زندگی ایک اذیت ہے مجھے
تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے
دل میں ہر لحظہ ہے صرف ایک خیال
تجھ سے کس درجہ محبت ہے مجھے
تیری صورت، تری زلفیں، ملبوس
بس انہیں چیزوں سے رغبت ہے مجھے
مجھ پہ اب فاش ہوا رازِ حیات
زیست اب سے تری چاہت ہے مجھے
تیز ہے وقت کی رفتار بہت
اور بہت تھوڑی سی فرصت ہے مجھے
سانس جو بیت گیا، بیت گیا
بس اسی بات کی کلفت ہے مجھے
آہ میری ہے تبسم تیرا
اس لیے درد بھی راحت ہے مجھے
اب نہیں دل میں مِرے شوقِ وصال
اب ہر اک شئے سے فراغت ہے مجھے
اب نہ وہ جوشِ تمنا باقی
اب نہ وہ عشق کی وحشت ہے مجھے
اب یونہی عمر گزر جائے گی
اب یہی بات غنیمت ہے مجھے
٭٭٭
No comments:
Post a Comment