھونے کو نہیں ملتا۔ پانی ،جس کے نہ ہونے سے ہمارے کپڑے بھورے اور میلے رہتے ہیں ،سر میں جوئیں ،جسم پر پسینے کی دھاریاں اور روح پر نمک جما رہتا ہے۔یہ پانی تو سونے سے زیادہ قیمتی ہے اور لڑکی سے زیادہ حسین ۔اس کی قدر اور قیمت ہمارے گاؤں والوں سے پوچھئے جن کی زندگی پانی کے لئے لڑتے جھگڑتے گزرتی ہے۔ ایک دفعہ سامنے کے پہاڑ کے میٹھے چشمے سے پانی لانے کے لئے سور خان کی بیوی سیداں اور ایوب خاں کی بیوی عائشاں دونوں آپس میں لڑ پڑی تھیں حالانکہ دونوں اتنی گہری سہیلیاں تھیں کہ ہر وقت اکٹھی رہتیں ،گھر بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے۔چشمے پر بھی پانی اکٹھے ہی لینے جاتی تھیں ۔پہلے ایک پھر دوسری پانی بھرتی۔باری باری وہ دونوں ایک دوسرے کا گھڑا اٹھا کے سر پر رکھتیں اور پھر باتیں کرتیں ہوئی واپس چل پڑتیں۔ لیکن آج نہ جانے کیا ہوا،آج جانے دونوں کو کیا جلدی تھی۔ ایک کہتی پہلے پانی میں بھروں گی ،دوسری کہنے لگی نہیں میں بھروں گی۔شاید انہیں غصہ ایک دوسرے کی خلاف نہیں تھا۔ شاید غصہ انہیں اس لیے تھا کہ یہاں میٹھے پانی کا ایک ہی چشمہ تھا جہاں ندی کے سوکھ جانے کے بعد دور سے دوسرے لوگ پانی لینے کے لئے آتے تھے۔
منہ اندھیرے ہی عورتیں گھڑا لے کے چل پڑتیں۔جب یہاں پہنچتیں تو لمبی لائن پہلے سے موجود ہوتی یا چشمے کے منہ سے ایک ایسی پتلی سی دھار کو نکلتے دیکھتیں جو آدھے گھنٹے میں مشکل سے ایک گھڑا بھرتی تھی۔اور تین کوس کا آنا جانا قیامت سے کم نہ تھا۔ لڑائی کی وجہ کچھ بھی ہو اصلی لڑائی پانی کی تھی۔ دونوں عورتوں نے دیکھتے دیکھتے ایک دوسرے کے چہرے نوچ لئے ،گھڑے توڑ دیے،کپڑے پھاڑ ڈالے اور پھر روتی ہوئی اپنے اپنے گھروں کو گئیں ۔تب سیداں نے سرور خاں کو بھڑکایا اور عائشاں نے ایوب خاں کو۔
دونو ں خاوند غصے سے بے تاب ہو کے کلہاڑیاں لے کے باہر نکل پڑے اور پیشتر اس کے کہ لوگ آ کے بیچ بچاؤ کریں دونوں نے کلہاڑیوں سے ایک دوسرے کو ختم کر دیا۔شام ہوتے ہوتے دونو ں ہمسایوں کا جنازہ نکل گیا ۔ہمارے گاؤں کے قبرستان کی بہت سی قبریں پانی نے بنائی ہیں۔میرے لڑکپن کے زمانے میں جب دو قتل ہوئے اس وقت سامنے کے پہاڑ پر ایک ہی میٹھے پانی کا چشمہ تھا لیکن بعد میں جب میں اور بڑا ہوا تو یہاں ایک اور چشمہ بھی نکل آیا۔ اس نئے چشمے کی داستان بھی بڑی عجیب ہے۔ یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب ہمارے پوٹھوہار میں سخت کال پڑا تھا اور گرمی کی وجہ سے علاقے کے سارے ندی نالے اور کنویں سوکھ گئے تھے۔
صرف کہیں کہیں ان چشموں میں پانی رہ گیا تھا ۔ ان دنوں ہمارے گھروں میں عورتیں رات کے دو بجے ہی اٹھ کے چل دیتیں اور چشمے کے نیچے ہمیشہ گھڑوں کی ایک لمبی قطار جس میں سے پیاس سے بلکتے ہوئے بچوں کی صدا آتی تھی۔
اس زمانے میں بڑے بڑے لوگ نیکی اور خدائی سے منحرف ہو گئے اور ان لوگوں میں سب سے برا کام ذیلدار ملک خاں نے کیا۔ اس نے تھانیدار فضل علی سے مل کے اس چشمے پر پولیس کا پہرہ لگا دیا اور پھر تحصیل دار غلام نبی سے مل کے چشمے کے ارد گرد کی ساری زمین خرید کر راتوں رات اس پر ایک چاردیواری باندھ دی اور چاردیواری کے باہر تالا لگا دیا۔اب اس چشمے سے کوئی آدمی بلا اجازت پانی نہ لے سکتا تھا کیونکہ اب یہ چشمہ ذیلدار کی ملکیت تھا،اور اس نے چشمے سے پانی لے جانے والے گھڑوں پر اپنا ٹیکس رکھ دیا ۔
ایک گھڑے پر ایک آنہ دو گھڑوں پر دو آنے۔تب سارے گاؤں میں ظلم کے خلاف شور مچ گیا۔لیکن پولیس سردار ذیلدار ملک خاں کی حمایت میں تھی ،قانون بھی اس کی طرف تھا اور جدھر قانون تھا پانی بھی ادھر تھا۔اس لئے گاؤں کے سارے جوان اور بڈھے اور بچے جمع ہو کے میرے ابا کے پاس آئے اور بولے؟’’چچا خدا بخش اب تم ہی ہمیں اس مصیبت سے نجات دلوا سکتے ہو۔‘‘ ’’وہ کیسے ؟‘‘ میرے ابا نے حیران ہو کے سوال پوچھا۔سفید ریش بڈھے حاکم خاں نے کہا ؟’’یاد ہے یہ میٹھے پانی کا چشمہ،جواب ذیلدار ملک خاں کا ہو گیا،یہ چشمہ بھی تم نے دریافت کیا تھا ۔کیا تم دوسرا چشمہ نہیں ڈھونڈ سکتے؟ آخر اس پہاڑ کے اندر،اس کے سینے میں اور بھی تو کہیں میٹھا پانی ہو گا جو انسان کو آب حیات بخش سکتا ہے۔خدا بخش تم ہم سب سے قابل ہو۔  اپنی عقل دوڑاؤ ہم تمہارے ساتھ مرے مارنے کو تیار ہیں۔ہمارے گاؤں میں پانی نہیں ہے اور اب پانی چاہیے۔‘‘
میرا باپ چارپائی پر اکڑوں بیٹھا تھا۔ اسی وقت اللہ کا نام لے کر اٹھ کھڑا ہوا ۔سارا گاؤں اس کے ساتھ تھا ۔ پہاڑ پر چڑھائی تھی اور تلاش پانی کی تھی۔فرہاد کی کوہ کنی سے پانی کی تلاش مشکل ہے،یہ بات مجھے اس روز معلوم ہوئی کیونکہ پانی سامنے نہیں ہوتا وہ تو ایک چھلاوے کی طرح پہاڑ کی سلوٹوں میں گم ہو جاتا ہے۔پانی خانہ بدوش ہے:آج یہاں کل وہاں ۔پانی ایک پردیسی ہے جس کی محبت کا کوئی اعتبار نہیں ۔پانی کا وجود اس نازک خوشبو کی طرح ہے جو تیز دھوپ میں اڑ جاتی ہے۔
اس پوٹھوہار کے علاقے میں ،جہاں عورتیں با وفا اور با حیا ہیں،پانی بے وفا اور ہرجائی ہے۔وہ کبھی کسی ایک کا ہو کہ نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ یہاں سے وہاں ،ایک جگہ سے دوسری جگہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں گھومتا ہے،پاسپورٹ کے بغیر۔ ایسے ہرجائی کی تلاش کے لیے ایک تیشہ نہیں ایک آئینہ چاہیے جس کے سامنے پہاڑ کا دل اس طرح ہو جیسے ایک کھلی کتاب آخر میرے گاؤں والوں نے کچھ سمجھ کر میرے باپ کو اس کام کے لئے چنا تھا۔اس روز ہم دن بھر اس بلند و بالا پہاڑ کی خاک چھانتے رہے۔
ہم نے کہاں کہاں اس پانی کو تلاش نہیں کیا: بیریوں کی گھنی جھاڑیوں میں، چٹانو ں کی گہری درزوں میں،سیاہ ڈراؤنی کھوؤں میں،جنگلی جانوروں کے بھٹ میں۔پانی کی تلاش میں ہم نے سارے پرانے چشمے کھدوائے لیکن ان کا کھودنا ایسے ہی تھا جیسے آدمی زندگی کی تلاش میں قبریں کھود ڈالے۔پانی کہیں نہیں ملا۔ ایک چور کی طرح اس نے جگہ جگہ اپنے چھوٹے سراغ چھوڑے لیکن آخر کو وہ ہمیشہ ہمیں جل دے کر کہیں غائب ہو جاتا تھا۔ جانے فطرت کے کس کونے میں بیٹھا ہو اپنے چاہنے والوں پر ہنس رہا تھا۔لیکن گاؤں والوں نے آس نہیں چھوڑی ۔وہ سارا دن میرے بابا کے پیچھے پیچھے پانی کی کھوج کرتے رہے۔ آخر جب شام ہونے لگی تو میرے ابا نے پسینہ پونچھ کر ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کے ادھر نظر دوڑائی جدھر سورج غروب ہو رہا تھا۔یکا یک انہیں غروب ہوتے ہوئے سورج کی روشنی میں چٹانوں کی ایک گہری درز میں فرن کا سبز ہ نظر آیا اور کہتے ہیں جہاں فرن کا سبزہ ہوتا ہے وہاں پانی ضرور ہوتا ہے۔فرن پانی کا جھنڈا ہے اور پانی ایک گھومنے والی قوم ہے۔ پانی جہاں جاتا ہے اپنا جھنڈا ساتھ لے جاتا ہے۔
ایک چیخ مار کر جلدی سے میرے ابا اس طرف لپکے جہاں فرن کا سبزہ اگا تھا۔ گاؤں والے ان کے پیچھے پیچھے بھاگے ۔ جلدی جلدی میرے ابا نے اپنے ناخنوں ہی سے زمین کو کرید نا شروع کر دیا ۔زمین ،جو اوپر سے سخت تھی ، نیچے سے نرم ہوتی گئی گیلی ہوتی گئی ۔ آخر میں زور سے پانی کی ایک دھار اوپر آئی اور سینکڑوں سوکھے ہوئے گلوں سے مسرت کی آواز نکلی: ’’پانی!پانی۔‘‘
ابا نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اوک میں پانی بھرا۔ ساری نگاہیں ابا کے چہرے پر تھیں ،سینکڑوں دل دھڑک رہے تھے۔:یا اللہ پانی میٹھا ہو، یا اللہ پانی میٹھا ہو،یا اللہ پانی میٹھا ہو۔
ابا نے پانی چکھا۔’’پانی میٹھا ہے۔‘‘ابا نے خوشی سے کہا۔
گاؤں والے زور سے چلائے :’’پانی میٹھا ہے!‘‘ساری وادی میں آوازیں گونج اٹھیں : ’’ میٹھا پانی مل گیا ،پانی میٹھا ہے !‘‘
ساری وادی میں ڈھول بجنے لگے۔ عورتیں گانے لگیں ،جوان ناچنے لگے، بچے شور مچانے لگے۔ گاؤں والوں نے جلدی سے چشمے کو کھود کر اپنے گھیر ے میں لے لیا۔اب چشمہ ان کے بیچ میں تھا اور وہ اس کے چاروں طرف تھے اور وہ اسے مڑ مڑ کر اس طرح محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے جیسے ماں اپنے نوزائیدہ بچے کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔وہ رات مجھے کبھی نہیں بھولے گی۔ اس رات کوئی آدمی گاؤں میں و اپس نہیں گیا۔ اس رات سارے گاؤں نے چشمے کے کنارے جشن منایا۔ اس رات تاروں کی گود میں بھوری بیریوں کے سائے میں ماؤں نے چولہے سلگائے ،بچوں کو تھپک تھپک کے سلایا اس رات کنواریوں نے لہک لہک کر گیت گائے ۔ایسے گیت جو پانی کی طرح نرمل اور سندر تھے،جن میں جنگلی جھرنوں کا سا حسن اور آبشاروں کی سی روانی تھی۔ اس رات ساری عورتیں خوشی سے بے قرار تھیں، سارے بیج تخلیق سے بے قرار ہو کر پھوٹ پڑے تھے۔
ایسی رات ہمارے گاؤں میں کب آئی تھی! جب ابا خدا بخش نے پانی ڈھونڈ نکالا تھا۔پانی جو انسان کے ہاتھوں کی محنت تھا،اس کے دل کی محبت تھا۔آج پانی ہمارے ہاں اس طرح آیا تھا جیسے بارات ڈولی لے کر آ تی ہے۔
وہ نیا چشمہ ہمارے درمیان آج اس طرح ہولے ہولے شرمیلے انداز میں چل رہا تھا جیسے نئی دلہن جھجک جھجک کر اجنبی آنگن میں پاؤں رکھتی ہے،اس رات میرے ایک ہاتھ میں پانی تھا،دوسرے ہاتھ میں بانو کا ہاتھ تھا اور آسماں پر ستارے تھے۔اس نئے چشمے کے ساتھ میری جوانی کی بہترین یادیں وابستہ ہیں۔اس چشمے کے کنارے میں نے بانو سے محبت کی۔
بانو جس کا حسن پانی کی طرح نایاب تھا، جسے دیکھ کر ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ جانے اس زمین کی گود میں کتنے ہی میٹھے چشمے نہاں ہیں، کتنی حسین یادیں منجمد ہیں،موسم گرما کے کتنے ہی شوخ چمکتے ہوئے پھول ،خزاؤں کے سنہری پتے،زمستان کی پاکیزہ برف ،بانو کی محبت بھی کتنی خاموش اور چپ چاپ تھی،زمین کے نیچے بہنے والے پانی کی طرح۔وہ رات کے اندھیرے میں یا فجر سے بہت پہلے اس چشمے کے کنارے آتی تھی،جب یہاں اور کوئی نہ ہوتا میرے سوا ۔مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر تبسم کی ضیا پھیل جاتی، جیسے اندھیرے میں سحر کا اجالا پھیلتا ہے۔وہ گھڑے کو چشمے کی دھار کے نیچے رکھ دیتی ۔
پانی گھڑے سے باتیں کرنے لگتا اور میں بانو سے ۔دھیرے دھیرے باتیں کرتے کرتے گھڑا بھر جاتا اور ہمارے دل خوشی سے معمور ہو جاتے اور ہمارے جانے بغیر کہیں دور سے صبح یوں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے آتی جیسے بادِ نسیم سنگترے کے پھول کی سی انگلیاں لئے سوئے ہوئے چہروں پر سے گزر جاتی ہے اور ہم چونک کر اٹھ کھڑے ہوتے اور حیرت سے ادھر دیکھنے لگتے۔ پھر میں اس کا گھڑا اٹھا کر اس کے سر کے اوپر رکھی ہوئی سرخ پٹی پر رکھتا اور وہ مسکرا کر،پلٹ کر اور گھوم کر ڈھلوان پر سے گزر جاتی اور میں اس کی طرف دیکھتا رہتا اس وقت بھی دیکھتا جب دوسری عورتیں میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگتیں ،اور مجھے وہ دن یاد آتا جب میں نے دادی اماں سے پوچھا تھا:’’دادی اماں عاشق کس کو کہتے ہیں؟‘‘
اور پھر اس چشمے کے کنارے مجھے وہ رات بھی یاد ہے جب میں کان میں کام کرتا تھا اور دن بھر تھک کے گھر لوٹتا تھا اور اس تھکن سے چور ہو کر سو جاتا تھا، صبح ہی آنکھ کھلتی تھی ۔ کئی دنوں سے میں بانو سے چشمے پر ملنے نہ گیا تھا مگر کوئی بے قراری نہ تھی۔ وہ ساتھ کے گھر میں تو رہتی تھی۔انہی دنو ں میں اس کے چچا کا لڑکا غضنفر بھی آیا اور چلا بھی گیا لیکن مجھے اس سے ملنے کی بھی فرصت نہ ملی کیونکہ کان میں نیا نیا ملازم ہو ا تھا،کام سیکھنے کا بہت شوق تھا اور یہ تو ہر شخص کو معلوم ہے کہ نمک کی کان میں جا کے ہر شخص نمک ہو جاتا ہے۔
ایک رات بانو نے مجھے کہا کہ رات کے دو بجے چشمے پر اس سے ملوں ۔میں نے کہا:’’میں بہت تھکا ہوا ہوں ۔‘‘
وہ بولی :’’نہیں ضروری کام ہے،آنا ہو گا۔‘‘چنانچہ میں گیا۔
دو بجے کے وقت آدھی رات میں چشمے پر کوئی نہیں تھا،ہم دونو ں کے سوا ۔میں نے اس سے پوچھا:’’کیا بات ہے ؟‘‘
وہ دیر تک چپ رہی، پھر میں نے پوچھا:’’ابھی بتاؤ آخر کیا بات ہے؟‘‘وہ بولی ’’میں گاؤں چھوڑ کے جا رہی ہوں۔‘‘
میرا دل دھک سے رہ گیا۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے چشمہ چلتا چلتا رک گیا۔میرے گلے سے آواز نکلی:’’کیوں؟‘‘ ’’میری شادی طے ہو گئی ہے۔‘‘ کس سے؟چاچا کے لڑکے کے ساتھ جو لام سے ہو کر یہاں آیا تھا۔وہ چکوال میں ہے صوبیدار ہے۔اور تم جا رہی ہو!میں نے تلخی سے پوچھا۔ہاں وہ چپ ہو گئی۔ میں بھی چپ ہو گیا۔سوچ رہا تھا اسے ابھی جان سے نہ ماردوں یا شادی کی رات قتل کروں۔ تھوڑی دیر رک کے بانو پھر بولی:’’سنا ہے چکوال میں پانی بہت ہوتا ہے سنا ہے وہاں بڑے بڑے نل ہوتے ہیں جن سے جب چاہو ٹوٹی گھما کے پانی نکال لو۔ اس کی آواز خوشی کے مارے کانپ رہی تھی۔وہ شاید اور بھی کچھ کہتی لیکن شاید میری آزردگی کا خیال کر کے چپ ہو گئی۔
میں نے اس کے بالکل قریب آ کر اسے دونوں شانوں سے پکڑ لیا اور غور سے اس کی آنکھوں کی طرف دیکھا۔اس نے ایک لمحہ میری طرف دیکھ کر آنکھیں جھکا لیں ۔اس کی نگاہوں میں میری محبت سے انکار نہیں تھا بلکہ پانی کا اقرار تھا۔میں نے آہستہ سے اس کے شانے چھوڑ دئیے اور الگ ہو کے کھڑا ہو گیا۔یکا یک مجھے محسوس ہوا کہ محبت سچائی خلوص اور جذبے کی گہرائی کے ساتھ ساتھ تھوڑا پانی بھی مانگتی ہے۔بانو کی جھکی ہوئی نگاہوں میں اک ایسے جانگسل شکایت کا گریز تھا جیسے وہ کہہ رہی ہو:جانتے ہو ہمارے گاؤں میں کہیں پانی نہیں ملتا۔یہاں میں دو دو مہینے نہا نہیں سکتی ۔مجھے اپنے آپ سے اپنے جسم سے نفرت ہو گئی ہے۔بانو چپ چپ زمین پر چشمے کے کنارے بیٹھ گئی ۔میں اس تاریکی میں بھی اسکی آنکھوں کے اندر ا س کی محبت کے خواب کو دیکھ سکتا تھا جو گندے بدبو دار جسموں پسوؤں ،جوؤں اور کھٹملوں کی ماری غلیظ چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی محبت نہ تھی۔اس محبت سے نہائے ہوئے جسموں ،دھلے ہوئے کپڑوں اور نئے لباس کی مہک آتی تھی۔میں بالکل مجبور اور بے بس ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ رات کے دو بجے۔بانو اور میں۔دونوں چپ چاپ کبھی ایسا سناٹا جیسے ساری دنیا کالی ہے کبھی ایسی خاموشی جیسے سارے آنسو سو گئے ہیں ۔ چشمے کے کنارے بیٹھی ہوئی بانو آہستہ آہستہ گھڑے میں پانی بھرتی رہی ۔آہستہ آہستہ پانی گھڑے میں گرتا ہو ا بانو سے باتیں کرتا رہا اس سے کچھ کہتا رہا، مجھ سے کچھ کہتا رہا۔پانی کی باتیں انسان کی بہترین باتیں ہیں۔
بانو چلی گئی۔
جب بانو چلی گئی تو میرے ذہن میں بچپن کی وہ کہانی آئی جب محبت روئی تھی اور آنسو نمک کے ڈلے بن گئے تھے۔
اس وقت میری آنکھ میں آنسو بھی نہ تھا لیکن میرے دل کے اندر نمک کے کتنے بڑے ڈلے اکٹھے ہو گئے تھے!میرے دل کے اندر نمک کی ایک پوری کان موجود تھی۔ نمک کی دیواریں ستون غار اور کھارے پانی کی ایک پوری جھیل ۔میرے دل اور دماغ اور احساسات پر نمک کی ایک پتلی سی جھلی چڑھ گئی تھی اور مجھے یقین ہو چلا تھا کہ اگر میں اپنے جسم کو کہیں سے بھی کھرچوں گا تو آنسو ڈھلک کر بہہ نکلیں گے اس لئے میں چپ چاپ بیٹھا رہا اور جب وہ میری طرف دیکھ کر ڈھلوان پر مڑ گئی اس وقت بھی میں چپ چپ بیٹھا رہا کیونکہ میرے پاس پانی نہیں تھا اور بانو پانی کے پاس جا رہی تھی۔جس رات بانو کا بیاہ غضنفر سے ہوا اس رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ہماری کھوئی ہوئی ندی ہمیں واپس مل گئی ہے اور نمک کے پہاڑ پر میٹھے پانی کے چشمے ابل رہے ہیں اور ہمارے گاؤں کے مرکز میں ایک بہت بڑا درخت کھڑا ہے۔ یہ درخت سارے کا سارا پانی کا ہے اس کی جڑیں،شاخیں، پھل،پھول، پتیاں سب پانی کی ہیں اور اس درخت کی شاخوں سے،پتوں سے پانی بہہ رہا ہے اور یہ پانی ہمارے گاؤں کی بنجر زمین کو سیراب کر رہا ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ کسان ہل جوت رہے ہیں ،عورتیں کپڑے دھو رہی ہیں ، کان کن نہا رہے ہیں اور بچے پھولوں کے ہار لئے پانی کے درخت کے گرد ناچ رہے ہیں اور بانو صاف ستھرے کپڑے پہنے میرے کندھے سے لگی مجھ سے کہہ رہی ہے:اب ہمارے گاؤں میں پانی کا درخت اُگ آیا ہے۔ اب میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔یہ بڑا عجیب خواب تھا لیکن میں نے جب اپنے باپ کو سنایا تو وہ مارے ڈر کے کانپنے لگے اور بولے: ’’تم نے یہ خواب میرے سوا کسی دوسرے کو تو نہیں سنایا‘‘ میں نے کہا :’’نہیں ابا، مگر آپ ڈر کیوں گئے ہیں۔
یہ تو ایک خواب تھا ۔ وہ بولے:’’ارے خواب تو ہے مگر یہ ایک سرخ خواب ہے۔‘‘میں نے ہنس کر کہا :’’نہیں ابا جو درخت میں نے خواب میں دیکھا وہ سرخ نہیں تھا۔اس کا رنگ تو بالکل جیسے پانی کا ہوتا ہے۔ وہ پانی کا درخت تھا۔ اس کا تنا،شاخیں ،پتے سب پانی کے تھے۔ہاں اس درخت پر پھلوں کی جگہ کٹ گلاس کی چمکتی ہوئی صراحیاں لٹکی تھیں اور ان میں پانی بچوں کی ہنسی کی طرح چمکتا تھا اور فواروں کی طرح اونچا جا کے گرتا تھا‘‘ وہ بولے۔’’کچھ بھی ہو یہ بڑا خطر ناک سپنا ہے۔ اگر پولیس نے کہیں سن لیا یا تم نے کسی سے اس کا ذکر کر دیا تو وہ تمہیں اس طرح پکڑ کے لے جائیں گے جس طرح وہاں مزدوروں کو پکڑ کے لے گئے تھے جنہوں نے ہمارے گاؤں کی ندی کو واپس لانا چاہا تھا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ تم اس خواب کا ذکر کسی سے نہ کرو۔اسے بھول جاؤ گے تم نے یہ خواب کبھی دیکھا تھا کیونکہ اس خواب کا چرچا کر کے اس سے کچھ نہ ہو گا، سوکھی ندی ہمیشہ سوکھی رہے گی اور پیاسے سدا پیاسے رہیں گے۔‘‘مجھے اپنے اباکے لہجے کی حسرت آج تک یاد ہے ۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ شروع شروع میں اس کا ذکر میں نے کسی سے نہیں کیا لیکن جب چند مزدور ساتھیوں سے اپنے خواب کا ذکر کیا تو وہ میرا  خواب دیکھ کر ڈرنے کی بجائے ہنسنے لگے اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے تو انہوں نے کہا:’’بھلا اس میں ڈرانے کی کیا بات ہے۔ یہ خواب تو بہت اچھا ہے اور یہ ان کی کان میں ہر ایک دیکھ چکا ہے۔‘‘
’’کیا سچ کہتے ہو!وہی پانی کا درخت؟‘‘ ’’ہاں ہاں ۔وہی پانی کا درخت گاؤں  میں،ایک ٹھنڈا میٹھا پانی کا چشمہ ہر نمک کی کان میں!‘‘ ’’گھبرا ؤ نہیں،ایک دن یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔‘‘
پہلے مجھے ان کی باتوں کا یقین نہیں آیا ۔لیکن اپنے ساتھیوں کے ساتھ کام کرتے کرتے اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ ہمارا خواب ضرور پورا ہوگا ۔ایک دن ہمارے گاؤں میں پانی کا درخت ضرور اگے گا۔ اور جو جام خالی ہیں وہ بھر جائیں گے اور جو کپڑے میلے ہیں وہ دھل جائیں گے اور جو دل ترسے ہوئے ہیں وہ کھل جائیں گے اور ساری زمینیں اور ساری محبتیں اور سارے ویرانے اور سارے صحرا شاداب ہو جائیں گے۔
٭٭٭

"Puranay Khuda" A Famous Urdu Short Story By Krishn Chander












پرانے خدا
کرشن چندر
 متھرا کے ایک طرف جمناہے اور تین طرف مندر ، اس حددو اربعہ میں نائی حلوائی ، پانڈے ، پجاری اور ہوٹل والے بستے ہیں۔جمنا اپنارُخ بدلتی رہتی ہے۔نئے نئے عالی شان مندر بھی تعمیر ہوتے رہتے ہیں۔لیکن متھرا کاحدوداربعہ وہی رہتا ہے، اس کی آبادی کی تشکیل اور تناسب میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو پاتی۔ سوائے ان دنوں کے جب اشمٹی کا میلہ معلوم ہوتا ہے کر شن جی کے بھگت اپنے بھگوان کا جنم منانیکے لیے ہندو ستان کے چاروں کونوں سے کھنچے چلے آتے ہیں ۔ ان دنوں کرشن جی کے بھگت متھرا پر یلغار بول دیتے ہیں ، اور مدراس سے، کراچی سے، رنگون سے، پشاور سے ، ہر سمت سے ریل گاڑیا ں آتی ہیں اور متھرا کے اسٹیشن پر ہزاروں جاتر ی اُگل دیتی ہیں، جاتری سمندر کی لہروں کی طرح بڑھے چلے آتے ہیں اور مندروں گھاٹوں ،ہوٹلوں اور دھرم شالاؤں میں سماجاتے ہیں۔متھرا میں کرشن بھگتوں کے استقبال کے لیے پندرہ بیس روز پہلے ہی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مندروں میں صفائی شروع ہوتی ہے۔ فرش دھلائے جاتے ہیں۔ کلسوں پر دھات پالش چڑھایاجاتا ہے، زر کار پنگو ڑے اور جھولے سجائے جاتے ہیں دیواروں پر قلعی اور رنگ ہوتا ہے۔ دروازوں پر گُل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔ دکانیں رادھاکرشن جی کی مورتیوں سے سجائی جاتی ہیں ۔ حلوائی پوری کچوری کے لیے بناسپتی گھی کے ٹین اکٹھے کرتے ہیں ۔ ہوٹلوں کے کرائے دُگنے بلکہ سہ گنے ہوجاتے ہیں ۔دھرم شالائیں چونکہ خیراتی ہوتی ہیں اس لیے اُن کے مینجیر ایک کمرے کے لیے صرف ایک روپیہ کرایہ وصول کرتے ہیں ۔ کسان لوگ جوان خیراتی دھرم شالاؤں میں ٹھہرنے کی توفیق نہیں رکھتے ۔ عموماًجمنا کے کسی گھاٹ پر ہی سورہتے ہیں گھاٹ چونکہ پختہ انیٹوں کے بنے ہوتے ہیں ، اس کے لیے گھاٹ منتظم سو نے والے جاتریوں سے ایک آنہ فی کس وصول کرلیتے ہیں اور اصل گھاٹ پر سونے کے لیے ایک آنے کاتاوان بہت کم ہے ۔کنارجمنا ۔ سر پر کدم کی پرچھائیاں ، جمناکی لہروں کی میٹھی میٹھی لوریاں ، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ۔ تاروں بھرا آسمان اور مندروں کے چمکتے ہوئے کلس۔ جب جی چاہاسورہے ، جب جی چاہااُٹھ کر جمنا میں ڈبکیاں لگانے لگے ۔ ایک آنے میں دومزے، اس پر بھی بہت سے کسان لوگ گھاٹ کے غریب منتظموں کوایک آنہ کرایہ بھی ادا کرنانہیں چاہتے اور گھاٹ پر سونے اور جمنا پر نہانے کے مزے مفت میں لُوٹنا چاہتے ہیں۔انسان کی فطری کمینگی…..!

جنم اشمٹی سے دوروز پہلے میں متھرا میں آپہنچا ، متھرا کے بازار گلیاں اور مندرجاتریوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے اور جاتریوں کے ریوڑوں کو مختلف مندروں میں داخل کررہے تھے ، ان جاتریوں کی شکلیں دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ متھرا میں ہندوستان بھر کی بوڑھی عورتیں جمع ہوگئی ہیں، بوڑھی عورتیں مالاپھیرتی ہوئیں اور لاٹھی ٹیک کر چلتے ہوئے مرد ….کھانستی ہوئی ، گھٹیاکی ماری ہوئی رعشہ براندام مخلوق جویہاں اپنے گناہ بخشوانے کی اُمید میں آئی تھی ۔ جتنی بدصورتی یہاں میں نے ایک گھنٹے کے عرصے میں دیکھ لی، اتنی شاید میں اپنی ساری عمر میں بھی نہ دیکھ سکتا۔ متھرا کایہ احسان میں قیامت تک نہیں بھول سکتا ۔

متھرا پہنچتے ہی سب سے پہلے میں نے ا پنے رہنے کے لیے جگہ تلاش کی، ہوٹل والوں نے بالکونیاں تک کرایہ پردے رکھی تھیں۔ اور ان کی کھڑکیاں ،دروازوں اوربالکونیوں پرجابجاجاتریوں کی گیلی دھوتیاں ہلولیں لہراتی دکھائی دیتی تھیں ۔دھرم شالائیں جاتریوں سے بھڑکے چھتّوں کی طرح بھر ی ہوئی تھیں ۔ کوئی مندربنگالیوں کے لیے وقف تھا تو کوئی مدراسیوں کے لیے، کسی دھرم شالہ میں صرف نمبودری برہمنوں کے لیے جگہ تھی تو کسی میں صرف کائستھ ٹھہر سکتے تھے ۔ اس سرائے میں اگر والوں کوترجیح دی جاتی تھی، تو دوسری سرائے میں صرف امرتسر کے ارڈرے ٹھہرسکتے تھے۔ ایک دھرم شالہ میں ایک کمرہ خالی تھا۔میں نے ہاتھ جوڑکر پانڈے جی سے کہا۔ میں ہندوہوں ،یہ دیکھئیے ہات پرمیرانام کُھداہوا ہے۔اگر آپ انگریزی نہیں پڑھ سکتے تو چلئے بازار میں کسی سے پڑھو الیجئے ۔ غریب جاتر ی ہوں اپنی دھرم شالہ میں جگہ دے دیجئے آپ کابڑا احسان ہوگا۔ پانڈے جی کی آنکھیں غلافی تھیں اور بھنگ سے سرخ، جیواکامقدس تاگا ننگے پیٹ پر لہرا رہاتھا۔کمرمیں رام نام کی دھوتی تھی۔چند لمحوں تک چپ چاپ کھڑے مجھے گھورتے رہے ، پھر گھگیائی ہوئی آواز میں جس میں پان کے چُونے اور کتھے کے بُلبلے سے اُٹھتے ہوئے معلوم ہوتے تھے،بولے آپ کون ہو،

میں نے جھلا کر کہا،میں انسان ہوں ،ہندوہوں ،کالاشاہ کاکوسے آیاہوں ۔ ناں ،ناں!پانڈے جی نے اپنابایاں ہاتھ گوتم بُدھ کی طرح اُوپر اُٹھاتے ہوئے کہا۔ہم پوچھت ہیں ۔آپ کون گوت ہو؟

گوت؟میں نے رُک کرکہا۔مجھے اپنی گوت تو یاد نہیں ۔ بہرحال کوئی نہ کوئی گوت ضرو ہوگی۔ آپ مجھے فی الحال اپنی دھرم شالہ ۔اس خیراتی دھرم شالہ میں رہنے کے لیے جگہ دے دیں ،میں گھر پر تاردے کر اپنی گوت منگوائے لیتاہوں۔ ناں،ناں!پانڈے جی نے پان کی پیک زور سے فرش پر پھینکے ہوئے کہا۔ہم ایسومانس کیسوراکھیں؟ نہ گوت نہ جات!

میں متھرا کے بازاروں میں گھوم رہاتھا۔فضامیں کچوریوں کی کڑوی بوجمنا کے مہین کیچڑ کی سڑانداور بناسپتی گھی کی گندی باس چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔متھرا کی خاک جاتر یوں کے قدموں میں تھی، ان کے کپڑے میں تھی، اُن کے سر کے بالوں میں، ناک کے نتھنوں میں حلق میں ،میرادم گُھٹاجاتا تھااور جاتری شری کرشن مہاراج کی جے کے نعرے لگا رہے تھے ۔میرا سرگھوم رہاتھا۔مجھے رہنے کے لیے ابھی تک کہیں جگہ نہ ملی تھی۔ایک پنواڑی کی دکان پر میں نے ایک خوش پوش خوش رو نوجوان کودیکھا کہ سرتاپابّراق کھدّر میں ملبوس ، پان کلّے میں دبائے کھڑا ہے ، آنکھوں سے اور چہرے سے ذہانت کے آثارنمایاں ہیں۔میں نے اُسے بازوسے پکڑ لیا۔ مسٹر؟میں نے اُسے نہایت تلخ لہجے میں مخاطب ہوکر کہا۔کیاآپ مجھے جیل خانے کے سوایہاں کوئی اورایسی جگہ بتاسکتے ہیں جہاں ایک ایساانسان جوہندوہو، پنجابی ہو ،کالاشاہ کاکو سے آیاہوا ور جسے اپنی گوت کا علم نہ ہو،میلے کے دنوں اپناسر چھپا سکے؟ نوجوان نے چند لمحوں کے لیے توقف کیا، چندلمحوں کے لیے مجھے گھورتا رہا۔ پھر مسکرا کرکہنے لگا ۔ آپ پنجابی ہیں نا!اسی لیے آپ یہ تکلیف محسوس کررہے ہیں …دراصل بات یہ ہے کہ …معاف کیجئے گا…پنجابی بڑے بدمعاش ہوتے ہیں ۔یہاں سے لڑکیا ں اغوا کر لے جاتے ہیں،

اور ان لڑکیوں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جواس طرح اغوا ہوجاتی ہیں، میں نے پوچھا۔ ایک دُبلاپتلاآدمی جس کاقد بانس کی طرح لمبا تھااور منہ چھچھوندر کاسا کھدرپوش نوجوان کی تائید کرتے ہوئے بولا۔ بابو صاحب ، آپ متھرا کی بات کیوں کرتے ہیں۔متھرا تو پوترنگری ہے ۔ میں تو بمبئی تک گھوم آیاہوں ، وہاں بھی پنجابیوں کوشریف محلوں میں کوئی گھسنے نہیں دیتا ۔

دوچار لوگ ہمارے اردگرد اکٹھے ہوگئے۔میں نے آستین چڑھاتے ہوئے کہا۔ کیاآپ نے تاریخ کامطالعہ کیاہے؟ جی ہاں !خوش رونوجوان نے پان چباتے ہوئے جواب دیا۔

توآپ کومعلوم ہوگاکہ پنجاب سب سے آخر میں انگریزوں کی عمل داری میں آیا۔اور چھوٹی بچیوں کوجان سے مار ڈالنے کی رسم جوہندوستان کے صوبوں میں رائج تھی ۔ پنجاب میں سب سے آخر میں خلاف قانون قرار دی گئی۔انگریزوں کے آنے سے پہلے شریف لوگ اکثر اپنی لڑکیوں کوپیداہوتے ہی مارڈالتے تھے ۔

اُس سے کیا ہوا؟‘‘

ہوا یہ کہ پنجاب میں مردوں اور عورتوں کاتناسب ایک اور پانچ کاہوگیا۔ پانچ مرد اورایک عورت ، اب بتائیے باقی چار مرد کہاں جائیں،مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہر عورت ایک دم چار پانچ خاوند کر سکے ، جیسا کہ تبّت میں ہوتا ہے، کیاآپ اس بات کی اجازت دیتے ہیں۔ نوجوان ہنسنے لگا۔
 میں نے کہاپنجاب میں لڑکیاں کم ہیں ۔پنجابیوں نے دوسرے صوبوں پر ہات صاف کرناشروع کیا ، بنگال میں لڑکیاں زیادہ ہیں۔ وہاں لوگ ایک بیوی رکھتے ہیں اورایک داشتہ جوعموماًودھوا ہوتی ہے،سندھی اور گجراتی مرد سمندر پار تجارت کے لیے جاتے ہیں اور اکثر گھروں سے کئی سال غائب رہتے ہیں۔ اسی لیے سندھ میں ادم منڈلیاں بنتی ہیں اور گجرات میں بکری کے دودھ اور برہمچریہ کاپرچار ہوتا ہے۔ مرض ایک ہے ، نوعیت وہی ہے ،اب آپ ہی بتائیے کہ شریف کون ہے اور بدمعاش کون؟جو حقیقت ہے آپ اس کا سامنا کرنانہیں چاہتے۔اُلٹ پنجابیوں کوکوستے ہیں۔ نوجوان بے اختیار قہقہہ مار کرہنسا، پان گلے سنے موری میں جاگرا ، وہ میرے بازو میں بازوڈال کرکہنے لگا۔آئیے صاحب میں آپ کواپنے گھر لیے چلتا ہوں۔‘‘
 تھوڑے ہی عرصے میں ہم ایک دوسرے کے بے تکلّف دوست بن گئے وہ ایک نوجوان وکیل تھاایک کامیاب وکیل، اس کاذہین چہرہ ،فراخ ماتھا،اورمضبوط ٹھوڑی اس کے عزم راسخ کی دلیل تھے۔ وہ مدراسی برہمن تھا۔متھرا میں سب سے پہلے اُس کادادا آیاتھاکہتے ہیں کہ اس کے دادا کے کسی رشتہ دار نے جومدراس میں ایک مندر کاپجاری تھا،کسی آدمی کوقتل کر دیا ،ٹھاکر جی کو ایک پجاری کے گناہ کے بارسے بچانے کے لیے میرے دوست کے دادانے ایک رات کومندر سے ٹھاکر جی کی مورتی کواُٹھا
 لیااورایک گھوڑے پر سوا ر ہوکر مدراس چل دیا۔سفر کرتے کرتے وہ متھراآن پہنچا ۔یہاں پہنچ کر اس کی آتماکو سکون نصیب ہوا ۔اور اُس نے ٹھاکر جی کوایک مندر میں ستھاپت کردیا۔ آج اسی دادا کاپوتا میرے سامنے مندر کی دہلیزپر کھڑا تھااور میں اس کے گٹھے ہوئے جسم اور چہر ے کے تکیھے نقو ش میں اس بوڑھے برہمن کے عزم اور اعتقادکی جھلک دیکھ رہاتھاجس کی تصویر اس کی بیٹھک میں آویزاں تھی۔ نہادھوکر اور کھانے سے فارغ ہوکر ہم میلے کی سیرکو نکلے ،جوگلی بازار سے دشرام گھاٹ کی طرف جاتی ہے اس میں سینکڑوں نائی بیٹھے استروں سے جاتریوں کے سرمونڈرہے تھے۔ گول گول چمکتے ہوئے منڈھے ہوئے سراُن سپیدچھتریوں کی طرح دکھائی دیتے تھے جوبرسات کے دنوں میں خود بخودزمین پراُگ آتی ہیں،جی چاہتاتھا کہ ان سپید سپید چھتریوں پر نہایت شفقت سے ہاتھ پھیرا جائے!اتنے میں ایک نائی نے میری آنکھوں کے سامنے ایک چمکدار اُسترا گھمایااور مسکرا کربولا،بابوجی سرمنڈالو، بڑاپن ہوگا، میں نے اپنے دوست سے پوچھایہ جاتری لوگ سرکیوں منڈاتے ہیں، کہنے لگا ۔دان پُن کرنے کی خاطر۔یہ لوگ اپنے مرے ہوئے عزیزوں کی روحوں کے لیے دان پُن کرناچاہتے ہیں اور اُس کے لیے سرمنڈانابہت ضروری ہے اور یہاں ایسا کون شخص ہے جس کااب تک کوئی عزیز یارشتے دار نہ مرا ہو، میں نے جواب دیامیری چندیاپر پہلے ہی تھوڑے سے بال ہیں ۔ میں انہیں حجام کی دست بُرد سے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں ۔ کیونکہ میں سمجھتاہوں کہ ایک بال جوچندیاپرہے اُن بالوں سے کہیں بہتر ہے جوحجام کی مٹھی میں ہوں ،ہم لوگ جلدی جلدی قدم اُٹھاتے ہوئے وشرام گھاٹ پہنچ گئے ۔ گھاٹ پر بہت سی کشتیاں کھڑی تھیں اور لوگ ان پر بیٹھ کرجمنا جی کی سیر کے لیے جارہے تھے ہم نے بھی ایک کشتی لی اور تین گھنٹے تک جمنا میں گھومتے رہے۔ جن کے کنارے پختہ گھاٹ بنے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں مندروں اور دھرم شالاؤں کی چوبرجیاں اورکدم کے درخت نظر آجاتے ۔ایک جگہ دریا کے کے کنارے ایک پُرانے شکستہ محل کے بلند کنگرے نظر آئے ۔استفسارپر میرے دوست نے بتایا کہ اسے کنس محل کہتے
 ہیں۔میں نے کہا۔تین چار سو سال سے زیادہ پُرانا معلوم نہیں ہوتا ، کہنے لگا ہاں اسے کسی مرہٹہ سردار نے بنوایاتھا۔اب زودالاعتقاد لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یہ کہہ دیاجاتاہے کہ یہ اُسی کنس کامحل ہے جس کے ظلموں کاخاتمہ کرنے کے لیے بھگوان نے جنم لیا تھامیں نے پوچھا،کس زمانے میں ظلم نہیں ہوتے؟وہ ہنس کربولا ،اگر یہی پوچھناتھا تو متھر اکیوں آئے…..وہ دیکھوریل کاپُل؟….متھرا میں سب سے زیادہ خوبصورت شے یہی ریل کا پُل ہے ، مضبوط جیّد بلند ،ریل گاڑی نہایت پُر سکوں ا نداز میں جمنا کے سینے کے اُوپر دندتاتی ہوئی چلی جارہی تھی کہتے ہیں کہ کرشن جی کے جنم دن کو جمنافرطِ محبت سے اُمڈی چلی آتی تھی اور جب تک اس نے کرشن جی کے قدم نہ چھولیے اس کی لہروں کاطوفان ختم نہ ہوا ۔ جمنا میں اب بھی طوفان آتے ہیں لیکن اس کی لہروں کی ہیجانی اس ریل گاڑی کے قدموں کو بھی نہیں چُھو سکتی جواس کی چھاتی پر دند ناتی ہوئی چلی جارہی ہے۔جمنا کی سر بلند ی ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکی ہے۔
 جب ہم واپس آئے تو سورج غروب ہورہا تھا اور وشرام گھاٹ پر آرتی اتار ی جارہی تھی۔عورتیں رادھے شیام ،رادھے شیام گاتی ہوئی جمنا میں نہا رہی تھیں شنگھ اور گھڑیال زور زور سے بج رہے تھے،جاتری چڑھا وا چڑھارہے تھے، اور جمنا میں پھل اور پھو ل پھینک رہے تھے ۔پانڈے دکشنا سنبھا لتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ آرتی اتارتے جاتے تھے۔ ایک پانڈے نے ایک غریب کسان کو گردن سے پکڑ کر گھا ٹ سے باہر نکال دیا۔کیونکہ کسان کے پاس دکشناکے پیسے نہ تھے ۔شاید کسان سمجھتا تھاکہ بھگوان کی آرتی پیسوں کے بغیر بھی ہوسکتی ہے ۔ وشرام گھاٹ کی نچلی سیڑھیوں تک جمنا بہتی تھی، لیکن یہاں پانی کم تھا اور کیچڑ زیادہ تھا اور کیچڑ میں سینکڑوں چھوٹے موٹے کچھو ے کلبلارہے تھے اور مٹھا ئیاں اور پھل کھا رہے تھے ۔ان کے ملائم مٹیالے جسم ان جاتریوں کی ننگی کھوپریوں کی طرح نظر آتے تھے جن کے بال نائیوں نے مونڈکرصاف کر دیئے تھے۔ رادھے کرشن رادھے کرشن ، جاتر ی چلاّرہے تھے ۔ نوبیاہتاجوڑے کشتیوں میں بیٹھے ہوئے مٹی کے دیئے روشن کر کے انہیں جمنا کے سینے پر بہا رہے تھے۔ جن کے سینے پر اس قسم کے سینکروں دئیے روشن ہو اُٹھے تھے اورنوبیاہتا جوڑھے مسرت بھر ی نگاہوں سے ایک دوسرے کی طرف تک رہے تھے ، ہمارے بالکل قریب ہی ایک زرد رُو نوجوان لڑکی نے مٹی کے دودیئے روشن کیئے اور انہیں جمنا کے حوالے کر دیا ۔ دیر تک وہ وہاں کھڑی اپنے ہاتھ اپنے سے لگائے اُن دئیوں کی طرف دیکھتی رہی اور ہم اس کی آنکھو ں میں چمکنے والے آنسوؤں کی طرف دیکھتے رہے ۔ اس لڑکی کے ساتھ اس کا خاوندنہ تھا ، وہ بیا ہتا معلوم ہوتی تھی ، پھر ان جھلملاتے ہوئے دئیوں کی لَوکو کیوں اس نے اپنے سینے سے چمٹا لیا تھا ، یہ لرزتی ہوئی شمع محبت …..لڑکی نے یکا یک میرے دوست کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا کر آہستہ آہستہ گھاٹ کی سیڑھیا ں چڑھتے ہوئے چلی گئی۔ میرے دوست کے لب بھنچے ہوئے تھے، رخساروں پر زردی کھنڈی ہوئی تھی، کیا جمنا میں اتنی طاقت نہ تھی کہ محبت کے دوکا نپتے ہوئے شعلوں کو ہم آغوش ہوجانے دے ۔یہ دیواریں ، یہ پانی کی دیواریں،پیسے کی دیواریں ،سماج ، ذات پات اور گوت کی دیواریں …..!میرا دل غیر معمولی طور پر اُداس ہوگیا ۔ اور میں نے سوچا کہ میں کل متھر اسے ضرور کہیں باہر چلاجاؤں گا ۔ برندابن میں یا شاید گوکل میں ، جہاں کی سادہ اورپاک وصا ف فضا میں میرے دل کو اطمینا ن نصیب ہو گا۔ برندابن میں بن کم اور پکّی گلیا ں اور کھلی سڑکیں زیادہ تھیں ، برندابن کے عالی شان مندروں کی وسعت اور عظمت پر محلوں کا دھوکہ ہوتا تھا ۔ راجہ مان سنگھ کا مندر ، میر اکامندر باہر عمارت میں کرشن جی کی مورتی موجود تھی، ہر جگہ پانڈے موجود تھے، انگریزی بولنے والے پڑھے لکھے گائیڈ ، پہلے لوگ مندروں میں بے کھٹکے چلے جایاکرتے تھے، اب بھگوان نے گائیڈرکھ لیے تھے ،خدا وہی پُرانے تھے۔ لیکن جدید مذہب کے سارے لوازمات سے
 بہر ہ  ور، آخریہ نئی تہذیب بھی تو اُنہیں کی بنا ئی ہوئی تھی۔
 برندابن کے ایک مندر میں میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا ہال ہے جس میں سات آٹھ سوسادھو ہات میں کھڑ تالیں لیے ایک ساتھ گارہے تھے، رادھے شیام ، رادھے شیام ….لفٹ رائٹ ،لفٹ رائٹ….باقاعدگی تنظیم ،اندھاپن تہذیب اور طاقت کے ہزاروں رازاس رقت انگیز نظارے میں مستور تھے، ہر روز سینکڑوں بلکہ ہزاروں جاتری اس مندر میں آتے تھے اور بے شمار چڑھاوا چڑھتا تھا ، سُنا ہے کہ ان اندھے سادھوؤں کوصبح شام دونوں وقت کھا نا مل جاتاتھا اور ایک پیسہ دکشناکا ، باقی جومنافع ہوتا ، وہ ایک لحیم شحیم پانڈے کی تجوری میں چلاجاتا ، ایک اور مندر میں بھی میں نے ایسا ہی نظارہ دیکھا ، فرق یہ تھا کہ یہاں اندھے سادھوؤں کی بجائے بے کس اور نادار عورتیں کرشن بھگوان کی استتی کر رہی تھیں ۔دن بھر اُستتی کرنے کے بعد اُ نہیں بھی وہی راشن ملتا تھا جواندھے سادھوؤں کے حصے میں آتا تھا ۔ یعنی دووقت کا کھانا اور ایک پیسہ دکشناکا ۔ان اندھے سادھو ؤ ں اور عوتوں کے سر منڈھے ہوئے تھے ۔جنہیں دیکھ کر مجھے وشرام گھاٹ کے جاتر ی اورجمنا کے کیچڑ میں کلبلاتے ہوئے کچھو ے یاد آگئے ۔ مذہب نے مندروں میں فیکٹریاں کھول رکھی تھیں اور بھگوان کو لوہے سے بھی زیادہ مضبوط سلاخوں کے اندر بند کر دیا تھا ، ہر مندر میں ہر ایک جاتر ی کو ضرور کچھ نہ کچھ دینا پڑتا تھا بعض دفعہ توایک ہی مندر میں مختلف جگہوں پر دکشنا ریٹ مختلف تھا ۔ سیڑھیوں کوچھُو نے کے لیے ایک آنہ ، مندر کی چوکھٹ تک آنے کے لیے چار آنے ۔ مندر کا کواڑا کثر بند رہتا تھا اور ایک روپیہ دے کر جاتر ی مندر کے کواڑ کھول کر بھگوان کے درشن کرسکتا کئی ایک مندر ایسے تھے جو سال میں صرف ایک بار کھلتے تھے اور کوئی بڑا سیٹھ ہی اُن کی ’’بوہنی ‘‘کرسکتا تھا اور بہت سا روپیہ اد کرکے مندر کے کواڑ کھول سکتاتھا ۔طوائفیت ہمارے سماج کا کتنا ضروری جزو ہے ۔ اس بات کا احساس مجھے ایسے مندروں ہی کو دیکھ کر ہوا ۔‘‘ گوکل میں جمنا کے کنارے تین عورتیں ریت پر بیٹھی رو رہی تھیں ، مارواڑ سے کرشن بھگوان کے درشن کرنے کو آئی تھیں ، زیوروں میں لدی پھندی ایک سادھو مہاتما نے انہیں اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھنسا لیا اور گیان دھیان کی باتیں کرتے کرتے انہیں مختلف مندروں میں لیے پھر ے ، اور جب یہ مارداڑی

عورتیں گوکل میں ماکھن چور کنھیا کا گھر دیکھنے آئیں تویہ مہاتما بھی اُن کے ہمرا ہ ہو لیے، عورتیں جمنا میں اشنا ن کر رہی تھیں، اور سادھو کنارے پر اُن کے زیوروں اور کپڑوں کی رکھوالی کر رہاتھا ۔ جب عورتیں نہا دھو کرگھاٹ سے باہر نکلیں تو مہاتما جی غائب تھے ،عورتیں سرپیٹنے لگیں ، کرشن جی اگر ماکھن چراتے تھے تو سادھو مہاتما نے اگر چندزیور چرالیے تو کون سابُر ا کام کیا ۔ لیکن مہاتما کی یہ تکف اُن بے وقوف عورتوں کی سمجھ میں نہ آتی تھی اور وہ جمنا کی گیلی ریت پر بیٹھی مہاتما جی کو گالیا ں دے رہی تھیں۔ بہت سے لوگ اُن کے آس پاس کھڑے تھے اور وہ طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ ’’جی بڑا ظلم ہوا ہے ان غریب عورتوں کے ساتھ ….‘‘
 ’’بھلا یہ گھر سے زیور لے کر ہی کیوں آئیں؟‘‘ ’’اپنی امارت دکھانا چاہتی تھیں ۔ اب رونا کس بات کا …..‘‘ ’’اجی صاحب شکر کیجئے ان کی جان بچ گئی۔ اب کل ہی متھر امیں ۔ ایک پانڈے نے اپنے ججمان اور اس کی بیوی کو اپنے گھر لے جاکر قتل کر دیا ۔ ججمان کا نیانیا بیاہ ہوا تھا ۔ بیوی کے پاس ساٹھ سترّ ہزار کا زیور تھا …کسی مدراسی جاگیردار کالڑکاتھا جی، اکلوتا لڑکاتھا …اس کے باپ کو پولیس نے تاردیا ہے ، خیال توکیجئے کیسا اندھیر مچ رہا ہے اس پوتر نگر ی میں۔‘‘
 ’’متھر ا میں لوک سے نیاری!‘‘ بہت رات گئے میں اور میرا دوست جمنا کے اس پار کھیتوں میں گھومتے رہے ۔ جنم اشیٹمی رات تھی،پھونس کے جھونپڑیوں میں جن میں غریب مزدور اور کسان رہتے تھے، مٹی کے دیئے روشن تھے اور جمنا کے دوسرے کنارے گھاٹوں پر بجلی کے قمقمے اور برہمنوں کے قہقہوں کی آوازیں فضا میں گونج رہی تھیں۔ پھونس کے جھونپڑوں کے باہر مریل سی فاقہ زدہ گائیں بندھی تھیں اور نیم برہنہ لڑکے خاک میں کھیل رہے تھے ۔ کنوئیں کی جگت پر ایک بوڑھی عورت آہستہ آہستہ ڈول کھینچ رہی تھی۔ دوبڑی بڑی گاگریں اس کے پاس پڑی تھیں۔کنوئیں سے آگے آم کے درختوں کی قطار تھی جو بہت دُور تک پھیلتی ہوئی چلی گئی تھی۔ آم کے درخت اور آنولے کے پیڑا ور کھرنی کے مدور چھتنارے ، یہاں گہرا سناٹا چھا یا ہوا تھا۔ ہوا میں ایک ہلکی ادا س سی خوشبو تھی اور ستاروں کی روشنی ایسی جس میں سپیدی کے بجائے سیاہی زیادہ گھلی ہوئی تھی جیسے یہ روشنی کھل کر ہنسنا چاہتی ہے ، لیکن شام کی اداسی کو دیکھ کررُک جاتی ہے۔ میرے دوست نے آہستہ سے کہا۔میں اور وہ کئی بار اُن کھرنی کے مدور سایوں میں ایک دوسرے کے ہات کے ہات میں دیئے گھومتے رہے ہیں…کتنی ہی جنم اشٹمیاں اس طرح گزر گئیں….اورآج ….! میں خاموش رہا۔ چند دن ہوئے میر ادوست کہہ رہا تھا ۔ مجھے قتل کے ایک مقدمے میں پیش ہوناپڑا ۔قاتل کومقتو ل کی بیوی سے محبت تھی….اور جب اسے پھانسی کا حکم سنایاگیاتو قاتل کسان نے جن حسرت بھر ی نگاہوں سے اپنی محبوبہ کی طرف دیکھا ۔ ان نگاہوں کی وارفتگی اور گرسنگی ابھی تک میرے دل میں تیر کی طرح چبُھی جاتی ہے۔ وہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کو چاہتے تھے ۔
    
 سالہاسال ایک دوسرے سے پیار کرتے رہے ۔ پھر لڑکی کے ماں باپ نے اس کی شادی کسی دوسری جگہ کر دی ….یہ جمنا پر لوگ محبت کے دیئے کس لیے جلاتے ہیں ؟…بڑے ہو کر اپنے ہی بیٹوں اور بیٹیوں کے گلے پر کس طرح چُھری چلاتے ہیں…وہ کسان عورت اب پاگل خانے میں ہے….؟ میں نے کہا محبت بھی اکثر بے وفا ہوتی ہے ۔ رادھا کو کرشن سے عشق تھا لیکن رادھا اور کرشن کے درمیان بادشاہت کی دیوار آگئی ، اس نے کہا شاید تمہیں رادھا اور کرشن کی محبت کاانجام معلوم نہیں ۔‘‘
 ’’نہیں‘‘وہ چند لمحوں تک خاموش رہا پھر آہستہ سے کہنے لگا…. ….کرشن جی نے برندا بن کی گوپیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک بار پھر برندا بن میں آئیں گے اورہر ایک گوپی کے گھر کا دروازہ تین بار کھٹکھٹا ئیں گے جس گھر میں روشنی ہو گی اور جو گوپی دروازہ کھٹکھٹانے پران کا خیرمقدم کرے گی۔وہ اُسی عشق کو سچا جانیں گے__اس بات کو کئی برس گزر گئے ۔ ایک اندھیاری طوفانی رات میں جب بجلی کڑک رہی تھی اور بارش موسلادھار برس رہی تھی کسی نے برندابن کے دروازے کھٹکھٹانے شروع کیے سیاہ لبادے میں لپٹا ہوا اجنبی ہر ایک مکان پر تین بار دستک دیتا ، اور پھر آگے بڑھ جاتا ….لیکن سب مکانوں میں اندھیر ا تھا ۔سب لوگ سوئے پڑے تھے ۔ کسی نے اُٹھ کر دروازہ نہ کھولا۔ اجنبی نااُمید ہو کر واپس جانے والا تھاکہ اُ س نے دیکھا کہ دور ۔ ایک جھونپڑے میں مٹی کا دیاجھلملا رہا ہے ۔ وہ اس جھونپڑی کی طرف تیزتیز قدموں سے بڑھا ۔ لیکن اسے دروازہ کھٹکھٹا نے کی ضرورت بھی نہ محسوس ہوئی ۔ کیونکہ دروازہ کھلا تھا ۔ جھونپڑے کے اندر دیئے کی روشنی کے سامنے رادھا بیٹھی تھی۔ اپنے محبوب کے انتظار میں ، رادھا کے سر کے بال سپید ہو چکے تھے، چہر ے پر لاتعداد جُھر یا ں ۔ کرشن جی نے گلوگیرآواز میں کہا۔’’رادھا میں آگیا ہوں ۔‘‘ لیکن رادھا خاموش بیٹھی رہی ۔ دیئے کی لَوکی طرف تکتی ہوئی ۔ رادھا میں آگیاہوں، کرشن جی نے چلا کر کہا۔
 لیکن رادھا نے کچھ نہ دیکھا ۔ نہ سُنا ۔اپنے محبو ب کی راہ تکتے تکتے اس کی آنکھیں اندھی ہوچکی تھیں اور کان بہر ے۔ ……زندگی سے پرے ، موت سے پر ے انصاف سے پرے…..
 میری آنکھوں میں آنسوآگئے ، میر ادوست اپنی باہوں میں سر چھپا کر سسکیاں لینے لگا جیسے کسی نے اس کی گرد ن میں پھانسی کاپھندا ڈال دیا ہو جیسے پاگل عورت محبت کرنے کے جرم میں لوہے کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دی گئی ہو ۔زرد رو لڑکی وشرام گھاٹ پر حسرت بھر ی نگاہوں سے مٹی کے دئیوں کی لَو کی طرف تک رہی تھی ا س کی حیران پتلیاں میری
 آنکھو ں کے آگے ناچنے لگیں ۔ اندھے سادھوسرمنڈائے ہوئے قطار درقطار کھڑے تھے اور کھڑتالیں بجا تے ہوئے گارہے تھے۔ رادھے شیام ۔رادھے شیام ۔رادھے شیام __لیف رائٹ ۔ لیف رائٹ ۔لیف رائٹ ۔پرانے خدا ابھی تک مندروں ، بینکوں فیکٹریوں اور کھیتوں پر قبضہ کئے بیٹھے تھے، وہ اپنے بہی کھاتے کھالے ۔ آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے ۔اُن کی ننگی توندوں پر جینولہرارہے تھے اور وہ نہایت دلجمعی سے اُن لاکھوں آوازوں کو سن رہے تھے، جو فضا میں چاروں طرف شہد کی مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہی تھیں ….رادھے شیام ….رادھے شیام
٭٭٭

"Adhay Ghsntay ka Kuda" A Famous Urdu Short Story by Krishn Chander








آدھے گھنٹے کا خدا
کرشن چندر
 وہ آدمی اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ اتنی بلندی سے وہ دونوں نیچے سپاٹ کھیتوں میں چلتے ہوئے دو چھوٹے سے کھلونوں کی طرح نظر آ رہے تھے۔ دونوں کے کندھوں پر تیلیوں کی طرح باریک رائفلیں رکھی نظر آ رہی تھیں۔ یقیناً ان کا ارادہ اسے جان سے مار دینے کا تھا۔ مگر وہ لوگ ابھی اس سے بہت دور تھے۔ نگاہ کی سیدھ سے اس نے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اندازہ کیا۔ جہاں پر میں ہوں وہاں تک ان دونوں کو پہنچے میں چار گھنٹے لگیں گے۔ تب تک…. اس نے پُر اُمید نگاہ سے گھوم کر اپنے اُوپر پہاڑ کی چوٹی کو دیکھا۔ ساردو پہاڑ کی بارہ ہزار فٹ اُونچی چوٹی اس سے اب صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر تھی۔ ایک دفعہ وہ چوٹی پر پہنچ جائے پھر دونوں کے ہاتھ نہ آ سکے گا۔ ساردو پہاڑ کی دوسری طرف گڈیالی کا گھنا جنگل تھا جو اس کا دیکھا بھالا تھا۔ جس کے چپے چپے سے وہ اتنی ہی آگاہی رکھتا تھا جتنا اس جنگل کا کوئی جنگلی جانور رکھ سکتا ہے۔ اس جنگل کے خفیہ راستے،  جانوروں کے بھٹ،  پانی پینے کے مقام سب اسے معلوم تھے۔ اگر ایک دفعہ وہ ساردو پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گیا تو پھر اپنا پیچھا کرنے والوں کے ہاتھ نہ آ سکے گا۔ جب وہ چوٹی پر پہنچ جائے گا تو اسے دوسری طرف کی سرسبز ڈھلوانوں پر گڈیالی کا جنگل دکھائی دے گا اور جنگل سے پرے سرحد کا پل جسے ڈائنا میٹ لگا کر اُڑا دیا گیا تھا۔
گرے ہوئے پل کے اس پار اس کا اپنا دیس تھا۔ ایک بار وہ چوٹی پر پہنچ جائے۔ پھر اسے نیچے ڈھلوان کے گھنے جنگل کو طے کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اگر پل نہیں ہے تو کیا ہوا،  وہ بہت عمدہ تیراک ہے۔ وہ گڈیالی ندی عبور کر کے اپنے دیس پہنچ جائے گا۔ اور چوٹی تک پہنچنے میں اسے صرف ایک گھنٹہ لگے گا اور وہ دونوں اس کے دشمن ابھی اس سے چار گھنٹے کی مسافت کے فاصلے پر تھے….نہیں وہ اسے نہیں پکڑ سکتے۔ وہ جوان ہے،  مضبوط ہے اور چار گھنٹے ان سے پہلے چلا ہے۔ وہ اسے نہیں پکڑ سکتے۔ وہ ابھی اس چٹان پر پندرہ بیس منٹ بیٹھ کر دم لے سکتا ہے اور دور نیچے کھیتوں سے گزرتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف آنے والے ان دونوں آدمیوں کو بڑے اطمینان سے دیکھ سکتا ہے جو اس کی جان لینے کے لئے آ رہے ہیں۔ وہ مسکرا بھی سکتا ہے،  کیونکہ وہ ان سے بہت دور ہے۔ یقیناً اُنہوں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ کیونکہ نیچے کے کھیتوں سے چوٹی تک اس طرف پہاڑ جس کے اُوپر وہ چل رہا ہے،  بالکل ننگا ہے۔ بس چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ہیں۔ سنہتے کی اور لال ٹینا کی جن میں آدمی چھپ بھی نہیں سکتا اور زمین سے لگی ہوئی پتلی چھدری گھاس ہے اور نیچی نیچی سیاہ چٹانیں۔ رات کی بارش سے بھیگی ہوئی اور پُرانی کالی پھسلواں۔ اس پُرانی کالی سے بند پانی کی بند پانی کی بُو آتی ہے اور بھر بھری مٹی پر قدم پھسلتے ہیں۔
اسے بہت ہوشیاری سے آگے کا فاصلہ طے کرنا ہو گا۔ جبھی تو اس نے فاصلے کو طے کرنے کے لئے جو آدھے گھنٹے میں بآسانی طے ہو سکتا ہے۔ ایک گھنٹہ رکھا ہے۔ بس اسے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ وہ نیچے کے گاؤں سے بھاگتے وقت کیوں اپنی رائفل ساتھ نہ لا سکا…. بھاگتے وقت اس نے رائفل وہیں چھوڑ دی۔ یہ ایک ناقابل معافی حادثہ تھا مگر اب کیا کیا جا سکتا تھا؟….اگر اس کے پاس اس وقت اپنی رائفل ہوتی تو وہ دونوں نیچے سے آنے والے اس قدر بے خوفی سے اس کا پیچھا نہیں کر سکتے تھے۔ وہ آسانی سے کسی چٹان کی اوٹ میں دبک کر کسی مناسب جگہ پر ان کا انتظار کر سکتا تھا اور اپنی رائفل کی رینج میں آتے دیکھ کر ان لوگوں کو گولی کا نشانہ بنا سکتا تھا۔
مگر وہ کیا کرے،  اس وقت وہ بالکل نہتا ہے اور اب ہر لحظہ اس کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ ان کی بندوق کی مار سے آگے چلتا رہے….! اس نے تعاقب کرنے والوں کے پیچھے بھی دور تک کھیتوں کو دیکھا اور کھیتوں سے پرے سے  آلوچے اور خوبانیوں کے درختوں سے گڑھے موگری کے گاؤں کو دیکھا۔ ایک لمحہ کے لئے اس کے دل کے اندر اُداسی کی ایک گہری سرخ لکیر کھینچتی چلی گئی۔ اس خنجر کی باریک اور تیز دھار کی طرح جس کا پھل اس وقت موگری کے دل میں پیوست تھا۔ موگری جو سیا کے پھولوں کی طرح خوبصورت تھی۔ کاشر کے لئے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ موگری کی جان لے لے چمکتی ہوئی گہری سیاہ آنکھوں والی موگری۔ انگاروں کی طرح دہکتے ہوئے ہونٹوں والی ،  انیس برس کی موگری وہ جب ہنستی تھی تو ایسا لگتا تھا گویا سیا کی ڈالیوں سے پھول جھڑ رہے ہیں۔ ایسی مہکتی ہوئی سپید ہنسی،  اس نے کسی دوسری لڑکی کے پاس نہ دیکھی تھی،  ہنسی جو سیا کے پھولوں کی یاد دلائے یا اچانک پر کھول کر ہوا میں کبوتری کی طرح اُڑ جائے اور وہ ذرا سے کھلے،  ذرا اسے بند انگاروں کی طرح دہکتے ہوئے شریر ہونٹ۔ ان ہونٹوں پر جب وہ اپنے ہونٹ رکھ دیتا تھا تو اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے خون کے بہاؤ میں چنگاریاں سی اُڑتی چلی جا رہی ہیں۔ جیسے جذبہ پگھل کر خون اور خون پگھل کر شعلہ اور شعلہ پگھل کر بوسہ بن گیا ہو۔ اور وہ پوری طرح موگری کے چہرے پر جھک جاتا تھا۔ اتنے زور سے کہ موگری کی سانس اس کے سینے میں رُکنے لگتی اور وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے منہ پر طمانچے مارکر ہی اپنا چہرہ اس کے چہرے سے الگ کر سکتی تھی۔
’’تم پاگل جانور ہو کہ کاشر‘‘!
وہ ہانپتے ہوئے کہتی۔
’’اور تم آگ ہو!‘‘وہ خود اپنے جذبے کی شدت سے ڈر کر ذرا پیچھے ہٹتا ہوا کہتا۔
’’میرے گاؤں میں کوئی نہیں جانتا کہ میں ایک دشمن کے بیٹے سے پیار کرتی ہوں۔ ‘‘
’’میرے سپاہیوں میں سے بھی کوئی نہیں جانتا کہ میں گڈیالی کے جنگل میں روز کسی سے ملنے جاتا ہوں۔ ‘‘
وہ دونوں گڈیالی کے جنگل میں جیپ کے کسی کچے راستے پر بیٹھ جاتے۔ دیودار کے ایک ٹوٹے ہوئے تنے پر۔ پیچھے جیپ کھڑی ہوتی۔ سامنے ایک چھوٹی سی ڈھلوان کی گہری اور دبیز گھاس۔ کوئی چشمہ تقریباً بے آواز ہو کر بہتا تھا۔ جنگلی پھلوں پر پانی کے قطرے گر  کر  سو جاتے اور چاروں طرف بڑے بڑے ستونوں کی طرح اُونچے اُونچے دیوار اور ان کے گھنے چھتناروں میں سے سبزی مائل روشنی دور اُونچے لٹکے ہوئے فانوسوں کی طرح چھن چھن کر آتی ہوتی….کاشر کو ایسا محسوس ہوتا گویا وہ کسی مغل بادشاہ کے دیوان خاص میں بے اجازت آ نکلا ہے۔ یہاں آ کر وہ دونوں کئی منٹ تک جنگل کے گہرے سناٹے میں کھو جاتے اور آہستہ آہستہ سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگتے۔ کبھی ایسا لگتا جیسے سارا جنگل چپ ہے۔ کبھی ایسا لگتا جیسے سارا جنگل ان کے اردگرد سرگوشیوں میں باتیں کر رہا ہے۔
موگری، علاقہ غیر کے گاؤں سے ایک ٹوکری میں پھل اُٹھائے ہوئے گڈیالی کے پل تک آتی تھی جو کاشر  او راس کے سپاہیوں کی عملداری میں تھا۔ سیا،ناشپاتی،کیلے،آلو یا بہی کے مب، اودے   انگوروں کے گچھے یا صرف اخروٹ اور مکئی کے بھٹے اور وہ چھوٹی چھوٹی خوش رنگ خوبانیاں جنہیں دیکھ کر سنہری اشرفیوں کا دھوکہ ہوتا ہے اور موگری اتنی خوبصورت تھی کہ پل کی حفاظت کرنے والے سپاہی چند منٹوں میں اس کی ٹوکری خالی کر دیتے تھے۔ سب سے آخر میں کاشر آتا اور جب کاشر موگری کے نزدیک آتا تو سب سپاہی ہٹ جاتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے….!
لیکن جس دن موگری کی مخبری پر علاقہ غیر کے گاؤں والوں نے گڈیالی کا پل جو اس کی تحویل میں تھا، ڈائنامیٹ سے اُڑا دیا، اسی دن اسے شدید دھچکا سا لگا۔ جیسے اس کے دل کے اندر بھی کوئی پل تھا جو ڈائنا میٹ سے پُرزے پُرزے ہو گیا تھا اور وہ باہر کا پل تو کبھی نہ کبھی پھر بن جائے گا۔ لیکن اندر کا پل کون بنا سکے گا پھر سے؟ اس لئے وہ وحشت زدہ سا ہو کر پل کے ٹکڑوں کو ان گہرے پانیوں میں جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ جہاں لطیف سے لطیف جذبے بھی بھاری پتھر بن کر ایسے ڈوب جاتے ہیں کہ پھر کبھی نہیں اُبھر سکتے۔ وہ رونا چاہتا تھا مگر اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آ سکے اور وہ موگری کو گالی دینا چاہتا تھا۔ مگر اس کی زبان پر الفاظ نہ آ سکے وہ جانتا تھا کہ ہر سپاہی کی نگاہ اس پر ہے۔ وہ نگاہ بظاہر کچھ نہیں کہتی۔ لیکن خاموش لہجے میں شکایت کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ جب وہ ان نگاہوں کی تاب نہ لا سکا تو اپنی رائفل لے کر گڈیالی ندی میں کود پڑا۔  وہ اس کے سپاہی بھونچکے ہو کر اس کی طرف دیکھتے رہ گئے۔ وہ ندی پار کر کے گڈیالی کے جنگل میں گھس گئے۔
کئی دن تک وہ اکیلا بھوکا پیاسا اس جنگل میں گھومتا رہا اور وہ ان تمام جگہوں پر گیا جہاں پر وہ موگری کے ساتھ گیا تھا اور ان جگہوں پر جا کر اس نے ان تمام جذبوں کو بھلانا چاہا جنہوں نے موگری کی موجودگی میں اس کے لئے دھندلے دھندلے شفق زار تعمیر کئے تھے۔ کئی بار وہ موگری کی عدم موجودگی میں بھی یہاں آیا تھا تو بھی اسے ہر جگہ موگری کی عدم موجودگی میں بھی اس کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ وہ پیڑ کاتنا جہاں موگری بیٹھی تھی۔ اس کے گرد اک ہالہ سا کھنچا معلوم ہوتا تھا۔ موگری نہ تھی۔ پھر بھی گویا جھرنے کے پانیوں میں اس کی آواز کی روانی گھل گئی تھی۔ ہر پھول میں اس کے بالوں کی مہک تھی اور وہ زمین جہاں پروہ بیٹھتے تھے، وہاں سے موگری کے جسم کی سوندھی سوندھی مہک آتی تھی….مگر آج وہاں کچھ نہ تھا۔ جذبوں کے شفق زار چھٹ گئے تھے۔ پیڑ کا تنا محض پیڑ کا تنا تھا اور پانی کا جھڑنا ، پانی کے جھرنے کی طرح بہہ رہا تھا۔ ہر چیز انجانی اور اجنبی اور اس سے الگ الگ کھڑی تھی۔ وہ چیخ مار کر سارے جنگل کو جگا دینا چاہتا تھا۔ مگر اس کا حلق بار بار گھٹ رہا تھا۔ اس کے سارے احساسات پر اک دھند سی چھائی ہوئی تھی، جنگل میں بے سمت گھومتے گھومتے کئی بار اسے خیال آیا کہ اگر وہ اس دھند کو اپنے ناخنوں سے چیر دی تو شاید اندر سے موگری کا زندہ اور اصلی چہرہ صحیح و سلامت نکل آئے گا۔ وہ موگری جسے وہ اپنے دل سے پہچانتا تھا۔ مگر دھند کسی طرح نہ چھٹی۔ اور گہری ہوتی گئی۔
جنگل میں اس کا دم گھٹنے لگا۔ پیڑوں کا گھیرا اس کے لئے تنگ ہونے لگا۔ اسے ایسا محسوس ہونے لگا، جیسے چاروں طرف سے جنگل کے پیڑ جھک کر اس پر گرنے والے ہیں۔ پھر وہ گھبرا کر جنگل سے باہر بھاگ نکلا اور گڈیالی کا جنگل طے کر کے وہ ساردو  پہاڑ کی برفیلی چوٹی کے دوسری طرف اُتر گیا۔ جہاں موگری کا گاؤں تھا۔ کئی دنوں تک وہ بھیس بدلے ہوئے ٹوہ لیتا رہا۔ کسی کو اس پر شبہ نہ ہوا کیونکہ اس کی شکل و صورت ایسی تھی جیسے علاقہ کے لوگوں کی ہوتی ہے۔ اس کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے تھے اور وہ ان کی زبان بخوبی بول سکتا تھا اس لئے کسی کو اس پر شبہ نہ ہوا اور وہ ایک دن موقعہ دیکھ کر آدھی رات کو موگری کے گھر کے اس کمرے میں گھس گیا۔ جہاں موگری سو رہی تھی۔ موگری کمرے میں اکیلی سو رہی تھی۔ اس نے آہٹ کئے بغیر کنڈی اندر سے چڑھا دی۔ رائفل کندھے سے اُتار کر ایک کونے میں رکھ دی۔ اور آہستہ آہستہ دبک کر وہ موگری کے بستر کے قریب چلا گیا۔ قریب جا کر اس نے اپنا خنجر نکال لیا۔ وہ خنجر ہاتھ میں لئے دیر تک کھڑا رہا اور موگری کی سانسوں کی پُر سکون آواز سُنتا رہا۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ وہ موگری کے چہرے کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ایک بار ماچس جلا کر موگری کا چہرہ دیکھ لے۔ مگر بڑی جانکاہ کاوش سے اس نے ایک اذّیت ناک خواہش کو اپنے دل میں روک دیا۔ دیر تک وہ خنجر لئے جونہی کھڑا رہا اور موگری کے سانسوں کے اس بے آواز جھرنے کو سنتا رہا جو اب اس کے دل کی طرف بہہ رہا تھا۔ وہ ہولے ہولے موگری کے چہرے پر جھک گیا۔ بس ایک الوداعی بوسہ اور پھر خنجر!….مگر جُھکتے جُھکتے اس کے سانس کی رفتار تیز ہوتی گئی۔ اس کے دماغ میں سنسناتی ہوئی گونجیں سی چاروں طرف پھیلنے لگیں اور اس نے اپنے جلتے ہوئے کانپتے ہوئے ہونٹ موگری کے ہونٹوں پر رکھ دئے….موگری کے سارے جسم میں ارتعاش سا پیدا ہوا۔ اسے محسوس ہوا، جیسے موگری چیخ مارنے کو ہے مگر اس نے ایسی مضبوطی سے اپنے ہونٹوں کو موگری کے ہونٹوں سے ملا رکھا تھا کہ چیخ مارنے کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔ پہلے تو موگری کا سارا جسم برف کی طرح سرد ہونے لگا اور ہمیشہ یونہی ہوتا تھا۔ اسے اس سے پیشتر کے بہت سے رنگین اور خوبصورت لمحے یاد آئے۔ جب موگری پیار کرتے کرتے یک لخت اس کے بازوؤں میں سرد پڑ جاتی تھی اور کئی لمحوں تک اس کی یہی کیفیت رہتی تھی جیسے وہ دل و جان سے اس کی مزاحمت کر رہی ہو۔ پھر ہولے ہولے اس کے بوسوں کی آنچ سے اس کا سارا جسم گرم ہونے لگتا ہولے ہولے گویا برف پگھلنے لگتی۔ اور بدن میں انگڑائیاں اور پھر پھریریاں جاگنے لگتیں اور گرم گرم سانس آنچ کی طرح پگھلنے لگتا اور وہ بے اختیار ہو کر کاشر سے لپٹ جاتی اور اپنے بازو اس کی گردن میں حمائل کر دیتی۔ موگری کے دل کے اندر غالباً محبت اور نفرت کا ہر آن بدلتا ہوا میزانیہ سا چلتا رہتا تھا۔ اپنا دشمن سمجھ کر وہ اس سے نفرت کرتی تھی۔ اپنا محبوب سمجھ کر اس سے محبت کرتی تھی اور کبھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی تھی۔ اس وقت بھی یہی ہوا۔ موگری کا سرد پڑتا ہوا خوفزدہ اور اپنے آپ میں اکیلا جسم دھیرے دھیرے لو دینے لگا۔ جیسے انگ انگ سے روشنی پھوٹ نکلے۔ ایسی روشنی جسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں صرف ہاتھ محسوس کر سکتے ہیں۔
موگری نے یقیناً اس بوسے کو پہچان لیا تھا۔ خوبصورت اور پُر خطر زندگی بسر کرنے والی عورت کی زندگی میں بہت سے بوسے آتے ہیں۔ دیمک کی طرح چاٹ جانے والے بوسے اور جونک کی طرح چمٹ جانے والے بوسے۔ روکھے سوکھے پاپڑ نما بوسے اور ایسے لجلحے اور گندے بوسے گویا ہونٹوں پر کیڑے چل رہے ہوں۔ شرمائے ہوئے سہمے ہوئے بوسے۔ اور خوفزدہ کمزور اور بیمار بوسے اور صحت مند اور شریر بوسے۔ موگری ایسی خوبصورت عورتوں کو  ہر قسم کے بوسوں سے واسطہ پڑتا تھا۔ مگر وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ ان میں سے کونسا بوسہ ایسا ہوتا ہے جو دل پر دستک دیتا ہے۔ صرف اسی دستک کے جواب میں وہ بوسے کو جواب میں بوسہ دیتی ہیں۔ ورنہ صرف ہونٹ پیش کرتی ہیں۔ مگر اس بار موگری صرف چند لمحوں کے لئے برف کی طرح ٹھٹھری رہی۔ پھر اس نے اپنے اُوپر جھکے ہوئے ہونٹوں کے لمس کو پہچان لیا۔ اور پہچان کر بھی گو وہ چند لمحوں کے لئے وحشت زدہ اور ٹھٹھری سی رہی مگر ہولے ہولے اس کی مغائرت دور ہوتی گئی۔ آدھی رات کے نیم گرم اندھیرے میں کسی غیر متوقع خوشی سے اس کی ساری روح کانپ اُٹھی۔ اور وہ خود سے کاشر کی بانہوں میں آ گئی اور اس طرح آئی جیسے اب تک کبھی نہ آئی تھی۔ کاشر نے محسوس کیا جیسے آسمان زمین پر اُتر آیا ہو اور زمین لمبے لمبے سانس لے کر ہانپنے لگی۔ ایک شعلہ سا تھا جو برف کی پہنائی میں ڈوب رہا تھا۔ برف کی ٹوٹتی ہوئی ٹکڑیاں گلاب کی بکھری ہوئی پتیاں۔ سسک سسک کر سلگتا ہوا سنگیت….جسم کے حصار کو توڑنے کی کاوش میں افتاں و خیزاں۔ یکایک حصار ٹوٹ گیا….مچھلیاں طوفان میں بہہ گئیں۔ بہت سارے چراغ اک دم گل ہو گئے۔ پھر سارے احساس نیم غنودگی کی سبز جھیل میں کھو گئے…. جب وہ جاگا تو اسی طرح گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اور موگری اس کی بانہوں میں بے خبر سو رہی تھی۔ جانے اس بے خبری میں کب کاشر نے خود اپنے ہاتھ کا خنجر اپنے پہلو میں رکھ لیا تھا….! ٍ
اس نے پہلو بدل کا آہستہ سے خنجر نکالا۔ آہستہ سے موگری نیند میں کسمسائی۔ جھلے ہوئے کاشر کو موگری کا ہاتھ اپنی پیٹھ پر محسوس ہوا۔ تھپکتا ہوا۔ نیند کی ترغیب  دیتا ہوا۔ پیشتر اس کے کہ وہ پھر اپنے جذبات کے دھارے میں بہہ جائے، اس نے ایک ہی جھٹکے سے پورا خنجر ہتھی تک موگری کے دل میں اُتار دیا۔ موگری چیخ بھی نہ سکی۔ ہولے ہولے اس کا کانپتا ہوا جسم ٹھنڈا ہوتا گیا۔ مگر کاشر نے موگری کو بہت دیر تک اپنے جسم سے الگ نہیں کیا۔ ہولے ہولے کا شر کے جسم نے موگری کے مرتے ہوئے جسم کے ہر ارتعاش کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ اور جب موگری کا جسم بالکل ٹھنڈا ہو گیا تو اس نے موگری کے جسم کو اپنے جسم سے الگ کر دیا۔ اس ٹھنڈے ہونٹوں کو پھر اس طرح بوسہ دیا جیسے وہ کسی قبر کو بوسہ دے رہا ہو۔ پھر کنڈی کھول کر باہر آنگن میں آیا اور تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ آنگن کی دیوار پھلانگ کر ایک احمق کی طرح سرپٹ بھاگنے لگا کیونکہ اب اس کے دماغ کی ہر رگ اور نس تانبے کے تاروں کی طرح جھنجھنا رہی تھی اور جسم کے روئیں روئیں میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔

یہ اس کی خوشی قسمتی تھی کہ سارا گاؤں نیند میں ڈوبا ہوا سو رہا تھا۔ کسی نے اس کے جسم میں بجتی ہوئی خطرے کی گھنٹیوں کی پر شور صدا کو نہیں سُنا۔ اور وہ کھیتوں سے نکل کر ساردو پہاڑ کی چڑھائی چڑھنے لگا۔ صبح جب موگری کے بھائیوں نے موگری کی لاش دیکھی اور دیوار سے لگی ہوئی رائفل کو پہچانا تو اس کا تعاقب کیا۔ مگر اب تک اسے چار گھنٹے کا اسٹارٹ مل چکا تھا۔

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)