Showing posts with label jeem ki kahawtain. Show all posts
Showing posts with label jeem ki kahawtain. Show all posts

Tuesday, 21 February 2017

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs jeem ki kahawtain,


ج۔کی کہاوتیں

 (۱)  جاٹ مرا تب جانئے جب تیرھویں  ہو جائے  : 

 تیرھویں  یعنی کسی کے مرنے کے تیرھویں  دِن ہونے والی رسم۔جاٹ بہت سخت جان اور جفا کش مشہور ہیں اس لئے ان کا نام لیا گیا ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ جب تک کسی معاملہ کی اچھی طر ح تصدیق نہ ہو جائے اس پر یقین نہیں کر نا چاہئے اور تحقیق جاری رکھنی چاہئے۔ اس کہاوت کے پس منظر میں  ایک حکایت بیان کی جاتی ہے۔ ایک جاٹ نے ایک بنئے سے قرض لیا۔وقت کے ساتھ سود کی وجہ سے قرض کی رقم بڑھتی گئی اور جاٹ کسی طرح اسے ادا نہ کر سکا۔ جب بنئے کے تقاضے بہت بڑھ گئے تو اس نے عاجز آ کر اپنی فرضی موت کی خبر بنئے تک پہنچا دی۔ بنیا کف افسوس ملتا رہ گیا۔حادثہ کی تصدیق کے لئے وہ جاٹ کے گاؤں  گیا اور اس کے گھر والوں  سے تعزیت بھی کر آیا۔سب نے اپنے عزیز کی موت پر بہت رنج کا اظہار کیا۔ اتفاق سے کچھ دنوں کے بعد بنئے کو ایک قریبی گاؤں  میں  کسی کام سے جانا پڑا۔وہاں  اس نے بازار میں  اُس جاٹ کو گھومتے پھرتے دیکھا تو بھوچکا رہ گیا۔لوگوں  سے گھبرا کر پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’’ شاہ جی ! جاٹ مرا تب جانئے جب تیرھویں  ہو جائے۔‘‘

(۲) جان بچی اور لاکھوں  پائے  :

  مشکل وقت میں  جان بچ جائے تو یوں  سمجھئے کہ لاکھوں  روپے مل گئے۔ اسی کو ایک اور شکل میں  بھی کہا جاتا ہے کہ’’ جان بچی اور لاکھوں  پائے، خیر سے بدّھو گھر کو آئے‘‘۔

(۳)  جان ہے تو جہان ہے  : 

اگر زندگی ہے تو سب کچھ ہے ورنہ سب بیکار ہے۔کہاوت کا مطلب اور محل استعمال ظاہر ہے۔

( ۴)  جان نہ پہچان، بی بی جی سلام  : 

 بغیر کسی جان پہچان کے کوئی کسی سے قرابت جتانے لگے اور کسی صلہ کا اُمیدوار ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

(۵)  جا کو راکھے سائیاں  مار سکے نہ کوئے  : 

 سائیاں  یعنی مالک یا خدا۔ جس کے سر پر اللہ کا سایہ ہو اس کو کوئی نقصان نہیں  پہنچا سکتا۔ اِس کی ایک اور شکل بھی عام ہے یعنی’’ جسے اَللہ رکھے، اُسے کون چکھے؟‘‘


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs jeem ki kahawtain,


ج۔کی کہاوتیں

( ۶ )  جاٹ کی بیٹی برہمن کے گھر آئی  : 

 ہندوؤں  میں  جاٹ ذات نیچی اور برہمن اونچی مانی جاتی ہے۔ شادیاں  اپنی ذات میں  ہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ کسی جاٹ کی بیٹی کا برہمن کی بہو بن جانا بہت بڑا سانحہ ہے۔کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ نہایت کم حیثیت آدمی کو خوش قسمتی سے بڑے اور با عزت لوگوں  کی صحبت نصیب ہوئی۔

( ۷ )  جان جائے پر آن نہ جائے  : 

شریف لوگوں  کو اپنی عزت جان سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔جان بھلے ہی چلی جائے لیکن عزت ہر حال میں  محفوظ رہنی چاہئے۔

(۸)  جب چنے تھے تب دانت نہ تھے، اب دانت ہیں  تو چنے نہیں    :

  زندگی میں ہمیشہ دن ایک سے نہیں  رہتے۔ اس بات کو ایک مثال واضح کر رہی ہے کہ بچپن میں  دانت نہیں  تھے تو چنے میسر تھے اور اب جوانی میں  منھ میں  دانت ہیں  تو چنے پاس نہیں  ہیں۔

(۹)  جتنا گُڑ ڈالو اتنا ہی میٹھا  :

  گُڑ یعنی کچی شکر۔ کوئی چیز بھی ہو اُس میں  جس قدر گڑ ڈا  لا جائے اُسی قدر وہ میٹھی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ہر کام میں  جتنی زیادہ محنت کی جائے اس میں  فائدہ اسی مناسبت سے ہو گا۔ محل استعمال ظاہر ہے۔

( ۱۰ ) جتنی دیگ اُتنی کھُرچن  : 

چاول کی دیگ زیادہ پک جائے تو جو چاول جل کر اس کی تلی سے لگ جاتے ہیں ان کو کھرچن کہتے ہیں۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ کام جس قدر بڑا ہو گا اسی مناسبت سے اس میں  خرابی ہو سکتی ہے۔

( ۱۱)  جتنا اوپر اُتنا ہی نیچے ہے  : 

یعنی یہ شخص جس قدر ظاہر میں  سیدھا سادا نظر آ رہا ہے اسی قدر باطن میں  یہ تیز اور چالاک ہے۔

( ۱۲)  جتنی چادر ہو اتنے پانوں  پھیلاؤ    : 

 یعنی اپنی حیثیت دیکھ کر خرچ کرو اور فضول خرچی سے بچو۔ بے جا اصراف میں نقصان ہی نقصان ہے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs jeem ki kahawtain,


ج۔کی کہاوتیں

(۱۳)  جتنا بِینو اتنی ہی کرکری (یا کرکل )نکلتی ہے  : 

بازار سے گیہوں، چاول وغیرہ  لا کر اس میں  سے کنکر، تنکے وغیرہ بینے جاتے ہیں  اور اس کو قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس غلاظت کو کرکری  یا کرکل کہتے ہیں ۔ غلہ کو جتنا  بینا جائے اُتنی ہی اس میں  سے کرکل نکلے چلی جاتی ہے۔ ایک مناسب وقت کے بعد یہ کام ختم کر دینا چاہئے۔ اسی طرح کسی شخص سے متعلق کوئی تحقیق کی جائے تو جتنے زیادہ آدمیوں  سے پوچھا جائے گا اتنی ہی برائیاں  ملنے کا امکان ہے۔ علیٰ ہٰذا لقیاس۔

( ۱۴ )  جتنی دیگ اُتنی کھرچن  :

  کام میں  نفع اصل مال کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ زیادہ مال لگایا جائے گا یا زیادہ محنت کی جائے گی تو فائدہ بھی اسی مناسبت سے زیادہ ہو گا۔کہاوت اسی جانب اشارہ کر رہی ہے

( ۱۵ )  جتنے دم اُتنے غم  :

  قانون قدرت ہے کہ جتنی لمبی زندگی ہو گی اتنے ہی زیادہ رنج اور مسائل بھی ہوں  گے۔

( ۱۶ )  جتنے منھ اتنی باتیں   : 

جتنے لوگ ہوتے ہیں  اتنی ہی طرح کی باتیں  سننے میں  آتی ہیں کیونکہ ہر شخص کی الگ رائے ہوتی ہے۔

( ۱۷ )  جدھر رَب، اُدھر سب  :

  آدمی ہر اُس فیصلہ کو قبول کرنے پر مجبور ہے جو قدرت کی جانب سے پیش آتا ہے۔ قانون قدرت سے لڑ کر بجز نقصان کے اَور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs jeem ki kahawtain,



ج ۔ کی کہاوتیں

(۱۸)  جدھر مولا،اُدھر آصف الدولہ  :  

 اَودھ کے نواب آصف الدولہ اپنی داد و دہش کے لئے بہت مشہور تھے۔ ان کے لئے ایک اور کہاوت مستعمل ہے کہ ’’جسے نہ دے مولا، اُسے دے آصف الدولہ۔‘‘ اِس کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ آصف الدولہ بھی اللہ کی مرضی کا پابند ہے اور جتنا کسی کی قسمت میں  لکھا ہے اس سے زیادہ وہ بھی نہیں  دے سکتا۔ اس سلسلہ میں  ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک غریب آدمی دربار میں  حاضر ہوا اور نواب صاحب سے مدد کا خواستگار ہوا۔انھوں  نے حکم دیا کہ ایک تھیلی میں  روپے اور دوسری میں  پیسے بھر کر اس آدمی کے سامنے رکھ دئے جائیں۔ اُس شخص سے ایک تھیلی منتخب کرنے کو کہا گیا۔اس نے جو تھیلی چُنی اس میں  پیسے تھے۔نواب صاحب نے کہا کہ ’’بھائی،یہ تمھاری قسمت کہ تم کو پیسے ملے۔ میں  کیا کر سکتا ہوں۔جدھر مولا،اُدھر آصف الدولہ۔‘‘

(۱۹)  جدھر جلتا دیکھیں  اُدھر تاپیں   :

  کچھ لوگ کوئی کام تب ہی کرتے ہیں  جب اس میں  ان کے لئے فائدہ کی کوئی صورت ہو۔  ان کی مثال ایسے شخص کی ہے جو وہیں  ہاتھ تاپنے پہنچ جاتا ہے جدھر آگ جلتی ہوئی دیکھتا ہے چاہے وہ کسی کا گھر ہی کیوں  نہ ہو۔

( ۲۰)  جس کا کھائے اسی کا بجائے  :

  بجائے یعنی ڈھول بجائے۔ جو احسان کرے اسی کی تعریف اور طرفداری بھی کی جاتی ہے۔ اسی معنی میں ’’ جس کا کھائے اُسی کا گائے‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

( ۲۱)  جس کو نہ دے مولا، اُسے دے آصف الدولہ  : 

لکھنؤ کے بادشاہ نواب آصف الدولہ نہایت مخیر اور فیاض شخص تھے۔ یہ  کہاوت اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ نواب آصف الدولہ کے دربار سے کوئی خالی ہاتھ واپس نہیں  آتا۔

( ۲۲ ) جس کے پاس نہیں  پیسا، وہ بھلا مانس کیسا  : 

 دُنیا میں  امیروں  کی سب عزت کرتے ہیں  اور غریب کو کوئی نہیں  پوچھتا اور دُنیا اُس کو بھلا مانس بھی ماننے سے انکار کرتی ہے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs jeem ki kahawtain,


ج۔کی کہاوتیں

( ۲۳)  جس تھالی میں  کھائیں  اُسی میں  چھید کریں   : 

 یعنی کسی کے احسان کا بدلہ اپنے محسن کو نقصان یا دکھ پہنچا کر نہیں  دینا چاہئے۔ ایسا کرنا جس تھالی میں  کھا رہے ہوں اُسی میں  چھید کرنے کے برابر ہے۔

(۲۴)  جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس   : 

 بھینس کی ملکیت کے جھگڑے میں  بھینس ہمیشہ وہ شخص ہی لے جاتا ہے جس کے ہاتھ میں  لاٹھی ہوتی ہے۔ یہ دُنیا طاقت کی دُنیا ہے، کمزوروں  کا یہاں  گزر نہیں۔ اس کہاوت کے بارے میں  ایک قصہ مشہور ہے۔ایک شخص اپنی بھینس لئے جنگل میں  سے گزر رہا تھا کہ ایک چور اس کے سامنے آ گیا اور لٹھ تان کر بھینس وہیں  اس کے حوالے کر دینے کا حکم دیا۔ اُس شخص نے ڈر کر بھینس کی رسّی چور کے حوالے کی اور گڑ گڑا کر بولا کہ ’’راستہ خطرناک ہے۔ اگر اپنا لٹھ مجھ کو دے دو تو میں  خیریت سے گھر چلا جاؤں۔‘‘ بے وقوف چور نے لاٹھی اُس کو دے دی۔ لاٹھی لیتے ہی وہ شخص اُسے تان کر چور پر لپکا کہ ’’یہ بھینس یہیں  رکھ دے ورنہ تیرا سر پھاڑ دوں  گا۔‘‘ چور نے گھبرا  کر بھینس اس کے مالک کے حوالے کر دی اور  وہاں  سے بھاگ لیا۔

(۲۵)  جس کا کام اُسی کو ساجھے، دوسرا بولے تو ڈنڈا باجے  : 

 ساجھنا یعنی بھلا لگنا۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو جس کام میں  مہارت ہے وہی اس کو ٹھیک سے انجام دے سکتا ہے۔ کوئی دوسرا خواہ مخواہ اس میں گھسے گا تو نقصان اٹھائے گا اور کا م بھی خراب ہو گا۔

( ۲۶ )   جس تن لاگے وہی جانے  : 

 تن یعنی جسم، لاگے سے مراد تکلیف یا چوٹ ہے۔ یعنی جس پر برا وقت آتا ہے و ہی اس کی زحمت کو خوب سمجھتا ہے۔باہر والوں  کو اس کا کم ہی علم ہوتا ہے۔

( ۲۷ )   جسے پیا چاہے وہی سہاگن  : 

جو بیوی اپنے شوہر کی چہیتی ہو گی وہی سہاگن کہلانے کی مستحق ہو گی۔ اسی پر دوسری۔صورتوں کو قیاس کیا جا سکتا ہے جیسے استاد کا چہیتا شاگرد دوسرے شاگردوں  کے لئے رشک کا باعث ہوتا ہے۔


اردو محاورے ،کہاوتیں، ضرب الامثال Urdu idioms, proverbs jeem ki kahawtain,


ج۔کی کہاوتیں



(۲۸)  جس کے نام کا ظہورا، اُسی کو گھاس کوڑا  : 

ظہورا یعنی شہرت و ناموری۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی وجہ سے کسی کام میں  ناموری اور شہرت حاصل ہو رہی ہے اس کی ہی کوئی وقعت اور عزت نہیں  ہے۔ محل استعمال ظاہر ہے۔

(۲۹)  جس نے کی شرم،ا ُس کے پھوٹے کرم   : 

کہاوتوں  میں  کبھی کبھی الفاظ کا تلفظ بدل دیا جاتا ہے۔ جو لفظ جیسا عوام میں  رائج ہوتا ہے اسی طرح کہاوت میں  بھی آتا ہے۔ یہاں  کرَم کی مناسبت سے شرَم (ر  پر زبر کے ساتھ)کہا جائے گا۔  یعنی  دُنیا ایسی بے فیض جگہ ہے کہ یہاں  جو اپنا حق مانگنے میں  جھجھکتا ہے وہ عموماً خالی ہاتھ رہ جاتا ہے جب کہ منھ پھٹ اور بے شرم کو اس کے حق سے زیادہ مل جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو شاعر نے یوں  نظم کیا ہے     ؎

دَورِ مے ہے، یاں  کوتاہ دستی میں  ہے محرومی               جو بڑھ کر ہاتھ میں  لے لے یہاں مینا اُسی کا ہے یہ

( ۳۰)  جس راہ نہیں  چلنا اُس کے کوس کیا گِننا   :  

 کوس یعنی دو میل۔ جس راستہ سفر ہی نہیں  کرنا ہے اس کے کوس شمار کرنا کوئی معنی نہیں  رکھتا۔ چنانچہ جو کام ہمیں  کرنا ہی نہیں  ہے اس کی تفصیلات جان کر کیا حاصل۔

( ۳۱ )   جس کی دُم اٹھا کر دیکھا وہ نَر نکلا  :

  اگر کسی نزاع میں  دونوں  فریق اپنی بات کی پخ میں  بضد ہو کر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کو تیار نہ ہوں تو یہ کہاوت کا استعمال کی جاتی ہے کہ یہاں  تو کسی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں  ہوتا کیونکہ ہر شخص نَر ہے یعنی بر خود غلط اپنی بات پر اَڑا ہوا ہے۔

( ۳۲)  جس کے ہاتھ میں  ڈوئی، اُسی کے سب کوئی  : 

ڈوئی لکڑی کے بڑے چمچے کو کہتے ہیں۔ڈوئی کھانا پکانے والے کے ہاتھ میں  ہوتی ہے اور ہر شخص اسی کی جانب نظر اٹھائے رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو صاحب اقتدار و اختیار ہوتا ہے اُسی سے لوگ اُمید رکھتے ہیں  اور اُسی کے گُن گاتے ہیں۔ کہاوت انسان کی فطری خود غرضی کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔


Labels

Aabi Makhnavi (4) Aadam Shair (6) Aan Ziban or Jan (2) Abdul Hameed Adam (2) Acceptance (3) Afghan (1) Africa (2) Ahmad Faraz (137) Ahmad mushtaq (23) Ahmad nadeem qasmi (12) Ahmed Faraz (5) Al Aula (1st Year) (6) Aleppo (2) Allama Muhammad Iqbal (82) Answer (4) Auliya Allah (2) Aurat (6) Baa ki kahawtain (18) Bahadur Shah Zafar (2) Beautiful Urdu Barish Ghazal (23) Beautiful Urdu poetry By Allama Semab Akbar Abadi (29) Bismil Azeem Abadi (18) Books (11) Children (2) China (2) College (3) DHRAAM (1) Dagh Dehlawi (118) Democracy (2) Democracy & Pakistan (2) Divorce (10) Eain ki kahawtain (2) Education (5) Eid Ka Chand (3) English (142) English PROVERBS (96) Faiz Ahmad Faiz (21) Fatawa (14) Finance (7) Ghazal naaz ghazal (2) Ghazals by mirza asadullah ghalib (123) Ghulam Hussain (2) Ghulam Ibn e Sultan (5) Hadisa (2) Hajj (3) Halima Saadia (2) Hasrat Mohani (2) Hazar Al Ebaha (3) Hazrat Abu Bakr Siddiq (2) Ibn e Insha (87) Imran Sereis Novels (8) India (3) Intzar hussain (2) Ishq (3) Islamic Books (8) Islamic Poetries (10) Islamichistory (18) Janazah (2) Jawab (3) Jihad (2) Khawaja Haider Ali aatish (2) Krishn Chander (5) Krishna Chander (6) Letter (2) Love (5) Madrasa (3) Maka Zunga (2) Makrohat (3) Manzoor Hussain Tuor (2) Masnoon Duain (2) Maulana Faiz ul Bari sab (2) Mazameen (96) Mazhar Kaleem (9) Mazhar ul Islam (3) Menses (3) Munshi Prem Chand (4) Musharraf Alam zauqi (6) Mustahabbat (3) Novels (15) Novels Books (11) PROVERBS (370) Pakistan (4) Poetry By Ahmed Fawad (41) Professor Ibn Kanwal (4) Question (3) Qurbani (2) Raees Farogh (27) Rajinder Singh Bedi (39) Reading (2) Rozah (4) Saadat Hasan Manto (39) Sabolate Aager (2) Sahih Bukhari Sharif (78) Sahih Muslim Shareef (4) Sahih Muslim Sharif (48) Salma Awan (11) Samaryab samar (4) Sarwat Hussain (5) Saudi Arabia (2) Sawal (3) School (3) Shakeel Badauni (2) Sister (2) Society (7) Stop adultery (2) Stories (218) Students (5) Study (2) Sunan Abu Daud Shareef (39) Sunan Nasai Shareef (49) Sunnat (5) Syeda Shagufta (6) Syrian (2) Taharat (2) Tahreerain (100) Taqdeer (2) The Holy Quran (87) UMRAH (3) URDU ENGLISH PROVERBS (42) URDU PROVERBS (202) University (2) Urdu Beautiful Poetries By Ahmed Faraz (44) Urdu Poetry By Ahmed Faraz (29) Urdu Poetry By Dagh Dehlawi (117) Urdu Poetry By Raees Farogh (27) Urdu Short Stories By Aadam Shair (6) Urdu Short Stories By Professor Ibn Kanwal (4) Urdu Short Stories By Saadat Hasan Manto (5) Urdu Short Stories By Salma Awan (11) Urdu Short Stories by Ghulam Hussain (2) Urdu Short Stories by Ishfaq Ahmed (2) Urdu Short Stories by Krishn Chander (5) Urdu Short Stories by Krishna Chander (6) Urdu Short Stories by Munshi Prem Chand (2) Urdu Short Stories by Rajinder Singh Bedi (39) Urdu Short Story By Ghulam Ibn e Sultan (5) Urdu Short Story By Ibn e Muneeb (11) Urdu Short Story By Mazhar ul Islam (2) Urdu Short Story By Musharraf Alam zauqi (6) Urdu poetry By Mir Taqi Mir (171) Urdu potries By Mohsin Naqvi (10) Valentine Day (9) Wasi Shah (28) Wudu (2) Zakat (3) aa ki kahawtain (13) afzal rao gohar (4) alama semab akbar abadi (32) alif ki kahawtain (8) andra warma (2) anwar masuod (2) aziz ajaz (3) babu gopinath (2) bail or gadha (2) band e quba (1) bano qudsia (3) barish (30) brautifull Urdu Poetries by parveen shakir (3) cha ki kahawtain (10) chor (5) daal ki kahawtain (10) dhal ki kahawtain (2) dil (2) download (7) elam (5) eman (3) faraiz (6) gaaf ki kahawtain (8) geet (52) ghazal (1279) girl (3) ha ki kahawtin (3) haa ki kahawtain (4) hadisain (223) halaku khan (2) haya (4) hijab (13) hikayaat (48) history (35) huqooq (2) ibraheem dahlvi zooq (2) iftkhar arif (2) intkhab Ahmad nadeem qasmi (7) islamic (319) jeem ki kahawtain (13) jumma (2) kaf ki kahawtain (15) karam hadri (2) khaa ki kahawtin (4) king (6) laam ki kahawtain (4) maa (9) marriage (2) meem ki kahawtain (12) mera jee (71) mir taqi mir (252) mirza asadullah ghalib (126) mohsin naqvi (12) molana tajoor najeeb abadi (2) molvi (6) mufsdat (2) muhammad bilal khan (2) mukalma (2) muskrahat (2) muzaffar warsi (3) naatain (8) namaaz (14) nasir kazmi (5) nikah (5) noon ki kahawtain (5) pa ki kahawtain (8) parveen shakir (50) poetry (1309) qaaf ki kahawtain (2) qateel shafai (5) ra ki kahawtain (3) sabaq aamoz (55) saghar Siddiqui (226) saghar nizami (2) saifuddin saif (2) sauod usmani (2) seen ki kahawtain (10) sheen ki kahawtain (2) sirat al nabi (4) syed moeen bally (2) ta ki kahawtain (8) toba (4) udru (14) urdu (239) urdu short stories (151) wadu (3) wajibat (4) wajida tabassum (2) waqeaat (59) wow ki kahawtain (2) writers (2) yaa ki kahawtain (2) yaer (2) za ki kahawtain (2) zina (10)