سنگِ
آستاں
سکھا
نغمہ محبت کا، مجھے محسوس کرنے دے
جوانی
کو
ہے نغمہ
جن میں خوابیدہ انہیں تاروں کی حرکت سے
میں لے
آؤں گا ہستی کو مجسم شکل کی صورت،
اُنہیں
تاروں کو خوابوں سے جگانے دے مجھے
اے رات
کے ساقی
دکھانے
دے مجھے جلوہ ستاروں کے الجھنے کا
اُسی
منظر کو لے آؤں گا میں پھر سے نگاہوں میں
جو ہے
باقی
جو
آویزاں ہے اب تک وقت کی دیوی کے آنچل میں
پکڑ کر
ہاتھ میں پنچھی کو اس دھرتی کے جنگل میں
اسی
خلوت کے محمل میں
ترے دل
میں
جگا دوں
گا میں اپنی گرم آہوں سے
اسی
نغمے کو جو سویا ہے تیرے جسم کے محبوب تاروں میں
مجھے
معلوم ہیں باتیں،
وہ
باتیں جو اچھوتی اور پرانی ہیں
مگر
نادان ہیں جذبے
ارادہ
ہے کہ لے کر آج ان نادان جذبوں کو
میں
تاریک غاروں میں
بنوں گا
ہم سفر تیرا
چل آ!
رنگیں کہانی کو
شروعِ
عشق کی منزل سے لے بھاگیں
اُسے اس
رات کے پھیلے اندھیرے میں
وہاں پر
مل کے پہنچا دیں
جہاں ہے
گوہرِ مقصود پوشیدہ نگاہوں سے
سہانی،
گرم آہوں میں
(۱۹۳۹ء)
٭٭٭
No comments:
Post a Comment