Showing posts with label aa ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label aa ki kahawtain. Show all posts

Thursday, 16 February 2017

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu, aa ki kahawtain


آ۔ کی کہاوتیں
(۱ )  آبنوس کا کندہ  :

            کُندہ  یعنی بھاری ٹکڑا۔آبنوس ایک سخت اور سیاہ قسم کی لکڑی کو کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے سیاہ فام( بالکل کالے) آدمی کو آبنوس کا کُندہ کہتے ہیں۔

( ۲ ) آب آب کر مر گئے، سرہانے دَھرا رہا پانی  : 

            اس کہاوت سے ایک کہانی منسوب ہے۔ کوئی شخص ہندوستان سے باہر گیا اور وہاں سے فارسی سیکھ کر واپس آیا۔ اپنی فارسی دانی پر اس کو بہت ناز تھا۔اتفاق سے وہ بیمار ہو گیا اور طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ وہ پیاس کی شدت میں  ’’آب آب‘‘ کہہ کر پانی مانگتا رہا لیکن کوئی اس کی بات نہ سمجھ سکا اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا حالانکہ پانی اُس کے سرہانے ہی رکھا ہوا تھا۔ اس مناسبت سے گویا کہاوت میں  تنبیہ ہے کہ گفتگو ہمیشہ ایسی زبان میں  کرنی چاہئے جس کو لوگ سمجھتے ہوں۔ اپنی قابلیت کے زعم میں  ایسی زبان استعمال کرنا سرا سر نادانی ہے جس سے لوگ نا واقف ہوں۔

(۳)  آ بنی سر آپنے، چھوڑ پرائی آس  :  

            آ بنی سر آپنے یعنی مصیبت اپنے سر پر آ ہی پڑی ہے۔ ایسے میں  کسی اور سے اُمید لگانی بیکار ہے۔ جو کچھ کرنا ہے خود ہی کرنا اور بھگتنا ہے۔

(۴)  آ بیل مجھے مار  : 

 کسی مصیبت کو جان بوجھ کر اپنے سر پر بلانا ایسا ہی ہے جیسے راہ چلتے بیل کو چھیڑ کر حملہ کی دعوت دی جائے۔ اس حوالے سے یہ کہاوت حماقت یا کم عقلی کا استعارہ ہے۔

(۵)  آب آید، تیمم برخواست  :   


 پانی اگر مل جائے تو پھر تیمم کرنے کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ اجازت۔گویا اگر کسی رعایت کی وجہ ہی باقی نہ رہے تو پھر وہ رعایت بھی اٹھ جاتی ہے،  یا زیادہ اہم چیز مل جائے تو کم اہم چیز کی مانگ اور ضرورت نہیں  رہ جاتی۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu, aa ki kahawtain


آ۔ کی کہاوتیں
( ۶ )  آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے  : 

            بڑے کارنامے آبِ زر یعنی سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۷ )  آپ جانیں  اور  آپ کا ایمان   :

            یعنی آپ اپنی نیت دیکھ کر خود ہی فیصلہ کریں  کیونکہ نتائج کے بھی آپ ہی ذمہ دار ہیں۔ اسی کہاوت کی ایک دوسری شکل ہے کہ’’ آپ جانیں  اور  آپ کا کام۔‘‘

( ۸ )  آپ سے آتی ہے تو آنے دو  : 

 یہ کہاوت ایسے موقع پر استعمال کی جاتی ہے جب کوئی شخص کسی نا جائز چیز کو اپنے لئے جائز قرار دینے کا حیلہ تلاش کر رہا ہو۔ اس کہاوت سے ایک کہانی منسوب ہے۔ ایک مولوی صاحب کے گھر میں  پڑوسی کا مرغ آ گیا۔ ان کی بیوی نے مرغ پکڑ لیا اور ذبح کر کے پکا بھی لیا۔ جب مولوی صاحب شام کو کھانے پر بیٹھے تو مرغ دیکھ کر پوچھا کہ ’’یہ کہاں  سے آیا؟ ‘‘ بیوی کے بتانے پر انھوں  نے فرمایا کہ ’’یہ تو حرام ہے، بھلا میں  کسی اور کا مال اس طرح نا جائز طور پر کیسے کھا سکتا ہوں ؟ ‘‘ بیوی نے جواب دیا کہ’’ سو تو ٹھیک ہے لیکن سالن تو ہمارے ہی پیسوں  کا بنا ہوا ہے۔اس میں  کیا قباحت ہے؟ ‘‘ مولوی صاحب کی سمجھ میں  یہ بات آ گئی  اور انھوں  نے بیوی سے کہا کہ وہ اُن کو صرف سالن نکال دے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا لیکن احتیاط کے باوجود ایک بوٹی پیالے سے لڑھک کر مولوی صاحب کی پلیٹ میں  آ گری۔ بیوی نے اس کو نکالنا چاہا تو مولوی صاحب نے کہا کہ’’ نہیں  نہیں  ! جو بوٹی آپ سے آتی ہے اُس کو آنے دو۔ ‘‘ بیوی نے کہا کہ’’ وہ مرغ بھی تو آپ سے ہی ہمارے گھر آ گیا تھا۔‘‘  مولوی صاحب کی نیت تو پہلے ہی ڈانوا ڈول تھی۔ فوراً  بیوی کی بات پر راضی ہو گئے اور دونوں  مفت کا مرغ ہضم کر گئے۔

(۹)  آپ کھائے، بَلّی کو بتائے  :  

 کوئی شخص غلط کام تو خود کرے لیکن اپنے آپ کو معصوم ظاہر کرنے کے لئے نام دوسروں  کا لے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

(۱۰)  آپ میاں  صوبیدار، گھر بیوی جھونکے بھاڑ  : 


 یعنی آپ خود تو شان سے بڑے آدمی بنے پھرتے ہیں  لیکن بیوی گھر میں  خستہ حال ہے۔ جب کوئی شخص شیخی تو بہت بگھارتا ہو لیکن اندر سے کھوکھلا ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ 

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال ،آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu, aa ki kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں
(۱۱)  آپ کی جوتیوں  کا صدقہ ہے  :  

 یعنی  جو کچھ بھی ہے وہ آپ کی ہی بدولت ہے اور اس میں  میرا کوئی ہاتھ نہیں  ہے۔ ’’جوتیوں  کا صدقہ‘‘ سے مراد ہے کہ آپ کے لئے یہ سب کرنا کوئی بڑی بات نہ تھی۔اس کہاوت سے ایک لطیفہ منسوب ہے۔ ایک شخص نے کچھ دوستوں  کی دعوت کی۔ جب سب مہمان دسترخوان پر بیٹھ چکے تو اُس نے نوکر کو الگ لے جا کر حکم دیا کہ سب کے جوتے بازار میں  چپکے سے لے جا کر بیچ دے اور اس رقم سے کھانا خرید لائے۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔  لوگوں  کے سامنے جب کھانا آیا تو انھوں  نے اُس کی تعریفوں  کے پل باندھ دئے۔ وہ شخص ہنستا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ ’’حضور! بھلا میں کس لائق ہوں۔ یہ سب آپ کی ہی جوتیوں  کا صدقہ ہے۔‘‘  جب کھانا ختم ہوا اور مہمان جانے لگے تو انھیں  اپنے جوتے غائب ملے۔ اُس ستم ظریف نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ  ’’بھائی! میں  تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ یہ سب آپ کی جوتیوں  کا صدقہ ہے۔‘‘

( ۱۲ )  آپ ہارے، بہو کو مارے  : 

              یعنی اپنی ناکامی میں  قصور تو خود اپنا ہے لیکن الزام کسی دوسرے کمزور شخص کو دیا جا رہا ہے۔

(۱۳)  آپ کا نوکر ہوں ، بینگن کا نہیں   :   

مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دربار کے نو رتنوں  میں  ایک بیربلؔ بھی تھے۔ قصہ مشہور ہے کہ ایک دن بادشاہ کے کھانے میں  بینگن آئے۔ ان کو کھا کر شہنشاہ اکبر نے بینگن کی بہت برائی کی کہ ’’یہ بھی کوئی کھانے کی چیز ہے،نہ صورت اچھی اور نہ ہی مزا۔‘‘  وہ جیسے جیسے بینگن کی برائیاں  بیان کرتے جاتے خوشامدی درباری ان کی ہاں میں  ہاں  ملاتے جاتے تھے۔ ان میں  بیربلؔ سب سے پیش پیش تھے کہ’’ حضور! بالکل صحیح فرمایا، بینگن سے زیادہ ناکارہ تو کھانے کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔‘‘ اس کے کچھ دن بعد پھر بینگن بادشاہ کے سامنے آئے لیکن اب کی بار اُس نے بینگنوں کی خوبیوں  کے پل باندھ دئے۔بادشاہ کی ہاں  میں  ہاں ملانے والوں  میں  اس بار بھی بیربلؔ سب سے آگے تھے۔ بادشاہ نے اُن سے اِس منافقت کا سبب پوچھا تو بیربلؔ نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ ’’ جہاں  پناہ! میں  آپ کا نوکر ہوں، کوئی بینگن کا نوکر تھوڑی ہوں۔‘‘

( ۱۴ )  آپ کاج مہا کاج  : 

            کاج یعنی کام۔ جو کام خود کیا جائے وہ سب سے اچھا ہوتا ہے۔ دوسرے کے کئے کا اعتبار نہیں۔

( ۱۵ )  آپ آئے، بھاگ آئے  : 


            بھاگ(ہندی  :بھاگیہ) آنا یعنی قسمت کھل جانا۔ کسی کی تعریف مقصود ہو  تو یہ کہتے ہیں۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال ،آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu, aa ki kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں
( ۱۶ )  آپ بھلے تو جگ بھلا  : 

 ہر آدمی دوسروں  کو اپنا جیسا ہی سمجھتا ہے۔ اگر کوئی خود اچھا ہے تو اسے ہر شخص بھلا دکھائی دیتا ہے۔

( ۱۷ )  آپ جانیں  آ پ کا کام  :

  ہر شخص اپنا کام بہتر سمجھتا ہے۔ دوسروں  کی جانب سے دخل دَر معقولات کا کوئی جواز نہیں  ہے۔

( ۱۸)  آپ ڈوبے تو ڈوبے دوسرے کو بھی لے ڈوبے    :

  کوئی شخص اپنی بربادی کا سامان خود ہی کرے اور ساتھ ہی کسی اور کو بھی لے ڈوبے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

( ۱۹)  آپ سے دور یا آپ کی جان سے دُور  :

            یہ عورتوں  کی زبان ہے۔ جب کسی مصیبت کا ذکر ہوتا ہے تو یہ فقرہ کہا جاتا ہے یعنی ’’خدا نہ کرے کہ ایسا برا وقت آپ پر آئے۔‘‘

( ۲۰ ) آپ کا گھر ہے  : 

            یہ استقبالیہ فقرہ ہے یعنی یہ خانۂ بے تکلف ہے۔

(۲۱)  آٹے میں  نمک کے برابر  : 

  آٹے میں نمک کا مزا بالکل ہی نہیں ہوتا۔  اسی حوالے سے اگر کوئی خصوصیت کسی چیز میں  برائے نام ہو تو اس کو’’ آٹے میں نمک کے برابر‘‘ کہتے ہیں۔

(۲۲)  آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہونا  : 

 حقیقت حال معلوم ہونا۔ سر پرسے کسی کا سایۂ  فیض اٹھ جانے کے بعد صحیح حالات معلوم ہونے کی وعید دی جائے تب بھی یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۲۳)  آٹے کا چراغ، گھر میں  رکھوں  تو چوہا کھائے  باہر رکھوں  تو کوّا لے جائے  : 


 آٹے کا دِیا (چراغ) بنایا جائے تو اس کی طرف سے فکر رہتی ہے کہ گھر میں  چوہے کھا جائیں  گے اور باہر کوّا اٹھا کر لے جائے گا۔ اسی مناسبت سے اگر کسی چیز پرسب کی ہی بری نظر ہو اور اس کی حفاظت مشکل ہو جائے تو یہ کہاوت کہتے ہیں۔

اردو محاورے، کہاوتیں ، ضرب الامثال ، آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu, aa ki kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں
( ۲۴ )  آٹے کا چراغ، اندر رکھو تو چوہا کھائے،باہر رکھو تو کوّا لے جائے  : 

            اگر گندھے ہوئے آٹے کا دِِیا(چراغ) بنایا جائے تو گھر کے باہر اسے کوّا لے اُڑے گا اور گھر کے اندر چوہا  کھا جائے گا۔گویا ہر طرح مشکل ہی مشکل ہو گی۔ یہ کہاوت ایسے وقت بولی جاتی ہے جب سہولت کی کوئی صورت نظر نہ آئے۔

( ۲۵ )  آٹے کے ساتھ گھن بھی پستا ہے  : 

            گھُن ان کیڑوں  کو کہتے ہیں  جو گیہوں  میں  پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر آٹا پیسا جائے تو ساتھ ہی گھن بھی پس جائے گا۔ اس حوالے سے مطلب یہ ہوا کہ بڑے آدمی کا نقصان ہو تو اس کے ساتھ چھوٹا بھی نقصان اٹھاتا ہے۔

( ۲۶ )  آٹھوں  گانٹھ کُمیت  :

            چالاک اور دنیا ساز آدمی کے لئے کہا جاتا ہے۔ کہاوت کی وجہ تسمیہ معلوم نہ ہو سکی کہ آٹھوں  گانٹھ کمیت کس رعایت سے کہا گیا ہے۔

( ۲۷ )  آج کے تھُپے آج ہی نہیں  جلتے  :

            یہاں  گوبر کے تھُپے ہوئے اُپلوں  کی جانب اشارہ ہے کہ تازہ اُپلے جلائے نہیں  جا سکتے۔ انہیں  سُکھانا ضروری ہے۔ یعنی ہر کام میں  صبر ضروری ہے، ہوتے ہوتے ہی کام ہوتا ہے۔

(۲۸)  آج مرے کل دوسرا دن  : 

 دنیا عموماًکسی شخص کو اُس کی زندگی میں  ہی یاد کرتی ہے۔  مرنے کے بعد شاذ و نادر ہی کوئی اُسے یاد کرتا ہے۔کسی کے مر جانے سے دنیا کا کوئی کام نہیں  رکتا  چنانچہ کوئی وفات پا جائے تو کل کا دِن عام دنوں  کی طرح ہی ایک دن ہو گا۔

(۲۹ )  آج وہ کل ہماری باری ہے  : 

  یعنی موت سے کسی کو مفر نہیں  ہے۔ یہ ایک شعر کا دوسرا مصرع ہے:

موت سے کس کو رُستگاری ہے    ٭٭٭٭     آج وہ کل  ہماری  باری ہے

( ۳۰)  آدھی روٹی، ڈیڑھ پا شکر  : 

            کلو گرام سے پہلے تولنے کے لئے بر صغیر ہند و پاک میں سیر استعمال ہوتا تھا۔ ایک کلو میں  دو سیرسے ذرا سازیادہ وزن ہوتا ہے اور ایک سیر کے چار پاؤ ہوتے تھے۔ پا  اِسی کا مخفف ہے۔ ڈیڑھ پا یعنی ڈیڑھ پاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ تماشا تو دیکھو کہ آدھی روٹی کھانے میں  ڈیڑھ پاؤ شکر استعمال ہو رہی ہے یعنی اصل چیز تو اتنی کم ہے لیکن اس پر اوپری خرچ اس قدر زیادہ کیا جا رہا ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال ،آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu, aa ki kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں
( ۳۱ )  آدھی کو چھوڑ ساری کو جائے، آدھی رہے نہ پوری پائے  : 
 جو تھوڑ ے پر صبر و شکر نہیں  کرتا اور ہوس میں  زیادہ کی طرف دوڑتا ہے وہ اکثر نہ صرف یہ کہ زیادہ نہیں  پاتا بلکہ اپنے پاس سے بھی کھو بیٹھتا ہے۔

(۳۲ )  آدمی جانے بسے سے، سونا  جانے کَسے سے  :                      
 بسے سے یعنی قریب رہ کر، کسے سے یعنی کسوٹی پر کس کے۔ کسوٹی ایک طرح کا پتھر ہوتا ہے جس پر سونا گھسا جاتا ہے اور اُس نشان کی تیزی سے سونے میں  ملاوٹ کا اندازہ کیا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ جب تک کسی کے ساتھ رہا نہ جائے اس کی اصلیت اور خصلت کا پتا نہیں  چلتا جیسے بغیر کسوٹی پر کَسے سونا نہیں  پرکھا جا سکتا۔

( ۳۳ ) آدھے سیر کے برتن مین سیر نہیں  سماتا  :
  کلو گرام سے پہلے تولنے کے لئے سیراستعمال ہوتا تھا جو تقریباً آدھے کلو گرام کے برابر ہوا کرتا تھا۔کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ کم اہل آدمی  سے بڑے کام کی اُمید نہیں  رکھنی چاہئے۔

( ۳۴ ) آدمی کا شیطان آدمی ہے  : 
  کوئی شخص اپنی بری عادات لے کر پیدا نہیں ہوتا ہے بلکہ دوسرے آدمیوں  کی صحبت میں  ہی  خراب ہوتا ہے۔

( ۳۵ )  آدھی کو چھوڑ ساری کو جائے،آدھی ملے نہ ساری پائے  :  
            یہ کہاوت لالچ کی اُس صورت کے حوالے سے ہے جہاں   زیادہ فائدہ کے لالچ میں انسان کم فائدہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ پھر اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں  لگتا اور وہ ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔

(۳۶ )  آدھا تیتر، آدھا بٹیر  :  
 یعنی ڈانوا ڈول، غیر معتبر، ایسا شخص جو کبھی ایک رنگ میں  نظر آتا ہو اور کبھی دوسرے میں۔

( ۳۷)  آدمی آدمی انتر، کوئی ہیرا کوئی کنکر  :
            انتر یعنی فرق۔ ہر شخص ایک سا نہیں  ہوتا ہے۔ آدمی آدمی میں  فرق ہوتا ہے۔ کوئی ہیرے کی طرح بے بہا اور بلند مرتبہ ہوتا ہے اور کوئی کنکر کی طرح بے وقعت اور گرا  پڑا۔

( ۳۸ )  آدمی کیا جو آدمی نہ پہچانے  : 

            دانشمند وہی ہے جو آدمی آدمی میں  تمیز کر سکے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu, aa ki kahawtain

آ۔کی کہاوتیں
( ۳۹ )  آر یا پار  : 
  اپنے مقصد میں  یا تو کامیابی ہو گی یا ناکام رہیں  گے، بہر کیف اِدھر یا اُدھر آج فیصلہ ہو جائے گا۔

(۴۰ )آڑے وقت کا گہنا ہے  : 
            آڑے وقت (یعنی سخت وقت) میں  آدمی گھر کا گہنا (زیور) وغیرہ بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لاچاری کے عالم میں  جو چیز کام آ سکے اس کو’’ آڑے وقت کا گہنا ‘‘کہتے ہیں۔

( ۴۱ )  آسمانی گولا  : 
 گولاجیسے توپ کا گولا، آسمانی گولا یعنی آسمانی یا غیبی مصیبت، ناگہانی مشکل

( ۴۲ )  آسمان کا تھوکا اپنے منھ پر ہی آتا ہے  :
  یعنی بزرگوں  کی برائی کرنے کا خراب نتیجہ برائی کرنے والے کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔  یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی آسمان پر نفرت سے تھوکے تو اس کا تھوک لازماً  خود اسی کے منھ پر آ کر گرے گا۔ کہاوت میں  آسمان کی جگہ چاند بھی کہا جاتا ہے۔

( ۴۳)  آستین کا سانپ ہونا  : 
            یہ قرین قیاس نہیں  کہ کوئی اپنی آستین کے اندر زہریلا سانپ پال سکتا ہے۔ لیکن کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ اگر آستین میں  پالا ہوا سانپ اپنے مالک اور محسن کو ڈَس لے تو یہ محسن کشی ہوئی۔  چنانچہ ایسا شخص جو کسی دوسرے کے احسانات سے دبا ہوا ہو اور اپنے محسن کے ساتھ بد دیانتی یا ظلم کرے ’’آستین کا سانپ‘‘ کہلائے گا۔

(۴۴)  آس پاس برسے، دلّی پڑے ترسے  : 
            دلّی ملک کا دارالخلافہ ہونے کی حیثیت سے یہاں  استعارہ ہے اہم کام یا عزیز و اقارب کا۔ مطلب یہ ہے کہ ایرے غیرے تو فیض اٹھا رہے ہیں  لیکن اپنے ترس رہے ہیں۔ اسی معنی کو اہم کام پر بھی منطبق کر سکتے ہیں۔

(۴۵)  آسمان سے گرا، کھجور میں  اٹکا  :
            کوئی چیز اگر آسمان سے گرے اور  کھجور کے درخت میں  اٹک جائے تو وہ ہماری دسترس سے بدستور دور ہی رہتی ہے۔ ایک مشکل سے نکل کر کسی دوسری مشکل میں کوئی آدمی یا کوئی کام پھنس جائے تو اس کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے اور ایسے ہی موقع پر یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔


( ۴۶)  آّفت کا پرکالہ  :        
         یعنی شریر، شوخ یا فتنہ پرداز آدمی، ایسا شخص جو نچلا نہ بیٹھتا ہو۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu aa ki kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں

( ۴۷ ) آگ اور پھوس کی کیا دوستی  :
            آگ اور پھوس ایک دوسرے کی ضد ہیں  کیونکہ آگ پھوس کو جلا دیتی ہے سو ان کی دوستی کا کیا سوال۔ اسی طرح دو متضاد مزاج کے آدمی بھی مل جل کر گزر نہیں  کر سکتے۔

(۴۸)  آگ لگے تو بجھے جل سے، جل میں  لگے تو بجھے کیسے  :
             پانی میں  اگر آگ لگ جائے تو اس کو  بجھانا کارے دارد۔ یعنی جب مسئلہ کا حل یا بہتری کی صورت ہی ہاتھ سے نکل جائے تو مسئلہ کا علاج کیسے ہو سکتا ہے۔محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۴۹)  آگ کے مول  :   
    یعنی نہایت مہنگا۔

( ۵۰)  آگے پڑے کو شیر بھی نہیں  کھاتا   :
  شیر گرے پڑے مُردہ جانور کے بجائے خود شکار کرنا پسند کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ  عاجزی کرنے سے ظالم دشمن بھی درگزر کر دیتا ہے۔

( ۵۱ )  آگ لگے پر کنواں  کھود رہے ہیں   :
            یعنی مصیبت جب سر پر آ کھڑی ہوئی تو نجات کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ ایسا  ہی ہے جیسے کوئی آگ لگ جانے کے بعد کنواں  کھودنا شروع کرے کہ پانی نکلے گا تو آگ بجھا دی جائے گی۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۵۲ )  آگ کھائے انگارے اُگلے  :
            جس کی تربیت اور صحبت خراب ہو گی اس کی عادات اور خصلت بھی ویسی ہی ہو جائیں  گی۔ اچھی طبیعت اچھی تربیت و صحبت اور بری طبیعت بری تربیت و صحبت کا نتیجہ ہوتی ہے۔

( ۵۳ )  آگے جاتے گھٹنے ٹوٹیں، پیچھے دیکھتے آنکھیں  پھوٹیں   :
 کہاوت کا مطلب ہے کہ ہر طرح نقصان ہی نقصان ہے، نہ آگے کی جانب بڑھ سکتے ہیں  اور نہ پیچھے واپس جا سکتے ہیں۔

(۵۴)  آم کے آم، گُٹھلیوں  کے دام  :
             کوئی آم کھائے اور پھر گٹھلیاں  بھی اچھے داموں  بک جائیں  تو اس سے بہتر بات کیا ہو سکتی ہے؟ یہ کہاوت تب استعمال ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی چیز سے مستفید ہو لے اور پھر اسی چیز کے کسی کمتر پہلو کے طفیل مزید فائدہ اٹھائے۔




اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال, آ کی کہاوتیں،, urdu, PROVERBS, aa ki kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں
( ۵۵)  آمدن بہ اِرادت، رفتن بہ اِجازت  :
  یعنی کسی کا پاس جانا اپنی مرضی اور ارادے سے ہوتا ہے لیکن اس سے رخصت ہونا میزبان کی اجازت پر منحصر ہوتا ہے۔

(۵۶)  آم کھانے سے کام ہیں  نہ کہ پیڑ گننے سے  :
            آم کھانے والے کو آموں  سے مطلب ہونا چاہئے نہ کہ اس سے کہ آم کے پیڑ باغ میں  کتنے ہیں۔  اسی طرح دانش مند آدمی کو فضولیات چھوڑ کر اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے۔

( ۵۷) آنتیں  گلے پڑ گئیں   :
  یعنی بہت مشکل میں  گرفتار ہو گئے۔ بڑی آزمائش دَرپیش ہے۔

( ۵۸ )  آنکھ کے اندھے، نام نین سُکھ  :
            نین سکھ یعنی جس کو دیکھ کر آنکھوں  کو ٹھنڈک محسوس ہو۔ مطلب یہ ہے کہ دعویٰ تو بہت کچھ ہے لیکن اصلیت کچھ اَور ہی کہتی ہے۔ اسے ’’ڈھول میں  پول‘‘ بھی کہتے ہیں۔

(۵۹) آنکھ کا اندھا، گانٹھ کا پورا  :
            یعنی ایسا آدمی جس کو سامنے کی بات نظر نہ آئے اور وہ جانتے بوجھتے نقصان اٹھانے میں  کوئی قباحت محسوس نہ کرے۔ یہاں  گانٹھ سے مراد لباس یا چادر کے پلّو میں  بندھی وہ پوٹلی نما گرہ ہے جس میں  لوگ روپے پیسے باندھ لیتے ہیں۔ گانٹھ کا پورا یعنی اُس کے پاس روپے پیسے کی کمی نہیں  ہے اور آنکھ کا اندھا سے مراد ہے کہ عقل کی کمی ضرور ہے۔

( ۶۰ )  آنکھوں  کے ناخن لو  :
  ناخن لینا یعنی ناخن کترنا۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ سمجھ داری سے کام لو، دانشمندانہ نظر پیدا کرو۔

( ۶۱ )  آنے پائی سے بیباق کر دیا  :
            پرانے وقتوں  میں  ایک روپے میں  سولہ آنے ہوتے تھے اور ایک آنے میں  چار پیسے۔ اسی طرح ایک پیسے میں  تین پائیاں  ہوا کرتی تھیں۔ یہاں  آنے پائی سے ایک ایک پیسا مراد ہے گویا سارا پیسہ ادا کر دیا اور قرض چکا دیا۔

( ۶۲ )  آں  قدح بشکست و آں  ساقی نہ ماند  :

 وہ پیالہ ٹوٹ گیا اور وہ ساقی بھی نہیں  رہا۔ یعنی اب وہ پچھلا وقت باقی نہیں  رہا اور زمانہ بدل کر کہیں  سے کہیں  پہنچ گیا۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu, آ کی کہاوتیں،, aa ki kahawtain

آ۔  کی کہاوتیں
( ۶۳)  آنکھوں  کا کاجل چرا لیتا ہے  :
  نہایت شاطر اور چالاک ہے، اپنا کام ایسی صفائی سے کر جاتا ہے کہ گمان بھی نہیں  ہوتا۔

(۶۴)  آنتیں  قل ہو اللہ پڑھ رہی ہیں   :
  یعنی بے حد بھوک لگ رہی ہے۔ قل ہو اللہ پڑھنا یہاں  روزمرہ کا استعمال ہے۔ اگر قل ہو اللہ کی جگہ کسی اور سورۃ  یا آیۃ کا نام لیا جائے تو غلط ہو گا اور بات نہیں  بنے گی۔

(۶۵)  آنکھوں  دیکھے مکّھی نہیں  نگلی جاتی  :
 محاورہ میں ’’ مکھی نگلنا‘‘ کسی مکروہ کام یا بات کو طوعاً و کرہاً قبول کر لینے کو کہتے ہیں ۔ آنکھوں  دیکھی یعنی سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی غلط چیز صاف نظر آ رہی ہے تو سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے اُس کو قبول نہیں  کیا جا سکتا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ دودھ میں  مکھی پڑی ہوئی نظر آ جائے اور ہم اس کو دیکھنے کے بعد بھی نگل جائیں۔

(۶۶)  آنکھوں  کی سوئیاں  رہ گئی ہیں   :
  یہ کہاوت ایک کہانی سے ماخوذ ہے۔ ایک شہزادہ کے جسم میں  جادو کی بے شمار  سوئیاں چبھو دی گئیں  اور وہ ان کے اثر سے بے ہوش ہو گیا۔ اس کو جگانے کے لئے یہ ضروری تھا کہ جسم کی ساری سوئیاں  نکال لی جائیں ۔ اتفاق سے ایک شہزادی کا گزر وہاں  سے ہوا اور وہ شہزادہ کو دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو گئی۔شہزادے کو جگانے کے لئے شہزادی نے اُس کے جسم سے سوئیاں  نکالنی شروع کیں۔ ہر روز وہ کچھ سوئیاں  نکال دیتی یہاں  تک کہ صرف آنکھوں  کی سوئیاں  رہ گئیں۔ اس دن شہزادی کو کسی ضرورت سے کہیں  جانا پڑا تو اس کی خادمہ نے موقع دیکھ کر شہزادے کی آنکھوں  کی سوئیاں  نکال دیں۔ شہزادہ پر سے جادو کا اثر زائل ہو گیا اور وہ جاگ گیا۔خادمہ کو دیکھ کر وہ سمجھا کہ یہ احسان اسی نے کیا ہے۔چنانچہ اُس نے خوش ہو کر خادمہ سے شادی کر لی۔ جب شہزادی واپس آئی تو وہ سر پیٹ کر رہ گئی۔کہانی کے آخر میں  شہزادہ کو اصل صورت حال معلوم ہو جاتی ہے اور وہ شہزادی سے شادی کر کے اسے اپنی ملکہ بنا لیتا ہے اور خادمہ کو سزا ملتی ہے۔ اسی حوالہ سے یہ کہاوت ایسے موقع پراستعمال ہوتی ہے جب کسی کام کے پورے ہونے میں  ذرہ بھر ہی کسر رہ جائے۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ضریب الامثال آ کی کہاوتیں،, PROVERBS, urdu, aa ki kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں
( ۶۷)  آنا نہ پائی،نری پاؤں  گِھسائی  :
            پہلے زمانے میں  ایک روپیہ میں سولہ آنے ہوتے تھے، ایک آنے میں  چار پیسے اور ایک پیسے میں  تین پائی۔اس طرح پائی ایک نہایت کم قیمت سکہ ہوا۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ یہ ایسا کام ہے جس میں  دوڑ دھوپ بہت ہے لیکن بالکل بے کار و بیسودکیونکہ اس میں  کچھ ملنا ملانا نہیں  ہے۔

( ۶۸ )  آندھی کے آم  :
            آندھی میں  درخت سے پکے ہوئے جو آم گر جائیں  وہ ہر آنے جانے والے کے لئے مفت کی ضیافت ہیں۔ چنانچہ مفت کی چیز کو آندھی کے آم کہا جاتا ہے۔

(۶۹)  آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ  :
            اگر کوئی نظروں سے کچھ دنوں  کے لئے غائب ہو جائے تو لوگ اس کو بہت جلد ایسے بھول جاتے ہیں  جیسے وہ کسی پہاڑ کے پیچھے جا کر چھپ گیا ہو۔اسے’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ بھی کہتے ہیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۷۰ ) آنکھیں  ہو گئیں  اوٹ، دل میں  آئی کھوٹ  :
  کوئی شخص تھوڑی سی دیر کے لئے بھی نظروں  سے غائب ہو جائے تو اس کے مال کی جانب لوگ بری نظروں  سے دیکھنے لگتے ہیں کہ کسی طرح اس پر قبضہ کر لیا جائے۔

( ۷۱)  آنکھ کے آگے ناک، سوجھے کیا خاک  :
  یعنی آنکھوں  پرتو پردہ پڑا ہوا ہے،پھر نظر کیسے آسکتا ہے؟ ایک لطیفہ اس کہاوت سے منسوب ہے۔ ایک نکٹے نے لوگوں  کے طعنوں  سے عاجز ہو کر یہ کہنا شروع کیا کہ اس کو اللہ نظر آتا ہے۔لوگوں  نے جب پوچھا کہ ’’ہمیں  کیوں  نظر نہیں  آتا؟‘‘ تو اس نے جواباً کہا کہ ’’تمھاری آنکھوں کے آگے ناک کی آڑ لگی ہوئی ہے جو اللہ کو دیکھنے کی راہ میں  حائل ہے۔‘‘ کچھ بے وقوف لوگوں  نے اس کی باتوں  میں  آ کر اپنی ناک کٹوا لی لیکن اللہ پھر بھی نظر نہیں آیا۔ نکٹے نے ان سے کہا کہ ’’بہتر یہ ہے کہ تم بھی میری ہاں  میں  ہاں  ملاؤ ورنہ دُنیا تمھاری حماقت پرہنسے گی۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور چند اور لوگوں  نے ناکیں  کٹوا لیں۔




Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)