Showing posts with label Mazameen. Show all posts
Showing posts with label Mazameen. Show all posts

Tuesday, 28 November 2017

Eid Milad-un-Nabi by Mufti Mohammad Taqi Usmani sab

جشن میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم ایک لمحہٴ فکریہ
مفتی محمد تقی عثمانی
12/ ربیع الاول کو عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم منانے کارواج کچھ عرصہ سے مسلسل چلا آرہا ہے، چوں کہ عہد صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین اور قرون اولیٰ میں اس ”عید“ کا کوئی پتا نشان نہیں ملتا۔ اس لیے اکابر علمائے حق ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ دن منانے کی رسم ہم میں عیسائیوں اور ہندوؤں سے آئی ہے، تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ملتی، لہٰذا اس رسم کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، مسلمانوں کااصل کام یہ ہے کہ وہ ان رسمی مظاہروں کے بجائے سرکار دوعالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہوں اور ایک دن میں عید میلاد مناکر فارغ ہوجانے کے بجائے اپنی پوری زندگی کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کی فکر کریں۔
یہ علمائے دیوبند اور علمائے اہل حدیث کا موقف تھا اور بریلوی مکتب فکر کے حضرات اس سے اختلاف کرتے تھے، لیکن اب چند سال سے جو صورت حال سامنے آرہی ہے، اس میں یہ مسئلہ صرف دیوبندی مکتب فکر کا نہیں رہا، بلکہ ہر اس مسلمان کا مسئلہ بن گیا ہے جو سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی عظمت و محبت اور حرمت و تقدیس کا کوئی احساس اپنے دل میں رکھتا ہو، اب صرف علمائے دیوبند اور علمائے اہل حدیث ہی کو نہیں، بلکہ علمائے بریلی کو بھی اس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے کہ جشن عیدمیلاد النبی صلی الله علیہ وسلم کے نام پر یہ قوم دینی تباہی کے کس گڑھے کی طرف جارہی ہے؟ کیوں کہ جن حضرات نے ابتدا میں محفل میلاد وغیرہ کو مستحسن قرار دیا تھا، ان کے چشم تصور میں بھی غالباً وہ باتیں نہیں ہوں گی جو آج ”جشن میلادالنبی صلی الله علیہ وسلم“ کا جزوِ لازم بنتی جارہی ہیں۔
شروع میں محفل میلاد کا تصور ایک ایسی مجلس کی حد تک محدود تھا جس میں سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان کیا جاتا ہو، لیکن انسان کا نفس اس قدر شریر واقع ہوا ہے کہ جو کام وحی کی راہ نمائی کے بغیر شروع کیا جاتا ہے، وہ ابتدا میں خواہ کتنا مقدس نظر آتا ہو، لیکن رفتہ رفتہ اس میں نفسانی لذت کے مواقع تلاش کرلیتا ہے اور اس کا حلیہ بگاڑ کر چھوڑتا ہے، چناں چہ اب الله کے محبوب ترین پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے مقدس نام پر جو کچھ ہونے لگا ہے، اسے سن کر پیشانی عرق عرق ہوجاتی ہے۔
ہر سال ”عید میلاد النبی“ کے نام سے صرف کراچی میں ظلم وجہالت کے ایسے ایسے شرم ناک مظاہرے کیے جاتے ہیں کہ ان کے انجام کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے، مختلف محلوں کو رنگین روشنیوں سے دلہن بنایا جاتا ہے اور شہر کے تقریباً تمام ہوٹلوں میں عید میلاد اس طرح منائی جاتی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر لگاکر بلند آواز سے شب و روز ریکارڈنگ کاطوفان برپا رہتا ہے۔ بہت سے سینما ”عیدمیلاد کی خوشی میں“ سینکڑوں بلب لگا کر ان اخلاق سوز اور برہنہ تصویروں کو اور نمایاں کردیتے ہیں جو اپنی ہر ہر ادا سے سرکار دوعالم صلی الله علیہ وسلم کے احکام کی نافرمانی کی برملا دعوت دیتی ہیں اور انہی مقامات پر انسانیت کی تصویروں کے سائے میں شاید تبرک کے خیال سے خانہ کعبہ اور روضہ اقدس کی تصویریں بھی چسپاں کردی جاتی ہیں، ایک محلہ میں قدم قدم پر روضہ اطہر اور مسجد نبوی کی شبیہیں بناکر کھڑی کی جاتی ہیں، جنہیں کچھ بے فکرے نوجوان ایک تفریح گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور کچھ بے پردہ عورتیں انہیں چھو چھوکر ”خیر و برکت“ حاصل کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ جب پورے محلہ کو روشنیوں میں نہلاکر، جگہ جگہ محرابیں کھڑی کرکے اور قدم قدم پر فلمی ریکارڈ بجاکر ایک میلے کا سماں پیدا کردیا جائے تو پھر عورتیں اور بچے ایسے میلے کو دیکھنے کے لیے کیوں نہ پہنچیں جس میں میلے کا لطف بھی ہے اور (معاذ الله) تعظیم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ثواب بھی؟! چناں چہ راتوں کو دیر تک یہاں تفریح باز مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایسا مخلوط اجتماع رہتا ہے جس میں بے پردگی، غنڈہ گردی اور بے حیائی کو کھلی چھوٹ ملی ہوتی ہے۔
راقم الحروف ایک روز اس محلے سے گزرتے ہوئے یہ دل دوز مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور اس آیت قرآنی کے تصور سے روح کانپ رہی تھی، جس کا ترجمہ یہ ہے:
” اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرلو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنارکھا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا ہے اور اس قرآن کے ذریعے ان کو نصیحت کرو، تاکہ کوئی شخص اپنے کیے میں اس طرح گرفتار نہ ہوجائے کہ الله کے سوا اس کا کوئی حمایتی اور سفارش کرنے والا نہ ہو اور اگر وہ دنیا بھر کا معاوضہ دے ڈالے تب بھی نہ لیا جائے، یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے کیے میں گرفتارہوئے، ان کے لیے کھولتا ہوا پانی پینے کے لیے ہوگا اور کفر کے سبب دردناک سزا ہوگی۔“
الله تعالیٰ ہر مسلمان کو اس آیت کا مصداق بننے سے محفوظ رکھے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس محلے سے گزرتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے خاتم النبین صلی الله علیہ وسلم کا لایا ہوا دین پکار پکار کر یہ فریاد کررہا ہے کہ ”محمد عربی صلی الله علیہ وسلم کے نام لیواؤ! تم گم راہی اور بے حسی کے کس اندھے غار میں جاگرے ہو؟ کیا سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کے احسانات کا بدلہ یہی ہے کہ انہی کی محبت و عظمت کے نام پر ان کی ایک ایک تعلیم کو جھٹلاؤ؟ ان کے ایک ایک حکم کی نافرمانی کرو؟ اور ان کی یاد منانے کے بہانے جاہلیت کی ان تمام رسموں کو زندہ کرکے چھوڑو جنہیں اپنے قدموں تلے روندنے کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تھے؟ خدا کے لیے سوچو کہ جس ذات کو سازورباب اور چنگ و بربط کے توڑنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا، اس کے ”جشن ولادت“ میں ساز ورباب سے کھیل کر تم کس غضب الٰہی کو دعوت دے رہے ہو؟ جس ذات نے عورت کے سر پر عفت و عصمت کا تاج رکھا تھا اور جس نے اس کے گلے میں عزت و آبرو کے ہارڈالے تھے، اس کی محبت و تقدیس کے نام پر تم عورت کو بے پردگی اور بے حیائی کے کس میلے میں کھینچ لائے ہو؟ جس ذات نے نام و نمود، ریا و نمائش، اسراف و تبذیر سے منع کیا تھا، یہ نمائشیں منعقد کرکے تم کس کی خوش نودی حاصل کرنا چاہتے ہو؟ اگر دین کی کوئی صحیح خدمت تم سے نہیں ہوسکتی، اگر تم اپنی عام زندگی میں الله کی نافرمانیوں کو ترک نہیں کرسکتے، اگرمحمد عربی صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات تمہارے عیش پرست مزاج کوبار معلوم ہوتی ہیں، توتمہاری زندگی کے بہت سے شعبے اس عیش پرستی کے لیے کافی ہیں، خدا کے لیے الله کے محبوب ترین پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے نام پر ہوا و ہوس کا یہ بازار لگاکر اس نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کا مذاق تو نہ اڑاؤ، اس کے تقدس اور پاکیزگی کے آگے فرشتوں کی گردنیں بھی خم ہوجاتی ہیں، اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کے ایک ایک حکم کی نافرمانی کرنے کے بعد تم کس چیز کی خوشی میں اپنے درودیوار پر چراغاں کررہے ہو؟ کیا تمہیں اس بات کی خوشی ہے کہ تم نے اپنی عملی زندگی میں اس دین برحق کی کوئی قدر صحیح سالم نہیں دیکھی؟“ لیکن عیش و نشاط کی گونجتی ہوئی محفلوں میں کون تھا جو دین مظلوم کی اس فریاد کو سن سکتا؟
جن لوگوں کا مقصد ہی اس قسم کے ہنگاموں سے عیش و نشاط کا سامان پیدا کرنا ہے، ان کا تو کوئی ذکر ہی نہیں، لیکن جو لوگ واقعتاً آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم و محبت ہی کے خیال سے اس قسم کے جشن مناتے ہیں، وہ بھی یہ بات فراموش کررہے ہیں کہ اسلام اور اکابر اسلام کو دوسرے مذاہب اور ان کے پیشواؤں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام نے جہاں ہمیں ان کی تعظیم اور ان کے تذکرے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے، وہاں ہمیں اس کا طریقہ بھی بتایا ہے، یہ وہ دین حق ہے جو ہمیں دوسرے مذاہب کی طرح رسمی مظاہروں میں الجھانے کے بجائے زندگی کے اصلی مقصد کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس کے لیے یہ اکابر اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔ ورنہ اگر اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ان رسمی مظاہروں کی طرح جانا جاتا تو آج ہم اس بات پر فخر محسوس نہ کرسکتے کہ ہمارا دین بفضلہ تعالیٰ اسی شکل میں محفوظ ہے جس شکل میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اسے لے کر دنیا میں تشریف لائے تھے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی مذہب کے پیروکار محض ظاہری رسموں اور نمائشوں میں الجھ جاتے ہیں تو رفتہ رفتہ اس مذہب کی اصل تعلیمات مٹتی چلی جاتی ہیں اور بالآخر بے جان رسوم کا ایک ایسا ملغوبہ باقی رہ جاتا ہے جس کا مقصد انسانی نفسانی خواہشات کی حکم رانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور جو مادہ پرستی کی بدترین شکل ہے، ان تمام تقریبات کا اصل مقصد تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کے ذریعہ وہ خاص شخصیت یا وہ خاص واقعہ ذہن میں تازہ ہو جس کی یاد میں وہ تقریب منعقد کی جارہی ہے اور پھر اس سے اپنی زندگی میں سبق حاصل کیا جائے، لیکن انسان کا نفس بڑا شریر واقع ہوا ہے، اس نے ان تہواروں کی اصل روح کو تو بھلا کر،نابود کردیا اور صرف وہ چیزیں لے کر بیٹھ گیا جس سے لذت اندوزی اور عیش پرستی کی راہ کھلتی تھی۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے ہوسکے گی۔
عیسائی قومیں ہر سال 25دسمبر کو کرسمس کا جشن مناتی ہیں، یہ جشن دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جشن ولادت ہے اور اس کی ابتدا اسی مقدس انداز سے ہوئی تھی کہ اس دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی تعلیمات کو لوگوں میں عام کیا جائے گا، چناں چہ ابتدا میں اس کی تمام تقریبات کلیسا میں انجام پاتی تھیں اور ان میں کچھ مذہبی رسوم ادا کی جایا کرتی تھیں، رفتہ رفتہ اس جشن کا سلسلہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا؟ اس کی مختصر داستان، جشن وتقریبات کی ایک ماہر مصنفہ ہیرزلٹائن ہے، اس سے سنیے، وہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ ”کرسمس“ میں لکھتی ہیں:
”کئی صدیوں تک کرسمس خالصتاً ایک کلیسا کا تہوار تھا، جسے کچھ مذہبی رسوم ادا کرکے منایا جاتا تھا، لیکن جب عیسائی مذہب بت پرستوں کے ممالک میں پہنچا تو اس میں ”سرمانی نقطہ انقلاب“ کی بہت سی تقریبات شامل ہوگئیں اور اس کا سبب گریگوری اعظم (اول) کی آزاد خیالی اور اس کے ساتھ مبلغین عیسائیت کا تعاون تھا، اس طرح کرسمس ایک ایسا تہوار بن گیا جو بیک وقت مذہبی بھی تھا اور لادینی بھی، اس میں تقدس کا پہلو بھی تھا اور لطف اندوزی کا سامان بھی۔“
اب کرسمس کس طرح منایا جانے لگا؟ اس کو بیان کرتے ہوئے میری ہیرزلٹائن لکھتی ہیں:
”رومی لوگ اپنی عبادت گاہوں اور اپنے گھروں کو سبز جھاڑیوں اور پھولوں سے سجاتے تھے، ڈرائڈس (پرانے زمانے کے پادری) بڑے تزک و احتشام سے امربیلیں جمع کرتے اور اسے اپنے گھروں میں لٹکاتے، سیکسن قوم کے لوگ سدابہار پودے استعمال کرتے۔“
انہوں نے آگے بتایا ہے کہ:
”کس طرح شجر کرسمس( Chirstmas Tree) کا رواج چلا، چراغاں اور آتش بازی کے مشغلے اختیار کیے گئے، قربانی کی عبادت کی جگہ شاہ بلوط کے درخت نے لے لی، مذہبی نغموں کی جگہ عام خوشی کے نغمے گائے گئے اور : ”موسیقی کرسمس کا ایک عظیم جزو بن گئی۔“
مقالہ نگار آگے رقم طراز ہے:
”اگرچہ کرسمس میں زیادہ زور مذہبی پہلو پر دیا گیا تھا، لیکن عوامی جوش و خروش نے نشاط انگیزی کو اس کے ساتھ شامل کرکے چھوڑا۔“
اور پھر… ”گانا بجانا، کھیل کود، رقص، ناٹک بازی اور پریوں کے ڈرامے تقریبات کا حصہ ہوگئے۔“ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ص، 642۔اے ج 5، مطبوعہ1950ء مقالہ “کرسمس“)
ایک طرف کرسمس کے ارتقاء کی یہ مختصر تاریخ ذہن میں رکھیے اور دوسری طرف اس طرز عمل پر غور کیجیے، جو چند سالوں سے ہم نے جشن عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم منانے کے لیے اختیار کیا ہوا ہے، کیا اس سے یہ حقیقت بے نقاب نہیں ہوتی کہ:
ایں رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است
اسلام اس عالم الغیب کا مقرر کیا ہو ادین ہے جو اس کائنات کے ذرہ ذرہ سے باخبر ہے اور جس کے علم محیط کے آگے ماضی، حال اور مستقبل کی سرحدیں بے معنی ہیں، وہ انسانی نفس کی ان فریب کاریوں سے پوری طرح واقف ہے جو تقدس کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کو گم راہ کرتی ہیں، اس لیے اس نے خاص خاص واقعات کی یادگار قائم کرنے کے لیے ان تمام طریقوں سے پرہیز کا حکم دیا ہے، جو ان کی اصل روح کو فنا کرکے انہیں عیش و عشرت کی چند ظاہری رسوم کے لیے بہانہ بناسکتے ہوں، چناں چہ صحابہ رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین اور تابعین کے دور میں ہمیں کہیں نظر نہیں آتا کہ انہوں نے سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کی ولادت باسعادت جیسے عظیم الشان واقعہ کا کوئی دن منایا ہو، اس کے برخلاف ان کی تمام تر توجہات آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنانے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے پیغام کو پھیلانے کی طرف مرکوز رہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے پر بھی ہم مسلمان بیٹھے ہیں اور اگر اسلام پر عمل کرنا چاہیں تو یہ دین ٹھیک اسی طرح محفوظ ہے جس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان تک پہنچایا تھا۔
لہٰذا اگر ہم اپنے اسلاف کے اس طرز عمل کو چھوڑ کر غیر مسلم اقوام کے دن منانے کے طریقے کو اپنائیں گے تو مطلب یہ ہوگاکہ ہم دین کے نام پر کھیل تماشوں کے اسی راستے پر جارہے ہیں جس سے اسلام نے بڑی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہمیں بچایا تھا، آپ کو معلوم ہے کہ اسلام نے غیر مسلم اقوام کی مشابہت سے پرہیز کرنے کی جابجا انتہائی تدبیر کے ساتھ تلقین فرمائی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ عاشورہ محرم کا روزہ، جو ہر ا عتبار سے ایک نیکی ہی نیکی تھی، اس میں یہودیوں کی مشابہت سے بچانے کے لیے یہ حکم دیا گیا کہ صرف دس تاریخ کا روزہ نہ رکھا جائے، بلکہ اس کے ساتھ نو یا گیارہ تاریخ کا روزہ بھی رکھا جائے، تاکہ مسلمانوں کا روزہ عاشورہٴ یہود سے ممتاز ہوجائے۔
غور فرمائیے کہ جس دین حنیف نے اس باریک بینی کے ساتھ غیر مسلم اقوام کی تقلید، بلکہ مشابہت سے بچانے کی کوشش کی ہے، اس کو یہ کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ سرور کائنات صلی الله علیہ وسلم کا یوم پیدائش منانے کے لیے ان کی نقالی شروع کردی جائے جنہوں نے اپنے دین کو بگاڑ بگاڑ کر کھیل تماشوں میں تبدیل کردیا ہے؟
مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر ہم اپنے ملک کے تمام علماء، دینی راہ نما، مذہبی جماعتوں اور با اثر مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں، ہماری یہ اپیل صرف اہل حدیث اور دیوبندی مکتب فکر کے حضرات کی حد تک محدود نہیں، بلکہ ہم بریلوی مکتب فکر کے حضرات سے بھی یہی گزارش کرنا چاہتے ہیں ”عید میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم“ کے نام پر جو الم ناک حرکتیں اب شروع ہوگئی ہیں، وہ یقینا ان کو بھی گوارا نہیں ہوں گی۔

Sunday, 13 August 2017

Us Ki Demand Thi K Darhi Shiv karo

"اسکی یہ ڈیمانڈ ہے کہ تم داڑھی شیو کر لو تو پھر ہی وہ شادی کرے گی"، عمر کہ امی اسکے قریب آ بیٹھی تھیں۔
عمر کو یہ خبر سن کر دھچکا سا لگا۔ ساتھ ہی دل پر تکلیف کا ایک بھاری بوجھ آن گرا،

"کیا؟؟؟
یہ سعدیہ نے کہا۔۔؟؟"، اسے جیسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ شادی کو صرف ایک ہفتہ رہ جانے پر منگیتر کی طرف سے ایسی بات سننا۔۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ اب دل میں جگہ بن چکی ہو، محبت سی محسوس ہونے لگی ہو۔۔ تکلیف کا عالم ناقابلِ بیاں تھا۔

"ہاں بیٹا، مجھے بھی یقین نہیں آ رہا تھا، اس لیے خود اس سے ہی پوچھ کر آ رہی ہوں۔
میری مانو تو اسکی مان لو۔ کیا ہے اس میں۔ ایک داڑھی ہی کی تو بات ہے۔ آجکل تو لوگ دو ٹکے کی جاب کے لیے بھی داڑھی چھوڑ دیتے ہیں، تو تمہارا تو پوری زندگی کا سوال ہے بیٹا۔ اتنی اچھی لڑکی ہے، پڑھی لکھی، خوبصورت ، جوان، اچھا خاصا خاندان ہے، خود وہ ڈاکٹر ہے، اور کیا چاہیے۔۔ اب ضد نہ کرنا بیٹا"، سارہ صاحبہ بیٹے کو سمجھانے لگیں۔

پہلے منگیتر، اب ماں۔۔ اور کس کس کا مقابلہ کرنا پڑنا تھا۔ عمر کا صدمے سے حلق گھُٹنے لگا تھا۔
"امی جان۔۔ جب اس نے مجھے پہلے قبول کیا تھا تو اس داڑھی کے ساتھ ہی کیا تھا۔ آج اگر ڈاکٹر بن کر اسکی سوچیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں"، دل غم سے چُور چُور تھا۔

* * * * *

"ایک طرف دل ہے، اور دوسری طرف ایمان۔۔
ایک جانب دنیا قدموں میں ہے، اور دوسری جانب اللہ۔۔
ایک رستہ دل پسند زندگی کی طرف جاتا ہے، اور ایک ہجر کی تنہائیوں کی طرف۔۔"، عمر سُنسان پارک میں بیٹھا خود سے مخاطب تھا۔ آج بہت بڑا امتحان لے لیا تھا اس سے اس کے رب نے۔ آج پتا چلنا تھا جو دین دین کے نعرے لگانے والا عمر تھا وہ واقعی دل سے ایمان لایا تھا یا رب سے محبت کے سارے دعوے کھوکھلے تھے۔

عمر کے زہین سے پرانی، خوبصورت یادیں گزرنے لگیں۔
وہ جب پہلی مرتبہ سعدیہ کے گھر گئے تھے۔ جب رشتے کے لیے ہاں ہوئی تھی۔ دوستوں کا شادی کی خبر پر چھیڑ چھاڑ، ہنسی مزاق۔۔۔
عمر کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔۔

"ایک داڑھی کی بات نہیں ہے۔۔
میری پوری آخرت کی بات ہے۔۔"، پلکوں پر کچھ قطرے نمودار ہوئے۔

"اللہ اکبر، اللہ اکبر۔۔"، قریبی مسجد سے اذان گونجنے لگی۔

"اللہ اکبر۔۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔۔
اف !! بےشک اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے پہلے بھی ہے، اور سب خواہشات سے اوپر بھی ہے۔۔"،عمر دل ہی دل میں بےاختیار کہہ اٹھا۔

"آج مجھے بھی ایک بدر لڑنی ہے۔۔ ایک اُحد پر قربان ہونا ہے۔۔۔ پر میری دفعہ میدان میرا دل بنا ہے۔۔
ہر خواہش قربان ہے تُجھ پر میرے اللہ۔۔ اس دل پر آج میں خود چھُری چلا دوں گا۔۔"، دُکھ سے آواز رند گئی

* تم کیا جانو کہ ادائے ابراہیمی کیا ہے
رب کی رضا کی خاطر خود کا دل دُکھا دینا *

* * * * * * *

(ایک سال بعد۔۔)

"آئیں نا پہلے کھانا کھا لیں پلیز۔۔"، آمنہ محبت سے اپنے شوہر سے گویا تھی۔

"ابھی ایک گھنٹے تک کچھ نہیں کر سکتا آمنہ، آج واقعی بہت کام ہے"، عمر نے لیپ ٹاپ تھوڑا اور قریب کرتے ہوا جواب دیا۔

"۔۔میں نے بھی ابھی تک کچھ نہیں کھایا کہ آپ کے ساتھ ہی کھاؤں گی۔۔"، آمنہ نے کچھ دیر خاموشی سے پاس بیٹھنے کے بعد دھیمی سی آواز میں کہا۔

"کیا۔۔؟ ارے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔؟؟"، عمر نے سب کام چھوڑ کر اپنا رُخ پوری طرح اپنی بیوی کی جانب پھیر لیا۔

"۔۔اور اب بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔"، آمنہ نے سوال نظر انداز کرتے ہوئے دُکھی سا منہ بنایا۔

"ہاہاہا۔۔ "، عمر اپنی ہنسی نہ روک سکا۔

"حیرت ہے میڈم کو تو ایک منٹ بھوک برداشت نہیں ہوا کرتی، آج تین گھنٹے کیسے گزار لیے؟؟"

آمنہ بھی مسکرا دی۔ "لگاؤں پھر کھانا؟"

"جی جناب، ملکۂِ عالہ بھوکی ہوں اور ہم خیال نہ کریں، ایسا ممکن ہے بھلا؟"، عمر شرارتاً اس سے گویا تھا۔ لیپ ٹاپ اب بند کر چکا تھا اور چارجر اتار کر واپس رکھ رہا تھا۔

آمنہ شرماتی آنکھوں سے ہنستے ہوئے کچن کی جانب چل دی۔

سعدیہ کے ٹھکرا دینے کے معاملے کو ایک سال بِیت چکا تھا۔ عمر نے اپنی منگیتر اور سُنت کی داڑھی میں سے سنت کو چُنا تھا۔ اس فیصلے پر وہ دنیادار لوگوں کی نظر میں بےوقوف ترین ٹھہرا تھا، اپنوں، حتٰی کے والدین تک کے طعنے اور گالیاں سنی تھیں ، اور خاندان والوں کی باتیں الگ۔۔

*خاندان والے کتنی باتیں بنائیں گے۔۔ داڑھی جب تک ہے کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا۔۔ تم نے تو ذلیل کر دیا ہے بوڑھے ماں باپ کو اپنی ضد کی خاطر۔۔* وغیرہ وغیرہ جیسی باتیں پورا ایک سال اکیلا ہی سنتا رہا۔ جس کا جو دل میں آیا کہتا رہا۔ لیکن عمر کا فیصلہ ایک دن کے لیے بھی نہ بدلا۔ ہاں تکلیف تو بہت ہوتی تھی ایسے رویوں سے لیکن اللہ کا قرآن اور ذکر ایسی چیزیں تھیں جو اسکی ہمت بنی رہیں۔ سچ ہے نماز اور ذکر نہ ہو تو انسان تو پاگل ہی ہو جائے۔
اللہ نے ایسے صبر پر استقامت بھی پھر کمال کی عطا کر دی تھی۔ حقیقی بات ہے کہ وہ رب اپنی خاطر اُٹھے انسان کو کبھی مرنے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑ دیتا۔ لیکن اس لیول پر آنے کے لیے پہلا قدم خود اُٹھانا پڑتا ہے۔ ثبوت دینا پڑتا ہے کہ واقعی آپ کے لیے اللہ ہی سب سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ اس کے بعد ڈرپوک سے ڈرپوک تریں انسان کا دل بھی پہاڑ کی طرح مضبوط ہو جاتا ہے۔ اسے وہ مضبوطی عطا کر دی جاتی ہے جو اس کے قدموں کو رب کے رستے پر جما دے ، اسطرح کہ پھر دنیا کی کتنی بھی سخت ہوائیں چلیں اسے گرا نہیں سکتیں، اس رستے سے ہٹا نہیں سکتیں۔۔
لیکن اس راہ پر صرف دکھ ، تکلیف اور محرومیاں ہی نہیں ملتیں بلکہ انسان وقتاً فوقتاً انعام سے بھی نوازا جاتا ہے۔۔ جیسے آج عمر کو نوازا گیا تھا۔ عرصے کے گھُپ اندھیروں اور طوفانوں کے بعد اسکی کشتی کو بھی کنارے لگا دیا گیا تھا۔ اسے آمنہ جیسی ایمان والی، محبت کرنے والی، شرم و حیا والی ایک پردہ دار، خوبصورت بیوی عطا کر دی گئی تھی۔ سعدیہ کو اللہ کے لیے کھو دینے پر اس کو دنیا میں ہی جنت سی دے دی گئی تھی۔ عمر کو کبھی کبھی لگتا تھا جیسے اللہ نے اسکی ساری فِیلِنگز کو سمیٹ کر ایک انسان کا رُوپ دے دیا ہو، آمنہ کے نام سے۔ جیسے وہ حقیقتاً کوئی انسان نہیں تھی بلکہ عمر کی ضرورتوں کا جوابی عکس، اسکی آنکھوں کی ٹھنڈک، اسکی روح کا سکون۔۔
جبکہ دوسری جانب، سعدیہ، اسے ٹھُکرا دینے پر آج بھی کنواری بیٹھی تھی۔
وہ شاید بھول گئی تھی کہ جسے ایک داڑھی سمجھ کر ٹھُکرا رہی تھی، وہ محض ایک داڑھی نہیں تھی، بلکہ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھی۔ اصل میں توہین اس نے عمر کی نہیں کی تھی بلکہ اللہ اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کی تھی۔ اور یہ کوئی چھوٹا جُرم نہیں تھا۔ سعدیہ کی طرح آج کتنے ہی نام نہاد مسلمان داڑھی، پردہ، ٹخنوں سے اوپر پائنچے اور دین کی دوسری کئی باتوں کے لیے کتنے آرام سے نفرت آمیز رویے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، ان پر عمل کرنے والوں کا مزاق اُڑاتے رہتے ہیں۔۔ یہ سوچے بِنا کہ ان کا یہ سب کرنا انکو تباہی کے کس کس گڑھے میں پھینکتا جا رہا ہے، انھیں تباہ و برباد کرتا جا رہا ہے۔۔ زندگی سے سکون ایسے ہی نہیں چھِن گیا ایسے لوگوں کے !!

نبی کے صحابہ کے رستے پہ چل کے
دلوں کا سکوں ہم نے حاصل کیا ہے
لگا ہے نشہ جب سے جنت کا ہم کو

اُچاٹ اپنا جی اس جہاں سے ہوا ہے۔۔

Friday, 11 August 2017

Wadi El Nile(Valley Nile) Sey Ubharta hua Jinsi selab by Dr. Liaquat Ali Khan Niazi

وادی نیل سے ابھرتا ہوا جنسی سیلاب

الحق 1995

Mazhab Aur Azadi

?Mazhab Kis Qadar Azadi Deta hai
مذہب کس قدر آزادی دیتا ہے؟
       انسان جس بھی مذہب یا معاشرے میں زندگی گزارتا ہے اس میں کسی کے ہاتھ یا پاؤں باندھے تو نہیں جاتے کہ ہاتھ پاؤں باندھ کر ایک طرف ڈال دیا جاتا ہو بلکہ وہ فرد معاشرے میں آزادانہ طور پر اُٹھ بیٹھ سکتا ہے۔ کھا پی سکتا ہے۔ اتنی آزادی صرف اسلام ہی نہیں بلکہ تمام مذہب تمام تہذیبیں دیتی ہیں جب اتنی آزادی ہر معاشرہ اورہر تہذیب دیتی ہے تو محاذآرائی و جستجو آج کل کس بات کی ہو رہی ہے ۔ جگہ جگہ یہی نعرہ مقصود ومطلوب ہے کہ فلاں کی آزادی کا تحفظ کیا جائے۔واضح رہے کہ مذہب یا معاشرے آزادی  دیتے ہیں بطور صلاحیت کے نہ کہ بطور حق یعنی آزادی کو پرکھا جائے گا کسی اور چیزپرمذہب یا معاشرتی اقدار پراگر اس کے مطابق ہو تو ٹھیک وگرنہ آزادی نہیں دی جائے گی۔
       دراصل مذہب خیر بھی متعین کرے گا شر بھی متعین کرے گا کہ فلاں چیز میں خیر ہے بھلائی ہے اس کو اختیار کرواور فلاں چیز شر ہے برائی ہے اس کو اختیار ہرگز نہ کرنا۔ شراورخیر کی تعیین کے بعد بندے کو آزادی ہوتی ہے کہ شر کو اختیار کرتا ہے یا خیر کو مثلاً سچ بولنا خیر ہے نیکی ہے اب بندے کو اختیار ہے بندہ آزاد ہے سچ بول کر رب کو راضی کرے یا جھوٹ بول کر اپنی قبر کو برباد کرے۔ اسی طرح نماز پڑھنا خیر ہے اور چھوڑنا شر ہے اب بندہ آزاد ہے پڑھے یا نہ پڑھے کسی نے بیڑیوں میں تو جکڑا ہوا نہیں ہے کہ اس کو کھینچ کر کوئی نماز کیلئے لے جائے گا۔ یا جھوٹ بولنے سے اس کی زبان پر کوئی گرہ آ جائے گی۔
       کسی کی غیبت کرنا بری بات ہے شر ہے اب بندہ آزاد ہے کہ یہ کرگزرے یا اس سے رک جائے کسی کو تکلیف دینا شر ہے۔ بری بات ہے یہ تو طے ہے مگر اس کو اختیار کرنے یا اس سے بچنے کا اختیار بندے کو ہے اس اختیار کو غلط استعمال کرے گا تو عذاب کا مستحق ہوگا اور اگر درست استعمال کرے گا تو اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل کرے۔
       خلاصہ کلام :شر کیا ہے خیر کیا ہے یہ تو وحی الٰہی اور سنت رسول سے ہی مقرر ہوگا
پھربندوں کو اختیار ہے بندے آزاد ہیں کسی نے ہاتھ نہیں باندھے کسی نے مجبور نہیں کیا کہ تم شر کو اپناؤ یا خیر کی طرف جاؤ لیکن ترغیب ضرور دی جاتی ہے کہ خیر کو اختیار کرو اور شر کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے یعنی خیر اور شر میں سے کسی پر بھی عمل کرنے میں بندہ آزاد ہے۔
       مگر مغربی فلسفہ میں آزادی کا یہ معنی ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کے نزدیک ایک اور معنی مراد ہے وہ یہ کہ بھلائی کیا ہے ؟ برائی کیا ہے؟ شر اور خیر کیا ہے ان کو متعین کرنے کی آزادی۔ انسان خود طے کرے گا کہ سو دلینا صحیح ہے یا غلط یعنی اچھا کیا ہے برا کیا ہے یہ بات مذہب خدا یا رسول سے نہ پوچھی جائے بلکہ بندہ آزاد ہے جسے چاہے حلال قرار دے جسے چاہے حرام ۔ اور اس میں بھی آزاد ہے کہ جس کے بارے میں جو رائے قائم کرئے ۔ جس کی رو سے بزرگوں کی آبرو ریزی کرنے اور انبیاء کی گستاخی کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں لہٰذا اس معنی کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ آزادی کے اس معنی کو مغرب بطور اصول کے قبول کرتا ہے پھر ہر چیز کے  صحیح اور غلط قرار دینے سے مراد وہی پیمانہ ہوتا ہے۔ جدت پسند طبقے کا طریقہ کار یہی ہے پہلے اہلِ مغرب کے بیان کردہ اصول کو تسلیم کرتے ہیں پھر اسی اصول کو صحیح مانتے ہوئے اسلامی احکام ومسائل کی تاویلات کرکے اسے مغربی اصولوں کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیںاوراسی مغربی اصول سے اسلام کے احکام ومسائل کے حدوداربع جانچنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ ایک غلط طرز عمل ہے لہٰذا ہم ان مغربی اصولوں کو عملی بنیادوں پر رد کریں گے۔
سوال: جب اسلام میں آزادی نہیں تو کیا غلامی ہے؟ عام طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر آپ آزادی کا نظریہ غلط تسلیم کرتے ہو تو کیا اسلام میں غلامی ہے؟
جواب: ہم جس آزادی کی نفی کررہے ہیں اس کے مقابلہ میں غلامی نہیں آتی بلکہ اس کے مقابلے میں بندگی ہے۔ اور یہ بات ہم پوری اسلامی علمیت کی روشنی میں کہتے ہیں کہ اسلام میں عبدیت ہے بندگی ہے مطلق العنانی نہیں ہے۔
       جو کوئی مطلق العنان آزادی کی اسلام کاری کرنے کی کوشش نا حق کرے تو اسے چاہیے کہ رحمت دوجہاںۖ کے فرمان عالی شان کا بغور مطالعہ کرے۔
ارشاد نبوی:
       عن ابی ھریرة رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲۖ الدنیا سجن المؤمن وجنة الکافر ہذا حدیث حسن صحیح(ترمذی:ج2ص58)
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ۖ نے فرمایا دنیا مومن کیلئے قید خانہ ہے اور کافر کیلئے جنت۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
       ان ارشادات نبویۖ کو مدنظر رکھ کرانسان اس دنیا میں اپنی حیثیت دیکھے تو معلوم ہوجائے گا کہ وہ اس دنیا میں آزاد ہے یا احکام الٰہی کا پابند ہے اور جو اپنے لیے مطلق العنانی کا دعوے دار ہے اور اس کیلئے کوشاں ہے تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا کیونکہ مسلمان کیلئے تو قدم قدم پر اﷲ کی بندگی کا حکم ہے یوں کرو یوں نہ کرو ۔ بیت الخلاء میں جاتے وقت سے لیکر انداز حکمرانی تک ایک ایک چیز کا پابند ہے ۔ قدم قدم پر رہنمائی ہے اور اچھا مسلمان تو وہ ہوگا جوجس قدر اﷲ کی بندگی میںلگا ہوا ہے اس کے لیل ونہار رب کریم کی رضا تلاش کرنے میں گزریں اس کا اٹھنا بیٹھنا اپنے نبی کے طریقے کے مطابق ہو اس کی خوشی غمی بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔ شادی و بیاہ سے لیکر کفن و مرگ تک بندہ پابند ہے۔
       بغیر کسی ابہام کے یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انسانیت کی بھلائی عبدیت میں ہے بندگی میں ہے مطلق العنانی میں نہیں انسانی افضلیت اور شرف کا اندازہ بھی اسلامی نقطہ نظرسے اس کی بندگی یعنی تقویٰ دیکھ کر لگایا جاتا ہے ۔ جو جتنا زیادہ متقی ہے اتنا زیادہ مکرم و محترم ہے۔ مطلق العنانی اورآزادی کی اسلام اجازت نہیں دیتا ۔
       اعتاق کی طرف اسلام ضرور دعوت دیتا ہے کہ غلاموں کو آزاد کرو نبی پاکۖ نے غلاموں کو آزاد کرنے کے بہت سے فضائل بیان فرمائے ہیں۔
       حتیٰ کہ رحمت دو عالم ۖ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان غلام کو آزاد کرنے کا اتنا اجر ہے کہ اﷲ جل شانہ اسکے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ہر عضوکو جہنم سے بچالیتے ہیں۔
ارشاد نبویۖ:
       عن ابی ھریرة رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲۖ من اعتق رقبة مسلمة اعتق اﷲ بکل عضو منہ عضو امن النار حتی فرجہ بفرجہ متفق علیہ(مشکواة المصابیح: حدیث نمبر3233)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ جناب نبی اکرمۖ سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ ۖ نے ارشاد فرمایا جو آدمی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا اﷲ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے عضو کو جہنم سے آزاد(بری)کردیں گے حتیٰ کہ اس کی فرج کے بدلے اس کی فرج کو۔
       غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی ۔ اسلام آزادی کی حمایت کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ غلام آزاد کیے جائیں۔ تمام بنی آدم اﷲ کی بندگی اور اطاعت میں آجائیں اسلام اس کا داعی ہے مطلق العنان آزادی اسلام میں نہ مطلوب ہے اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے۔
برصغیر پاک وہند اور دیگر اسلامی ممالک میں لفظ آزادی یا حریت کی مقبولیت کی وجہ کیا بنی؟
       جب آزادی (Freedom) پر مغربی فکرونظر کے لحاظ سے روشنی ڈالی جاتی ہے تو لاشعوری طور پر یہ سوال مسلمانوں کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ اس قدر دہریت آمیز معنی جس میں لادینیت ہے لامذہبیت ہے تو آخر کیا اسباب و وجوہ بنے جس کی وجہ سے مغربی نظریات اقوام مسلم میں تیزی سے پھیل گئے اور کم علمی کی وجہ سے یا مغربی تہذیب سے عدم تعارف کے سبب مسلمانوں نے ان نظریات کو قبول کیا حتیٰ کہ ان کی اسلام کاری کی بھی کوشش شروع کردی ۔ آزادی کو اسلام سے ثابت کرنے لگے مساوات کو بھی اسلام کا نصب العین قرار دینے لگے؟
       مغل بادشاہوں کے زوال کے بعد انگریز برصغیر پر قابض ہوگئے چونکہ انہوں نے بادشاہت مسلمانوں سے چھینی تھی اس لیے انگریز مسلمانوں کی بیخ کنی کی مکمل کوشش کرتے اور ہندوستان کی باقی اقوام کو بھی اپنے ساتھ ملا کر مسلمانوں کو سماجی 'معاشرتی واخلاقی طور پر کمزور کرنے کی مکمل کوشش کرنے لگے۔
ایسی صورتحال میں مسلمان اکابرین نے انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے لئے آزادی کی تحریک چلائی حریت کانعرہ لیکر میدان عمل میں آئے اورزور و شور سے آزادی کی جدوجہد شروع کی۔ اگرچہ یہ تحریک کامیاب نہ ہوسکی ۔ اس تحریک کو ختم کردیا گیا اور کارکن علماء کرام کو تختہ دار کی زینت بنادیا گیا۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں علماء امت کے خون سے سرزمین ھند کو سرخ کیا گیا۔ اگرچہ یہ اولیاء وقت تو اس جہان فانی سے سرخرو ہوکر اپنے رب سے جاملے لیکن ان کی چلائی ہوئی تحریک کااثر مسلمانوں میں باقی رہا وہ سوچ وفکر مسلمانوں میں چلتی رہی کہ اس ظالم قوم سے نجات حاصل کرنی ہے۔ یہ حال صرف ہندوستان کا ہی نہ تھاکہ غیروں کے زیر اثر تھا بلکہ خلافت عثمانیہ کا بھی 1919ء میں شیرازہ بکھر گیا تھا غرض تمام اسلامی ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے اور انگریزوں نے ان پر اپنا تسلط جمالیا تھا۔
       مسلمانوں کے پاس اب کوئی بڑی حکومت نہ بچی تھی ۔ اس حالت میںان کو شدت سے احساس ہوا کہ وہ ایک عظیم نعمت کو کھو چکے ہیں اور غیر مسلم قوموں کے مطیع بن گئے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلم اُمہ کیلئے آزادی کی تحریکیں اور آزادی کا حصول گراں قدر چیز تھی اس لیے کہ جب غلامی کی زنجیروں کا مزا چکھا تو آزادی کی قدر معلوم ہوئی لہٰذا مسلم دنیا میں آزادی و حریت کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ لفظ آزادی کا استعمال بے دریغ ہمارے لٹریچروں میں ہوا لیکن آزادی سے یہ بات ہٹ گئی کہ کس سے آزادی اور کس لیے آزادی۔
Freedom for          Freedom from
       کی تشریح کے بغیر لفظ آزادی کا استعمال ہوا اور اس کے معنی کے ساتھ وضاحت کے ہٹ جانے کی وجہ سے وہ تصور آزادی ابھر کر سامنے آیا اور وہ معنی مراد لیا جانے لگا جو مغربی دنیا میں مراد ہے جس معنی کی عکاسی اہل مغرب کرتے ہیں بعض کلمہ گوافراد نے بھی آزادی سے وہ معنی مراد لینا شروع کردیااوربطور دلیل ہمارے اکابر کی عبارات پیش کرنے لگے۔

       حالانکہ مسلمان اگر آزادی کوقدر و اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو اس کا پس منظروہ سوسالہ غلامی ہے۔ ان کے ذہن میں آزادی کے مقابلے میں غلامی ہے اس غلامی سے خلاصی کیلئے آزادی کی تحریکیں مسلمانوں نے چلائیں اورغیر مسلم قوموں کی غلامی سے چھٹکاراحاصل کرنے کیلئے ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔تاکہ انگریزوں سے آزادی حاصل کرکے پوری طرح اﷲ کی بندگی کرسکیں اوراللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کر سکیں۔ 

Sunday, 23 July 2017

(جلق، مشت زنی ) Masturbation



(جلق ، مشت زنی) Masturbation
جنسی بے راہ روی ہی کی ایک صورت جلق اور استمناء بالید کی ہے۔ اسلام کی نگاہ میں انسان کا پورا وجود اور اس کی تمام تر صلاحتیں اللہ کی امانت ہیں۔ قدرت نے ان کو ایک خاص مقصد کے تحت جنم دیا ہے۔ جو شخص جسم کے کسی حصہ کا غلط استعمال کرتا ہے وہ دراصل خدا کی امانت میں خیانت اور خلق اللہ میں من چاہے تغیّر کا مرتکب ہوتا ہے۔ انسان کے اندر جو جنسی قوت اور مادۂ منویہ رکھا گیا ہے وہ بھی بے مقصد اور بلا وجہ نہیں ہے، بلکہ اس سے نسلِ انسانی کی افزائش اور بڑھوتری مقصود ہے اور اس قسم کا عمل چاہے جلق و استمناء بالید ہو یا اغلام بازی یا خود اپنی بیوی سے لواطت، اس مقصد کے عین مغائر اور اس سے متصادم ہے۔
اس لئے یہ عمل بھی ممنوع اور حرام ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے شخص کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن توجہ نہیں فرمائیں گے ۔ ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر اللہ اور اسکے فرشتوں کی لعنت بھیجی ہے ۔ اس کی حرمت پر سورۂ المؤمنون کی آیت نمبر ۵ تا ۷ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ جس میں جنسی خواہشات کی تکمیل کے لئے دو ہی راستوں کی تحدید کر دی گئی ہے۔ ایک بیوی، دوسرے لونڈی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایک تیسری صورت ہے، فقہاء احناف نے اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا ہے۔
قضاء شہوت کی نیت سے ایسا کرنا قطعاً جائز نہیں، ہاں اگر شہوت کا غلبہ ہو، زنا سے بچنے اور شہوت میں سکون اور ٹھہراؤ پیدا کرنے کے لئے ایسا عمل کیا جائے تو لکھتے ہیں کہ امید ہے اس پر وبال اور عذات نہ ہو گاچنانچہ ایسے حالات میں ابن عباس، عبد اللہ بن عمر مجاہد، حسن بصری وغیرہ سے اس کا جواز نقل کیا گیا ہے (۱)۔ اسی ضرورت کے ذیل میں علاج اور میڈیکل جانچ کی غرج سے مادٔہ منویہ کا نکالنا بھی ہے، تاہم ان سب کا تعلق اتفاق سے ہے۔ عادتاً تو کسی بھی طرح اجازت نہ دی جائے گی، کہ یہ نہ صرف اخلاق کو متأثر کرتا ہے اور فطرت سے بغاوت کے مترادف ہے بلکہ صحتِ انسانی کے لئے بھی سخت مضر ہے۔
عورتوں میں ہم جِنسی
جس طرح مردوں کے درمیان فعلِ خلافتِ فطرت حرام ہے، اسی طرح عورتوں کے درمیان بھی فعلِ خلافِ فطرت جس کو "سحق" کہا جاتا ہے، ناجائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ رہے ۔ حضرت واصلہ سے مروی ہے کہ عورتوں کے درمیان باھم لذت اندوزی زنا ہے ۔ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے علاماتِ قیامت میں سے قرار دیا ہے کہ مرد مرد سے، عورت عورت سے اپنی ضرورت پوری کرے ۔
قدرت نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کی ضرورت اور تکمیلِ ضرورت کا سامان بنا کر پیدا کیا ہے اور اس کا مقصد بھی مجرد شہوت اور ہوس کی تکمیل نہیں، نسلِ انسانی کی افزائش اور اس کے بقاء میں تسلسل ہے۔ ہن جنسی فطرت کے ان مقاصد میں مخل ہے اور قطعی غیر فطری ہے۔

Friday, 21 July 2017

مسجد اقصیٰ ایک بار پھر یہودیوں کے قبضے میں!

مسجد ایک بار پھر یہودیوں کے قبضے میں!
مسجد اقصیٰ پچھلے سات دنوں سے اسرائیلی درندوں کے قبضے میں ہے۔مسجد اقصیٰ کے اس ظالمانہ قبضے کی روئیداد سننے سے پہلے4جولائی 2017کوفلسطین کے بارے یونیسیکواجلاس کامنظرنامہ ملاحظہ کیجئے!
۔یہ وہ دن تھا جب پہلی مرتبہ بھارتی وزیراعظیم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پرآیا،یہی وہ دن تھا جب اسرائیل کے بارے پولینڈ میں یونیسکو اجلاس کر رہاتھا۔موضوع اجلاس تھا کہ "بیت المقدس آزادہے یااس پرقبضہ کیا گیاہے"؟اسرائیلی نمائندے نے اپنی گفتگوکے دوران ہولوکاسٹ میں یہودیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا اور ساتھ ہی حال میں موجود دنیا بھر کے نمائندوں کو ہولوکاسٹ میں مرنے والے یہودیوں کے افسوس میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے اور کھڑا ہونے کا کہا،اس کے ساتھ ہی حال میں موجود کچھ لوگ کھڑے ہوئے، تو کچھ بیٹھے رہے۔
کیمونسٹ کیوبا کی نمائندہ خاتون نے اسرائیلی نمائندے کے اس عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صدر جلسہ کے علاوہ کسی کو اختیار نہیں کہ وہ نمائندگان کو کھڑا کرے۔پھر اس بہادر خاتون نے فلسطینی مظلوموں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ آخر ہم فلسطینی مظلوموں کو کیوں یاد نہیں کرتے،جوآئے روز بے گناہ قتل کردیے جاتے ہیں،اس کے ساتھ ہی اس خاتون نے سامنے لگے مائک کو جھٹکتے ہوئے فلسطینی مظلوموں سے ہمدردی کی خاطراجلاس میں شریک دنیابھر کے نمائندگان سے کھڑا ہونے کامطالبہ کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے پوراحال کیوبا کی اس کمیونسٹ خاتون کی آواز پرتالیاں بجاتے ہوئے کھڑا ہوگیا۔اسرائیلی نمائندہ اس حیرت انگیز منظر پر دم بخود رہ گیا۔کیوبا کی اس بہادر خاتون کی وجہ سے جہاں مسئلہ فلسطین کو دنیا بھر میں خوب پذیرائی وہیں اس خاتون کو بھی دنیا بھر میں سراہاگیا۔بعدازاں یونیسکونے اپنی قرارداد میں القدس پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔
اس سے پہلے مئی 2017 میں بھی یونیسکو نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں کہاگیا تھا کہ القدس فلسطینی مسلمانوں کا شہر ہے جس سے یہودیوں کا کوئی تعلق نہیں،یہاں موجود قدیم ثقافتی ورثے کے مالک بھی یاتو مسلمان ہیں یا عیسائی۔یونیسیکو کی ان قراردادوں کے بعد جہاں دنیا بھر میں اسرائیل کو ذلت کا سامنا کرناپڑا وہیں اسرائیل نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان قراردادوں کو مسترد کردیا اور القدس میں اپنا پہرہ مزید سخت کردیا۔
ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ14جولائی2017بروز جمعۃ المبارک کو غاصب اسرائیلیوں نے مسجد اقصی ا محاصر ہ کرکے مسجد اقصی کومکمل طورپر بندکردیا۔جس کی وجہ سے48سال بعدمسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نمازادانہ کی جاسکی۔غاصب اسرائیلیوں کی جانب سے اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ تین مسلح فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کے قریب دواسرائیلی فوجیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا جس کے بعد مسجد اقصیٰ کو بند کیا گیا۔جب کہ ایک موبائل ویڈیو کلپ میں ایک فلسطینی کو ایک اسرائیلی کے ساتھ تصادم میں دکھایاگیا ہے جس کے بعد اس فلسطینی کو گولی مارکرقتل کردیا گیا۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق عام طور پر ابتدااسرائیل کی جانب سے کی جاتی ہے اور اس واقعہ میں بھی ابتدا اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے کی گئی۔ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو اس سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اولاً اسرائیلی فوجی فلسطینیوں پر ظلم وستم ڈھاتے ہیں اور انہیں ناجائز قتل اور جیلوں میں ڈالتے ہیں۔جس پر عالمی میڈیا سمیت پوری دنیا گواہ ہے۔چنانچہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یونیسیکوبھی وقتافوقتا اپنی قرادادوں میں اسرائیل کے ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرتارہتاہے۔بہرحال اس واقعے کے دوروز بعد مسجد اقصیٰ کو جزوی طورپر کھول دیا گیا لیکن پہلی مرتبہ مسجد اقصیٰ کے دروازوں کے سامنے اسرائیل نے واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈیٹکٹیر نصب کرکے فلسطینی مسلمانوں کی تلاشی لینا شروع کردی ہے۔فلسطینی مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ کے سامنے یہودیوں کے اس جبری حصار کو رد کردیا۔چنانچہ پچھلے سات دنوں سے ہزاروں کی تعداد میں مسلمان احتجاجامسجد اقصیٰ کے دروازوں کے سامنے نمازیں اداکررہے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں کو زدوکوب کرنا شروع کردیاہے۔احتجاج کرنے والے لوگوں کو گرفتارکیا جارہاہے۔صوتی گولے برسائے جارہے ہیں جن کی زد میں آکرمسجد اقصیٰ کے امام وخطیب شیخ عکرمہ صبری سمیت درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک عالم اسلام کی طرف سے اسرائیل کے حالیہ تشدد پر لب کشائی نہیں کی گئی۔البتہ سعودی باشاہ کے حوالے سے یہ خبرضرور سامنے آئی کہ ان کی مداخلت پر مسجد اقصیٰ کو کھولا گیا لیکن ماہر تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ محض ایک افواہ ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے از خود مسجد اقصیٰ کو کھولا کیوں کہ اسرائیل یہ بات اچھی طرح جانتاہے کہ مسجد اقصیٰ کی بندش سے دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف جو رد عمل آئے گا اسے اسرائیل برداشت نہیں کرسکتا۔

مسجد اقصیٰ144000مربع میٹرپرمشتمل اس حصے کے نام ہے جسے آخری بار حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیاتھا۔حرم کا یہ وہ حصہ ہے جس میں200کے لگ بھگ تاریخی آثار ہیں ۔جن میں قبۃ الصخرا،مسجد القِبلی،مسجدالمروانی،دیوارِبراق جسے یہودی دیوار گریہ کہتے ہیں جیسے قدیمی اور تاریخی آثار شامل ہیں۔صحیح بخاری کی روایت کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر کے 40سال بعد اس مسجد کو تعمیر کیا گیا۔محققین کے مطابق سب سے پہلے اسے آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا،بعدازاں ابراہیم ،داؤود اور سلیمان علیہم السلام ایسے جلیل القدر انبیاء نے اپنے اپنے دور میں اس مسجد کو ترمیم وتزین کی۔
اسلام کی آمد کے بعد مسجد اقصیٰ کو خصوصی اہمیت دی گئی ۔کیوں کہ یہی وہ مسجد تھی جسے مسلمانوں کا قبلہ اول بنایاگیا۔یہی وہ مبارک جگہ ہے جہاں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا سے ہم کلام ہونے کے لیے آسمانوں پر تشریف لے گئے۔یہی وہ مبارک جگہ ہے جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت کی۔یہی وہ مقدس مقام ہے جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ نمازوں کا تحفہ لانے رب کے حضور پہنچے۔یہی وہ مبارک جگہ ہے جسے خلیفہ ثانی عمرابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بغیر قتل وقتال اور خون خرابے کے فتح کیااور مسلمانوں کے لیے ایک مسجد بنائی۔جس میں بعدازں اسلامی دور میں توسیع ہوتی رہے۔
مسجد اقصیٰ دنیا کی واحد ایسی جگہ ہے جس کے تقدس پر تینوں آسمانی مذاہب کے پیروکار یعنی مسلمان،یہودی،عیسائی متفق ہیں۔لیکن افسوس عیسائیوں نے صلیبی جنگ کے نام پر اس مبارک سرزمین کے تقدس کوپامال کیا ،تو یہودیوں نے 1948میں ناجائز قبضے سے اس مبارک جگہ کو فسادوخون کی جگہ بنادیا۔چنانچہ آئے روز یہاں اسرائیلی یہودی نہ صرف مسلمانوں پر تشدد کرتے ہیں،بلکہ انہیں قیدوقتل کرنے اور مختلف حیلے بہانوں سے مسجد اقصیٰ کو نقصان پہچانے کے درپے رہتے ہیں۔جس کے پیچھے صرف ایک ہی سوچ کارفرماہے کہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ ہئیت مٹاکر یہاں مزعومہ ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جائے جسے آج تک یہودی ثابت بھی نہیں کرسکے ۔چنانچہ حالیہ مسجد اقصیٰ کی بندش اور الیکٹرانک واک تھرودروازوں کے ذریعے مسجد اقصیٰ کا حصاردراصل اسرائیلی یہودیوں کے انہیں ناپاک عزائم کا اظہارہے۔یہی وجہ ہے کہ فلسطینی مسلمان اسرائیل کے ان ناپاک عزائم کو بھانپ گئے ہیں ،تبھی انہوں نے مسجد اقصیٰ کے گرد یہودیوں کے واک تھرودروازوں کے نام پر عسکری حصار کو رد کردیاہے اور ابھی تک مسجد اقصیٰ کے دروازوں کے سامنے احتجاجا کھڑے ہیں۔
دوسری طرف امت مسلمہ اورعالم اسلام کے حکمرانوں کا افسوس ناک رویہ ہے،جوآج تک قبلہ اول پر یہودیوں کے ناجائز قبضے کو چھڑواسکے ہیں،نہ فلسطینی مسلمانوں پر آئے روز ہونے والے مظالم کو رکواسکے ہیں۔ان سے بہتر تو وہ نہتے فلسطینی ہیں جو پچھلے ستر سالوں سے گردنیں کٹوانے کے باجودآج بھی غاصب یہودیوں کے سامنے سینہ تان کرکھڑے ہیں ۔عالم اسلام کے حکمرانوں کو کم ازکم ان نہتے فلسطینی مسلمانوں سے سبق سیکھنا چاہئے ،جواس قدر مظالم سہنے کے باوجودبھی یہ کہہ رہے ہیں کہ مسجداقصیٰ ہماری گردنوں میں امانت ہے۔اس امانت کی خاطر ہماری گردنیں کٹ سکتی ہیں،مگر جھک نہیں سکتیں۔
تف ہے !عالم اسلام کے ان نام نہاد لیڈروں پر جو مفادات کی خاطراسرائیل سے تعلقات بڑھانے کے لیے پرتول رہے ہیں۔مصر کے غدار ڈکٹیٹر عبدالفتاح السیسی کو شرم آنی چاہئے ،جو مصر میں اسرائیلی عبادت خانے کی تعمیر پر22ملین ڈالر خرچ کرنے پر راضی ہے ،مگر قبلہ اول کو یہودیوں کے حالیہ عسکری حصار سے آزاد کروانے کے لیے کچھ خرچ کرنے کو تیارنہیں۔غیرت ان نام نہاد اسلامی حکمرانوں کو بھی کرنی چاہئے ،جو امریکہ کو اربوں ڈالر دیتے ہیں مگر امریکہ کے بے غیرت بچے اسرائیل کو سفاکیت سے نہیں روک پاتے۔شرم عالم اسلام کے ان ملاؤں کو بھی کرنی چاہئے جو حکمرانوں کے درباروں میں جاکر حکمرانوں کے تلوے چاٹتے ہیں اور ان کے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے فتوے بھی دیتے ہیں، مگر اسرائیلی یہودیوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی پر ان حکمرانوں کو غیرت نہیں دلاتے۔کس قدر بے شرمی کی بات ہے کہ کیمونسٹ کیوبا کی ایک خاتون فلسطینی مظلوموں کی خاطریونیسیکو کے ایک اجلاس کے ذریعے دنیا بھر میں اسرائیل کورسواکرسکتی ہے مگر بھاری بھر فوج اور مال وودلت کی فروانی رکھنے والے اسلامی ملکوں کے حکمران اسرائیل کو مسجد اقصیٰ کی حالیہ بے حرمتی سے نہیں روک سکتے۔

ایسے میں داددینی چاہئے ان لوگوں کو جو آج بھی بغیر رنگ ومذہب کے دنیا بھر میں فلسطینی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ سلام ہے !ان مسلمانوں پر جوگزشتہ سات دنوں سے مسجد اقصیٰ کی حالیہ بے حرمتی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔انہیں میں سے وہ درد دل رکھنے والے لوگ بھی ہیں جو آج کراچی پریس کلب کے سامنے سہ پہرتین بجے" لبیک یااقصی" اور "جمعہ غضب" کے نام سے مسجداقصیٰ کی حالیہ ناکہ بندی کے خلاف احتجاجی ریلی منعقد کررہے ہیں،جس میں مسلمانوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔بلکہ یہ احتجاجی ریلیاں ملک بھر میں منعقد ہونے چاہئیں، تاکہ دنیا کو اسرائیل کی حالیہ بدمعاشی کا پتہ چلے اوروہ اسرائیل کو اس بدمعاشی سے بازآنے سے روکے۔خطباء اورائمہ حضرات کو بھی مساجد کے منبرومحراب سے قبلہ اول کے بارے خطبہ جمعہ دینا چاہئے ،تاکہ عام مسلمانوں میں قبلہ اول کی اہمیت کا احساس پیداہو اور وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں!
بقلم

(غلام نبی مدنی،مدینہ منورہ)

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)