Showing posts with label URDU PROVERBS. Show all posts
Showing posts with label URDU PROVERBS. Show all posts

Monday, 26 June 2017

Baa ki kahawtain URDU PROVERBS,

ب ۔ کی کہاوتیں

(۱۳)  باسی کڑھی میں  اُبال آیا  :
 یہ کہاوت دو مختلف معانی میں  استعمال ہوتی ہے:

        (الف)   باسی کڑھی میں  اُبال بہت جلدی آتا ہے اور اُتنی ہی جلدی بیٹھ بھی جاتا ہے۔چنانچہ اگر کسی شخص کو غصہ بہت جلد آتا ہو اور ذرا سی دیر میں  اُتر بھی جاتا ہو تو اس کو ’’باسی کڑھی میں  اُبال ‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

        (ب)  پرانے اور بھولے بسرے قضئے یاد کر کے انھیں  فساد اور تفرقے کی بنیاد بنایا جائے تو اس وقت یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

۱۴)   باسی بچے، نہ کتّا کھائے  :
   یعنی چیز بالکل نپی تلی اور ضرورت کے عین مطابق ہو تاکہ ضائع نہ جائے۔ اس کی مثال ایسے کھانے سے دی گئی ہے جو نپا تلا پکایا جاتا ہے اور باسی ہو کر کتوں  کی نذر ہونے سے بچ رہتا ہے۔

۱۵)  بال برا  بر فرق نہیں   :
  یعنی دو چیزوں میں  ذَرّہ برابر بھی فرق نہیں  ہے، تقریباً  ایک ہی جیسی ہیں۔

 ( ۱۶ )  بال بال بچ گئے  :
  بال بال یعنی بہت کم، گویا بس بچ ہی گئے ورنہ نقصان یقینی تھا۔

۱۷ )  بال بال موتی پروئے   :
 سولہ سنگھار کئے،  بہت بنے سنورے۔

۱۸)  با مسلماں  اللہ اللہ، با برہمن رام رام  :
   یہ کہاوت خوش اخلاق اور وسیع القلب انسان کے بیان میں ہے کہ مسلمان سے ملتا ہے تو سلام یا اَللہ اَللہ کر لیتا ہے اور ہندو برہمن کو  رام رام کہہ کر سلام کر لیتا ہے۔



Baa ki kahawtain URDU PROVERBS,

ب ۔ کی کہاوتیں

۸)  بات لاکھ کی، کرنی خاک کی  :

    یعنی بات تو بہت بڑھا چڑھا کر کی لیکن کر کے کچھ بھی نہ دکھا یا۔ اسی مضمون کا شعر دیکھئے:

بہت شور سنتے تھے  پہلو میں  دل کا            جو چیرا  تو اِک قطرۂ خوں  نہ  نکلا

(۹)  بارہ برس دلّی میں  رہے اور بھاڑ جھونکا  :

  اگر کوئی شخص عرصہ تک اَچھے اِمکانات سے دوچار رَہے لیکن اُن سے کچھ حاصل نہ کرے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ دلّی کا ذکر وہاں  میسر معاشی امکانات اور اس کی تہذیبی مرکزیت کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔

۱۰ )  بارہ برس بعد گھورے کے بھی دن پھر جاتے ہیں   :

  گھورا یعنی کُوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ۔ وقت کے ساتھ اس مقام پر بھی کوئی کام کی چیز بن جاتی ہے۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ کب کسی بدقسمت آدمی کی قسمت بدل جائے گی۔کہاوت میں یہ نصیحت بھی مخفی ہے کہ کسی کو تحقیر سے نہیں  دیکھنا چاہئے کیونکہ کل اس کی حیثیت بدل سکتی ہے۔

۱۱ )  باڑھ کاٹے،  نام تلوار کا  :

  باڑھ یعنی  تلوار کی دھار۔ تلوا رکی کاٹ اُس کی باڑھ  ہی کرتی ہے لیکن نام تلوار کا ہوتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ کام تو کوئی اور کر رہا ہے لیکن نام کسی اور کا ہو رہا ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

۱۲)  باڑھ ہی جب کھیت کھائے تو رکھوالی کون کرے  :

  باڑھ یعنی وہ خاردار جھاڑی جو کھیت کے اِرد گرد اُس کو جانوروں  سے محفوظ رکھنے کے لئے لگائی جاتی ہے۔ جب مال کا چوکیدار ہی چوری کرنے لگے تو پھر کس کا بھروسا کیا جائے؟یہ کہاوت تب بولی جاتی ہے جب کوئی ایسا شخص دھوکا دے یا چوری کرے جس کو معتبر سمجھا گیا تھا۔


Friday, 23 June 2017

URDU PROVERBS, Baa ki kahawtain

ب ۔ کی کہاوتیں

 ( ۱)  با اَدب  با نصیب، بے اَدب بے نصیب  :
   کہاوت کے معنی اور موقع استعمال ظاہر ہیں۔ اَدب انسانی تعلقات کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر کوئی تعلق معتبر نہیں  ہے۔

(۲)  باپ سے بیر،  پُوت سے سگائی  :
   پُوت یعنی بیٹا، سگائی یعنی شادی۔ اگر کوئی شخص کسی سے تعلق منقطع کر لے لیکن اس کے قریبی عزیزوں  سے بدستور یگانگت رکھے تو یہ کہاوت بولتے ہیں ۔ اس کہاوت میں  طنز اور غصہ دونوں  کا پہلو نکلتا ہے۔

۳)   باپ مارے کا بیر ہے  :
     باپ مارے کا یعنی باپ کو قتل کرنے کا۔ گویا ایسی دشمنی ہے جیسے ایک شخص نے دوسرے کے باپ کو قتل کر دیا ہو۔

۴)  بات رہ جاتی ہے اور وقت گزر جاتا ہے  :
   وقت تو بہر حال گزر ہی جاتا ہے لیکن انسان کی کی ہوئی نیکی یا بدی اس کے بعد لوگوں  کو یاد رہ جاتی ہے۔ کہاوت میں نیک کام کرنے کی تاکید مخفی ہے۔

(۵)  بات کا بتنگڑ بنا دیا  :
   بتنگڑ یعنی بہت بڑی بات۔یعنی ذرا سی بات کو بڑھا چڑھا کر ایک ہنگامہ بر پا کر دیا۔ اسی مطلب کے لئے دو کہاوتیں  اور بولتے ہیں ’’ سوئی کا بھالا بنا دیا‘‘ اور ’’ رائی کا پربت بنا دیا‘‘۔

(۶)  بات بدلی، ساکھ بدلی  :
  آدمی کی زبان پر اس کی ساکھ قائم ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنی بات پر قائم نہ رہے تو اس کی ساکھ نہیں  رہتی۔

۷)  بات پوچھیں  بات کی جڑ پوچھیں   :
  کسی معاملہ کی کھوج میں  بال کی کھال نکالی جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔




Monday, 19 June 2017

Ta Ki Kahawatain , URDU PROVERBS

ت۔کی کہاوتیں
  ( ۲۵ )  تیلی خصم کیا پھر بھی روکھا کھایا  :
 خصم یعنی شوہر۔ تیلی شوہر سے امید ہوتی ہے کہ کھانا تیل میں  تَر ملا کرے گا لیکن اگر اس کے ہوتے ہوئے بھی روکھاسوکھاہی ملے تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ یعنی غلط کام بھی کیا اور مطلب پھر بھی پورا نہ ہوا۔یہی کہاوت کا مطلب ہے۔
( ۲۶ )  تیتر تو اپنی آئی مرا، تو کیوں  مرا بٹیر   :
  اپنی آئی مرا یعنی فطری موت کا شکار ہوا۔ گویا کہ تیتر تو اپنی فطری موت مر گیا لیکن اے بٹیر یہ بتا کہ تجھ کو کیا ہوا تھا جو تو بھی جان سے جاتا رہا؟  یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب لوگ دوسروں  کے مسائل میں  خواہ مخواہ الجھ کر  اپنے سر مصیبت مول لیتے ہیں  اور پھر شکایت کرتے ہیں۔
( ۲۷ ) تیسرے دن مردار حلال  :
 فاقے کی حالت میں  انسان کے لئے حرام شے بھی حلال ہو جاتی ہے۔ تین دن فاقوں  کی شرط کسی   طبی یا سائنٹفک بنیاد پر نہیں  قائم ہے۔ چونکہ فاقہ کی مدت کا تعین منظور تھا اس لئے تین دن کی مدت فرض کر لی گئی۔ہو سکتا ہے کہ کوئی کمزور اور بیمار آدمی تین دن کا فاقہ بھی برداشت نہ کر سکے۔ اس صورت میں  تین دن سے مراد اتنی مدت ہو گی جتنی میں  اُس کی جان جانے کا خطرہ ہو۔ یہ کہاوت تب بولی جاتی ہے جب حالات انسان کو ہر طرح کا کام کرنے پر مجبور کر دیں۔
( ۲۸ )  تین ٹانگ کا گھوڑا ہے  : 
تین ٹانگ کا گھوڑا یعنی ناکارہ۔ یہ کہاوت ناکارہ اور بے فیض آدمی کے لئے کہی جاتی ہے۔
(۲۹ ) تیلی کا تیل جلے، مشعلچی کا دل  :

 یعنی خرچ تو تیلی کا ہو رہا ہے اور دل جل رہا ہے مشعلچی کا جس کا کام صرف مشعل کو اٹھائے پھرنا ہے۔ زحمت اور خرچ کسی کا ہو رہا ہو لیکن اس کی تکلیف اور  شکایت کسی لا تعلق شخص کو ہو تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

URDU PROVERBS, Ta Ki Kahawatain

ت ۔ کی کہاوتیں

۳۰)  تیس مار خاں  بنتے ہیں   :
  عرف عام میں  تیس مار خاں  بہت بہادر آدمی کو کہتے ہیں  یعنی جو تیس آدمیوں  کو مارنے کی ہمت اور طاقت رکھتا ہو۔ یہ فقرہ ایسے شخص کے لئے طنزیہ استعمال کیا جاتا ہے جو ڈینگیں  تو بہت مارتا ہو لیکن جس میں  دم دُرود بالکل نہ ہو۔

۳۱ )  تیل نہ مٹھائی چولھے چڑھی کڑھائی  :
   یعنی کڑھائی تو چولھے پر چڑھا رکھی ہے لیکن اس میں  نہ تیل ہے اور نہ دوسرے لوازمات۔ گویا شور اور شیخی تو بہت ہے لیکن اصلیت کچھ بھی نہیں۔یہی کہاوت شیخی خور اور اپنے تئیں  تیس مار خاں  کے لئے کہی جاتی ہے۔






٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

URDU PROVERBS, Ta Ki Kahawatain

ت ۔ کی کہاوتیں

(۱۹ ) تھکا اونٹ سرائے کو تکتا ہے  :
  پرانے زمانے میں  اونٹ سفر کے لئے عام طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ریگستانی علاقوں  میں  اب بھی ہوتا ہے۔مسافروں کے آرام کے لئے جا بجا سرائے موجود تھیں  جہاں  کھانا پینا اور رات بسر کرنے کی سہولت کرایہ پر مل جاتی تھی۔ دن بھر سامان اور مسافر لاد کر سفر کرنے کے بعد تھکا ہارا اونٹ جب سرائے دیکھتا ہے تو منھ اٹھا اٹھا کر اسے تکتا ہے کہ اب تھوڑی دیر میں  شاید آرام مل سکے گا۔ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب کوئی شخص زندگی کا سفر تقریباً مکمل کر چکا ہو اور خود کو موت کے قریب محسوس کرتا ہو۔

(۲۰)  تھالی کا بینگن:
   تھالی میں  رکھا ہوا بینگن تھالی کے ڈھال کے رُخ لڑھک جاتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ہمیشہ حالات کا رخ دیکھ کر اپنے مفاد یا دوسروں کی خوشنودی کے پیش نظر کام کرے تو اس کو’’ تھالی کا بینگن‘‘ کہتے ہیں۔

(۲۱)  تھُوک سے ستّّو نہیں  سَنتا   :
 تھوک سے بہت تھوڑی مقدار مراد ہے۔ بھنے ہوئے چاولوں  یا چنوں  کا آٹا ستّو کہلاتا ہے۔غریب آدمی پانی میں  گھول کر اور گڑ یا شکر سے اس کو میٹھا کر کے پیٹ بھر لیا کرتے ہیں۔ ستو ساننے کے لئے کافی پانی چاہئے۔مطلب یہ ہے کہ بڑے کام کے لئے کوشش اور محنت بھی ایسی ہی ہونی چاہئے۔

(۲۲)  تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو  :
  یعنی ابھی تم نے دیکھا ہی کیا ہے،  بات تو پوری ہونے دو تب معلوم ہو گا۔

(۲۳)  تین میں  نہ تیرہ میں   :
 یعنی کسی شمار میں  نہیں  ہیں۔ بے مصرف شخص کے لئے کہا جاتا ہے۔

۲۴ ) تیری بات گدھے کی لات  :
  تیری بات ایسی ہی ہے جیسی گدھے کی لات کہ نہ بات سمجھے اور نہ آدمی پہچانے،  بس اندھا دھند چلا کرتی ہے۔ محل استعمال معنی سے قیاس کیا جا سکتا ہے۔




URDU PROVERBS, Ta Ki Kahawatain

ت ۔ کی کہاوتیں

۱۴ )  تندرستی ہزار نعمت ہے  :
   کہاوت کے معنی اور محل استعمال ظاہر ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر تندرستی نہ ہو تو دنیا کی ہر شے بے معنی اور بے مزا ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ ایک شعر کا دوسرا مصرع ہے    ؎

تنگدستی اگر نہ ہو سالکؔ   تندرستی ہزار  نعمت ہے

۱۵)  تو بھی رانی میں  بھی رانی، کون بھرے پنگھٹ کا پانی  :
  جب کسی کام کی پیروی میں  دو آدمیوں  کے درمیان اختلاف ہو کہ کون اس کو کرے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اگر دونوں  ہی اس کام کو اپنی حیثیت سے کم جانیں  تو وہ کام ہو ہی نہیں  سکتا۔ اسی بات کو کہاوت عورتوں  کی زبان میں  کہہ رہی ہے کہ جب دونوں  عورتیں  رانی ہیں  تو بھلا پنگھٹ پر پانی بھرنے کون جائے گا؟

۱۶ )  تو ڈال ڈال، میں  پات پات  :
  یعنی میں  تجھ سے کم نہیں ہوں،اگر تیرا نام ہر شاخ پر لکھا ہے تو میرا نام ہر پتّے پر لکھا ہوا ہے۔

(۱۷)  تَوے کی بوند ہو گیا  :
 جلتے توے پر پانی کی بوند ڈالئے تو وہ فوراً بھاپ بن کر اُڑ جاتی ہے گویا ایک بوند توے کو ٹھنڈا نہیں  کر سکتی۔ اسی رعایت سے کہاوت ایسی چیز کے لئے بولی جاتی ہے جو مقدار میں  ضرورت سے بہت کم ہو۔

۱۸ )  توے کی تیری،ہاتھ کی میری  :
   یعنی جو روٹی ابھی توے پر ہے وہ تیری ہے لیکن جو تیار ہو کر ہاتھ میں  آ چکی وہ میری ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ زیادہ فائدہ میرا اور تھوڑا تیرا۔ کہاوت خود غرض شخص کا حال بیان کر رہی ہے۔ اسی سے محل استعمال قیاس کیا جا سکتا ہے۔




URDU PROVERBS, Ta Ki Kahawatain

ت ۔ کی کہاوتیں

۷)  تلوار کا زخم بھر جاتا ہے، بات کا نہیں  بھرتا   :
   بات کا زخم بھرنے کو ایک عمر چاہئے اور بعض اوقات یہ بھی ناکافی ہوتی ہے۔

 (۸)  تمھارے نیوتے کبھی نہیں  کھائے  :
  نیوتا یعنی دعوت۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس فقط باتیں  ہی باتیں  ہیں ۔جب وقت پڑتا ہے تو آپ کی تہی دامنی کھل جاتی ہے۔

۹) تم روٹھے، ہم چھوٹے  :
  یعنی اگر تم نے ہم سے آنکھیں  پھیر لیں  تو پھر ہمارا تمھارا ساتھ بھی ختم ہو جائے گا۔

(۱۰)  تم اپنے حال میں  مست، ہم اپنی کھال میں مست   :
   یہ صبر و شکر کا اظہار بھی ہے اور ایسے شخص کی بات کا جواب بھی جو اپنی دولت کے نشہ میں  دوسروں کو کم تر سمجھتا ہو۔

(۱۱)  تمباکو کا پِنڈا ہے  :
 پِنڈا یعنی بدن۔ تمباکو کا پنڈا سیاہ فام شخص کو کہتے ہیں۔

۱۲ )  تن سکھی تو من سکھی  : 
 یعنی اگر تندرستی ہے تو دل بھی بشاش رہتا ہے۔ سالکؔ لکھنوی کا شعر اسی
مضمون کو بیان کرتا ہے:

تنگدستی اگر نہ ہو سالکؔ   تندرستی بہت غنیمت ہے

(۱۳ )  تن پر نہیں  لتّا،مسّی ملے البتہ  :
   لتّا یعنی پھٹا پرانا کپڑا۔مسّی ایک طرح کا سفوف ہوتا ہے جو پہلے زمانے میں  عورتیں  مسوڑھوں  پر ملتی تھیں۔ اس سے مسوڑھے سیاہ ہو جاتے تھے۔ خیال یہ تھا کہ کالے مسوڑھوں  میں  چمکتے ہوئے دانت خوبصورتی میں  اضافہ کریں  گے۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ مفلسی کاتو یہ حال ہے کہ تن ڈھکنے کو کپڑا میسر نہیں ہے لیکن دنیا کو دکھانے کے لئے مسّی کا سنگھار ضروری ہے۔گویا کہاوت چھچھورے پن کی مذمت کر رہی ہے۔




URDU PROVERBS, Ta Ki Kahawatain

ت ۔ کی کہاوتیں

(۱ ) تا تریاق از عراق آوردہ شود، مار گزیدہ مردہ شود  :
  پہلے زمانے میں  لوگوں کا خیال تھا کہ سانپ کا زہر ایک دَوا  تریاق سے  زائل کیا جا سکتا ہے۔ کہاوت کا ترجمہ ہے کہ جب تک عراق سے تریاق لایا جائے گا،سانپ کا کاٹا ہوا آدمی مر چکا ہو گا۔ لفظ عراق، تریاق کا ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے لایا گیا ہے اور دُور دَراز کے مقام کی علامت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں  کا خیال ہو کہ عراق کا تریاق سب سے اچھا اور زود اثر ہوتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کسی مسئلہ کے حل کے لئے دُور از کار باتیں  اور کارروائی کرو گے وہ مسئلہ ہاتھوں  سے نکل چکا ہو گا۔ کسی کام میں فضول دیر لگائی جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

۲ )  تدبیر کند بندہ، تقدیر زَند خندہ   :
 انسان تدبیر کیا کرتا ہے اور تقدیر اُس پر ہنستی رہتی ہے۔ گویا کام کا دارو مدار محض انسان کی تدبیر اور کوشش پر نہیں  ہے بلکہ قسمت بھی کوئی قوت ہے جو  تدبیر کو  ناکام بنا کر اپنے فیصلے الگ ہی دیا کرتی ہے۔

(۳ )  تری آواز مکے اور مدینے  :
 بارکباد، شکریے اور دعا کے طور پر بولتے ہیں۔یہ ایک شعر کادوسرا  مصرع ہے   ؎

مؤذن مرحبا بروقت بولا        تری آواز مکے اور مدینے

۴)  تگنی کا ناچ نچا دیا   :
  بری طرح پریشان کیا، عاجز کر دیا۔

(۵)  تل اوٹ، پہاڑ اوٹ  :
 یعنی نگاہوں  سے اوجھل ہو جانے والی چیز چاہے تل ایسی چھوٹی چیز کے نیچے ہی دب جائے بہت جلد ذہن و دماغ سے ایسے اُتر جاتی ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے پیچھے غائب ہو گئی ہو۔’’ آنکھ اوٹ، پہاڑ اوٹ‘‘ بھی اسی معنی میں  کہتے ہیں۔

۶) تل دھرنے کی جگہ نہیں   :
  یعنی جم غفیر ہے، آدمی پر آدمی چڑھا ہوا ہے۔



Sunday, 18 June 2017

URDU PROVERBS, AA Ki Kahawtain

آ-کی کہاوتیں
(۷۹ )  آئینہ میں  اپنا منھ تو دیکھو  :
            یعنی تم اس کے مستحق نہیں  ہو، نا اہل ہو۔

۸۰)  آئی تھی آگ کو، رہ گئی رات کو  :
  اس کہاوت میں  ایک بد اطوار عورت کا بیان ہے جوہمسایہ کے یہاں  آگ لینے گئی اور پھر رات وہیں  رُک گئی۔ اس حوالے سے یہ کہاوت تب بولی جاتی ہے جب کوئی شخص کسی اچھے کام کی نیت ظاہر کرے لیکن پھر موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے مفاد کا کوئی دوسرا  نا مناسب اور گھٹیا کام کر گزرے۔

۸۱)  آئی تو روزی، نہیں  تو روزہ  :    
   یعنی شدید غربت ہے۔ کسی دن کچھ کما لیا تو روٹی کا سہارا  ہو گیا ورنہ فاقہ ہی کرنا ہو گا۔

۸۲ )  آئی گئی میرے ہی سر  : 
            آئی گئی یعنی ہر مصیبت یا الزام۔گویا ہم ایسے بد قسمت ہیں  کہ سارا الزام ہمارے ہی سر آتا ہے۔

(۸۳ )  آئے کی خوشی نہ گئے کا غم  :
             بے نیازی کے اظہار کے لئے کہتے ہیں  یعنی اگر کوئی ملنے آ جائے تو اُس کی آمد سے خوشی نہیں  ہوتی اور اگر کوئی چلا جائے تو اس کی جدائی کا غم نہیں  ہوتا۔


URDU PROVERBS, AA Ki Kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں
۷۲ )  آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل  :
            اگر کوئی شخص کچھ دنوں  کے لئے نظر نہ آئے تو لوگ اس کو بھول جاتے ہیں  جیسے وہ کسی پہاڑ کی  اوٹ میں  جا بیٹھا ہے۔

 ( ۷۳) آنکھ بچی مال دوستوں  کا  :
            دوسروں  کے مال پر نیت خراب کرنے پر کہا جاتا ہے یعنی اِدھر مالک کی نگاہ چوکی اور اُدھر لوگ  مال لُوٹ کر چل دئے۔

۷۴)  آنکھوں کی برائی بَھوں  کے آگے  :
            آنکھ اور بَھوں  کا بہت قریبی ساتھ ہے۔ ایک دوست کی برائی دوسرے دوست سے کرنا گویا آنکھ کی برائی بھوں  کے آگے کرنے کے مترادف ہے۔

۷۵)  آنکھوں  کا پانی مر گیا ہے:
  بے شرم یا بے حیا ہو گیا ہے۔ کسی کی شرم نہیں  رہ گئی۔

۷۶ )  آنکھوں  دیکھا نہ کانوں  سنا  :
  ایسی انہونی بات جو اس سے پہلے کسی نے نہ تو دیکھی ہو اور نہ ہی سنی ہو۔

۷۷ )  آنکھوں  پر ٹھیکر ی رکھ لی  :
            ٹھیکری یعنی ٹوٹے گھڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا جو ہلکا بھی ہوتا ہے اور چپٹا بھی۔ مطلب یہ ہے کہ مسئلہ سے جان بوجھ کر انجان بن گئے ہیں  یا بے غیرتی اختیار کر لی۔ محل استعمال ظاہر ہے۔

 ( ۷۸ ) آوے کا آوا خراب ہے  :
   اینٹیں  جب بھٹے میں  جلائی جاتی ہیں  تو ان کی کھیپ یا گھان کو آوا کہتے ہیں۔ آوے میں  اچھی بری سبھی طرح کی اینٹیں  تیار ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی یوں  بھی ہوتا ہے کہ آوے کی ساری اینٹیں  خراب نکل جاتی ہیں۔ اسی مناسبت سے اگر آدمیوں کا کوئی گروہ  یا پورا خاندان بد قمار اور خراب اشخاص پر مشتمل ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔



URDU PROVERBS, AA Ki Kahawtain

آ۔ کی کہاوتیں
۶۷)  آنا نہ پائی،نری پاؤں  گِھسائی  :
            پہلے زمانے میں  ایک روپیہ میں سولہ آنے ہوتے تھے، ایک آنے میں  چار پیسے اور ایک پیسے میں  تین پائی۔اس طرح پائی ایک نہایت کم قیمت سکہ ہوا۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ یہ ایسا کام ہے جس میں  دوڑ دھوپ بہت ہے لیکن بالکل بے کار و بیسودکیونکہ اس میں  کچھ ملنا ملانا نہیں  ہے۔

۶۸ )  آندھی کے آم  :
            آندھی میں  درخت سے پکے ہوئے جو آم گر جائیں  وہ ہر آنے جانے والے کے لئے مفت کی ضیافت ہیں۔ چنانچہ مفت کی چیز کو آندھی کے آم کہا جاتا ہے۔

(۶۹)  آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ  :
            اگر کوئی نظروں سے کچھ دنوں  کے لئے غائب ہو جائے تو لوگ اس کو بہت جلد ایسے بھول جاتے ہیں  جیسے وہ کسی پہاڑ کے پیچھے جا کر چھپ گیا ہو۔اسے’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ بھی کہتے ہیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

۷۰ ) آنکھیں  ہو گئیں  اوٹ، دل میں  آئی کھوٹ  :
  کوئی شخص تھوڑی سی دیر کے لئے بھی نظروں  سے غائب ہو جائے تو اس کے مال کی جانب لوگ بری نظروں  سے دیکھنے لگتے ہیں کہ کسی طرح اس پر قبضہ کر لیا جائے۔

۷۱)  آنکھ کے آگے ناک، سوجھے کیا خاک  :
  یعنی آنکھوں  پرتو پردہ پڑا ہوا ہے،پھر نظر کیسے آسکتا ہے؟ ایک لطیفہ اس کہاوت سے منسوب ہے۔ ایک نکٹے نے لوگوں  کے طعنوں  سے عاجز ہو کر یہ کہنا شروع کیا کہ اس کو اللہ نظر آتا ہے۔لوگوں  نے جب پوچھا کہ ’’ہمیں  کیوں  نظر نہیں  آتا؟‘‘ تو اس نے جواباً کہا کہ ’’تمھاری آنکھوں کے آگے ناک کی آڑ لگی ہوئی ہے جو اللہ کو دیکھنے کی راہ میں  حائل ہے۔‘‘ کچھ بے وقوف لوگوں  نے اس کی باتوں  میں  آ کر اپنی ناک کٹوا لی لیکن اللہ پھر بھی نظر نہیں آیا۔ نکٹے نے ان سے کہا کہ ’’بہتر یہ ہے کہ تم بھی میری ہاں  میں  ہاں  ملاؤ ورنہ دُنیا تمھاری حماقت پرہنسے گی۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور چند اور لوگوں  نے ناکیں  کٹوا لیں۔




Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)