بسمل
عظیم آبادی
)سید شاہ محمد حسن)
(1900-1978)
بسمل
عظیم آبادی کا اصلی نام سید شاہ محمد حسن تھاعرفیت شاہ چھبو تھی۔ وہ1900ء یا 1901ء
میں پٹنہ سے 30 کلو میٹر دور ہرداس بگها گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن اپنے والد سید
شاہ آل حسن کی موت کے بعد وہ دو سال کے تھے کہ اپنے نانا سید شاہ مبارک حسین کے
گھر پٹنہ سٹی آ گئے، جسے لوگ اس وقت عظیم آباد کے نام سے جانتے تھے۔ جب انہوں نے
شاعری شروع کی تو اپنا نام بسمل عظیم آبادی رکھ لیا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ ان
کی وفات 1978ء میں ہوئی۔
سر
فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا
ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
اے
شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے
تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
وائے
قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں
کارواں
اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے
رَہ
روِ راہِ محبت! رہ نہ جانا راہ میں
لذت
صحرا نوردی دوری منزل میں ہے
شوق
سے راہِ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک
خوشی کا راز پنہاں جادہ منزل میں ہے
آج
پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
آئیں
وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے
مرنے
والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ
غنیمت وقت ہے خنجر کفِ قاتل میں ہے
مانعِ
اظہار تم کو ہے حیا ، ہم کو ادب
کچھ
تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے
میکدہ
سنسان ، خم الٹے پڑے ہیں ، جام چور
سر
نگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے
وقت
آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم
ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اب
نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ
صرف
مٹ جانے کی اک حسرت دلِ بسملؔ میں ہے
بسمل عظیم آبادی

No comments:
Post a Comment