Showing posts with label Baa ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label Baa ki kahawtain. Show all posts

Saturday, 18 February 2017

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں

 ( ۱)  با اَدب  با نصیب، بے اَدب بے نصیب  : 

  کہاوت کے معنی اور موقع استعمال ظاہر ہیں۔ اَدب انسانی تعلقات کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر کوئی تعلق معتبر نہیں  ہے۔

(۲)  باپ سے بیر، پُوت سے سگائی  :

  پُوت یعنی بیٹا، سگائی یعنی شادی۔ اگر کوئی شخص کسی سے تعلق منقطع کر لے لیکن اس کے قریبی عزیزوں  سے بدستور یگانگت رکھے تو یہ کہاوت بولتے ہیں ۔ اس کہاوت میں  طنز اور غصہ دونوں  کا پہلو نکلتا ہے۔

( ۳)   باپ مارے کا بیر ہے  :

    باپ مارے کا یعنی باپ کو قتل کرنے کا۔ گویا ایسی دشمنی ہے جیسے ایک شخص نے دوسرے کے باپ کو قتل کر دیا ہو۔

( ۴)  بات رہ جاتی ہے اور وقت گزر جاتا ہے  :

  وقت تو بہر حال گزر ہی جاتا ہے لیکن انسان کی کی ہوئی نیکی یا بدی اس کے بعد لوگوں  کو یاد رہ جاتی ہے۔ کہاوت میں نیک کام کرنے کی تاکید مخفی ہے۔

(۵)  بات کا بتنگڑ بنا دیا  :

  بتنگڑ یعنی بہت بڑی بات۔یعنی ذرا سی بات کو بڑھا چڑھا کر ایک ہنگامہ بر پا کر دیا۔ اسی مطلب کے لئے دو کہاوتیں  اور بولتے ہیں ’’ سوئی کا بھالا بنا دیا‘‘ اور ’’ رائی کا پربت بنا دیا‘‘۔

(۶)  بات بدلی، ساکھ بدلی  : 

 آدمی کی زبان پر اس کی ساکھ قائم ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنی بات پر قائم نہ رہے تو اس کی ساکھ نہیں  رہتی۔

( ۷)  بات پوچھیں  بات کی جڑ پوچھیں   :


  کسی معاملہ کی کھوج میں  بال کی کھال نکالی جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu

ب ۔ کی کہاوتیں

( ۸)  بات لاکھ کی، کرنی خاک کی  :

    یعنی بات تو بہت بڑھا چڑھا کر کی لیکن کر کے کچھ بھی نہ دکھا یا۔ اسی مضمون کا شعر دیکھئے:

بہت شور سنتے تھے  پہلو میں  دل کا            جو چیرا  تو اِک قطرۂ خوں  نہ  نکلا

(۹)  بارہ برس دلّی میں  رہے اور بھاڑ جھونکا  :

  اگر کوئی شخص عرصہ تک اَچھے اِمکانات سے دوچار رَہے لیکن اُن سے کچھ حاصل نہ کرے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ دلّی کا ذکر وہاں  میسر معاشی امکانات اور اس کی تہذیبی مرکزیت کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔

( ۱۰ )  بارہ برس بعد گھورے کے بھی دن پھر جاتے ہیں   :

  گھورا یعنی کُوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ۔ وقت کے ساتھ اس مقام پر بھی کوئی کام کی چیز بن جاتی ہے۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ کب کسی بدقسمت آدمی کی قسمت بدل جائے گی۔کہاوت میں یہ نصیحت بھی مخفی ہے کہ کسی کو تحقیر سے نہیں  دیکھنا چاہئے کیونکہ کل اس کی حیثیت بدل سکتی ہے۔

( ۱۱ )  باڑھ کاٹے،  نام تلوار کا  :

  باڑھ یعنی  تلوار کی دھار۔ تلوا رکی کاٹ اُس کی باڑھ  ہی کرتی ہے لیکن نام تلوار کا ہوتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ کام تو کوئی اور کر رہا ہے لیکن نام کسی اور کا ہو رہا ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۱۲)  باڑھ ہی جب کھیت کھائے تو رکھوالی کون کرے  :

  باڑھ یعنی وہ خاردار جھاڑی جو کھیت کے اِرد گرد اُس کو جانوروں  سے محفوظ رکھنے کے لئے لگائی جاتی ہے۔ جب مال کا چوکیدار ہی چوری کرنے لگے تو پھر کس کا بھروسا کیا جائے؟یہ کہاوت تب بولی جاتی ہے جب کوئی ایسا شخص دھوکا دے یا چوری کرے جس کو معتبر سمجھا گیا تھا۔


اردو محاورے م کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu

ب ۔ کی کہاوتیں

(۱۳)  باسی کڑھی میں  اُبال آیا  :
 یہ کہاوت دو مختلف معانی میں  استعمال ہوتی ہے:

        (الف)   باسی کڑھی میں  اُبال بہت جلدی آتا ہے اور اُتنی ہی جلدی بیٹھ بھی جاتا ہے۔چنانچہ اگر کسی شخص کو غصہ بہت جلد آتا ہو اور ذرا سی دیر میں  اُتر بھی جاتا ہو تو اس کو ’’باسی کڑھی میں  اُبال ‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

        (ب)  پرانے اور بھولے بسرے قضئے یاد کر کے انھیں  فساد اور تفرقے کی بنیاد بنایا جائے تو اس وقت یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۱۴)   باسی بچے، نہ کتّا کھائے  :
   یعنی چیز بالکل نپی تلی اور ضرورت کے عین مطابق ہو تاکہ ضائع نہ جائے۔ اس کی مثال ایسے کھانے سے دی گئی ہے جو نپا تلا پکایا جاتا ہے اور باسی ہو کر کتوں  کی نذر ہونے سے بچ رہتا ہے۔

( ۱۵)  بال برا  بر فرق نہیں   :
  یعنی دو چیزوں میں  ذَرّہ برابر بھی فرق نہیں  ہے، تقریباً  ایک ہی جیسی ہیں۔

 ( ۱۶ )  بال بال بچ گئے  :
  بال بال یعنی بہت کم، گویا بس بچ ہی گئے ورنہ نقصان یقینی تھا۔

( ۱۷ )  بال بال موتی پروئے   :
 سولہ سنگھار کئے،  بہت بنے سنورے۔

( ۱۸)  با مسلماں  اللہ اللہ، با برہمن رام رام  :
   یہ کہاوت خوش اخلاق اور وسیع القلب انسان کے بیان میں ہے کہ مسلمان سے ملتا ہے تو سلام یا اَللہ اَللہ کر لیتا ہے اور ہندو برہمن کو  رام رام کہہ کر سلام کر لیتا ہے۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu




ب ۔ کی کہاوتیں

( ۱۹ )  بائیں  ہاتھ کا کھیل ہے  : 

 عام طور سے لوگوں  کے لئے بائیں  ہاتھ سے کام کرنا دشوار ہوتا ہے۔ اگر کسی کے لئے کوئی کام بہت آسان ہو تو کہتے ہیں  کہ یہ  تو اُس کے بائیں  ہاتھ کا کھیل ہے یعنی اس کے لئے بہت آسان ہے۔

(۲۰)  بتیس دانتوں  میں  زبان ہے  :

  انسان کی زبان بتیس دانتوں  میں  ایسی گھری ہوئی ہے جیسے چاروں  طرف دشمنوں  کا نرغہ ہو۔ کہاوت ایسے شخص کی حالت بیان کر رہی ہے جو مخالفین سے گھرا ہوا ہو۔

( ۲۱ )  بچھو کا منتر نہ جانے، بانبی میں  ہاتھ ڈالے  : 

 بانبی یعنی بچھو کا بِل۔ مشہور ہے کہ کچھ لوگوں کوایسا منتر آتا ہے جس سے بچھو کا زہر اثر نہیں  کرتا۔  وہ کوئی احمق ہی ہو سکتا ہے جو ایسے منتر سے تو نا واقف ہے لیکن بچھو کے بِل میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مسئلہ کا حل تو نہ جانتا ہو لیکن کام اپنے ذمہ لینے پر مصر ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۲۲)  بچھڑا کھونٹے کے بل کودتا ہے  : 

گائے کا بچھڑا رسی اور کھونٹے کے سہار ے شوخی سے اچھلتا کودتا ہے۔ اسی طرح آدمی بھی کسی کی پشت پناہی کے بل پر ہی شرارت کرتا ہے۔ محل استعمال ظاہر ہے۔

(۲۳)  بچھو کا ڈنک ہے   :

  شرارتی اور فتنہ پرداز آدمی کے لئے کہا جاتا ہے جو ہرکس وناکس کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔

( ۲۴)  بخشو بی بلی، چوہا  لنڈورا ہی جئے گا    : 


 لنڈورا یعنی بغیر دُم کے۔  قصہ مشہور ہے کہ ایک بلی نے ایک چوہے پر لپک کر حملہ کیا۔ چوہا بھاگ کر اپنے بِل میں  گھس گیا لیکن اس کی دُم بلی کے پنجوں  میں  کٹ کر رہ گئی۔ بلی نے چاپلوسی سے کام نکالنا چاہا اور چوہے سے بولی ’’میاں  چوہے! تم باہر آ جاؤ تو ہم دونوں  مل کر کھیلیں گے اور تم اپنی دُم بھی مجھ سے لے لینا۔‘‘چوہا اس کی چال سمجھ گیا۔ اس نے بلی کو جوا ب دیا کہ ’’ بخشو بی بلی، چوہا لنڈورا ہی جی لے گا۔‘‘  اگر کسی کام میں  کوئی معمولی سی کمی رہ جائے تو کام کی تکمیل کی خاطر بڑا خطرہ مول لینے کی سفارش یا  تنبیہ پر یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu



ب ۔ کی کہاوتیں

( ۲۵ )  بد اچھا بدنام برا   :

  برا آدمی ایک مرتبہ نظروں  مین نہ بھی آئے لیکن بدنام شخص کو ہر ایک جانتا ہے اور اس کو برا سمجھتا ہے چاہے اس سے کوئی گناہ سرزدہوا ہویا نہیں  ہوا ہو۔

( ۲۶ )  بدھیا مری بلا سے، آگرہ تو دیکھ لیا  :

   بدھیا یعنی بھینس۔ ایک دھوبی اپنی بھینس پر بیٹھ کر آگرہ تاج محل دیکھنے گیا۔ واپسی میں اس کی بھینس مر گئی۔لوگوں  نے پوچھا تو اس نے یہ کہاوت دہرا دی۔ یعنی نقصان تو بہت ہوا لیکن دلی آرزو تو پوری ہو گئی۔

(۲۷ )  بدلی کی دھوپ جب نکلے تیز  : 

  بادلوں  کے چَھٹ جانے پر جو دھوپ نکلتی ہے وہ بہت تیز ہوتی ہے۔ اسی طرح ایسے شخص کا غصہ بھی تیز اور خطرناک ہوتا ہے جو اس کو دیر تک دبائے بیٹھا رہے۔

( ۲۸ )  برے وقت کا کوئی ساتھی نہیں  ہوتا  : 

اگر کسی پر برا وقت پڑے تو سب لوگ ساتھ چھوڑ کر اپنی اپنی رَاہ لیتے ہیں اور کسی کو اُس کا دُکھ بٹانے سے دلچسپی نہیں  ہوتی۔ کہاوت اِسی انسانی فطرت کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

( ۲۹)  بر سر فرزند آدم ہر چہ آید بگزرد   : 

 یعنی انسان پر کیسا ہی برا وقت آئے بہر کیف گزر ہی جاتا ہے۔ کہاوت میں  صبر و شکر کی تلقین مخفی ہے کہ آدمی کو ہر حال میں  شکر ادا کرنا چاہئے۔

(۳۰)  بُرے دن دیکھ کر نہیں آتے  : 


  کسی پر برا وقت یہ دیکھ کر نہیں  آتا کہ وہ پہلے سے ہی کتنی مشکلات کا شکار ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں

(۳۱ )  برساتی مینڈک  : 

 برسات میں  بے تحاشہ مینڈک نکل آتے ہیں۔ اسی مناسبت سے برساتی مینڈک سے مراد ایسے لوگوں سے ہے جو وقت سازگار دیکھ کر اپنے مطلب کے لئے آ جاتے ہیں۔ یعنی مطلب کے یار، خود غرض۔

(۳۲ )  بڑے بول کاسرنیچا  :

  بڑا بول یعنی غرور کی بات۔مطلب یہ ہے کہ غرور انجام کار سب کے سامنے ذلیل ہو کر رہتا ہے۔

( ۳۳)  بڑا بول نہ بولئے، بڑا لقمہ نہ کھائیے  :

  بڑی بات اور بہت اچھا کھانا جو دوسروں کو دکھا کر کھایا جائے غرور کی علامت ہیں۔ دونوں  سے بچنا ضروری ہے کیونکہ غرور کا سر آخر کار نیچا ہوتا ہے۔

( ۳۴ )  بڑے میاں  تو بڑے میاں، چھوٹے میاں  سبحان اللہ  : 

 یعنی بزرگ تو خیر جیسے تھے ویسے تھے ہی لیکن ان کی اولاد تو ان سے بھی بڑھ گئی۔ کوئی شخص اپنے پچھلے کام کرنے والوں  سے زیادہ ناکارہ ثابت ہو تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

( ۳۵)  بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال  :

بزرگی تو عقل سے ہوا کرتی ہے، عمر سے نہیں۔

(۳۶)  بسم اللہ کرو  : 

یعنی اللہ کا نام لو اور کام کی ابتدا کرو۔

(۳۷)  بسم اللہ ہی غلط ہوئی  : 

 یعنی کام کی شروعات ہی غلط ہو گئی۔

(۳۸)  بِس کی گانٹھ ہے  : 


  بِس یعنی زہر۔یہ کہاوت بھی اسی معنی میں بولی جاتی ہے جس میں  ’’بچھو کا ڈنک ہے‘‘ استعمال ہوتی ہے۔

اردو محاور ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu



ب ۔ کی کہاوتیں

(۳۹)  بغلی گھو نسا    :

  دوست سے مدد اور سہارے کی امید کی جاتی ہے۔ اس مناسبت سے ایسا دوست جو فریب کار اور دغا باز  ہو بغلی گھُونسا کہلاتا ہے۔

( ۴۰) بغل میں  بچہ شہر میں  ڈھنڈورا  :

  ڈھنڈورا  یعنی مسلسل ڈھولک بجانا۔پرانے زمانے میں  جب ٹی وی، لاؤڈ اسپیکر وغیرہ کچھ نہیں  تھا تو شہر کے لوگوں  کو  ڈھنڈورے کے ذریعہ سرکاری خبریں  پہنچائی جاتی تھیں۔ ڈھنڈورا چوراہے پر پیٹا جاتا تھا اور لوگ جمع ہو کر ڈھنڈورچی سے سرکاری اعلان سن لیا کرتے تھے۔ جب کوئی چیز آنکھوں  کے سامنے ہو لیکن اس کی تلاش چاروں  طرف زور و شور سے کی جا رہی ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۴۱)  بکری کا سا منھ چلتا ہے  : 

 بکری مستقل کھاتی رہتی ہے۔یہ کہاوت ایسے آدمی کے بارے میں  کہی جاتی ہے جو ہر وقت کھاتا رہتا ہو۔

( ۴۲)  بکرے کی ماں  آخر کب تک خیر منائے گی  : 

 یعنی ایک نہ ایک دن تو بکرے کو ذبح ہونا ہی ہے۔بکری اپنے بچہ کوکب تک محفوظ رکھ سکتی ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ برا آدمی آخر کار اپنے انجام کو ضرور پہنچتا ہے۔

( ۴۳)  بگلا بھگت  : 

 یعنی مکار،چالاک،دھوکہ باز۔ بگلا سفید ہوتا ہے، اس مناسبت سے بگلا بھگت وہ شخص ہو گاجو اپنی سفید پوشی سے لوگوں  کو دھوکا دے۔

(۴۴) بگڑا شاعر مرثیہ گو  :


   مرثیہ گوئی کو اُردو شاعری میں  واللہ اعلم کیوں  بڑا فن نہیں  سمجھا جاتا ہے۔ مرثیہ گو کے بارے میں  قدرے تحقیر سے کہا جاتا ہے کہ شاعری پر قدرت نہیں  ہے اس لئے مرثیہ گوئی پر اکتفا کر رہے ہیں۔ یعنی شاعر بگڑ کر مرثیہ گو ہو گیا ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu

ب ۔ کی کہاوتیں

( ۴۵)  بلی کے بھاگوں  چھینکا ٹوٹا  : 

 بھاگوں  یعنی خوش قسمتی سے۔ چھینکا اُس رَسّی کی جھولی کو کہتے ہیں  جس میں  سالن یا دودھ کا برتن رکھ کر باورچی خانہ کی چھت سے لٹکا دیتے ہیں  تاکہ چوہوں  اور بلی سے حفاظت رہے۔ بلّی کی خوش قسمتی سے اگر چھینکا ٹوٹ جائے تو اس کے وارے نیارے ہیں۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ حسن اتفاق سے کام بن ہی گیا۔

( ۴۶ )  بلی چوہے خدا کے واسطے نہیں  مارتی   : 

 یعنی ہر شخص اپنی غرض کا بندہ ہوتا ہے اور اسی مقصد سے کام کرتا ہے جیسے بلی چوہوں  کا شکار اپنا پیٹ بھرنے کے لئے کرتی ہے،ا َ  للہ واسطے نہیں  کرتی۔

( ۴۷)  بلی سے چھیچھڑوں  کی رکھوالی  : 

ظاہر ہے کہ بلّی سے چھیچھڑوں کی رکھوالی کروانے کا کیا انجام ہو گا۔ اگر کسی شخص کا ذاتی مفاد کسی کام کے نہ ہونے سے وابستہ ہے تو اسے اُس کام کا ذمہ دار بنا دینا حماقت ہے۔ایسے موقع پر یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۴۸ )  بلی جب گرتی ہے تو پنجوں  کے بل  : 


بلّی کو اُونچائی سے پھینکئے تو وہ ہمیشہ پنجوں  کے بل گرتی ہے اور چوٹ سے بچ جاتی ہے۔ اسی طرح انسان بھی نقصان کی امکانی صورت میں  ہمیشہ ایسے ذرائع اختیار کرتا ہے جس میں  اس کو کم سے کم نقصان اٹھانا پڑے۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ضرب الامثال ،PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں

(۴۹)  بلی کے بھاگوں  چھینکا ٹوٹا  : 

   جب گھروں  میں  ریفریجریٹر نہیں  ہوتے تھے تو باورچی خانے کی چھت سے عموماً رسی سے بنی ہوئی ایک جھولی لٹکی رہتی تھی جس کو ’’چھینکا‘‘ کہتے تھے۔ رات کو دودھ یا سالن کی ہانڈی اس میں  رکھ دی جاتی تھی۔اس طرح ایک تو کھلی ہوا میں  رہنے سے چیز کے خراب ہونے کا امکان کم ہو جاتا تھا اور دوسرے  وہ چوہوں  اور بلی کی دسترس سے بھی بچ جاتی تھی۔ بلی کے بھاگوں  یعنی قسمت سے اگر چھینکا ٹوٹ جائے تو گویا یہ بلی کی خوش قسمتی ہوئی۔ چنانچہ اگر کسی شخص کی خوش قسمتی سے کوئی ان ہونی بات اس کے حق میں ہو جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔از راہ تفنن طبع چھینکے کی مناسبت سے ایک شعر دیکھئے۔  خیال رہے کہ چھینکے سے چیز اُتارنے کے لئے ہاتھ اوپر اُٹھانے کی ضرورت ہے:

ان سے چھینکے سے کوئی چیز اُتروائی ہے       کام  کا  کام ہے،  انگڑائی کی انگڑائی ہے

 ( ۵۰ )  بلّی پہلے دن ہی ماری جاتی ہے : 


 یعنی جھگڑے یا فساد کے انسدا د کی فکر اوّل روز ہی کی جاتی ہے۔ دیر لگ جائے تو معاملہ ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ اس کہاوت سے ایک قصہ منسوب ہے۔ دو بھائیوں  کی ساتھ ساتھ ہی شادی ہوئی۔ کچھ دنوں  کے بعد دیکھا گیا کہ چھوٹے بھائی کی بیوی تو نہایت فرمانبردار اور خدمت گزار ہے لیکن بڑے بھائی کی بیوی نہایت نک چڑھی اور جھگڑالو ہے اور شوہر کی جان ضیق میں  ڈال رکھی ہے ۔ ایک دن بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے پوچھا کہ ’’ کیا بات ہے کہ تمھاری بیوی ایسی خاموش اور نیک بخت ہے جب کہ میری بیوی ایسی ناکارہ اور بد زبان ہے؟‘‘ چھوٹے بھائی نے کہا کہ ’’بھائی صاحب ! شادی کے بعد جب میں  حجلۂ  عروسی میں  داخل ہوا تو اُسی وقت کہیں  سے ایک بلی کمرہ میں  گھس آئی۔ قریب ہی کونے میں  ایک ڈنڈا  رکھا ہوا تھا۔ میں  نے انتہائی غضب ناک ہو کر ڈنڈا گھما کر جو بلی کو رسید کیا تو وہ وہیں  جاں  بحق ہو گئی۔ بیوی کے دل پر میرے غصہ کی دہشت ایسی بیٹھی کہ وہ اب کسی بات پر مجھ سے اختلاف نہیں  کرتی ہے۔‘‘ بڑے بھائی نے یہ باتیں  غور سے سنیں۔ اُسی رات جب وہ اپنے کمرہ میں  گیا تو اتفاق سے ایک بلی وہاں  گھس آئی۔ اُس نے کونے میں کھڑا ایک ڈنڈا اُٹھا کر بلی کو ایسا رسیدکیا کہ وہ وہیں  گر کر مر گئی۔ یہ دیکھ کر بیوی کو غصہ آ گیا اور اُس نے اپنے خاوند کی اچھی خاصی مرمت کر ڈالی۔ دوسرے دن بڑے بھائی نے چھوٹے سے بتایا کہ اُس کا بتایا ہوا نسخہ تو کسی کام نہ آیا۔ چھوٹے بھائی نے مسکرا کر کہا ’’بھائی صاحب! بلی پہلے ہی روز ماری جاتی ہے!‘‘  محل استعمال کا اسی سے قیاس کر لیجئے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu

(۵۱ )  بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا  :

  کہاوت کے ساتھ ایک فرضی قصہ منسوب ہے۔  ایک بلی مستقل چوہوں  کا شکار کئے جا رہی تھی۔ چوہوں  کی سمجھ میں  نہیں  آتا تھا کہ اس مصیبت سے کس طرح نجات حاصل کی جائے۔ آخر سب سر جوڑ کر بیٹھے۔ ایک چوہے نے تجویز پیش کی کہ بلی کے گلے میں  گھنٹی باندھ دی جائے تو اس کے آنے کی ٹَن ٹَن سُن کر چوہے بھاگ کر اپنی جان بچا سکیں  گے۔ تجویز کو سب نے بہت پسند کیا۔  اتنے میں  ایک چوہے نے پوچھا کہ’’ لیکن بلی کے گلے میں  گھنٹی باندھے گا کون؟‘‘  یہ سن کر چاروں جانب سناٹا چھا گیا۔ گویا کسی مشکل کا حل تجویز کرنا جس قدر آسان ہوتا ہے اسی قدر اس پر عمل در آمد دشوار بلکہ نا ممکن ہو سکتا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ تجویز کے ہر پہلو پر غور کر لیا جائے اور پھر اس کو پیش کیا جائے۔

( ۵۲)  بندر کے ہاتھ ناریل تھما دیا  : 

  بندر کے ہاتھ میں  ناریل دے دیا جائے تو وہ اُسے بے مصرف گھما پھرا کر دیکھے گا لیکن کچھ کر نہ سکے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو کسی کام کا شعور نہیں  رکھتا ہو اس کو انجام نہیں  دے سکتا ہے۔اگر ایسے آدمی کو کوئی مشکل کام دے دیا جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

( ۵۳)  بندر سے کیا آشنائی  : 

 یعنی کم عقل اور  بے مروت کی دوستی کا کیا بھروسا۔ دوستی معتبر آدمی سے رکھنی چاہئے۔

(۵۴)  بندر کیا جانے اَدرک کا سواد  : 

 سواد  یعنی مزا۔ ظاہر ہے کہ بندر کو اَدرک کے مزے کی تمیز نہیں  ہوتی ہے۔ اسی طرح نادان اور بے علم آدمی کو عقل کی باتیں  سمجھنے کا شعور نہیں  ہوتا چنانچہ اس سے ایسی باتیں  کرنا بے سود ہے۔

( ۵۵)  بندر کے ہاتھ آئینہ دے دیا  :

  بندر کے ہاتھوں  میں  آئینہ آ جائے تو وہ حیرت سے اس میں  اپنی صورت دیکھتا ہے۔ چنانچہ کہاوت کا یہی مطلب ہے کہ بے وقوف اور ناسمجھ سے ایسے کام کی اُمید کی جو وہ جانتا ہی نہیں  ہے۔ استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں

(۵۶)  بنئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر گرتا ہے  : 

 یہاں  کچھ سے مراد زمین پر پڑا ہوا روپیہ ہے۔ بنئے کا ہوشیار بیٹا سڑک پر یونہی نہیں  گرتا بلکہ اس بہانے زمین پر پڑا ہوا روپیہ اٹھا لیتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ چالاک اور عیار آدمی کا کوئی کام اپنے فائدے سے خالی نہیں  ہوتا ہے۔

(۵۷)  بندر بانٹ کرنا  : 

 یعنی دو اشخاص کے درمیان کسی شے کی ایسی تقسیم کرنا جس سے فریقین کو تو کچھ نہ ملے لیکن تقسیم کرنے والا سارا مال ہڑپ لے۔ اس کہاوت سے ایک کہانی منسوب ہے۔ ایک بار دو کووّں  کو ایک روٹی مل گئیا ور اس کی تقسیم میں  ان میں  جھگڑا ہونے لگا۔  وہ دونوں  ایک بندر کے پاس روٹی کی تقسیم کے لئے گئے۔ بندر نے روٹی کے دو ٹکڑے کئے لیکن ایک کوّے نے کہا کہ اُس کا ٹکڑا دوسرے کے ٹکڑے سے چھوٹا تھا۔ اس پر بندر نے دوسرے ٹکڑے سے ایک نوالہ کاٹ کر کھا لیا۔ لیکن ایسا کرنے سے اب وہ ٹکڑا پہلے ٹکڑے سے چھوٹا ہو گیا۔ کوّوں  نے پھر شکایت کی تو بندر نے پھر بڑے ٹکڑ ے میں  سے ایک نوالہ کتر کر کھا لیا جس سے پہلا ٹکڑا چھوٹا ہو گیا۔  کوّے شکایت کرتے رہے اور بندر روٹی کھاتا رہا یہاں  تک کہ آخر میں  بندر کے پاس روٹی کا نہایت چھوٹا سا ٹکڑا رہ گیا۔ اس نے کہا کہ ’’اب یہ تو اتنا چھوٹا ہو گیا ہے کہ اس کے دو ٹکڑے ہو ہی نہیں  سکتے۔‘‘   یہ کہہ کر اُس نے وہ آخری ٹکڑا بھی منھ میں  رکھ لیا اور کوّے ایک دوسرے کا منھ دیکھتے رہ گئے۔ اسی کو’’ بندر بانٹ‘‘ کہتے ہیں ۔

(۵۸)  بندر کو ہلدی کی گرہ مل گئی تو پنساری بن بیٹھا  : 

 کسی نا اہل آدمی کو ذرا سی کوئی چیز مل جائے تو وہ اس چیز کا ماہر نہیں  بن جاتا ہے۔ کہاوت میں  کم ظرفوں  کی جانب اشارہ ہے کہ اِن کی ذرا سی داد یا تعریف ہو جائے تو خود کو سب سے اچھا اور برتر سمجھنے لگتے ہیں۔

(۵۹)  بن مانگیں  موتی ملیں  اور مانگے ملے نہ بھیک  : 

ایسی صورتِ حال جب بغیر مانگے تو دولت اور شہرت حاصل ہو جائے لیکن اگر مانگا جائے تو خیرات بھی نہ ملے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۶۰ )  بندھی مٹھی لاکھ برابر:


  جب تک مٹھی بند رہے آدمی کا بھرم قائم رہتا ہے جیسے لاکھ روپے اس کے ہاتھ میں ہوں۔ مٹھی کے کھلتے ہی بھرم ٹوٹ سکتا ہے۔اسی طرح خاموشی کے ٹوٹتے ہی انسان کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ،ضرب الامثال PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں

 ( ۶۱ )  بنیا بھولتا ہے تو زیادہ ہی بتاتا ہے  : 

 بنیا اپنی فطرت اور تربیت میں  چالاک اور خودغرض ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ سودے کی بھول چوک میں  بھی اپنے فائدہ کی صورت نکال لیتا ہے۔یہ کہاوت مطلب پرست اور شاطر لوگوں  کے لئے کہی جاتی ہے۔

(۶۲ )  بنی کے سو ساتھی،بگڑی کا کوئی نہیں   : 

 اچھے وقت سب ساتھ دیتے ہیں  لیکن برے وقت چھوڑ دیتے ہیں۔

( ۶۳)  بوڑھا اور بچہ برابر   : 

 بوڑھا اور بچہ اپنی عادتوں  میں  بہت کچھ ایک سے ہوتے ہیں۔

( ۶۴)  بوٹی دے کر بکرا لے لیا  : 

یعنی تھوڑے کے بدلے میں  بہت وصول کر لیا۔

( ۶۵ )  بویا نہ جوتا، اللہ میاں  نے دیا پوتا  : 

 یعنی بغیر محنت ہی سب کچھ مل گیا، گھر بیٹھے بٹھائے دولت مل گئی۔

( ۶۶ )  بوڑھی گھوڑی لال لگام  : 

 بوڑھی گھوڑی پر لال لگام پھبتی نہیں  ہے۔ کوئی عمر رسیدہ عورت سنگھار کر کے خود کو جوان ظاہر کرنے کی کوشش کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

(۶۷)  بوڑھے  توتے نئے سبق نہیں  پڑھتے  : 


نئی باتیں  سیکھنے کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔جس طرح بوڑھے توتے کو نئی بات سکھانا مشکل ہوتا ہے اسی طرح  عمر رسیدہ لوگوں  میں  بھی نئی باتیں  سیکھنے کی صلاحیت کم رہ جاتی ہے۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال، PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں

(۶۸)  بوڑھ منھ مہاسے، لوگ دیکھیں  تماشے  : 

    چہرے پر مہاسے نکلنا اوائل شباب کی نشانی ہے۔کسی کو بڑھاپے میں  مہاسے نکلیں  تو لوگ اس پر ہنسیں  گے کہ ان پر بڑھاپے میں  جوانی آئی ہے۔ چنانچہ کسی کے ساتھ کوئی انہونی بات ہو تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

( ۶۹)  بہتے دریا میں  ہاتھ دھولو   : 

آسانی سے میسر چیز سے فائدہ اٹھانا ایسا ہی ہے جیسے بہتے دریا میں  ہر شخص ہاتھ منھ دھو لے۔اسی معنی میں ’’ بہتی گنگا میں  ہاتھ دھولو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ گنگا ہندوؤں  کا مقدس دَریا ہے۔ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے مراد بہت کم کوشش سے بہت سی نیکی کمانا ہے۔

( ۷۰)  بہت ٹیڑھی کھیر ہے  : 

  قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے ایک اندھے سے پوچھا کہ’’ کھیر کھاؤ گے؟‘‘ اُس نے جواباً پوچھا کہ ’’کھیر کیا ہوتی ہے‘‘۔ اُس شخص نے کہا کہ ’’حلوہ کی طرح میٹھی اور رنگ میں  سفید‘‘۔  اندھے نے دریافت کیا کہ ’’سفید کا کیا مطلب ہے؟‘‘۔ اُس شخص نے کہا ’’جیسے بگلا۔‘‘  اندھے آدمی نے حیرانی سے پوچھا کہ ’’یہ بگلا کیا ہوتا ہے؟‘‘۔ اُس شخص نے ہاتھ کو بگلے کی شکل میں  ٹیڑھا کر کے اندھے کے سامنے کر دیا۔ اندھے نے ٹٹول کر اس کا ہاتھ چھوا اور بولا ’’بھائی یہ تو بہت ٹیڑھی کھیر ہے۔ ہم سے نہیں  کھائی جائے گی۔‘‘  اسی مناسبت سے اگر کوئی کام مشکل اور پیچیدہ ہو تو اس کو ٹیڑھی کھیر کہتے ہیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۷۱ ) بہت قریب، زیادہ رقیب  : 

 جو شخص جتنا قریبی تعلق رکھتا ہے اُتنا ہی زیادہ وہ رشک وحسد کا شکار ہو سکتا ہے۔

( ۷۲)  بہرا روٹی کی پَٹ پَٹ سن لیتا ہے  : 

 یعنی ہر شخص اپنے مطلب کی بات بالکل اسی طرح سن لیتا ہے جیسے بہرا آدمی روٹی پکانے کی آواز فوراً سُن لیتا ہے۔

( ۷۳)  بہوؤں  سے چور پکڑواتا ہے  :


  بزدل اور کم ظرف آدمی کے لئے کہتے ہیں  کہ ایساگیا گزرا ہے کہ چور آ جائیں  تو خود تو پکڑتا نہیں  اپنی بہوؤں  سے کہتا ہے کہ جاؤ اس کو پکڑو۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال ،PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں

( ۷۴)  بھاگتے چور کی لنگوٹی  :

   کنجوس آدمی سے تھوڑی سی خیرات بھی مل جائے تو اس کو غنیمت جاننا چاہئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں  کہ جو مال ڈوب رہا ہو اگر اس میں  سے کچھ بچ رہے تو غنیمت ہے یا کنگال مقروض  سے قرض کا تھوڑا سا حصہ بھی واپس مل جائے تو اس کو بہت جاننا چاہئے۔ اسی معنی میں ’’ بھاگتے بھوت کی لنگوٹی‘‘ بھی مستعمل ہے۔

( ۷۵)  بھُس کے مول مَلِیدہ  : 

 بھُس یعنی گھاس پھوس۔ملیدہ دودھ اور روٹی سے بنایا جاتا ہے۔کہاوت کا مطلب یہ ہے کے اچھی اور قیمتی چیز سستے داموں  مل گئی۔استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

( ۷۶)  بھیڑ کی لات کیا، عورت کی بات کیا  : 

 بھیڑ کی لات میں  زیادہ چوٹ نہیں  ہوتی اور عورت کی بات کا اعتبار کم ہوتا ہے۔ کہاوت اسی جانب  اشارہ کر رہی ہے۔

(۷۷)  بھلے گھوڑے کو ایک چابک کافی ہے اور بھلے آدمی کو ایک بات  : 

 اگر گھوڑا سیدھے سبھاؤ کا ہو تو وہ چابک کے ایک اشارہ پر مالک کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔لیکن اَڑیل گھوڑا چابک پر چابک کھاتا ہے اور دو لتیاں  مارے جاتا ہے۔ اسی طرح بھلے آدمی کو ایک اشارہ کافی ہوتا ہے۔ محل استعما ل معنی سے قیاس کیا جا سکتا ہے۔

( ۷۸)  بھوک میں  گُولر بھی پکوان  : 

 گولر ایک خود رو درخت کا پھل ہے جو عام طور سے کوئی نہیں  کھاتا۔ ظاہر ہے کہ آدمی بھوکا ہو تو گولر بھی مزے دیتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر جو بھی ہاتھ آ جائے وہ غنیمت ہے۔

(۷۹)  بھیگی بلّی بننا  :


  بھیگی ہوئی بلی کی صورت سے بے بسی اور بزدلی ٹپکتی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے سامنے بزدلی  کا مظاہرہ کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال ،PROVERBS, urdu



ب ۔ کی کہاوتیں

( ۸۰)  بھاڑے کا ٹٹو ہے  :

  بھاڑا یعنی کرایہ، ٹٹو یعنی چھوٹے قد کا گھوڑا۔ کم اصل آدمی جو پیسے لے کر چھوٹا موٹا کام کر دے بھاڑے کا ٹٹو کہا جائے گا۔ بھاڑے اور ٹٹو کہنے میں  تحقیر کا عنصر شامل ہے۔

(۸۱)  بھینس کے آگے بین بجانا  : 

 یعنی نا اہل آدمی سے دانشمندی کی بات کرناایسا ہی ہے جیسے کوئی بھینس کے آگے بین بجائے اور اس سے داد کی اُمید رکھے۔ اسی معنی میں ’’ بھینس کے آگے بین بجائے، بھینس کھڑی پگرائے‘‘ بھی کہتے ہیں۔ دیہاتی زبان میں  پگرانا   بغیر سمجھے بوجھے سر ہلانے کو کہتے ہیں۔

( ۸۲)  بھیک مانگے، آنکھ دکھاوے  :

 یعنی حال تو یہ ہے کہ خود بھیک مانگتا ہے لیکن دماغ ایسے ہیں  کہ لوگوں  سے رعونت سے پیش آتا ہے۔ یہ کہاوت کم حیثیت لیکن بد دماغ شخص کے لئے کہی جاتی ہے۔

( ۸۳) بھونی مچھلی جل میں  پڑی  :

  بھنی ہوئی مچھلی پانی میں  گر جائے تو کھانے لائق نہیں  رہتی۔ کہاوت کا یہی مطلب ہے کہ اچھا خاصہ کام ہو گیا تھا لیکن ذرا سی خرابی یا غفلت نے اسے بگاڑ دیا۔

( ۸۴)   بھان متی کا سوانگ  :

 سوانگ یعنی بہروپ،بناوٹی چہرہ۔بھان متی ایک فرضی کردار ہے۔کہاوت کا مطلب ہے فضول اور از کار رفتہ بہروپ اور تماشہ۔ ایسا عام طور پر لوگوں  کو فریب دینے کے لئے کیا جاتا ہے۔

 (۸۵)  بھُس میں  چنگاری ڈال جمالوؔ دور کھڑی  : 


اناج کاٹ کر اس کے دانے نکال لئے جائیں  تو بھُوسا بچ رہتا ہے۔ بھُس اسی بھوسے کا مخفف ہے۔جمالوؔ  ایک فرضی عورت ہے جس کی فطرت میں  شرارت اور فتنہ پردازی ہے۔ جب کوئی شخص کوئی فتنہ دوسروں  کے نقصان سے بے نیاز ہو کر صرف تماشہ دیکھنے کی خاطر کھڑا کر دے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں

( ۸۶)  بھان متی نے کنبہ جوڑا، کہیں  کی اینٹ کہیں  کا روڑا  :

  روڑا یعنی کنکر پتھر۔ اگر بے مصرف اور بے جوڑ چیزوں  کو ملا کر کام نکالنے کی کوشش کی جائے یا کسی گروہ میں  ایسے لوگ ہوں  جو آپس میں  بنیادی اختلافات رکھتے ہوں  تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔

(۸۷)  بھاری دیکھا پتھر، چوم کر چھوڑ دیا  : 

یعنی جب کام انتہائی مشکل اور محنت طلب نظر آیا تو اس کو دُور سے ہی سلام کر کے ہاتھ جھاڑ کر الگ کھڑے ہو گئے۔جب کوئی مشکل کام سے جان چھڑائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
 ( ۸۸ )  بھول چوک لینی دینی  : 

  بیوپاریوں  کے درمیان پیسے کا لین دین مستقل رہتا ہے۔ اس میں  کسی فریق کی جانب سے غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے لین دین کے بعد وہ کہتے ہیں  ’’ بھول چوک لینی دینی‘‘  یعنی اگر کہیں  غلطی ہو گئی ہے تو وہ نا دانستہ ہے اور اس سے آئندہ نمٹ لیا جائے گا۔  محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

(۸۹)  بھڑوں  کے چھتے کو چھیڑ دیا  : 

   بھڑ کے چھتے کو چھیڑنے کے نتیجہ میں  ہزاروں  بھڑیں آدمی سے لپٹ جاتی ہیں۔ یعنی فسادی اور بد قمار لوگوں  کو خواہ مخواہ نہیں  چھیڑنا چاہئے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔

(۹۰)  بھری تھالی میں  لات ماردی  :

  بھری تھالی یعنی سامنے رکھی ہوئی نعمت۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ خوش قسمتی سے ملی ہوئی نعمت کو ٹھکرا دیا گویا اللہ کی نا شکری کی۔

(۹۱)  بھات چھوڑے، ساتھ نہ چھوڑے  :


  بھات پکے ہوئے چاولوں  کو کہتے ہیں۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ ایسی پکی دوستی ہے کہ نقصان بھی ہو جائے تو تعلق خاطر منقطع نہیں  کریں  گے۔


اردو محاورے ، کہاوتیں ، ضرب الامثال PROVERBS, urdu


ب ۔ کی کہاوتیں
 (۹۲)  بھیڑ چال  : 

 بھیڑ ایک کے پیچھے ایک اندھا دھند چلتی ہے۔ بھیڑ چال یعنی بے سوچے سمجھے تقلید۔

(۹۳)  بیوقوف دوست سے، عقل مند دشمن بھلا  : 

موقعِ استعمال کہاوت کے معنی سے ظاہر ہے۔

 (۹۴ )  بیاہ نہیں کیا لیکن برات میں  تو گئے ہیں   :

  یعنی ایسے گئے بیتے بھی نہیں ہیں کہ مکمل ناکارہ ہوں۔ کام کچھ نہ کچھ تو جانتے ہی ہیں۔

( ۹۵)  بے تلی کا لوٹا  : 

 اگر لوٹے میں  تلی یعنی پیندا نہ ہو تو وہ جہاں  تہاں لڑھکتا پھرتا ہے۔ چنانچہ بے تلی کا لوٹا ایسے آدمی کے لئے بولا جاتا ہے جس کا اعتبار نہ ہو۔

( ۹۶)  بیکار مباش، کچھ کیا کر  : 

 مباش فارسی ہے یعنی مت رہ۔  بیکار یا خالی بیٹھے رہنا عقل مندی کی نشانی نہیں ہے۔ خالی بیٹھنے سے بہتر ہے کہ کچھ نہ کچھ کیا جائے۔  اسی معنی میں   بیکار سے بیگار بھلی  بھی کہا جاتا ہے۔

(۹۷)  بیکاری سے بیگار بھلی  :

  بیگار یعنی بغیر معاوضہ کا کام۔  صاحب اختیار لوگ کمزور لوگوں  سے بیگار کرا لیتے ہیں  اور وہ بیچارے معاوضہ بھی نہیں  مانگ سکتے۔ کہاوت کا یہ مطلب ہے کہ بیگار بھی بیکار بیٹھے رہنے سے بہتر ہے۔

( ۹۸)  بے دال کا بودم : 

  بودم میں  سے  د  نکال دیں  تو  بوم بچ رہتا ہے جس کے معنی اُلو ہیں۔ کسی کو گھما پھرا کر احمق کہنا ہو تو اس کو ’’بے دال کا بودم‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ محل استعمال ظاہر ہے۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)