دشت جاں سے گزرنے والا ھوں..
اپنے اندر
ھی مرنے والا ھوں...
ایک دلدل مرے وجود میں ھے.
اب میں اس میں اترنے والا ھوں.
خاک ھونے کا
یہ تقاضا ھے..
راستوں میں بکھرنے والا ھوں.
ایک ناکام
سی محبت کا..
. خود پہ
الزام دھرنے والا ھوں..
اک تمنائےبے یقیں لے کر...
. خود کو
برباد کرنے والا ھوں..

No comments:
Post a Comment