آخری مارکہ ہے،خون سےتحریرکو
لوحِ تاریخ پہ، مظلوموں کو تحریرکو
یہ سفرچاندکامحتاج نہیں ھوسکتا
مانگ کر دل سے ضیاء،رات کوتنویرکرو
کشتیاں اپنی جلاڈالوکنارِدریا
موج کوزیرکرو،وقت کوتسخیرکرو
کاٹ کرراستےپسپائ کے آگےنکلو
نوکِ شمشیرسے،حالات کی تعبیر کرو
کل پہ قرباں ھوئے جاں سےگزرنےوالے
انکے قدموں پے چلو،ان کی توقیر کرو

No comments:
Post a Comment