دیدۂ اشکبار ہے اپنا
اور دل بے قرار ہے اپنا
رشکِ صحرا ہے گھر کی ویرانی
یہی رنگِ بہار ہے اپنا
چشمِ گریاں سے چاکِ داماں سے
حال سب آشکار ہے اپنا
ہائے ہُو میں ہر ایک کھویا ہے
کون یاں غمگسار ہے اپنا
صرف وہ ایک سب کے ہیں مختار
اُن پہ کیا اختیار ہے اپنا
بزم سے اُن کی جب سے نکلا ہے
دل غریب الدیار ہے اپنا
اُن کو اپنا بنا کے چھوڑیں گے
بخت اگر سازگار ہے اپنا
پاس تو کیا ہے اپنے، پھر بھی مگر
اُن پہ سب کچھ نثار ہے اپنا
ہم کو ہستی رقیب کی منظور
پھول کے ساتھ خار ہے اپنا
ہے یہی رسمِ میکدہ شاید
نشہ اُن کا، خمار ہے اپنا
جیت کے خواب دیکھتے جاؤ
یہ دلِ بد قمار ہے اپنا
کیا غلط سوچتے ہیں میراؔ جی
شعر کہنا شعار ہے اپنا
٭٭٭
No comments:
Post a Comment