آنند
نرائن ملاؔ کے چند اشعار
نعرۂ
گرم انقلاب میں نے بھی یاں سنا تو ہے
جام و سبو کے آس پاس
داروسن سے دور دور
۔۔۔
دی ہے مجھے دو آبۂ گنگ و
جمن نے جو زباں
آج اسی کو حکم ہے کنگ و
جمن سے دور دور
۔۔۔
نہ تیرے لیے ہے نہ میرے
لیے ہے
یہ دنیا ہے سب کی، سب کے
لیے ہے
۔۔۔
ہر سبزہ و گل کی نس نس
میں اک ریشۂ جنبان ہو بھی چکا
اب کون مٹا سکتا ہے مجھے
میں خاک گلستاں ہو بھی چکا
۔۔۔
جور بتاں کے قصے نہ
چھیڑو
آج اک جہان ہے مردم
گزیدہ
۔۔۔
بے حرف و بے صوت پیغامِ
الفت
سینہ بہ سینہ، دیدہ، نہ
دیدہ
۔۔۔
جنون کا دور ہے کس کس
جائیں سمجھانے
ادھر بھی ہوش کے دشمن
ادھر بھی دیوانے
۔۔۔
پھر ان گردوں نشینوں کو
زمیں کی بات کہنے دے
انھیں پہلے ذرا زیرِ فلک
کچھ روز رہنے دے
۔۔۔
قطرہ قطرہ زندگی کے زہر
کا پینا ہے غم
اور خوشی ہے دو گھڑی پی
کر بہت جانے کا نام
۔۔۔
تاریخ بشر بس اتنی ہے ہر
دور میں پوجے اس نے صنم
جب آئے نئے بت پیش نظر
اصنام پرانے توڑ دیے
۔۔۔
گل کام نے دے گی تری نا
کردہ گناہی
گلچیں کی عدالت ہے
تو کانٹوں کی گواہی
پستی
نہ بلندی نہ اطاعت نہ حکومت
دنیائے محبت میں
گدائی ہے نہ شاہی
مشعلِ
دل بھی تو سینے میں فروزاں چاہیے
راہِ منزل میں
چراغ رہگذر کافی نہیں
زیست
کی تیرگی میں شمع کوئی
دل سے تابندہ تر
نہیں ملتی
بشر
ہے بندہ الفت غلام جبر نہیں
جو اہلِ دل نے
کیا، تاجدار کر نہ سکے
اسی
کا نام جینا ہے جگر خوں ہو تو ہو جائے
نقوشِ دہر میں اک
خاص اپنا رنگ بھرنا ہے
پیتے
تو ہم نے شیخ کو دیکھا نہیں مگر
نکلا جو میکدے سے
تو چہرے پہ نور تھا
تشنہ
کاموں کی خبر لے مالکِ جام و سبو
تشنہ کامی نہ بن
جائے چیرہ دستی ایک دن
فلک
کے دور نے ذروں کا جن کو نام دیا
ستارے وہ بھی تھے،
یاں نسل آسماں سے نہ تھے
