دیکھتا ھوں
انھیں حسرت سے بلکتے شب بھر.
بھوک سے سو
نھیں سکتے کئ بچے شب بھر..
آنکھ لگ جاۓ اگر چشم کشائ سے بچیں.
کون بھوکوں کو تڑپتا ھوا دیکھے شب بھر..
اے مرے مالک و رازق کبھی یوں بھی نہ ھو.
بھوک انسان
کی دھلیز پہ بیٹھے شب بھر....
نیند آ جاۓ بہ ھر حال ھو جیسے ممکن...
کون تاروں کو
چمکتا ھوا دیکھے شب بھر..
میری آنکھوں نے یہ منظر بھی سدا دیکھا ھے.
بھوک کو اوڑھے
کوئ پیاس کو پہنے شب بھر..

No comments:
Post a Comment