Showing posts with label Hadisa. Show all posts
Showing posts with label Hadisa. Show all posts

Saturday, 13 May 2017

BADAMI BAGH AND HADISA '' URDU SHORT STORY BY GHULAM IBN E SULTAN












بادامی باغ
غلام ابن سلطا ن 
 منشی گھسیٹا خان بھی عجیب شخص تھا،خود ستائی اور خود نمائی اس کی گھُٹی میں پڑی تھی۔واجبی سی تعلیم کے باوجود یہ خود کو عصرِ حاضر سب سے بڑا مورخ اور فلسفی سمجھتا تھا۔ اپنی زندگی کی ستر خزائیں دیکھنے کے بعد بھی اس کی رجائیت پسندی کا یہ حال تھا کہ اس کی زندگی کے دن موہوم بہاروں کے روگ میں کٹنے لگے اوراس کا دل و جگر کرچیوں میں بٹنے لگے۔جب کوئی اس کندۂ  نا تراش کو اس کے جنسی جنون،منشیات کے نشے کی قبیح عادت،چنڈو خانوں اور قحبہ خانوں کے گورکھ دھندے سے تائب ہونے کا مشورہ دیتا، تو یہ نا ہنجار عف عف کر کے کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ سینگ کٹا کر بچھڑوں میں شامل ہو جاتا،پریوں کا اکھاڑہ سجا کر اس میں راجا اِندر بن کر ہنہناتا،اپنی جہالت پر اِتراتا اور ڈھٹائی سے ہر طر ف دندناتا پھرتا تھا۔اس سٹھیائے ہوئے بُڈھے کھوسٹ کی ہیئتِ کذائی دیکھ کر ہنسی ضبط کرنا مشکل تھا۔ سیلِ زماں کے تھپیڑوں کے باعث یہ خبطی شامتِ اعمال اور گردشِ حالات کی زد میں اس طرح آیا کہ اس کے سب کس بل نکل گئے۔اس کے باوجود یہ چکنا گھڑا بے حسی اور بے غیرتی کی تصویر بنا حسن و رومان اور عشق و جنون کی خا ر زار راہوں پر خوار و زبوں گھومتا،نشے میں دھت یہ متفنی ہر حسین چہرے کو دیکھ کر جھُومتا اور ضعفِ پیری کے باوجود سیرگاہوں اور چرا گاہوں میں ٹانگیں گھسیٹتا پھرتا تھا اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا۔ شریف لوگوں کو فرضی مقدمات میں گھسیٹنا اس متفنی کا وتیرہ تھا، اسی وجہ سے اس ننگِ اسلاف کا نام منشی گھسیٹا خان پڑ گیا۔ مغز سے یکسر خالی گنجی کھو پڑی پر خچر کی دُم کے لمبے بالوں سے تیار کی ہوئی خود ساختہ وِگ پہنے، موٹے سفید شیشیوں کی نظر کی عینک اپنی کرگسی آنکھوں اور کٹی ناک پرسجائے، ہاتھ کی انگلیوں میں عقیق کی انگوٹھیاں ٹھونسے، یہ زمین کا بوجھ کسی مر ے ہوئے منحوس گورے کا کُوڑے کے ڈھیر پر پھینکا ہوا لنڈے کا بد رنگ،بد وضع اور بوسیدہ سُوٹ اپنے بے حس تن پر کس کر نکلتا۔بھرے بازار کی لعنت و ملامت اور دو طرفہ ندامت اس کے ہم رکاب رہتی۔اس کے ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز عادی دروغ گو زادو لُدھیک اور منشیات کا بد نام سمگلراکرو بھٹیارا بھی اس کے ساتھ ہوتے۔ گرمیوں کے موسم میں سہ پہر کے وقت یہ تینوں سٹھیائے ہوئے گھٹیا عیاش اور بدنام اُچکے ایامِ گُزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی اور لُٹی محفلوں کی نوحہ خوانی کے لیے اکٹھے ہوتے۔تین اُچکوں کی یہ کہانی ایک بلائے نا گہانی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ عام طور پر منشی گھسیٹا خان ہذیان بکتا لیکن کبھی کبھی یہ سارق شاعری کو بھی منہ مار لیتا تھا یہی وجہ ہے کی پاپ بیتی میں اس متشاعر کی جسارت سارقانہ کے بھونڈے انداز بھی اس کا منہ چڑا رہے ہیں۔زادو لُدھیک نے چمگادڑ کی طرح سورج سے منہ چھپا کر کان کھُجاتے ہوئے اور دُم ہلاتے ہوئے کفن پھاڑ کر کالی زبان ہلائی:
راوی کے کنارے پر
وقت گزارتے ہیں
یادو ں کے سہارے پر
اکرو بھٹیارا اُلو کی طرح آنکھیں گھُماتا ہوا منشی گھسیٹا خان سے مخاطب ہو کر ہرزہ سرا ہوا
’’تمھاری رائیگاں زیست کی ورق ورق داستاں کو آلام روزگار کے مہیب بگولوں نے جس طرح گندے نالوں میں بکھیرا ہے وہ نشانِ عبرت ہے۔آج ان رازوں سے نقاب اُٹھائیں جن کے باعث تمھاری زندگی بے ثمر ہو کر رہ گئی۔ِِ‘‘
منشی گھسیٹا خان نے پاؤں گھسیٹتے ہوئے اور سر پیٹتے ہوئے کہا:
’’ سہہ رہا تھا غمِ نہاں کا عذاب
سر پہ وہ تھوپ کر خضاب آئے
آؤ میری نادانی کی کہانی منہ زبانی میری زبانی سُنو اور اسے سن کر ارد گرد کی سُن گُن لو اور سر دھُنو۔ تین سو سال پہلے کی بات ہے لاہور میں دریائے راوی کے دونوں کناروں پر تین میلوں پر محیط ایک وسیع باغ تھا۔اس باغ میں اثمار کے بُور لدے چھتنار، ہزارہا شجرِ سایہ دار سروو صنوبر،سنبل و ریحان موجو د تھے۔ اس میں کثرت سے اُگے بادام کے پودوں کی وجہ سے اس کا نام بادامی باغ پڑ گیا۔اس مقام پر نازک اندام اور ان کے نمک حرام ہوس پرست آشنا مے گلفام سے سیراب ہوتے۔چُلّو میں اُلّو بن جانے والے یہاں اپنا اُلّو سیدھا کرنے کی غرض سے آتے مگر ان کی کج روی کے باعث سب تدبیریں اُلٹی ہو جاتیں۔جب ان کی قسمت اور تقدیر پھُوٹتی تو ان میں پھُوٹ پڑ جاتی اور یہ پھُوٹ پھُوٹ کر رونے لگتے۔جب میں جوان تھا تو یہی جگہ میری گزرگاہِ خیال بن گئی اور یہیں میری زندگی کے ساتھ ایسا کِھلواڑ  ہوا کہ حسین تتلیوں کی اکھاڑ پچھاڑ سے میری زندگی وبال بن گئی۔ ‘‘
’’منشی گھسیٹا خان!  مجھے تو یوں لگتا ہے کہ تمھاری اِن دل خراش یادوں ہی کی وجہ سے تمھیں خارش کا متعدی عارضہ لا حق ہو گیا ہے۔‘‘زادو لُدھیک نے اپنی کٹی ناک پر اُنگلی رکھ کر کہا ’’تمھاری یادیں خزاں رسیدہ شجر کے مانند ہیں جسے سمے کی دیمک چُپکے چُپکے کھاتی رہی اور پُورا تنا ہی کھوکھلا ہو گیا۔‘‘
’’مردہ جب بھی بولتا ہے وہ کفن پھاڑ کر ہی بو لتا ہے۔‘‘منشی گھسیٹا خان بولا ’’میر ا تن کھوکھلا ہوتا چلا گیا، من کی ترنگ ختم ہو گئی،میں بو کھلا گیا اور میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ میں اپنے دل و جگر میں بھڑکنے والی یہ آگ برف میں لگی مے کی صراحی اپنے حلق میں اُنڈیل کر بجھاتا۔گھر پھونک کر تماشا دیکھنا میرا معمول اور شوقِ فضول بن گیا۔‘‘
’’  واہی تباہی بکنے والے شخص کی واہیات واردات کو اس کی زندگی کے معمولات کی ہفوات کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے؟‘‘ دھن کا دیوانہ اکر و بھٹیارا اپنا بھاڑ جیسا دہن کھول کر مجنونانہ انداز میں کہنے لگا’’سٹھیائے ہوئے آدمی اور خزاں رسیدہ درخت میں کوئی فرق نہیں۔جس طرح بادِ سموم کے باعث درخت کی کومل کلیاں،پھُول اور ثمرِ نورس رزقِ خاک بن جاتے ہیں،اسی طرح ہر مخبوط الحواس جنسی جنونی درندے کی کور مغزی،بے بصری،ذہنی افلاس کے باعث اس کی زندگی وقفِ یاس ہو جاتی ہے۔جب کسی درخت پر بُرا وقت آتا ہے تو طائران خوش نوا درخت پر موجود اپنے آشیانوں کو چھوڑ کر لمبی اُڑان بھر جاتے ہیں۔اسی طرح حسن و عشق اور تقدیر کا مارا جب حالات کی زد پر آتا ہے تو اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا ہے۔اس کے سب محبوب اپنی اپنی راہ لیتے ہیں اور وہ اپنی حسرتوں پر آنسو بہانے کے لیے تنہا رہ جاتا ہے۔‘‘
’’اب مجھے اپنی داستان سنانے دو گے اور کچھ میری طرف بھی دھیا ن دو گے یا یوں ہی جی کا زیاں کر کے اپنے ہذیان اور خلجان سے مجھے اپنے وجود سے بد گُمان کرو گے۔‘‘ منشی گھسیٹا خان نے اپنے لنڈے کے کوٹ کی جیب سے بائیسیکل کا ایک زنگ آلود پیچ نکال کر اپنے عفونت زدہ منہ میں ڈال کر کہا’’ میں نے بہت کوشش کی لیکن کہیں سے تاب نہ لا سکا اگر تم نے میری بات پر توجہ نہ دی تو میں یہ پیچ کھا لوں گا۔‘‘
’’بس بہت ہو چُکی!اب تمھیں نہ تو پیچ کھانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی تاب لانا تمھارے بس میں ہے۔‘‘زادو لُدھیک خارش زدہ باؤلے سگِ آوارہ کی طرح غُرّایا ’’تم نے حبس کا جو ماحول بنایا،اس نے زندگی کی سبھی رُتیں بے ثمر کر دیں۔میری طرح تمھارے جسم سے بھی عفونت اور سڑاند کے بھبھوکے اُٹھتے ہیں۔ہم تینوں کی منزل خارزار زیست میں آبلہ پا مارے مارے پھرنا ہے جہاں بے شمار خارِ مغیلاں اپنی نوک کو تیز کیے ہماری راہ میں بچھے ہیں۔اس صحرا میں حنظل،دھتورا،تمباکو،پوست،بھنگ،اکڑا،تھوہر اور پوہلی کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔تمھاری ہرزہ سرائی سُن کر کون ہے جو تمھاری مدح سرائی کرے ؟ میری طرح تمھاری کھوپڑی بھی مغز سے خالی ہے تمھارا سب کر و فر جعلی ہے،تیری زبان کالی ہے اور تو محض شیر قالی ہے۔تجھے باتیں بنانے کے سوا کچھ نہیں آتا اور تمھاری بنائی ہوئی باتیں سننے والے کے دل،دماغ اور روح کو شدید کرب،اذیت اور ذہنی دباؤ کا شکار کر دیتی ہیں۔چلو چھوڑو اب جو کہنا ہے وہ کہو اور دوستو اس کے ستم سہو۔‘‘
منشی گھسیٹا خان بولا ’’ماضی کی یادیں میرے لیے پیرِ تسمہ پا ثابت ہوئی ہیں۔ میں نے منشیات فروشی،قحبہ خانے اور چنڈو خانے کے کاروبار سے جو کالا دھن کمایا،اُسی نے میرا منہ کالا کر دیا۔میری تجوری میں گنجِ قارون جمع ہو گیا۔میں نے جوں ہی سر اُٹھایا تو پری چہرہ لوگوں نے مجھے سبزۂ نو دمیدہ کے مانند پامال کر دیا اب تم دیکھ رہے ہو کہ میری کھو پڑی پر صرف گنج رہ گیا ہے اور قارون حسن و عشق کی یلغار اور حسیناؤں کی کفش اندازی کی بھر مار میں کہیں گُم ہو چُکا ہے۔ میری دولت پر گلچھرے اُڑانے والے سب طوطے اُڑ  گئے۔ان کی طوطا چشمی دیکھ کر میرے ہاتھوں کے طوطے بھی اُڑ گئے۔راتوں کے پچھلے پہر میں تنہائیوں کا زہر پی کر اور تارے گِن کر وقت گزارنا میرا معمول بن گیا۔
’’اتنی تباہی،روسیاہی اور جگ ہنسائی کے بعد بھی تم نے عقل کے ناخن نہیں لیے۔‘‘زادو لُدھیک نے کہا’’ عام طور پر تمھاری ہر بات ہفوات ہوتی ہے لیکن یہ بات خوب ہے کہ تمھارے پاس گنجِ قارون تھا لیکن قارون تو حسن و جمال پر قربان ہو گیا اب صرف کھو پڑی پر گنج ہی رہ گیا ہے۔یہ گنج حسینوں کی تڑ تڑ پیزاروں کا عطیہ ہے۔‘‘
’’ یہ مُو رکھ منشی گھسیٹا خان عقل کے ناخن کیسے لیتا ؟‘‘ اکر و بھٹیارا بولا ’’ عاشقی کی کفش اندازی سے آرزوئیں مات کھا کر رہ جاتی ہیں۔سب لوگ یہی دعا کرتے تھے کہ خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ناخنِ  تدبیر ایسے عشقی ٹڈوں کو کبھی نہیں مل سکتے۔‘‘
’’  تم میں کوئی بھی نکتہ سنج نہیں،اب صرف گنج ہی کی گفتگو جاری رکھ کر رنگ میں بھنگ نہ ڈالو۔‘‘ منشی گھسیٹا خان نے کہا’’ میری داستانِ حسرت پر غور کرو۔گرمیوں کی ایک صبح میں بادامی باغ کی سیر کر رہا تھا کہ میرے دل میں نئی ترنگ اُٹھی اور میں نے یہ گیت گایا:
کچی گر ی دا رنگ ہووے تے اکھ بادامی
ایو جیہی مُٹیار مِلے تے دیواں سلامی
ترجمہ:رنگ ہو کچے ناریل جیسا اورآنکھ ہو مثلِ بادام
ایسی دوشیزہ کہیں ملے تو جھُک کے کروں سلام
میری تان سُن کر گوالمنڈی کی جانب سے ایک گوالا میر ی طرف بڑھا اور کہنے لگا کہ تمھاری آواز تو پھٹے ہوئے ڈھول جیسی ہے،آئندہ اس طرح بے سُری آواز میں گیت نہ گایا کرو۔اس خوف ناک آواز کوسُن کر اس کی بھینسیں ڈر جاتی ہیں اور رسی تڑا کر بچ نکلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ہر بھینس یہ چاہتی ہے کہ اس طوفان بد تمیزی سے بچ دور کہیں دور نکل جائے۔‘‘
’’   ارے او بھینسے !تمھاری مظلوم بھینسوں کا اندازہ غلط نہیں۔‘‘ میں نے دانت پیستے ہوئے،عفونت زدہ تھُوک نگلتے ہوئے اور زہر اُگلتے ہوئے کہا’’ تمھاری بھینسیں تمھارے استحصالی روّیے کی وجہ سے تم سے نفرت کرتی ہیں۔تم بے زبان بھینسوں کا دُودھ فروخت کر کے اپنی تجوری بھر لیتے ہو لیکن مظلوم بھینسوں کو پیٹ بھر کر کھانے کو مناسب چارہ نہیں دیتے۔تُف ہے تمھاری سوچ پر،تہمت لگا کے بھینسوں پر جو اپنی تجوری بھرے ایسے شیر فروش کو تو مر جانا چاہیے۔بھینسیں اس سماج سے ناخوش و بیزار ہیں وہ دنیا کے رسم و رواج کو پسند نہیں کرتیں وہ چاہتی ہیں کہ ان کے لیے مٹی کا ڈیری فارم کہیں اور بنا دیا جائے۔ جہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس جیسا جنگل کا قانون نافذ نہ ہو۔ سفید کووں،گندی مچھلیوں،بگلا بھگتوں،جو فروش گندم نما سفہا، کالی بھیڑوں اور بھینسوں کی راہ میں جو دیوار بنے گا وہ نہیں رہے گا۔تمھارے جیسے مفاد پرست گوالے جو ظلم و جور کے حوالے بن گئے ہیں انھیں تو محکمہ انسدادِ  بے رحمیِ حیوانات کے حوالے کرنا چاہیے۔آج کے دور کا لرزہ خیز المیہ اور طُرفہ تماشا یہ ہے کہ محکمہ انسدادِ بے رحمیِ حیوانات کی کایا پلٹ گئی ہے اور اب یہ محکمہ اِمدادِ بے رحمی ء حیوانات بن چُکا ہے۔ اب تو یہی ڈیری فارمنگ اور سائنس کا حوالہ ہے،ہر زباں پر بھینس اور گوالا ہے۔‘‘
’’بند کر ویہ بے سرو پا فلسفیانہ باتیں۔‘‘گوالے نے اپنی آستین سے اپنے منہ سے بہنے والا جھاگ صاف کرتے ہوئے کہا ’’تمھیں فلسفے کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں اور رواقیت کے داعی بن بیٹھے ہو۔میر ی یہ بات کان کھو ل کر سن لو اگر آئندہ تم نے یہ بے سُرے گیت الاپے تو میں تمھاری زبان گُدی سے کھینچ لوں گا۔کہاں سے آ گیا ہے شُوم ناہنجار پیدائشی ڈُوم۔‘‘
اس کی قدر ناشناسی کے باوجود میں نے ہمت نہ ہاری اور گلوکاری کا یہ سلسلہ چوری چھُپے جاری ر کھا۔ایک دن میری اُمید بر آئی اور ہیرا منڈی سے ایک حسینہ نمودار ہوئی۔ یہ میرے خوابوں کی حسین و جمیل ملکہ تھی۔اس کا رنگ کچے ناریل کی طرح سفید تھا اور چشمِ غزال بالکل بادام کی صورت میں تھیں۔اس کی چال کڑی کمان کے تیر کے مانند تھی۔اس حسینہ کو دیکھتے ہی میرے ہوش و حواس رخصت ہو گئے اور میں وصل کی تمنا لیے اسے دیکھتا رہ گیا۔میرا سینہ و دِ ل جو حسرتوں سے چھا گیا تھااس حسینہ کو دیکھتے ہی میرے دِل میں ایک لہر سی اُٹھی۔میں اُٹھا اور میں نے اُٹھ کے قدم نازنیں کے لیے۔میرا جگر دیکھو کہ میں کاسۂ چشم لیے اپنی جان پر کھیل کر اس حسینہ کے قدموں پر گر گیا اور اس سے حسن کے جلووں کی خیرات طلب کی۔میری یہ بے ساختگی،بے تکلفی اور بے باکی اس شوخ کو پسند نہ آئی اور اس نے میرے گریبان کو اس طرح حریفانہ کھینچا کہ دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں کوئی فاصلہ نہ رہا۔اس کے بعد اس حسینہ نے میری وہ دُرگت بنائی کہ مجھے دن کے وقت سورج کی روشنی میں تارے دکھائی دینے لگے اور چھٹی کا دُودھ بھی یاد آ گیا۔‘‘
علاقے کے لوگوں مجھے وہاں سے اس طرح نکالا جیسے دودھ سے مکھی نکالی جاتی ہے۔ بے نیل مرام اور بے آبر و ہو کر کوچۂ محبوب سے نکلنے کے بعد کافی عرصہ تک میں بے یار و مددگار اسی راہوں پر بھٹکتا رہا  جو منزل کا نشاں نہ تھیں۔تلاشِ بسیار کے بعد مجھے سر چھپانے کے لیے جس کٹیا میں جگہ ملی وہ بہت بوسیدہ تھی۔ ایک رات موسلادھار بارش ہوئی چھت کا پر نالہ ٹوٹ گیا اور پانی سے ساری کٹیا بھر گئی۔ جل تھل ایک ہو گیا۔ میرے سارے کپڑے اور بسترعفونت زدہ کیچڑسے لت پت ہو گئے۔ اس عالم یاس میں کسی نے میرے دل شکستہ کا حال نہ پوچھا۔ میں نے اپنے کپڑوں کی گٹھڑی اٹھائی اور گندے نالے پر دھونے  کے لیے لے آیا۔ آنکھوں سے جوئے خوں رواں تھی اور دل اشک بار تھا۔ میں نے تان لگائی:
ٹوٹا پرنالہ ہے
صفائی اور نہانے کو
یہی گند ا نالہ ہے
نالے کے کنارے پر کئی مگر مچھ اور کچھوے رینگ رہے تھے۔میں نے انہیں مخاطب کر کے کہا:
نالے کا کنارا ہے
مگر مچھ کے جبڑوں پر
افسانہ ہمارا ہے
اچانک دریا سے ایک ناگن باہر نکلی  اور بولی :
ــــ   ’’صرف مگرمچھ کے جبڑوں پر ہی نہیں بل کہ بجو، سانپ، بچھو اور لدھڑ بھی تمھارے تغیر حال کو زمانے کے اتفاقات کا نام دیتے ہیں۔ کل تک تمھیں زندگی کی ہر آسائش میسر تھی مگر اب تمھیں اس شہر نا پر ساں میں مانگنے پر بھیک بھی نہیں ملتی‘‘
میں نے ناگن سے پوچھا تم کون ہو؟میرے سب دیرینہ ساتھی تو ابتدا ہی میں دفینہ لُوٹ کر نو دو گیارہ ہو گئے اب تم انتہا کی خبر لینے کیسے پہنچی ہو؟تم ایک خزاں رسیدہ درخت کے پاس اس وقت سایہ طلب پہنچی ہو جب سمے کی دیمک نے تنے کو مکمل طور پر کھوکھلا کر دیا اور آلامِ روزگار کی تمازت اثمار و اشجار کی تازگی کو کھا گئی۔‘‘
ناگن نے کہا’’ میرا نام ظِلو ہے میں نے پا زمین دفن میں اپنی کرگسی آنکھیں کھولیں پچھلے جنم میں طوائف کی حیثیت سے گزرنے والی  میری زندگی میرے لیے شرمندگی کا باعث بن گئی۔میرے چاہِ زقن سے ایک عالم سیراب ہوا،قلزمِ وقار کا ہر گوشہ پایاب ہوا۔میری موت کے بعد زمانے نے مجھے اس ناگن کی صورت میں بازیاب کیا۔ میر ی طرح تم بھی سادیت پسندی کے جان لیوا روگ کے علیل ہوا سی لیے ہر جگہ ذلیل ہو۔ اب تم مرو گے اور اگلے جنم میں تم ایک اژدہا کی صورت میں لذتِ ایذا حاصل کرو گے۔ تمھارے نئے جنم کے بعد ہم دونوں ایک ہو جائیں گے اور انسانیت پر بے پناہ ستم ڈھائیں گے، مظلوموں کے چام کے دام چلائیں گے،ہر گھر میں صفِ ماتم بچھائیں گے اور مجبوروں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیں گے۔‘‘
تم میری حقیقت سے کیسے آگاہ ہو؟ میں نے پوچھا ’’  اگلے جنم کی بات تو تم نے کہ دی لیکن یہ نہیں بتا یا کہ میرا یہ پہلا جنم کب اپنے انجام کو پہنچے گا؟میری زندگی کا موجودہ سفر کبھی منزل سے آشنا ہو سکے گا۔دمِ  آخریں بلا شبہ بر سرِ را ہ ہے لیکن میرے دِلِ نا صبور میں اب بھی وصل کی تمنا انگڑائیاں لے رہی ہے۔کیا مرنے سے پہلے مجھے کسی حسین و جمیل محبوب کی زلفوں کا گھنا سایہ نصیب ہو سکے گا؟‘‘
’’تمھارا وصل اب موت ہی سے ہو گا۔ تم اس وقت اژدہا سے بھی زیادہ زہریلے ہو ‘‘ ناگن اپنا پھن لہراتے ہوئے بولی ’’ تم اپنی انگلی کو اپنے دانتوں سے کاٹو تو تمھارے عفونت زدہ اورسڑاند کے مارے پُورے بدن میں زہر سرایت کر جائے گا۔ تمھارے دانتوں کے مہلک زہر کا تریاق کہیں نہیں ملے گا اور تم خارش زدہ باؤلے کتے کی طر ح تڑپ تڑپ کر مر جا ؤ گے‘‘
’’نہیں ہر گز نہیں مجھے اپنا یہ اذیت نا ک انجام پسند نہیں ‘‘ میں نے روتے ہوئے کہا ’’  اس جبر کا انسداد کرو میری کچھ امداد کرو اور میرا انجام کچھ سہل کرو اور ہمدردی میں اب پہل کرو۔‘‘
’’ ایک صورت اور ہے اور وہ تمھارے لیے محلِ غور ہے۔‘‘ غصے سے بپھری اور شکل سے نِکھری ہوئی ناگن نے کہا’’ جذبۂ رقابت سے خجل بڑے سہل طریقے سے میں تمھیں ڈس لوں لیکن میر ا زہر بہت کم ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ تمھیں ڈسنے سے تمھارا زہر میرے ریشے ریشے میں سرایت کر جائے گا۔ تجھ سے تو زہر خواری کی ذلت اٹھ سکتی ہے لیکن مجھ میں یہ تاب نہیں ‘‘ یہ کہہ کر ناگن دریا ڈُبکی لگا کر غائب ہو گئی اور اچانک ایک مُذی و مکار لومڑی ادھر سے گزری،جس نے نارسائی کے باعث دم رُکنے کے بعد انگوروں کی تُرشی کا بہانہ بنا کر انھیں کھانے کا ارادہ ترک کر کے اس کھسیانی بلی کو بھی مات دی تھی جس نے کھمبا نوچ کر اپنی اندرونی سفلگی کا بر ملا اظہار کیا تھا۔ لومڑی نے جب منشی گھسیٹاخان کو خاک بہ سر،پائمال اور خوار و زبوں دیکھا تو اپنے مکر کی چالوں سے اس کو متوجہ کر نے کی خاطر ٹسوے بہاتے ہوئے بولی ’’اب تو تم پر یہ راز کھُل گیا ہو گا کہ جب ظلم کی فصل پک جاتی ہے تو دست قضا فوراً درانتی سنبھا لیتا ہے اورسروں کی فصل سے کھلیان پٹ جاتے ہیں۔اس وقت فطرت کی تعزیروں سے بچنے کی دوڑ بے فائدہ ہوتی ہے،حالات کا جبر تمھاری کلائی مروڑ کر گردن توڑ دیتا ہے۔اس وقت تم حالات کے نرغے میں آ چُکے ہو۔‘‘
’’تم کون ہو منشی گھسیٹا خان نے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہا ’’تم نے منشی گھسیٹا خان جسے اپنے عہد کے نعمت خان کلانونت کی حیثیت سے ہر بوالہوس اچھی طرح جانتا  ہے،کے ساتھ اس گستاخانہ لہجے میں گفتگو کی جسارت کیسے کی؟ یہ بھی بتاؤ کہ کُو بہ کُو میری ذلت کی داستان سنا کر میری رسوائی کی جو نوبت آئی ہے اس میں جو قبیح کردار تم نے ادا کیا ہے اس کے پیچھے کس کا اشارہ تھا؟‘‘
’’تُف ہے تم پر کہ تم اپنے خون کو بھی نہ پہچان سکے۔‘‘لومڑی نے عیاری کی منحوس چمک سے لبریز آنکھیں مٹکاتے اور خون سے لتھڑے دانت پیستے ہوئے کہا’’  میں پچھلے جنم میں تیری ماں تھی۔میرا نام ثباتو تھا۔ میری پہچان شہر کی سب سے بڑی نائکہ،رقاصہ،مغنیہ اور طوائف کی تھی۔ ‘‘
’’لوگ مجھے مشکوک نسب کا درندہ قرار دیتے ہیں۔‘‘منشی گھسیٹا خان نے چمگادڑ کی طرح آنکھیں بند کرتے ہوئے اور بُوم کے مانند منہ کھول کر منحوس چیخ نکالتے ہوئے کہا ’’میرا مرحوم باپ زوال کے وبال کے بعد کس حال اور کس خیال میں ہے؟‘‘
’’تمھارا نسب یقیناً مشکوک ہی سمجھا جائے گا کیونکہ میں خود بھی تمھاری حقیقت کی شناسا نہیں۔‘‘مکار لومڑی نے دُم ہلاتے ہوئے کہا’ ’  تو نہ صرف ثقلِ سماعت کے باعث بہرا ہے بل کہ عقل و فہم سے بھی یکسر بے بہرہ ہے۔ تمھارے باپ کو شہر کا سب سے ظالم بھڑوا سمجھا جاتا تھا۔اب وہ مسخرادوسرے جنم میں بھیڑیے کے روپ میں جنگلوں کی خاک چھانتا پھرتا ہے۔‘‘
’’اب میں یہ بات اچھی طرح سمجھ گیا ہوں۔‘‘منشی گھسیٹا خان نے مثلِ  حمار کان ہلاتے ہوئے اور دُم دباتے ہوئے کہا ’’جب میں جوان تھا تو لوگ مجھے علاقے کا مشاق خرسوار،مضبوط لٹھ بردار بھتہ خور قرار دیتے تھے۔‘‘
’’سچ کہتے ہو،یوں تو جھُوٹی ہے ؟ذات منشی کی لیکن دِل کو لگتی ہے بات منشی کی۔‘‘لومڑی نے اپنے غلیظ پنجوں سے اپنا منہ صاف کرتے ہوئے کہا ’’تمھار باپ بھی ملک کا بڑا خر سوار تھا۔وہ ایک بار بپھرے ہوئے گدھے سے گتھم گتھا ہو گیا اور گدھے کو پچھاڑ ر اسے دو لتیاں رسید کیں۔اس کے بعد وہ پورے علاقے میں خر افگن کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔تمھارا باپ بہلو خان ایک خو نخوار  بھیڑیا بن کر جنگل میں منگل کی کیفیت سامنے لا رہا ہے۔یوں تو جنگل میں اب بدھ اور یُدھ کا سماں ہے اس کے باوجود اس بھیڑیے پرخچر کا گُماں ہے۔اس جنگل میں نافذ جنگل کا قانون مسلسل مظلوموں کی آرزوؤں کا خون کر رہا ہے اور ہر درندہ اس خون آشامی پر دوسرے درندے کو مطعون کر رہا ہے۔کئی چرواہے اپنی اپنی ڈفلی لیے اور اپنا اپنا راگ الاپتے اس جنگل میں بد روح نما ہوتے ہیں لیکن مضبوط کاٹھی کو جو بھی لٹھ بر دار چرواہا خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنے میں کام یاب ہو جاتا ہے،وہی اپنی پسند کی بھینس کو ہانک کر لے جاتا ہے اور میدان ما ر لیتا ہے۔
منشی گھسیٹا خان،زادو لُدھیک اور اکرو بھٹیارا ہوس اور جنسی جنون کی جن راہوں پر چل نکلے تھے وہ انھیں مکمل تباہی اور انہدام کی جانب لے جا رہی تھیں۔ تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ وقت کے تقاضے بھی بر ق رفتاری کے ساتھ بدلتے رہے،خوشی کے لمحات غموں میں ڈھلتے رہے۔ان کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ ان کی آستینوں میں سانپ بھی پلتے رہے مگر یہ ان تلخ حقائق سے بے خبر اپنی دھُن میں مگن رہے مگر من ہی من میں کُڑھتے اور جلتے رہے۔موقع پرستی اور منافقت کی اساس پر استوران تینوں بے ضمیروں کی رفاقت گرگ آشتی کی مثال تھی۔دن کی روشنی میں تو یہ تینوں بادامی باغ میں مل بیٹھتے اور چوری،ٹھگی اور لوٹ مارکی وارداتوں کے منصوبے بناتے۔ چور محل میں جنم لینے والے کئی سانپ تلے کے بچھو، بے شمار زاغ و زغن اور شہر خموشاں کے بجو بھی ان کے ہم نوا تھے۔شام کے سائے ڈھلتے ہی و ہ سب اپنی اپنی راہ لیتے مگر یہ تینوں ایک دوسرے سے چھُپ چھُپ کر منشیات اور جنس و جنون کے مکروہ دھندے سے کالا دھن کمانے میں مصروف ہو جاتے۔ منشی گھسیٹا خان ان کا گُرو تھا لیکن اس کے کرگس قماش کے دونوں چیلے زندگی بھر اپنے گُرو کو نوچتے رہے اور اس کی بربادی کے بارے میں سوچتے رہے۔ گردشِ حالات سے ظاہر ہوتا تھا کہ منشی گھسیٹا خان اب اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا تھا،فطرت کی سخت تعزیریں اس کی منتظر تھیں۔جب بھی ہجوم یاس میں اس کا دل گھبراتا تو بادامی باغ کا چکر لگا کر راوی کے کنارے پر جا نکلتا اور ایام گزشتہ کی کتاب کے اوراق پلٹنے لگتا۔
گرمیوں کا موسم تھا،منشی گھسیٹا خان راوی کے کنارے چہل قدمی میں مصروف تھا۔شام کے سائے ڈھل رہے تھے منشی گھسیٹا خان واپس بادامی باغ جانے کے لیے ہڑ بڑا کر اٹھا۔ اچانک اس کا سر چکرا گیا اور پاؤں لڑکھڑا گئے۔ وہ دریائے راوی کے کنارے لڑھکتا ہوا دریا کے گرداب میں جا گرا۔ بے شمار مگر مچھ پانی پر تیرتے ہوئے اس ننگ وجود پر جھپٹے اور پلک جھپکتے میں اس کی تکا بو ٹی کر دی۔ اگلے روز راوی کے کنارے پر ایک خون آشام اژدہا نمودار ہوا جسے پہلے کسی نے نہ دیکھا تھا۔ اس اژدہا کے خوف سے لوگ راوی کے کنا رے پر جانے سے خوف زدہ رہنے لگے۔بادامی باغ میں جرائم پیشہ اُچکوں میں سے ایک کم ہو گیا۔اب اس کے باقی دو ساتھی زادو لُدھیک اور اکرو بھٹیارا جب بادامی باغ سے نکل کر راوی کے کنارے پہنچتے اور وہاں آنکھوں سے شعلے نکالتے،منہ سے خون اُگلتے اس مانوس نووارد اژدہا کو دیکھتے جو چوہوں اور حشرات پر جھپٹ رہا ہوتا   تو دائمی مفارقت دے جانے والے  اپنے گُرو کو یاد کر کے دل کو سنبھالنے کی کوشش کرتے اور وہ بے اختیار پُکار اُٹھتے:
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور

٭٭٭

Thursday, 11 May 2017

Hadisa A Famous Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan












حادثہ
غلام ابن سلطا ن 

سال کی آخری رات تھی اس کے ساتھ ہی ہر چہرے پر نئے برس دو ہزار پندرہ کی آمد کی خوشی دیدنی تھی۔ شہر کی ایک کچی آبادی کے ایک گم نام کوچے میں مقیم ناصف بقال پر یہ رات بہت بھاری تھی۔ اس کی عمر ستر سال ہو چکی تھی اور اس کے اعضا مضمحل ہو چکے تھے اور عناصر میں اعتدال عنقا تھا۔ اس کے خرابات آرزو پر حسرت و یاس کا بادل ٹُوٹ کر برس گیا۔ ایک عادی دروغ گو، قحبہ خانہ، چنڈو خانہ اور کسینو کے مالک، منشیات کے تاجر، سمگلر، پیمان شکن، محسن کش اور ابن الوقت درندے کی حیثیت سے ناصف بقال کی معاشرے میں کوئی قدر و منزلت نہ تھی۔ وہ غمِ جہاں کا حساب کرنے میں خجل ہو رہا تھا کہ اسے ماضی کے کئی دیرینہ رفیق بے حساب یاد آئے۔ اس عالم پیری میں جب جانگسل تنہائیوں کا زہر اس کے ریشے ریشے میں سرایت کر گیا تو وہ ثباتی، ظلی، شعاع، تمنا، زادو لُدھیک، اکی، عارو اور رنگو کو یاد کر کے آہیں بھرنے لگا۔ ایام گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کرتے کرتے وہ سوچنے لگا کہ عیش و طرب اور وصل کے برس تو گھڑیوں کے مانند بیت گئے مگر تنہائیوں کی گھڑیاں تو اب برسوں پر محیط دکھائی دیتی ہیں۔ اس کی آنکھوں کی نیند اُڑ چکی تھی اور دل کی تاریکی اس کے مقدر کی سیاہی کے مانند اس کی رُ و سیاہی بنتی چلی گئی۔ اس کی بُوم جیسی آنکھیں لُٹی محفلوں کی دھُول سے اٹ گئی تھیں۔ ساٹھ سال کی عمر میں وہ واقعی سٹھیا گیا تھا اوراس کی عقل پر ایسے پتھر پڑ گئے تھے کہ اس نے ہیرا منڈی کی رذیل اور جسم فروش نو جوان طوائفوں ثباتی اور ظلی سے ٹُوٹ کر محبت کی۔ زادو لُدھیک اپنی داشتہ ظلی کو سیڑھی بنا کر ناصف بقال سے مالی مفادات حاصل کرتا رہا اور اپنی تجوری مسلسل بھرتا رہا۔ رنگو نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے اپنی اہلیہ ثباتی کو ناصف بقال کی خدمت پر مامور کر دیا جوہر وقت ناصف بقال کی محبت کا دم بھرتی اور ساتھ ہی اپنی جمع پونجی میں اضافہ کر کے اسے کر گس کی طرح نو چتی رہتی۔ ناصف بقال ہمہ وقت حسین و جمیل طوائفوں کے جھُرمٹ میں را جا اِندر بن جاتا، دادِ عیش دیتا، خوب ہنہناتا  اور اپنے جنسی جنون کی تسکین کا ہر قبیح حربہ استعما ل کرتا۔ حقائق سے شپرانہ چشم پوشی اس شُوم کا وتیرہ بن چکا تھا۔ بیتے دنوں کو یاد کر کے وہ اس قدر رویا کہ روتے روتے فرط غم سے وہ نڈھال ہو گیا اور آنے والے وقت کے متوقع عذاب کے تصور سے اس کی گھگھی بندھ گئی۔ اپنی پتھرائی آنکھوں سے وہ دروازے کی طرف دیکھنے لگا لیکن اب یہاں کسی کی آمد متوقع نہ تھی۔ اس کے پروردہ تمام بھوکے فصلی بٹیرے اورسب چڑیاں دانے چُگ کر لمبی اُڑان بھر گئیں۔ اس کے ساتا روہن کا بھی کہیں اتا پتا نہیں ملتا۔
وہ مسلسل اپنی گدھے کے بالوں سے بنی ہوئی وِگ کو کھجلا رہا تھا اور اپنے ہاتھ کی اُنگلی میں ٹھنسی ہوئی عقیق کے بڑے نگینے والی چاندی کی انگوٹھی کو ہلا رہا تھا۔ لنڈے کا تھری پیس سوٹ پہنے یہ کلین شیو خضاب آلودہ بُڈھا کھوسٹ اپنی حسرتوں پر آنسو بہانے کے لیے تنہا رہ گیا تھا۔ وہ  اپنی خمیدہ کمر پر ہاتھ رکھ کر اپنے شکنوں سے بھرے بستر سے اُٹھا، موٹے شیشوں والی نظر کی عینک اُتاری اور شپر جیسی بند آنکھوں پر پانی کے چھینٹے مار کر ان کے گدلے پن کی صفائی کی کوشش کرنے لگا۔ حرام کا مال کھا کھا کر وہ پھُول کر کُپا ہو گیا تھا۔ اس کے منہ کا ذائقہ بدل چکا تھا اور زبان کی کڑواہٹ کا اثر لہجے کی تلخی، بے ہود ہ گوئی، خلجان اور ہذیان کی صورت میں سامنے آیا۔ اب اسے ثباتی اور ظلی کے ہاتھ سے تیار کیا ہوا کھانا میسر نہ تھا بل کہ ریڑھی سے نان حلیم خرید کر زہر مار کرتا تھا۔ سب سے بڑھ کر المیہ یہ ہوا کہ اس کی اپنی اہلیہ نے بھی اپنی بیٹیوں کو ساتھ لیا اور شاہی محلے میں اپنے آبائی کوٹھے میں بسیرا کر لیا۔ اس جگہ خوب سے خوب ترکی جستجو کا سلسلہ جاری تھا اور یہاں ان کی پانچوں گھی میں تھیں۔ اپنی ناک میں اُنگلیاں ٹھونستے ہوئے لڑکھڑاتا ہوا یہ چکنا گھڑا با ہر نکلا۔ سڑک پر ایک جگہ لکھا تھا ’’نیا سال مبارک‘‘۔ جب اس نے یہ تحریر پڑھی تو وہ مگر مچھ کے آنسو بہانے لگا۔ بے وفا ساتھیوں نے اس کی زندگی اجیرن کر دی تھی اور اس کے لیے تو ایک ایک لمحہ بلائے جان بن گیا تھا۔ اس کی زندگی کے تمام موسم خزاں کی زد میں تھے۔ اب تو اس کی حیات کے لرزہ خیز اوراعصاب شکن افسانوی ماحول میں ہر طرف ذلت، تخریب، نحوست، بے برکتی، بے توفیقی، بے ضمیری، بے غیرتی، بے حیائی، بے حسی اور بد بختی کے کتبے آویزاں ہو چکے تھے۔ وہ دبے پاؤں واپس اپنے کمرے میں آ گیا  اور اپنے ماضی کے حالات کے بارے میں سوچنے لگا۔ ہر طر ف ہو کا عالم تھا، اس کے کمرے کی ایک کھڑکی کھلی تھی جس سے باہر کا سارا منظر صاف دکھائی دیتا تھا۔ ممبئی کے نوجوان نئے سال کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس کے لیے تو یہ تیاریاں دل آزاریوں کے سوا کچھ نہ  تھیں۔ ہمیشہ کی طرح وہسر شام نشے کی بڑی مقدار استعمال کر کے بے سدھ ہو گیا تھا۔ اب اس کا نشہ ٹُو ٹنے لگا تھا۔ مسموم حالات کی حدت کے باعث اس کا دماغ تو پہلے ہی طویل رخصت پر تھنا ب دل و جگر کی آگ بجھانے کی خاطراس نے برف میں لگی صراحیِ مے اپنے حلق میں اُنڈیلی اور پھر سے وادیِ خیال کو مستانہ وار طے کرنے کی ٹھان لی۔
اسی اثنا میں اس نے حکیم سیالوی کو دیکھاجو اسے دلاسا دے رہے تھے۔ اسے وہ دن یاد آ گئے جب اس نے عالم شباب میں داد عیش دینے اور شراب و شباب کے ساتھ ہمہ وقت سنگت کا آغاز  کیا تو اس کی اخلاق با ختگی، جنسی جنون اور بے راہ روی کی نفرت انگیز داستانیں ہر شخص کی زبان پر تھیں۔ منشیات کے بے تحاشا استعمال سے وہ نشاط اور بے خودی کے عالم میں ہر ناصح کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا اور ان کی نصیحت کو سنی ان سنی کر دیتا۔ حکیم سیالوی نے اُسے بہت سمجھایا کہ منشیات کے استعمال سے انسان موت کی جانب تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ منشیات فروش پر جب سب بلائیں تمام ہو جاتی ہیں تو مرگ نا گہانی اسے دبوچ لیتی ہے۔ سب ناصح اسے سمجھاتے رہے لیکن اس کے دماغ میں تو خناس سما گیا تھا کہ وہ را جا اندر ہے اوراسے پریوں کا اکھاڑاسجانے کا اختیار ہے۔ وقت پر لگا کر  اُڑتا رہا اس کی کتاب زیست سے شباب کا باب اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس کے بعد مختلف بیماریوں نے اسے اپنے نرغے میں لے لیا۔ پہلے ایک گردے میں پتھری کا آپریشن ہوا پھر دوسرے گردے میں پتھری کی تشخیص ہوئی۔ اس کے بعد پِتے اور معدے میں پتھری اور ساتھ ہی مثانے میں غدود اور پتھری سے وہ زندہ در گور ہو گیا۔ اس کی تمام جمع پونجی ان بیماریوں کے علاج معالجے اور پیچیدہ نوعیت کے آپریشن کی بھینٹ چڑھ گئی۔ جان لیوا دکھوں، لرزہ خیز اور اعصاب شکن حالات اور جا نگسل تنہائیوں میں اس کے احباب ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ جب اس کی امیدوں کے پھول کھلنے کی توقع تھی تو ہوس پرستوں نے انھیں کا نٹوں سے فگار کر دیا۔ جن لوگوں کی رفاقت کو اس نے چراغ راہ سمجھا تھا وہی اسی کا گھر پھونک کر تماشا دیکھتے رہے۔ اس دنیا کے آئینہ خانے میں دکھوں کا جال بچھا کر سب ساتھی اسے تماشا بنا کر چلتے بنے۔ وہ زندگی بھر رنگ، خوشبو اور حُسن و خوبی کے استعاروں سے مزین گُل ہائے رنگ رنگ کی تمنا میں سر گرداں رہا۔ اب اس کی شامت اعمال نے یہ دن دکھائے کہ عالم پیری میں اس کی آنکھوں میں کالا مو تیا اُتر آیا۔ اب شدید ضعف بصارت کی ماری اس کی پتھرائی ہوئی کرگسی آنکھوں میں لُٹی محفلوں کی دھُول اُڑتی رہتی تھی۔ حالات اسے اس موڑ پرلے آئے کہ اگرچہ اس کی یادداشت بُری طرح متاثر ہو چُکی تھی لیکن اُسے نہ صرف چھٹی کا دودھ یاد آ گیا بل کہ نانی کی یاد بھی ستانے لگی۔ جس کے پاس ہر چیز کی فراوانی ہوتی تھی اس کو بھی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو گیا۔ جس گھر میں پہلے حسین و جمیل مغنیاؤں کے پُرسوز نغمے گُو نجتے تھے اب اس گھر میں ہر طرف اُلّو بولتے تھے۔
حکیم سیالوی کو دیکھتے ہی ناصف بقال کی آنکھیں ساون کے بادلوں کی طرح برسنے لگیں اور اس نے اپنی داستان غم بیان کی اور گردوں، پتے، مثانے اور معدے کی پتھری اور آپریشن کے عذاب کا احوال بیان کیا۔ اس نے بتایا کہ جسم کے تمام بڑے اعضا میں بڑی بڑی پتھریوں کا بن جانا معالجوں کے لیے بھی ناقابل فہم تھا۔ سب حکیم اور ڈاکٹر اس انتہائی پیچیدہ، جان لیوا اور تکلیف دہ روگ کو ایک عذاب سے تعبیر کرتے تھے۔ ان پتھریوں کے علاج نے اسے مفلس و قلاش کر دیا اور وہ کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا۔ یہ سنتے ہی حکیم سیالوی صاحب نے اپنے دبنگ لہجے میں کہا کہ ایک راندہ ء درگاہ زانی اور شرابی کو دنیا والے تو سنگسار نہ کر سکے لیکن فطرت کی تعزیریں تمھیں اندرونی طور پر رفتہ رفتہ سنگسار کرتی جا رہی ہیں۔ میں نے تمھیں بہت سمجھایا تھا لیکن تمھاری عقل پر تو پتھر پڑ گئے تھے۔ وہ دن دور نہیں جب حالات یہ رخ اختیار کریں گے کہ فطرت کی سنگساری کا یہ سلسلہ تمھیں مکمل طور پر منہدم کر دے گا۔ تمھاری شامتِ اعمال کے باعث ہونے والی تمھاری اس سنگساری کے نتیجے میں تم زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اُتر جاؤ گے زمین کا بوجھ قدرے کم ہو جائے گا  اور ہر شخص یہ کہے گا کہ خس کم ہونے سے گلشنِ ہستی کی پاکیزگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ناصف بقال، رنگو، اکی، زادو لُدھیک عارو اور تارو سب کے سب رسوائے زمانہ بد معاش تھے۔ ان اُجرتی بد معاشوں اور پیشہ ورلُٹیروں نے قتل و غارت کا جو بازار گرم کر رکھا تھا اس کے باعث زندگی کی تمام رُتیں بے ثمر ہو گئی تھیں۔ ممبئی کے قحبہ خانوں میں ان کی پروردہ جسم فروش رذیل طوائفوں ثباتی، ظلی، شعاع اور تمنا نے بے حیائی اور فحاشی کی انتہا کر دی تھی۔ منشیات کے کالے دھن اور خرچی کی آمدنی نے ان عقل کے اندھوں کو انسان دشمنی کے مکروہ جرائم میں مبتلا کر دیا۔ زاد ولُدھیک اور ناصف بقال نے اپنی بد اعمالیوں سے زندگی کو پتھر کے زمانے کے ماحول میں پہنچا دیا۔ وقت کے اس سانحہ کو کیا نام دیا جائے کہ یہ جاہل اپنی جہالت کا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان موذی و مکار بگلا بھگت جنونیوں اور خون آشام دہشت گردوں کی شقاوت آمیز نا انصافیوں اور بے رحمانہ انتقامی کارروائیوں کے باعث کئی گھر بے چراغ ہو گئے۔ انسانیت کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری ان ننگ انسانیت درندوں کا وتیرہ تھا۔ ان مخبوط الحواس، فاتر العقل اور جنسی جنونی درندوں نے ہمیشہ خو دکو کہکشاں کا مکیں سمجھا  اور مظلوم انسانیت کو راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اسے زد جاروب کھانے پر مجبور کر دیا۔ ناصف بقال نے اگرچہ اپنے ضمیر کا گلا گھونٹ دیا تھا لیکن اس کے دل سے کبھی کبھی ایک ہوک سی اُٹھتی کہ اس کی ذلت، رُو سیاہی، تباہی اور جگ ہنسائی میں زادو لُدھیک، تارو،  عارو، رنگو، اکی، ظلی اور ثباتی کا قبیح کردا ر شامل ہے۔ معاشرے میں ان کو کالی بھیڑیں، گندے انڈے، سفید کوے اور عفونت زدہ غلیظ مچھلیاں سمجھا جاتا تھا اور یہ سب مردود خلائق تھے۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ناصف بقال اپنے ان قریبی احباب کے خلاف کچھ نہ کر سکا اور ایک خارش زدہ سگ راہ کے مانند ان کے تلوے چاٹتا رہتا۔ کُوڑے کے ڈھیر سے ذاتی مفادات کے استخواں نو چنے اور بھنبھوڑنے کی کر یہہ عادت اسے ورثے میں ملی تھی۔ بعض لوگو ں کا خیال ہے کہ زادو لدھیک اور ناصف بقال کے آباکاگھاس کھودنے اور کتے گھسیٹنے پر مدار تھا۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ سو پُشت سے ان کے آبا کا پیشہ گدا گری، منشیات فروشی رہزنی اور لوٹ مار تھا۔ ان کے گھروں کی عورتیں قحبہ خانے کی زینت بن کر خرچی کے ذریعے زر و مال سمیٹ لیتیں اور اپنے مردوں کے لیے عیاشی کا سامان فراہم کرتیں۔ ناصف بقال اور زادو لُدھیک کے سبز قدم جہاں بھی پڑتے وہاں ویرانی ڈیرے ڈال لیتی۔ ان کی صرف زبان ہی کالی نہیں تھی بل کہ بد اعمالیوں کے باعث ان کی رو سیاہی کی داستانیں بھی زبان زد عام تھیں۔  اس کے سارے ہم نوالہ و ہم پیالہ ساتھی اب اس سے نفرت کرتے تھے۔ ان موقع پرست فصلی بٹیروں نے ہمیشہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب طوطا چشم اور مارِ آستین ہیں اور ان کے ساتھ ربط رکھنا دہکتے ہوئے انگاروں سے کھیلنے کے مترادف تھا۔ اس کے باوجود وہ را جا اِندر بنا پریوں کے اکھاڑے میں دادِ عیش دیتا رہا۔ اپنی طویل زندگی میں اس نے آدمی کے لاکھوں رُوپ دیکھے، ہر وضع اور ہر قماش کے آدمی سے اُس کا پالا پڑا، چلتے پھرتے ہوئے مُردوں سے ملاقاتیں ہو تی رہیں لیکن وہ کسی ایک بھی معتبر انسان کو تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جو اس کا محرم راز بن سکے۔ اب وہ جان گیا تھاکہ وہ زندگی کے حقیقی شعور سے یکسر بے بہرہ ہے۔ اپنے شام و سحر کی کشتیوں کو سیل زماں کے مہیب تھپیڑوں کے باعث گرداب میں غرقاب ہوتا دیکھ کر وہ تڑپ اُٹھتا۔ اب وہ دشتِ جنوں میں تنہا بھٹک رہا تھا  اور سرابوں کے عذابوں میں کوئی اس کا پُرسانِ حال نہ تھا۔ اب اسے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ سیرِ جہاں کا حاصل حیرت و حسرت کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔ اب تو سفر کی دھُول ہی اس کا پیرہن بن گیا تھا۔
اس کی زندگی میں ہمیشہ نئی سے نئی ابتلا کا طوفان بپا رہا لیکن وہ ابتدا کی فکر و احتیاط اور انتہا کے کرب یا صدمات سے بے نیاز عشق و جنوں کے سرابوں میں سر گرداں رہا۔ اب اسے قضا کے ہاتھوں زندگی کا دریچہ بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا  اور خورشید محشر کی تیز شعاعوں نے اس کی نگاہوں کو خیرہ کر دیا تھا۔ وہ بار بار یہ سوچتا کہ وہم و گماں کے موسم میں اس کی ناکام زندگی اس طرح بکھر گئی جیسے خزاں کے مسموم ماحول میں بُور لدے چھتناروں کے خشک پتے ہر سُو بکھر جاتے ہیں اس کے قریۂ جاں میں اعصاب شکن سناٹوں، جان لیوا تنہائیوں، غیر مختتم رسوائیوں، جگ ہنسائیوں، رُو سیاہیوں، مسموم ہواؤں، موہوم تمناؤں اور تلخ یادوں کی خزاؤں نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ اب تو جگر کی آگ بجھانے والی مے انگبین اور ما اللحم سہ آتشہ اسے میسر نہ تھا۔ اس تشنگی اور جنسی بھوک سے اس کے اعصاب شل ہو چکے تھے اور وہ بہت خجل ہو رہا تھا۔ یاس و ہراس پر مبنی سوچییں اُ س کے لیے سوہان روح بن چکی تھیں۔ اسے یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایام گزشتہ کی یہ لرزہ خیز یادیں ہی اس کی روح قبض کر لیں گی۔ وہ ان خیالوں میں گم تھا کہ اچانک اس کے سامنے چڑیلیں، ڈائنیں اور پچھل پیریاں گھومنے لگیں۔ ان کے ساتھ دیو، بھوت اور آدم خور بھی تھے۔ اس نے غور سے دیکھا تو مافوق الفطرت عناصر کے ہجوم میں اسے کچھ پرانے آشنا چہرے بھی دکھائی دئیے ان میں  ظلی، ثباتی، تمنا، رنگو، زادو لُدھیک، اکی، عارو اور تارو بھی شامل تھے۔ اپنے حقیقی رُوپ میں یہ ننگ انسانیت درندے بہت خوف ناک دکھائی دے رہے تھے۔ اکثر غارت گر بندِ قبا اور لباس کے تکلف سے بے نیاز، شرم و حیا کو بارہ پتھر کر کے رقص کرتے ہوئے ایک دوسرے سے پیمان وفا باندھ رہے تھے۔ اس نے انھیں متوجہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کسی نے اس کی آہ و فغاں پر دھیان نہ دیا۔ چور محل میں جنم لینے والے مشکوک نسب کے سانپ تلے کے یہ بچھواس کے لیے مارِ آستین ثابت ہوئے۔ جنسی جنون، ہوس، کالے دھن اور عشق لا حاصل کے اندھے سفر میں وہ محرومیوں، مایوسیوں، ناکامیوں، نا مرادیوں اور  بربادیوں کے ابتلا میں صحرا کے ایک تنہا شجر کے مانند تھا جسے سمے کی دیمک نے چُپکے چُپکے اندر سے کھا کر کھوکھلا کر دیا تھا  اور اب اس میں کسی غنچے کے کھِلنے کی توقع نہ تھی۔ ا س کی زندگی کے خزاں رسیدہ بوسیدہ شجر پر بُوم، شپر، کرگس اور زاغ و زغن کا بسیرا تھا۔
ابھی وہ پریشانی کے عالم میں یہ سب مناظر دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نگاہ دور کھڑے الم نصیبوں اور جگر فگاروں پر پڑی۔ اس نے ان سب کہ پہچان لیا یہ سب وہی مجبور لوگ تھے جنھیں اس نے زندگی بھر بے پناہ اذیت اور عقوبت میں مبتلا رکھا۔ وہ اپنے دِل کو سِل بنا چُکا تھا  اور اس کے غیظ و غضب سے دُکھی انسانیت پر جو کوہِ ستم ٹُوٹا اس کے باعث ان مظلوموں کی روح زخم زخم اور دل کرچی کرچی ہو گیا۔ اس کے بے رحمانہ انتقام اور شقاوت آمیز نا انصافیوں نے ان مجبوروں کی اُمیدوں کی فصل غارت کر دی اور ان مظلوموں کی صبح و شام کی محنت اکارت چلی گئی۔ ان کی گریہ و زاری کو دیکھ کر وہ جان گیا کہ اس کے بہیمانہ سلوک کی وجہ سے گلستان میں جو بادِ صر صر چلی اس نے گلشنِ زیست کی کلیوں اور غنچوں کو جھُلسا دیا۔ اس کے جبر نے مجبوروں کی آہ و فغاں کو اس طرح مہیب سناٹوں کی بھینٹ چڑھا دیا کہ ان کے ہونٹوں کی مسکان تک چھین لی۔ بے وفائی اور پیمان شکنی سے لذتِ ایذا حاصل کرنا اس کا وتیرہ تھا یوں وہ جس شہر میں بھی گیا اسے مانندِ کُوفہ بنا دیا۔ اس کی خود غرضی اور ابن الوقتی ضرب المثل تھی یہاں تک کہ قیس جیسے رمیدہ ہجر گزیدہ کو بھی اس کے دست جفا کار نے بدن دریدہ بنا دیا۔ وہ سو چنے لگا کہ سیلِ زماں کے تھپیڑوں کے درد سے چکیدہ بے بس انسانیت اس کی ہوس ناکی کے باعث مکمل انہدام کے قریب پہنچ گئی۔  مصیبت کی اس گھڑی میں بار بار اس کے دل میں یہ خیال آتا کہ اس نے ہوس، جنسی جنون، حُسن و رومان، منشیات فروشی، چنڈو خانوں اور قحبہ خانوں کے گورکھ دھندوں بے حسی اور بے ضمیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ضمیر کا گلا گھونٹ کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اس نے قبضہ مافیا سے مل کر یتیموں، بیواؤں، بے نواؤں اور مظلوموں کی املاک پر ہاتھ صاف کیا۔ زندگی کی اقدار عالیہ اور درخشاں روایات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے میں اس کے قبیح کردار کو ہر شخص نے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ سب لوگ اسے موذی و مکار فرعون قرار دیتے تھے۔ اس نے کِشتِ دہقاں اور مفلوک الحال لوگوں کی عزت و آبرو لوٹ لی۔ وہ سوچنے لگا کہ اس کے بُغض و کینہ کے باعث لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ اس نے بے شمار لوگوں کی آرزوؤں کا خون کیا۔ وہ زندگی بھر ان قسمت سے محروم لوگوں کی شہ رگ کا خون پیتا رہا اور یہ جگر فگار لوگ لبِ اظہار پر تالے لگا کر خون تھوکتے رہے اور سد اخون کے آنسو پیتے رہے۔ اگرچہ ان مصیبت زدوں کے رفو گر ان کے چاک گریباں سیتے رہے لیکن اس نے ہمیشہ ان کے گریباں کو تار تار کیا اور ان کو معاشرتی زندگی میں زبون و خوار کیا۔ ان غریبوں کی آنکھیں ساون کے بادلوں کی طرح برستی رہیں مگر اس قدر بے حسی کا شکار تھا کہ کبھی ٹس سے مس نہ ہوا۔ ان میں کئی لوگ ایسے بھی تھے جو پنی فگار انگلیوں سے کچرے کے ڈھیر سے رزق تلاش کر کے پیٹ کی آگ بجھاتے تھے لیکن جبر کی اندھی قوت کو استعمال کر کے وہ ان ناتوانوں سے بھی بھتہ وصول کر کے اپنی آتشِ انتقام کو ٹھنڈا کرتا رہا۔ اس نے بشیر، منیر اور کئی ستم زدوں کو دیکھا جو اس کی نا انصافیوں اور مظالم کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے اور عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب سدھار گئے۔ ملک کے تمام اُجرتی قاتلوں اور پیشہ ور بد معاشوں کے ساتھ اس کے قریبی مراسم تھے۔ وہ سب کے ساتھ شریکِ جرم رہا  اور خوب گلچھرے اُڑائے یہ سب درندے اسے تنہا چھوڑ کر نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے، کسی نے اس کے شکستہ دل کا حال کبھی نہ پُوچھا۔ اس نے مظلوم لوگوں کو پُکار ا مگر سب نے نفرت سے اسے دیکھا اپنا دامن جھاڑا، آسمان کی طرف نگا ہ کی اور اپنی اپنی راہ لی۔ سب سوچ رہے تھے کہ خالق کائنات نے اب تک اس نمرود کے عرصۂ حیات کو کیوں بڑھا رکھا ہے۔ ایسے جو فروش گندم نمابُزِ اخفش کو تو اب تک مر جانا چاہیے۔ وہ یہ سوچ کو آہیں بھرنے لگا کہ اس کی زندگی اسی سمت جا رہی ہے جیسے شام ڈھلے طیور اپنے آشیانوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ اپنی زندگی کی شام کے وقت وہ موت کی آہٹ کو محسوس کر رہا تھا۔ جا نگسل تنہائیوں اور تاریک شب و روز کے بھیانک سناٹوں نے اُسے زندہ در گور کر دیا تھا۔ اب نہ تو اس کی کوئی امید بر آتی اور نہ ہی اسے مسموم حالات کے مہیب بگولوں سے بچ نکلنے کی کوئی صورت نظر آتی تھی۔
اب اس کی پرورش کرنے والے اس کے والدین اس کے سامنے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اس نو عمر لڑکے کو اس حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا کہ اس کے حقیقی والدین کا کسی کو علم نہیں۔ یہ بہت پُرانی بات ہے کہ سال ۱۹۴۶میں ممبئی کے ایک جاروب کش چنگڑو کو کوڑے کے ڈھیر سے چادر میں لپٹا ایک نو مولود بچہ ملا۔ ممبئی کے متمول اور معمر تاجر جوڑے روپن مل اور اس کی بیوی کا منی نے اسے گود لے لیا۔ گرد و نواح کے سب لوگ کہتے تھے کہ سانپوں کے بچے کبھی وفا نہیں کرتے خواہ انھیں اپنے ہاتھ کی چُلّی میں دودھ پلایا جائے اسی طرح انگور کی نرم و نازک بیل کو اگر کیکر پر چڑھا دیا جائے تو خارِ مغیلاں کی نشتر زنی سے انگور کا ہر خوشہ چھلنی ہو جاتا ہے۔ جب وہ جوان ہوا تو اس نے روپن مل اور کامنی کو ہلاک کر دیا اور ان کی لاشیں جلا دیں۔ اس نے سب کو یہ بتایا کہ یہ اموات چو لھا پھٹ جانے کے باعث ہوئیں۔ ان کی ساری جائیداد اب اس کی ملکیت تھی۔ اس نے اپنے محسنوں کو سوختہ بدنوں کے ساتھ دیکھا تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔ ان کا بے بسی کے عالم میں جل کر راکھ ہو جانا وہ کبھی بھلا نہ پایا۔ کامنی اور روپن مل نے اس کے سامنے رو رو کر جان بخشی کی التجا کی لیکن اس پر مطلق اثر نہ ہوا۔ وہ بھی آج اس کی طرف دیکھ کر نفرت سے منہ موڑ کر چلے گئے۔
اچانک ناصف بقال نے دیکھا کہ اس کے سامنے ایک پر اسرار شخص کھڑا ہے۔ اس نے کھا جانے والی نگاہوں سے اس شخص کو دیکھا۔ اس شخص نے بھی قہر بھری نگاہوں سے ناصف بقال کو گھورا اور نفرت کا اظہار کیا۔ کئی جوتشی، رمال اور نجومی اُسے بتا چکے تھے کہ ایک بھوت اور آسیب مسلسل اس کے تعاقب میں رہتا ہے۔ اس بھوت نے ناصف بقال کی زندگی کی رعنائیوں کو گہنا دیا ہے۔ کئی مندروں کی یاترا کرنے، مورتیوں کے سامنے سر جھکانے، صدقہ خیرات کرنے اور گنگا نہانے کے با وجود ناصف بقال اس بھوت اور آسیب سے چھُٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ آج اس کے سامنے یہ بھوت اپنے چہرے پر بھبھوت مل کر جس ڈھٹائی کے ساتھ کھڑا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر رہا تھا وہ اس کے لیے تشویش اور اضطراب کا باعث تھا۔ ناصف بقال اس نتیجے پر پہنچا کہ ہو نہ ہو یہی وہ بھوت ہے جس نے اس کی زندگی کو غم کا فسانہ بنا کر اسے دنیا کے آئینہ خانے میں تماشا بنا دیا ہے۔ ا س بھوت کی کا رستانی کی وجہ سے وہ نہ تو تین میں رہا اور نہ ہی تیرہ میں۔ اسے یقین ہو گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس بھوت کی سفاکی نے اسے جس اذیت اور عقوبت میں مبتلا کر رکھا ہے، اس کا انتقام لیا جائے۔ وہ عجیب الخلقت اور پُر اسرار بھوت ایک ناگہانی آفت کے مانند ناصف بقال کو مسلسل گھُور رہا تھا اور مسلسل اس کا منہ چِڑا رہا تھا۔ اس کے جواب میں ناصف بقال بھی اسے غیظ و غضب اور قہر بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اب ناصف بقال کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ جسمانی کمزوری اور شدید ذہنی دباؤ کے باوجود اس نے سمجھا کہ اب فیصلے کی گھڑ ی آ گئی ہے اور اس بھُوت کو منہ توڑ جواب دینا بہت ضروری ہے۔ یقیناً یہی وہ بھوت ہے جس کے بارے میں گزشتہ کئی برسوں سے نجومی، جوتشی اور رمال اسے متنبہ کرتے چلے آئے ہیں۔ اس نے اپنی پوری قوت کو مجتمع کیا، ایک لمبی جست لگائی اور ایک زور دار مکہ سامنے کھڑے بت کی گردن پر رسید کیا۔ ایک زور دار آواز سے سامنے دیوار پر لگا بہت بڑا قد آدم آئینہ ٹُوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔ نشے میں دھت ناصف بقال منہ کے بل آئینے کی کرچیوں کے ڈھیر پر جا گرا۔ شکستہ آئینے کی ایک لمبی اور تلوار کی طرح تیز کرچی اس بھیڑئیے کی شہ رگ پر پھر گئی۔ کمرے کے فرش پر عفونت زدہ سیاہ خون ہر طرف بہہ رہا تھا۔ وہ درندہ جو آتشِ سیّال سے زندگی بھر گرم رہا اب ہمیشہ کے لیے ٹھنڈا ہو چکا تھا۔

٭٭٭

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)