اپنی دھلیز سے تم دور کئے دیتی ھو..
یوں غزل لکھنے پہ مجبور کیئے دیتی ھو..
اپنے عشاق کو دیتی ھو فریب اور جفا..
اور پھرغیروں کو مسرور کئے دیتی ھو...
اپنی آنکھوں سے پلا دیتی ھو جام الفت.
چاھنے والوں کو مخمور کئے دیتی ھو...
پھر کسی کام کا رھتا نھیں عاشق تیرا
عشق کے کام پہ مامور کئے دیتی ھو..
پھیر کر آنکھ کسی سے اسے غم دیتی ھو.
دیکھتی ھو جسے مغرور کئے دیتی ھو.

No comments:
Post a Comment