Showing posts with label namaaz. Show all posts
Showing posts with label namaaz. Show all posts

Thursday, 22 June 2017

Salatul Tasbeeh Namaz Ka Tarika in Urdu

 
صلوۃِتسبیح پڑھنے کا طریقہ
صلوة التسبیح بہت اہمیت کی حامل ہے اس کی چار رکعت ایک سلام کے ساتھ ہیں۔  ہر رکعت میں75 بار یہ تسبیح” سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر“پڑھنی چاہیے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا۔ اے چچا ! کیا میں آپ کو ایک ہدیہ اور ایک خبر نہ دوں ؟ .... اللہ تعالی آپ کے نئے پرانے بھول کر کئے ہوئے اور جان بوجھ کر کئے ہوئے ، چھوٹے بڑے، چھپ کر کئے ہوئے یا ظاہر ہوکر سب گناہ معاف فرما دیں؟ وہ یہ کہ آپ چار رکعت پڑھیں۔ ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی سورة پڑھیں جب پہلی رکعت میں قرات سے فارغ ہوں تو یہ کلمات سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر 15 بار پڑھیں، جب رکوع کریں تو حالت رکوع میں دس بار پڑھیں ، پھر رکوع سے سر اٹھائیں تو دس مرتبہ کہیں ۔ پھر سجدہ میں دس مرتبہ کہیں ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائیں تو دس مرتبہ کہیں پھر سجدہ کریں تو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ سے سر اٹھائیں تو دس مرتبہ کہیں (پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں) یہ کل75بار ہوگئے آپ چار رکعت میں ایسا ہی کریں۔ اگر ہر دن پڑھنے کی طاقت ہو تو ہر دن پڑھیں، ورنہ تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھیں، ورنہ ہر مہینہ میں ایک بار پڑھیں ،ورنہ سال میں ایک بار پڑھیں اور اگر سال میں بھی نہ پڑھ سکیں تو عمر بھر میں ایک بار ضرور پڑھیں۔ ایک دوسرا طریقہ بھی صلوة التسبیح کے متعلق مروی ہے ۔ وہ یہ کہ ثناءپڑھنے کے بعد مذکورہ تسبیح 15 بار پڑھے ۔ پھرقرات سے فارغ ہونے کے بعد ،پھر رکوع کی حالت میں ، پھر رکوع کے بعد، پھر سجدہ اولیٰ میں ،پھر سجدہ کے بعد بیٹھنے کی حالت میں ، پھر دوسرے سجدہ میں دس دس بار پڑھیں پھر سجدہ ثانی کے بعد نہ بیٹھیں بلکہ کھڑے ہو جائیں ۔ باقی ترتیب وہی ہے ۔ 
(جامع ترمذی ج1 ص109،الترغیب والترہیب ج 1ص269)

Sunday, 4 June 2017

Sunan Abu Daud Shareef Main Namaz Ki Farziyyat Ka Bayan " with Urdu, translation

ابو داود شریف نماز کا بیان
نماز کی فرضیت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّی دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنْ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ وَذَکَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ وَذَکَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَةَ قَالَ فَهَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَی هَذَا وَلَا أَنْقُصُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، ابوسہیل بن مالک، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجد کا ایک رہنے والا ایک شخص آیا اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اسکی آواز میں گنگناہٹ تھی جس کی بنا پر اسکی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی یہاں تک کہ وہ قریب آگیا اور وہ اسلام کے متعلق دریافت کرنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں اس نے پوچھا کہ کیا اسکے علاوہ بھی کوئی اور نماز مجھ پر فرض ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں، مگر نفل پھر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو ماہ رمضان کے روزوں کے متعلق بتایا اس نے پھر پوچھا کہ کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی اور روزہ فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر نفل، اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو صدقہ (زکوٰة) کے متعلق بتایا اس نے پھر پوچھا کہ کیا اسکے علاوہ بھی مجھ پر کوئی اور صدقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر نقل راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد وہ شخص یہ کہتا ہوا اٹھ کر چل دیا کہ خدا کہ قسم میں اسمیں نہ کوئی اضافہ کروں گا اور نہ کمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچ کہتا ہے تو اس نے مراد پائی۔

Wednesday, 31 May 2017

" Mulla Zaigham Lolabi Kashmiri Ka Bayaz " A Beautiful Urdu Poetries In Armaghan e Hijaz By Allama Muhammad Iqbal,

 
 
 








ملا زادہ ضیغم لولا بی کشمیری کا بیاض

پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب
مرغان سحر تیری فضاؤں میں ہیں بیتاب

اے وادی لولاب

گر صاحب ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
دیں بندۂ مومن کے لیے موت ہے یا خواب

اے وادی لولاب

ہیں ساز پہ موقوف نوا ہائے جگر سوز
ڈھیلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مضراب

اے وادی لولاب

ملا کی نظر نور فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مے ناب

اے وادی لولاب

بیدار ہوں دل جس کی فغان سحری سے
اس قوم میں مدت سے وہ درویش ہے نایاب

اے وادی لولاب

٭٭٭

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
مکر و فن خواجگی کاش سمجھتا غلام!

شرع ملوکانہ میں جدت احکام دیکھ
صور کا غوغا حلال، حشر کی لذت حرام!

اے کہ غلامی سے ہے روح تری مضمحل
سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام!
٭٭٭
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر

کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقان پیر

آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر؟
٭٭٭
گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو

پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیر
کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو
وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں
عشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تار رفو

ضربت پیہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش
حاکمیت کا بت سنگیں دل و آئینہ رو
٭٭٭
دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں
حیرت میں ہے صیاد، یہ شاہیں ہے کہ دراج!

ہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلاطم
مشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آج

فطرت کے تقاضوں سے ہوا حشر پہ مجبور
وہ مردہ کہ تھا بانگ سرافیل کا محتاج
٭٭٭
رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات
ہر چند کہ مشہور نہیں ان کے کرامات

خود گیری و خود داری و گلبانگ انا الحق
آزاد ہو سالک تو ہیں یہ اس کے مقامات

محکوم ہو سالک تو یہی اس کا ہمہ اوست
خود مردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات!
٭٭٭
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
ترے دین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری

شیاطین ملوکیت کی آنکھوں میں ہے وہ جادو
کہ خود نخچیر کے دل میں ہو پیدا ذوق نخچیری

چہ بے پروا گذشتند از نواے صبح گاہ من
کہ برد آں شور و مستی از سیہ چشمگان کشمیری!
٭٭٭
سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر
دل آدمی کا ہے فقط اک جذبۂ بلند

گردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسے
دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند

جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند
٭٭٭
کھلا جب چمن میں کتب خانۂ گل
نہ کام آیا ملا کو علم کتابی

متانت شکن تھی ہوائ بہاراں
غزل خواں ہوا پیرک اندرانی

کہا لالہ آتشیں پیرہن نے
کہ اسرار جاں کی ہوں میں بے حجابی
سمجھتا ہے جو موت خواب لحد کو
نہاں اس کی تعمیر میں ہے خرابی

نہیں زندگی سلسلہ روز و شب کا
نہیں زندگی مستی و نیم خوابی

حیات است در آتش خود تپیدن
خوش آں دم کہ ایں نکتہ ار بازیابی

اگر ز آتش دل شرارے بیری
تواں کرد زیر فلک آفتابی
٭٭٭
آزاد کی رگ سخت ہے مانند رگ سنگ
محکوم کی رگ نرم ہے مانند رگ تاک

محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نوید
آزاد کا دل زندہ و پرسوز و طرب ناک

آزاد کی دولت دل روشن، نفس گرم
محکوم کا سرمایہ فقط دیدۂ نم ناک

محکوم ہے بیگانۂ اخلاص و مروت
ہر چند کہ منطق کی دلیلوں میں ہے چالاک

ممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش
وہ بندۂ افلاک ہے، یہ خواجہ افلاک
٭٭٭
تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ
کوئی بتائے یہ مسجد ہے یا کہ میخانہ

یہ راز ہم سے چھپایا ہے میر واعظ نے
کہ خود حرم ہے چراغ حرم کا پروانہ

طلسم بے خبری، کافری و دیں داری
حدیث شیخ و برہمن فسون و افسانہ

نصیب خطہ ہو یا رب وہ بندۂ درویش
کہ جس کے فقر میں انداز ہوں کلیمانہ

چھپے رہیں گے زمانے کی آنکھ سے کب تک
گہر ہیں آب لور کے تمام یک دانہ
٭٭٭
دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے
بڑے معرکے زندہ قوموں نے مارے

منجم کی تقویم فردا ہے باطل
گرے آسماں سے پرانے ستارے

ضمیر جہاں اس قدر آتشیں ہے
کہ دریا کی موجوں سے ٹوٹے ستارے

زمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سے
نمایاں ہیں فطرت کے باریک اشارے

ہمالہ کے چشمے ابلتے ہیں کب تک
خضر سوچتا ہے لور کے کنارے
٭٭٭
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں

کمال صدق و مروت ہے زندگی ان کی
معاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں

قلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلال
یہ امتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریں

خودی سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریں

شکوہ عید کا منکر نہیں ہوں میں، لیکن
قبول حق ہیں فقط مرد حر کی تدبیریں

حکیم میری نواؤں کا راز کیا جانے
ورائے عقل ہیں اہل جنوں کی تدبیریں
٭٭٭
چہ کافرانہ قمار حیات ممی بازی
کہ با زمانہ بسازی بخود نمی سازی
دگر بمدرسہ ہائے حرم نمی بین
دل جنید و نگاہ غزالی و رازی

بحکم مفتی اعظم کہ فطرت ازلیست
بدین صعوہ حرام است کار شہبازی

ہاں فقیہ ازل گفت جرہ شاہیں ار
بآسماں گروی با زمیں نہ پروازیں

منجم کہ توبہ نہ کردما ز فاش گوئی ہا
ز بیم ایں کہ بسلطاں کندن غمازی

بدست ما نہ سمرقند و نے بخارا ایست
دعا بگوش ز فقیرا بہ ترک شیرازی
٭٭٭
ضمیر مغرب ہے تاجران، ضمیر مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ

کنار دریا خضر نے مجھ سے کہا بہ انداز مجرمانہ
سکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہ

حریف اپنا سمجھ رہے ہیں مجھے خدایان خانقاہی
انہیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگ آستانہ

غلام قوموں کے علم و عرفاں کی ہے یہی رمز آشکارا
زمیں اگر تنگ ہے تو کیا ہے، فضائے گردوں ہے بے کرانہ
خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

مری اسیری پہ شاخ گل نے یہ کہہ کے صیاد کو رلایا
کہ ایسے پرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشیانہ
٭٭٭
حاجت نہیں اے خطہ گل شرح و بیاں کی
تصویر ہمارے دل پر خوں کی ہے لالہ

تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا
دیتے ہیں یہ پیغام خدایان ہمالہ

سرما کی ہواؤں میں ہے عریاں بدن اس کا
دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کو دوشالہ

امید نہ رکھ دولت دنیا سے وفا کی
رم اس کی طبیعت میں ہے مانند غزالہ
٭٭٭
خود آگاہی نے سکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی
حرام آئی ہے اس مرد مجاہد پر زرہ پوشی
٭٭٭
آں عزم بلند آور آں سوز جگر آور
شمشیر پدر خواہی بازوے پدر آور
٭٭٭
غریب شہر ہوں میں، سن تو لے مری فریاد
کہ تیرے سینے میں بھی ہوں قیامتیں آباد

مری نوائے غم آلود ہے متاع عزیز
جہاں میں عام نہیں دولت دل ناشاد

گلہ ہے مجھ کو زمانے کی کور ذوقی سے
سمجھتا ہے مری محنت کو محنت فرہاد

صدائے تیشہ کہ بر سنگ میخورد دگر است
خبر بگیر کہ آواز تیشہ و جگر است
٭٭٭
تھا یہ اللہ کا فرماں کہ شکوہ پرویز
دو قلندر کو کہ ہیں اس میں ملوکانہ صفات

مجھ سے فرمایا کہ لے، اور شہنشاہی کر
حسن تدبیر سے دے آنی و فانی کو ثبات

میں تو اس بار امانت کو اٹھاتا سر دوش
کام درویش میں ہر تلخ ہے مانند نبات

غیرت فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبول
جب کہا اس نے یہ ہے میری خدائی کی زکات!

٭٭٭

Sunday, 2 April 2017

Sahih Muslim Shareef Main Suraj Girhan ka Bayan " with Urdu English translation

  مسلم شریف سورج گرہن کا بیان
نماز گرہن کے بیان میں
حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَزَادَ أَيْضًا ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ
یحیی بن یحیی، ابومعاویہ، حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث نقل کی ہے اور اضافہ یہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اے اللہ کیا میں نے احکام پہنچا دیے ہیں۔


This hadith has been narrated by Hisham b. 'Urwa with the same chain of transmitters but with this addition:" Verily the sun and the moon are among the signs of Allah." And similarly this addition was made:" He then lifted his hands and said: O Allah! have I not conveyed it?"
    

Sahih Muslim Shareef Main Namaz e Istsqa ka Bayan " with Urdu English translation

  مسلم شریف  نماز استسقاء کا بیان
باب صلوة الاستسقاء کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمُصَلَّی فَاسْتَسْقَی وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَائَهُ وَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ
یحیی بن یحیی، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن ابی بکر، حضرت عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن تمیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے چچا سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدگاہ کی طرف نکلے اور پانی طلب کیا اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور چادر کو پلٹا اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔


Ibn Tamim narrated on the authority of his uncle ('Abdullah b. Zaid) that the Apostle of Allah (may peace be upon him) went out to the place of prayer and prayed for rain and faced towards Qibla, and turned round his mantle and prayed two rak'ahs.

Sahih Muslim Shareef Main Safar Aur Qasar ki Namaz ka Bayan " with Urdu English translation

  مسلم شریف  مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ حِينَ فَرَضَهَا رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَمَّهَا فِي الْحَضَرِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَی الْفَرِيضَةِ الْأُولَی
ابو طاہر و حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ کی زوجہ مطہرہ ارشاد فرماتی ہیں کہ جس وقت اللہ تعالی نے نماز کی دو رکعتیں فرض فرمائیں پھر اس نماز کو حضر میں پورا فرمایا اور سفر کی نماز کو پہلی فرضیت پر ہی برقرار رکھا۔

'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (may peace be upon him), said Allah prescribed the prayer as two rak'ahs, then it was completed (to four rak'ahs) at the place of residence, but was retained in the same position in journey as it was first made obligatory.


Saturday, 1 April 2017

Sahih Muslim Shareef Main Masjid ka Bayan " with Urdu English translation

   مسلم شریف  مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان
مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ قَالَ کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَی أَبِي الْقُرْآنَ فِي السُّدَّةِ فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَی قُلْتُ کَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ أَرْبَعُونَ عَامًا ثُمَّ الْأَرْضُ لَکَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ
علی بن حجر سعدی، علی بن مسہر، اعمش، حضرت ابراہیم بن یزید تیمی سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کو مسجد سے باہر سائبان میں قرآن سنایا کرتا تھا۔ جب میں سجدہ کی آیت پڑھتا تھا تو وہ سجدہ کر لیتے میں نے اپنے والد سے کہا اے ابا جان کیا آپ راستہ ہی میں سجدہ کر لیتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا زمین میں سب سے پہلی کونسی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجدحرام، میں نے عرض کیا پھر کونسی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجد اقصی، میں نے عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چالیس سال کا، پھر ساری زمین تیرے لئے مسجد ہے جہاں تو نماز کا وقت پائے تو نماز پڑھ لے۔

Ibrahim b. Yazid al-Tayml reported: I used to read the Qur'an with my father in the vestibule (before the door of the mosque). When I recited the ayat (verses) concerning prostration, he prostrated himself. I said to him: Father, do you prostrate yourself in the path? He said: I heard Abu Dharr saying: I asked the Messenger of Allah (may peace be upon him) about the mosque that was first set up on the earth. He said: Masjid Haram. I said: Then which next? He said: The Masjid al-Aqsa. I said: How long is the space of time between the two? He said: Forty years. He (then) further said: The earth is a mosque for you, so wherever you are at the time of prayer, pray there.

Sahih Muslim Shareef Main Namaz ka Bayan " with Urdu English translation

   مسلم شریف  نماز کا بیان
اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک کلمہ کے علاوہ ایک ایک بار کہنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ زَادَ يَحْيَی فِي حَدِيثِهِ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ إِلَّا الْإِقَامَةَ
خلف بن ہشام، حماد بن زید، یحیی بن یحیی، اسماعیل بن علیہ، خالد حذاء، ابی قلابہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان دو دو بار کہیں اور اقامت ایک ایک بار ایوب کی حدیث میں اقامت کے سوا کا لفظ ہے۔

Anas reported: Bilal was commanded (by the Apostle of Allah) to repeat (the phrases of) Adhan twice and once in Iqama. The narrator said: I made a men- tion of it before Ayyub who said: Except for saying: Qamat-is-Salat [the time for prayer has come].

Thursday, 30 March 2017

نماز کے فرائض واجبات سنتیں سنتیں namaaz, kay faraiz, wajibat, Sunnat, Mustahabbat,



نماز کے باہر یعنی شروع کرنے سے پہلے کے فرائض

    نماز سے باہر کے سات فرائض ہیں۔

(١) بدن کا پاک ہونا ،
 (٢)کپڑوں کا پاک ہونا،
 (٣) جگہ کا پاک ہونا،
 (٤) ستر کا چھپانا یعنی مرد کو ناف سے گھٹنے تک اپنا بدن چھپانا فرض ہے ۔ یہ ایسا فرض ہے جو نماز کے باہر بھی فرض ہے ، اور عورت کے سوائے دونوں ہتھیلیوں اور پاؤں اور منھ کے تمام بدن ڈھانکنا فرض ہے ۔ اگرچہ عورت کو نماز میں منھ چھپانا فرض نہیں لیکن غیر مردوں کے سامنے بے پردہ کھلے منھ آنا بھی جائز نہیں ۔ 
(٥) نماز کے وقت کا ہونا یعنی نماز کو ادا کرنے کے لیے یہ شرط ہے کہ جو وقت اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے اسی وقت میں پڑھی جائے اس وقت سے پہلے پڑھنے سے تو بالکل نماز درست نہ ہوگی اور اسکے بعد پڑھنے سے ادا نہیں بلکہ قضا ء ہوگی ۔
 (٦) استقبال قبلہ یعنی قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا،
 (٧) نیت کرنا نیت میں خاص اس فرض نماز کا ارادہ کرنا ضروری ہے جو پڑھنا چاہتا ہے ۔
 مثلا فجر کی نمازپڑھنی ہے تو یہ ارادہ کرے کہ آج کی نماز فجر پڑھتا ہوں یا قضا نماز ہو تو یوں نیت کرے کہ فلاں دن کی نماز فجر پڑھتا ہوں ۔ اور اگر امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہو تو اس کی نیت بھی کرنی ضروری ہے ۔


    نماز کے اندر کے فرائض

    چھ چیزیں فرض ہیں ۔
 (١) تکبیر تحریمہ کہنا ،
(٢) قیام(کھڑا ہونا )
 (٣) قرات (یعنی قرآن مجید پڑھنا ) 
(٤) رکوع کرنا ۔ 
(٥) دونوں سجدے ۔ 
(٦) قعدہ اخیرہ ، یعنی نماز کے اخیر میں التحیات پڑھنے کی مقدار بیٹھنا ۔ مگر تکبیر تحریمہ شرط ہے رکن نہیں ہے ۔

    نماز کے ان فرائض میں سے اگر کوئی ایک چھوٹ گیا تو نماز نہیں ہوگی۔

    نماز کے واجبات

    واجبات نماز چودہ ہیں؛ 

(١) فرض نمازوں کی پہلی دورکعتوں کو قرا ت کے لیے مقرر کرنا 
(٢) فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا
 (٣) فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب اور سنت اور نفل نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورت فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا بڑی ایک آیت یا چھوٹی تین آیتیں پڑھنا 
(٤) سورت فاتحہ کو سورت سے پہلے پڑھنا
 (٥)قرا ء ت اور رکوع میں اور سجدوں میں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا
 (٦) قومہ کرنا یعنی رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا 
(٧) جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان مین سیدھا بیٹھ جانا
 (٨) تعدیل ارکان یعنی رکوع سجدہ وغیرہ کو اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا
 (٩) قعدہ اولی یعنی تین اور چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھنا 
(١٠) دونوں قعدوں میں تشہد پڑھا 
(١١) امام کا نماز فجر ، مغرب ، عشاء ، جمعہ ، عیدین ، تراویھ ، اور رمضان شریف کے وتروں میں آواز سے قرات کرنا ، ظہر ، عصر وغیرہ نمازوں میں آہستہ پڑ ھنا 
(١٢) لفظ سلام کے ساتھ نماز سے علیحدہ ہونا
 (١٣) نماز وتر میں قنوت کے لیے تکبیر کہنا اور دعائے قنوت پڑھنا 
(١٤) دونوں عیدوں کی نماز میں زائد تکبیریں کہنا ۔

    اگر ان میں سے کوئی چیز بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدہ سہو کر لینے سے نماز درست ہو جاتی ہے اور بھولے سے چھوٹنے کے بعد سجدہ سہو نہ کیا جائے یا قصدا کوئی چیز چھوڑ دی جائے تو نماز کا لوٹانا واجب ہو جاتا ہے ۔


    نماز کی سنتیں

    نماز میں اکیس سنتیں ہیں ۔

 تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا ۔
 دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر کھلی اور قبلہ رخ رکھنا ۔
 تکبیر کہتے وقت سر کو نہ جھکانہ ۔
 امام کا تکبیر تحریمہ اور ایک رکن سے دوسرے میں جانے کی تمام تکبیریں بقدر حاجت بلند آواز سے کہنا ۔
سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا ۔
 ثنا پڑھنا ۔ تعوذ یعنی اعوذ با اللہ پڑھنا ۔
 بسم ا اللہ پڑھنا ۔ 
فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورت فاتحہ پڑھنا ۔ 
آمین کہنا ۔
 ثنا اور تعوذ اور بسم اللہ اور آمین سب کو آہستہ پڑھنا ۔ 
سنت کے موافق قرات کرنا یعنی جس جس نماز میں جس قدر قرآن مجید پڑھنا سنت ہے اس کے موافق پڑھنا ۔ 
رکوع اور سجدے میں تین تین بار تسبیح پڑھنا ۔
 رکوع میں سر اور پیٹھ کو ایک سیدھ میں برابر رکھنا اور دونوں ہاتھوں کی کھلی انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑ لینا ۔ 
قومہ میں امام کا سمع ا اللہ لمن حمدہ اور مقتدی کا ربنا لک الحمد کہنا اور منفرد کا تسمع اور تحمید دونوں کہنا ۔
 سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے ، پھر دونوں ہاتھ ، پھر پیشانی رکھنا ۔ 
جلسہ اور قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور سیدھے پاؤں کو اس طرح کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیوں کے سرے قبلے کی طرف رہیں اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھنا ۔
 تشہد میں اشھد ان لا الہ پر کلمہ کی انگلی سے اشارہ کرنا ۔
 قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد دورود پڑھنا ۔ 
درود کے بعد دعا پڑھنا ۔ 
پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا ۔

    ان چیزوں میں سے کوئی چیز اگر بھولے سے چھوٹ جائے تو نماز نہ ٹوٹتی ہے نہ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے نہ گناہ ہوتا ہے اور قصدا چھوڑ دینے سے نماز تو نہیں ٹوٹتی اور نہ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے لیکن چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ہوتا ہے ۔


    نماز کے سنتیں

نماز میں پانچ چیزیں مستحب ہیں ۔

 تکبیر تحریمہ کہتے وقت آستینوں سے دونوں ہتھیلیاں نکال لینا ۔
 رکوع سجدے میں منفرد کا تین مرتبہ سے زیادہ تسبیح کہنا ۔
 قیام کی حالت میں سجدے کی جگہ پر اور رکوع میں قدموں کی پیٹھ پر اور جلسہ اور قعدہ میں اپنی گود پر اور سلام کے وقت اپنے کندھوں پر نظر رکھنا ۔ 
کھانسی کو اپنی طاقت بھر نہ آنے دینا ۔ 
جمائی میں منھ بند رکھنا اور کھل جائے تو قیام کی حالت میں سیدھے ہاتھ اور باقی حالتوں میں بائیں ہاتھ کی پشت سے منھ چھپا لینا ۔


Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)