الٰہی
راہ سیدھی کب تری اُلفت کی لیتا ہے
کوئی
دوزخ کی لیتا ہے کوئی جنت کی لیتا ہے
لگاوٹ
میں بھی اُکھڑی اُن سے اِک آفت کی لیتا ہے
اُپچ
لیتا ہے جب یہ دل نئی صورت کی لیتا ہے
ستمگر
کو ہمیشہ پیار آتا ہے ستمگر پر
بلائیں
بختِ بد کیا کیا شب فرقت کی لیتا ہے
حنائی
خندق اُس کی یاد آتی ہے جو فرقت میں
ہمارے
دل میں چٹکی درد کس آفت کی لیتا ہے
یہاں تک
خود پرستی اور خود بینی ہے اُس بت کو
مصوّر
سے بھی تصویر اپنی ہی صورت کی لیتا ہے
کسی کی
ٹھوکریں کھا کر بڑھا ہے اس قدر رتبہ
کہ جو
آتا ہے وہ مٹّی مری تربت کی لیتا ہے
جنابِ
واعظ اکثر دُون کی لیتے ہیں ممبر پر
مگر اب
کوئی رند آ کر خبر حضرت کی لیتا ہے
نہ کیوں
افسوس آئے کوہکن کی بد نصیبی پر
ہر اک
مزدور اُجرت کام کی محنت کی لیتا ہے
شرابِ
ناب ہو ہر قسم کی اے پیرِ میخانہ
پِلا کر
مجھ کو پھر یہ پوچھ کس قیمت کی لیتا ہے
سمجھتا
ہوں کہ اُس کو دیر ہو جاتی ہے برسوں کی
مرا
قاصد جو مہلت ایک بھی ساعت کی لیتا ہے
مقابل
میں پری ردیوں کے کوئی داغ کو دیکھے
یہ بن
جاتا ہے دیوانہ عجب وحشت کی لیتا ہے

No comments:
Post a Comment