ہم پہ وہ کب نگاہ کرتے تھے
اک ہمیں اُن کی چاہ کرتے تھے
ہم تو بس اُن کی چاہ کرتے تھے
اور وہ ہم کو تباہ کرتے تھے
اُن کی زلفوں کی یاد میں شب کو
دل جلا کر سیاہ کرتے تھے
گاہ چپکے گزارتے تھے رات
گاہ روتے تھے آہ کرتے تھے
اُس کے گھر کے کئی کئی پھیرے
یونہی شام و پگاہ کرتے تھے
اور ہوں گے کوئی کہ تجھ کو چھوڑ
ہوسِ عزّ و جاہ کرتے تھے
سوچتا ہوں یہی کہ اُس دل میں
غیر کس طرح راہ کرتے تھے
چغلیاں کھا کے میری اُن سے رقیب
اپنا نامہ سیاہ کرتے تھے
ہم لہو آنکھ سے بہاتے تھے
وہ نہ ہم پر نگاہ کرتے تھے
داورِ حشر سے یہ کہہ دیں گے
ہم جہاں میں گناہ کرتے تھے
اب تو ہر شے سے بے نیازی ہے
دن گئے جب کہ چاہ کرتے تھے
شعر کہتے تھے اپنے میراؔ جی
لوگ سنتے تھے آہ کرتے تھے
٭٭٭
No comments:
Post a Comment