غم جگہ
دل میں پا ہی جاتا ہے
آدمی کو
یہ کھا ہی جاتا ہے
نہ رُکا
بزمِ غیر میں آنسو
آنے
والا تو آ ہی جاتا ہے
تلخیِ
عشق کیا گوارا ہو
زندگی
کا مزا ہی جاتا ہے
صاف
دیکھی نہ بادہ خوار کی آنکھ
کچھ نہ
کچھ رنگ آ ہی جاتا ہے
کبھی
پورا ہوا نہ کام کوئی
میں نے
جانا ہوا ہی جاتا ہے
بد گماں
ہے تری طرف سے دل
کچھ نہ
کچھ وہم آ ہی جاتا ہے
میرے سر
کی قسم تجھے قاصِد
جلد تر
تو بھی کیا ہی جاتا ہے
دیکھتا
ہوں جو خوب رو کوئی
وہ تصور
میں آ ہی جاتا ہے
تم کو
گھر کس طرح سے جانے دوں
کہ مرا
مدّعا ہی جاتا ہے
وصفِ
اغیار بزم میں اُن سے
کیا
کریں ہم سُنا ہی جاتا ہے
نامہ بر
کو دیا ہے خط لیکن
دل
ہمارا جُدا ہی جاتا ہے
رازِ دل
سُن کے کیوں ہوئے برہم
جو ہے
کہنا کہا ہی جاتا ہے
ذکرِ
واعظ سے میں نے یہ جانا
حشر
برپا ہوا ہی جاتا ہے
سچ تو
یہ ہے کہ بُتکدے سے ہمیں
لے کے
خوفِ خدا ہی جاتا ہے
سرد
مہری سے بھی تری ظالم
داغ دل
میں جلا ہی جاتا ہے

No comments:
Post a Comment