ہونٹوں کی تمنا تو بڑی بات ہے نیر
آنکھوں کی تمنا بھی وہ کرنے نہیں دیتا
میں مائل انکار تو ہو جاتا ہوں دنیا
دل مجھ کو محبت سے مکرنے نہیں دیتا
میں اس کے دل سخت میں گھر کیسے کروں گا
جو اپنی گلی سے بھی گزرنے نہیں دیتا
خود ٹوٹ کے بکھروں تو بکھر جاوں بلا سے
میں درد کی دولت تو بکھرنے نہیں دیتا
شہزاد نیر

No comments:
Post a Comment