رات میں خواب کے منظر میں تھا
.. اک ستارا میری ٹھوکر
میں تھا
میں نے چاھا تو نھیں تھا اس کو
وہ مگر میرے مقدر میں تھا
ایک پتھر تھا میرے دل میں مکیں
اور مرا دل کسی پتھر میں تھا
قتل ھونا میرا اس کے ھاتھوں
آستیں میں نہ تھا خنجر میں تھا
ڈھونڈھتے تھے غم تنھائ کو
وہ بیچارا تو میرے گھر میں تھا
بن گیا کیسے کوئ تاج محل
عشق دل میں نہ تھا مر مر میں تھا
پھول کو ڈھونڈنے نکلا تھا نسیم
اور وہ غلبہ صر صر میں تھا
تیشہ فرھاد
کی میراث سہی.
پر ابھی دست ستمگر میں تھا

No comments:
Post a Comment