Showing posts with label Ghazals by mirza asadullah ghalib. Show all posts
Showing posts with label Ghazals by mirza asadullah ghalib. Show all posts

Monday, 1 May 2017

Ishaq nabard paisha talabgar mard tha '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
"عشقِ نبرد پیشہ" طلبگارِ مرد تھا


تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا


تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا


دل تا جگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا


جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی!
دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا


احباب چارہ سازیِ وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا



یہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھ

Tamashay bahyak kaf bur din sad dil passand aya '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib



شمار سبحہ، "مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا

بہ فیضِ بے دلی، نومیدیِ جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا

ہوائے  سیرِ گل، آئینۂ بے مہریِ قاتل
کہ اندازِ بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا

ہوئی جس کو بہارِ فرصتِ ہستی سے آگاہی
برنگِ لالہ، جامِ بادہ بر محمل پسند آیا

سوادِ چشمِ بسمل انتخابِ نقطہ آرائی
خرامِ نازِ بے پروائیِ قاتل پسند آیا

روانی ہائے موجِ خونِ بسمل سے ٹپکتا ہے
کہ لطفِ بے تحاشا رفتنِ قاتل پسند آیا


اسدؔ ہر جا سخن نے طرحِ باغِ تازہ ڈالی ہے
مجھے رنگِ بہار ایجادیِ بیدلؔ پسند آیا

Ha wo lafaz ka sharminda maani nah huwa '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


دہر میں نقشِ وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

نہ ہوئی ہم سے رقم حیرتِ خطِّ رخِ یار
صفحۂ آئینہ جولاں گہِ طوطی نہ ہوا

سبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا

میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

دل گزر گاہ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
گر نفَس جادۂ سرمنزلِ تقوی نہ ہوا

ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پہ بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا

کس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجیے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا

وسعتِ رحمتِ حق دیکھ کہ بخشا جائے 
مجھ سا کافر کہ جو ممنونِ معاصی نہ ہوا


مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالبؔ
ناتوانی سے حریف دمِ عیسی نہ ہوا

Sataish gr ha zahid is qadar jes bagh rzuaan ka '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib



ستایش گر ہے زاہد، اس قدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا


بیاں کیا کیجیے بیدادِ کاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرہء خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا


نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع، میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا، ہوا ریشہ نَیَستاں کا


دکھاؤں گا تماشہ، دی اگر فرصت زمانے نے
مِرا ہر داغِ دل، اِک تخم ہے سروِ چراغاں کا


کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
کرے جو پرتوِ خُورشید عالم شبنمستاں کا


مری تعمیر میں مُضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برقِ خرمن کا، ہے خونِ گرم دہقاں کا


اُگا ہے گھر میں ہر سُو سبزہ، ویرانی تماشہ کر
مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے، میرے درباں کا


خموشی میں نہاں، خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغِ مُردہ ہوں، میں بے زباں، گورِ غریباں کا


ہنوز اک "پرتوِ نقشِ خیالِ یار" باقی ہے
دلِ افسردہ، گویا، حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا


بغل میں غیر کی، آج آپ سوتے ہیں کہیں، ورنہ
سبب کیا خواب میں آ کر تبسّم ہائے پنہاں کا


نہیں معلوم، کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا



نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالبؔ
کہ یہ شیرازہ ہے عالَم کے اجزائے پریشاں کا

Habab e moja raftar ha naqsh e qadam mara '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


نہ ہو گا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا


سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا


بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

Muharam nahi ha to yahi nawahaiy raz kaa '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib



محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا


رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا


تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
میں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا


صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میں
طُعمہ ہوں ایک ہی نفَسِ جاں گداز کا


ہیں بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہے
ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا


کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
ناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا



تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسدؔ!
سینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا

Bazm e Shahanshah main Ashar kaa daftar khula '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا


شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
اِس تکلّف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا


گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا


گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گونہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے؟ کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا


ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا


منہ نہ کھلنے پرہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلا


در پہ رہنے کو کہا، اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلا


کیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزول
آج اُدھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا


کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حال
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا



اس کی امّت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالبؔ! گنبدِ بے در کھلا

Shab ka zoq e guftago say tarey Dil baitab tha '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیری دل بیتاب تھا
شوخیِ وحشت سے افسانہ فسونِ خواب تھا


شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوّالہ ہر اِک  حلقۂ گرداب تھا


واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرام
گریے سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا


لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بے تابیاں
شوخیِ بارش سے مہ فوّارۂ سیماب تھا


واں ہجومِ نغمہ ہائے سازِ عشرت تھا اسدؔ
ناخن، غم یاں سرِ تارِ نفس مضراب تھا


واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجومِ اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا


جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
یاں رواں مژگانِ چشمِ تر سے خونِ ناب تھا


یاں سرِ پُر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
واں وہ فرقِ ناز محوِ بالشِ کمخواب  تھا


یاں نفَس کرتا تھا روشن، شمعِ بزمِ بےخودی
جلوۂ گل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا


فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا



ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
دل کہ ذوقِ کاوشِ ناخن سے لذت یاب تھا

Nalaiy dil main shab andaz e asar nayab tha '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا
تھا سپندِ بزمِ وصلِ غیر، گو بیتاب تھا


دیکھتے تھے ہم بچشمِ خود وہ طوفانِ بلا
آسمانِ سفلہ جس میں یک کفِ سیلاب تھا


موج سے پیدا ہوئے پیراہنِ دریا میں خار
گریہ وحشت بے قرارِ جلوۂ مہتاب تھا


جوشِ تکلیفِ تماشا محشرستانِنگاہ
فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشتِ آب تھا


بے دلی ہائے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
یادِ ایّامے کہ ذوقِ صحبتِ احباب تھا


مَقدمِ سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے!
خانۂ عاشق مگر سازِ صدائے آب تھا


نازشِ ایّامِ خاکستر نشینی، کیا کہوں
پہلوئے اندیشہ، وقفِ بسترِ سنجاب تھا


کچھ نہ کی اپنے جُنونِ نارسا نے، ورنہ یاں
ذرّہ ذرّہ روکشِ خُرشیدِ عالم تاب تھا


آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے؟
کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا


یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
انتظارِ صید میں اِک دیدۂ بیخواب تھا



میں نے روکا رات غالبؔ کو، وگرنہ دیکھتے
اُس کے سیلِ گریہ میں، گردُوں کفِ سیلاب تھا

Kes ka janon deda tamna e shikar tha '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


کس کا جنونِ دید تمنّا شکار تھا؟
آئینہ خانہ وادیِ جوہر غبار تھا


کس کا خیال آئینۂ انتظار تھا
ہر برگِ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا


ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا


اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا


گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میں
جاں دادۂ ہوائے سرِ رہگزار تھا


موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا



کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا

Admi ko behi muyasir nahi Insan hona '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا


گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا


وائے دیوانگیِ شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں  ہونا


جلوہ از بسکہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
جوہرِ آئینہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا


عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا، مت پوچھ
عیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا


لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا


عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنا کھانا
لذت ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا


کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا



حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قسمت  غالبؔ!
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

Shab khamar shoq e saqi rastakhiz andaza tha '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا
تا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا

یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا
جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا

مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلےٰ کون ہے؟
خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا

پوچھ مت رسوائیِ اندازِ استغنائے حسن
دست مرہونِ حنا، رخسار رہنِ غازہ تھا

نالۂ دل نے دیئے اوراقِ لختِ دل بہ باد
یادگارِ نالہ اک دیوانِ بے شیرازہ تھا

ہوں چراغانِ ہوس جوں کاغذِ آتش زدہ
داغ گرمِ کوششِ ایجادِ داغِ تازہ تھا


بے نوائی تر صدائے نغمۂ شہرت اسدؔ
بوریا یک نیستاں عالم بلند دروازہ تھا

Zakham kay bahrnay talak nakhan nah barh jain gay kia '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا


بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلک
ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے 'کیا'؟


حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟


آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا


گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا


خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا



ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسدؔ
ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں ، کھائیں گے کیا؟

Agar our jeetay rahtay yahie inteezar hota '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غم روزگار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟ شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا


یہ مسائل تصّوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا

Nah ho Marna to jenay ka Maza kia ' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا


تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا


نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا



نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا


فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے
ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا


نفس موجِ محیطِ بیخودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا


دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
غمِ آوارگی ہائے صبا کیا


دلِ ہر قطرہ ہے سازِ "انا البحر"
ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا


محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ
شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا


سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
شکستِ قیمتِ دل  کی صدا کیا


کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ؟
شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا


یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟



بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!

Phir ghalat kia ha kay hum sah koiy paida na huwa ' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا


بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں، کہ ہم

الٹے پھر آئے، درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا


سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

روبرو کوئی بتِ آئینہ سیما نہ ہوا


کم نہیں نازشِ ہمنامیِ چشمِ خوباں

تیرا بیمار، برا کیا ہے؟ گر اچھا نہ ہوا


سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا

خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا


نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا

کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا


ہر بُنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خونناب

حمزہ کا قِصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا


قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل

کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا



تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اُڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا

Paiy nazar karam tofah ha sharam na rasaiy ka '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


پئے نذرِ کرم تحفہ ہے 'شرمِ نا رسائی' کا
بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا


نہ ہو' حسنِ تماشا دوست' رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا

جہاں مٹ جائے سعیِ دید خضر آبادِ آسایش
بجیبِ ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا


بہ عجز آبادِ وہمِ مدّعا تسلیمِ شوخی ہے
تغافل یوں نہ کر مغرور تمکیں آزمائی کا


زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا
چراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا


نہ مارا جان کر بے جرم، غافل! تیری گردن پر
رہا مانند خونِ بے گنہ حق آشنائی کا


تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا


وہی اک بات ہے جو یاں نفَس واں نکہتِ گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا


دہانِ ہر" بتِ پیغارہ جُو"، زنجیرِ رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا



نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ، مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا

Bay takalaf dagh mah muhar dahan ho jaiy ga '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


گر نہ "اندوہِ شبِ فرقت" بیاں ہو جائے گا
بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہو جائے گا

زہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آب
پرتوِ مہتاب سیلِ خانماں ہو جائے گا

لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بد گماں ہو جائے گا

دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھا
یعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہو جائے گا

سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوا
مجھ پہ گویا، اک زمانہ مہرباں ہو جائے گا

گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبط
شعلہ خس میں، جیسے خوں رگ میں، نہاں ہو جائے گا

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
ہر گلِ تر ایک "چشمِ خوں فشاں" ہو جائے گا

وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا

گر وہ مستِ ناز دیوے گا صلائے عرضِ حال
خارِ گُل، بہرِ دہانِ گُل زباں ہو جائے گا


فائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہو جائے گا

Sunday, 30 April 2017

Dard minat kash duwa nah huwa '' A beautiful urdu Ghazal by mirza asadullah ghalib


درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا


جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا


ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا


کتنے شیریں ہیں تیرے لب، "کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا"


ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا


کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا


جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا


زخم گر دب گیا، لہو نہ تھما
کام گر رک گیا، روا نہ ہوا


رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟
لے کے دل، "دلستاں" روانہ ہوا



کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)