(۱)
جیون ایک مداری پیارے کھول رکھی ہے
پٹاری
کبھی تو دُکھ کا ناگ نکالے پل میں اُسے
چھپا لے
کبھی ہنسائے کبھی رجھائے بین بجا کر سب
کو رجھائے
اس کی ریت انوکھی نیاری، جیون ایک مداری
(۲)
کبھی نراشا کبھی ہے آشا پل پل نیا
تماشا
کبھی کہے ہر کام بنے گا جگ میں تیرا
نام بنے گا
بنے دیالو ہتیا چاری، جیون ایک مداری
(۳)
جب چاہے دے جائے دھوکا اس کو کس نے
روکا
تو بھی بیٹھ کے دیکھ تماشا کبھی نراشا
کبھی ہے آشا
پت جھڑ میں بھی کھلی پھلواری، جیون ایک
مداری
(۴)
آئے ہنسی مٹ جائیں آنسو اس میں ایسا
جادو
بندر ناچے، قلندر ناچے، سب کے من کا
مندر ناچے
جھوم کے ناچے ہر سنساری، جیون ایک
مداری
٭٭٭
No comments:
Post a Comment