Showing posts with label hijab. Show all posts
Showing posts with label hijab. Show all posts

Saturday, 22 July 2017

Mukalma Between liberal and a hijab girl

لبرل اور ایک باحجاب لڑکی کے مابین مکالمہ
*ایک فلائٹ پر پاس بیٹھی لڑکی سے ایک لبرل خیالات کا حامل شخص بولا، آئیں کیوں نہ کچھ بات چیت کرلیں، سنا ہےاس طرح سفر بآسانی کٹ جاتا ہے۔ لڑکی نے کتاب سے نظر اُٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور کہا کہ ضرور، مگر آپ کس موضوع پر بات کرنا چاہیں گے؟ اُس شخص نے کہا کہ ہم بات کرسکتے ہیں کہ ، اسلام عورت کو پردے میں کیوں قید کرتا ہے؟ یا اسلام عورت کو مرد کے جتنا وراثت کا حقدار کیوں نیہں مانتا؟ لڑکی نے دلچسپی سے کہا کہ ضرور لیکن پہلے آپ میرے ایک سوال کا جواب دیجیئے۔ اس شخص نے پوچھا کیا؟ لڑکی نے کہا کہ گائے، گھوڑا اور بکری ایک سا چارہ یعنی گھاس کھاتے ہیں، لیکن۔۔۔ گائے گوبر کرتی ہے، گھوڑا لید کرتا ہے اور بکری مینگنی کرتی ہے، اسکی وجہ کیا ہے؟ وہ شخص اس سوال سے چکرا گیا اور کھسیا کر بولا کہ مجھے اسکا پتہ نہیں۔ اس پر لڑکی بولی کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ، آپ خدا کے بناے قوانین ،پردہ ،وراثت اور حلال و حرام پر بات کے اہل ہیں۔۔۔۔ جبکہ خبر آپ کو جانوروں کی غلاظت کی بھی نہیں ؟ یہ کہہ کر لڑکی اپنی کتاب کی طرف متوجّہ ہوگئی*


Monday, 15 May 2017

Hijab Ka Hukam Effat o Asmat Mahfooz Rakhnay Kaliya Hai

عورتوں کے لئے ایک خاص تحریر۔
عورت باہر نکلتے ہوئے کن باتوں کا خاص خیال رکھے گی؟؟ ایک ہلا دینے والی تحریر...... مجھے تو یہ پڑھ کر ایسا لگا ہے کہ کوئی عورت ایسی پتھر دل نہیں ہو سکتی جو یہ باتیں پڑھنے کے بعد بھی پردہ کی پابندی نہ کرے
 __________________________________

سب سے بڑی چیز جو ایک مرد کو عورت کی طرف یا عورت کو مرد کی طرف مائل کرنے والی ہے وہ نظر ہے۔
قرآن پاک میں دونوں فریق کو حکم دیا ہے کہ اپنی نظریں پست رکھیں ۔ سورہ نور، رکوع نمبر چار میں اول مردوں کو حکم فرمایا: ” آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے ۔ بے شک الله تعالیٰ اس سے خوب باخبر ہے، جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔
اس کے بعد عورتوں کو خطاب فرمایا:” اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر یہ کہ مجبوری سے خود کھل جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں اور اپنے حسن و جمال کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں ( سوائے ان کے جو شرعاَ محروم ہیں) اور مسلمانوں ( تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہو تو ) تم سب الله تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ ( سورہ نور،آیت نمبر31)
الله عزوجل سورہ احزاب آیت 33
تفسیر
 ” اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرتیں اور اپنے بدن اور لباس کی زیبائش کا اعلانیہ مظاہرہ کرتی تھیں۔ اس بد اخلاقی اور بےحیائی کی روش کو مقدس اسلام کب برداشت کر سکتا ہے؟ اسلام نے عورتوں کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہریں اور زمانہ جاہلیت کی طرح باہر نکل کر اپنے حسن وجمال کی نمائش نہ کرتی پھریں۔

حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے اور بلاشبہہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان دیکھنے لگتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ سے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے ۔ ( الترغیب والترہیب للمنذری 626 از طبرانی)
تشریح: اس حدیث میں اول تو عورت کا مقام بتایا ہے یعنی یہ کہ وہ چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ عورت کو بحیثیت عورت گھر کے اندر رہنا لازم ہے، جوعورت پردہ سے باہر پھرنے لگے وہ حدود نسوانیت سے باہر ہو گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت جب گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔
 مطلب یہ ہے کہ جب عورت باہر نکلے گی تو شیطان کی یہ کوشش ہو گی کہ لوگ اس کے خدوخال اور حسن وجمال اور لباس و پوشاک پر نظر ڈال ڈال کر لطف اندوز ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ کے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ گھر کے اندر ہوتی ہے جن عورتوں کو الله تعالیٰ کی نزدیکی کی طلب اور رغبت ہے وہ گھر کے اندر ہی رہنے کو پسند کرتی ہیں اور حتی الامکان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔

 اسلام نے عورتوں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عورتیں اپنے گھر کے اندر ہی رہیں کسی مجبوری سے باہر نکلنے کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں متعدد پابندیاں لگائی گئی ہیں مثلاً یہ کہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں اور یہ بھی حکم فرمایا کہ عورت راستے کے درمیان نہ چلے بلکہ راستے کے کنارے پر چلے ،
 مردوں کے ہجوم ( رش یا بھیڑ) میں داخل نہ ہو ۔ اگر اسے باہر جانا ہی پڑے تو پورے بدن پر برقعہ یا لمبی موٹی یا گہرے رنگ والی چادر لپیٹ کر چلے

( راستہ نظر آنے کے لیے ایک آنکھ کا کھلا رہنا کافی ہے ) یا برقعہ میں جو جالی آنکھوں کے سامنے استعمال کی جاتی ہے وہ لگا لیں یا برقعہ یا چادر اس طرح اوڑھ لیں کہ ماتھے تک بال وغیرہ ڈھک جائے اور نیچے سے چہرہ ناک تک چھپ جائے۔ صرف دونوں آنکھیں
( راستہ نظر آنے کے لیے ) کھلی رہیں ۔ آج کل جوان لڑکیاں برائے نام چادر اوڑھ لیتی ہیں اور چادر بھی باریک چکن کی ہوتی ہے اور تنگ بھی ، اس سے ہرگز شرعی پردہ نہیں ہوتا اور ان کا اس چادر کے ساتھ باہر نکلنا بے پردہ نکلنے کی طرح ہے، جو سراسر ناجائز اور حرام ہے .
قرآن کریم میں جس چادر کا ذکر ہے، اس سے ہرگز ایسی چادر مراد نہیں۔ عورتیں جب گھر سے کسی مجبوری کی وجہ سے نکلیں تو بجنے والا کوئی زیور نہ پہنا ہو ۔ کسی غیر محرم سے اگر ضروری بات کرنی پڑے تو بہت مختصر کریں، ہاں ناں کا جواب دے کر ختم کر ڈالیں ۔
گفتگو کے انداز میں نزاکت اور لہجہ میں جاذبیت کے طریقے پر بات نہ کریں ۔ جس طرح چال ڈھال اور رفتار کے انداز دل کھنچتے ہیں اسی طرح گفتار ( باتوں) کے نزاکت والے انداز کی طرف بھی کشش ہوتی ہے ۔
 عورت کی آواز میں طبعی اور فطری طور پر نرمی اور لہجہ میں دل کشی ہوتی ہے ۔ پاک نفس عورتوں کی یہ شان ہے کہ غیر مردوں سے بات کرنے میں بتکلف ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جس میں خشونیت اور روکھا پن ہو، جیسے کہ ” بے تکلف ایسا لہجہ بنائے کہ سننے والا یوں محسوس کرے کہ کوئی چڑیل بول رہی ہے۔


تاکہ کسی بدباطن کا قلبی میلان نہ ہونے پائے اور عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے، محرم بھی وہ ہو جس پر بھروسہ ہو۔ فاسق محرم جس پر اطمینان نہ ہو اس کے ساتھ سفر کرنا درست نہیں ہے ۔ اسی طرح شوہر یا محرم کے علاوہ کسی نامحرم مرد کے ساتھ تنہائی میں رہنے یا رات گزارنے کی بالکل اجازت نہیں ہے اور محرم بھی وہ جس پر اطمینان ہو ۔ یہ سب احکام درحقیقت عفت وعصمت محفوظ رکھنے کے لیے دیے گئے ہیں-

Saturday, 25 March 2017

" مرد کا پردہ "عورت کا پردہ"


" مرد کا پردہ "عورت کا پردہ"

بھائی!! وہ لڑکی تو دیکھ.. کیا لگ رہی ہے..
کیوں بھائی میں کیوں دیکھوں؟ کیا وہ دیکھنے کی چیز ہے جسے دیکھا جائے؟؟
 یار دیکھ تو سہی بڑی بن ٹھن کے تیاری کے ساتھ نکلی ہے نمائش کرنے کا ہی انداز ہے، دیکھ تو سہی یار..

سوری بھائی میں پردہ کرتا ہوں..


 ہیں...!! کیا کہا تو نے پردہ؟؟ دماغ تو ٹھیک ہے تیرا پردہ تو لڑکیاں کرتی ہیں..
میرے بھائی مجھے پتا ہے کہ لڑکیوں کے لیے پردے کا حکم ہے پر بھائی لڑکوں کے لیے بھی پردے کا حکم ہے.. جہاں عورت کے لیے پردے کا حکم ہے وہاں مرد کے لیے بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے اور یہ پردے کا حکم لڑکوں کو پہلے اور لڑکیوں کو بعد میں دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہمیں لڑکیوں کے پردے کا پتا ہے پر اپنے پردے کا پتا ہی نہیں..

مرد کا پردہ کیا ہوتا ہے؟؟

بھائی اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور آیت 30 میں کہا ہے :
مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں..
پھر آیت 31 میں عورت کو پردہ کا حکم ہے..
میرے بھائی ہمیں 31 نمبر آیت کا تو پتا ہوتا ہے لیکن ہمیں 300 آیت کا سرے سے پتا ہی نہیں ہوتا..

عورت اگر پردہ نہیں کر رہی تو وہ اپنے اوپر سراسر ظلم کر رہی ہے، نامہ اعمال تو سیاہ ہو رہا ہے پر کوئی اوباش اس کی عزت پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے.. اس کی بے پردگی آخرت میں رسوائی کا سامان تو ہے پر دنیا میں بھی رسوا ہو سکتی ہے..
لہذاٰ..!! اس کا عمل اس کے ساتھ ہے تمہارے سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں پردہ کرتی تھی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تم نے نظر جھکائی تھی؟؟ کیا اپنا پردہ کیا تھا..؟؟
ہم عورتوں کے بے پردگی پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ حکم تو ہمارے لیے بھی ہے کہ نامحرم عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکا لیا کرو.. بے پردہ عورت کو دیکھنے کی اجازت آپ کو کس نے دی؟؟ اگر عورت نے بے پردہ ہوکر اللہ کا حکم توڑا تو آپ نے بھی اس عورت کو دیکھ کر اللہ کا حکم توڑا..
یاد رکھیں کسی نامحرم عورت کو پردہ کروانا ہم پر فرض نہیں ہے لیکن اپنی نگاہیں نیچی رکھنا اور نامحرم کو نہ دیکھنا فرض ہے.. مرد سارا الزام عورت پر لگا کر خود کو بری الزمہ سمجھتا ہے.. افسوس کہ ہماری ساری نصیحتیں صرف دوسروں کے لیے ہی ہوتی ہیں..
(امید ہے میرے بھائی اسے پردے والی پوسٹ کی طرح نصیحت سمجھ کر قبول کریں گے)
 اللہ پاک آپ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے آمین جزاکم اللہ خیرا.

 


Monday, 20 March 2017

پردے کی اہمیت حکم خداوندی،داڑہی کا مذاق اڑانا ، شلوار قمیص کو دقیانوسیت سمجھنا ، شراب کی حرمت کا انکار کفر ہے ، ہر انسان کے ساتھ محبت کرنا اس کی مدد کرنا ، مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ ہے

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  مسمیٰ اسماعیل خان ولد ججیل ساکنہ محلہ مظفرہ آباد   کوہستان سٹریٹ تحصیل ٹیکسلا ضلع راوالپنڈی کے ساتھ بوجہ رشتہ داری مودت و الفت لا اظہار کرتے ہوئے  تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے جبکہ  مندرجہ ذیل  عقائد و نظریات کا حامل اور ان کا پرچار کرتا رہتا  ہے ۔

1۔موصوف کے مطابق پردے کی کوئی اہمیت نہیں ہے مرد و زن کا آزادانہ میل ملاپ کو قبیح بات نہین سمجھتا ہے بلکہ اس کے مطابق عورت  کوپردہ کروانا اسے قید میں ڈالنے اور اس کی آزادی سلب کرنے کی مترادف ہے ۔

2۔ داڑھی منڈوانا باعث فخر سجھتا ہے ،داڑہی کا مذاق اُڑاتا ہے اور انہیں معاشرے کے لیے ناسور قرار دیتا ہے ۔

3۔ پینٹ کوٹ کو بطور لباس استعمال کرتا ہے ،شلوار قمیص پر ترجیح  اور مہذب سمجھتا ہے ، موصوف کے ہاں شلوار قمیص پہننا دقیانوسیت ہے ۔

4۔ اس کے مطابق شراب ایک سوشل ڈرنک ہے اور اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنا فرد  کی شخصی آزادی کو  سلب کرنا ہے ۔

5۔ کہ موصوف بطور وکیل اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد نہیں کرتا ہے جبکہ اس کا اٹھنا بیٹھنا جاہل اور عقیدت اسلام کے منک طبقات سے ہے اور مسلمانوں کے خلاف  استعمال ہونے کا  اندیشہ ہے ۔

برائے  کرم قرآن و حدیث  کی روشنی میں شخص مذکورہ کے بارے میں حکم شرعی بتایا جائے ۔  مولانا محمد جاوید  حنفی سکن  کوہستان کالونی مانسہرہ  

الجواب حامدا و مصلیا

             مفتی غیب نہیں جانتا ،بلکہ وہ سوال کے مطابق جواب دیتا ہے۔ سوال کے سچ یا جھوٹ ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔ غلط بیانی کرکے اپنے مطلب کا فتویٰ حاصل کرنے سے حرام ، حلال نہیں ہوتا اور نہ حلال ، حرام ہوتا ہے،لہذا اگر کوئی غلط بیانی کے ذریعہ فتویٰ حاصل کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا۔

٭     اس تمہید کے بعد  آپ کے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ اگر واقعۃً شخص مذکور  کے ہاں پردے کی کوئی اہمیت نہیں ،  بلکہ  وہ عورت سے پردہ کروانا اسے قید میں ڈالنے اور اس کی آزادی سلب کرنے کی مترادف سمجھتے  ہیں تو     انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ  اسلام ایک پاکیزہ دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کا حکم  دیتا ہے۔

چنانچہ شخص مذکور کا  یہ عمل شریعت کے  اصولوں ،  ضروری  مسائل اور  حکم خداوندی کا صریح  خلاف  ہے ۔

سورة الاحزاب  :

 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (59) 
ترجمہ:
           
 اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے  پر چادر لٹکا  لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

جس پر فقہاء کرام  رحمہم اللہ تعالی نے کفر کا حکم تجویذ کیا ہے ۔ اس لیے اس کے مرتکب پر تجدید ایمان و تجدید  نکاح لاز م  قرار دیا ہے ۔

وفي  مجمع الانهر في شرح ملتقي الابحر :(1/695)

ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

٭   آج کل معاشرے  کو داڑھی منڈوانے کی لَت لگی ہوئی ہے ،جبکہ داڑھی کا منڈوانا    ناجائز و حرام، موجب فسق  ہے ، اور اس کا مذاق اُڑانا ، توہین کرنا انتہائی خطرناک ہے ۔( یعنی سنت رسول اللہ کی تحقیر کی نیت  سے مذاق اُڑانا کفر ہے) ۔

وفي  مجمع الانهر في شرح ملتقي الابحر :(1/692)

ومن استخف بسنة أو حديث من أحاديثه - عليه الصلاة والسلام - أو رد حديثا متواترا أو قال سمعناه كثيرا بطريق الاستخفاف كفر۔

کما فی البحر الرائق: (5/130)

 ويكفر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وباستخفافه بسنة من السنن۔

٭   شلوار قمیص کو دقیانوسیت کہنے سے سنت یا اولیاء کرام  کا  مذاق اُڑانا ،مقصد ہوتو  کفر   ہے اور  پینٹ کوٹ کو پسند کرنا اور ترجیح دینا  اسے مہذب سمجھنے سے انسان گناہ گار ہوتا ہے ۔ کیوں  یہ کفار و فساق کے ساتھ مشابہت  کو پسند کرنا ہے ۔

و في المرقاة المفاتيح:(7/2782)

- (وعنه) : أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير.

كما في عون المعبود وحاشية ابن قيم :(11/51)

(عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ) بِضَمِّ الْجِيمِ وَفَتْحِ الرَّاءِ بَعْدَهَا مُعْجَمَةٌ الدِّمَشْقِيُّ ثِقَةٌ مِنَ الرَّابِعَةِ (مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ) قَالَ الْمُنَاوِيُّ وَالْعَلْقَمِيُّ أي تزي فِي ظَاهِرِهِ بِزِيِّهِمْ وَسَارَ بِسِيرَتِهِمْ وَهَدْيِهِمْ فِي ملبسهم وبعض أفعالهم انتهى۔

وقال القارىء أَيْ مَنْ شَبَّهَ نَفْسَهُ بِالْكُفَّارِ مَثَلًا مِنَ اللِّبَاسِ وَغَيْرِهِ أَوْ بِالْفُسَّاقِ أَوِ الْفُجَّارِ أَوْ بِأَهْلِ التَّصَوُّفِ وَالصُّلَحَاءِ الْأَبْرَارِ (فَهُوَ مِنْهُمْ) أَيْ في الإثم والخير قاله القارىء
قَالَ الْعَلْقَمِيُّ أَيْ مَنْ تَشَبَّهَ بِالصَّالِحِينَ يُكْرَمْ كَمَا يُكْرَمُونَ وَمَنْ تَشَبَّهَ بِالْفُسَّاقِ لَمْ يُكْرَمْ وَمَنْ وُضِعَ عَلَيْهِ عَلَامَةُ الشُّرَفَاءِ أُكْرِمَ وَإِنْ لَمْ يَتَحَقَّقْ شَرَفُهُ انْتَهَى۔

٭     شراب کے متعلق قرآن مجید کا حکم رجس (پلید،ناپاک)کا ہے۔چونکہ  پلید و ناپاک حرام ہے ،اور احادیث مبارکہ میں اس کی حرمت حد تواتر تک پہنچ چکیں ہیں ۔
         لہذا  امت محمدیہ سب کے سب    کا  شراب کے حرام ہونے پر سب اتفاق ہے ۔اور   شراب کی حرمت  کا انکار  کفر ہے ۔

و في الهداية : (4/394)

والثالث: أن عينها حرام غير معلول بالسكر ولا موقوف عليه: ومن الناس من أنكر حرمة عينها۔۔۔ وهذا كفر؛ لأنه جحود الكتاب فإنه تعالى سماه رجسا والرجس ما هو محرم العين، وقد جاءت السنة متواترة "أن النبي عليه الصلاة والسلام حرم الخمر"؛ وعليه انعقد الإجماع۔

٭       ہر  انسان کے ساتھ محبت کرنا اس  کی مدد کرنا ، مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ ہے ۔ چنانچہ اسلام بیزار لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا  ایک غلط امر ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برے لوگوں کی صحبت سے منع فرماتے ہوئے سخت وعید ارشاد فرمایا ہے ۔ چنانچہ ابن عباس رضی  اللہ   اٰ یت کریمہ  کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  اسلام بیزار لوگوں کے ساتھ دوستی ان کے دین کی وجہ سے ہو تو یہ  کفر ہے اور  جو دنیا میں ان سے دوستی کریگا وہ کل بروز قیامت انہی کے ساتھ اُٹھے گا  ۔

 كما  في تفسير   البحر المحيط  :( 3/ 519)

( وَمَن يَتَوَلَّهُمْ مّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ) قال ابن عباس : فإنه منهم في حكم الكفر ، أي ومن يتولهم في الدين . وقال غيره : ومن يتولهم في الدنيا فإنه منهم في الآخرة .


          لہذا  مندرجہ بالا  سوالوں کے جوب میں ذکر کردہ تفصیل کی   تمام صورتیں آپ کے سامنے  بیان کی گئی ہیں ۔شخص مذکور کو چاہئے کہ  وہ صدق دل سے توبہ و استغفار کرے ۔ اور کسی عالم کی صحبت اختیار کرتے ہوئے  اپنی اصلاح  کو شش کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط.

Sunday, 19 February 2017

Gender identity delicate scarfدوپٹہ صنف نازک کی پہچان


ایک وقت تھا دوپٹہ صنف نازک کی پہچان تھا
مگر آج یہ صنف نازک کے لیے وبال جان بن چکا ہے۔
بازار ہو یا شادی کا فنکشن یا کوئی ٹی وی چینل غرض جس جگہ بھی ملاحظہ فرمائیں
خواتین دوپٹے سے جان چھڑاتی نظر آتی ہیں۔
دوپٹہ عورت کے لباس کا ایک اہم جز ہے
مگر بدن صنف نازک پر یہ ایک لاوارث لاش کی طرح پڑا نظر آتا ہے۔
پتا نہیں عورت ذات کو آنچل سے کیا الرجی ہو گئی ہے؟
ایک وقت تھا کہ یہ رنگین آنچل ماحول کو رنگین بناتے تھے۔
آنچل سے ماحول سات رنگی ہو جاتا تھا۔
آج دوُپٹہ ایک فیشن ہے پردہ نہیں۔
عورتوں کی اس حالت کے مرد بھی برابر کے زمےدار ہیں جو پردے کے ذکر پر کہتے ہیں
کہ ہماری بیوی نیک ہے ،
ہمیں اپنی بیوی پر پورا بھروسہ ہے
اور پردہ تو نظر کا ہوتا ہے ،
یہاں تک دیکھنے اور سننے میں آیا ہے
کہ بعض مردوں نے اپنی با پردہ بیوی کو مجبور کر کے برقعہ اتروا دیا
اب کوئی ان مردوں سے یہ تو پوچھے
کہ انکی بیوی جتنی بھی نیک پارسا ہو ،
 امہات المؤمنين سے بڑھ کر تو نیک ، پارسا اور عبادت گزار تو ہر گز بھی کسی صورت بھی نہیں ہو سکتی ،
جب امہات المؤمنين کو بھی پردے کا حکم تھا تو پھر آج کی عورت کو کیوں نہیں؟
اور پھر عورت کے لفظی معانی ہی پردے کے ہیں !!!
عورت وہ چاند نہیں ہونا چاہئے
جس کو ہر کوئی بےنقاب دیکھے
بلکہ عورت وہ سورج ہونی چاہئے
جسے دیکھنے سے پہلے ہی آنکھ جھک جائے!



مرعوبیت بھی کیا کمال ٹھہری The articles, stories, events hijab

مرعوبیت بھی کیا کمال ٹھہری:


**************************

 سرکاری ملازمت کے دوران سٹاف کے ایک نوجوان نے فیصلہ کیا کہ شلواریا پینٹ ٹخنوں سے اوپر رکھے گا، کچھ دن گزرے تھے کہ باس کے سامنے پیشی ہوگئی۔۔۔
کیا باہر بارش ہورہی ہے جو پائنچے اوپر کیے ہوئے ہیں؟؟؟
 اور جب شارٹس کا فیشن آیا تو کیا ٹخنے، بات گھٹنوں تک جا پہنچی لیکن کوئی خلجان نہیں، کوئی شرمندگی نہیں، کوئی پھبتی نہیں۔۔۔
اگر کوئی کچھ کہہ بھی دے تو دل میں خیال آئے: ہونہہ! اسے کیا پتہ کہ فیشن کیا ہوتا ہے؟؟؟
یہ ہے مرعوبیت۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 جون کی گرمی میں ایک صاحب چلچلاتی دھوپ میں سوٹڈ بوٹد بڑے طمطراق سے مرکز میں جاتے نظر آئے، چہرے پر ایسا فخر تھا کہ گویا بہت تہذیب یافتہ ہیں اور یقیناً ان کے پاس جواب بھی ہوگا کہ گاڑی بھی ایئر کنڈیشنڈ، دفتر بھی ایئر کنڈیشنڈ، گھر بھی ایئر کنڈیشنڈ لیکن عقل کو کیا ماتم کیا جائے کہ بھائی! جون کی گرمی میں کوئی جرسی پہنے تو بیوقوف ٹھہرے اور سوٹ پہن کر مہذب۔۔۔۔
یہ ہے تہذیب کی مرعوبیت جو موسم سے بھی بے نیاز کردے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 داڑھی جو آزادخیالی کی ضد سمجھی جاتی ہے لیکن جیسے ہی مغرب سے فیشن کی صورت میں آئی تو بہت سے آزاد خیال لوگوں کے چہروں پر بطور فیشن آموجود ہوئی۔۔۔
یعنی دین کے نام پر ایک کام جو قابلِ قبول نہیں، وہ فیشن اور مرعوبیت کے سائے میں قابلِ قبول ہوگیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اگر یہی حجاب جس کا مغرب مخالف ہے اور ہمارا مغرب زدہ طبقہ بھی اس سے الرجک ہے اگر بطور فیشن مغرب میں رائج ہوجائے توہماری خواتین کے سروں پر یہی نظر آئے کہ فیشن جو ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کی فطرت میں مرعوبیت ہے، زیرِ اثر آنا ہے۔۔۔۔
ہمارا دین ہماری اس فطرت کو اللہ کی رضا کے تابع کرتا ہے۔۔۔۔
اگر ہم اس کے تابع نہیں کریں گے تو کبھی مغربی تہذیب کے تابع ہونگے کبھی ہندو کلچر کے تابع ۔۔۔۔۔
تابع تو ہونا ہی ہے تو کیوں نہ اسلام کے تابع ہوجائیں۔۔۔
مرعوب تو ہونا ہی ہے کیوں نہ نبی کریم ﷺ سے عملی طور پرمرعوب ہوا جائے یعنی ان جیسا بنا جائے۔۔۔۔
 یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

The civil service will be painted over traditional ankle decide whether a young staff, a few days passed before it became the boss ...
What are the top payncy is raining outside.
 When the fashion shorts has reached the ankle, the knee, but no doubt, no shame, no phbty ...
So if I have something in mind: Hmm! You know that it is fashionable.
This awe.
.................................................. ............
 Look to one's center sutd butd large tmtraq the scorching sun in the heat of June, he was so proud of the face are very civilization and must have an answer to that car air-conditioned office, Air conditioned, home air conditioned mind be mourned brother! Fools wear and suits to be worn by someone in the heat of June decent Jersey ....
It may also be independent of the belief that new civilization ....
.................................................. ..............
 Beard that is antithetical azadkyaly But as soon as the fashion came from the west come as a very liberal fashion on people's faces.
The name of a religion that is not acceptable, it was acceptable under the fashion and awe ....
.................................................. ............
 If the veil of the opponent and our Westernized segment followed the same trend as it is practiced in the West, if he is allergic waited Women who heads the fashion ....
.................................................. ........
The belief in man's nature, come under the influence ....
Our religion is subject to the satisfaction of our nature ....
If we do not obey, then I will serve the West never followed the Hindu culture .....
Why not be the subject of a subject's obvious ...
Why not succumb to the obvious practical prmraub the Prophet and made his way ....
 This is the way to success. 

Monday, 6 February 2017

اسلام حیا، شرم، غیرت و حمیت والا دین ہے

اسلام حیا، شرم، غیرت و حمیت والا دین ہے۔


اس نے انسان کو اونچا مقام دیا۔ اسلام ہرگز یہ گوارا نہیں کرتا کہ انسانوں میں حیوانیت آجائے اور وہ چوپایوں کی طرح 
زندگی گزاریں۔
            
   جو قومیں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے محروم ہیں، حیا اور شرم سے خالی ہیں۔ انسان کا نفس شرم و حیا کی پابندی سے بچتا ہے۔ اس لیے جو دین حق کے پابند نہیں ہوتے، شرم و حیا سے بھی آزاد ہوتے ہیں۔
مردوں اور عورتوں کے اندر جو ایک دوسرے کی طرف مائل ہونے کا فطری تقاضا ہے، شریعت نے ان کی حدود مقرر فرما دی ہیں۔ انسان کو شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑا کہ جو چاہے کھائے پیے، جہاں چاہے نظر ڈالے اور جسسے 
چاہے لذت حاصل کرے۔

عورتوں کو ہدایت دی جہاں تک ممکن ہو گھر کے اندر رہیں۔ آج کل لڑکیوں کو کالج یونیورسٹی میں اعلٰی تعلیم کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اکثر بچیاں پردہ کے اہتمام کیے بغیر گھر سے نکلتی ہیں، پھر رہی سہی کسر مخلوط تعلیم نے پوری کر دی۔ ایک ہی کلاس میں لڑکے لڑکیاں بے پردہ بیٹھتے ہیں اور عجیب بات یہ کہ اسلامیات کی ڈگری لینے والے عین تعلیم کے وقت اسلامی احکام کو پامال کرتے جاتے ہیں۔

سب سے بڑی چیز جو ایک مرد کو عورت کی طرف یا عورت کو مرد کی طرف مائل کرنے والی ہے، وہ نظر ہے، قرآن مجید میں دونوں فریق حکم دیا کہ اپنی نظریں پست رکھیں۔ پردے کے مخالفین دیدہ و دانستہ یا نادانستہ طور پر ان آیات کے مفہوم جاننے سے گریز کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نظریں نیچی رکھنے کا حکم اس لیے تو نہیں کہ درخت اور پتھروں یا دیواروں کو دیکھنا منع ہے، بلکہ یہ حکم اسی لیے دیا کہ نامحرم کی طرف غلط نگاہ نہ جائے۔
بہت سے لوگ اپنے آپ کو دیندار مانتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ پردے کے سخت احکام مولویوں نے ایجاد کیے ہیں. یہ لوگ ملحدین اور بد دین لوگوں کی باتوں سے متاثر ہیں۔ جن لوگوں کے دل میں تھوڑا بہت اسلام سے تعلق باقی ہے، ان کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے شیطان کی نئی چال ہے کہ ہر ایسا حکم جس کے ماننے سے نفس گریز کرتا ہو، مولوی کا تراشیدہ بتا دیتا ہے۔ اور اپنے آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ہم نے اسلام کو جھٹلایا نہ قرآن کو ماننے سے پہلو تہی کی، بلکہ مولوی کے غلط مسئلے سے انکار کیا۔

علمائے حق اپنی طرف سے کسی بھی حکم کو تجویز کر کے امت کے سر نہیں منڈھتے، نہ وہ ایسا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے پڑھے ہوئے نیم ملا چونکہ شریعت کا پورا علم نہیں رکھتے، اسی لیے حقائق شرعیہ اور متفق علیہ مسائل دینیہ کو مولوی کی ایجاد کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔

عورت صنف نازک تو ہے ہی، جذباتی بھی ہے۔ اس کو بہکایا جائے کہ پردہ ترقی کی آڑ اور ملا کی ایجاد ہے، تو نادانی سے اس بات کو باور کرلیتی ہے۔ جلسوں، پارکوں، بازار اور تفریح گاہ میں پردہ شکن ہو کر مردوں کے سامنے گھومتی پھرتی ہے، اور عفت و عصمت کو داغدار کرنے والے عمل کو ترقی سمجھتی ہے۔

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : پہلی نظر کے بعد 
دوسری نظر مت ڈالے رکھو۔ کیونکہ پہلی نظر سے تمہیں گناہ نہیں ہوگا اور دوسری نظر تمہارے لیے حلال نہیں. (بحوالہ کتاب الحجاب مشکوۃ)


بے پردگی میں بد نظری کے بہت سے مظاہرے ہوتے ہیں۔ مرد عورت سب اس کا ارتکاب کرتے نظر آتے ہیں۔ پردہ ہوگا 
تو نظریں محفوظ ہوں گی کیونکہ بری نظر بھی زنا ہے۔

اللہ پاک ہم سب بہنوں کو پردے کی توفیق دے اور دین کے صحیح تقاضوں کو سمجھنے والا بنائے۔ آمین

Tuesday, 10 January 2017

Muhabbatoon ka Humain Karobar Karna Hai A Beautiful Urdu Islamic Poetry


محبتوں کا ہمیں کاروبار کرنا ہے،
 گلوں کے دیس میں کانٹوں سے پیار کرنا ہے،


یہ اپنے دیس سے بے پردگی مٹانی ہے،
 حیا کا، شرم کا سولہ سنگھار کرنا ہے،


ہمیں بنا کے اخوت کے تاج محلوں کو،
 نبی (ص) کی سنتوں کو آشکار کرنا ہے،


بھلا کے ہجر کے لمبے دنوں کی یادوں کو،
 وصال_یار تجھے یادگار کرنا ہے،


وفا کو بانٹنا ہے چار سو میرے یارو،
 حیا کو آبرو، عزت، وقار کرنا ہے،


گلوں کو چاہت و الفت کی چاشنی دے کر،
 خزاں رتوں کو ہمیشہ بہار کرنا ہے،


محاظ_عشق پہ جاؤ تو سوچ کر جانا،
 کہ دوستوں نے ہی پیچھے سے وار کرنا ہے،


ابھی تو منزلوں کا دور تک نشاں ہی نہیں،
 ابھی تو عشق کا دریا بھی پار کرنا ہے،


ہمیں وفا کی شریعت کو عام کرنے کو،
 ابھی تو دشمنوں پہ اعتبار کرنا ہے،


دیار_عشق ہو، خوشیاں ہوں، ساتھ ہو اپنا،
 صدائے دل کو حقیقت شمار کرنا ہے،



خلوص، چاہت و الفت، وفا، محب_وطن،
میؤ جی ایسے اصولوں کو یار کرنا ہے،

Rastoon Par Nachiti Hai Behisi Ka kia Karain A Beautiful islamic Urdu Poetry


راستوں پہ ناچتی ہے بے حسی کا کیا کریں،
 کھلتے کھلتے سو گئی جو اس کلی کا کیا کریں،


بے حیائی کو بڑھائے جو سراسر جا بجا،
 ایسی ہی روشن خیالی روشنی کا کیا کریں،


میں نے بولا حسن کو پردے میں رکھا کیجئے،
 جل کے بولے جا پرے ہم سادگی کا کیا کریں،


عیب لاکھوں ڈھونڈتے ہیں کام گر اچھے کرو،
 ہو برا گر کام ان کی خامشی کا کیا کریں،


آبرو عزت لٹے، آنکھیں زنا دن بھر کریں،
 جو وجہ بنتی ہے اس بے پردگی کا کیا کریں،


سر پہ آنچل ہے نہیں، باتوں میں نرمی بولتی،
 غیر محرم پر لٹائے چاشنی کا کیا کریں،


لیلا مجنوں ہیر رانجھا خود کو سب کہنے لگے،
 جو ہوس کی ابتدا ہے عاشقی کا کیا کریں،


خود کو ہم شرم و حیا ، دیں پر بھی لے آئیں گے پر،
 گھر میں بیٹھے ٹیلی ویژن سازشی کا کیا کریں،



لوگ جس پہ واہ کہہ دیں اور عمل ہی نہ کریں،
 پھر بھلا ہم اس مبشر شاعری کا کیا کریں،

Nachay Sar e MAhfil Koi Aurat Tu Muhazzab A Beautiful Urdu Islamic Poetry By Asar Junpori


ناچے سر محفل کوئی عورت تو مہذب
بیچے سر بازار جو غیرت تو مہذب

راہوں میں لٹائے کوئی عزت تو مہذب
 رنگین کرے دامن عصمت تو مہذب


مخفی ہو حجابوں میں عفیفہ تو گنہگار
 اسلام کی بیٹی کرے پردہ تو گنہگار

اترا کے چلے دل کو لبھائے تو خوش اخلاق

کندن سا بندن اپنا دکھائے تو خوش اخلاق

 غیروں کے لیئےخودکوسجائے تو خوش اخلاق
 اس راہ سے دولت جو کمائے تو خوش اخلاق


مخفی ہو حجابوں میں عفیفہ تو گنہگار
 اسلام کی بیٹی کرے پردہ تو گنہگار


جو چھین لے بیٹی سے ڈوپٹہ تو ترقی
گر کھینچ لے ماؤں کا پردہ تو ترقی

دکھلائے جو بہنوں کا تماشا تو ترقی
 ہو دولت مشترکہ زلیخا تو ترقی


مخفی ہو حجابوں میں عفیفہ تو گنہگار
 اسلام کی بیٹی کرے پردہ تو گنہگار


کر دے جو نئی شے کو پرانا تو نیا دور
عورت بنے شہوت کا نشانہ تو نیا دور

رقصاں ہو سر بزم شبانہ تو نیا دور
 ہو بے حس و بے باک زمانہ تو نیا دور


مخفی ہو حجابوں میں عفیفہ تو گنہگار
 اسلام کی بیٹی کرے پردہ تو گنہگار


ہم جنس پرستی کرےکافرتو خرد مند
ابلیس کا ہو حامی ناصر تو خرد مند

گر چرب زبانی کرے شاطر تو خرد مند
 ہو شرم و حیا سے کوئی قاصر تو خرد مند


مخفی ہو حجابوں میں عفیفہ تو گنہگار
 اسلام کی بیٹی کرے پردہ تو گنہگار
      

Saturday, 7 January 2017

Hijab " Aur Aazadi e Nuswaan K Alambardar

حجاب

جون ایلیا نے کہا تھا.. "آزادی نسواں کے علمبردار حقیقت میں عورت کی آزادی کے نام پر عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں.."
اٹلی کے انٹیریر منسٹر رابرٹ مارونی سے جب کہا گیا کہ "جناب ! ضرورت اس امر کی ہے کہ حجاب کے بین لا پہ دستخط کر ہی دیے جائیں.." رابرٹ مارونی اس وقت چائے کا مگ ہاتھ میں لیے کھڑے تھے ، سامنے لگے پور ٹریٹ کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگنے.. "اگر کنواری ماں مریم اپنی تمام تصویروں میں حجاب پہنے ظاہر کناں ہو سکتی ہے تو تم کون ہوتے ہو مجھے کہنے والے کہ میں حجاب بین لا پہ دستخط کر دوں..؟؟؟"
یمن کی عرب لڑکی توکل کامران کو نوبیل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا.. جب وہ سپیچ کرنے ڈائس پہ آئی تو سٹیج سیکرٹری نے مائیک میں سوال کیا.. "حیرت ہے آپ اک پڑھی لکھی خاتون ہیں , پھر بھی حجاب کرتی ہیں..؟" .اس نے کہا.. "زمانہ قدیم میں جب لوگ جاہل تھے تو ننگے تھے ، کپڑوں سے باہر تھے.. جو کچھ آج میں پہنے کھڑی ہوں یہ تہزیبِ انسانیت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے , نا کہ رجعت پسندی.. اب اگر کوئی کپڑوں سے باہر آتا ہے تو وہ زمانہ قدیم کو تنزلی ، رجعت پسندی ہوگی.."
سید علی ہجویری رحمہ اللہ نے کہا تھا.. "عادت بھی حجاب ہے.."
یعنی عادات و اطوار میں اک بچ بچاؤ , الگ تھلگ , ملبوسیت کے جیسا ہی حجاب ہے..
 
فرانس ، جرمنی ، ناروے ، کینڈا ، ہالینڈ ، مشرقی مغربی یورپ میں بل دھونس اور بندوق کی نوک پہ حجاب پہ پابندی کے بل کرائے گئے ، راہ چلتی مسلم خواتین کو عبائیوں سے پکڑ کر سڑکوں پہ گھسیٹا گیا , جرمانے عائد کیے گئے , جیلوں میں ڈالا گیا ___ فقط اپنی مرضی کے کپڑے زیب تن کرنے پر..؟ تف کہوں عقل پہ.... کیا زمانے نے اتنی ترقی کرلی کہ اب اپنی مرضی سےکوئی عورت کپڑے بھی نہیں پہن سکتی..؟؟
کیا یہ آزادی اظہار ہے __ ؟؟؟
ایک آدمی سڑک بیچوں بیچ جا رہا تھا.. زور زور سے گول دائرے میں بانس کا ڈنڈا گھما رہا تھا.. بانس کی نوک اک راہگیر کی ناک کے قریب سے گزری تو اُس نے اُسے روک کر پوچھا.. "جناب یہ آپ کیا کر رہے ہیں..؟؟" اس نے کہا.. "میں اپنی آزادی کا اظہار کر رہا ہوں.." راہگیر نے کہا.. "دیکھیے جناب ! درست مگر یاد رہے ! آپ کی آزادی وہاں ختم ہو چکی ہوتی ہے جہاں سے میری” ناک” شروع ہوتی ہے ___!!"
حیرت تو یہ کہ اس پہ پابند سلاسل کرنے والے کہاں کے روشن دماغ ہوئے جاتے ہیں..؟ ہمیں کہتے ہیں "تیغ و سناں کی نوک پر اسلام رائج کیا"... کیا ابھی یہ کوئی جواز رکھتے ہیں کہ بہ نوک بندوق پابند ِ سلاسل بے حیائی ، روشن خیالی پھیلانے والے یہ نہیں تو کون ہیں..؟؟ حجاب جرمانہ و جیل کی نوک پہ صبط کرنے والوں کو کروڑہا بار سلیوٹ مارنے کو دل کرتا ہے.. اپنی تہزیب کی چورن آزادی اظہار کے نام پر بیچتے بیچتے ، ہمارے شعائر جب رو برو ہوں تو ہم اپنے آزادی اظہار حق ایکے دم ناجانے کیوں کھو دیتے ہیں.. یہ یک طرفہ آزادی اظہارِ رائے کیا انکی ضمیر کی عدالت میں انہیں رسوا نہیں کرتا..؟؟
ان یک طرفہ بے غیرتوں میں انہی میں سے کوئی ایک آدھا صاحب ظرف بھی ہوتا ہے جو انہی کے منہ پہ تماچہ جڑ کے انہیں انکی اصل سے آشکار کرتے ہوئے کہتا ہے.. یورپ کی انسانی حقوق کونسل کے کمشنرتھامس حماربرگ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”اس طرح کے اقدامات سے خواتین کو آزادی دینے کی بجاے انھیں معاشرتی زندگی سے ہی نکال باہر کیا جارہا ہے.. درحقیقت برقع پر پابندی ، یورپ کے انسانی حقوق کے معیارات اور خاص طور پر کسی کی نجی زندگی اور ذاتی شناخت کے احترام کے منافی ہے.. جس طریقے سے مسلم خواتین کے لباس کے معاملے کو اچھالا جارہا ہے اس سے نمٹنے کے لیے بحث اور قانون سازی کی ضرورت ہے.."

امریکا ہی کی ایک ہسپانوی النسل نومسلمہ نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”جب میں مغربی لباس میں ہوتی تھی تو مجھے خود سے زیادہ دوسروں کا لحاظ رکھنا پڑتا تھا.. گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی نمائش کی تیاری ایک کرب انگیز اور مشکل عمل تھا.. پھر جب میں کسی اسٹور ، ریسٹورنٹ یا کسی ایسے مقام پر جہاں بہت سارے لوگ جمع ہوں ، جاتی تھی تو خود کو دوسروں کی نظروں میں جکڑی ہوئی محسوس کرتی تھی.. میں بظاہر آزاد وخود مختار ہوتی تھی لیکن فی الحقیقت دوسروں کی پسند وناپسند کی قیدی ہوتی تھی.. پھر یہ فکر بھی لاحق رہتی تھی کہ جب تک حسن اور عمر ہے ، لوگ میری طرف متوجہ ہیں.. عمر ڈھل جانے کے بعد خود کو قابل توجہ بنانے کے لیے مجھے اور زیادہ محنت کرنی پڑے گی.. لیکن اب اسلامی پردے نے ان الجھنوں سے مجھے یکسر بے فکر وآزاد کردیا ہے.." فقط حجاب پر ہالینڈ نے فی کس ایک سو پچاس یورو جرمانہ کا قانون بنا رکھا.. پھر انکے منہ پر انہی کی تہزیب کی کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہاتھ اٹھتا ہے ، تماچہ جڑ دیتا ہے.. فرانس کے بزنس مین نے جب دیکھا کہ فرانس میں حجاب پہ پابندی لگادی گئ ہے تو اس نے کہا.. "مسلمان عورتیں حجاب کا حق رکھتیں ہیں.. وہ حجاب جاری رکھیں , فی یوم کے حساب پورے فرانس میں اک بھی موجود مسلم خاتون کا جرمانہ میں ادا کروں گا.."

تم دراصل ہمارے شعائر کی جوتی کی انی کی برابر بھی نہیں پہنچ سکتے.. پانی راستہ خود بناتا ہے.. پل باندھیں گے تو حد سے تجاوز کرکے پل سے بہہ نکلے گا..
اکبر الہ آبادی نے کہا تھا..

یہی ہے عقدہ کشائی قوم تو اک دن..
 
ازار بند کو کہہ دیں گے حبس بے جا ہے
..

Fashion Hai Ikhtyari Parda Nisab Lazim " A Feautiful Urdu Hijab Poetry By Arshad arshi Malak


















فیشن ہیں اختیاری پردہ نصاب لازم

بے پردگی سے بہنوں ہے اجتناب لازم

عورت کے واسطے ہے شرم و حجاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


انمول ہے وہ موتی جو سیپ میں چُھپا ہو
ہوتی ہے اس کے رُخ پر اک آب و تاب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

حکمِ خدا کے آگے بے کار حیل و حجت

اندر سنگھار لازم ، باہر نقاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


شرم و حیا کی سر خی عورت کے رخ کا غازہ
دل کو ہے موہ لیتا تازہ گلاب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

گر دودھ نہ ڈھکا ہو ، با ہر کھلا پڑا ہو

بِّلے کی ہو رہے گی نیت خراب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


رب کی رضا کو جو بھی اپنی رضا بنا لے
مکّھ پر کھلے گا اسکے اک ما ہتاب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم
پہلے ہم اپنے اندر اک انقلاب لائیں

آکر رہے گا جگ میں پھر انقلاب لازم

 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

نفسِ دُنی کے پیچھے جو شخص بھی چلے گا

ہر اک خطا کا اس سے ہے ارتکاب لازم 

 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

اس دورِ خود سری میں تج دے جو خود سری کو

اس عا جزی کا اس کو ہو گا ثواب لازم

 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

"بلٹ پروف جیکٹ" ہم عورتوں کی پردہ

ہر بد نظر کو کر دے نا کامیاب لازم 

 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

غضِ بصر کی عادت زیبا ہے مرد و زن کو

اچھی بری نظر کا ہو گا حساب لازم

 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

بے پرد لڑکیوں سے حکمت سے بات کرنا


ہوتا ہے سر پھرا کچھ عہدِ شباب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم



اللہ کی حدوں سے جو بھی کرے تجاوز
ہو گا بروز محشر اس پر عتاب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

سب پختہ عُمر بہنیں نکتہ یہ یاد رکھیں

گر ہے خضاب لازم ، تو ہے حجاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


اپنے گھروں کو ہم نے جنت بنا لیا گر
دنیا کو کر سکیں گے ہم لا جواب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

مغرب کی رِیس عرؔشی گر بے د ھڑک کریں گے

ہو گا دلوں کے اندر پھر اضطراب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


کڑوی دوا میں میں نے شکر بھی ہے ملائی
اس نظم کا ہے پردہ لب لباب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم
فیشن ہیں اختیاری پردہ نصاب لازم


بے پردگی سے بہنوں ہے اجتناب لازم
عورت کے واسطے ہے شرم و حجاب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

انمول ہے وہ موتی جو سیپ میں چُھپا ہو

ہوتی ہے اس کے رُخ پر اک آب و تاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


حکمِ خدا کے آگے بے کار حیل و حجت
اندر سنگھار لازم ، باہر نقاب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

شرم و حیا کی سر خی عورت کے رخ کا غازہ

دل کو ہے موہ لیتا تازہ گلاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


گر دودھ نہ ڈھکا ہو ، با ہر کھلا پڑا ہو
بِّلے کی ہو رہے گی نیت خراب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

رب کی رضا کو جو بھی اپنی رضا بنا لے

مکّھ پر کھلے گا اسکے اک ما ہتاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


پہلے ہم اپنے اندر اک انقلاب لائیں
آکر رہے گا جگ میں پھر انقلاب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

نفسِ دُنی کے پیچھے جو شخص بھی چلے گا

ہر اک خطا کا اس سے ہے ارتکاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


اس دورِ خود سری میں تج دے جو خود سری کو
اس عا جزی کا اس کو ہو گا ثواب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

"بلٹ پروف جیکٹ" ہم عورتوں کی پردہ

ہر بد نظر کو کر دے نا کامیاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


غضِ بصر کی عادت زیبا ہے مرد و زن کو
اچھی بری نظر کا ہو گا حساب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

بے پرد لڑکیوں سے حکمت سے بات کرنا

ہوتا ہے سر پھرا کچھ عہدِ شباب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


اللہ کی حدوں سے جو بھی کرے تجاوز
ہو گا بروز محشر اس پر عتاب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

سب پختہ عُمر بہنیں نکتہ یہ یاد رکھیں

گر ہے خضاب لازم ، تو ہے حجاب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


اپنے گھروں کو ہم نے جنت بنا لیا گر
دنیا کو کر سکیں گے ہم لا جواب لازم
 
فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

مغرب کی رِیس عرؔشی گر بے د ھڑک کریں گے

ہو گا دلوں کے اندر پھر اضطراب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم


کڑوی دوا میں میں نے شکر بھی ہے ملائی

اس نظم کا ہے پردہ لب لباب لازم
 فیشن ہیں اختیاری ، پردہ نصابِ لازم

         ارشادعرشی ملک

Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)