میں
اسے کیا دوں گا۔۔۔ تحریر:. محمدگل
نہ اس کےلئے مال و زر کے انبار اکٹھے کروں گا۔
نہ اسے ناز ونعم سے پالوں گا۔ نہ اس کے چونچلے اور نخرے برداشت کروں گا۔نہ اس
کےلئے محفوظ مستقبل کی چاردیواری قائم کروں گا۔ میں اسے کیا دوں گا؟
محض اخلاقی
تربیت اور حصول علم کے زرائع بس۔ میں اسے علم اور سمجھ کا ٹکٹ خرید کر کسی ریلوے
اسٹیشن پر چھوڑ آوں گا۔ اپنی منزل کا یہ خود تعین کرے گا اور اس منزل تک رسائی
کےلئے سفر کی مشقتیں یہ خود برداشت کرے گا اور رکاوٹوں کے پھاٹکیں بھی خود پھلانگے
گا۔
میں اس وردی کے تقدس اور امانت کو اس خاطر بیچوں گا نہیں کہ اس کا پیٹ بھر
جائے اور تن فربہ ہوجائے۔ لوگوں کے منہ سے نوالے چھین کر اس کا حلق تر نہیں کروں
گا نہ کسی کا جسم قانون کی اندھی لاٹھی سے لال کرکے اس کے جسم کو ریشم و کمخواب سے
ڈھکوں گا۔ میں اسے اس قابل بھی نہیں چھوڑوں گا کہ یہ اپنے ہم عصروں کو میری
تھانیداری کا حوالہ دے کر مرعوب رکھے گا نہ میں اس کے پاس یہ امید رہنے دوں گا کہ
اس کے لغزشوں یا غلطیوں کے لئے قانون کی وردی کبھی کام آئے گی۔
لاڈ،پیار اور بے جا
محبتوں سے اس میں ضد اور انانیت پیدا ہونے دوں گا، نہ سہولیات اور وسائل کی فراہمی
سے اس کو تن آسان بناوں گا۔ میں اسے پیسوں میں ڈبو کر دولت کی ناقدری سے آشنا کروں
نہ ہی جائدادیں بنا کر اسے اپنے مستقبل کی فکر سے آزادی دلاوں گا۔
اچھی خوراک اور
نرم بچھونوں سے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو سلادوں گا نہ اچھی پوشاک سے اس میں امتیاز
و تکبر کے جراثیم پیدا کروں گا۔ یہ نہ سمجھیں کہ میں اس کے لئے سفاکیت و بے رحمی
کا جلاد بن کے آہنی ہاتھ سے اس کی کمر اور گردن جھکائے رکھوں گا اور اسے ہردم سمٹ
سمٹائے مقید حوالات رکھوں گا۔ میں اسے رحم،شفقت اور نرمی کے مراعات دوں۔
مناسب
آزادی اور رائے کی کھلی چھوٹ دوں گا۔ بے جا تنقید، جھاڑ اور سختی سے محفوظ رکھوں
گا لیکن تربیت اور حصول علم و عمل میں کوئی رعایت نہیں دوں۔ آپ بھی اپنے بیٹوں کے
کچھ کریں کچھ ایسا کہ جو آپ کے دنیا و آخرت کی بھلائی کےلئے کام آئے۔
ایسا نہیں کہ
حرام،حلال زرائع سے دولت کماکر اپنے بچوں کو عیش ونشاط کے دلدل میں جھونک ڈالیں وہ
دنیا والوں کو زک پہنچاتا رہے اور آپ قبر میں کڑا حساب دیتے رہیں۔

No comments:
Post a Comment