برکھا کے لاکھوں ہی تیر دل پر کس کو
سہوں میں
چاروں اور جھومے ہریالی
چھائی گگن پہ گھٹا متوالی
چھاجوں برسے نیر دل کی کس سے کہوں میں
رہ رہ آئیں پَوَن جھکولے
ڈولے، ڈولے، نیّا ڈولے
ٹھنڈ سے کانپے سریر، اب تو چپ نہ رہوں
میں
بادل بن گئے پریم ہنڈولے
دُکھ کا بندھن کوئی نہ کھولے
آ جاؤ رن بیر! دُکھڑا تم سے کہوں میں
٭٭٭
No comments:
Post a Comment