Showing posts with label history. Show all posts
Showing posts with label history. Show all posts

Saturday, 22 July 2017

Germany Aur Alam-e-islam

جرمنی اورعالم اسلام
ایک دورتھا جب جرمنی عالم اسلام کے دشمن ممالک کی صفِ اوّل میں تھا۔ یہ دورتھاصلیبی جنگوں کا۔ جرمنی کابادشاہ فریڈرک باربروسا ،یورپ کاوہ واحد بادشاہ ہے جس نے دو صلیبی جنگوں میں بھرپور شرکت کی۔ دوسری صلیبی جنگ میں وہ سلطان نورالدین زنگی کے مقابلے پر آیا،وہ دمشق کامحاصرہ کرنے میں بھی کامیاب ہوگیا۔اس وقت دمشق کاقلعہ دار نجم الدین ایوب تھا۔اسی نجم الدین ایوب کابیٹاصلاح الدین ایوبی تھا جس کی عمر اس وقت لگ بھگ چودہ سال تھی۔
قدرت ِ الٰہیہ نے تین عشروں بعداسی صلاح الدین کو شام ومصر کاسلطان بنادیا۔صلاح الدین نے بیت المقدس کو واپس لے کر مسلمانوں کاوقار بلند کردیا۔ اس پریورپ میں ایک آ گ لگ گئی ۔ پادریوںنے بڑے بڑے بادشاہوں کو مسلم دنیا کے خلاف ایسابھڑکایاکہ ہر حکمران اپنی فوج لے کر شام کی طرف جھپٹ پڑا۔شاہانِ یورپ میں اگرچہ برطانیہ کے رچرڈ لائن ہارٹ کانام سب سے زیادہ مشہورہوا،مگر مؤرخین کااتفاق ہے ان میں سے سے بڑالشکر جرمنی کاتھاجس میں اڑھائی لاکھ سپاہی تھے۔ اسلحہ سازی میں بھی جرمنی اس وقت سارے یورپ سے آگے تھا۔ صلاح الدین ایوبی کے اہم مورچے عکاکو فتح کرنے کے لیے جرمنی سائنسدانوںنے جو عجیب وغریب مشینیں عین حالت جنگ میں ایجاد کیں ،عرب مؤرخین ان کاذکر بڑی حیرت اورتعجب سے کرتے ہیں۔
صلاح الدین ایوبی نے یہ جنگ بھی جیت لی اورباقی یورپی لشکروں کی طرح جرمن بھی واپس چلے گئے۔یہ بارہویں صدی عیسوی(چھٹی صدی ہجری) کا واقعہ ہے۔
حقیقت یہ کہ نہ صرف جرمنی بلکہ باقی یورپی ممالک کو بھی عالم اسلام کے خلاف برانگیختہ کرنے والی اصل لابی کیتھولک پادریوں کی تھی جواسلام اورمسلمانوں سے سخت بغض رکھتے تھے۔ یہ بڑے گھمنڈی ، متعصب ،تنگ نظر اورخود غرض قسم کے لوگ تھے اوردرحقیقت انہیں اپنے شہریوں اورعوام کی فلاح وبہبود سے بھی کوئی غرض نہ تھی۔ انہوںنے دین کو بھی کمائی کاایک دھندابنارکھاتھا۔کلیسا غریب کو پیدائشی گناہ کے احساس جرم میں جکڑتاتھااورامراء سے رقوم لے کر انہیں ہر بڑے سے بڑے گناہ کا معافی نامہ دے دیتاتھا۔
جب صلیبی جنگوں میں یورپی ممالک کومسلسل شکستیں ہوئیں اورجنگی اخراجات کی وجہ سے وہ معاشی طورپر تباہ ہوگئے تو یورپ کے بعض بالغ نظرلوگ یہ محسوس کیے بغیر نہ رہے کہ اس تمام تر نقصان کے ذمہ دار پادری ہیں ۔یہ سوچ سب سے پہلے جرمنی میں پیداہوئی جوایک سائنسی ذہن رکھنے والا ملک تھا مگر دوصدیوں تک پادریوں کے اندھے مذہبی تصعب نے اسے مسلم دنیا سے جنگوں میں دھکیل کر کچھ سوچنے سمجھنے سے محروم رکھاتھا۔مگر ٹھوکریں کھاکر جرمنی سب سے پہلے سنبھلا۔وہاںکے ایک پادری مارٹن لوتھر نے پہلی بار کلیسااورپادریوں کے احتساب کانظریہ عام کیا۔اس نے پیسے لے کرمعافی نامے تقسیم کرنے کوایک نیچ حرکت قراردیاجو معاشرے میں بدعنوانی کاسب سے بڑامحرک تھی اورجس کی وجہ سے امراء کے لیے تمام جرائم کادروازہ کھلاہواتھا۔
اس زمانے میں کیتھولک پادریوں کااثرورسوخ اتنا بڑھاہواتھاکہ ان کے مقابلے میں کسی تحریک کا پنپنا بظاہر ناممکن تھا۔یورپ کے بڑے بڑے حکمران ان کے چیلے تھے۔مسلمانوںسے بدترین تعصب رکھنے والے کیتھولک حکمران فرڈی ننڈ اوراس کی ملکہ ازابیلا نے کچھ عرصے پہلے ہی اسپین کی آخری مسلم ریاست غرناطہ کاخاتمہ کیاتھاجس کے بعد انہی پادریوںنے ’’محکمہ احتساب وتفتیش ‘‘ قائم کرکے اسپینی مسلمانوں کو جبراً عیسائی بنانے کی مہم شروع کردی تھی ۔فرڈی ننڈ کے بعدا س کے جانشین چارلس نے خاندانی نام ونسب ، امریکا سے ملنے والی سونے چاندی کی کانوں سے حاصل شدہ دولت اور کیتھولک چرچ کے بخشے ہوئے مذہبی جوش وخروش سے کا م لیتے ہوئے جرمنی، فرانس اوراٹلی سمیت یورپ کے بہت بڑے رقبے کو اسپین میں شامل کرلیا تھا۔ ان حالات میں کیتھولک چرچ کے مقابلے میں کھڑاہونا ،خودکشی کے مترادف تھا مگر مارٹن لوتھر نے اپنی تحریک جاری رکھی،جو فرقہ احتجاجیہ (پروٹیسٹینٹ)کے نام سے مشہورہوگئی۔لوتھرنے عبادت گاہوںمیں دولت کے عوض مغفرت ناموں کی تقسیم کوغلط قراردیا،بت پرستی سے منع کیااورمذہبی پیشواؤں کی اجاردہ داری کوچیلنج کیا۔جرمنی اس تحریک کامرکز بنا،فرانس اورآسٹریا میں بھی اسے مقبولیت حاصل ہوئی اوربہت سے معتدل مزاج لوگوںنے اسے تیزی سے قبول کرلیا ۔پھر کچھ امراء اور شہزادے بھی اس تحریک میں شریک ہوگئے جو اس کے باوجود اس تحریک کواٹلی ،اسپین اورپرتگال کے کیتھولک حکمرانوں کے بے رحم پنجے سے تحفظ کے لیے کسی بڑی طاقت کے بیرونی سہار ے کی سخت ضرورت تھی۔
یہی وہ وقت تھاجب عالم اسلام اورجرمن رہنماؤں میں پہلی بار ایک تعلق قائم ہوا۔ پروٹسٹنٹ تحریک کاسفیر استنبول پہنچااوراس نے ترک خلیفہ سلطان سلیمان اعظم قانونی سے درخواست کی کہ وہ ان کاحامی بن کرانہیں کیتھولک پادریوں اورشاہ چارلس کے عتاب سے بچائے۔
سلیمانِ اعظم نے دانش مندانہ فیصلہ کیااورپروٹسٹنٹ تحریک کی سرپرستی کی قبول کرلی۔ پروٹسٹنٹ سفیر استنبول کاچکرلگاکرواپس یورپ پہنچاتواس کے پاس بابِ عالی کامراسلہ تھا جس میں پروٹسٹنٹ مذہب قبول کرنے والوں کی حمایت کااعلان کیاگیاتھا۔یوں چارلس جوپروٹسٹنٹ تحریک کوبالکل کچل دیناچاہتاتھا،اپنے ارادے میں ناکام ہوگیاکیونکہ سختی برتنے کی صورت میں جرمن رہنما،ترکی کی پشت پناہی کے ساتھ اس کے خلاف بغاوت کردیتے ۔اپنی عظیم سلطنت کوتقسیم سے بچانے کے لیے ۳، اکتوبر۱۵۵۵ء کوچارلس نے بادلِ نخواستہ ملکی قانون میں پروٹسٹنٹ مذہب کی گنجائش کاقانون منظورکرلیا۔اس کے بعد پروٹسٹنٹ تحریک آزادی سے پروان چڑھی ،آسٹریااورجرمنی سمیت بعض یورپی ممالک کایہی سرکاری مذہب بن گیا۔پروٹسٹنٹ چرچ کوماننے والے یہ عیسائی حکمران خصوصاً جرمن سلطنتِ عثمانیہ کے شکر گزار بن گئے ۔وہ جانتے تھے کہ اگرترکی کیتھولک اسپین اورپاپائے روم کے استبداد پر کاری ضربات نہ لگاتا، اورپروٹسٹنٹ فرقے کی حمایت نہ کرتا تو تاجدارِ اسپین اور کلیسائے رومابڑے اطمینان سے اس تحریک کا گلا گھونٹ دیتے۔
اگرچہ اس کے بعدجرمنی اورترکی کے تعلقات یکدم تیزی سے آگے نہیں بڑھے ،جس کی وجہ یہ تھی کہ جرمنی کواسپینی استعمار نے بہت کمزور اورمنتشر کردیاتھا۔تاہم جرمن عالم اسلا م کے خلاف کسی جنگ کا حصہ بھی نہیں بنے۔وہ صدیوں تک چھوٹی چھوٹی جاگیروں اورریاستوں کی شکل میں غیر متحد رہے ۔ جن کاالحاق کبھی اسپین ،کبھی فرانس اورکبھی اٹلی سے ہوتارہا۔ یہی کیتھولک حکومتوں کی سیاست تھی ۔
مگر جرمن قوم تحقیق اورسائنس کے بل بوتے پر آگے بڑھی اورنپولین کے زوال کے بعد وہ فرانس کے تسلط سے آزاد ہوگئی ۔ حیرت انگیز طورپر جرمنوںنے نصف صدی سے بھی کم مدت میں دنیا کی بہترین فوج اوربہترین ٹیکنالوجی کے حامل ملک کی حیثیت حاصل کرلی۔
اس کے ساتھ ہی سلطنتِ عثمانیہ اورجرمنی میں اتحادوتعاون کاایک نیا دور شروع ہوا۔ ترکوںنے یورپ سے کئی محاذوں پر شکستوں کے بعد جرمنی سے حربی وعسکری نظام لیا۔ جرمن سائنسدانوں کے اشتراک سے جدیداسلحہ سازی کے کارخانے قائم کیے جس کے بعد اس کی فوج ایک بارپھر دنیا کی مضبوط ترین فوجوں میں شمار کی جانے لگی۔
اسی باہمی تعلق کی وجہ سے ترکی اورجرمنی نے مل کر جنگ ِ عظیم اوّ ل میں مشترکہ محاذ بنایا۔ افسوس کہ اس جنگ میں یورپی اتحاد جیت گیا ۔شکست کے نتیجے میں جرمنی اورترکی پر اپنے فیصلے نافذکیے گئے ۔ جرمنی سے بادشاہت اورترکی سے خلافت ختم کردی گئی۔
جرمنی کے ساتھ جو سلوک کیاگیا ،وہ بڑا بے رحمانہ تھا،وہاں بادشاہت کی جگہ جو جمہوری حکومت قائم کی گئی ،وہ یورپی مفادات کی نگران تھی۔ بے روزگاری اورمعاشی بحران نے جرمنی کی کمرتوڑ دی۔اس سے ملک میں احساسِ محرومی اوراشتعال پیداہوا۔جرمن فوج کااعلیٰ افسر ایڈولف ہٹلراسی مشتعل فضا کی پیداوارتھا۔ وہ نہایت جوشیلا مگر ذہین اورشاطر انسان تھا ۔اسے جرمنی کے دشمنوں کے لیے قہرِ آسمانی کہا جائے توغلط نہ ہوگا ۔
وہ ایک غریب گھرانے کافرد تھا۔مصوری کاشوقین تھا مگر پہلی جنگ عظیم میں جذبہ حب الوطنی اسے فوج میں لے گیا۔ وہ ایک عام سپاہی تھا مگر اس کاذہن منفرد تھا۔ جرمنی کی شکست کے بعد بہت غوروفکر کرکے اس نے ۱۹۲۰ء میں نازی تحریک کی بنیا دڈالی جس کابنیادی منشوریہ تھاکہ جرمن دنیا کی واحد عظیم قوم ہیں اوران کے دشمنوں کانام ونشان مٹادیناچاہیے۔ اس نے ۱۹۲۲ء میں جرمنی کی جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت کی جو ناکام ہوگئی۔۱۹۲۳ء میں اس نے جرمنی کے چانسلر کے عہد ے کے لیے الیکشن لڑامگراس میں بھی ناکام رہا۔تاہم اس کی انتہاپسند پارٹی عوام میں مقبول ہوتی گئی اور۱۹۳۳ء میں وہ ملک کاوزیراعظم بن گیا۔۱۹۳۴ء میں جرمنی کے صدرِ جمہوریہ ہنڈ ن برگ کی موت کے بعد ہٹلر نے پارلیمنٹ کو نذرآتش کرادیا اورملک کے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس نے صدراوروزیراعظم کاعہدہ ملاکر ملک کی مطلق العنان سربراہی اختیار کی۔اور نازی پارٹی کے سواتمام پارٹیوں کوکالعدم قراردے دیا۔اس نے پورے ملک کوآتش جوالابنادیا۔پوراملک فوجی تربیت لینے اور اسلحہ تیارکرنے میں مشغول ہوگیا۔جرمن سائنسدان قومی جذبے سے سرشار ہوکر دن رات ٹیکنالوجی کو ترقی دینے میں منہمک ہوگئے۔ جرمنی کی اس ترقی میں غیرمعمولی حصہ اس موٹر وے کاتھاجسے عام طورپرشاہراہِ جرمنی اورمقامی طورپر ’’آٹوبھان‘‘ کہاجاتاہے۔اس کی تعمیر خاص انداز میں ہوئی ۔ چارفٹ گہرائی تک پتھروں کی تہہ بچھائی گئی تاکہ سڑک بیٹھنے یاٹوٹنے نہ پائے۔اس سڑ ک نے پورے جرمنی کے ہرشہر کودوسرے شہر سے ملادیا۔ ہٹلر کواس شاہراہ کی تعمیر پر فخر تھا۔ اس نے ایک موقع پر قوم سے خطا ب کرتے ہوئے کہاتھا:ـ’’یہ مت بھولناکہ میں نے تمہیں ’آٹوبھان ‘دی ہے۔‘‘
ہٹلر کی پالیسیوں کی بدولت چند سال کے اندراندر جرمنی پورے یورپ کامدمقابل بن کرابھر آیا۔ ہٹلر سوشلزم کادشمن تھااور روس کوجو پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی کا اصل حریف تھا،نہ بھولنے والامزہ چکھاناچاہتاتھا۔ہٹلر کی اشتراکیت دشمنی کو دیکھتے ہوئے شروع میں برطانیہ اورامریکااس کی مددکرتے رہے تاکہ وہ طاقت پکڑ کرروس سے ٹکرائے اورسوشلز م کے اس ریچھ کاشکم چاک کردے جوسرمایہ دار ممالک کے لیے خطرہ بن چکاہے۔مگر ہٹلرجہاں جرمن قوم کوعظمت دلوانے کاداعی تھا،وہاں وہ ہراس ملک کادشمن تھا جس نے جرمنوں پر زیادتیاں کی تھیں۔اس کااصل ہدف برطانیہ اورروس تھے۔اس کاکہناتھا میں زندہ رہوں یانہ رہوں مگر میں برطانیہ کوایک تیسرے درجے کی طاقت بنا کر چھوڑوں گا۔
جرمنی کومستحکم کرنے کے بعد۱۹۳۶ء میں ہٹلر نے اپنی فتوحات کاآغا زکیا۔ ۱۹۳۸ء میں اس نے اوسٹریا اور۱۹۳۹ء میںچیکوسلواکیہ پر قبضہ کرلیا۔اس وقت تک برطانیہ کایہی خیال تھاکہ جرمنی اس کی منشاء کے مطابق چیکوسلواکیہ کے بعد روس کوپامال کرے گامگرہٹلر نے سمجھ لیاتھاکہ برطانیہ اپنی مشہور ڈپلومیسی (جسے ہٹلر مکاری اورعیاری کہتاتھا) کے ذریعے جرمنی کو ایک بارپھر نیچادکھاناچاہتاہے ۔جب جرمنی روس سے لڑائی میں مصروف ہو گاتواس دوران برطانیہ پورے یورپ کوجرمنی کے خلاف متحد کرنے کاوقت حاصل کرلے گا۔
ہٹلر نے طے کیاکہ وہ کسی کووقت نہیں لینے دے گا۔ ا س نے ۳ ستمبر ۱۹۳۹ء کو ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کردیاجو روس کادروازہ سمجھاجاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی برطانیہ نے پولینڈ کی حمایت میں جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔یہ تھا دوسری عالمی جنگ کاآغاز۔دیکھتے ہی دیکھتے جرمن افواج نے ڈنمارک،ناروے، بلجیم اور ہالینڈ پربھی قبضہ کرلیا۔پولینڈ کے بارے میں روس سے مذاکرات ہوئے اوراسے تقسیم کرلیاگیا۔تقریباً پوراوسطی یورپ جرمنی کے قبضے میں آگیا۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے پسِ پردہ بہت بڑاکرداران جرمن یہودیوں کاتھاجو سیاست و معیشت سے لے کر فوجی افسران پر بھی اثر انداز تھے۔(اسی طرح ترکی کی شکست میں بھی اصل کردار فری میسنری اوریہودیوں کاتھا)ہٹلر نے اس کے ردعمل میں جرمنی کویہودیوں سے پاک کرنے کی مہم شروع کی اورانہیں بڑی تعداد میں قتل اورجلا وطن کیا۔
جرمنی کے مقابلے میں صرف برطانیہ اورفرانس رہ گئے تھے۔ایسے میں ہٹلرنے برطانوی وزیراعظم چمبرلین کو دعوت دے دی کہ وہ برلن آکر مذاکرات کریں ۔ اس سے پہلے جرمن حکام لندن جاکر مـذاکرات کرتے تھے ،مگر اب بات دوسری تھی۔ برطانیہ جرمنی سے خوفزدہ تھا۔ مسٹرچمبرلین برلن گئے۔ یہ کسی برطانی وزیراعظم کاپہلادورہ جرمنی تھا۔ہٹلر نے برطانوی وزیراعظم پر نفسیاتی داؤ آزمایا۔اس نے چمبرلین کے سامنے جرمن افواج کی پریڈ کرائی جو ساڑھے سات گھنٹے تک جاری رہی۔ بری، بحری اورفضائی افواج کے دستوں کاایک تانتاتھا جو ختم ہونے میں نہیں آتاتھا۔ سخت سردی کے باوجود مسٹر چمبرلین کو پسینہ آگیا۔انہوںنے مذاکرات میں جرمنی کوہرقسم کی مراعات دینے پر آمادگی ظاہرکردی ،مگر ہٹلر برطانیہ کوزیر کرنے پر تلا ہوا تھا۔ آخرچمبرلین نے وہیں شکست قبول کرلی ۔ چمبرلین کے اعترافِ شکست پر ۱۹۴۰ء میںبرطانیہ میں سرونسٹن چرچل نے وزارتِ عظمیٰ سنبھال لی ۔ چرچل آہنی عزم کامالک کہلاتاتھا۔اس کے وزیراعظم بنتے ہی دنیا میں مشہور ہوگیاکہ اب کچھ ہوکررہے گا۔ اس دوران ہٹلر ،اٹلی کے فاشسٹ حکمران مسولینی اورجاپان سے اتحاد کرچکاتھا۔ اٹلی اورجرمنی کے مشترکہ حملے میں فرانس دوہفتے بھی مزاحمت نہ کرسکااورجرمن افواج پیرس میں گھس گئیں۔ہٹلر برطانیہ پر قبضہ تونہ کرسکا مگر جرمن توپوں اورطیاروں نے لندن کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔
یورپی طاقتوں کوتہس نہس کرنے کے بعد ہٹلر روس کی طر ف بڑھاجس نے فن لینڈ پر حملہ کرکے ایک نیامحاذ کھول دیاتھا۔روس میں دوسال تک جنگ جاری رہی۔اس دوران ہٹلر کے اتحادی اـٹلی کے حکمران مسولینی کے خلاف بغاوت ہوگئی ۔ اس کی فوجوںنے ہتھیارڈال دیے اورمسولینی گرفتار ہوگیا۔ ۱۹۴۵ء میں اسے پھانسی دے دی گئی۔
ہٹلرنے حدسے زیادہ جوش کی وجہ سے روس میں شکست کھائی اورپسپاہوتے ہوتے برلن پہنچ گیا۔ روسی افواج نے شہر کامحاصرہ کرلیا۔ ہٹلر نے شکست یقینی دیکھ کر خود کشی کرلی ۔اس کے اتحادی جاپان نے آخری کوشش کے طورپر امریکا کے بحری اڈے پرل ہاربر پر حملہ کیاجس کے جواب میں امریکا نے جاپانی شہروں ہیروشیما اورناگاساکی پر ایٹم بم دے مارے۔ جاپان نے بھی ہتھیارڈال دیے ۔ یوں جنگِ عظیم دوم ختم ہوگئی۔ ہٹلر اگر اپنی توجہ صرف یورپی دشمنوں پر مرکوز رکھتاتو چند ہفتوں میں برطانیہ پر قبضہ کرسکتاتھامگر جوشِ انتقام میں اس نے محاذ ِ جنگ کوحد سے زیادہ پھیلادیا۔اس کی غلطیوںنے مسٹر چرچل کویہ موقع دے دیاکہ پوری دنیا کو جرمنی کے خلاف کھڑاکردیاجائے۔ حتیٰ کہ برطانیہ نے روس سے بھی اشتراک کرلیا جسے نیچا دکھانا اس کی قدیم پالیسی تھی۔
ہٹلر اگرچہ ایک بے رحم اورمنتقم مزاج انسان تھا مگر وہ دنیائے اسلام کے لیے ایک رحمت ثابت ہوا۔ استعما ری طاقتوں سے جو بدلہ مسلمان خودنہیں لے سکتے تھے، وہ ہٹلر نے لے کردکھادیا۔ وہ جنگ نہ جیت سکامگراس نے روس،برطانیہ اورفرانس کواتنا کمزورکردیاتھاکہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر وہ سب کنگال اورتباہ ہوچکے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ ان سب نے عالم اسلام میں پھیلائے ہوئے اپنے پاؤں سمیٹے اوراپنی قدیم سرحدوں میں محدودہوجانے پر مجبور ہوگئے۔
اگر جرمنی ،غاصب اورظالم طاقتوں کے خلاف یہ جنگ نہ لڑتا تو برصغیر سمیت عالم اسلام کے متعدد ممالک ابھی تک استعمار کے غلام ہوتے ہٹلر کی موت کے بعد جرمنی ایک بارپھر پامال ہوگیا۔برطانیہ ،فرانس ،روس اورامریکا اس کے مستقبل کے مالک ہوگئے ۔جرمنی میں ان چاروں ملکوں کی فوجیںبٹھادی گئیں۔ان ملکوں نے سارے جنگی اخراجات جرمنی سے وصول کرکے اسے بالکل قلاش کردیا۔جرمنی کے ایک ایک شہر کو تہہ وبالا کردیا گیا۔ پھر اس ملک کوباقاعدہ دوالگ الگ ریاستوں میں تقسیم کردیاگیا۔ مشرقی جرمنی میں روس نے اپنی سوشلسٹ حکومت قائم کرلی جبکہ مغربی جرمنی برطانیہ اورامریکاکاباج گزار بن گیا۔
جرمنی میں صرف امریکا کے ایک لاکھ فوجی مستقل رہتے تھے ۔ان کے سارے مصارف جرمنوں کو اداکرنا پڑتے تھے۔مگر جرمنوںنے ہمت نہیں ہاری ۔انہوںنے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھااورایک ایک قدم کرکے سیاسی خودمختاری اورمعاشی استحکام کی طرف قدم بڑھاتے رہے۔دنیا کی تین جابر طاقتوں روس ، امریکااوربرطانیہ کے چنگل میں رہنے کے باوجود ،وہ مایو س نہ ہوئے۔ ہٹلر نے انہیں غرو روتکبر کاجو سبق پڑھایاتھا،وہ بہت جلد اس کے نقصانات سے آگاہ ہوگئے اوراپنے دھیمے اور ٹھنڈے مزاج کی طرف لوٹ آئے۔انہوںنے اشتعال انگیز نعروں پر توجہ دینا چھوڑدی۔ نازی پارٹی کی مقبولیت ختم ہوگئی اورمعتدل مزاج لیڈروں کی پذیرائی ہوئی۔
جرمن قوم تباہی سے خوش حالی کی معراج پر یونہی نہیں پہنچ گئی ۔ قوم کے ایک ایک فرد نے حتیٰ کہ غریب مزدوروںنے بھی اپنی ذمہ داری کوسمجھا۔۔ ۱۹۵۲ء میں بھارتی وزیراعظم جواہرلال نہرو جرمنی کے دورے پر گئے۔اس وقت جرمنی کاکوئی شہر ایسانہیں تھاجسے اتحادیوںنے تباہ نہ کردیاہو۔ ہر جگہ ملبہ ہی ملبہ دکھائی دیتاتھا۔ جواہر لال نہرونے سناتھاکہ جرمنی کے کارخانوں میں کبھی ہڑتال نہیں ہوتی ۔ وہ ایک کارخانے کی سیر کے لیے چلے گئے اوروہاں کے مزدوروں سے پوچھا:
’’تم لوگ مطالبات کے لیے ہڑتال کیوں نہیں کرتے؟‘‘
وہ بولے:’’ہم ملک کی دوبارہ تعمیر کافرض انجام دے رہے ہیں ۔ جب جرمنی کچھ بن جائے گاتو پھر ہم مطالبات کریں گے۔ ابھی توہمارافرض ملک کی تعمیر ہے۔‘‘
یہ تھا وہ جذبہ جس نے جرمنوں کو دوبارہ دنیا کی مضبوط قوموں میں لاکھڑاکیا۔ اس قوم کاہرفرد ملک کی ترقی کے لیے جٹ گیا۔ حب الوطنی کے جذبے نے انہیں متحد کردیا۔ انہوںنے قابض فوجوں کے اخراجات اپنے خون پسینے سے اداکیے مگر کبھی کسی ملک سے قرض نہیں لیا۔اپنی معاشی حالت کواتنا مستحکم کیا کہ ترقی یافتہ ممالک اس پر رشک کرنے لگے۔
جرمنی ،خود اپنے سب سے بڑے دشمن روس سے انتقام نہ لے سکامگر ۴۵سال بعد یہ کام افغانستان کے غیورمسلمانوں نے کردکھایا۔ مسلمانوں پر جرمنی کاایک قرض تھا۔ جرمنی نے خود تباہ ہوکرمسلم ممالک کے لیے آزادی کے دروازے کھول دیے تھے۔ مسلم دنیانے افغانستان کے میدان میں سوویت یونین کی طاقت کا جنازہ نکال کر ، جرمنی کو سوشلزم کے تسلط سے نجات دلادی۔
۱۹۸۹ء میں روسی فوجیں افغانستان سے واپس ہوئیں ،روس کی ساکھ مٹی میں مل گئی اوراس کا سر نیچاہوتے ہی دنیاسوشلز م کی زنجیروں سے آزاد ہونے لگی۔جرمنوںنے متحد ہوکر دیوار ِبرلن گرادی۔ ۱۲ستمبر ۱۹۹۰ء کومغربی اورمشرقی جرمنی پھر متحد ہوگئے۔
یہ اتحاد کوئی آسان نہیں تھا۔ ۴۵برسوں میں مشرقی جرمنی کامغربی جرمنی سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔مشرقی جرمنی کی زبان تک تبدیل ہوچکی تھی اورنسلِ نور وسی زبان بولتی تھی۔تمدن ،ثقافت ،کلچر سب بدل گیاتھا مگر پھر بھی وہ متحد ہوگئے۔
اب ہم ایک پاکستانی اورایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے خود کودیکھیں ،کیاہمیں شرم نہیں آئے گی کہ ہماراکلمہ ایک، قبلہ ایک ، ایمان ایک، تہذیب وثقافت ایک۔مگراس کے باوجود ہم ہمیشہ الگ ہونے کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے ملک سے کوئی مطلب ہے نہ ملت سے۔ صر ف ہم نہیں عالم اسلام کے اکثر ملکوں کایہی حال ہے ،کہ وہاں مذہبی، صوبائی ،لسانی اورعلاقائی اختلافات کی خلیجیں روزبروز وسیع ہورہی ہیں۔جرمن غیرمسلم ہیں ۔ان کے پاس وہ آفاقی ہدایات اوروہ نورانی منشور کہاں جو قرآن وسنت نے ہمیں دیاہے ،اس کے باوجود ،وہ لگ بھگ نصف صدی الگ رہ کر پھر ایک ہوگئے۔ اس کے مقابلے میں ہم اپنے ملک ہی کی تاریخ دیکھ لیں کہ لاکھوں جانیں قربان کرکے حاصل کردہ مملکت میں ہم پچیس سال بھی متحد نہ رہ سکے۔ مشرقی اورمغربی پاکستان دوالگ الگ ملک بن گئے۔ شایدہم غیرتِ ملی سے دست کش ہوچکے ہیں ۔ہمیں اپنی دنیا آپ پیداکرنے والے نہیں، اپنا نشیمن آپ برباد کرنے والے ہیں۔ ہم قرض لے کر ترقی کرناچاہتے ہیں اورمزید معاشی بدحالی کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ ہم کہتے بہت کچھ ہیں مگر کرنے میں ہم جرمنی کے ان مزدوروں جیسا احساسِ ذمہ داری بھی نہیں رکھتے جنہوںنے اپنے مطالبات کو تعمیرِ وطن کے لیے فراموش کیے رکھا۔ اس جذبے کے سبب جرمن قوم ایک بارپھر اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی۔ آج کا جرمنی چھپن ہزار۹سو ۴۵کلومیٹر پر مشتمل یورپ کاخوشحال ترین ملک ہے۔ خودکفیل ہونے کے اعتبار سے وہ معاشی طورپر امریکا سے زیادہ مستحکم ہے۔جرمن مارک کی قدر امریکی ـڈالر سے اوپر ہے۔جرمن چانسلر (سربراہِ مملکت) کودنیا کی مؤثرترین شخصیات میں سے ایک شمارکیاجاتاہے۔جرمنی ایک بارپھر سائنس اور ٹیکنالوجی کی شاہراہ پرآگے ہی آگے بڑھ رہاہے۔ دنیا بھر میں آج جرمن مشینری کی مانگ ہے۔ قارئین کے لیے یہ بات دلچسپی کی ہوکہ دنیا کاپہلا موٹر کارگیراج جرمنی میں قائم ہواتھا۔یہ ۱۸۰۰ء کی بات ہے۔اس کابانی کارل بینرتھا۔ اسی گیراج میں اس نے مرسڈیز ایجاد کی جو آج بھی دنیا کی بہترین کاروں میں شمار کی جاتی ہے۔

عالم اسلام کے بارے میں جرمنوں کی سوچ اب بھی باقی یورپی دنیا اورامریکاسے مختلف ہے۔وہاں کیتھولک چرچ کاتعصب نہیں ۔جرمنوں میں امریکی یابرٹش گوروں جیسا احساسِ تفاخر بھی نہیں۔ نصف صدی کی غلامی نے انہیں حقیقت آشنابنادیاہے۔ وہ دوست اوردشمن کوپہچانتے ہیں ۔عالم اسلام سے قدیم رشتوں کااب بھی وہاں احتر ام ہے۔ سلیمان اعظم کے احسان کووہ اب بھی نہیں بھولے۔ ترکی کے ساتھ اتحاد کی طویل تاریخ انہیں یاد رہے۔ مسلم دنیا خصوصاً پاکستان کو جرمنی کی شکل میں یور پ میں ایک اچھا معاون مل سکتاہے۔قومی عزت ووقار کے ساتھ اس رخ پر کوشش ضرور ہونی چاہیے۔ ترکی اس سلسلے سب سے مناسب رابطہ کار بن سکتاہے۔ اقتصادی کوریڈور کے اثرات یورپ تک جائیں گے۔ ان یورپی ممالک میں اگر جرمنی کوترجیح دی جائے تو شایداپنی تاریخ کودیکھتے ہوئے ،یہ ایک اچھی پالیسی ہوگی۔

حضرت مولانا اسماعیل ریحان صاحب

Monday, 17 July 2017

Why are Pathan so brave and tougher? history

پٹھان اتنے بہادر اور سخت جان کیوں ہوتے ہیں؟
پٹھان کو آفغان کہتے ہیں آفغان اسلئے کہتے ہیں کہ آفغان حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا اور ان کو جنات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والد حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ جنات کو کہیں کہ مجھے اپنی زبان سیکھائیں سلیمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی درخواست قبول کی اورجنات کو حکم دیا کہا آفغان کو جنات کی زبان سیکھائی جائـے وہ زبان بعد میں پختنوں کی نام سے پہجانی گئی ۔پٹھان کی اصلیت اور قومیت کے بارے میں جو دلائل ہیں وہ یہ کہ پٹھان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے اولاد ہیں, اور قومیت سے بنی اسرائیل ہیں ۔ انگریز مورخین لکھتـے ہیں کہ پٹھان قوم ارجینیا کی ایک حصے میں رہتـے تھـے ارجینیا کے لوگوں کا دعوی هــے کہ افغان یا پٹھان ارجینیا ہم میں سے ہیں۔کیونکہ البانیہ کے اوغان جو کے بعد مین افغان بنا ارجینیا سے ہندوستان کی طرف چل پڑے ایک اور مورخین لکھتے ہیں کہ اسرائیل قبائل بہت تکالیف اور مصیبتوں کے بعد افغانستان میں آباد ہوگئے , جب حضور اکرم ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور لوگ جوق درجوق اسلام مین داخل ہونے لگے تو اس وقت پٹھان قوم کا سردار جس کا نام قیس عبدالرشید تھا اپنے پورے خاندان کیساتھ محمد ﷺ کی حضور میں حاضر ہوا اور محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوگیا اس لئـے دنیا بھر میں جہاں بھی پُختون ہونگـے مسلمان ہونگـے دنیا میں پُختون ہی واحد قوم هــے جس میں اسلام کے بغیر کوئی مذہب نہیں اگر پُختون سے پوچھاجائـے کہ اپ پہلـے مسلمان ہے یا پُختون ؟ تو جواب ہوگا کہ میں پانچ ہزار سال سے پُختون ہوں اور چودہ سو سال پہلـے مسلمان ہوں،۔افغان قوم کو پٹھان کیوں کہا جاتا ہے،؟
جب کافروں نے مکہ پر قبضہ کر لیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رض کو حکم دیا کہ جاؤ اپنے افغانیوں کو بلاؤ جہاد کے لیے ۔خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنھ افغانستان چلے گئے اور افغان سردار قیس عبدالرشید کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ارسال کیا، قیس عبدالرشید کے قیادت میں لشکر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا۔شام کو صحابہ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سنائی کہ افغانی لشکر آتے ہی کافروں کا قاتل عام شروع کر دیا اور تمام کافروں کا خاتمہ کردیا، اور مکہ مکرمہ کو افغانیوں نے فتح کر لیا، تو اسی لمحے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زبان پر یہ الفاظ آئے بطان یہ لقب افغان قوم کو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے طرف سے ملا ہےبطان لفظ عربی زبان کے ہے یعنی سخت ترین لکڑی وہ جو سمندری جہازوں میں لگایا جاتا ہے جیسے سمندری پانی بھی کمزور نہیں کرسکتا ہےیہ لفظ جب برصغیر پہنچا تو بطان سے پٹھان ہوگیا ۔

اسلام آباد (قدرت روزنامہ10 جولائی 2017)

Thursday, 27 April 2017

Kunta kinte Gambia Africa Zulam O Ghulami Ki Dastan

  کنٹا کنٹے انسانیت کے ٹھیکیداروں کے ایک فراموش کردہ ظلم و غلامی کی داستان 
تحریر۔۔۔۔احید حسن

••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
یہ 17500ء کی ایک خوشگوار صبح ہے۔افریقہ کے ملک گیمبیا میں دریائے گیمبیا کے کنارے پہ واقع دیہات جوفورے میں اومورو کنٹے اور بنتا کنٹے کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوتا ہے۔علاقے کی روایت کے مطابق اس کا باپ اومورو کنٹے رات کی تاریکی میں اسے جنگل میں لے جاتا ہے اور دونوں ہاتھوں میں لے کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کنٹا کنٹے۔ وقت گزرتا جاتا ہے۔کنٹا کنٹے قبیلے کی آنکھ کا تارا بن جاتا ہے۔اس کے بعد اس کا ایک بھای پیدا ہوتا ہے۔
 یہ وہ وقت ہے جب امریکا میں یورپی پہنچ چکے ہیں۔اور نئے براعظم کی آبادکاری کے لیے افریقہ سے غلام خرید کر اور اغوا کر کے دھڑا دھڑ امریکہ لے جائے جا رہے ہیں۔گیمبیا میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ہر کوئ ایک دوسرے کو اپنے بچوں،جوانوں اور جوان لڑکیوں کی توبوب یعنی یورپی سفید فاموں سے حفاظت کی تلقین کر رہا ہے۔خوف کی اتنی فضا قائم ہے کہ لوگ باہر اور ویرانوں میں جانے سے ڈرتے ہیں۔
یہ 17677ء کا ایک خوشگوار دن ہے۔کنٹا کنٹے سترہ سال کا ہوچکا ہے۔ یہ سترہ سالہ نوجوان،باپ اومورو کنٹے اور ماں بنتا کنٹے کا جواں سال بیٹا اپنی دادی کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہے۔اسے نہیں معلوم کہ اسے ہمیشہ کے لیے اپنوں سے جدا کرنے والے لوگ اس کے دیہات کے بہت قریب آچکے ہیں۔
 کنٹا کنٹے اپنے چھوٹے بھائی کے لئے ڈھول بنانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرنے قریبی جنگل جاتا ہے۔وہ لکڑیاں اکٹھی کرنے میں مصروف ہے۔اغواکار گورے اپنے چار ساتھیوں کی مدد اس کے گرد اپنا چنگل مضبوط کرنے میں مصروف ہیں اور اچانک اس کے پیچھے بھاگ پڑتے ہیں۔وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتا ہے لیکن اس کا محاصرہ کر کے اسے پکڑ لیا جاتا ہے۔اغوا کار اسے پکڑ کر دریائے گیمبیا کے دہانے اور بحر اوقیانوس کے ساحل کے قریب واقع جزیرے جیمز آئی لینڈ لے جاتے ہیں جو کہ ان قیدیوں کی امریکا روانگی سے پہلے ایک عارضی قیام گاہ ہے۔
 کنٹا کنٹے اور اس کے ساتھی باقی قیدیوں کو برطانوی بحری جہاز لارڈ لیگونیئر پر سوار کر کے چار مہینے کے سمندری سفر پر امریکا میں غلامی کی زندگی کے لیے روانہ کر دیا جاتا ہے۔راستے میں ان قیدیوں کے ساتھ جانوروں والاسلوک ہوتا ہے۔یہ قیدی بری طرح بندھے ہوئے حرکت نہ کر سکنے کے قابل جہاز کے سب سے نچلے درجے میں موجود ہیں جہاں ان کو آلودہ کھانا ناکافی مقدار میں مہیا کیا جاتا ہے۔راستے کی ان صعوبتوں کی وجہ سے سو کے لگ بھگ قیدی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کی لاشوں کو سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔
کنٹا کنٹے بچ جانے والے ان بد نصیب قیدیوں میں شامل ہے جن کو امریکا پہنچ کر قیدیوں کی منڈی میری لینڈ میں ورجینیا کے ایک گورے ماسٹر ویلر کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے۔
ماسٹر ویلر کنٹا کنٹےکو زنجیروں میں جکڑ کر ورجینیا لے آتا ہے اور اسکا افریقی مسلم نام کنٹا کنٹے تبدیل کر کے اسے ٹوبی کا نام دیتا ہے۔جسے کنٹا کنٹے مسترد کر دیتا ہے۔اس پرکنٹا کنٹے کو درخت سے باندھ کر کوڑے مارے جاتے ہیں۔مجبوری میں وہ یہ نام قبول کرتا ہے لیکن اپنی اصل شناخت نہیں بھولتا۔
 دوسری طرف کنٹا کنٹے کے والدین اپنے جواں سال بیٹے کی گمشدگی پہ غم کی شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔لیکن کنٹا کنٹے کا کوئ پتہ نہیں۔ان کو نہیں معلوم کہ ان کے بیٹے کو توبوب یاگورے اغوا کر کے دوہزار کلومیٹر دور امریکا لے گئے ہیں۔
 کنٹا کنٹے اس غلامی میں رہا لیکن اس نے اس غلامی سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تین بار اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔چوتھی بار جب وہ بھاگا تو پکڑے جانے پہ اس کے پاؤں کا اگلا حصہ کاٹ دیا گیا اور آخر اسے اس غلامی سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔اس کی افریقی اور اسلامی شناخت ختم کر کے اسے زبردستی انگریز عیسائ بنا دیا گیا۔لیکن اس نے اپنی اصل پہچان کبھی فراموش نہ کی۔
 کنٹا کنٹے کی ایک ساتھی غلام بیل ویلر سے شادی کی گئ جس سے اس کی بیٹی کزی پیدا ہوئ۔ کنٹا کنٹے نے اپنی ساری داستان اپنی بیٹی کو سنائ۔کزی جب سولہ سال کی ہوئ تو اسے شمالی کیرولینا کے ایک گورے کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔اس کے۔ مالک ٹام لی نے اس کے ساتھ ریپ کیا جس سے ایک بیٹا جارج پیداہوا۔جارج اپنے مالک کے لیے مرغے لڑاتا جس کی بنیاد پہ اسے چکن جارج کا نام دیا گیا۔کزی نے اپنی اور اپنے والد کنٹا کنٹے کی ساری داستان چکن جارج کو سنائ۔دوسری طرف بہت لمبے عرصے بعد کزی کو پتہ چلا کہ اس کی والدہ بیل ویلر کو ایک اور گورے کے ہاتھ بیچ دیا گیا اور اسکا والد کنٹا کنٹے اسکے غم میں 1822ء میں وفات پاگیا۔جارج کی شادی ایک اور افریقن غلام لڑکی میتلدا سے ہوئ جس سے ایک بیٹا ٹام مورے پیدا ہوا۔ٹام مورے کی شادی ایک سیاہ فام غلام لڑکی آئرین سے ہوئ جس سے باقی بچوں کے علاوہ ایک لڑکی سنتھیا پیدا ہوئ۔سنتھیا کی شادی ایک اور امریکی افریقن غلام ول پامر سے ہوئ جس سے برتھا پیدا ہوئ۔برتھا کی شادی ایک اور افریقن امریکی افریقن غلام سائمن الیگزینڈر ہیلے سے ہوئ جس سے ایلیکس ہیلے پیدا ہوئے۔
کنٹا کنٹے نے اپنے اغوا اور افریقہ کی یاداشت کی ساری کہانی کزی کو سنائ  اور پھر کزی سے جارج،میتلدا،آئرین،سنتھیا اور برتھا سے ہوتے ہوئے 1912ء میں پیدا ہو کر 1992ء میں وفات پانے والے ایلیکس ہیلے تک پہنچی اور ایلیکس ہیلے نے اپنی ساری خاندانی یاداشت کو دیکھتے ہوئے اپنے جد امجد کنٹا کنٹے کے اس افریقی خاندان کو ڈھونڈ نکالا جس کے ایک فرد کنٹا کنٹے کو برطانوی اغوا کر کے امریکہ لے گئے تھے۔
قارئیں یہ ظلم و ستم کی وہ داستان ہے جس میں کروڑوں  انسانوں کوافریقہ سے اغوا کرکے جبری مشقت کے لیے امریکہ لے جایا گیا اور ان میں سے آدھی تعداد راستے میں ہی ظلم و ستم کی وجہ سے موت کا شکار ہوگئ اور باقی نسل کو امریکا پہنچا کر ساڑھے تین سو سال زبردستی نسل در نسل غلام بناکر رکھا گیا۔اور ان کے پیدا ہونے والے بچوں میں سے بیٹی کو الگ،باپ کوالگ اور ماں کو الگ بیچا گیا۔اور یہ ظلم و ستم کا وہ سلسلہ تھا جس کی مثال دنیا کی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔بچ جانے والوں سے جبری مشقت کرائ گئ،زبردستی عیسائ بنایا گیا۔معمولی باتوں پر آنکھیں نکالنا اور قتل کرنا آج کے امریکا میں صرف کچھ عشرے پہلے تک عام بات رہی ہے۔
 یہ لوگ اور ملحدین کس طرح اسلام کو ظلم و ستم کا الزام دے سکتے ہیں جب کہ اسلام نے غلامی کا خاتمہ کیا۔اسلامی دنیا میں ہونے والی چھوٹی باتوں پہ شور کرنے والے ملحدین اس ظلم و ستم پہ کیوں خاموش ہیں؟یہ منافقت اور دوہرا معیار اسلام کے ساتھ کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب لبرل و ملحدین کبھی نہیں دے سکیں گے۔
 نیچے دی گئی تصاویر کنٹا کنٹے کے حوالے سے آپ کو گیمبیا اور جیمز آئ لینڈ کی مزید داستان بتائیں گی۔امید ہے یہ مضمون پڑھنے کے بعد آپ حضرات کے لیے اسے سمجھنا مشکل نہیں ہوگا






Wednesday, 29 March 2017

یاجوج و ماجوج کے بارے میں تفصیل سے بحثGog and Magog, history, islamic,



 یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے۔ قرآن مجید کی آیات، توریت کے مطالب اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجہ میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔ بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبل سیک کے آس پاس بتلایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج کے شہر تبت اور چین سے بحرمنجمد شمالی تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوئے تھے۔

 حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں یاجوج و ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے، ان کی روک تھام کیلئے ذوالقرنین نے پہاڑوں کے مابین اونچی اور مضبوط سد (دیوار) تعمیر فرمائی۔ ذوالقرنین اور سدِ ذوالقرنین کا ذکر قرآن کریم کی سورة الکہف میں موجود ہے۔
 جس ذوالقرنین کا قرآن میں ذکر ہے، تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے، تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں یہ داستان کس پر منطبق ہوتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ تاریخ کی کتابوں کے مطالعے کے بعد لوگوں نے ذوالقرنین کی شخصیت اور سدِ ذوالقرنین سے متعلق مختلف اندازے لگائے ہیں۔ بہت سے قدیم علماء اور مفکر سکندرِ اعظم کو ہی ذوالقرنین مانتے ہیں مگر بعض اس کا انکار کرکے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ذوالقرنین دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب تھا۔ جدید زمانے کے کچھ مفسر و مفکر ذوالقرنین کو قدیم ایرانی بادشاہ سائرس اعظم (کورش اعظم)کا دوسرا نام قرار دیتے ہیں اور یہ نسبتاً زیادہ قرین قیاس ہے، مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
 ذوالقرنین کی بابت قرآن نے صراحت کی ہے کہ وہ ایسا حکمران تھا جس کو اللہ نے اسباب و وسائل کی فروانی سے نوازا تھا۔ وہ مشرقی اور مغربی ممالک کو فتح کرتا ہوا ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچا جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے۔ قرآن کریم کی سورة کہف میں بحوالہ یاجوج ماجوج ذوالقرنین کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب وہ اپنی شمالی مہم کے دوران سو دیواروں (پہاڑوں) کے درمیان پہنچا تو وہاں اسے ایسی قوم ملی جس کی زبان ناقابل فہم تھی تاہم جب ترجمان کے ذریعے گفتگو ہوئی تو انہوں نے عرض کیا کہ یاجوج ماجوج اس سرزمین پر فساد پھیلاتے ہیں لہٰذا تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک سد (دیوار) تعمیر کر دے۔ چنانچہ پھر یہ تفصیل ہے۔
 کس طرح ذوالقرنین نے اُس قوم کو یاجوج ماجوج کی یلغار سے بچانے کیلئے دیوار بنائی اور جو دیوار بنائی گئی وہ کوئی خیالی اور معنوی نہیں بلکہ حقیقی اور حسی ہے جو کہ لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنائی گئی تھی جس سے وقتی طور پر یاجوج ماجوج کا فتنہ دب گیا۔ جب یہ دیوار تعمیر ہو گئی تو ذوالقرنین نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے یہ دیوار بنانے اور لوگوں کو آئے دن کی پریشانیوں سے نجات دلانے کی توفیق بخشی مگر ساتھ ہی لوگوں کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ دیوار اگرچہ بہت مضبوط اور مستحکم ہے مگر یہ لازوال نہیں جو چیز بھی بنی ہے بالآخر فنا ہونے والی ہے اور جب میرے رب کے وعدے کا وقت قریب آئیگا تو وہ اس کو پیوندخاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ رہی یہ بات کہ سدِ ذوالقرنین کہاں واقع ہے؟
 تو اس میں بھی اختلافات ہیں کیونکہ آج تک ایسی پانچ دیواریں معلوم ہو چکی ہیں جو مختلف بادشاہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں جنگجو قوموں کے حملوں سے بچائو کی خاطر بنوائی تھیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ مشہور دیوارِ چین ہے جس کی لمبائی کا اندازہ بارہ سو میل سے لے کر پندرہ سو میل تک کیا گیا ہے اور اب تک موجود ہے لیکن واضح رہے کہ دیوارِ چین لوہے اور تابنے سے بنی ہوئی نہیں ہے اور نہ وہ کسی چھوٹے کوہستانی درّے میں ہے ، وہ ایک عام مصالحے سے بنی ہوئی دیوار ہے۔ بعض کا اصرار ہے کہ یہ وہی دیوار ”مارب” ہے کہ جو یمن میں ہے، یہ ٹھیک ہے کہ دیوارِ مارب ایک کوہستانی درے میں بنائی گئی ہے لیکن وہ سیلاب کو روکنے کیلئے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔
 ویسے بھی وہ لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے جبکہ علماء و محققین کی گواہی کے مطابق سرزمین ”قفقاز” میں دریائے خزر اور دریائے سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جو ایک دیوار کی طرح شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ اس میں ایک دیوار کی طرح کا درّہ بھی موجود ہے جو مشہور درّہ ”داریال” ہے۔ یہاں اب تک ایک قدیم تاریخی لوہے کی دیوار نظر آتی ہے، اسی بناء پر بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیوارِ ذوالقرنین یہی ہے۔ اگرچہ سدِ ذوالقرنین بڑی مضبوط بنا ئی گئی ہے جس کے اوپر چڑھ کر یا اس میں سوراخ کرکے یاجوج ماجوج کا اِدھر آنا ممکن نہیں لیکن جب اللہ کا وعدہ پورا ہوگا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کرکے زمین کے برابر کر دے گا، اس وعدے سے مراد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا ظہور ہے۔
 صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضور نبی کریمﷺنے اس دیوار میں تھوڑے سے سوراخ کو فتنے کے قریب ہونے سے تعبیر فرمایا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ یاجوج ماجوج ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر کل کیلئے چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب اللہ کی مشیات ان کے خروج کی ہوگی تو پھر وہ کہیں گے کل اِن شاء اللہ اس کو کھودیں گے اور پھر دوسرے دن وہ اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور زمین میں فساد پھیلائیں گے یعنی انسانوں کو بھی کھانے سے گریز نہیں کرینگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو طور کی طرف جمع کرلے کیونکہ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کسی کے بس میں نہ ہوگا۔
 حضرت عیسیٰ اور ان کے ساتھی اس وقت ایسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں غذا کی سخت قلت ہوگی پھر لوگوں کی درخواست پر حضرت عیسیٰ یاجوج ماجوج کیلئے بددعا فرمائیں گے پس اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں اور کانوں میں کیڑا پیدا کر دے گا جو بعد میں پھوڑا بن جائے گاجس کے پھٹنے سے یہ ہلاک ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ سب سے سب مر جائیں گے ، ان کی لاشوں سے ایک بالشت زمین بھی خالی نہ ہوگی اور ہر طرف ان کی لاشوں کی گندی بو پھیل جائے گی ، پھر عیسیٰ ابن مریم دعا کریں گے تو اللہ جل و شانہ اونٹ کی گردن برابر پرندے بھیجیں گے جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جانے کہاں پھینک دینگے ، پھر ایک بارش ہوگی جس سے کل زمین صاف شفاف ہو جائے گی اور ہر طرف ہریالی و خوشحالی ہوگی۔
 صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی روایت میں صراحت ہے کہ یاجوج ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا، جس سے ان مفسرین کی تردید ہو جاتی ہے، جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ یا منگول ترک جن میں سے چنگیز بھی تھا یا روسی اور چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہو چکا یا مغربی قومیں ان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں، کیونکہ یاجوج و ماجوج کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل و غارت گری اور شر و فساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلمانوں میں نہیں ہوگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ اجل بن جائیں گے

مختصر اردو کہانیاں Short Urdu Stories



ایک دفعہ کا زکر ہے ایک بادشاہ کو دو باز تحفے میں ملے. 
اس نے اتنے خوبصورت پرندے کبھی نہیں دیکھے تھے. 
بادشاہ نے دنوں پرندے اپنے ملازم کو دیے کہ وہ ان کی تربیت کرے. 
 
ایک دن ملازم نے بادشاہ کو بتایا کہ ایک پرندہ اونچی اڑان اڑ رہا ہے اور دوسرا جس دن سے آیا ہے اپنی شاخ سے نہیں اڑ پا رہا. 
بادشاہ نے مملکت کے تمام معالجوں اور جادو گروں کو طلب کر لیا لیکن کوئی اس باز کو نہ اڑا سکا. 
بادشاہ نے اپنے مشیروں کے سامنے یہ مسئلہ رکھا. 
گھنٹے دن اور دن مہینوں میں ڈھل گئے لیکن باز نہ اڑ سکا. 
بادشاہ نے کسی ایسے شخص کو بلانے کا فیصلہ کیا جو قدرت سے گہری دلچسپی رکھتا ہو. 
 
بادشاہ نے اپنے مشیروں کو حکم دیا کہ کسی ایسے شخص کو ڈھونڈ کر لاؤ جو برسوں جنگلات میں گزار چکا ہو. 
اگلے دن بادشاہ باز کو محل کے باغوں میں اڑتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گیا. 
بادشاہ نے اس شخص کو طلب کیا جس نے باز کو اڑایا تھا. 
اس شخص کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا، 
بادشاہ نے پوچھا تم نے باز کو کیسے اڑایا؟ 
وہ مسکرا کر بولا میں نے وہ شاخ کاٹ دی جس پر باز بیٹھا تھا. 
 
میرے تمام فالورز بہن بھائیوں آگے بڑھنے کے مواقع بہت ہیں لیکن ہم آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے. 
ہم اپنی آسائشوں سے قدم باہر ہی نہیں نکالتے. 
نئ آزمائشیں اور نئے تجربے ہی زندگی میں آگے بڑھنے کی وجہ بنتے ہیں. 
آزمائشوں کا مقابلہ کریں یہی کامیابی کا واحد رستہ ہے. 
 
جس دن خود کو پہچان لیں گے اس دن کسی کی جان پہچان کی ضرورت نہیں ہو گی.

مختصر اردو کہانیاں amazing Short Urdu Stories


 انتہائی حیرت انگیز اور ایمان افروز واقعہ 

. 

.
.
حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :
 میرے والد نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگو ں کے درمیان جلوہ فرما تھےکہ اچانک ہمارے قریب سے ایک شخص گزرا جس نے اپنے بچے کو کندھوں پر بٹھا رکھا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ان باپ بیٹے کو دیکھا تو فرمایا :
 ” جتنی مشابہت ان دونوں میں پائی جارہی ہے میں نے آج تک ایسی مشابہت اور کسی میں نہیں دیکھی“ یہ سن کر اس شخص نے عرض کی :
 ” اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے اس بچے کا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے، اس کی ماں کے فوت ہونے کے بعد اس کی ولادت ہوئی ہے
یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :
پوراواقعہ بیان کرو
وہ شخص عرض کرنے لگا :
 ” اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! میں جہاد کے لئے جانے لگا تو اس کی والدہ حاملہ تھی، میں نے جاتےوقت دعا کی :
 ” اے اللہ عزوجل! میری زوجہ کے پیٹ میں جو حمل ہے میں اُسے تیرے حوالے کرتاہوں، تُوہی اس کی حفاظت فرمانا...“
 یہ دعا کر کے میں جہاد کے لئے روانہ ہوگیا جب میں واپس آیا تو مجھے بتایا گیا کہ میری زوجہ کا انتقال ہوگیا ہے، مجھے بہت افسوس ہوا، ایک رات میں نے اپنے چچازاد بھائی سے کہا :
 ” مجھے میری بیوی کی قبر پر لے چلو“ چنا نچہ ہم جنت البقیع میں پہنچے اور اس نے میری بیوی کی قبر کی نشاندہی کی، جب ہم وہاں پہنچے تودیکھا کہ قبر سے روشنی کی کرنیں باہر آرہی ہیں، میں نے اپنے چچازاد بھائی سے کہا :
یہ رو شنی کیسی ہے...؟
اس نے جواب دیا :
" اس قبر سے ہر رات اسی طر ح روشنی ظاہر ہوتی ہے، نہ جانے اس میں کیا راز ہے...؟"
 جب میں نے یہ سنا تو ارادہ کیا کہ میں ضرور اس قبر کو کھود کر دیکھو ں گا، چنانچہ میں نے پھاؤڑا منگوایا ابھی قبر کھودنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ قبر خود بخود کھل گئی، جب میں نے اس میں جھانکا تو اللہ عزوجل کی قدرت کا کرشمہ نظر آیا کہ یہ میرا بچہ اپنی ماں کی گو د میں بیٹھا کھیل رہا تھا جب میں قبر میں اُتر ا تو کسی ندادینے والے نے ندادی :
 " تُو نے جو امانت اللہ عزوجل کے پا س رکھی تھی وہ تجھے واپس کی جاتی ہے، جا ! اپنے بچے کو لے جا، اگر تُواس کی ماں کو بھی اللہ عزوجل کے سپرد کر جاتا تو اسے بھی صحیح وسلامت پاتا... "
 پس میں نے اپنے بچے کو اٹھا یا اور قبر سے باہر نکالا جیسے ہی میں قبر سے باہر نکلا قبر پہلے کی طر ح دوبارہ بند ہوگئی...!!
 صحابی رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا بیٹا اللہ عزوجل کے سپرد کیا تواللہ عزوجل نے اسے قبر میں بھی زندہ رکھا۔
 اے اللہ عزوجل !ہم بھی اپنا ایمان تیرے سپر د کرتے ہیں تو ہمارے ایمان کی حفاظت فرمانا اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمانا... آمین ثم آمین بجاہ حرمت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم...!!


عُیُوْنُ الْحِکَایَات حصہ اوّل مؤلف امام ابوالفرج عبدالرحمن بن علی الجوزی

Tuesday, 28 March 2017

مختصر اردو کہانیاں A little boy Urdu Short Stories



ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ 
ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﯿﻠﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﮭﻞ ﺗﻮﮌ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺟﺎﺗﺎ۔
 ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ 
ﺍﺏ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ 
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﻭﮦ ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻥ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ۔
ﻭﮦ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ 
 ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ “: ﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻮ۔ ” ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﺎ۔
 ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔ ” ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “: ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮯ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﭘﺮﺟﻮ ﺳﯿﺐ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﯿﭻ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ۔
 ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮧ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ۔ ” ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﯿﺐ ﺗﻮﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ﺳﯿﺐ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮨﻮﺋﯽ ۔ 
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺁﯾﺎ۔ 
ﺍﺏ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔
 ﺩﺭﺧﺖ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ : ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻮ ” ۔ﺣﺴﺐ ﺗﻮﻗﻊ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ “: ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺒﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭﮞ۔
 ﮨﻤﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ” ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ “:ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
 ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﮐﺎﭦ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ۔ ” ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﮐﺎﭦ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔
 ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﭨﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ 
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺩﮬﻮﭖ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺁﯾﺎ۔
 ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺐ ﻋﺎﺩﺕ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ “: ﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻮ ” ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺧﻮﺵ ﺣﺎﻝ ﮨﻮﺟﺎﺅﮞ۔ 
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ” ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “: ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﻨﺎ ﻟﻮ۔ 
 ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺣﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮔﮯ۔ ” ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﺎ ﺗﻨﺎ ﮐﺎﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﭨﺎ۔ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﭘﮭﺮ ﺁﯾﺎ۔ 
 ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ “: ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﻮﮞ۔ 
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “: ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺍﻧﺖ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ” ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “: ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﮐﯽ ﺗﻢ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﺳﮑﻮ ” ۔ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “: ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ۔ ” ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯﺍٓﻧﺴﻮ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﮯ “: ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ۔ 
 ﺁﺧﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﮍﯾﮟ ﮨﯿﮟ۔ ” ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “: ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، 
ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ۔ 
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺎﻡ  ﮐﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮏ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﺟﮍ ﭨﯿﮏ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﮕﮧ ﮨﮯ۔ ” ﺗﺐ ﺩﺭﺧﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮﻭ ” ۔ 
ﺁﺩﻣﯽ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ، 
 ﺩﺭﺧﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﮯ۔ ” ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ٓ ﺧﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺐ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ٓ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮨﯿﮟ ﻧﺼﯿﺤﺖ : ﺩﺭﺧﺖ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ۔
 ﺟﺐ ﮨﻢ ﺑﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﯿﻠﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ 

 ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺩﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯہیں 

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)